Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 20

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 20

–**–**–

ابا صحن میں اپنا حقہ سنبھالتے کھانستے اور اور آخبار پڑھتے رہتے۔میں مٹی کے صحن میں اپنی پرانی ٹین کی بنی موٹر کار کے لیے راستے بناتا رہتا اور دن میں سو سو مرتبہ اس الزنگ لگی کار کو اماں کے دوپٹے دے چلاتا رہتا۔ایک لمحے میں ہی میرے آس پاس یہ سب کچھ اس شدت سے میری کار کت جھرکوں سے باہر جھکا کہ وہ سب لمحے پھر سے زندہ ہوگئے حتی کہ میں اس وقت ابا کے حقے کی کڑوا دھواں اور باورچی خانے سے آتی گرم پھلکوں کی مہک بھی محسوس کر سکتا تھا کاش میں ساری زندگی وہی پانچ چھ سال پری زاد ہی رہتا کھبی بڑا نا ہوتا۔جانے ہم اتنی جلدی بڑے کیوں ہو جاتے ہیں؟ہر بچہ اپنی ماں کے لیے پری زاد ہی ہوتا ہے۔تو اگر میری بھولی بھالی ماں نے مجھ جیسے کس نام پری زاد رکھ دیا تھا تو ایسا کیا گناہ کیا۔۔؟
میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بہنے لگے۔۔اچانک مجھے اپنے کانوں میں ابا کی آواز بھی گونجتی محسوس ہوئی
پری زاد۔۔۔ بیٹا تم پری زاد ہو نا ۔۔۔
میں ایک جھٹکے سے اپنے خیالات کی دنیا سے واپس لوٹ آیا۔کوئی مجھے واقعی ہی پکار رہا تھا جسے میں ابا کی آواز سمجھا تھا وہ ہمارے محلے کے ایک بزرگ بشیر چچا کی آواز تھی۔میں نے جلدی سے اپنی آنکھیں پونچھ کر پلٹ کر دیکھا
گھر کا دوازہ کھلا دیکھ کر گلی سے گزرتے کچھ پرانے محلے دار گلی میں جمع ہوچکے تھے۔یہ سب وہ لوگ تھے جن کے ہاتھوں میرا بچپن کھیلا تھا۔سبھی گھل مل گئے اور پرانی یادوں کے سب دریچے وا ہوگئے۔وہ سب ابا کے دوست اور ساتھی تھے اور پرانی باتیں یاد کرکے سبھی بیک وقت خوش اور غمگین سے ہوگئے تھے گویا یاد ماضی صرف میرے لیے ہی عذاب تھی نہیں تھی۔اور بھی بہت تھے جو اس عذاب سے دوچار تھے۔وہ سب میری ترقی دیکھ کر حیران اور دل خوش نظر آرہے تھے۔یہ پرانے محلے دار بڑے دلچسپ رشتے میں بندھے ہوتے ہیں۔جب تک ساتھ رہتے ہیں زیادہ تر ایک دوسرے سے خفا اور جھگڑتے رہتے ہیں۔مگر انہی میں جب کوئی ایک بچھڑ کر کہیں اور چلا جاتا ہے اور عرصے بعد ملتا ہے تو یہ سارے خون کے رشتوں دے بھی بڑھ کر اسے یاد کرتے ہوئے یوں اسقبال کرتے ہیں جیسے وہ ہمسایہ ہی نہیں۔کوئی ماں جایا ہو۔یہ انسانی رشتے دور جاکر ہی خوبصورت کیوں بن جاتے ہیں؟فاصلے ہمارے رویوں میں اتنی بڑی تبدیلیاں کیسے لے آتا ہیں۔یہ کیا گورکھ دھندا ہے؟
نکڑ والے چچا کو اچانک کچھ یاد آگیا۔۔۔
ارے ہاں پری زاد بیٹا۔۔وہ مرزا کا پوچھنے ضرور جانا۔۔بہت بیمار رہتے ہیں آج کل۔ضعیف بھی بہت ہوگئے ہیں۔
مرزا صاحب کا نام سنتے ہی میرا گال اچانک جلنے لگا۔ان کا لگا ہوا طمانچہ آج تک میرے ذہن کے کسی نہاں خانے میں گونجھ رہا تھا۔اور تبھی اچانک ہی وہ آفت جاں دعا یاد آگئی اس کا تو ہادی سے رشتہ ہوگیا تھا۔جانے اب وہ کیسی ہوگی
محلے کے بچے گاڑی کے ارد گرد جمع تھے اور ڈرائیور انہیں بھگانے کے لیے مختلف طریقے آزما رہا تھا
میں دھڑکتے دل کے ساتھ مرزا صاحب کے دروازے کے سامنے رک گیا۔پھر مجھے خود ہی اپنی حالت پر ہنسی آگئی۔اب تو وہ کب کی اپنے گھر کی ہو چکی ہے اور میں ہوں کے آج بھی اس کے گھر کے سامنے کھڑا اپنے بے چین دل کو سنبھالنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہوں۔سب اس دشمن دل کے تماشے ہیں۔میری دوسری دستک کے جواب میں اندر سے کسی کے قدموں کی آہٹ بلند ہوئی۔میں ایک جانب ہوکر کھڑا ہوگیا۔آنے والی نے دروازہ کھولا تو اس کی نظر مجھ سے پہلے دور کھڑی میری کار پر پڑی اور پھر اس میری نظر ملی تو سانس رکنے لگی۔وہ دعا ہی تھی۔دعا بھی گڑ بڑا سی گئی میں نے اسے سلام کیا تو وہ آٹکتے ہوئے بولی۔
آپ ۔۔۔پری زاد ہیں ناں۔مجھے ہمسایوں نے بتایا تھا کہ آپ کے محلے میں آئے ہوئے ہیں۔۔۔مگر میں یہ بلکل بھی توقع نہیں کر رہی تھی آپ ہمارے گھر بھی آئیں گ۔۔
دعا کے الجھے بال کپڑے مسلے ہوئے اور پیروں میں پرانی چپل تھی۔اس کا جسم پہلے سے کافی فربہ لگ رہا تھا اور وہ طرح دار شوخ نازک اور نٹ کھٹ لڑکی مجھے اس سامنے کھڑی عورت میں بمشکل ڈھونڈنے سے حصے میں بٹی نظر آرہی تھی۔دعا نے سٹ پٹا کر مجھے اندر آنے کی دعوت دی آپ باہر کیوں کھڑے ہیں اندر آجائیں۔۔ابا گھر ہر ہی ہیں
میں جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوگیا یہ وہی صحن تھا جہاں میں کھبی شام کو ایک گھنٹہ بھر کے لیے دعا کو ٹیوشن پڑھانے کے لیے انگور میں بیل کے سائے میں کرسی ڈالے بیٹھا رہتا تھا اور دن کے باقی (23) گھنٹے ایک گھنٹے کی یاد میں گزار دیتا تھا۔صحن میں چار پانچ چھوٹے چھوٹے بچے شور اور ادھم مچا رہے تھے ان میں سے ایک نے گھڑے پر رکھا پیتل کا گلاس زور سے پکے فرش پر گرا دیا۔شور مچ گیا دعا نے غصے اس بچے خو دو تھپڑ مارے اور غصے اور شرمندگی سے چلائی۔۔۔
چپ کر جاو کم بختو۔۔دیکھ نہیں رہے گھر مہمان آئے ہیں چلو نکلا یہاں سے باہر جا کر کھیلو۔۔۔
بچے منہ بسورتے صحن سے نکل گئے اندر سے مرزا صاحب کھانستے ہوئے باہر صحن میں نکل آئے کون آیا ہے دعا بیٹا
دعا نے جلدی سے صحن میں پڑی پرانی کرسی میرے لیے سیدھی کی۔پری زاد آئے ہیں ابا ہمارے پرانے ہمسائے ۔۔
مرزا صاحب نے چونک کر اپنا چشمہ درست کیا اور مجھے غور سے دیکھا ارے پری زاد بیٹا۔۔۔کیسے ہو تم۔۔۔تمہارے بھائیوں سے پتا چلا تھا کے تم پاکستان آچکے ہو۔۔اچھا کیا آگئے تمہیں دیکھے بہت عرصہ ہوگیا۔۔۔مرزا صاحب ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔دعا میری موجودگی کی وجہ سے بہت الجھی ہوئی بہت بے آرام سی دیکھائی دے رہی تھی۔پھر اچانک مرزا صاحب کے چہرے پر شرمندگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ارے ہاں۔۔یاد آیا۔۔میں نے کھبی تمہارے ساتھ بڑی زیادتی کردی تھی میاں۔۔بعد میں حقیقیت کھلی تو تم یہاں سے جا چکے تھے۔۔ہوسکے تو تم مجھے معاف کردینا ۔
میں جلدی سے کہا۔۔آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔بزرگوں کا حق ہوتا ہے۔۔مگر یہ ہادی کہا ہے دیکھائی نہیں دے رہا۔
مرزا صاحب نے برا سا منہ بنایا۔۔ارے ہوگا کہاں۔۔کہیں نوکری کی تلاش میں ڈر بدر بھٹک رہا ہوگا۔دعا کی ماں انتقال کے بعد اسے تو موقع ہی مل گیا۔مہینوں اپنے بیوی بچوں کو یہاں میکے میں میری خدمت کے بہانے چھوڑ کر جانے کہاں غائب رہتا ہے۔بہت سے کاروبار آزمائے اس نے۔۔مگر کچھ جمع نہیں آج کل نوکری کے لیے دھکے کھاتا رہتا ہے۔۔
دعا چائے کا کپ لیے نمودار ہوئی اور اس نے باپ کو گھور کر دیکھا۔بس کریں ابا جی ۔یہ وقت بھلا ان باتوں کا ہے۔۔؟؟
میں کن اکھیوں سے دعا کو دیکھتا رہا۔یہ نازک شاخ حل جیسی لڑکی شادی کے بعد اتنی جلدی اپنا روپ کیوں بدل لیتی ہے ہیں۔۔؟یا پھر شاید ہادی جو اس کا محبوب تھا اور بطور شوہر اس کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا اس لیے دعا بھی اتنی ہی دلکش اور خوبصورت ہو۔۔؟کہتے ہیں حسن جب ہمارے روز مرہ معمول میں شامل ہوجائے تو عموما اپنا اثر کھو دیتا ہے یا پھر سدا کے لیے اپنے پہکے تاثر کے ساتھ ہماری یاداشت میں جامد ہو کر رہ جاتا ہے۔۔
میں نے پورے دس سال کے بعد دعا کو دیکھا تھا اس لیے شاید میں اس کے بڑھتے وزن سے کچھ الجھن محسوس کررہا تھا لیکن کیا محبوب کے روپ بدل لینے سے ہماری محبت کا نظریہ بھی بدل جاتا ہے؟یا پھر حسن پرستوں کا شیوہ ہی میرکی غزل اور خیام کی رباعی کو اس کے سرایے میں ڈھلتے ہوئے دیکھنا ہوتا ہے۔میں انہی خیالوں میں مگن چائے کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے رہا تھا دعا ست جھکائے میرے قریب ہی کھڑی تھی اتنے میں اچانک صحن کا دروازہ کھلا اور گرد اور دھول میں آٹا ایک تھکا ہارا شخص اندر داخل ہوا۔ہم دونوں کی نظر ملی۔دعا کو میرے قریب کھڑے دیکھ کر اس شخص کے ماتھے پر تیوریاں سی پڑگئیں دعا بھی کچھ گھبرا سی گئی اور جلدی اس کی جانب بڑھی ارے ہادی تم آگئے دیکھو۔۔۔پری زاد ہمارے گھر آئے ہیں پہچانا نہیں تم نے۔ہادی نے کھڑی نظروں سے میری طرف دیکھا….
ہادی نے شدید غصے سے دعا کی طرف دیکھا۔دعا نے جلدی سے اسے سرگوشی میں کچھ کہا۔ہادی نے اس بار مجھے غور سے دیکھا اور پھر اس کے منہ سے بے اختیار نکلا
ارے پری زاد تم۔میرا مطلب ہے آپ پری زاد ہو ناں معاف کرنا میں تھکن کے مارے پہچان نہیں سکا شاید ہادی بھی میرے قیمتی اعلی لباس اور باہر کھڑی نئی گاڑی سے حیران ہوکر فورا تم سے آپ پر آگیا۔انسان نے مرعوبیت کے لیے کتنی نا پائیدار اشیاہ کو پیمانہ بنا رکھا ہے میں نے گہری نظروں سے ہادی کو دیکھا اس کے چہرے پر وقت کی دھول شاید کچھ زیادہ ہی تیزی سے تہہ جما رہی تھی۔بہت تھکا ماندہ سا نظر آرہا تھا۔کھبی یہی ہادی ہم سارے محلے کی سڑکوں کے لیے رشک کا باعث ہوا کرتا تھا۔اور میں خود کو اس پر رشک کرنے کے قابل بھی نہیں سمجھتا تھا وہ اس ہستی کا محبوب تھا جس کی پلک کا ایک اشارہ مجھے عمر بھر کے لیے خاکستر کر گیا۔اور آج اتنے سالوں بعد وہ شعلہ جوالہ میرے سامنے راکھ بنی کھڑی تھی اور اس کا وہ گل فام غم دوراں کے پھیرے میں سب کچھ بھولا دکھائی دیتا تھا۔کون خوش ہے بھلا اس ناشناس زمانے میں؟جنہوں نے پایا انہوں نے پاکر مٹی کردیا اور جو نہیں پاسکے وہ بھی ہمیشہ کے لیے خاک ہوئے مجھ سے زیادہ وہاں ٹھہرا نہیں گیا۔میں نے آتے وقت اپنا کارڈ ہادی کو دے دیا کہ وہ اگلے روز میری فیکٹری کے مینجر سے مل لے۔میں اپنی گاڑی میں جب گلی سے باہر نکل رہا تھا۔تب میں نے بیک ویو میرر میں دعا کو اپنے گھر کے دروازے میں کھڑا دیکھا شاید وہ مجھ سے جاتے وقت کچھ بات کرنا چاہتی تھی۔مگر کیا بات کرتا میں اس سے؟
وہی معزرتیں۔۔وہی میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔میں آپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔آپ دل کے بہت اچھے ہیں وغیرہ وغیرہ کتنا مضوعی لگتا ہے یہ سب کچھ کچھ معزرتیں اور کچھ وضاحتیں پرانے گھاو مندمل کرنے کے بجائے زخموں کا سینہ مزید کھول دیتی ہیں۔میں بھی اپنے یہ کھلے زخم لیے گھر واپس پہنچا تو رات ڈبل رہی تھی۔کمالی نے جانے کب سے سوئمنگ پول کے پاس کچھ فائلیں گود میں لیے بیٹھا میرا انتظار کررہا تھا۔میں نے کچھ ضروری کاغذات پر دستخط کر کے اسے فائل واپس کی ۔۔
صبع لے آتے کمالی زندگی کو اتنا بوجھ کیوں بنا رکھا ہے تم نے اپنے لیے ؟ جب تک میرے ساتھ کام کر رہے ہیں نفع نقصان کو ذہن سے نکال کر کام کیا کرو میں نے تمہیں اس دن بھی بتایا تھا کہ میرے نقصانات اور فوائد کا پیمانہ کچھ اور ہے
میں زندگی میں اتنی بات یاد چکا ہوں کہ اب جیت مجھے کسی بھی ہار سے کہیں زیادہ اداس اور پریشان کر دیتی ہے کہ ٹینڈز بھر دینا باقی اللہ مالک ہے جاو۔۔ جاکر آرام کرو
کمالی سو جھکائے کھڑا رہا۔میں نے آپ کر کچھ اور بھی بتانا تھا سر۔آج میں نے صبع سیٹھ رحمان کا دیا ہوا چیک واپس کر دیا۔آپ کے ایک جملے نے مجھے عزت نفس کا وہ سبق سکھایا ہے کہ اب میرے قدم کھبی نہیں ڈگمگائیں گے۔آپ بھی میری اس خطا کو آخری سمجھ کر معاف کردیں میں نئ اس کا کاندھا تھپتھپایا۔بھول جاو کمالی زندگی میں انسان اور کچھ ہو نہ ہو یہ بھول جانے کی نعمت ہونا بہت ضروری ہے۔۔
کمالی پلٹ کر جانے لگا میں اچانک اس سے پوچھ بیٹھا
کمالی تم نے کھبی کسی سے محبت کی ہے ۔۔۔
کمالی نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ہاں سر۔۔بڑا زوردار عشق چکا تھا نو جوانی میں۔مگر انجام بہت بڑا ہوا آخر کار
میں نے گھبرا کر پوچھا کیوں کیا ہوا تھا؟؟؟؟
کمالی نے لمبی سی سانس بھری ہونا کیا تھا سر جی ۔شادی ہوگئی میری اس کے ساتھ آج وہ میرے چار بچوں کی ماں ہے سارا عشق بھاپ بن کر اڑ گیا گھریلو روز مرہ خرچوں بچوں کی فرمائشیں اور فیسوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ساری محبت ہوا ہوگئی۔۔
کمالی اپنے دکھڑے سنا کر چکا گیا اور میں بیٹھا سوچتا رہا کہ ہم ناداں انسان ابھی تک یہ بھی تہہ نہیں کر پائے کے محبت کو پالینا بڑا حادثہ ہے یا اس کو کھو جانا بڑا سانحہ؟
کیا شئے ہے یہ محبت ہم مبتلا ہوں یا غیر مبتلا۔یہ محبت ہر پل ہمارے آس پاس کن سوئیاں لیتی ہماری سرگوشیاں سنتی رہتی ہے۔تاکہ ہمارے خلاف پھر کوئی بھر پور سازش رچا سکے۔میری یہ حسن پرستی بھی تو اس ستم گر کی ایک سازش تھی۔لوگ باتیں بنانے لگے تھے کہ میرے آس پاس خوبصورت چہروں کا مجمع اکھٹا رہتا ہے۔دفتر میں باہر فیلڈ کے عملے میں دوبئی کے دفاتر اور کمپنیوں میں۔ہر جگہ انتخاب اگر میرے فیصلے سے ہوتا تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کوئی حسین چہرہ پی نکلتا۔چاہے پھر میرا زندگی بھر اس چہرے سے دوبارہ کھبی آمنا سامنا ہی نہ ہو۔مگر لوگوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ جس طرح ہم میں سے کچھ صفائی پسند ہوتے ہیں کچھ نفاست پسند کچھ کو نازک اشیاہ پسند آتی ہیں اور کچھ خوشبووں کے رسیا ہوتے ہیں اسی طرح میں حسن پسند تھا اور بس ۔۔
اگلے روزجھے سائٹ ایریا والی فیکٹری کے مینجر مے بتایا کے ہادی ہو اس کی قابلیت کے حساب سے کسی دفتر کے کام پر لگا دیا گیا ہے اور تنخواہ بھی معقول طے کر دی گئی ہے رات کو ایک میٹنگ سے واپسی پر گھر آتے آتے بہت دیر ہو گئی سڑکیں سنسان ہوچکی تھیں۔رات کو جانے پہچانے رستے بھی کسی اجنبی کی طرح ہمارا استقبال کرتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں دن پوشیدہ گوشوں کو اپنی روشنی سے اجال کر ان کی شناخت ظاہر کرتا ہے مگر نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے لوگوں جگہوں چیزوں اور چہروں کی اصل پہچان رات کے اندھیرے میں ہی ہوتی ہے۔ڈرائیور نے میری بوریت کے خیال سے گاڑی کا ایف ایم ریڈیو چلا دیا یہ ایف ایم ریڈیو بھی ایک اچھا فرار ہے لمبے راستوں کو مختصر کرنے کا۔۔ایف ایم کا ڈی جے کمپیئر اگر پڑا لکھا اور زندگی سے شناسا ہوتو ہماری تنہائی بانٹ لیتا ہے اس روز بھی وہ میزبان میری تنہائی بانٹنے کے لیے شعرو ادب کی باتیں کر رہی تھی میں بے دھیانی میں بیٹھا اس کی میٹھی باتیں سن رہا تھا کہ اچانک اپنی نظم کے دو بول سن کر زور سے چونکہ اٹھا میزبان ہی آواز سناٹے میں گونج رہی تھی
جی ہاں یہی ہے میری پسندیدہ نظم کا عنوان۔۔۔
گر کھبی تم کو مجھ سے نفرت ہو جائے ۔۔
تو ان راستوں سے نفرت مت کرنا ۔۔
جن پر ہم کھبی ایک ساتھ چلے تھے ۔۔
رات کے اندھیرے میں میں خود اپنی نظم اس ایف ایم کی میزبان کی زبانی سن کر جانے کیوں میری اپنی پی پلکیں نم ہونے لگیں۔۔۔میزبان کہہ رہی تھی۔
جی سامعین ۔۔۔یہ تھی میری سب سے پسندیدہ شاعری کی وہ نظم جسے میں اکثر گنگناتی ہوں مگر مجھے اس شاعر سے ایک گلہ بھی ہے۔میں اس یونیورسٹی کی ایک جونیئر طالب علم ہوں جہاں میرے ایک محترم سینیئر پری زاد صاحب نے یہ ساری نظمیں لکھیں۔۔مگر پھر نا جانے انہوں نے شاعری سے سنیاس کیوں لے لیا۔۔؟اگر خوش قسمتی سے اس وقت میرا پروگرام سن رہے ہیں تو ان سے میری اس ادبی پروگرام کے ہزاروں سامعین کی بس یہی ایک چھوٹی سی خواہش ہے کہ وہ لفظوں سے اپنا ناتہ نہ توڑیں۔۔اب آپ سے آپ کی میزبان قراہ العین بخاری اجازت چاہتی ہے۔کل پھر رات گیارہ بجے آپ کے پسندیدہ پروگرام۔بزم ادب کے ساتھ عینی حاضر ہوگی تب تک کے لیے آپنا بہت سا خیال رکھیئے
شب بخیر۔۔۔۔
میں پروگرام سننے میں اس قدر مگن تھا کہ مجھے پتا پی نہیں چلا کہ ہم کب گھر پہنچے۔رات بھی بستر پر کروٹیں بدلتے ان گنت سوچوں میں گزری۔مجھے اپنے ایک اردو کے استاد کی بات ہمیشہ یاد رہتی تھی کہ لفظ آپنے خالق کا ہمیشہ پیچھا کرتے ہیں۔اس کی پہچان بن کر ہمیشہ کے لیے وقت کی کسی لہر میں امر ہو جاتے ہیں…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: