Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 2

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 2

–**–**–

تھوڑی دیر کے لیے مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا رہا اور میں نے گھبرا کر ادھر اودھر دیکھا جیسے میرے پیچھے یا صحن میں آس پاس کوئی اور موجود ہو جیسے دعا کے آواز دی ہوگی مگر میرے سوا وہاں کوئی دوسرا نہیں تھا دیکھ لوگ اپنے اپنے کام کی دھند میں مصروف تھے میری نظر ایک پل کے لیے دعا کی جانب اٹھی اور اوس کی سیاہ گھنی پلوں اور بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں سے ٹکرا کر دوسرے ہی پل زمیں میں گڑھ گئی شاید دنیا کا سب سے بڑا لحاظ یا عرب۔لحاظہ حسن ۔یا عرب حسن ہی ہوتا ہے اللہ نے دعا کو اتنا حسن دیا تھا کے آگر کوئی اوسے آنکھ بڑ کے دیکھ لے تو قیامت تک دعا کے حسن کے آپ کے سے باہر نا نکلے میں بچپن سے لے آج تک دعا جیسی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی ۔میرے لیے تو یہ ویسے ہی ناقابل یقین اور ان ہونی تھی ۔میں نے اس لڑکی کے لیے محلے کے کڑیل جوانوں کو تپتی دوپہر میں گھنٹوں اسکول کے راستے میں جلتے کھڑے دیکھ تھا مگر وہ اسکول سے واپسی پر یہ کھبی گلی محلے میں سے گزرتیں آنکھ اٹھا کر بھی کیسی کی طرف نہ دیکھتی تھی ۔خیال جو آج تک کیسی نے دعا کو ننگے سر دیکھا ہو آج وہی محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی مجھ سے براہ راست مخاطب تھی مجھ سے جیسے اس کے اپنے گھر والے عموما بھول جاتے تھے اگر میں کھانے کے لیے کھبی دیر سے چھت سے نیچے آتا تو عام توڑ پر چھوٹے بہن بھائی سب ضفا چٹ کر چکے ہوتے تھے اور اماں مجھے دیکھ کر سر پیٹ لیا کرتیں ۔کہ ارے۔ یہ تو یاد ہی نہیں رہا ۔پھر میں کیوں حیران نہ ہوتا جب اوس نے میرا نام لے کر دوبارہ پوچھا ۔
آپ خالہ صغرا کے بیٹے ہیں نا پری زاد ۔۔۔۔۔
میرا جی چاہا کے اوسے روک کر کہوں کی دعا پری تو بس آپ ہیں میں تو صرف زاد ہی زاد ہوں۔مگر میرے حلقے سے عجیب و غریب آواز نکلی۔جی 😍
آپ ذرا اس شادی کے ہنگامے سے فارغ ہو لیں تو ایک بار ہمارے گھر کا چکر لگا لیجئے گا میری آمی آپ کو یاد کر رہی تھی ۔
وہ بات ختم کر کے نا جانے کب کی جا چکی تھی مگر میرے قدم تو جیسے وہیں صحن کی کچی زمین میں دھنس کر رہ گئے تھے۔جانے کتنی دیر میں وہی کھڑا ان چند گھڑیوں کے خواب یا گمان ہونے کے بارے میں سوچتا رہا کیوں کے میرا ذہن یہ تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نہیں تھا وہ پل حقیقیت بھی ہوسکتے ہیں دعا مجھ سے ہم کلام تھی ۔پھر نا جانے کس نے مجھے آواز دی اور میرے خوابوں کا سلسلہ توڑ دیا کچھ لوگ آپ کا نام پکاریں تو نام بھی کتنا معتبر لگنے لگتا ہے جسے دعا نے میرا نام کو معتبر کیا
میں جیسے کسی طلسم کی زیر اثر باہر گلی میں نکلا تو حسن معمول لفنگوں کی ٹولی گلی کی نکر پر جمع تھی وہ سب دعا کی باتیں کر رہے تھے اس میں ہادی بھی تھا محلے کا سب سے کڑیل نوجوان ۔میرے ہم عمر سب سے زیادہ زندہ دل اور ہر محفل کی جان پڑھائی لکھائی میں بھی آگئے اور شام کو جب محلے کے باقی لڑکے بڑے میدان کرکٹ کھیلا کرتے تھے تو ہادی کی تیز بولنگ اور ہوا میں اڑتے لمبے بال دیکھنے کے لیے سب تماشائی گھنٹوں کھڑے رہا کرتے تھے میں چپ چاپ نکر پر کھڑے لڑکوں کی ٹولی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔وہ سب دعا ہی کا ذکر کر رہے تھے ان سب نے خود اپنے طور پر اپنی پسند کے حساب سے محلے کی آپنے ناموں کے ساتھ منسوب کر رکھی تھی اور ہادی کے نام کا قرعہ اس کی جانب نظر شخصیت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے دعا کا نام نکلتا تھا ہادی خود بہت عرصہ پہلے سے دعا کے گھر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکا تھا بقول اوس کے اوس کی وہاں دال گلتی نظر نہیں آتی تھی اس وقت بھی وہی ذکر جاناں جاری تھا ۔۔
اکرم نے پوچھا یار بتا تو سہی۔۔کچھ تو بات تو کی ہوگی دعا نے تجھ سے ۔۔ہادی ایک لمبی سی سرد آہ بھری ۔۔کہاں یار۔۔
ااوس5نے تو جیسے مجھ پر نظر نا ڈالنے کی قسم کھا رکھی ہے ۔۔جانے کب آپنے بھاگ کھیلیں گے ۔۔۔۔
پھر اچانک ہادی کی مجھ پر نظر پڑی۔۔میں منہ کھولے محویت سے ان کی باتیں سن رہا تھا ہادی نے ایک دم مجھ سے سوال کر ڈالا۔۔ابے پری زاد ۔۔تونے کھبی کیسی سے عشق کیا؟سب لڑکوں نے ہادی کی بات پر زور دار قہقہہ لگایا۔میں شرمندہ ہوکر بولا میں نے تو نہیں ۔۔۔۔
ہادی سنجیدہ سی شکل بنا کر بولا ہر کسی کو زندگی میں ایک بار عشق ضرور کرنا چاہیے۔عشق آدمی کو انسان بنا دیتا ہے ۔۔
اکرم نے شرارت سے ہادی کی طرف دیکھا معنی خیز لہجے میں بولا صرف ایک بار ذرا پھر سوچ لے ہادی ۔۔
سب لڑکے ایک بار پھر زور سے ہنس پڑے سارا محلہ جانتا تھا کہ نہ صرف ہمارے محلے بلکہ آس پاس کی جانے کتنی گلیوں میں ہادی کے چکر چلتے تھے۔ایک بار تو میرا جی چاہا کہ آج میں بھی ان سب کو بتا کر حیران کر دوں کہ جس دعا کی ایک جھلک پانے کے لیے وہ یہاں گھنٹوں سے کھڑے ہیں اس دعا نے آج خود مجھ سے نہ صرف مجھ سے بات کی ہے بلکہ اپنے گھر بھی بلایا ہے مگر پھر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ بھلا کون میری بات پر اعتبار کرے گا۔الٹا مزید مذاق بنے گا لہذا میں چپ چاپ وہاں سے آگے گزر گیا مگر وہ میری زندگی کی پہلے رات تھی جو مجھ سے گزرارے نہیں گزری پہلے تو میں اپنے کمرے کے اندر چارپائی پر کروٹیں بدلتا رہا اور پھر تنگ آکر میں اپنی چھلنگا سی چارپائی کو کمرے سے باہر کھینچ کر کھلے آسمان تلے تاروں کی چھت کے نیچے ڈال دیا اور پھر ساری رات تاروں سے پوچھتا رہا آخر ایسی کیا بات ہوسکتی ہے۔ جس کے لیے اس ستارہ جبیں دعا نے مجھے گھر آنے کا کہا ہے ۔۔؟
کہتے ہیں دنیا میں جادوگر اور بازی گر ہمیں کھولا دوکھہ دیتے ہیں ۔ہماری نظر بندی کر کے جانے کیسے کیسے کھیل تماشے دیکھا جاتے ہیں آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں مگر اس رات مجھے یہ احساس ہوا کہ سب سے بڑا جادوگر اور ماہر تارین بازی گر خود ہمارے سینے کے اندر دھڑکتا یہ دل ہوتا ہے ۔جادوگر بازی گر کی نظر بندی کا علاج تو شاید پھر بھی ممکن ہے مگر اس کمبخت دل کی نظر بندی کا کوئی علاج نہیں ہوتا ۔۔
میرے دل نے بھی اس رات میری عقل پر پردے ڈال کر میری نظر بندی کردی تھی آپنے سیاہ چیچک زدہ چہرے کو بھلا کر میں کیسی شہزادے کی طرح ساری رات سپنوں میں دعا کا ہاتھ تھامے انجان وادیوں میں بھٹکتا رہا 😍❤
کھبی کھبی ہمارے خواب کتنے خوبصورت ہوتے ہیں شاید اس لیے انہیں خواب کہا جاتا ہے ۔۔۔
اس رات کے بعد نیند تو جیسے مجھ سے دور روٹھ سی گئی
تھی جیسے تیسے کرکے میں نے شادی کے دن کسی طرح گزارے اور رخصتی کے ٹھیک دوسرے دن میں نے جھجکتے ہوئے دعا کے گھر کے دروازے پر دستک دی دعا کے ابا نے دروازہ کھولا جنہیں ہم سب مولوی چچا کہتے تھے ان کا غصہ سارے محلے میں مشہور تھا ۔۔۔
ہاں بھائی کیا بات ہے ۔۔؟
انہوں نے کڑک دعا لہجے میں مجھ سے پوچھا میں پل بھر کے لیے بکلاہٹ میں سب کچھ گیا وہ وہ دوبارہ گرجے اب کچھ بولوں گے یہ نہیں یا یو پی منہ میں سیپیاں ڈالے کھڑے رہوگئے ۔۔۔؟۔۔
میں گھگھیایا جی ۔۔۔۔وہ۔۔۔میں۔۔۔۔مجھے بلایا تھا خالہ نے۔۔۔۔
انہوں نے حیرت سے مجھے ایک بار پھر سے پیر تک غور سے دیکھا ۔۔اندر آجاوں ۔۔۔۔
میں اس وقت کوس رہا تھا جب میں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا بہت حال اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا کچھ دیر میں دعا کی امی آگئیں اور عقدہ یہ کھلا کہ دعا کی نویں جماعت کے پرچے ہونے والے تھے اور سالانہ امتحانات میں اسے اردو کے مضمون میں رہنمائی چاہیے تھی جانے اس کی امی کو کس نے یہ کہہ دیا تھا کہ میری اردو بہت اچھی ہے مجھے خود بھی یقین نہیں آہ رہا تھا کیوں کہ مجھے پوری زندگی آج تک اتنی اہمیت آج تک نہیں ملی تھی ۔طے یہ پایا کہ شام کو چار سے پانچ بجے تک ایک گھنٹہ دعا کو اردو کی تیاری کرواجایاں کرو گا ۔۔مولوی صاحب ٹیوشن کی فیس بھی مقرر کرنا چاہتے تھے مگر میں انہیں نے ٹال دیا
دعا کے گھر سے نکلنے کے بعد بہت دیر تک تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں تھا آیا کی آس خوبصورت حادثے پر میرا پر میرا رد عمل کیا ہونا چاہیے ۔۔
رات تک میں ایک صدمے کی سی کیفیت میں رہا ۔صدمے کا تعلق ہمیشہ غم سے ہی کہیں ہوتا کھبی کھبی اچانک مل جانے والی خوشی ہمارے عمومی رویے اے متصادم ہوتی ہے شاید ساری بات ظرف کی ہی خوشی ہو یا غم ہمارے ظرف کے پیمانے بڑھ جائے تو ہم آپنی ظاہری شخصیت کا رکھ رکھاو کھو بیٹھتے ہیں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا اور اگلے ان تین چار مرتبہ اماں اور بڑے بہن بھائیوں مخلتف باتوں پر ڈانٹ پڑ گئی۔مثلا میں عام طور پر شازونادر ہی آئینہ دیکھا کرتا تھا بلکہ سچ یہ ہے کہ مجھی آئینے سے ڈر لگتا تھا مگر اس روز لگاتار تیسری مرتبہ برآمدے میں لگے آئینے کے سامنے سے گزرتے ہوے میں نے شیشہ میں جھانکا تو برآمدے میں کچھ کام کرتے مجھے بڑے بھائی نے گھورا ۔۔
خیر تو ہے۔۔۔یہ کنگھی پٹی آج کا خوشی میں کی جارہی ہے۔میں شٹ پٹا گیا۔تمہارے دسویں کے امتحانات سر پر ہیں ۔۔اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دو آئینہ دیکھنے کے لیے ساری زندگی پڑی ہے ۔۔
میں جلدی سے سربلا کر وہاں سے ٹل گیا اس روز گھڑی کے ہندسوں کہ جیسے مجھ سے جنگ جاری تھی میں گھنٹہ بعد بھی سوئی کی طرف دیکھتا تو تو سوئی صرف پانچ منٹ ہی آگے کھسکی ہوتی۔شاید گزرتے وقت کا تعلق کسی سوئی یہ گھڑی سے نہیں ہوتا۔وقت ہمیشہ ہماری لمحوں کی ضد سے ناپا جاتا ہے۔ہماری مرضی کے خلاف ہمیشہ ہماری خواہش کے برعکس گھڑیوں کے گزرنے کو وقت کا نام دے دیا گیا جب ہم تیز تر چاہتے ہیں یہ سست تو ہوجاتا ہے اور جب کھبی ہم بھلے انسان وقت کو گھڑی یا سوئی کے پیمانے پر کیوں ناپتے ہیں؟
بس اپنے دل میں جھانک کر اپنی خواہش ٹٹول لیا کریں وقت ہمیشہ اس کے مخالف سمت دوڑتا ملے گا ۔
ٹھیک چار بجے شام میں دعا کے دروازے پر دستک دے رہا تھا گلی میں اکا دکا لوگ آپ جارہے تھے شہر ہیں اس وقت لادین اور اوس کے دوستوں کی ٹولی وہاں مورچہ جمائے نہیں بیٹھی تھی ورنہ مجھے ہزار سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا دروازہ دعا کے چھوٹے بھائی نے کھولا اور مجھی اندر لے جا کر صحن میں لگی انگوروں کی بیل کے نیچے بھی کرسی پر بیٹھا دیا۔سامنے ایک چھوٹی سی میز اور دوسری کرسی بھی رکھی ہوئی تھی میرا دم پھول رہا تھا۔دھڑکن بے قابو اور سانس رک رک کر آرہی تھی۔میں نے بچپن سے ہی اپنے لیے لوگوں کی نظر میں اس قدر تحقیر اور تمسخر دیکھا تھا کہ مجھے براہ راست اوپر دیکھنے یا سامنے والی آنکھوں میں براہ راست دیکھ کر بات کرنے کی عادت ہی نہیں رہی تھی۔ لہذا جب دعا اپنا سیاہ دوپٹہ سر پر جماتے ہوئے آکر بیٹھی تو تب بھی میری نظریں نیچے زمین میں ہی گھڑی ہوئی تھیں۔ حتی کہ جب اس کے گورے پاوں سیاہ سینڈلز میں جکڑے میری نظر کے دائرے میں آئے تو میں گھبرا کر کر آپنی آنکھیں مذید جھکا لیں۔اور خود اپنے جوتوں کو دیکھنے لگا ۔دعا مے کتابیں پر رکھ دیں اور شاعری کا باب نکال کر بولی۔
سب سے پہلے تو آپ مجھے یہ میرتقی میر اور درد کی شاعری کی تشریح سکھادیں۔ہمیشہ یہ سوال مجھ سے رہ جاتا ہے میں نے کھنکار کر گلہ صاف کیا جیسے کوئی غریب دماغ مقرر حاضرین سے کھچا کھچ بھرے ہال کے سامنے سٹیج پر آکر یک دم آپنے دماغ سے مٹ جانے والی تقریر کو یاد کرنے کی کوشش میں وقت ضائع کرتا ہے پتہ نہیں میں نے شعر کی تشریح کیا کی اور نثر کا باب کہاں سے شروع کر کے کہا ختم کیا دعا کے نازک ہاتھ صفے پلٹتے گے اور میں اوس کے ہاتھوں کی لکیروں میں اپنا ڈوبی ہوا مقدر تلاش کرتا رہا ٹھیک پانچ بجے دعا کی امی چائے کا کپ لے کر آگئیں اور میں نے حیرت سے برآمدے میں لگی بڑی گھڑی کی طرف دیکھا ایک گھنٹہ گزر بھی گیا۔۔۔؟
پھر وہی وقت کی ہماری خواہش سے جنگ۔۔۔؟امیں چائے کا کپ ختم کر کے وہاں سے نکل ایا۔میں زندگی میں کھبی نشہ نہیں کیا تھا لیکن کھبی کھبی سرور کا تعلق کیسے نشہ آور شے ختم نہیں ہوتا۔کچھ پل ایسے بھی ہوتے ہیں جب فضا میں۔ہوا میں۔آس پاس کے ماحول میں ہی نشہ گھل جاتاہے ۔کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو بن پائے بنا کیسی گناہ کے بوجھ تلے دبے اس سرور کا نشہ لیتے ہیں اس دن میں بنا کیسی نشے کے سرور میں رہا مگر کہتے ہیں کہ دنیا کا ہر نشہ عارضی ہوتا ہے عموما رات بھر کے کمار کے بعد صبع اتر ہی جاتا ہے میرا نشہ بھی صبع آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہی بھی سے اڑ گیا۔میں بے خیالی کنگھی کرنے کے لیے اپنے کمرے میں لگے ٹوٹے میلے سے آئینے کے ایک ٹکڑے میں چہرہ دیکھ بیٹھا اور میرے سارے سپنے پل بھر میں ہی کرچی لڑکی ہوگئے کاش یہ آئینہ ایجاد ہی نا ہوا ہوتا تو ہم جیسے کے لیے دنیا اتنی مشکل جگہ نا ہوتی ۔۔۔۔؟
اس پل میرا جی چاہا کے دنیا کے سارے خوبصورت اندھے ہوجائے جب بصارت صرف بد صورتوں کے پاس ہوگی تو کوئی کیسی کو بد صورت یہ بد نما نہیں کہے گا۔یا پھر کاش اوپر والے دنیا میں صورت ایک ہی سی بنائی ہوتی پھر تو شاید اس بصارت یا آئینہ کی ضرورت ہی نہ رہتی ۔۔
اگلے روز مجھے دعا کے گھر کے باہر ہی ہادی نے دھر لیا۔۔ہاں شہزادے۔۔یہ کیا چکر ہے ہمارے ساجن کے گھر ۔۔۔وہ بھی ہم سے چھپ چھپ کے ۔۔۔۔۔؟؟
میں نے ہادی کو ٹیوشن والی بات بتائی۔ہادی نے ایک لمبی سے سرد آہ بھری۔ہاں میاں یہی تو فائدہ ہوتے ہیں لکھ پڑ جانے کے ۔۔چلو عیش کرو میری قسمت میں تو شاید ویسے بھی اس ظالم کی نظر نہیں ہے کھبی پلٹ کر دیکھتی تک نہیں مجھے ۔۔۔۔۔
پھر ہادی کو جیسے کچھ یاد آگیا ۔آرے ہاں۔۔یاد آیا ۔۔۔یار ایک خط تو لکھ دے کیسی کے نام۔۔۔دراصل میری لکھائی اتنی اچھی نہیں ہے۔اور سنا ہے لڑکیوں پر اچھی لکھائی کا بڑا اثر پڑتا ہے ۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو میں شاید ہادی کو ٹال دیتا کیونکہ ہر ہفتے کسی نہ کسی کے قدموں میں پھینکے کے لیے ہادی کے ایسے خط اور رقعوں کی ضروت پڑتی رہتی تھی مگر چونکہ اس وقت ٹیوشن کا وقت نکلتا جارہا تھا اس لیے میں نے بادل نخواستہ چند سطور ایک صفحے پر کھینچ کر ہادی کے حوالے کر دیں۔ وصول کرنے والی کا نام اس نے نہیں لکھوایا اور اپنے نام کی جگہ بھی اس نے خالی رہنے دی وہ اپنے متاثر کن دستخط کر سکے میں جیسے تیسے جان چھڑا کر دعا کے گھر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا آج مولوی صاحب دعا کے آب بھی گھر موجود تھے اور صحن میں بیٹھے حقہ گڑ گڑا رہے تھے ہماری پڑھائی کے دوران وہ بھی وقتا فو وقتا لقمے دیتے رہتے تھے اور کچھ جگہ انہوں نے میری تصیحح بھی کی۔اب انہیں کون بتاتا کہ تصیحح ہوش مندوں کے لیے ہوتی ہے مدہوشی بھلا یہ درست اور غلط تکرار کیا جانیں؟دعا کی باتوں سے اس دن میں نے اندازہ کیا کہ اسے شعرو شاعری سے کافی لگاو ہے اور اسے بہت سارے شعر بھی زبانی یاد ہیں مگر میرے ساتھ ایک عجیب سا مسئلہ یہ تھ کہ دن بھر شام کے چار بجے کا انتظار کرتا رہتا پل پل کانٹوں ہر کاٹ کر گزارا کرتا۔مگر جیسے ہی دعا میرے سامنے آتی اس کے حسن کے نور کی پہلی کرن میری آنکھوں میں پڑتی میری نظریں خود بخود جھک جاتی تھیں مجھے دعا کے گھر ٹیوشن پڑھانے کے لیے جاتے ہوے ساتھ آٹھ روز ہوچکے تھے اور ان ساتھ آٹھ دنوں میں میں نے شاید سات پل کے لیے بھی اوس کے چہرے کو براہ راست نظر بھر کے نہیں دیکھا تھا بس دعا کے ہاتھ اوس کے کنگن چوڑیوں کی کھناہٹ۔۔۔۔۔اس کی اواز کا زیرو بم اس کے بالوں کی وہ ایک لمبی سی شریرلٹ جو بار بار اوس کے چہرے سے نیچے ڈھلک کر اوسے تنگ کرتی رہتی تھی۔دعا کی مخروطی انگلیاں اور اوس کا وہ قلم پکڑنے کا ایک خاص انداز ۔۔۔
بس یہی کچھ ان پلوں کا سرمایہ تھا۔ہاں البتہ ایک فائدہ مجھے زرور ہوا تھا کہ دعا کو اردو پڑھانے کے چکر میں خود دن بھر اردو کے رٹ لگاتا رہتا تھا اور اپنے اردوں کے استادوں سے اس روز کی ٹیوشن کا باب خود آچھی طرح سمجھ کر آتا تاکہ مجھ سے کوئی غلطی نہ ہاجائے۔اس معشق سے میری اپنی دسویں کی تیاری بہت اچھی ہوتی گئی۔میرے میٹرک کا امتحانات قریب آرہے تھے سکوں کی طرف سے دسویں جماعت کو کراچی کے مشہور سینما میں اردو فلم دکھانے کے لیے لے جایا گیا۔ہیرو پیانو پر بیٹھ کر ایک محفل میں ہیروئن کو اپنے دل کا حال سنا رہا تھا۔سفید سوٹ میں ملبوث وہ ہیرو پیانو بجاتے ہوئے مجھے بہت اچھا لگا اور جانے کیوں اس لمحے سے میرے اندر پیانو سیکھنے اور بجھانے کی خواہش ایک شدید کسک کی صورت میں جاگ اٹھی۔ اس رات میں نے خود کو خواب میں وہی سفید پہنے پیانو بجاتے دیکھا اور دعا اس فلم کی ہیروئن کی طرح پیانو کے پہلو سے جڑی میرے قریب کھڑی محویت سے میری دھن سن رہی تھی۔عجیب بات یہ تھی کی خواب میں میرا چہرہ اور وجود کسے بھی قسم کے داغ دھنوں اور سیاہی سے بالکل پاک صاف اور مبر تھا۔صبع جب اچانک کسی کھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی تو بہت دیر تک میں نے صدمے کے مارے آنکھیں میچے رکھیں کچھ خواب کتنے اثرانگیز اور روح تک میں سرایت کر جانے والے ہوتے ہیں کہ بہت دن تک ہمیں اوداس اور بے چیں رکھتے ہیں تب ہمارا جی چاہتا ہے کہ کاش ہماری موجودہ زندگی ایک خواب ہوتی اور وہ خواب ہماری زندگی سے بدل جاتے ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: