Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 21

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 21

–**–**–

نظریں نہیں جانتا تھا کہ میری ٹوٹی پھوٹی شاعری اور بے بسی کے عالم میں لکھی چند نظمیں میری یونیورسٹی لے سالانہ رسالے میں چھپ کر یوں امر ہوجائیں گی کہ اتنے برسوں کے بعد بھی میری شناخت بنی رہیں گی۔اگلے روز دفتر پہنچا تو یونیورسٹی سے احمد صاحب پہلے ہی آئے بیٹھے تھے اور کافی خفا بھی آ رہے تھے کیونکہ میں کسی نہ کسی بہانے ان کی تقریبات کو ٹالتا آیا تھا اسی شام یونیورسٹی کی بزم ادب کی سالانہ انعامات کی تقریب تھی اور وہ پہلے ہی زبردست کارڈ پر میرا نام بھی مہمان خصوصی کے طور پر درج کروا کر آدھی یونیورسٹی کو بانٹ بھی آئے تھے۔میں نہ نہ کرتا رہ گیا لیکن وہ دھمکی دے گئے کہ اگر آج بھی میں نے تقریب میں شرکت نہیں کی تو وہ آئندہ کھبی بھی مجھ سے بات نہیں کریں گئ۔اب میں انہیں کیسے بتاتا کہ اتنے بہت سارے لوگوں کے سامنے اسٹیج پر بیٹھنے اور ان کے سامنے کچھ بولنے کے خیال سے ہی میری پسینے چھوٹنےلگتے ہیں۔وہی چھبتی ہوئی نظریں جو مجھے اپنے چہرے کے سر پار ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔وہی دبی دبی سرگوشیاں۔طنزیہ مسکراہٹیں ۔۔۔
کاش احمد صاحب اس دل ناکارہ کی حالت سمجھ سکتے مگر یہ ہو نہ سکا اور ٹھیک شام پانچ بجے اسٹیج کے ڈائس پر میرا نام پکارا گیا تو میں نظریں جھکائے مائیک کے سامنے جا کھڑا ہوا۔اچھی بات یہ تھی کہ ہال میں تماشائیوں کی جانب روشنی ملگھجی سی تھی اس لیے مجھے طلباء کے چہرے صاف دکھائی نہیں سے رہے تھے اور ویسے بھی سٹیج کا فاصلہ پہلی روکی کرسیوں سے کافی زیادہ تھا۔اپنا سانس درست کرنے میں مجھے چند لمحے مزید لگ گئے۔میری آواز خود مجھے اجنبی سی لگی۔طلباء اور دیگر عملہ انہماک سے میری بات سن رہا تھا۔۔۔
میں کوئی شاعر مقرر لیڈر نہیں ہوں۔بس کچھ مہربانوں کی محبت یہاں تک کھینچ لائی لے اور میری اس درس گاہ کاجھ لر جو حق ہےوہ مجھے ہمیشہ اس چار دیواری سے جوڑے رکھتا ہے۔میں احمد صاحب اور ان کے تمام اساتذہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے سالانہ رسالے میں میرا تعارف چند پرانی نظمیں چھاپ کر میرے کچھ بوسیدہ اشعار کو زندہ رکھا یہ شعر دراصل شعر نہیں میرے دل کی نظر ہیں میرے اپنے آپ سے کی گئی کچھ باتیں ہیں جو کھبی صفے پر آجائیں تو آپ لوگوں سے بانٹ لیتا ہوں۔۔آپ لوگ اسے شاعری سمجھ لیتے ہیں تو یہ آپ سب کا حسن ظرف ہے ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ میں کھبی شاعرہ نہیں کی۔۔بس خود کو نمایاں رکھنے کے بہانے تھے یہ سب حرف۔۔جس میں مجھے ہمیشہ ناکامی ہوئی ۔۔۔
میں اپنی بات ختم کر کے پلٹنے لگا تو دور پہلی قطار میں بیٹھی سیاہ چشمہ لگائے ایک تتلی سی لڑکی کھڑی ہوگئی اور ناظرینکے لیے پڑا مائیک ہاتھ میں لے کر بولی۔۔
سر میرا نام قراہ العین ہے۔۔میں اس یونیورسٹی میں فائنل ایئر کی طالبہ ہوں اور رات گئے ایف ایم ریڈیو پر ڈی جے عینی کی بزم ادب کے نام سے ایک بہت مشہور پروگرام بھی کرتی ہوں۔میرے سننے والوں کی بڑی تعداد تک آپ کی شاعریمیرے پروگرام کے توسط سے پہنچی ہے اوہ وہ اور وہ سب آپ سے مزید کچھ نیا سننے کی خواہش رکھتے ہیں۔مگر آپ نے یونیورسٹی کے بعد تازہ کچھ کہا ہی نہیں کیا ہم امید رکھیں کہ آپ پھر سے اپنا ناطہ حرفوںسے جوڑنے کی کوشش کریں گئے؟میں نے مختصر جواب دیا۔۔جی ضرور اگر غم دوراں نے کچھ مہلت دی تو ۔۔۔
ابھی کل رات ہی میں نے اس لڑکی کا پروگرام سنا تھا اور آج اس سے ملاقات بھی ہوگئی۔کھبی کھبی وقت کی چالیں نپی تلی ہوتی ہیں۔تقدیر کھبی کھبیاپنے سکرپٹ بہت دھیمے انداز میں لکھنا شروع کرتی ہے۔ہم معصوم انسان کو قطعا خبر نہیں ہوتی کہ مقدر کا یہ مسودہ آگے چل کر ہم پر کیسی قیامتیں ڈھانے والا ہے۔میں بھی آنے والے محشر سے بے خبر تقریب کے خاتمے کے بعد گھر واپس روانہ ہوا تو کمالی سے رہا نہیں گیا۔۔۔
سر آپ نے کھبی بتایا نہیں۔۔آپ تو بہت مشہور شاعر ہیں۔۔ساری یونیورسٹی آپ کے لیے ہال میں جمع تھی۔۔
میں نے دھیرے سے جواب دیا۔یہ خود میرے لیے بھی ایک خبر ہے اتنے برسوں بعد میرے حرف میری شناخت۔مجھے خود بھی حیرت ہے اس میں حیرت کی کیا بات ہے سر جی۔یہ آج کل کی نوجوان نسل ان چیزوں میں بڑی دلچسپی رکھتی ہے۔ایف ایم انٹرنیٹ اور حتی کے سیل فون بھی ہر دم ان چیزوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں یہ میر ۔درد ۔غالب اور اقبال کو بھی ہم سے زیادہ جانتےاور سمجھتے ہیں سر۔۔
بظاہر بڑی لاابالی ہے یہ نئی نسل۔مگر اپنے مطلب کی چیز پڑھتی اور سنتی ہے۔چاہے کتاب کے ذریعے یا کسی اور طرح میں چپ رہا۔۔ارے ہاں سر۔۔یاد ایا۔۔وہ ایف ایم کی ڈی جے لڑکی نے آپ کا سیل نمبر مانگا تھا۔رات کو اپنے پروگرام میں براہ راست شرکت کی دعوت دینا چاہتی تھی۔میں نے آپ سے پوچھے بنا نمبر تو دے دیا مگر خاص تاکید کیہے کہ پہلے آپ خود بات کرکے اجازت ظلم کر لیں۔۔۔اور پھر رات گئے میرے موبائل فون پر ایک اجنبی نمبر جگمگانے لگا۔تیسری کال پر مجبورا مجھے فون اٹھانا پڑا۔دوسری طرف وہی تھی معاف کیجیئے گا سر۔۔شاید آپ کے مینیجر نے آپ کو میری درخواست نہیں پہنچائی۔۔میں ڈی جے عینی ہوں۔۔میں اپنے پروگرام میں آپ کو لائیو کال پر مدعو کرنا چاہتی ہوں۔۔ہم آپ کے صرف دس منٹ لیں گئے اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوتو میں نے کچھ لمحے توقف کیا۔میرے پاس کہنے کے لیے کچھ خاص نہیں ہے کیا پوچھنا چاہتی ہیں آپ ۔۔وہ ممونیت سے بولی کچھ عام سے سوال آپ کی زندگی کے بارے آپ کی کامیابیوں کے بارے آپ کی ادب دوستی کے بارے سنا ہے شہر کے سبھی بڑئ ادبی تقریبات قوت مسقبل کے منصوبوں میں آپ کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔میں یہ سب کچھ آپنےسامعین تک پہنچانا چاہتی ہوں آپ کی ترقی کا راز جاننا چاہتی ہوں عام طور پر ادب سے جڑے لوگوں کو یہ معاشرہ مادی ترقی سے بہت دور سمجھا ہے۔۔یہ ادب شاعر عموما مفلوک الحال دکھائی دیتے ہیں مگر آپ نے صرف خیالی ہی نہیں حقیقی دنیا بھی فتح کرکے دکھایا ہے میں یہ سب باتیں جاننا چاہتی ہوں میں اس کی بات سن کر اجنبھے میں پڑ گیا مگر آپ کو میرے بارے میں اتنا کچھ کیسے پتہ ہے ۔۔وہ ہنسہ پڑی جیسے بہت دور کسی مندر میں ایک ساتھ بہت سی گھنٹیاں بج اٹھی ہوں احمد سر نے بتایا اور پھر میرے ریڈیو پروگرام کی وجہ سے شہر کی تقریبا سبھی بڑی ادبی ہستیوں کے ساتھ ملاقات ہوتی رہتی ہے۔سبھی سے آپ لے بارے کچھ نہ کچھ سننے کو ملتا رہتا ہے۔سچ کہوں تو لوگ بہت متجس رہتے ہیں آپ کے بارے وہ اپنی دھن کی پکی لگتی تھی میرے لاکھ ٹالنے کے باوجود وہ مجھ سے اپنے اگلے روز کے پروگرام کے لیے کچھ منٹ لینے میں کامیاب ہو ہی گئی اور میں اگلے دن تمام وقت اسی الجھن میں مبتلا رہا کہ اس کے ساتھ رات کو کیا بات کروں گا؟میں نے بہت زمانے پہلے خود سے بات کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔شام تک الجھن اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ میں نے اپنے پی اے کو عینی کا وہی فون نمبر ملانے کا کہا جو گذشتہ رات میرے موبائل پر جگمگایا تھا۔پی اے نے کال ملا کر میری طرف ٹرانسفر کی تو دوسری جانب سے اس کی بے یقین اور کھلکھلائی سی آواز سنائی دی۔۔ارے سر آپ کتنا حسین اتفاق ہے مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ آپ نے خود مجھے کال کی میں ابھی رات کے پروگرام کی تیاری پی کر رہی تھی۔۔
میں نے دھیرے سے کہا۔۔آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کیا ہم گزشتہ رات کیے ہوئے معاہدے کو کچھ فن کے لیے آگے بڑھاسکتے ہیں۔۔اگر ممکن ہوتو۔۔جی سر۔۔کیوں نہیں۔مگر کوئی خاص وجہ۔۔۔؟ پتہ نہیں وجہ شاید خاص پے بھی اور نہیں بھی دراصل میں بہت الجھن سی محسوس کر رہا ہوں۔مجھے اپنے بارے میں بات کرنا کھبی پسند نہیں رہا آپ کچھ وقت دیں گی تو شاید خود کو تیار کر پاوں۔ورنہ میرے لیے بہت مشکل ہوگا۔دوسری جانب کچھ دیر کے لیے خاموشی چھائی رہی ٹھیک ہے سر جیسے آپ کو مناسب لگے…
مجھے آپ کی یہ بات بہت اچھی لگی کہ آپ نے پروگرام سے کافی دیر پہلے خود فون کر کے معذرت کرلی۔ورنہ عام طور پر بڑے لوگ ہمیں اطلاع دینا بھی پسند نہیں کرتے اپنی کسی غیر حاضری کی مگر آپ کو یہ وعدہ تو بہر حال کرنا پڑے گا کہ آپ جب بھی خود کو ذہنی طور پر تیار کر پائے تو یہ معاہدہ پورا ضرور کریں ۔۔۔
میں ہنس پڑا۔ہاں۔چلیں وعدہ نبھانے کا ایک اور وعدہ سہی میری مشکل سمجھنے کا شکریہ۔۔۔
میں نے فون کاٹ دیا مگر کہیں دور کوئی دوسری لائن جڑ رہی تھی۔میرا ناداں دل سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ہر نتیجے سے بے پرواہ پھر سے دھڑکا چاہتا تھا اور میں بر
ی سختی اور بے رحمی سے اسے صاف ایک ہی بات ساری رات سمجھاتا رہا کہ کچھ دلوں کے مقدر صرف بہتر کی گنتی پوری کرنا ہوتا ہے۔وہ کچھ اور قلب ہوتے ہوں گے کہ جن کی تقدیر میں دھڑکنیں ہوتی ہیں۔بڑے ناداں ہیں وہ لوگ جو اپنے دل کے ایک فرض کو دھڑکنے سے تشبیہہ دیے پھرتے ہیں۔مگر یہ دل بھلا کب کسی کی سننے ہیں منہ زور آزاد وحشی اور جنگلی گھوڑے بھلا کس لگام کے قابو آتے ہیں؟؟
میرا دل بھی بے لگام ہونے کو آیا تھا اگلے روز نہ چاہتے ہوئے بھی میں سارا دن اس کے فون کا انتظار کرتا رہا اور پھر ڈھلے جب تھک ہار کر میرے بے چین من اپنی بے وقوفی پر مسکرا کر کچھ آرام پانے کو تھا تبھی اچانک اس کا فون آگیا قسمت کی آنکھ مچولی وقت کا انتخاب خوب چن کر کرتی ہے۔اور پھر ان ٹیلی فون کالز دورانیہ اور تعداد بڑھتی گئی ہم بہت عام سی باتیں کرتے تھے دن بھر کی مصروفیت کی شام کی چائے کی رات کی چہل قدمی کی مگر یہ باتیں میرے لیے کتنی خاص تھی یہ صرف میں ہی جانتا تھا اس دن یونیورسٹی کی تقریب والی ملاقات کے بعد میری آج تک دوبارہ کھبی عینی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی نہ ہہیں نے دوبارہ کھبی اس سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔یہ ٹیلی فون کی آدھی ملاقات میرے لیے کسی بھی بالمشافہ ملاقات سے ک ں بڑھ کر تھی۔میں دوبارہ عینی کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا۔اس نے ہال میں مجھے کافی فاصلے سے اور ملگھجے اندھیرے میں دیکھا۔میں اپنے اور اس کے درمیان یہ اندھیرا ہمیشہ حائل رکھنا چاہتا تھا۔مجھے دن اور روشنی میں اس سے ملنے کی تمنا ہی بھلا کب تھی۔میرا بس چلتا میں اللہ سے دعا کرتا کہ چوبیس گھنٹوں میں سے دن کے بارہ گھنٹوں کی روشنی بھی کشیدہ کرلے۔کیونکہ مجھے آجالے کھبی روس نہیں آتے تھے۔اگلے روز میرے اسٹاف نے خوبصورت سجاوٹی کاغز میں پیک شدہ ایک پارسلیتے میز پر رکھ دیا۔بیجھنے والے پتے میں قراہ العین۔عرف عینی انصاری کا نام درج تھا میں نے سب کے جانے کے بعد احتیاط سے کاغذ کی پرتیں کھولیں۔اندر سے ایک خوبصورت سا نمائشی مجسمہ برآمد ہوا جسے کمرے میں کہیں بھی شوپیس کے طور پر رکھا جاسکتا تھا۔میں نے جلدی سے عینی کا نمبر ملایا۔دوسری جانب سے اس کی کھنکتی ہوئی آواز ابھری میں جانتی تھی سر آپ کا فون آتا ہی ہوگا کیسا لگا تحفہ؟بہت اچھا مگر موقع محل سمجھ نہیں سکا میں اس تحفے کا آپ نے تکلف کیا عینی وہ ہنسی ۔
۔ارے نہیں سر بالکل بھی تکلف نہیں ہے یہ میرا مشغلہ ہے فارغ وقت میں میں مٹی اور پلاسٹر آف پیرس کے مجسمے بناتی ہوں۔میری اپنی ایک چھوٹی سی آرٹ گیلری ہے میرے گھر کے اندر بس وہی یہ مشق جاری رہتی ہے۔کھبی آپ آئیں نہ وقت نکال کر میں آپ کو اپنا کام دکھاوں گی میں بولتے بولتے اٹک سا گیا مگر آپ اور کیا کچھ کرتی ہیں۔۔۔؟
ایک کی بار اپنے سارے ہنر بتا دیں کھبی کھبی کھبی حیرت درد حیرت بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے دوستوں کے لیے میری بات سن کر وہ شرما سی گئی نہیں نہیں مجھ میں بھلا کیا ہنر ہوگا بس وقت کاٹنے کے بہانے تلاشی ہوں بات آئی گئی ہوگئی میرا بھوکا من اس لڑکی کے ہنر کا شکار ہوتا گیا۔دل موہ لینا بھی ایک ہنر ہی ہے شاید دنیا کا سب سے بڑا ہنر اور میں اس کی اس کاریگری سے خود کو بچا نہیں پا رہا تھا مگر پھر ایک دن ہمیشہ کی طرح بنتی بگڑنے لگی۔شام سے ہی میری طبیعت عجیب سی بے چین اور اداس تھی مجھے ایک بار پھر اپنے اس پاس سب کچھ اور بے فائدہ دکھائی دے رہا تھا۔دل کو چپ سی لگ گئی ہوتی تھی کہ اچانک عینی کا فون آگیا کہاں غائب رہتے ہیں سر آپ؟؟
بہت دنوں سے آپ سے ایک بات کہنا چاہ رہی ہوں مگر آپ کی مصروفیت کا خیال آڑے آجاتا ہے میں نے گہری سانس لی میری مصروفیت بس ایک فرار ہے آپ کہیں کیا ملا چاہتی ہیں وہ کچھ دیر چپ رہی دراصل آپ کا ایک مجسمہ بنانا چاہتی ہوں پھر میں اسے ساری دنیا کو دکھاوں گی جانے کیوں پل بھر میں ہی میرے اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا مجھے لگا کہ ساری دنیا کی طرح وہ لڑکی بھی آج میرا مذاق اڑانے کے موڈ میں ہے۔اس نے مجھے دور سے ہی سہی مگر دیکھ تو رکھا تھا ضرور اس نے درپردہ میرے چہرے کی تضحیک کا یہ طریقہ نکالا ہے میرا لہجہ نہ چاہتے بھی تلخ ہوگیا مجسمے خوبصورت چیزوں کے بنائے جاتے ہیں مس عینی انصاری اور میں؟بہر حال مجھے آپ سے اس مذاق کی امیر ہرگز نہیں تھی آپ بھی دوسروں کی طرح ہی نکلیں میں نے فون پٹخ دیا وہ ہیلو ہیلو کرتی رہ گئی میں نے اگلے پورے ہفتے اس سے بات نہیں کی دفتر کے نمبر پر فون آیا تو اسٹاف سے کہہ دیا کہ مصروفیت کا بہانہ کر دے اس نے کچھ خط بھی بھیجے مگر میں نے پڑے بنا ایک طرف رکھ دیے اور پھر آٹھویں دن وہ خود میرے دفتر آگئی میں آفس میں داخل ہوا تو وہ پہلے سے میرے انتظار۔ میں بیٹھی تھی ہمیشہ
کی طرح آج بھی سیاہ چشمہ اس کے گورے رنگ پر پہرہ جمائے بیٹھا تھا وہ بولی تو اس کی آواز رندھیا سی گئی جیسے وہ بہت دیر روتی رہی ہو آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟؟
میں چلا اٹھا۔اپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہیں؟میری صورت کا مذاق ہی اڑانا تھا تو کوئی اور طریقہ اپنا لیتیں مگر یہ مجسمہ۔۔۔؟؟
وہ رو پڑی میں آپ کا مذاق بنانے کا کھبی سوچ بھی نہیں سکتی بہت عزت کرتی ہوں میں آپ کی آپ جانتے آپ میرے لیے کیا ہیں میں نے تو بنا دیکھے ہی آپ مجسمہ اپنے میں بنا رکھا ہے میں نے چونک کے اس کی طرف دیکھا آپ کیا چاہتی ہیں؟اس نے اپنی آنکھوں ہر شے چشمہ اتارا میں دیکھ نہیں سکتی۔نابینا ہوں میں ایک زور دار جھماکا سا ہوا اور میرے ارد گرد تمام کمرے میں اس کی بے نور آنکھوں کا اندھیرا پھیلتا چلا گیا۔۔۔
پیاس کہتی ہے اب ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں سنے والا
میں سکتہ زدہ سا بیٹھا اسے دیکھتا رہا اور وہ روتی رہی۔قسمت کے کھیل واقعی نرالے ہوتے ہیں۔میرا بے وقوف دل مجھ سے آنکھ نہیں ملا رہا تھا۔صدیوں بعد جس کی ایک نظر پڑ اسے آپنے ہونے کا گمان ہوا تھا وہ نظر تو سدا کی بے نور تھی اور میں ناجانے کن خوش فہمیوں کا شکار ہو چلا تھا میں آپ سے معافی نہیں مانگ سکتا جانے غصے میں کیا کچھ کہہ گیا۔میرے اندر کا چور تھا جو چپ نہیں رہ سکا عینی نے سر اٹھایا۔آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں؟میں نے آپ کو ہمیشہ آپ کے لفظوں کے آئینے میں دیکھا ہے۔اور میں نہیں جانتی کہ اتنی خوبصورت سوچ رکھنے والا شخص بد صورت ہوسکتا ہے دوبارہ ایسی بات کھبی نہیں کہیئے میں نے دکھ سے اس کی طرف دیکھا۔۔
میرے کہنے یا نہ کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی سچ وہی ہے جو میں آپ کو بتا چکا ہوں۔اس داغدار چہرے کا مجسمہ بنا تو جو بات آج تک صرف میرے اردگرد والوں کے علم میں ہے۔کل سارے شہر میں پھیل جائے گی اور لوگ مذاق اڑائے گے کہ یہ پری زاد کو کہا سوجھی؟
عینی نے اپنا چشمہ دوبارہ اپنی آنکھوں پر جمایا اور کھڑی ہوگئی میں دیکھ نہیں سکتی اپنی انگلیوں کے پوروں سے چیزیں چھوکر انہیں مٹی کے مجسموں کے قالب میں ڈھالتی ہوں۔مگر آپ کو دیکھنے کے لیے مجھے اپنی دیواروں کی مدت کی ضرورت بھی نہیں ہے پری زاد۔۔آپ کے لفظ خود آپ کا تعارف ہیں میں نے ایک گہری سانس لی۔۔
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔۔
مگر میری تم سے اب بھی یہی درخواست ہے کہ یہ خیال دل سے نکال دو عینی انصاری۔وہ پلٹنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رکی میں اپنی گیلری میں آپ کا انتظار کرو گی پری زاد
وہ پلٹ کر چکی گئی اور میرے کمرے میں صرف اس کی خوشبوں رہ گئی آج میں نے پہلی بار اسے آپ نہیں تم کہا اور اس نے پہلی بار مجھے سر یا صاحب نہیں صرف پری زاد کہہ کے پکارا تھا یہ طرز تخاتب اور القابات بھی تو ہمارے اندر کے بدلے رویوں اور رشتوں کا ایک اظہار ہوتے ہیں دل کی میٹھی بولیاں اپنے القاب خود طے کرتی ہیں اگلی شام میں جھجکتے قدموں کے ساتھ عینی کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔گھر کے نچلے حصے میں عینی اور اس کی ماں رہتے تھے جبکہ اوپر والا حصہ انہوں نے کسی چھوٹے خاندان کو کرائے پر دے رکھا تھا عینی کی والد کافی عرصہ پہلے خالق حقیقی سے جا ملے تھے اور اب یہی کرایہ ان ماں بیٹی کی گزر بسر کا ذریعہ تھا۔گھر کے پچھلے حصے میں عینی نے اپنے لیے ایک چھوٹی سی آرٹ گیلری بنا رکھی تھی مجسمہ سازش شروع کرنے سے پہلے عینی نے اپنی نازک مہکتی انگلیوں سے میرے چہرے کے مختلف زاویوں سے ٹٹول کر دیکھا ٹھنڈک اور بے پناہ سکون کا ایک سمندر اس پوروں کے لمس سے میرے سارے وجود کی گہرائیوں تک سرایت کر گیا میں جھلستی ہوئی تپتی روح کے جیسے خنک برف کا پہاڑ سا مل گیا میری تمام عمر کی ریاضتوں کا حاصل وہ اس کے ہاتھوں کے مہربان لمس عینی نے کام شروع کردیا۔۔
میں چپ چاپ بیٹھا دیکھتا رہا اس نے مجھے بتایا کے اسے مجسمہ بنانے میں تین چار دن لگیں گئے میرا جی چاہا کہ میں اس سے کہوں کت تین چار صدیاں کیوں نہیں۔۔؟؟
میری زندگی میں وہ پہلی مہہ وش تھی کہ جس خوش ادا کی کی اتنی قربت اور نزدیکی مجھے شرمندہ اور پریشان۔ نہیں کر رہی تھی کیونکہ اتنے قریب موجود ہوتے ہوے بھی دوسروں کی طرح اس کی نظریں میرے چہرے کے آر پار نہیں ہورہی تھیں۔نہ ہی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر کوئی مخصوص طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی عام طور پر جیسے ہی کوئی میری طرف نظر بھر کر دیکھتا میری نظریں اگلے ہی پل خود بخود جھک جایا کرتی تھی لیکن عینی کے کومل چہرے کو گھنٹوں دیکھتے ہوئے مجھے ذرا سی بھی جھجک محسوس نہیں ہوئی تھی۔کیونکہ مجھے اس سے نظر ملنے کا ڈر نہیں تھا کتنی بڑی آزادی تھی یہ میرے لیے۔یہ کوئی مجھ جیسوں سے پوچھے ۔۔
ساری رات بستر پر کروٹیں بدلتے میں اگلے دن اور پھر شام ہونے کا انتظار کرتا رہا۔جب مجھے دوبارہ عینی کی گیلری پہنچنا تھا صبع سے دوپہر بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجھے پہروں کی طوالت کا شبہ ہونے لگا یہ دن خو چار پہروں میں کیوں تقسیم کردیا گیا ہے؟پہلا پہر دوپہر سہ پہر پھر شام کہا ضرورت تھی بھلا وقت کو اتنے حصوں میں بانٹنے کی نس صبع ہوتی اور شام ہو جایا کرتی تو کتنا اچھا ہوتا۔اس جیسے نہ جانے کتنے مزید بے سرو پا خیالات میرے ذہن میں جالے بن رہے تھے جب اچانک پی اے نے انٹر کام پر مجھے بتایا کے میڈم شہہ پارہ مجھ سے ملنے کے لیے آئی ہیں۔میں شہہ پارہ عرف آمنہ کو اپنے دفتر میں دیکھ کر کچھ حیران سا تھا میرے لیے وہ آج بھی وہی پرانی آمنہ تھی۔وہ کچھ پریشان دکھائی دے رہی تھی میں تم سے ای درخواست کرنے آئی ہوں پری زاد میرا فلمی کیریئر سیٹھ رحمان کی وجہ سے برباد ہوگیا۔میں بہت پیچھے رہ گئی ہوں کیا تم میری سفارش کسی بڑے پروڈیوسر سے کرسکتے کو؟بڑی دھاک ہے تمہاری پورے شہر میں تم کیو گے تو میں پھر سے اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوجاوں گی میں نے الجھن سے اس کی طرف دیکھا لیکن میں تو کسی بڑے پروڈیوسر سے واقف بھی نہیں ہوں آمنہ۔وہ مایوس ہوگئی ہاں۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔۔جانے میں کس پریشانی میں بنا سوچے سمجھے یہاں چکی آئی تمہارا کاروبار اور فلمی دنیا بالکل جدا ہیں وہ واپس جانے کے لیے پلٹی میں نے اسے آواز دے کر روک لیا ٹھہرو آمنہ تم چاہو تو میں خود تمہاری فلم میں سرمایہ کاری کرسکتا ہوں۔کتنے میں بم جاتی ہے یہ ایک معیاری فلم؟
وہ خوشی سے بے یقین ہوگئ۔۔۔
سچ تم خود پروڈیوس کرو گے میری فلم۔۔واہ۔۔۔اس سے اچھی بات بھلا کیا ہوسکتی ہے۔مگر اس کاروبار میں آج کل نقصان کا زیادہ خطرہ رہتا ہے پری زاد۔۔میں ڈرتی ہوں کہ کہیں تمہاری رقم پی نہ ڈوب جائے تمہیں کوئی تجربہ بھی نہیں ہے فلم پروڈکشن کا۔۔۔
میں نے مسکرا کر اس کی زلف پریشان کے غم کو دیکھا۔چلو اس بہانے رقم ڈبونے کا قیمتی تجربہ تو حاصل ہوجائے گا نہ۔تمہاری فلم کے بدلے یہ تجربہ بھی سہی۔ویسے۔بھی میں نے سنا ہے کہ کہ فلمیں دل سے بنائی جاتی ہیں دماغ سے نہیں تو پھر دل کے سودوں میں نفع نقصان کی فکر بھلا کیسی؟دل ملوث ہونا ہی خسارے کی نشانی ہے امنہ کی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے غرب جذبات میں میرا ہاتھ پکڑ لیا نہیں میں تمہارا نقصان نہیں ہونے دو گی پری زاد۔۔۔میں بہت محنت کروں گی بے حد زیادہ میری زندگی کئ سب سے یادگار پرفارمنس ہوگی یہ فلم کہانی میں نے لکھوالی ہے اگر تمہیں پسند ہوتو میں رائٹر سے اسی کہانی پر کام کرنے کا کہہ دیتی ہوں مگر تمہیں کچھ وقت نکالنا ہوگا اس فلم کے لیے میں تمہاری موجودگی میں بہت سہارہ محسوس کرتی ہوں امنہ چلی گئی اور میں شام کو کسی معمول کی طرح عینی کی گیلری پہنچ گیا اسے گیلی مٹی گوندھتے دیکھ کر نا جانے مجھے ہر بار ایسا کیوں لگتا تھا جیسے مٹی بھی اپنی قسمت پر رشک کرتی ہوگی کہ کس کے ہاتھوں اس کا مجسمہ بننے جارہا ہے اس شام ہم دونوں نے خوب باتیں کیں سب لڑکیاں ایک جیسی باتیں کرتی ہیں مگر اس کا انداز بیاں کا قدر جدا تھا وہ جب رنگوں۔خوشبووں ڈھلتی شاموں اور راتوں کے طلسم کا ذکر کرتی تو میں دم بخود اسے دیکھتا رہتا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: