Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 25

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 25

–**–**–

سب کے ہونٹوں پر مسکراہت پٹی ہے مگر عموما مسکرانے کی وجہ نامعلوم رہتی ہے۔اچانک لابی میں ایک شور سا اٹھا اور کچھ لوگ ایک جانب لپکے۔میں نے پلٹ کر دیکھا تو آمنہ آپنے اسٹاف کے ساتھ لابی میں داخل ہو رہی تھی۔میڈم شہہ پارہ کے مداح سے آٹو گراف لینے میں مصروف تھے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آمنہ کی ساکھ بطور ہیروئن پھر سے بحال ہوچکی تھی۔جانے یہ آٹو گراف لینے والے مداح بعد میں اس آٹو گراف کی سینت سنبھال کر بھی رکھتے ہوں گے یا پھر وقت گزرنے کے بعد یہ یادیں بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہوجاتی ہوں گی۔آمنہ کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ سب سے معزرت کر کے میری طرف چلی آئی ۔۔
ارے پری زاد۔۔۔تم۔۔۔۔؟کیا کوئی میٹنگ وغیرہ ہے؟
نہیں ۔۔خود سے چھپنے کے لیے یہاں آبیٹھا ہوں۔میرا جواب سن کر وہ خاموش سی ہوگئی کیوں ملاتے رہتے ہو خود کو ہمیشہ؟۔کب تک جلتے رہو گے۔۔یہ دنیا تمہارے اندر کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔پلیز کود کو اس دنیا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرو۔۔میں دھیرے سے مسکرایا ۔۔گویا منافقت کا درس دے رہی ہو۔۔نہیں پری زاد نہیں ۔۔مگر یہ دوغلاپن ہماری فطرت بن چکا ہے۔کمالی صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ تم ہمارے ساتھ کینیڈا نہیں چل رہے ہو۔۔کہا کوئی پریشانی ہے۔۔؟
میں نے بات ٹال دی۔۔نہیں۔ ۔تم لوگ پہنچو۔۔میں بعد میں آجاو گا اور سنو مجھے یقین ہے کہ یہ فلم تمہارے کیریئر کی بہترین فلم ہوگی۔۔لیکن وعدہ کرو۔۔سپرہٹ ہوجانے کے بعد پہلا آٹو گراف میرے لیے ہوگا۔۔
وہ ہنستے ہنستے رو پڑی۔۔مت کیا کرو ایسی باتیں۔۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہے اور اگر میرا بس چکے تو ساری دنیا کو تم سے آٹو گراف لینے بھیج دوں۔۔میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ میں تمہاری کتنی احسان مند ہوں پری زاد ۔
میں نے شکوہ کیا۔پھر وہی احسان کی بات۔؟کتنی بار تمہیں سمجھاوں کے دوستی میں احسان نہیں ہوتا آمنہ کی آنکھیں ابھی تک نہ تھیں۔تم نہیں جانتے پری زاد۔مجھ جیسے لوگ جو زندگی میں ان گنت سمجھوتے کرکے یہاں تک پہنچتے ہیں۔ان کے لیے کسی کا یہ بے لوث رویہ دنیا کے کسی بھی احسان سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔کھبی کھبی ہمارے ضمیر کو عمر بھر کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ بدلے میں ہم اپنے محسن کے لیے کچھ بھی نہیں کر پائے۔یہ احسان بڑا بے سکون کر دینے والا ہوتا ہے ۔۔۔
آمنہ کے جانے کے بعد میں بہت دیر تک بے مقصد وہیں بیٹھا رہا۔میں نے اپنا موبائل خاموش کر دیا تھا۔بے خیالی میں میری نظر پڑی تو کمالی اور عینی سمیت بہت سے لوگوں کی کالز دکھائی دیں۔عجیب عذاب نماشے ہے یہ سیل فون بھی۔
ہر وقت کسی کی دسترس میں رکھتا پے کسی مضبوط شکنجے جیسا۔دفتر پہنچا تو پی اے نے بتایا کہ عینی بی بی کا درجنوں بار فون آچکا ہے۔اس نے بنا پوچھے فون ملا دیا وہ مجھ سے روٹھی ہوئی تھی۔
کہاں چلے جاتے ہو آپ یوں بنا بتائے۔۔چار پانچ دن بعد میرئ روانگی ہے اور آپ ہیں کہ مجھے وقت ہی نہیں دے رہے۔۔یاد رکھیں پری زاد۔۔اگر آپ وقت پر نیو یارک نہ پہنچے تو میں آپریشن نہیں کرواوں گی۔۔اور اسے دھمکی مت سمجھیے گا
نہ چاہتے ہوئے بھی میرا لہجہ کچھ تلخ سا ہوگیا۔نہ ہوا کرو میرے لیے اتنا پریشان مجھ جیسے بے مول انسان کی اتنی فکر مت کیا کرو۔۔اور بہت لوگ ہیں یہاں تمہاری توجہ کے قابل۔۔
عینی روہانسی ہوگئی ۔کیوں ۔ کیا مجھے آپکے لیے فکر کرنے کا اور پریشان ہونے کا بھی کوئی حق بھی نہیں ہے۔۔ٹھیک ہے میں کہیں نہیں جارہی۔۔
اس نے فون رکھ دیا اور پھر شام تک وہ بڑی مشکل سے مانی۔جب انسان خود سے ہی روٹھا ہوا ہو تو اسے کسی دوسرے کو منانا کتنا مشکل ہوجاتا ہے اس بات کا احساس مجھے اس روز ہوا۔تیسرے دن فلم یونٹ کینیڈا روانہ ہوگیا۔میری بے چینی بھی اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔میرے اندر پلٹا نیا پری زاد مجھے دن بھر کچوکے لگاتا رہتا تھا
رقیب سے رقابت اور دشمن سے دشمنی کی جاتی ہے اور تمہاری محبت کو تم سے چھین کر لے جانے والا تمہارا دشمن نہیں تو اور کیا ہے۔ابھی بھی وقت ہے پری زاد۔۔عینی کا آپریشن کروانے میں اتنی جلدی نہ کرو۔۔پہلے اس عدنان نامی کانٹے کو نکل جانے دو ۔۔۔کاش عینی کو کھبی بینائی ہی نہ مل پائے پری زاد کے لیے تو اس اس کی کومل روح کی چاندنی ہی کافی ہے عمر بھر اجالا کرنے کے لیے ۔۔اس کی بینائی کی ضرورت تو اس رقیب کو ہے۔۔اور رقیب کی خواہش پوری کرنے والا احمق اس دنیا میں کون ہوگا ۔۔؟؟
میں نے اس کی تکرار کی گونج سے سے درد سر پھٹتے سر کو تھام لیا۔اسی وقت کبیر خان کسی کام سے دفتر میں داخل ہوا تو میرا زرد چہرہ اور پسینے سے شرابور وجود دیکھ کر گھبرا گیا۔۔
کیا ہوا صاحب۔۔سب خیر تو ہے۔۔۔؟
اور شاید ٹھیک وہی لمحہ تھا جب میں اپنی برداشت کی حدیں پار کر گیا۔۔کبیر خان ادھر تمہارے علاقے میں اگر کوئی تمہاری محبت چھین کر لے جائے تو تم کیا کرتے۔۔؟
ہم اس کا قتل کردے گا صاحب۔۔۔ہمارے علاقے میں محبت اور غیرت کے نام پر مار دینا عام بات ہے ۔۔۔
میں نے اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لیں۔۔کوئی میری محبت چھین کر لے جارہا ہے خان اس کو بھی ختم کر دو ۔۔۔کبیر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک گیا۔تم صرف اس کا نام بولو صاحب چوبیس گھنٹے میں وہ اس دنیا سے چکا جائے گا میں نے ایک کاغذ کے روقعے پر عدنان کا نام اور پتہ لکھ کر کبیر کے حوالے کردیا۔
یہ لڑکا آج کل زیادہ تر عینی بی بی کے گھر پر ہی رہتا ہے۔۔دھیان رہے ۔۔یہ کام تب ہونا چاہیے جب وہ لڑکا تنہا ہو۔۔
کبیر نے سر جھکایا۔۔آپ فکر مت کرو صاحب۔۔ہم سمجھ گیا
کبیر کسی اچھے وفادار کی طرح زیادہ سوال جواب کیے بغیر ہی واپس چکا گیا۔میرے سینے پر رکھا ایک بھاری پتھر ہٹا تو ضمیر کے بوجھ کی دوسری بڑی اور اس سے بھی بھاری سل وجود کو کچلنے لگی۔یہ ہم جیسوں کا ضمیر اتنا زندہ دل کیوں رہتا ہے؟۔یہاں تو لوگ پل بھر میں سینکڑوں گھر اجاڑ دیتے ہیں اور پلٹ کر ذرا دیر کو رک کر دیکھتے بھی نہیں۔میں تو پھر بھی صرف اپنے دل کا آنگن آباد کرنا چاہتا تھا۔کب چاہا تھا میں نے کے ایسا ہو۔۔؟۔مگر ایسا کو رہا تھا تو اس میں میرا کیا قصور تھا۔؟۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ضمیر ہمیں گناہ کرنے سے روکتا نہیں۔صرف گناہ کا مزہ کرکرا کردیتا ہے۔میں تو وہ بے ہنر تھا کہ نیکی کو نیکی کی طرح ادا کرسکا اور نہ گناہ کو گناہ کی طرح نبھا پایا ۔کیونکہ گناہ ہو یا پھر ثواب دونوں کے لیے بہرحال ظرف کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔۔
شام کو دفتر نکلنے سے پہلے مجھے عینی کا پیغام ملا کہ وہ بیرون مللک روانگی سے قبل اپنے مجسموں کی ایک نمائش رکھ چکی ہے۔جا کا آج افتتاح تھا۔لہذا میں دفتر سے سیدھا شہر کی بڑی آرٹ گیلری پہنچ جاوں۔مجھے لگا جیسے عدنان کو راستے اے ہٹانے میں قدرت خود میری مدد کرنا چاہتی ہے عینی بہت دیر تک اپنی مصروفیت میں الجھی رہے گی اور کبیر خان کو وار کرنے کا موقع بھی مل سکتا تھا ۔میرے سارے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگیں۔جرم کی اپنی ایک کشش ہوتی ہے اور جب کوئی ناداں جرم کرنے کی ٹھان لے تو پھر یہ نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔اور شاید دنیا کے ہر گناہ کے پیچھے یہی فلسفہ کار فرما رہتا ہے۔۔۔
آرٹ گیلری لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔کمالی بھی دفتر سے عینی کی دعوت پر میرے ساتھ چلا آیا تھا
وہاں پہنچ کر پتا چکا کہ تقریب کا مہمان خصوصی بھی مجھے ہی مقرر کیا گیا ہے۔میں نہ نہ کرتا رہ گیا مگر جھٹ فیتہ کاٹنے والی قینچی میرے ہاتھ میں تھما دی گئی۔فیتہ کٹا تو تالیوں کی گونج میں ہم اس حال میں داخل ہوگئے جہاں عینی کے بنائے ہوے بہت سے فن پارے رکھے گئے تھے میں نے چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا مگر عدنان کہیں نہیں دیکھائی دیا۔نہ ہی میرے دل کے چور نے مجھے اس بات کی اجازت دی کے میں عینی سے اس کے بارے پوچھ سکوں۔۔
اس لڑکی کی انگلیوں کا ہنر سارے ہال میں بکھرا ہواتھا اور اس کے فن کے جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔لوگوں نے جی بھر کر اسے داد دی۔مغرب کے بعد باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا تو میں نے کبیر خان کو ہال سے باہر جاتے ہوے دیکھا میں اپنے ہی خیالوں میں گم سم کھڑا تھا کہ ایک بنی ٹھنی سی لڑکی ایک پختہ عمر عورت کے ساتھ میرے قریب آکھڑی ہوئی…
کیسے ہیں پری زاد صاحب۔۔کھبی ہم غریبوں کو بھی یاد کر لیا کریں آپ نے شہہ پارہ کے بعد کسی اور فلمی ہیروئن کو دیکھا تک نہیں۔۔میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔کمالی نے جلدی سے تعارف کروایا سر یہ میڈم زارا ہیں شہہ پارہ کی ٹکر کی ہیروئن ہیں ۔۔
زارا نے انکساری سے سر جھکایا۔۔۔کہاں جی۔۔۔شہہ پارہ کی ٹکر کی ہوتی تو آج میں بھی پری زاد صاحب کی فلم میں کاسٹ ہوتی مگر انہوں نے تو پلٹ کے پوچھا تک نہیں کوئی اور موقع ہوتا تو میں شاید اس کی بات اطمینان سے سننتا مگر اس وقت میرا سارا دھیان کبیر اور عدنان کی طرف لگا ہوا تھا۔میں نے جان چھڑانے کے لیے کہاں ۔اگر میں نے دوسری فلم اناوس کی تو آپ کو ضرور موقع دوں گا۔فی الحال میں کسی اور الجھن میں ہوں۔۔معاف کیجیے گا۔
کمالی نے میرے ہٹنے کے بعد جانے بار سنبھالنے کے لیے اس حسن بے پرواہ کا کیا کہا۔میں ہٹ کر ایک جانب کھڑا ہو کر بظاہر کوئی فن پارہ دیکھنے لگا۔کچھ دیر بعد کمالی ہاتھ میں ایک تعارفی کارڈ لیے میری طرف آگیا ۔۔
سر یہ زارا نے اپنا کارڈ دیا ہے۔اور اس کے پیچھے اپنا خاص ذاتی نمبر بھی لکھ دیا ہے اس نے۔اس کی ماں نے بھی خواہش ظاہر کی ہے کہ کھبی اس کے ساتھ ڈنر وغیرہ کریں
میں نے کارڈ دیکھ کر بے پرواہی سے کمالی کے حوالے کردیا۔وہ کچھ حیران ہوا تم جانتے ہو کمالی۔مجھے ایسے لوگوں اسے ملنے کا کھبی کوئی شوق نہیں رہا۔حسن جب خود اپنی قیمت لگانے ہر تل جائے تو بیک وقت اس سے زیادہ گراں اور ارزاں جنس زمانے میں کوئی دوسری نہیں ہوتی۔۔
کمالی مسکرایا۔یہ آپ ہی ہیں جو جنس کو ارزاں سمجھ رہے ہیں سر۔ورنہ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت بھی شہر بھر کے امراء اسی زارا کے ساتھ لنچ یا ڈنر پر ذرا سا وقت گزارنے کے لیے جانے کیا کیا جتن کرتے ہوں گے۔میں تو یہ کہوں گا سر کہ جب حسن اپنی قیمت لگانے پر آجائے تو اس سے مہنگی چیز دنیا میں کوئی اور ہو نہیں ہوتی۔۔۔
میں نے سر جھٹکا۔وہ حسن ہی کیا جو بک جائے
ٹھیک کہتے ہیں آپ سر۔مگر بات اگر سودے بازی کی ہو تو حسن کے پاس دان کرنے کے لیے سب سے بڑا عطیہ حسن ہی ہوتا ہے۔شاید آپ جسے بہت مقدس جنس سمجھتے ہیں زارا جیسی ادا۔ فروش کے ہاں وہی سب سے آسان سودا ہے ۔اپنی اپنی سوچ کی بات ہے سر۔۔کسی کے لیے دولت کے انبارردی کے کاغذ کے ٹکڑوں جیسے ہیں تو کسی کے لیے حسن اور ادا اسی ردی کا نعم البدل۔۔اتنے میں دوسرے ہال سے سپیکر پر تقریب شروع ہونے کا علاج کیا گیا۔سارے مہمان اپنی نشتوں ہر بیٹھ چکے تھے۔میں پہلی رو میں اپنے نام والی نشت پر بیٹھا تو اچانک میری نظر اسٹیج کے پیچھے اپنے کاموں میں مصروف عدنان پر پڑی۔۔۔
میں نے بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا رو کبیر خان مجھے ہال کے دروازے ہر جما کھڑا نظر آیا۔میری اس سے نظر ملی تو اس نے آنکھوں آنکھوں میں مجھے مطمعین رہنے کا اشارہ کیا۔جیسے کہہ رہا ہو کہ آپ فکر نہ کریں صاحب۔آپ کا غلام موجود ہے یہیں۔میں نے عینی کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کسی صورت بھی مجھے اسٹیج پر آکر کچھ کہنے کا نہیں کہے گی کیونکہ میری طبعیت اس وقت اجازت نہیں دے رہی۔لہذا تقریب کی اناونسر نے سب سے پہلی میری طبعیت کی خرابی کا بہانہ کر کے میری طرف سے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا پھر ایک ایک کر کے تقریب میں موجود متعلقہ فن کے ماہرین کو ڈائس پر بلایا جاتا رہا اور وہ عینی کے فن کے بارے میں اپنی رائے دے کر پلٹتے رہے۔میں اپنے خیالوں مین گم بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب کوئی میرے قریب آکر بیٹھ گیا۔۔
کن خیالوں میں گم ہیں پری زاد صاحب۔۔
میں عدنان کی آواز سن کر اچھل ہی پڑا مجھے لگا جیسے اس نے میرے خیالات پڑھ لیے ہوں۔مگر وہ اپنی دھن میں بولے گیا۔آپ جانتے ہیں پری زاد۔عینی بہت خوش ہے جانے کیا کیا منصوبے بناتی رہتی ہے سارا دن کہ جب اس کی بینائی واپس آجائے گی تو وہ ایک بار پھر سے میرے ساتھ اپنے بچپن کے اسکول محلے گلی سڑکوں اور گھر کو دیکھنے جائے گی اور ہر وہ جگہ جہاں اس کی کوئی یاد جڑی ہے
لیکن ہر جگہ آپ ہمارے ساتھ ہوں گے۔۔اس معصوم لڑکی نے اپنی زندگی کے کتنے سال اندھیروں میں کاٹ دیے۔میں نے بھی تہہ کر لیا ہے کہ میرے رب کی مہربانی سے جب عینی کئ بصارت واپس آجائے گی تو اس کے نصیب کے اندھیرے روشنی میں بدل دوں گا۔اور یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوگا پری زاد صاحب۔اصل میں یہ آپ ہی ہیں جو ہم دونوں کی زندگی میں ضیاء بن کر آئے ہیں ۔۔
میں گم سم عدنان کی باتیں سن رہا تھا کہ اسٹیج پر سب سے آخری عینی کا نام پکارا گیا۔ہال میں تالیوں کی گونج کے دوران وہ دھیرے دھیرے چلتی اپنی کسی ساتھی کے سہارے ڈائس تک پہنچی تو سناٹا سا چھا گیا۔وہ بولی میرے آس پاس صرف اس کے لفظ اپنے سر بکھیرنے لگے۔
آج میری زندگی کا بہت بڑا دن ہے۔اس لیے نہیں کہ آج میرے فن پاروں کی نمائش ہوئی اور ملک کے نامور فن کاروں نے میرے فن کو سراہا۔یہ مداح سرائی تو مجھ جیسی ہر نئی آرٹسٹ کا جواب ہوتی ہے۔مگر ان سب باتوں سے بڑھ کر بھی ایک خوشی ہے۔ایک اعزاز میرے لیے کہ میرے محسن میرے آئیڈیل نے آج میری زندگی کے اس اس اہم یونٹ کا افتتاح اپنے ہاتھوں سے کیا۔آج میں آپ سے اپنی ایک اور اہم خوشی بھی بانٹنا چاہتی ہوں۔تین دن بعد میری ہو ایس اے کی روانگی ہے۔چند ماہ بعد جب میں واپس آوں گی تو شاید اس وقت مجھے اس سفید چھڑی کے سہارے کی ضرورت کھبی محسوس نہیں ہوگی اور یہ سب میرے اس محسن کی دوستی کا کرشمہ ہوگا۔ہماری زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جن سے قدرت ہمارے نصیب کے سارے تار جوڑ دیتی ہے۔میری زندگی میں پہلے ایسے دو لوگ تھے میری ماں اور میرے بچپن کا ساتھی عدنان۔۔۔جس نے ہر قدم پر میرا حوصلہ بڑھایا اور مجھے جینے کی راہ دیکھائی مگر اب کوئی اور بھی ہے جو میری خوشیوں کا ضامن ہے۔جس کے ہوتے ہوئے مجھے پورا یقین ہے کہ غم کھبی میرے آس پاس بھی بھٹک نہیں سکتا کیونکہ کچھ لوگوں کا وجود ہی ہمارے اندر روشنی بھر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔۔اور آج آپ لوگ جو میرے اردگرد یہ خوشیوں کا بہاو دیکھ رہے ہیں یہ سب اسی عظیم ہستی کی دیں ہے وہی جو میرے محسن میرے آئیڈیل اور دنیا سب سے زیادہ محترم ہیں میرے لیے سارا ہال عینی کی تقریر ختم ہونے پر تالیوں سے گونج اٹھا اور بہت دیر تک شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔لیکن ہال کے اس شور دے کہیں زیادہ شور اور چیخ و پکار خود میرے اندر مچی ہوئی تھی مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا بہت حقیر محسوس ہورہا تھا۔میرے اندر لگے آئینے میں دوسری جانب کھڑا پری زاد مجھ سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ۔۔۔
تم ایک خود غرض انسان ہو پری زاد۔۔کیا یہی تمہاری نام نہاد محبت ہے کہ خود اپنے ہاتھوں اپنی چاہت کی خوشیوں کا گلہ گھونٹنے چلے ہو۔۔کتنے کم ظرف ہو تم اور کتنی اعلی ظرف ہے وہ کہ تمہیں اتنا ماں دیتی ہے۔۔۔مگر تم ۔۔۔؟؟
اس ماں کے قابل کہاں۔۔۔تم بھی وہی عام دنیا دار نکلے پری زاد خود غرض اور مطلب پرست۔۔جتنا تمہارا تن میلا ہے اتنا ہی تمہارا من۔۔۔یہی تمہاری اصلیت اور یہی تمہاری اوقات ہے پری زاد۔۔۔
میرے اندر کی آوازیں اتنی بلند ہونے لگیں کی میں گھبرا کر کانوں پر ہاتھ لکھ لیے۔اور ٹھیک اسی لمحے کی ملائم آواز سنائی دی۔۔
پری زاد کہاں چھپے بیٹھے ہیں آپ۔۔؟میں آپ کو سارے ہال میں ڈھونڈتی پھر رہی ہوں۔۔آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے ناں
میں نے گھبرا کر عینی کی طرف دیکھا۔تقریب ختم ہوچکی تھی اور لوگ ایک ایک کر کے عینی کو کامیاب نمائش پر مبارک باد دے کر واپس پلٹ رہے تھے۔۔
ہاں۔۔ہاں ٹھیک ہوں۔۔یو ہی بس ذرا بھیڑ میں جی گھبرارہا تھا۔تم بتاو ۔۔تم خوش تو ہو ناں۔۔آج تم نے یہ معرکہ بھی سر کر ہی لیا۔
عینی ہنس پڑی وہ بہت ہلکی پھلکی لگ رہی تھی۔جناب یہ سارے معرکے آپ کی وجہ سے سر ہو رہے ہیں۔پتہ ہے عدنان تو مجھے کہتا ہے کہ آپ میری زندگی میں لکی چارم بم کر آئے ہیں۔وہ کیا کہتے ہیں اسے آپ کی شاعرانہ گفتگو میں ۔۔
خوش نصیبی کا ستارہ ۔۔..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: