Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 22

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 22

–**–**–

رات کو ساڑھے آٹھ بجے میں عینی کے گھر سے نکلا تو ہوا تیز چل رہی تھی۔آسمان پر بادلوں کے جھنڈ حیرت سے نئے پری زاد کی طرف دیکھ کر کر سرگوشیاں کر رہے تھے راستے میں ہی چند بوندوں نے ٹیک کر میری گاڑی کی ونڈ سکرین سے گاڑی کے اندر جھانکا اور مجھے دیکھ کر ایک دوسرے کو اشارے کرتی ہنستی ہوئی برستی بارش میں اپنی دوسری سہیلیوں سے جا ملیں۔کبیر خان حسن معمول چوکنا سا ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھا ارد گرد نظر رکھے ہوئے تھا۔اتنے میں آمنہ کا نمبر میرے سیل فون پر جگمگانے لگا۔
پری زاد۔۔۔کہاں ہو تم۔۔؟
اجنبی شہر کے اجنبی راستے۔۔اور میں۔۔۔وہ ہنس پڑی۔
اسٹوڈیو آسکتے کو ابھی۔۔مجھے تمہیں کسی دے ملانا ہے
میں نے کبیر خان کو اسٹوڈیو چلنے کا کہا۔ہم ویران سے فلم اسٹوڈیو کے گیٹ پر پہنچے تو چند عجیب سے حلیے والی عورتیں اور مرد ہمیں اندر گھومتے نظر آئے۔عجیب دی اداسی اور ویرانی چھائی ہوئی تھی سارے ماحول پر جیسے کوئی اور برپا ہو۔۔ہم ڈائریکٹر کے کمرے میں داخل ہوے تو وہاں پہلے سے کچھ لوگ موجود تھے۔کبیر کا حلیہ اور کاندھے سے لٹکا پسٹل دیکھ کر وہ سب کچھ حیران ہوگئے میں نے کبیر خان کو باہر انتظار کرنے کا کہا۔مگر میں جانتا تھا کہ وہ دروازے کے باہر ہی جما کھڑا رہے گا نئی جگہ اور نئے ماحول میں وہ سائے کی طرح میرے ساتھ رہتا تھا۔آمنہ نے ڈائریکٹر اور باقی لوگوں سے میرا تعارف کروایا۔ایک جانب کونے میں ایک بوڑھا شخص ہار مونیم سامنے راکھے بیٹھا ہوا تھا اور اس کی آڑ میں سمٹی سمٹائی ایک شرمیلی سی لڑکی چھوئی موئیسی بنی بیٹھی تھی۔جو اس دفتر کے ماحول سے بالکل میل نہیں نہیں لگا رہا تھا۔باقی لوگوں کی چھبی ہوئی نظریں لڑکی کے جسم لے آر پار ہو رہی تھیں مگر میرے آتے ہی ڈائریکٹر نے فالتو عملے کو باہر بھیج دیا تو لڑکی کے جسم کا کا تناو کچھ کم ہوگیا۔مگر ابھی تک وہ وہی دبکی ہوئی تھی۔آمنہ نے مجھے بتایا کہ وہ عمر رسیدہ شخص استاد بنے خان ہیں مشہور موسیقار اور اس کے پہلو میں سمیٹ ہوئی لڑکی سنبل ہے استاد بنے خان کی بیٹی۔اور آج وہ دونوں آمنہ کی آنے والی فلم کی دھنوں پر کام کرنے کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ڈائریکٹر ایک پکی عمر کا تیز طرار سا بندہ تھا جسے فلم ملنے کی بے حد خوشی تھی لیکن کہیں اندر سے کوئی بے یقینی بھی اسے کھائے جارہی تھی
بس پری زاد صاحب کیا بتاوں آپ کو۔۔کھبی یہی فلم اسٹوڈیو تھا کے چوبیس گھنٹے کام کی شفٹ چلتی رہتی تھی۔کہیں ندیم صاحب تو کہیں محمد علی صاحب۔کہیں شاہد تو کہیں وحید مراد کوئی نہ کوئی شوٹنگ جاری رہتی تھی۔یہ جو فوارہ آپ نے نیچےدیکھا ہے ناں۔یہاں تو ایک وقت تین تین گانے شوٹ ہوش کرتے تھے۔بس پھر ناجانے کیا ہوا سب برباد ہوتا چلا گیا اب تو سال بھر میں ایک آدھی فلم بنتی ہے اور اس کا بھی کچھ پتا نہیں چلتا۔سینکڑوں کاریگر اور سن کے خاندان بے روزگار ہوگئے۔۔
وہ مزید بنا رکے یونہی بولتا رہا رہتا اگر آمنہ اسے اشارہ کرلے روک نہ دیتی آمنہ پی کہنے پر ڈائریکٹر نے مجھے فلم کی کہانی سنائی بنیادی پلاٹ محبت کی کہانی پر مرکوز تھا۔میں نے کہیں پڑھا تھا کہ دنیا میں صرف تین چار کہانیاں ہی پائی جاتی ہیں۔باقی ساری کہانیاں انہی کہانیوں میں جنم لیتی ہیں اور مجھے یہ پڑ کر ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی تھی تین چار کی جگہ اگر صرف ایک محبت کی کہانی ہوتی تو وہ بھی اس کائنات کے لیے کافی تھی۔درمیان میں ڈائریکٹر ہمیں گانے کی سچویشن اور مقام بھی بتاتا رہا اور کہانی کے اختتام کے بعد استاد بنے خان اپنا ہار مونیم اٹھائے کمرے کی وسط میں بیٹھ گئے۔سنبل بھی استاد کے ساتھ سمٹ کر بیٹھ گئی اور استاد نے راگ چھیڑ دیا۔لڑکی کی آواز واقعی سریلی تھی اور گلے میں بلا کا لوچ تھا وہ گانے کے دو بول دہراتی اور پھر گھبرا کر میری طرف اپنی ہرنی جیسی آنکھیں اٹھا کر دیکھتی کہ میں دل چسپی لے رہا ہوں یا نہیں فن کو ہمیشہ ستائش کی تمنا ہوتی ہے اور شاید فن کار کو اپنے قدر دانوں کی نظریں پڑھنے کا فن آتا ہے۔
جب بارش کی پہلی بوند گرے
تم چلے آنا
میرا سندیسہ ملے نہ ملے
تم چلے آنا ۔۔
باہر برستی بارش کے جلترنگ کے ساتھ مل کر استاد بنے خان کے سر اور سنبل کی سریلی آواز ایک عجیب دا ماحول پیدا کر رہے تھے۔استاد نے مجھے بتایا کے اس کی بیٹی نے بی اے کر لیا ہے مگر اب وہ اسے آپنے آبائی فن میں متعارف کروانا چاہتا ہے۔یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ شہہ پارہ بیگم نے انہیں اپنی نئی فلم میں موقع دینے کا وعدہ کیا ہے مگر یہ سب میری منظوری پر منحصر ہے۔استاد کسر نفسی کا پیکر تھا اور اس کی اور بیٹی کی خستہ حالی ان دونوں کی حالت بھی پوری طرح بیاں کر رہی تھی۔مجھے ایک اور واضع دار شخص لگا جیسے یقینا کسی بہت بڑی مجبوری نے یوں بیٹی کو فلم انڈسٹری کے ماحول میں بطور گکوکارہ متعارف کروانے پر اکسایا تھا۔جب استاد نے لجاجت سے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے سن باپ بیٹی کا فن پسند آیا کہ نہیں تو میرے لب کپکپا سے گئے۔۔
یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں۔مجھے تو ٹھیک طرح سے سننا بھی نہیں آتا۔میں بھلا آپ کے فن لی جانچ کیسے کر سکتا ہوں۔آپ کی ریاضت اور محنت نے آپ کو اس مقام پر پینچایا ہے کوئی ہنر مند ہی آپ کو سہی داد دے سکتا ہے۔۔
استاد بنے کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔آمنہ نے موضوع بدل لیا آپ کن باتوں میں پڑ گئے ماسٹر جی۔۔پری زاد صاحب کی یہ پہلی فلم ہے استاد بنے نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگایا ہاں ۔۔پر ادب والے ہیں۔۔شاید اس لیے آج اسی مقام پر ہیں میں نے آمنہ سے ڈبے لفظوں میں دوبارہ کہا وہ ان تمام فیصلوں کی خود مختار ہے۔مجھے ان بکھیڑوں سے دور ہی رکھے مگر وہ نہیں مانی اور اگلی رات کے لیے پھر سے فلم کی دوسری میٹنگ رکھ دی گئی۔ہم لوگ چائےپی کر رخصت ہوئے تو گیٹ کے قریب میں نے استاد بنے اور سنبل کو سڑک کنارے انتظار کرتے دیکھا۔میں نے شیشہ نیچے کر کے پوچھا تو پتا چلا کہ رکشہ یا ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے ہیں ان کے لاکھ انکار کے باوجود میں انہیں گاڑی میں بیٹھا لیا بارش تیز تر ہو چکی تھی ہماری گاڑی اندرون شہر کی چند تاریک گلیوں سے ہوتی ہوئی ایک پرانے محلے کے بوسیدہ سے لکڑی کے پھاٹک نما گیٹ پر کھڑی ہوئی۔استاد نے بہت اصرار کیا کہ میں ایک کپ چائے پی کر جاوں مگر میں نے معذرت کرلی اس کی بیٹی نے مجھے ڈبے لفظوں گھر آنے کا کہا میں نے پھر کھبی آنے کا وعدہ کر لیا وہ دونوں ہماری گاڑی نکلنے تک وہی کھڑے رہے اگلی شام میں ٹھیک چار بجے عینی کی گیلری میں اسے کے سامنے بیٹھا تھا۔جیسے ایک پڑھاکو بچہ ٹھیک وقت پر اپنی جماعت میں پہنچ کر سبق سنانے کے لیے آپنی باری کا انتظار کرتا ہے میں عینی کو فلم کے بارے بتایا تو خوشی سے چلائی فلم ۔۔۔واہ۔۔۔پری زاد میں آرٹ ڈائریکٹر بنوں گی۔ساری سجاوٹ میری طے کردہ ہوگی ہر سیٹ پر میری بنائی ہوئی مورتیاں ہوں گی ٹھیک۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے مگر پہلے میرا مجسمہ تو مکمل کردو کہیں اس فلم کے جھمیلے میں ہمارا کام ہی نہ رہ جائے وہ میری بات سن کر زور سے ہنس پڑی سناٹے میں یک لخت بہت سے جھرنے پھوٹ پڑے۔میں سحر زدہ سا بیٹھا اسے کام کرتے دیکھتا رہا زندگی بس اسی دورانیے کا نام ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا مگر اچھے وقت کی طرح یہ پل بھی پل بھر میں کٹ گئے اور مجھے اٹھنا پڑا واپسی پر میں نے ڈرائیور کو گاڑی اسٹوڈیو کی طرف موڑنے کا کہا تو کبیر اپنے چہرے کے تاثرات چھپا نہیں پایا ۔۔
صاحب اجازت دو تو ایک بات بولے
میں چونک کر اسے دیکھا
ہاں بولو ۔۔
وہ اگلی سیٹ پر اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے ذرا سا کسمسایا
صاحب فلم اسٹوڈیو کا علاقہ محفوظ نہیں ہزار دوست ہزار دشمن ہوتا ہے بندے کا میں نے چونک کر کبیر کی طرف دیکھا وہ تبھی اپنی زبان کھولتا تھا جب اسے ضرورت محسوس ہوتی تھی۔میں جانتا تھا کی میری وجہ سے شہر میں بہت سوں کی ترقی رک چکی تھی۔ہر بڑا ٹینڈر میرے نام کھل رہا تھا میری دولت کا مقناطیس اپنے جوبن پر تھا جو مایا کا کوئی بھی ذرہ اپنے سے دور جانے نہیں دیتا تھا اور یقینا یہ بات بہت سوں کو جلاتی بھی ہوگی ۔۔
گاڑی اسٹوڈیو کے احاطے میں داخل ہوئی تو حسب معمول چند آوارہ کتوں نے ہمارا استقبال کیا۔ڈائریکٹر کے کمرے میں نشت جمی ہوئی تھی۔استاد بنے اور سنبل نے تیار کردہ دھنوں پر گیت گنگنائے۔مگر شاعری کچھ عامیانہ سی لگی مجھے آمنہ نے میری بے چینی جان لی ۔۔
پری زاد۔۔تم خود کیوں گیت نہیں لکھتے اپنی فلم کے لیے سنبل نے شاعری کت ذکر پر چونک کر میری طرف دیکھا میں نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا نہیں نہیں مجھے فلمی شاعری کا بالکل بھی تجربہ نہیں بہتر ہے کہ ہم کسی اطجے شاعر سے فلمی گیٹ لکھوالیں سنبل نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور جھجک کر بولی اگر آپ لوگ اجازت دے تو ہمارے محلے میں ایک بہت اچھے شاعر رہتے ہیں دنیا داری سے ناطہ نہیں مگر ضرورت مند بھی ہیں۔۔ہوسکے تو ۔۔وہ کہتے کہتے چپ ہوگئی ڈائریکٹر نے منہ بنایا۔دیکھ لیں گے اسے بھی کون سا ساحر لدھیانوی یا مجروع سلطان پوری چھپا بیٹھا ہے اس کے اندر۔۔
آمنہ شاعری میں دیر کی وجہ سے کچھ پریشان دکھائی دے رہی تھی۔میں نے بنے خان سے کہا کہ ہم بھی چل کر ملتے میں اس شاعر سے۔۔ڈائریکٹر بوکھلا سا گیا ۔۔
ارے کیا بات کرتے ہیں سر جی۔۔آپ کیوں جائیں گئے۔وہ خود آئیں گا یہاں میں نے اس کی سنی اور دوسرے کان سے نکال دی ہم اسٹوڈیو سے باہر نکل رہے تھے کہ اچانک چند لوگ شاہ جی شاہ کہتے ہوے ایک خوش لباس شخص کی طرف لپکے استاد بنے نے بھی آگے بڑھ کر سلام کیا وہ شخص بہت گرم جوشی اور عزت سے بنے خان سے ملا گاڑی آگے بڑھی تو بنے خان نے مجھے بتایا یہ سید نور صاحب ہیں۔۔پاکستان کی فلم انڈسٹری اب بس انہی کے دم سے قائم ہے آج کل بڑی اچھی فلم بنا رہے ہیں۔۔مجاجن
گاڑی بنے خان کے اندھیرے محلے میں پہنچی تو میں بھی ب
آپ بیٹی لے ساتھ نیچے اتر آیا چند گلیاں گزرنے کے بعد وہ دونوں ایک چھوٹے سے کچے مکان کے آگے رک گئے دستک کے جواب میں اندر سے کسی نے لرزتی آوازیں کہا۔۔
اندر آجائیں صاحب۔۔مزار کے دروازے پر دستک نہیں دی جاتی میں سنبل اور بنے کے ساتھ اندر داخل ہوا تو چھوٹے سے برآمدے کے سامنے بنے واحد کمرے کے اندر لالٹین کی کم زور سی روشنی نے مٹیالہ اجالا پھیلا رکھا تھا۔بنے اور سنبل کو دیکھ کر میزبان کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی کھبی ہم خود کو کھبی گھر کو دیکھتے ہیں بان کی جھلنگاسی چارپائی پر لیٹا وہ کم زور سا نوجوان اٹھ بیٹھا معاف کیجیئے گا۔۔کمرے میں ایک ہی کرسی ہے لہذا وہ نہ جانے کیا کہہ رہا تھا مگر میری نظریں اس کے چہرے سے چپک کر رہ گئی تھیں۔وہ بھی میری چھبتی نظریں محسوس کرکے میری جانب متوجہ ہوگیا اور پھر اس کی حالت بھی مجھ جیسی ہی ہو گئی اور وہ بے تابی سے کھڑا ہوگیا اور لپک کر مجھے شانے سے پکڑ کر سرسراتی آواز میں بولا۔۔
پری زاد ۔۔۔یہ ۔۔۔تم ہو ناں ۔۔۔۔
میری آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔
کیوں۔۔؟یہ چہرہ دیکھ کر بھی نہیں پہچانا کیا۔۔صرف لباس اور حلیہ بدلا پے میرا۔۔مقدر وہی لیے پھر رہا ہوں در بدر میں یونیورسٹی کا تمہارا دوست ناساز۔۔
وہ روتے ہوے مجھ سے لپٹ گیا۔۔کہاں چکا گیا تھا یار۔۔اپنے دوست کو بھی بھلا دیا بنے خان اور سنبل حیرت زدہ اور پریشان سے ہم دونوں کو گلے مل کر روتے ہوئے دیکھ رہے تھے ہاں وہ ناساز ہی میرا یونیورسٹی دور کا واحد دوست۔جس نے میرے اندر چھپی شاعری کی چنگاری کو ہوا دے کر شعلے میں تبدیل کردیا تھا۔سنبل نے جھجکتے ہوئے ناساز سے کہا آپ انہیں جانتے ہیں یہی فلم کے پروڈیوسر ہیں پری زاد اور میں انہی کی فلم کے لیے نغمہ نگاری کے لیے کہا تھا آپ کو ناساز حیرت سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھتا رہا۔۔
یہ کیا انقلاب ہے پیارے۔۔سب فتع کر لیا میرے شہہ سوار؟
تو تو واقع ہی فاتح نکلا ۔۔
میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔نہیں ۔۔ابھی بھی ہار رہا ہوں بس سونا چاندی جمع ہوتا جارہا ہے زاد راہ کے طور پر۔دل اتنا ہی ویران اور ناکارہ ہے اب تک۔۔وہ زور سے ہنسا یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔کہ وصال یار ہوتا۔۔
بنے خان اور سنبل ہمیں باتوں مصروف دیکھ کر گھر سے چائے وغیرہ کا انتظام کرنے چلے گئے۔ناساز کے گھر کی حالت دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کے پاس شاید چائے کے پورے برتن بھی نہ ہوں۔۔وہ پہلے سے بہت زیادہ کمزور اور لاغر لگ رہا تھا۔وہ غور سے میری داستان سنتا رہا اس کے آس پاس دواوں کا ایک انبار سا لگا ہوا تھا یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی پے ناساز۔۔کالج کا سب سے خوش پوش اور زندہ دل لڑکا یوں بستر سے لگا پڑا ہے۔۔سب جیت تو ہے نا۔۔۔۔
وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا یاد ہے۔کالج کے دور میں ہم نے چھپ کر ہاسٹل میں وہ سی آر پر فلم دیکھی تھی۔ نمک حرام۔۔۔اس میں وہ شاعر والا گیٹ ہم دونوں کتنا گنگنایا کرتے تھے۔۔میں شاعر بدنام۔۔۔میں چلا ۔۔۔محفل سے ناکام۔۔میں چلا۔۔تو بس یار۔۔۔یہ شاعر جو ہوتے ہیں ناں یہ محفل سے ناکام پی چلے جاتیں ہیں میں نے اسے غور سے دیکھا اور یہ پھولوں جیسی لڑکی۔۔سنبل ۔۔اس شاعر نا کام کی کیا لگتی ہے۔۔؟
اس نے ایک لمبی سی سرد آہ بھری۔پگلی ہے۔۔مزاروں کے سر کھٹکھٹاتی رہتی ہے ۔اب دیکھوں تمہیں پکڑ لائی ہے اور یہ ہی تھے کہ آگئے کوئی روایتی فلم پروڈیوسر ہوتا تو کھبی نہ آتا اتنے میں باہر صحن کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے ناساز کر لیٹے رہنے کا اشارہ کیا اور خود باہر نکل کر دروازہ کھولا رو سنبل چائے کے لوازمات لیے کھڑی تھی آپ نے یہ سب تکلیف کیوں کیا؟میں کوئی مہمان تو نہیں ہوں سنبل وہ رندھیائی ہوئی آواز میں بولی آپ اسے بچا لیں پری زاد صاحب۔۔آپ ہی اسے بچا سکتے ہیں ہمارا واحد سہارا اب آپ ہیں میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا کیوں۔۔ایسا کیوں کہہ رہی ہو آپ ؟؟کیا ہوا ہے ناساز کو سنبل کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
اسے کینسر ہے۔۔اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آخری اسٹیج پر ہے اس کا کینسر میرے پیروں تلے زمین یک دم سرک گئی سنبل چائے رکھ کر کمرے سے نکلی تو میں نے ناساز کا ہاتھ پکڑ لیا چلو میرے ساتھ اب میں تمہیں یہاں نہیں رہنے دو گا دینا کے کسی کونے میں بھی تمہارا علاج ممکن ہو۔تمہیں وہاں پہنچانا میری ذمے داری ہے۔۔اٹھو جلدی کرو ۔۔
ناساز نے مجھے کھینچ کر دوبارہ بیٹھا لیا بہت دیر ہو چکی ہے پری زاد سبجھے یہیں رہنے دو یہ کمرہ یہ تنہائی اب یہی میری سنگت ہے اور پھر یہاں وہ پگلی بھی رو ہے مجھے ام سب کے ساتھ رہنے دو میں مے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا سب میں تمہاری کوئی بات نہیں سنو گا سارہ زندگی دوسروں کو جینے کا درس دیتے رہے اور آج خود زندگی سے بھاگ رہے ہو؟ایسا کیوں کر رہے ہو میرئ یار ۔۔۔؟؟
ناساز نے تھک کر آنکھیں موندھ لیں زندگی خود مجھ سے دامن چھڑانے کی فکر میں ہے پیارے میں ہی ڈھیٹوں لی طرح اسی کے دامن سے لپٹا ہوا ہوں۔ہاں۔اگر اب مر بھی جاو تو کوئی غم نہیں میرے جانے کے بعد تم سنبل کا خیال رکھو گے نا پری زاد میں مے واپس پلٹنے سے پہلے لمحہ بھر کے لیے اسے دیکھا کچھ نہیں ہوگا تمہیں تمہیں کچھ نہیں ہونے دو گا میرے شاعر بدنام کل تیار رہنا تمہیں ڈاکٹر کو دکھانا ہے ناساز نے ہنس کر میری طرف دیکھا اور شرارت سے بولا ۔۔
تشخیص بجا ہے مجھے عشق ہوا ہے
نسخے میں لکھو ان سے ملاقات مسلسل
اگلے روز عینی کی گیلری میں بھی میرا دھیان ناساز کی طرف ہی لگا رہا عینی نے حتمی طور پر چند زاویے درست کیے اور مجسمے کے سامنے سے ہٹ گئی ۔۔
بس جناب ہوگیا مکمل اس کی آواز دے جوش ٹیک رہا تھا بتائیں پری زاد کیسا بنا ہے آپ کا اسکپچر میں اپنی خیالات کی دنیا سے چونک کر کر پلٹا اور پھر میری نظر عینی کے بنائے ہوئے مجسمے پر پڑی تو میری آنکھیں کھلی لی کھلی رہ گئیں بے اختیار اٹھ کر مجسمے کے قریب آگیا میری آنکھیں نم ہونے لگیں اتنا بے داغ خوبصورت مردانہ وجاہت سے بھر پور چہرہ ایسا چہرہ تو میں نے کبھی آئینے میں بھی نہیں دیکھا تھا۔عینی میری حالت سے نے خبر اپنی دھن میں بولے جارہی تھی میں اپنی پوروں کی آنکھوں سے آپ کو ایسا دیکھتی ہوں پری زاد۔۔بتائیں ناں ۔۔کتنا قریب تر ہے یہ آپ سے۔۔؟آپ چپ کیوں ہیں؟بولتے کیوں نہیں؟کیا میں نے بہت بڑا اسکپچر بنایا ہے؟کچھ تو بولیں پلیز ۔۔۔
وہ پریشان سی ہوگئی۔میری آواز لی لرزش خود میرے لیے بھی اجنبی تھی۔نہیں تم نے دنیا کا سب سے خوبصورت چہرہ تراشا ہے مگر میں ایسا نہیں ہوں پیاری لڑکی میں تو وہ ہوں جسے دیکھ کر آئینے بھی آنکھیں پھیر لیتے ہیں سرسراتی ہوائیں گھبرا کر تھم جاتی ہیں سورج مدھم پڑ جاتا اور چاندنی تپتی کرنیں برسانے لگتی ہیں وہ تڑپ کر میرے قریب آئی ایسا کیوں کہتے ہیں آپ میری انگلیوں کی پوریں کھبی جھوٹ نہیں بولتیں یہ میرے من کی تصویریں مٹی کت قالب میں ڈھالتی ہیں سچ بتائیں اس چہرے کے خدوخال آپ کے چہرے جیسے نہیں ہیں کیا میری آواز بھرا گئی ہاں خدوخال نقش آنکھیں سب میرے چہرے سے مشابہہ ہیں مگر جو نور جو وجاہت تمہاری پاکیزہ انگلیوں کی کاریگری نے اس مجسمے میں منتقل کر دیا ہے میرے پاس ایسی کوئی روشنی نہیں وہ رو پڑی کاش میں اسے یہ بات سمجھا سکتا کہ دنیا اس کے کومل من کو آنکھوں سے نہیں دیکھتی۔بڑے ظاہر پرست ہیں یہ لوگ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آج میں اتنا اداس کیوں ہوں میں نے اسے آپنی اور ناساز کی دوستی لے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ وہ کس خبر ناک بیماری میں مبتلا ہے عینی نے ناساز سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور شام ڈھلے اس کے گھر سے واپسی پر اسے بھی آپنے ساتھ ناساز کے پرانے محلے والے گھر لے آیا۔ناساز عینی کو میرے ساتھ دیکھا تو حسب عادت مصرعہ اس کے ہونٹوں سے پھسل گیا ۔۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں ۔
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں..
میں نے ان دونوں کا تعارف کروایا۔ناساز نے شرارت سے میری طرف دیکھا میں نے اسے گھور کے دیکھا باز آجاو۔۔عینی تم ہی اسے سمجھاوں کہ اپنی ضد چھوڑ کر ہمارے ساتھ چلے دنیا کا کوئی بھی بیماری لا علاج نہیں ہوتی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے عینی اور ناساز بہت دیر تک باتیں کرتے رہے ناساز نے فلم کے لیے لکھے ہوئے نغمے بھی عینی کو سنائے کچھ دیر بعد سنبل بھی آگئی اور حسب معمول دو لڑکیوں کے اکھٹے ہوتے ہی باقی ساری باتیں پس منظر میں چلی گئیں اور وہ دونوں ایک دوسرے میں غم ہوگئیں کہتےہیں دو لڑکیاں جب آپس میں ملتی ہیں تو عموما ڈھائی تین گھنٹے کی تعارفی ملاقات کے بعد ایک دوسرے سے ان کا پہلا سوال وہدے تمہارا نام کیا ہے ؟ہوتا ہے۔وہ دونوں بھی برآمدے میں بیٹھیں شاید ایک دوسرے سے یہی سوال کر رہی تھیںناساز سرک کر میرے قریب آیا ۔۔
تم تو بڑے چھپے رستم نکلے پری زاد پیارے ایسی پری اپنے ساتھ لیے پھرتے ہو کہ جس کی پہلے جھلک ہی دھڑکنیں روک دینے کا باعث بن جائے اور پھر بھی کہتے ہو کہ دل سبھی ویران ہے میں دکھ سے بیٹھی عینی کی طرف دیکھا۔وہ دیکھ نہیں سکتی اس لیے میرے ساتھ ہے ورنہ وہ دوسروں کی طرح یہ رشتہ بھی تضحیک یا ہمدردی کے قالب میں ڈھل جاتا کھبی کھبی تو مجھے لگتا ہے کہ میں خود اسے دھوکا دے رہا ہوں اس کے ساتھ چل کر میں نے صرف خود کو بلکہ اس معصوم اور انجان لڑکی کو بھی لوگوں کے مذاق کا باعث بنا رہا ہوں ناساز میری بات سن کر خاموش سا ہوگیا۔میں باقی ساری دنیا کی طرح یہ کہہ کر تمہارے زخموں پر نمک نہیں چھڑکوں گا کہ دولت ہر مرض کا علاج ہے لیکن تمہیں ایک مشورہ ضرور دوں گا کہ اگر تم اپنے اندر کہ اس آواز کو دبا نہیں سکتے تو پھر اپنا چہرہ بدل ڈالوں آخر کب تک خود کو اس ان دیکھے عذاب کی بھٹی میں جھونکے رکھو گے ۔۔
میں نے چونک کر ناساز کی طرف دیکھا کیا مطلب ؟؟
مطلب یہ کے آج کل لیا ممکن نہیں صرف جیب میں دمڑیہونی چاہیے جو ماشااللہ اب تمہارے پاس بہت ہے کہیں بھی بیرون ملک جا کر پلاسٹک سرجری کروالو آج کل تو ساری دنیا کو چہرے بدلنے کا خبط سوار ہے اچھے خاصے لوگ علاج کے بہانے اپنے چہرے کی نوک پلک سنوارتے کے لیے پلاسٹک سرجری کروا لیتے ہیں۔ان میں سے کچھ مائیکل جیکسن جیسے جنونی بھی ہوتے ہیں جو ممنوعہ انجیکشن لے کر اپنے سارے جسم کی جلد کا رنگ بھی تبدیل لر لیتے ہیں تو پھر اگر تم اپنی جون بدل لو گے تو اس میں ایدی کون سی قیامت آجائے گی۔۔
اتنے میں وہ دونوں اندر چلی آئیں اور ناساز نے بات بدل دی رخصت ہوتے وقت ناساز نے عینی سے کہا۔۔سنو لڑکی۔۔آج میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو آج سے پہلے شاید تمہیں کسی نے نہیں بتائی ہو۔۔۔تمہاری آنکھیں دنیا کی سب سے خوبصورت آنکھیں ہیں اور میرا دل کہتا ہے کہ جلد ہی یہ آنکھیں اس دنیا کے سارے رنگ دیکھ سکیں گی ۔۔
عینی کی پلکیں نم ہوگئیں اور ہم وہاں سے پھر ملنے کا وعدہ کرکے چلے آئے لیکن میرا دھیان ساری رات ناساز کی پلاسٹک سرجری والی بات میں الجھا رہا کیا ایسا ہوسکتا ہے۔؟پیدائش سے لے کر آج تک مجھے جن عذابوں کا سامنا رہا ہے وہ سب الجھیں کرب اور عذاب یوں ایک ہی جھٹکے میں ختم ہوجائیں گا کیا؟
مگر عمر بھر کی شناخت بدلنا بھی تو کچھ آسان نہیں۔جو لوگ اس پری زاد کو جانتے ہیں وہ ایک نئے اور اجلے چہرے والے پری زاد کو قبول کرنے میں کتنا وقت ہیں گے ساری رات ناجانے ایسے کتنے بے سروپا خیالات میرے خالی دماغ میں کھنکھناتے رہے جانے کب صبع ہوئی اور کب سورج نے میرے کھڑکی کے شیشوں سے جھانک کر دھوپ کا سلام بھیجا۔دفتر پہنچا تو کمالی میرے پی انتظار میں بیٹھا تھا۔اس چھوٹتے ہی شکوہ کیا۔۔
یہ کیا سر جی آپ نے اتنی بڑی فلم شروع کردی اور مجھے خبر بھی نہیں ہونے دی کمالی کے ہاتھ میں صبع کا اخبار دیکھ کر میں نے ایک گہری سانس لی۔تو یہ خبر چھپ گئی یہ اخبار والے جانے اتنی جلدی کیسے اڑتی چڑیاں کے پر گن لیتے ہیں ابھی تو صرف منصوبہ پی بنایا تھا کمالی نے جوشمیں اندرونی صفحہ کھولا ۔۔
شہہ پارہ بیگم کا پورا انٹرویو چھپا ہے سر۔ساری فلم انڈسٹری ہلا کہ رکھ دی ہے آپ نے کھبی مجھے بھی بہت شوق تھا فلموں میں کام کرنے کا۔۔۔اہ۔۔۔مگر اب تو فلم دیکھنے کی مہلت بھی نہیں ملتی میں کسی اور خیال میں غم بیٹھا تھا کمالی اپنی دھن میں بولے گیا اس دن آپ نے مجھ سے پوچھا تھا سر۔۔کہ شادی کے اتنے سالوں بعد بچوں اور گھر بار کے مسائل کے ہجوم میں ہماری محبت کہاں کھو جاتی ہے؟بات صرف محبت کی نہیں ہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی باقی حسرتیں اور خواہشیں بھی مٹی کر دیتے ہیں اس غم دوراں کی آندھی میں اب یہی فلم ایکٹر بننے والی خواہش ہی لے لیں۔کاش میں شادی کے چکر میں اس آرزو کا گلا نہ گھونٹتا ۔۔
کمالی باقاعدہ غمگین ہوگیا میں مے حد سے اس کی طرف دیکھا جانتے ہو کمالی دنیا کا سب سے ناکارہ آدمی کون ہوتا ہے۔وہ۔جو اپنے ماضی کے لیے گئےفیصلوں کو یاد کر کے حال میں خود کو کوسے تم نے اس وقت وہی فیصلہ کیا خو تمہارے دل نے بہتر جانا تب تمہاری محبت ہی تمہاری ہر خوشی کا حاصل تھی۔۔اگر اس وقت تم فلم انڈسٹری جوائن کر لیتے تو شاید ایک نامور آرٹسٹ کہلاتے مگر یقین کرو اپنی محبت کو کھو دینے کی کسک تمہیںآج زیادہ غمگین رکھتی جسے تم نے پالیا۔۔بس وہی تمہارا نصیب ہے۔۔باقی سب سراب ہے کمالی نے اثبات میں سر ہلایا ۔
شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سر مگر پھر بھی پایا ہوا نصیب اپنی کشش کیوں کھو دیتا ہے لاحاصل ہی ہمیشہ پرکشش کیوں رہتا ہے ۔۔؟
میں نے لمبی سانس بھری شاید اس لیے کے انسان سدا کا ناشکر ہے اور رہی بات محبت کی تو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے وقت اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ خط رفتہ رفتہ ہماری محبت شفقت میں بدل جاتی ہے۔محبت محبت نہیں رہتی ایک گہری شفقت بن جاتی ہے کمالی نئ حیرت سے میری طرف دیکھا۔
شفقت؟۔۔میں سمجھا نہیں سر۔۔۔؟
ہاں کمالی ۔۔شفقت۔۔ہماری محبت کہیں کھوتی نہیں ہے۔بس کسی اور جذبے میں ڈھل جاتی ہے۔۔اور ہم باقی ساری زندگی اس شفقت کو محبت سمجھتے ہوئے گزار دیتے ہیں شاید اسی لیےہماری زندگی میں کسی نئی محبت کے لیے جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔اور یوںہماری زندگیوں میں نئی محبتوں کا ڈاکہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔جاو کمالی اپنے بیوی بچوں کو اپنا پورا وقت دیا کرو۔کیونکہ کھبی کھبی شفقت کا قرض محبتوں کے ادھارے سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے کمالی چپ چاپ دفتر سے نکل گیا دوپہر کو آمنہ کو فون آیا تو میں نے اسے خوشی کی خبر سنائی کہ ناساز نے فلم کے سارے گیت لکھ کر بنے خان کے حوالے کردیے ہیں میوزک بھی تقریبا مکمل پو چکا تھا لہذا اگلے ہفتے فلم کی ساری موسیقی ترتیب دے دی گئی۔سنبل نے مجھے بتایا کہ اس نے مہینوں بعد ناساز کی آنکھوں میں خوشی کی سچی لہر دیکھی ہے جب اس نے اپنی شاعری پر سنبل کی آواز کی آواز کا جادو جھگتے ہوئے سنا آمنہ کی خواہش تھی کہ فلم کے گانے کینیڈا یا یورپ کے کسی حسین مقام پر فلم بند کیے جائیں فلم کی کاسٹینگ مکمل ہوچکی تھی اور اب صرف شوٹنگ کا مرحلہ شروع ہونا باقی تھا۔میں دن بھر غیر محسوس طور پر طب کے رسالوں اور انٹرنیٹ پر دنیا کے بہترین پلاسٹک سرجنز کی تفصیلات کھوجتا رہتا تھا میرئ دفتر کی الماریوں اور میز کے خفیہ دراز اب ایسی معلومات سے بھرے رہتے تھے مگر یہ سب کچھ میں اس طرح چھپ چھپ کر رہا تھا جیسے کوئی چور چوری کرتا ہے…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: