Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 19

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 19

–**–**–

سیٹھ رحمان کے ساتھ آنے والی عورت آمنہ تھی۔ہاں وہی یونیورسٹی کی سب سے خوبصورت اور طرح دار آمنہ۔جس کی شادی سیٹھ عابد نامی ایک دولت مند کباڑیے سے ہوگئی تھ۔سیٹھ رحمان ہم دونوں کی کی کیفیت سے بے خبر ہمارا تعارف کروانے میں مصروف تھا۔شہہ پارہ بیگم۔ان سے ملیں یہی ہیں پی ڈی۔زیڈ صاحب۔۔۔اور آج کل شہر میں بس انہی کے چرچے ہیں اور پری زاد۔۔یہ ہیں شہہ پارہ۔۔ہمارے ملک کی نامور آرٹسٹ۔۔پڑوسی ملک میں بھی اپنی اداکاری کی دھوم مچا چکی ہیں۔آج ہم نے خاص آپ کے ساتھ ملاقات کے لئے انہیں مدعو کیا ہے۔
آمنہ چپ چاپ کھڑی میری طرف دیکھ رہی تھی۔ہماری پہلے بھی ملاقات ہوچکی ہے رحمان صاحب۔مگر تب یہ پی زیڈ نہیں تھے اور نہ میں شہہ پارہ۔۔
سیٹھ رحمان کو شہہ پارہ کی بات سن کر حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔۔۔ارے ۔۔ واقعی۔۔بھئی۔۔۔پی زیڈ صاحب۔۔آپ تو واقعے ہی چھپے رستم نکلے۔۔جب کہ ہم یہ سمجھتے رہے اس گوہر نایاب سے دوستی کا شرف صرف ہمیں ہی حاصل ہے۔۔
آمنہ عرف شہہ پارہ نے سیٹھ رحمان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ہمیں کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیجئیے رحمان صاحب پرانے بچھڑے ہوئے ملیں تو کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے دونوں کے درمیان۔سیٹھ رحمان آمنہ کی بات سن کر ہڑ بڑا کر بولا۔۔ہاں ہاں۔۔کیوں نہیں۔۔آپ لوگ باتیں کریں۔میں کھانا لگوانے کا انتظام کرتا ہوں۔۔
رحمان جاتے جاتے بھی ہمیں حیرت سے دیکھتا ہوا پلٹ گیا آمنہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے میرے قریب آگئی۔
پری زاد۔۔یہ تمہیں ہو ناں۔۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تم تو ہو شہر کے وہ نئے نے شاٹ۔۔؟بڑے صنعت کار۔۔۔۔؟
میرا تعلق اب فلم انڈسٹری سے ضرور ہے۔۔مگر ایسا میں نے صرف فلموں میں ہی ہوتے دیکھا ہے تم واقعی ہی ایک فاتح ہو پری زاد۔۔۔میں نے آمنہ کی طرف دیکھا۔وہ آج بھی اتنی ہی خوبصورت دلکش نظر آتی تھی۔بلکہ اس کا حسن میں اب اداسی کی آمیزش نے ایک عجیب سارنگ بھر دیا تھا۔حسن اداس ہوتا تو کتنا مکمل ہوجاتا ہے۔نہیں میں کھبی فاتح نہیں رہا۔۔بس ہارتا ہی آیا ہوں۔مگر تم اور یہ شہہ پارہ یہ سب کیا ہے تمہارا شوہر کہاں ہے۔۔۔وہ سیٹھ عابد؟؟
آمنہ دھیمے سے مسکرائی۔سیٹھ عابد ایک کامیاب سوداگر تھا اسے جب تک شادی کے سودے میں اپنا فائدہ نظر آیا۔اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھا اور جب اور سمیت سارہ منافع وصول ہو چکا تو اس نے تین لفظ کہہ کر مجھے آزاد کردیا تم نہیں جانتے پری زاد۔۔اسے سودے بازی خوب آتی تھی میں نے ایک گہری سانس لی۔نہیں۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کیسا سودے باز تھا امنہ نے چونک کر میری طرف دیکھا
اوہ۔۔اس کا مطلب میرا شک سہی ہے تھا۔اس نے تم سے بھی تمہاری شاعری کا سودا کیا تھا۔؟مجھے ہمیشہ اس کے نام سے چھپی اس کتاب کے لفظوں میں تمہاری جھلک نظر آتی تھی۔مگر میں خود کو بھی یقین نہیں دکا پائی کہ تم اپنے فن کو سیٹھ عابد جیسے کسی دوکاندار کے ہاتھ بیچ سکتے ہو؟؟
میں نے آمنہ کی سیاہ غزالی آنکھوں میں چھپے سوال کا جواب دیا ابھی تم نے خود ہی کہا تھا سیٹھ عابد ایک بہت ہی بڑا کامیاب سوداگر تھا۔اسے ٹھیک وقت پر اپنے مطلب اور لوگوں کی قیمت لگانا خوب آتا تھا۔سچ پوچھو تو آج جو تم مجھے پری زاد سے پی زیڈ صاحب بنا دیکھ رہی ہو۔اس کے پس منظر کہیں نہ کہیں سیٹھ عابد سے کئے ہوئے سودے کا بھی ہاتھ ہے۔مگر تم یہاں اس محفل میں کیسے۔؟یہ سیٹھ رحمان تو بڑا کائیاں شخص دیکھائی دیتا ہے۔اور تم اس کی خاص مہمان ہو۔۔؟یہ سب کیا ہے ۔۔۔
آمنہ نے دور کھڑے رحمان کی طرف دیکھا جو مہمانوں کو کھانا لگنے کی اطلاع دے رہا تھا۔یہ سیٹھ بھی ایک کامیاب دوکاندار ہے۔اس نے مجھے تمہیں رجھانے کے لیے آج یہاں مدعو کیا ہے تمہاری فرم سے کوئی ٹھیکہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔اب مصرف ان بڑے صنعت کاروں کے ہاں بس اتنا ہی رہ گیا ہے۔
میں نے دکھ سے آمنہ کی طرف دیکھا اور فرض کرو تم مجھے رجھانے میں ناکام رہتیں پھر۔۔پھر کیا ہوتا۔۔؟کچھ زیادہ نہیں میری بچی کھچہی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا اور پھر کسی اور کسی اور سودے کے لیے پیش کردیا جائے گا۔۔کیونکہ میری ماں دنیا سے جاتے جاتے اتنے ادھار میری ذات کے لیے چھوڑ گئی ہے اب میں چاہوں بھی تو ان زنجیروں سے خود کو آزاد نہیں کر سکتی۔اتنے میں سیٹھ رحمان ہمارے قریب پہنچ گیا۔تنگ کرنے کی معذرت چاہتا ہوں۔مگر کھانا ٹھندا ہورہا ہے۔۔باتوں ہے لیے ساری رات پڑی ہے اور پھر مجھے تو لگتا ہے کہ شہہ پارہ بیگم ہم سے کہیں زیادہ آپ کی باتوں لی قدر دان ہیں۔ورنہ اتنی لمبی گفتگو یہ کسی سے نہیں کرتیں۔ہم تو بات کرنے کو ترس جاتے ہیں صاحب ۔۔۔
میں نے سیٹھ کی طرف دیکھا۔نہیں سیٹھ صاحب۔۔اب میں چلو گا۔آپ کا کھانا شدید مجھ سے ہضم نہ ہوسکے۔کل آپ مینیجر کو میرے دفتر بھیج دیجیئے گا یہ ٹھیکہ آپ کو ہی ملے گا اور یہ کیا۔۔اس جیسے مزید جتنے سودے آپ کرنا چاہیں میری طرف سے ہاں ہی سمجھیئے گا۔بدلے میں مجھے کسی کی آزادی درکار کے۔۔مجھے یقین ہے کہ یہ آپ کے لیے گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔۔اگر منظور ہوتو اپنے مینیجر کو قیمت بتا کت بھیجیئے گا ۔۔۔
میں بات ختم کرکے وہاں سے چل پڑا سیٹھ رحمان وہیں ہلا بکا سا کھڑا رہ گیا۔مڑے وقت میں نے آمنہ کی آنکھوں کی نمی آپنی آنکھوں میں اتری محسوس کی تھی اور پھر ساری رات اس نمی نے میری پلکیں بھگوئے رکھیں۔بظاہر باہر سے اجلی اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چمک لیے یہ دنیا اندر سے کھبی کھبی کتنی تاریک اور سیاہ نکلتی ہے۔اگلے راز سیٹھ رحمان کا مینینجر اپنے وقت پر ان پہنچا۔ واقعی سیٹھ رحمان ایک کامیاب سوداگر تھا مگر ناجانے کیوں پھر بھی اس کی لگائی ہوئی قیمت بہت کم محسوس ہوئی۔لوگ عموما جسموں کے سودے کرتے وقت ان کے اندر بسی روح کی قیمت لگانا بھول جاتے ہیں کمالی پچھلے دو چار دن مجھ سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتا تھا مگر اس روز سیٹھ رحمان کے مینیجر کے جانے کے بعد وہ اپنی چپ پر قابو نہیں رکھ پایا۔۔
اگر آپ بڑا نہ مانیں تو سر میں ایک بات کہنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں عہدے اور رتبے میں آپ مجھ دے بہت بلند ہیں مگر عمر میں میں آپ سے بڑا ہوں۔۔لہذا مجھے میرے تجربے کی رعایت دیتے ہوئے کچھ عرض کرنے دیں۔۔۔
میں نے اطمینان سے اس کی یہ لمبی تمہید سنی ۔۔جتنی دیر میں تم نے یہ تمہید باندھی ہے تم اپنی بات ختم بھی کرسکتے تھے۔۔۔کمالی میری بات سن کر شٹ پٹا سا گیا۔جی سر میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے سیٹھ رحمان کو بہت زیادہ قیمت لگادی۔۔میں جانتا ہوں یہ آپ کا ذاتی پیسہ ہے اور اسے خرچ کرنے کا حق بھی صرف آپ کو ہی ہے۔مگر آپ کو ابھی سودے بازی نہیں آتی۔میں جب آپ کو یوں بت دریغ دوسروں پر پیسہ لٹاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو ناجانے کیوں مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔عمریں لگ جاتی ہیں یہ پیسہ کمانے میں اس طرح تو آپ خود خو بہت جلد برباد کردیں گے اگر جذبات میں مجھ سے کوئی گستاخی ہوئی ہے تو معافی چاہتا ہوں۔مگر میں نے آپ خو خبر دار کرنا اپنا فرض سمجھا کمالی بات ختم کرکے چپ ہوگیا۔تم نے ٹھیک کہا کمالی مجھے سودے بازی نہیں آتی میں اچھا سوداگر نہیں ہوں۔۔انسانوں کی قیمت لگانا نہیں جانتا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ قیمت صرف چیزوں کی لگائی جاتی ہے۔۔انسان اور رشتوں کی نہیں۔۔اچھا میرے ایک سوال کا جواب دو عام طور پر انسان پیسہ کس کے لیے کماتا ہے…
کمالی نے بلاتا مل جواب دیا۔اپنے خواب پورے کرنے کے لیے س۔اپنے لیے آسائش آسانی پیدا کرنے کے لیے اور اپنے لیے خوشیاں خریدنے کے لیےعذت اور رتبے کے لیے ٹھیک کہا تم نے مگر کسی کا کوئی خواب ہی نہ بچا ہو تب۔؟آزمائشیں ایسی بوجھ لگتی ہوں اور اس کی خوشی کسی ایک لمحے میں جامد ہوکر رہ گئی ہو ۔۔تب وہ شخص کیا کرے ۔۔۔۔؟؟
کمالی کچھ دیر خاموش رہا۔پھر شاید وہ شخص اس دنیا کا ہی نہ ہو سر کیونکہ آسائش رتنے اور خوشی سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے۔؟
میں مسکرایا۔ہاں۔کوئی دیوانہ ہی ہوگا جسے ان چیزوں سے انکار ہو۔۔مگر ابھی کچھ باقی ہیں دنیا میں مجھے سوداگر بننے میں ابھی کچھ وقت لگے گا کمالی۔خیر چھوڑو۔تم نہیں سمجھا گئے کمالی اور تم نے بھی سیٹھ رحمان کے ساتھ ایک سودا کیا تھا۔۔تمہارا سودا کیسا رہا۔۔۔؟؟
کمالی نے گڑ بڑا کر میری طرف دیکھا۔میں سمجھا نہیں سر کیسا سودا؟-۔۔۔ہاں وہی سودا جو کنٹریکٹ سیٹھ رحمان کو دلوانے کی صورت میں تمہیں پانچ لاکھ روپے منافع ملنے کے بدلے طے ہوا تھا۔۔۔
کمالی کے چہرے پر ہوائیاں سی اڑنے لگیں۔۔وہ سر۔۔وہ۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔میں نے غور سے کمالی کی طرف دیکھا۔گھرانے کی ضرورت نہیں کمالی۔میں نے ویسے ہی وہ ٹھیکہ سیٹھ رحمان کو دینا تھا۔۔بس میری اتنی بات یاد رکھنا۔۔پیسہ کھبی عزت نفس کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔۔وقت ملے تو میری بات پے غور کرنا۔۔اب تم جا سکتے ہو۔۔
کمالی سر جھکائے میرے کمرے دے نکل گیا اگلے دو ہفتے بہت مصروف گزرے اس درمیان میں اپنے بھائیوں کے نئے گھر بھی ہو آیا۔بہنوں کی طرف بھی چکر لگا لیا۔خوب آو بھگت ہوئی میری۔مگر ان میں دے کوئی بات ذہنی طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ میں یوں تنہا اتنے بڑے گھر میں زندگی گزار دوں۔سبھی کو میرا گھر بسانے کی جکفی تھی۔مگر ان میں سے شاید یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ جب دل ہی جی جائیں تو گھر نہیں بسا کرتے۔میرا دل بھی جی کر راکھ ہوچکا تھا۔اب کوئی امید کوئی آس باقی نہیں رہ گئی تھی کہ کھبی کوئی نظر میری طرف بھی اٹھے گی
بظاہر میرے ارد گرد ایسی بہت سی ناذ نینائیں تھیں جن میں سے میں کسی ایک طرف بھی اشارہ کردیتا تو اس کے گھر والے بہ ضد خوشی اسے میرے ساتھ رخصت کردیتے مگر یہ میرا نہیں۔میری ظاہری شان و شوکت اور اس دولت کا کمال ہوتا جسے ابھی تک خود میرے گھر والے بھی مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے اور چہ مگوئیاں ہوتی رہتی تھیں کی آخر دس سال کے اندر اندر میرے ہاتھ آلہ دیں کا ایسا کون سا چراغ لگا ہو ہوگا کہ جس نے میری کایا پلٹ دی
ہمارا معاشرہ بھی کتنا دوغلا ہے۔جس شخص کی غیر موجودگی میں اس رتنے اور دولت پر ناجائز ہونے کے شک میں ہزار باتیں بناتا ہے۔اسی شخص کے آنے پر اس کو پوری تعظیم کے ساتھ کھڑا ہوکر ملتا ہے۔اسے ہزار سفارشیں کرواتا ہے اور ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں بنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔بہروز کریم ٹھیک ہی کہتا تھا۔دولت ہزار عیبوں کا ایک پردہ ہے ۔۔کچھ روز بعد احمد صاحب چند طالب علموں کے ہمراہ میرے دفتر آئے اور بہت دیر بیٹھے رہے وہ اپنے ساتھ اس سال کا یونیورسٹی کا سالانہ رسالہ بھی لائے تھے جس میں میری پرانی تین نظمیں چھپی ہوئی تھیں۔میں نے ان کے لاکھ انکار کے باوجود یونیورسٹی کی بزم ادب کے لے سال بھر کا چندہ ان کے حوالے کردیا۔ویسے بھی میری کمپنی سے شہر کی تقریبا ہر بڑی ادبی تحریک اور تنظیم کو عطیات جاتے رہتے تھے۔شہر میں میں کافی ادب دوست مشہور ہو چکا تھا مگر میں خود ان ادبی پروگراموں میں خانے سے گریز کرتا تھا کیونکہ اب میں شاید اپنے لفظوں اور اپنی شخصیت کے اس واضع تضاد سے اکتا چکا تھا۔
یا پھر اچھے لفظ اچھے خیالات صرف اچھی شخصیت کے ساتھ ہی ججتے ہیں۔۔مجھ جیسا کوئی کتنے ہی اونچے خیالات کا اظہار کو لفظوں کی خوبصورتی مالا میں پرو کر پیش کردیا حرف بت وقعت پے رہتے ہیں میں خود کو مزید
کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔اگلے دن بڑے بھیا کسی سفارش کت لیے دفتر آئے تو میں ان سے پرانے رجسٹر اور مسودوں کے بارے پوچھ بیٹھا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ابھی وہیں پرانے گھر کی دوچھتی والے ٹرنک میں پی پڑے ہوں شاید کیوں کہ بہت سارا سامان نئے مکان میں منتقل ہونا باقی ہے۔پرانے گھر کا سودا ہو چکا تھا اور کچھ دن میں وہاں سے سارا سامان بھی اٹھوانا تھا۔جانے میرے دل میں اچانک ہی میرے پرانے گھر اور محلے کے لیے ایک دم ہوک سی کیوں اٹھی۔میں نے کاغذات تلاش کرنے کے بہانے بھیا کے ساتھ ڈرائیور کو بھیج کر پرانے گھر کی چابی منگوائی اور اس شام عصر کے وقت میری گاڑی میرے پرانے محلے کے سال خوردہ لکڑی والے بڑے گیٹ سے اندر داخل ہو رہی تھی۔میں نے گاڑی محلے کے بڑے میدان سے پرے ہی رکوالی سامنے بچے کینچے کھیل رہے تھے میں بہت دیر وہیں کھڑا انہیں یہ کھیل کھیلتے ہوئے دیکھتا رہا۔غریب محلے کے بچوں کے کھیل بھی سدا غریبانہ ہی رہتے ہیں۔کھبی میں اپنی گلیوں اور اسی میدان میں باقی بچوں کے ساتھ سارا دن کینچے اور گلی ڈنڈے کا کھیل کھیلا کرتا تھا اور شام کو چھپن چھپائی۔۔۔۔مگر زندگی میرے ساتھ ابھی تک چھپن چھپائی کا ہی کھیل کھیلتی آرہی تھی۔محلے کے پرانے ۔مکینوں میں کوئی دکھائی نہیں دیا زیادہ تر نئے چہرے نظر آرہے تھے۔غربت البتہ وہی پرانی تھی۔میں نے کبیر خان کو اپنے گھر کا دروازہ کھولنے کا کہا اور پھر اسے گاڑی کی جانب واپس بھیج دیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ میری آنکھوں میں اترتی نمی دیکھ سکے۔ہمارے کچھ جذبات اور محسوسات بہت ذاتی ہوتے ہیں ہم انہیں کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتے میں بہت دیر تک اپنے گھر کر چھوٹے سے صحن میں کھڑا ان بیتے دنوں کو یاد کرتا رہا جب میں دنیا کے ہر غم سے آزاد اپنے چھوٹے قدموں سے اس صحن میں دوڑتا پھرتا تھا۔باورچی خانے سے اماں کی باجیوں کو ڈانٹنے اور سگھڑاپے کے گر سکھانے کی آوازیں آتی رہتیں ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: