Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 23

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 23

–**–**–

پہلے مجھے ہمیشہ یہ خوف اور فکر دامن گیر رہتی تھی کہ لوگ میری صورت کا مذاق اڑائیں گئے اور اب ایک راستہ دکھائی دیا تھا تو یہ ڈر میرے دامن سے لپٹا رہتا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ہماری زندگی کے نوے فیصد معاملات کی الجھن بس اسی ایک جمعلے میں ہی تو پنہاں ہے کہ زمانہ کیا کہے گا ۔۔؟
کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہم انہی لوگوں کی باتوں کی فکر میں گھلے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی اجیرن ہوتی ہے۔اگلی شام میں عینی کے گھر پہنچا تو وہ اپنی کسی سہیلی کے ساتھ ریڈیواسٹیشن کے لیے نکل چکی تھی۔میں واپس پلٹنے لگا تو اس کی ماں نے مجھے چائے کے لیے روک لیا کمرے میں ہر جانب میڈیکل رپورٹس اور آنکھوں سے متعلق دنیا کے کچھ مشہور ہسپتالوں کے کتابچوں کا انبار سا لگا ہوا تھا عینی کی ماں نے مجھے بتایا کہ عینی سات سال کی عمر تک بالکل ٹھیک تھی۔پھر ناجانے کیا ہوا کہ دھیرے دھیرے اس کی بینائی جاتی رہی اس وقت عینی کے ابو زندہ تھے اور انہوں نے اپنی ہر ممکن کوشش کر دیکھی مگر عینی کی بینائی واپس نہ آسکی پھر کئی سال بعد بات یہاں تک پہنچی کہ اگر عینی کے گروپ سے مشابہت رکھتا ہوا لینز(قرینہ)مل جائے تو عینی کی بصارت واپس آسکتی ہے۔عینی کی ماں نے دنیا بھر کے طبی اداروں کو اپنی بیٹی کے کیس کی تفصیلات بھجوا رکھی تھیں اور اب مہینوں سے اس جوان ہمت خاتون کا کام بس یہی تھا کہ وہ عینی کی آنکھوں کے لیے قرینے کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں خط و کتابت کرتی رہتی تھیں۔میں نے انہیں تسلی دی کہ اللہ نے چاہا تو جلد ہی ان کی تلاش رنگ لائے گی۔عینی کے گھر سے نکلتے وقت میرے دل کی حالت عجیب ہورہی تھی اگر عینی کی بینائی میری سرجری سے پہلے واپس اگئی تو وہ مجھے دیکھ کر کیا سوچے گی۔۔۔؟
اس کے من نے میری جو شبیبہ تراشی تھی مجھے دیکھتے ہی وہ ایک چھناکے سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوجائے گی کاش اس ساری دنیا میں کسی کی آنکھیں ہی نہ ہوتیں اور ہم سب اپنی انگلیوں کی پوروں سے ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تو کتنا اچھا ہوتا مگر جہاں کاش آجائے وہاں آخر میں صرف ایک اہ۔۔رہ جاتی ہے میں نے بھی ایک لمبی آہ بھری۔کچھ بھی ہو مجھے کسی بھی صورت میں عینی کی بصارت واپس آنے سے پہلے اپنی سرجری کروانی ہوگی۔مجھے اپنے چہرے کو عینی کی بنائے ہوے مجسمے کی شیپ میں ڈھالنا ہوگا۔تاکہ جب وہ آنکھوں سے دنیا دیکھے تو میں اسے اسی طرح نظر آوں جیسا وہ مجھے محسوس کرتی ہے۔گاڑی تیزی سے سڑکوں پر دوڑ رہی تھی
اور میرے اندر میرے اپنے ہی متضاد خیالات کی ایک ایسی یلغار جاری تھی جس نے مجھے پوری طرح نڈھال کر کے رکھ دیا تھا وہ پوری رات عجیب کرب میں گزری اور تنگ آکر میں نے انٹرنیٹ سے جمع شدہ معلومات کے مطابق پلاسٹک سرجری کے تمام اداروں کو ای میلز کر دیں۔جس میں میں نے اپنی تازہ ترین تصاویر اور باقی تمام جزئیات تحریر کردی تھیں۔دوسرے دن مجھے مختلف اداروں سے جوابات موصول ہونا شروع ہوگئے تین دن بعد ان جوابات کے انبار میں سے مجھے اپنے مطلب کے ادارے کا انتخاب کرنا آسان ہوگیا ٹورنٹو کے ایک طبی ادارے نے پلاسٹک سرجری کے لیے جو لوگو ڈیزائن کیا تھا اس پر لکھی ایک سطر نے مجھے اسے چننے پر مجبور کردیا تھا جس کی تحریر کچھ یوں تھی۔۔۔
ہم چاہے تقدیریں نہ بدل پائیں۔۔پر چہرے بدل دیتے ہیں
میں نے پائن ہل(pine Hill)نامی اس پلاسٹک سرجری کے ادارے کی تمام تفصیلات اکھٹی کر لیں اور پھر اس کے سربراہ پال جونز کو ساری تفصیل لکھ کر بھیجی۔چوبیس گھنٹے کے اندر پال کا جواب آگیا کہ ان کا ادارہ بنیادی طور پر آگ میں جھلس جانے والوں یا کسی حادثے کے نتیجے میں اپنے اصلی خدوخال کھو دینے والوں کی پلاسٹک سرجری کرتا ہے اور میرا کیس ان کے ادارے کے دائرہ کار میں نہیں آتا میں نے پال کو دوسری میل بھیجی کہ کیا ان کا ادارہ محبت کرنے والوں کے خواب پورے نہیں کرسکتا؟
میں بھی تو تقدیر نہیں صرف چہرہ بدلنے کا خواہش مندوں میں شامل ہوں اور اگر وہ چاہتے ہیں تو کی میں اپنی محبت کا کوئی ثبوت پیش کروں تو میں اپنے چہرے کو جھلسا کر ان کیلے ادارے کی شرط پر پورا اترنے کو تیار ہوں۔۔
میں نے رات گئے یہ میل پال کو بھیجی اور وہیں کرسی پر بیٹھے بیٹھے تھک کر آنکھیں موندھ لیں صبع سویرے پرندوں کے شور سے میری آنکھ کھلی تو پال کی میل میرے سن باکس میں نمایاں تھی میں نے سے اسے کھولا اور تحریر ہر نظریں دوڑائیں وہ میل پال نے ادارے کے آفیشل میل اکاونٹ سے نہیں کی تھی بلکہ اپنے ذاتی پتے سے بھیجی تھی۔۔
یہ میل اپنے ذاتی پتے سے بھیج رہا ہوں تمہاری میل نے مجھے چونکا کے رکھ دیا ہے مشرق لوگوں کے جذباتی ہونے کے بارے تو بہت کچھ سنا تھا مگر تمہاری جزباتیت تو دنیا سے جدا ہے۔۔ٹھیک ہے لڑکے ۔۔اگر تمہاری یہی ضد ہے تو میں تمہارے بارے میں کچھ سوچوں گا لیکن یہ سب کچھ میری ذاتی حیثیت میں ہوگا۔کیونکہ میرا ادارہ بہر حال اپنے اصولوں کا پابند ہے میں تمہیں چند ضروری ٹیسٹ لکھ کر بھیج رہا ہوں۔پہلے تم اپنے مللک کے کسی مستند طبی ادارے سے یہ ابتدائی ٹیسٹ کروا کر مجھے بھیج دو پھر جب تمہارے آنے کی ضرورت پڑی تو تمہیں اطلاع کردوں گا تب تک خدا کے لیے کوئی الٹی سیدھی حرکت مت کرنا۔تمہارا مخلص ڈاکٹر پال جونز ۔۔
میں نے میل پڑ کر ایک لمبی اطمینان کی سانس بھری۔گویا میری سمت طے ہوچکی تھی اور سفر چاہے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو سب سے پہلے اس کی سمت طے ہونا بے حد ضروری ہے بہت عرصے کے بعد میں نے خود خو ہلکا پھلکا محسوس کیا۔انسان زندگی میں بہت سے بوجھ ڈھوتا ہے مگر ان میں سب سے بھاری بوجھ شاید خود ہماری آپ خ سوچ کا ہماری فکر کا ہوتا ہے دفتر پہنچا تو آمنہ اور ڈاریکٹر پہلے سے ہی میرے انتظار میں بیٹھے تھے.
آمنہ نے شکوہ کیا کہ میں فلم کے مراحل میں پوری دلچسپی نہیں لے رہا ہوں۔جب کہ وہ چاہتی ہے کہ ہر شعبے پر میری ذاتی نگرانی اور گرفت رہے میں نے ان دونوں کو تسلی دی کہ ہم بہت جلدی کینیڈا میں فلم کے گانوں کی فلم بندی کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔
دونوں کے چہرے کھل اٹھے میں نے سوچ لیا تھا کہ میں یہاں سب کو فلم کے گانوں کی فلم بندی کا بتا کر یونٹ کے ساتھ کینیڈا چلا جاوں گا جہاں تین چار مہنے علاج کے لیے رکنے کا کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈنا ہوگا شاید چھ ماہ بھی لگ جائیں۔مگر مجھے کسی طور یہ معرکہ سر کرنا ہی تھا۔۔
اس وقت چاہتے ہوئے بھی میں سرجری کے بعد کے حالات پر کوئی سوچ بچار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ہم انسان بہت کو تاہ نظر اور نزدبین ہوتے ہیں جن فیصلوں میں ہمارے دل کی مرضی شامل ہوتی ہے ان کے اثرات سے نظریں چرانے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں کرتے۔میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ ایک بار آپنی مرضی کی سرجری کروا لوں۔بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔میں نے ایک دور دراز کے بڑے ہسپتال سے ڈاکٹر پال کے بتائے ہوے طبی تجزیے بھی کروالیے تھے اور اب مجھے اب کی رپورٹ آنے کی شدت سے انتظار تھا۔مجسمہ بن جانے کے بعد عینی کے گھر جانے کا کوئی خاص بہانہ نہ ہونے کے باوجود میں ہفتے میں ایک آدھ چکر اس کے گھر کا ضرور لگا لیتا تھا۔کچھ گلیاں اور کوچے اپنی سمت بلانے کے بہانے خود تراش لیتے ہیں۔جانے وہ من مونی سی لڑکی کا طرح چند دنوں میں ہی میرے دل کے ہر خانے پر اپنا قبضہ جما بیٹھی تھی۔حلاناکہ میں نے تو اس دل کے کواڑ سدا کے لیے بند کر کے چابی کسی دریا میں پھینک دی تھی یا پھر شاید مجھ جیسوں کے دل ہمیشہ کسی مخلص اور مہربان ساتھی کی دستک کا ہی انتظار کرتے رہتے ہیں؟شام کو دفتر سے اٹھتے وقت اچانک فون ہر سنبل کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی آپ جلدی سے شوکت خانم ہسپتال پہنچے۔آپ کے دوست کی طبعیت بگڑ گئی ہے میں سب چھوڑ چھاڑ کر کبیر کے ہسپتال کی طرف بھاگا۔راہداری میں کمرے کی طرف جاتے ہوئے میرے قدموں میں دے جان نکلتی جارہی تھی۔ناساز کا رنگ سرسوں کی طرح پہلا پڑ چکا تھا اس نے آہٹ پر آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھ کر خشک سوکھے پتے جیسے ہونٹوں سے بمشکل مسکرایا۔۔
رستہ روک رہی ہے تھوڑی جان ہے باقی
جانے ٹوٹے دل میں کیا ارمان ہے باقی
جانے بھی دے اے دل
سب کو میرا سلام ۔
میں چلا ۔۔میں شاعر بدنام
میں چلا محفل سے ناکام میں چلا ۔۔
مین نے لپک کر اس کا ہاتھ تھام لیا کہیں نہیں جارہے تم سنا تم نے میں اس شاعر کو کہیں نہیں جانے دو گا اس کے سرہانے کھڑی سنبل اور استاد بنے کی آنکھوں سے آنسوں ٹیک رہے تھے وہ بمشکل آنکھیں کھول کر بولا دیکھا پری زاد پیارے یہ تو واقعی اسی فلم کا سین بن گیا یار لگتا ہے جیسے میری کہانی ڈائریکٹر نے تیس چالیس سال فلما دی تھی مگر یار میں بہت تکلیف میں ہوں یہ جان تو نکلتے نکلتے جان نکال دیتی ہے ۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا چہ ہو جاو خود کو نڈھال مت کرو۔۔نہیں پیارے بولنے دو مجھے بس آخری تھکن ہے اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے ناساز نے سنبل کی طرف دیکھا یہ کہانی بھی ادھوری رہ گئی پری زاد۔۔میرے جانے کے بعد اس باپ بیٹی کا پورا خیال رکھنا اور جب تمہاری فلم ریلیز ہوتو۔۔۔تو ۔۔۔اس کا ٹائٹل میں میرا نام ناساز بولتے بولتے اچانک خاموش ہوگیا میں نے گھبرا کر اس کا چہرہ تھپتھپایا ناساز۔۔۔چپ کیوں ہوگئے۔۔۔بولتے کیوں نہیں تم ہم سب کو اتنا بڑا دھوکہ دے کر نہیں جاسکتے۔۔بولو ۔۔۔دغا باز جھوٹے ۔۔۔بات کرو۔۔۔میری چیخیں سارے ہسپتال میں گونج رہی تھیں استاد بنے نے ہسپتال کے عملے کی مدد سے مجھے ناساز کے بے جان جسم سے دور کردیا۔میں چیختا چلاتا رہ گیا۔استاد بنے نے دبوچ کے مجھے گلے لگا لیا چپ کرجاو۔ناساز اب کھبی نہیں بولے گا وہ مر چکا ہے۔۔۔
ناساز کے جانے کے بعد میرا دل ہی اٹھ گیا کسی کام میں من نہیں لگ رہا تھا میں بس سارا دن اپنے کمرے میں پڑا رہتا تھا ناساز کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹتا ہی نہیں تھا کچھ لوگ اپنی تقدیر میں صرف درد ہی لکھوا کر لاتے ہیں۔سکھ کہ سیاہی ان کی باری آنے سے پہلے ہی خشک ہوجاتی ہے شاید؟ اور پھر ویسے ہی ایک اداس شام جب میں اپنے اندھیرے کمرے میں بیٹھا قسمت کے اس پیر پھیر کو سوچ رہا تھا تو عینی آگئی۔کیوں سزا دے رہے ہیں خود کو۔ہم میں سے کوئی بھی ناساز کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا اس کا جانا طے تھا۔۔سو وہ چکا گیا۔۔مگر ہم سب ابھی یہیں ہیں ہماری خاطر ہی سہی مگر خود کو سنبھالیں۔۔
میں نے اپنی نم آنکھیں رگڑیں اگر سب کا جانا طے ہے تو پھر ہم سب ایک ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے۔۔؟ یہ باریاں کیوں لگا دی گئی ہیں ۔۔
عینی میرے قریب بیٹھ گئی۔باریاں اس لیے لگائی گئی ہیں کہ ہم جانے والوں کے بعد ان کے اپنوں کا دھیان رکھیں۔آپ شاید بھول رہیں ہیں سنبل اور استاد بنے خان کی ذمہ داری آپ پر ڈال گیا ہے آپ کا دوست۔کیا انہیں یونہی تنہا چھوڑیں گے پری زاد ۔۔
کیا ستم ہے ہوا کے سب راستے سب دروازے بند کر دینے کے بعد زندگی ہمیں سانس لینے کے لیے بھی مجبور کرتی ہے کیونکہ جینا تو ہے ہی۔۔ہاں۔۔جینا تو پڑے گا مزید ستم سہنے کے لیے نئے گھاو جھیلنے کے لیے اگلے ہی ہفتے میں شہر کی ایک نئی بستی میں استاد بنے خان کے لیے ایک گھر کا انتظام کردیا گیا جہاں وہ اپنی موسیقی کی اکیڈمی اور کلاسز بھی شروع کرسکتے تھےکمالی نے اس سارے معاملے میں بہت پھرتی دکھائی اور دو ہفتوں بعد ہی میوزک اکیڈمی کا اشتہار بھی شہر کے بڑے اخباروں کے پہلے صفحے پر لگ گیا مجھے یقین تھا کہ اب ان باپ بیٹی کو اپنی گزر بسر کے لیے کسی کے آگے سوال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔میری اس عرصے میں خود سے خود کی ملاقات بہت کم ہو پاتی تھی مگر جیسے ہی زندگی میں کچھ ٹھہراو آیا میں نے جانے کتنے دن بعد آئینہ دیکھا تو مجھے ایک ہی ڈاکٹر پال کی یاد آگئی میں نے اپنی میل کھولی تو ڈاکٹر پال کی تین میلز آچکی تھیں جس میں اس نے میرے کرائے گئے طبی تجزیوں کے بارے میں پوچھا تھا۔۔…
میں نے اگلی صبح ہی رپورٹ لے کر اسے ای میل کردی۔کمالی اس عرصے میں فلم یونٹ سے مسلسل رابطے میں تھا اور وہ مجھے وقتا فوقتا پیش رفت سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔کینیڈا میں فلم بندی کے انتظامات بھی وہ مکمل کر چکا تھا۔میں نے سوچ لیا تھا کہ کینیڈا روانگی سے قبل عینی سے آپنے دل کی بات کہہ دو گا۔۔میں اسے کہہ دو گا کہ اب اس زندگی کے تپتے صحرا میں تنہا چلتے چلتے چلتے میرے پاوں اتنے آبلہ پا ہوچکے ہیں کہ خود میرے قدموں کت چھالے مجھے دہائی دیتے ہیں کہ انہیں اب کسی ہم سفر کے ساتھ کی چھاوں درکار ہے۔میں اس سے پوچھوں گا کہ کیا وہ میری عمر بھر کی ہم سفر بننا قبول کرے گی۔۔؟کیا وہ مجھے اس اعزاز کے قابل سمجھتی ہے۔۔؟کیا وہ میری تمام زندگی کی محرومیاں ختم کر کے مجھے اپنا سکتی ہے۔۔؟
میں نے راستے میں گاڑی رکوا کر پھول والے سے عینی کے لیے گلدستہ بنوانے کا سوچا لیکن بہت دیر تک وہاں کھڑا پھولوں کا انتخاب کرتا رہا۔دنیا کے سارے پھول پنکھڑیوں سے جڑ کر بنتے ہیں گر جب خود کسی پنکھڑی جیسی کو گلاب پیش کرنا ہوتو کوئی چناو کیسے کرے؟ہر پھول اس کے سامنے چھوٹا لگتا تھا۔ہر رنگ اس کے آگے پھیکا پڑ جاتا تھا۔مجبورا مجھے کچھ پھیکےرنگوں والے کم صورت گلابوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔مڈ مدمقابل جب۔گلاب تر۔ہوتو پھولوں کو بھی ہار ماننا ہی پڑتی ہے۔میں بہت دیر اس کے گھر کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی الجھی سانسیں درست کرتا رہا
ایسےلگ رہا تھا جیسے حسن عدالت میں میری پہلی پیشی ہے۔دوسری گھنٹی کے جواب میں اندر سے قدموں کی آہٹا ابھری اور میں سنبھل کر کھڑا ہوگیا۔گلدستے پر میری گرفت سخت ہوگئی اور پھر دروازہ کھلا تو میرا ہاتھ ہوا میں ہی بلند رہ گیا۔اندر سے نکلنے والا نوجوان میرے لیے قطعی اجنبی تھا۔۔۔
جی فرمائیے کس سے ملنا ہے آپ کو۔۔۔
میں اسے دیکھتا رہ گیا۔لمبا قد کھلتی رنگت بکھرے بکھرے سے بال گہرے سیاہ آنکھوں میں عجیب سی کشش آمیز چمک وہ مردانہ وجاہت کا پیکر تھا۔خوبرو۔با اعتماد اور مغرور سا وہ لڑکا مجھے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔میرا گلدستے والا ہاتھ میکانکی طور پر خود بخود پیچھے چھپ گیا۔میں نے گڑ بڑا کر اس سے پوچھا۔۔
تم کون ہو۔۔
وہ لڑکا ہنس پڑا ۔۔
لو وہ بھی ہم سے پوچھتے ہیں کہ میر کون ہے ۔۔؟
جناب ہم اپنے تعارف خود آپ ہیں۔۔ڈاکٹر عدنان کہتے ہیں مجھے یہ میری خالہ کا گھر ہے اور میں آج ہی یہاں نازل ہوا ہو۔آپ بتائیں کہ آپ کون ہیں؟؟
میں نے اپنے ڈوبتے دل کو سنبھالا۔میں عینی کا دوست ہوں پری زاد نام ہے میرا عدنان نے غور سے مجھے دوبارہ دیکھا اور پہلے لفظ کو کافی لمبا کرتا ہوا بولا اچھا تو آپ ہیں پری زاد سر کھا کیا ہے اس پاگل لڑکی نے صبع سے میرا آپ کا ذکر کر کر کے سچ بتاو تو میں آپ سے جیلس ہورہا تھا میں نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا وہ زور سے ہنس پڑا برا مت مانیے گا مذاق کی عادت ہے میری اندر آئیں ناں۔۔باہر کیوں کھڑے ہیں خالہ اور عینی اندر ہی ہیں میں چپ چاپ اس کھلنڈرے سے لڑکے کے پیچھے اندر داخل ہوگیا۔میرے ہاتھوں میں پکڑا ہوا گلدستہ نہ جانے کب میرے ہاتھ سے کمرے کے گل دان میں منتقل ہوگیا۔کچھ دیر بعد عینی بھی آگئی وہ بہت خوش نظر آرہی تھی ارے آپ آگئے پری زاد دیکھیں کون ایا ہے میرے بچپن کا ساتھی میرا سب سے بہترین دوست میرا کزن عدنان۔۔سچ بتائیں اس نالائق کو دیکھ کر ذرہ بھر بھی نہیں لگتا ناں کہ یہ ڈاکٹر ہوگا۔۔حرکتیں تو ابھی تک وہی گلی کے آوارہ لڑکوں جیسی ہیں اس کی عدنان نے زور سے قہقہہ لگایا۔۔
تو گلی کا لڑکا ہی تو ہوں تمہاری گلی کا ایک آوارہجو گھنٹوں دوپہر میں تمہاری کالج سے واپسی کا انتظار کیا کرتا تھا۔۔یاد ہے ناں بلی ۔۔۔
وہ دونوں زور سے ہنس پڑے جانے کیوں ٹھیک اس لمحے میں نے خود کو وہاں سے بے حد اجنبی محسوس کیا۔کل تک یہی درو دیوار مجھے کتنے مانوس کتنے مہربان سے محسوس ہوتے تھے۔اور آج ایک اجنبی کے آجانے سے میں خود بیگانہ سا ہو رہا تھا۔عینی نے مجھے بتایا کہ عدنان نے طب کی تعلیم کے بعد آنکھوں کی فیلڈ میں اسپیشلائز کیا ہے اور اب اس کی پوسٹنگ اسی شہر میں ہوچکی پے عدنان کی باتوں سے میں محسوس کیا کہ وہ خود بھی پوری تندہی سے عینی کی آنکھوں کے علاج کی کوئی صورت نکالنے میں جتا ہوا ہے عدنان اور عینی ایک دوسرے سے بہت بے تکلف محسوس ہوتے تھے۔اور دونوں ایک دوسرے پر وار کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دے رہے تھے۔جب تک عینی کی ماں رات کے کھانے کے انتظام کے لیے باورچی خانے میں مصروف رہیں دونوں بچپن کی باتیں یاد کر کے ہنستےرہے عینی نے عدنان کو ٹوکا۔۔بس بس یہ رہنے دو تابعداری کی باتیں خوب جانتی ہوں میں کے جناب کڑی دوپہر میں کس کے لیے دھوپ چاٹا کرتے تھے کیا نام تھا اس عینی کا۔۔ہاں ۔۔نگہت اور دوسری پھینی۔۔۔مہوش۔۔اور وہ تیسری ۔۔
عدنان نے جلدی سے اسے روکا او ہو بس کرو وہ بچپنا تھا میرا اور ایسی دو چار معاشقہ نما دوستیاں تو سبھی کرتے ہیں لڑکپن میں کیوں پری زاد صاحب ٹھیک کہہ رہا نہ میں آپ نے بھی کی ہوں گی کچھ خواب تو پالے ہوں گے اس عمر میں آپ نے بھی میں نے غور سے عدنان کی طرف دیکھا نہیں ڈاکٹر صاحب خواب پالنے کے نیند کے کچھ خوبصورت لمحے پالنے بھی ضروری ہوتے ہیں میں تو آج تک نیند کا وہ لمحا ہی ڈھوندتا رہا ہوں نیند آجائے تو شاید کھبی خواب بھی پال سکوں۔۔
عدنان نے چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔واہ۔۔۔میری پیاری کزن یونہی آپ کی اتنی تعریفیں کرتے نہیں تھکتی۔۔بڑی گہری بات کہہ دی آپ نے میں آٹھ کھڑا ہوا ان میں اجازت چاہوں گا انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی ۔
وہ دونوں بوکھکا سے گئے عینی جلدی سے بولی ارے آپ کہاں چل دیے امی نے کھانا لگا دیا ہے اور آپ نے تو آنے سے پہلے فون پر مجھے کہا تھا کہ آپ کو مجھ سے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔بتائیں ناں۔۔۔۔؟
عدنان نے چونک کر میری طرف دیکھا میں نے جلدی سے بات بنائی ارے ہاں یاد آیا۔۔فلم کا یونٹ کینیڈا جارہا ہے۔۔شاید میں بھی جاو سوچا تم سے بھی پوچھ لو۔۔
عینی خوشی سے چلائی واہ ۔۔زبردست ۔۔کاش میں بھی ساتھ چل سکتی مگر اب یہ صاحب جو تشریف لے آئے ہیں۔۔میرے دشمن جاں۔۔یہ مجھے کہاں جانے دے گا اب۔۔
میں نے چونک کر عینی کی طرف دیکھا کیوں؟عدنان نے جلدی سے دخل دیا۔پری زاد صاحب۔۔آپ ہی سمجھائیں اس لڑکی کو۔۔میں نے امریکہ کے بہت سے طبی بڑے ادارے سے عینی کی آنکھوں کے میچنگ لینز کی بات کی ہے۔۔وہ لوگ نوے فیصد پر امید ہیں کہ وہ آپریشن کر سکتے ہیں ۔اور انہیں مشابہت اس کا قرینہ بھی مل جائے گا کیونکہ آج کا باہر کے ملکوں میں سزائے موت کت قیدی یا بستر مرگ پر پڑے ہوئے مریض عموما اپنے اعضاء مرتے وقت دان کر جاتے ہیں یا اپنی بیوی بچوں کو آئندہ کفالت کے لیے بھاری رقم کے عوض بیچ دیتے ہیں۔میں نے عینی کے میچنگ لینز کے لیے ایسے کئی اداروں میں رجسڑیشن کروا رکھی ہے اور وہ لوگ قرینہ ملتے ہی ہمیں اطلاع کر دیں گے ۔۔میں نہیں چاہتا کہ ایسے وقت میں عینی کی غیر موجودگی کی وجہ دیر ہوجائے عینی نے حتمی لہجے میں کہا۔
خواب دیکھنا چھوڑ دو مائی ڈئیر کزن ڈاکٹر عدنان ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: