Hashim Nadeem Parizad Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 24

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 24

–**–**–

پہلے تو یہاں سے امریکہ جانے کے لیے لاکھوں روپے چاہئیں ہوں گے اور پھر ڈونیشن اور آپریشن کا خرچ الگ کہاں سے آئیں گے اتنے پیسے۔۔؟اور تم یہ بھی اچھی طرح جانتے کو کہ کہ میں اپنی جمع کی ہوئی رقم سے ہی اپنا آپریشن کرواوں گی اور ہم دونوں یہ بات بہت پہلے طے کر چکے ہیں۔۔
سو مو مور بحث اوکے۔۔۔وہ دونوں بچوں کی طرح بحث کر رہے تھے میں نے عینی سے اجازت چاہی اور بھاری قدموں سے وہاں سے اٹھ آیا سارے راستے سن دونوں کی نوک جھونک میرے کانوں میں گھونجتی رہی۔عدنان کو عینی سے بے تکلف ہوتے دیکھ کر ایک عجیب سی بے چینی میرے رگوں میں پھیلی جارہی تھی۔مگر خود عینی بھی تو اس کے ساتھ اتنی ہی بے تکلفی سے پیش آرہی تھی۔جنہیں ہم چاہتے ہیں وہ کسی اور سے بے تکلف ہو کر بات کریں تو ہمارے خون کی گردش کیوں تھمنے لگتی ہے۔کانٹوں جیسی چھبن اور کسک ہمارے وجود کو کیوں چھلنی کرنے لگتی ہے؟کیا اس کو رقابت کہتے ہیں۔؟ساری رات میں اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا رہا۔یہ رقابت تو محبت سے بھی زیادہ جان لیوہ آزار ہےا اگلے چند روز ٹیلی فون کی گھنٹی پر میں چونک چونک جاتا۔مگر عینی تو جیسے عدنان کے آنے کے بعد بہت زیادہ مصروف ہوگئی تھی۔مجھے چڑ چڑاہٹ سی ہونے لگی۔اور میرا عملہ اس کا نشانہ بننے لگا۔کمالی نے یہ بات نوٹ کر لی اور تیسرے دن ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا کہ کیا مجھے کوئی پریشانی ہے؟۔۔میں اسے کیا بتاتا۔۔مجھے تو خود پتا نہیں تھا کہ میرے اندر کیا چل رہا ہے۔مگر چوتھے روز پی اے نے جب مجھے اطلاع دی کہ کہ مس عینی آپ سے ملنے آئی ہیں تو
ایک لمحے میں ساری بے چینیاں ساری بے تابیاں جانے کہاں ہوا ہوگئیں اور میں بے تابی سے ملاقاتی کمرے کی طرف گیا۔مگر وہ تنہا نہیں آئی تھی۔عدنان بھی اس کے ساتھ تھا۔میری آہٹ سنتے ہی وہ ناراضگی سے بولی۔۔
کہاں غائب ہیں آپ تین دن سے۔۔نہ کوئی فون نہ کوئی خیر خبر میں آپ سے سخت ناراض ہوں۔۔جان لیں اچھی طرح میں نے مصروفیت کا بہانہ کیا مگر وہ روٹھی رہی۔عدنان نے مسکرا کر میری طرف دیکھا بڑی ضدی ہے یہ بچپن سے سر مجھ سے پوچھیئے میں نے گہری نظروں سے اس حسن ناراض کو دیکھا سفید لباس اور سیاہ دوپٹے میں وہ چاند لگ رہی تھی۔۔۔۔
چلو کچھ جرمانہ طے کر دو میری غیر حاضری کا۔۔
آخر کار بات یو بنی کہ مجھے ان دونوں کو رات کے کھانے پر شہر کے ایک مشہور اوپن ایئر ریستوران میں مدعو کرنا پڑا۔عدنان نے جاتے وقت عینی کے کمرے سے نکلتے ہی جلدی سے مجھے بتایا کہ عینی کے لیے میچنگ لینز کا انتظام ہوگیا ہے مگر عینی جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔عدنان نے دبے لفظوں میں مجھ سے رات کو عینی کو منانے کی درخواست کی وہ اپنا آبائی گھر بیچ کر عینی کا علاج کروانا چاہتا تھا۔ان کے جانے کے بعد پھر سے وہی ہزار خدشے ہزار وسوسے۔۔مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میری محبت ریت کے ذروں کی طرح میری مٹھی سے نکلتی جارہی ہے رات کو ریستوران کی ٹیبل پر وہ دونوں مجھ سے پہلے موجود تھے کتنے مکمل لگتے تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ۔جیسے دو ہنسوں کا جوڑا ہو۔کوئی ہم تینوں کو وہاں ایک ساتھ بیٹھے دیکھتا تو اسے میرا وجود پی اضافی لگتا۔عدنان کو کوئی فون کال آئی تو وہ اٹھ کر ذرا فاصلے پر چلا گیا۔عینی نے میری خاموشی محسوس کر لی۔۔
آپ اتنے چپ چپ کیوں ہیں پری زاد ۔۔۔آج دن کو بھی میں نے محسوس کیا تھا کہ آپ گم سم ہیں۔۔
نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔تم عدنان کی بات مان کیوں نہیں لیتیں وہ تمہارے پی بھلے کی بات کر رہا ہے عینی نے لمبی اہ بھری اچھا تو ڈاکٹر صاحب کا جادو آپ پر چل گیا میں نے دھیرے سے کہا۔۔ہاں۔۔وہ ہے ہی ایسا جادوگر آج کل چاروں طرف مجھے اسی کا سحر محسوس ہوتا ہے ۔
عینی ہنس دی۔۔ہاں۔۔ٹھیک کہا آپ نے پتہ ہے پری زاد ۔۔میں نے سات سال کئ عمر کے بعد عدنان کو نہیں دیکھا۔جانے سب کیسا دکھتا ہوگا۔پہلے تو ہر وقت مٹی میں اٹا رہتا تھا بڑی مار پڑی تھی اسے خالہ سے۔۔آپ کو ایک بات بتاوں پری زاد میری زندگی کی بہت بڑی خواہش تھی کہ جب میری بینائی واپس آئے۔۔میں سب سے پہلے عدنان کوہی دیکھنا چاہتی تھی۔۔ہاں مگر اب اس فہرست میں ایک اور ہستی بھی شامل ہوچکی ہے۔۔اور وہ آپ ہیں پری زاد۔۔اب میں عدنان کے ساتھ آپ کو بھی پہلی نظر میں دیکھنا چاہتی ہوں۔میرا دل چاہا کہ اس سے کہوں کہ کہاں ہیرے اور کوئلے کو ایک پی فہرست میں درج کر رہی ہو۔دیکھے جانے کے قابل صرف عدنان ہی ہے اتنے میں عدنان بھی واپس آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔جی پری زاد صاحب کچھ آیا اس پگلی کی عقل میں یا نہیں۔۔۔؟اسے سمجھائیں کہ اپنوں کے خلوص کو یوں ٹھکرایا نہیں کرتے۔۔۔
عینی نے احتجاج کیا ایسی بات نہیں تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے تمہارے پاس تمہارے آبائی گھر کے علاوہ اور ہے ہی کیا۔؟اور پھر ہم دونوں کے بچپن کی اور خالہ کی کتنی یادیں وابستہ ہیں اس گھر سے میری نظر میں وہ سب یادیں میری بینائی سے بہت زیادہ اہم ہیں۔۔بس ہوگیا فیصلہ تم وہ گھر کھبی نہیں بیچو گے اور اگر تم نے ایسا کیا
تو ساری زندگی مجھ سے بات مت کرنا عدنان نے بیچارگی سے میری طرف دیکھا میں نے دخل اندازی کی تم دونوں خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہو۔عینی پر میری دوستی کے بھی کچھ قرض باقی ہیں اور اسی دوستی اور رشتے کے حق سے آج یہاں یہی کہنے آیا ہوں کہ عینی کے علاج کا تمام خرچہ میں برداشت کرو گا۔کیا میرا اتنا بھی حق نہیں ہے ۔۔
نہیں پری زاد۔۔ایسا مت کہیں۔۔میں آپ سے رقم نہیں لوں گی میں نے زندگی بھر ایک یہی خوداری کا بھرم ہی تو کمایا ہے کیا آپ دونوں مجھ سے میری عمر بھر کی یہ واحد کمائی بھی چھین لینا چاہتے ہین۔۔کہا فائدہ ایسی بینائی کا جس کے ملنے کے بعد میری نظر تمام عمر جبکہ رہے پلیز آپ ایسا نہ کریں۔۔۔
میں نے گہری سانس لی ٹھیک ہے ۔۔اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو یوں ہی سہی مگر پھر تمہیں میری ایک بات ماننا ہوگی میں عمر بھر تمہاری خودداری کا یہ بھرم قائم دیکھنا چاہتا ہوں مگر تمہارا علاج بھی اسی قدر ضروری ہے۔لہذا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال عدنان کا آبائی گھر میں خرید لوں گا۔مکان کی رقم سے عدنان تمہارہ علاج مکمل کروائے گا لیکن تم دونوں کے بچپن کی یادوں کی مسکن وہ گھر میرے پاس عدنان کی امانت کے طور پر رہے گا۔عدنان جب بھی رقم جمع کر لے گا مجھ سے اپنا مکان واپس لے سکتا ہے عینی نئ نے چینی سے پہلو بدلا۔۔لیکن کوئی اگر مگر نہیں سنوں گا بس طے ہوگیا تم لوگ جانے کی تیاری کرو آج کل ویسے بھی اچھے ڈاکٹروں کا کال پڑا ہے ۔مجھے یقین ہے عدنان کچھ برس میں ہی اپنا مکان واپس کر لے گا عدنان نے خوشی سے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔یہ ہوئی نہ بات۔مجھے یقین تھا اس مسلے کا آپ ہی کوئی حل نکالیں گے۔۔آپ واقعی کمال ہیں پری زاد صاحب۔۔
اس وقت تو عینی خاموش رہی لیکن رات گئے اس کا نمبر میرے موبائل پر جگمگانے لگا۔۔پری زاد۔۔میں آپ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوں۔۔۔میں جانتی ہوں آپ میری خاطر یہ دب کچھ کر رہے ہیں۔۔میں نے بات مذاق میں ٹالی۔نہیں بے وقوف لڑکی تمہیں نہیں پتہ کہ پراپرٹی کی قیمتیں آج کل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔عدنان کا گھر لے کر میں کوئی گھاٹے کا سودا نہیں کیا دیکھ لینا عدنان رقم چکا نہ سکا تو دس گنا زیادہ قیمت پر بیچ دوں گا تم نے پری زاد کو بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا۔۔؟
وہ ہنس پڑی پری زاد آپ ہمیشہ گھاٹے کے سودے ہی کرتے ہیں ۔۔…
اچھا ٹھیک ہے لیکن آپ کو میری شرط یاد ہے ناں۔۔جب کھبی دنیا دوبارہ دیکھوں تو میری پہلی نظر کے فریم میں آپ کو ضرور موجود رہنا ہوگا بولیں۔۔قبول ہے تو ٹھیک ورنہ ابھی منع کرتی ہوں عدنان کو کہ گھر کے کاغذات نہ بنوائے آپ کے لیے میں نے جلدی سے ہامی بھر لی۔ٹھیک ہے ضدی لڑکی۔۔مگر دیکھو۔۔اب مزید کو بہانہ مت کرنا۔۔جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا میں نے عینی کو تسلی دے دی مگر خود میرا چین و سکون ہمیشہ کے لیے ہوا ہوگیا۔ساری رات میں یہی سوچ سوچ کر لان میں ٹہلتا رہا کہ آنکھیں مل جانے کے بعد عینی جب مجھے دیکھے گی تو اس کا رد عمل کیا ہوگا۔۔؟
صبع سویرے عدنان اپنے گھر کے کاغذات بنوا کر کے آیا۔میں نے رقم چیک عدنان کے حوالے کیا تو خوشی سے اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔عدنان اٹھ کر خانے لگا تو میں نے اسے آواز دے کر روک لیا ۔۔سنو عدنان۔۔وہ پلٹا تو میں نے اس کے گھر کے کاغذات اس کے ہاتھ میں تھما دیے یہ گھر تمہارہ تھا۔اور ہمیشہ تمہارہ ہی رہے گا میں نے صرف عینی کو منانے کے لیے یہ گھر خریدنے کا ڈرامہ کیا تھا۔عینی کی آنکھیں واپس آجائیں اس زیادہ مجھے کچھ اور نہیں چاہیے البتہ یہ مکان والا راز عینی کے لیے ہمیشہ راز ہی رہے گا۔۔
عدنان کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں پری زاد صاحب میں دن رات محنت کرکے آپ کی ایک ایک پائی واپس کردوں گا یقین جانیئے۔یہ رقم مجھ پے ہمیشہ قرض رہے گی میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔ہمارا بھی اس لڑکی پر کچھ حق ہے ڈاکٹر صاحب کچھ قرض ہم پر بھی واجب ہیں ابھی۔عدنان جاتے جاتے ایک بار پھر پلٹا آہ کو میں ہر لمحے خبر دیتا رہوں گا ہم اگلے ہفتے ہی یہاں سے روانہ ہوجائیں گے۔مگر عینی کی آنکھوں کی پٹی کھلنے سے پہلے آپکو بھی امریکہ پہنچنا ہوگا ورنہ وہ ضدی لڑکی آپریشن ہی نہیں کروائے گی۔۔بہت مان دیتی ہے وہ آپ کو اس نے آپریشن کے لیے ہاں بھی صرف آپ کے کہنے پر ہی کی ہے میں نے عدنان کی آنکھوں مین تارے سے جگمگاتے دیکھے اور یہ ستارے مجھے ہر بار مجھے اس کی آنکھوں میں تب دیکھائی دیتے تھے جب وہ عینی کا ذکر کرتا تھا ۔۔
آپ جانتے ہیں پری زاد صاحب۔۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جس دن عینی پہلی بار یہ رنگین دنیا دیکھے گی اسی دن میں اسے شادی کے لیے پرپوز کردوں گا۔۔جانے کب سے اس دن کا انتطار کر رہا ہوں۔۔
میرے سر پر جیسے عمارت دھڑام سے گر گئی میں نے گھبرا کر اسے دیکھا۔۔۔کیا۔۔۔؟میرا مطلب ہے کیا عینی کو بھی اس بات کی خبر کے ۔عدنان نے خوابوں کی بستی سے جواب دیا ہاں۔۔وہ جانتی ہے کہ میں ہمیشہ سے اسے آپنی ہم سفر بنانا چاہتا ہوں۔۔مگر وہ نہیں جانتی کہ میں کس دن یہ پرپوزل اس کے سامنے رکھوں گا میری مرحومہ ماں اور میری خالہ کی بھی ہمیشہ سے ہی یہی خواہش تھی۔بس وہ دن بھی قریب ہے چلتا ہوں۔۔بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں ۔۔
عدنان۔ پلٹ کر چلا گیا۔میرا سر بڑی طرح چکرا رہا تھا میں وہی کرسی پر ہی ڈھیر ہوگیا۔کچھ دیر میں کمالی کسی کام سے اندر آیا تو میری حالت دیکھ کر گھبرا گیا ۔۔
آپ ٹھیک تو ہیں سر۔۔؟
میں آٹھ کھڑا ہوا ۔
کمالی میں گھر واپس جارہا ہوں کمالی۔مجھے ڈسٹرب مت کرنا میں دروازے تک پہنچ کے رک گیا۔کمالی ابھی تک گم سم کھڑا تھا۔کمالی۔۔تم نے کہا تھا کہ کھبی تم نے بہت ٹوٹ کر کسی سے محبت کی تھی۔۔تو کیا اس محبت کا کوئی رقیب تھا۔کمالی نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔نہیں سر۔۔خوش قسمتی سے رقابت کا زہر میں نے کھبی نہیں پیا۔۔مگر سنا ہے کہ محبت کی اصل روح تبھی ظاہر ہوتی ہے جب کوئی رقیب درمیان میں پڑتا ہے ۔۔میں نے کھوئے ہوے لہجے میں کمالی سے پوچھا رقیب کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے کمالی۔؟رقیب کے پر رحم کھانے والا دراصل اپنی محبت کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا۔۔
میں نے چونک کر اسے دیکھا لیکن محبت تو محبت ہوتی ہے نہ کے کوئی جنگ۔کمالی مسکرا دیا محبت میں رقابت سے بڑی جنگ بھلا کیا ہوگی اس دنیا میں سر اور آپ نے سنا تو ہوگا کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے ۔۔
میں دفتر سے باہر نکلا تو رقابت کا زہر میرے پورے وجود میں اپنے پنجے گاڑھنا شروع کرچکا تھا۔جانے کب دن ڈھلا اور کب رات ہوئی۔میرا سارا جسم جل رہا تھا۔کبیر نے رات گئے جب گھر کے دروازوں اور گیٹ کا تالا لگانے کی اجازت چاہی تو میری آنکھیں اس پر جم گئیں۔کبیر خان ۔۔تم میرے لیے کیا کرسکتے ہو۔۔؟
کبیر نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ہم جان لے سکتا ہے اور جان دے بھی سکتا ہے صاحب۔
کبیر کچھ دیر تک میرے جواب کا انتظار کرتا رہا آپ حکم کرو صاحب۔۔کبیر خان کی جان بھی حاضر ہے آپ کے لیے میں اپنے خیالات سے چونکا۔ہاں۔فی الحال کچھ نہیں بس ایسے ہی خیال آگیا تھا ۔۔تم جاو ۔۔رات بہت ہوگئی تمہاری گھر والی راہ دیکھتی ہوگی تمہاری کبیر کچھ کہتے کہتے رک گیا اور الجھن زدہ سا وہاں سے چلا گیا۔یہ مجھے کہا ہوتا جارہا ہے میرے اندر یہ کیسی عجیب سی جنگ چھڑنے لگی تھی جیسے میرا وجود دو حصوں میں تقسیم ہوتا جارہا ہو میرے اندر ایک نیا پری زاد جنم لینے لگا تھا اور مجھے رقیب سے رقابت کا سبق سکھانے لگا تھا وہ سارا دن میرے اندر بولتا رہتا تھا۔۔
یہ کیا کرنے جارہے ہو احمق انسان۔خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودنے کا انتظام خوب کیا ہے تم نے۔اب تمہاری رقم سے عدنان عینی کی آنکھوں کا علاج کروائے گا اور پھر جب وہ لڑکی تمہیں اس شہزادے کے پہلو میں کھڑے دیکھے گی تو فیصلہ کس کے حق میں ہوگا یہ تم بھی اچھی طرح جانتے ہو۔ٹھیک ہی کہا تھا عدنان نے وہ مجھے بہت ماں دیتی ہے مجھے ۔مگر صرف مان۔۔عزت اور تعظیم اور میں نہ جانے کیا سمجھ بیٹھا تھا جس تبسم کو میں اپنے مقدر کی پھوار سمجھا تھا وہ تو اس کی عادت سے نکلا چار دن اس نے مجھ سے ہنس کر کہا بات کر لی اور ذرا سا اپنا وقت مجھ کر صرف کیا کردیا میں تو اسے محبت کا حقدار سمجھ بیٹھا تھا خود کو ۔۔احمقوں کی جنت کا سردار تھا میں۔کتبا بڑا دھوکا کھایا تھا سدا کے غدار دل کے ہاتھوں میں نے۔۔میں وہ منافق تھا جسے سو بار ایک ہی سوراخ سے ڈسا گیا تھا۔جی چاہ رہا تھا کی خود اپنے ہاتھوں سے اپنا سینہ چیر کر اس بے وفا قلب کو باہر نکالوں اور اپنے قدموں تلے اس وقت تک روندتا رہوں جب تک کہ زندگی کی آخری رمق باقی رہے اگلے دن جب گھر سے نکلا تو جانے کہاں کہاں بھٹکتا رہا اور پھر ہوٹل کا بورڈ دیکھ میں نے ڈرائیور کو گاڑی اس طرف موڑنے کا کہہ دیا۔میں کچھ دیر تنہا بیٹھنا چاہتا تھا۔اور کھبی کھبی تنہائی ہمیں صرف لوگوں کے ہجوم میں ملتی ہے ویرانوں میں تو ہم اپنے سامنے مزید نمایا ہوجاتے ہیں۔اور مجھے ایسی تنہائی چاہیے تھی جہاں خود مجھے بھی میرا سامنا نہ کرنا پڑے۔لابی میں بیٹھے بیٹھے دو گھنٹے گزرگئے یہ پانچ اور سات ستارہ ہوٹل بھی عجیب ہوتے ہیں۔ایک دنیا کی خلقت وہاں آتی جاتی رہتی ہے مگر کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں ہوتی..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: