Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 26

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 26

–**–**–

عدنان کے ذکر پر جیسے مجھے سب کچھ دوبارہ یاد آگیا اور میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا مگر یہ عدنان ہے کہاں۔دکھائی نہیں دے رہا۔۔
عینی مسکرائی پتہ نہیں ۔۔کہہ رہا تھا مجھے کوئی سرپرائز دینا چاہتا ہے۔شاید کسی کام سے اسی سلسلے میں باہر گیا ہے بس آتا ہوگا۔۔
میرے ہوش اڑ گئے عدنان تنہا باہر نکل چکا تھا۔میں نے جلدی سے گھڑی پر نظر ڈالی رات کے دس بج رہے تھے میں نے عینی کو وہی رکنے کا کہا اور جلدی میں باہر کی جانب لپکا۔میرے سارے خدشے شاید آج ہی سارے درست ثابت ہونا تھے۔میری گاڑی کے قریب میرا ڈرائیور اور گھر کا دوسرا گارڈ مستعد کھڑے تھے۔میں نے پڑ بڑائے ہوئے لہجے میں ان سے پوچھا۔۔کبیر خان کہاں ہے۔۔
ڈرائیور نے ادب سے جواب دیا کہ وہ کسی ضروری کام کا کہہ کر ظاہر نکلا ہے۔میرے ساتھ جانے کے لیے اس نے گھر سے دوسرا گارڈ طلب کر لیا تھا۔اس گارڈ نے مجھے بتایا کہ کبیر خان کسی پرائیوٹ گاڑی میں باہر نکلا ہے۔میرے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔یقینا کبیر خان عدنان کے پیچھے گیا تھا تاکہ موقع پا کر اسے ختم کردے۔میں نے کانپتے ہاتھوں سے کبیر کا نمبر ڈائل کیا۔گھنٹی بجتی رہی مگر اس نے فون نہیں اٹھایا میں نے جلدی سے دوبارہ نمبر ملایا۔میرے اندر سمندر کی تیز لہروں جیسا شور ٹھاٹھیں مار رہا تھا فون اٹھاو کبیر خان۔۔۔ورنہ آج ہم دونوں کے ہاتھوں ایک گناہ کبیر سرزد ہوجائے گا۔۔فون اٹھاو کبیر۔۔خدا کے لیے فون اٹھاو ۔۔
میں نے خود کلامی کرتے ہوے پانچویں مرتبہ کبیر کا نمبر ڈائل کیا۔تیسری گھنٹی پر اس نے فون اٹھا لیا۔۔میری آواز خانہ گئی تم کہاں ہو کبیر خان۔۔جلدی واپس لوٹ آو ۔۔
دوسری جانب ٹریفک کا بہت شور تھا ہم شکار کے پیچھے آیا ہے صاحب۔۔تم فکر مت کرو وہ اس وقت ٹھیک ہمارے نشانے پر ہے۔۔
میں نے چیخ کر کہا ۔۔نہیں کبیر خان ۔۔ایسی غلطی مت کرنا
میرا حکم ہے فورا واپس آجاو دوسری جانب کبیر خو میری آواز ٹھیک سنائی نہیں دی۔بہت شور ہے صاحب ہم کام ختم کرتے ہی واپس آتا ہے۔۔وہ لڑکا دوسرا گاڑی میں ہمارا نشانے پر ہے بس ایک منٹ اور کبیر کی آواز کت گئی میں اتنی زور سے چلایا کہ ساری پارکنگ میری آواز سے گونج اٹھی تم اس لڑکے کو نہیں مارو گے کبیر خان۔۔یہ میرا حکم ہے ۔۔میری آواز درمیان میں ہے کٹ گئی دوسری جانب کے شور میں مجھے ایک دھماکے کی آواز سنائی دی۔شاید کسی نے فائر کیا تھا میرے ہاتھ دے فون زمین پر گرگیا۔۔
میں سر پکڑ کر وہی زمین پر بیٹھ گیا۔کچھ لمحوں کے لیے ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا۔پھر اچانک مجھے یوں لگا جیسے قریب پڑے میرئ سیل فون سے ابھی تک کبیر خان کی آواز آرہی ہو۔۔میں نے جلدی سے فون اٹھایا دوسری طرف وہی تھا کیا ہوا صاحب۔۔۔اس طرف بہت شور تھا۔۔ابھی بولو
میں چلا کر کبیر سے پوچھا۔کیا تم نے اسے مار دیا کبیر
نہیں صاحب۔۔ادھر سگنل پر وہ بالکل نشانے پر تھا۔۔مگر چوک پر کوئی حادثہ ہوگیا اس لیے رش جمع ہوگیا مگر ہم اس کے پیچھے ہیں۔کسی سنسان سڑک پر میری آواز بیٹھ گئی۔۔نہیں کبیر خان۔۔تم واپس آجاو
کبیر نے احتجاج کیا مگر صاحب۔۔میں نے غصے میں چیخ کر کہا یہ میرا حکم ہے۔۔فورا واپس آو ۔۔
ٹھیک ہے صاحب۔کبیر نے فون کاٹ دیا میں اس طرح گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔جیسے میلوں دور بھاگ کر آیا ہوں۔پھر مجھ سے وہاں ٹھہرا نہیں گیا اور میں گھرچواہس لوٹ آیا اور خود خو کمرے میں بند کر کے اندھیرے کے حوالے کر دیا آج میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور آخری بازی ہار کر آیا تھا۔کچھ بھی نہیں بچا تھا میرے پاس۔۔میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں تجوریوں میں بھری اپنی ساری دولت کو اسی عالی شان گھر کے صحن میں جمع کر کے اپنے ہر اثاثے سمیت جلا کر راکھ کر دوں۔آگ لگا دوں اس ساری جائداد اور شان و شوکت کو۔۔۔کا کام کا تھا یہ سب کچھ میرے؟
اتنا لمبا سفر طے کرنے کے بعد بھی میرے دل کا دامن آج بھی اسی پری زاد کی طرح تہی دست اور خالی تھا جو کھبی اسی شہر کے ایک کچے مکان میں رہا کرتا تھا۔کسی نے ٹھیک ہی کہاں تھا کہ دل کی ویران خالی بستیاں مقدروں سے بسا کرتی ہیں۔اور میرے نصیب میں میرے من کی یہی سونی حویلی لکھی تھی۔لیکن اب میں اپنے اس دشمن دل کی مزید کسی چال میں آنے والا نہیں تھا۔بہت من مانیاں کر چکا تھا یہ اپنی بڑی ذلت اور خواری اٹھائی تھی آج تک میں نے اس دل کے کہنے میں اکر۔مگر اس وحشی دل کو سزا دینے کا وقت آچکا تھا اور مجھ جیسے دل جلے جب خود کو سزا دینے پر آتے ہیں تو وہ سزا بڑی سخت ہوتی ہے۔اگلے روز میں نے ایک پاور آف اٹارنی کے ذریعے کچھ ایم فیصلے کیے۔اپنے تمام پھیلے ہوے کاروبار اور عملے کو ایک ٹرسٹ کے زیر اہتمام کر کے سب کے حصے مقرر کردیے۔میری آمدنی کا ایک بیت بڑا حصہ اسی ٹرسٹ کے زیر اہتمام ڈاکٹر پال کے پلاسٹک سرجری کے ادارے کو جاتا تھا۔میں نے ڈاکٹر پال خو آخری ای میل لکھی ۔۔
محترم ڈاکٹر پال۔۔میں نے اپنی پلاسٹک سرجری کا ارادہ ملتوی کردیا ہے۔۔کیونکہ آپ ہی کے ادارے کی تعارفی اگر کے مطابق یہ بات بالکل درست نکلی کہ چہرے بدلے جا سکتے ہیں۔تقدیر نہیں۔۔اور شاید مجھے اس بات کا احساس بہت دیر میں ہوا کہ مجھے اپنی تقدیر بدلنے کی ضرورت چہرہ بدلنے سے کہیں زیادہ تھی۔۔مگر افسوس۔میں کسی ایسے ادارے کو نہیں جانتا جو اللہ سے سفارش کر کے میری تقدیر بدل ڈالتا ۔۔میرے ادارے کی آمدنی سے ایک بڑا حصہ پر ماہ آپ کے ادارے خو ملتا رہے گا میری درخواست ہے کہ آپ یہ رقم ان لوگوں کے مفت علاج پر صرف کیجیے گا جو اپنی سرجری کروانا چاہتے ہیں مگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔میری آمدنی کا دوسرا بڑا حصہ میرے اپنے مللک میں ایسے پلاسٹک سرجری کے اداروں کو جائے گا جو یہاں کے نادار مریضوں کے چہروں کا علاج کریں گے اور پوری سہولیات نہ ہونے کی صورت میں وہ ایسے لوگوں آپ کے ادارے تک پہنچائیں گے۔میرا اسٹاف آپ کے ادارے کو یہاں کے اداروں سے منسلک کروادے گا۔۔یہ میری آخری ای میل ہے کیونکہ اس کے بعد میں خود خو اس دنیا کی بھیڑ میں کہیں گم کردوں گا۔اس لیے میں نہیں چاہتا کہ جس کے لیے میں اپنے چہرے کی سرجری کروا کر اسے خوشنما بنانا چاہتا تھا وہ کھبی میرے آس چہرے کو دیکھے اور اس کی آنکھوں میں میرے لیے حقارت یا ہمدردی کی وہ لہر پیدا ہو جو ازل سے میرا مقدر ہے۔اور اگر کھبی ایسا ہوا تو وہ لمحہ میرے لیے موت کی اذیت سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوگا۔میں ساری دنیا کی نظریں جھیل لیں مگر اس ایک نظر خو کھبی برداشت نہیں کر پاوں گا۔اپنا بہت خیال رکھیئے گا۔۔دعا گو پری زاد۔۔۔شام تک سارے کاغذات تیار ہوچکے تھے کمالی سمیت چند دیگر سینئیر اور وفادار عملے کے ارکان کو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کردیا گیا۔میرے بہن بھائیوں دوستوں رشتہ داروں اور عملے سمیت سبھی کے لیے ماہانہ مشاہرے کے علاوہ حصے کے طور پر ایک معقول رقم مخصوص کردی گئی میں نے کچھ ایسا انتظام کردیا تھا کہ میرے جانے کے بعد بھی سارا سلسلہ اسی طرح چلتا رہے۔جب کمالی کو میں نے رات گئے طلب کر کے ساری تفصیلات سے آگاہ کیا تو وہ ایک دم گھبرا گیا۔۔
مگر سر آپ کہاں جارہے ہیں۔۔؟اور معاف کیجیے گا سر۔۔یہ پاور آف اٹارنی کہیں زیادہ کوئی وصیت نامہ لگتا ہے۔میں آپ خو کہیں جانے نہیں دو گا۔۔اسٹاف سے یہ سب کچھ اکیلے نہیں سنبھلے گا سر…
میں نے اسے تسلی دی فکر مت کرو۔سب یونہی چلتا رہے گا اور میں کہیں نہیں جارہا۔بس اچانک کچھ ضروری مسائل ڈر پیش آگے ہیں اس لیے شاید کچھ عرصہ غیر حاضر رہوں گا اور یاد رہے میرے کہیں جانے تک یہ کاغذ تمہارے پاس امانت کے طور پر رہے گا۔مجھے یقین ہے کہ تم میرا یہ بھرم ضرور قائم رکھو گے۔۔
کمالی کی پلکیں بھیگ گئیں۔۔آخری سانس تک آپ کا بھرم نبھاوں گا۔مگر یہ تو بتا دیں کہ آپ کہاں جارہے ہیں۔۔؟
کھبی آپ سے رابطہ کرنا ہو تو کیسے کیا جائے ۔۔۔؟
فی الحال تو میرا خود اپنے آپ سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہے کمالی۔۔میں کوشش کروں گا کہ تمہیں مطلع کر سکوں اب تم جاو۔۔اور ہاں۔۔کبیر خان کا خاص خیال رکھنا ایسے وفادار بہت کم نایاب ہوتے ہیں۔۔
کمالی افسردہ دل میں بہت سی باتیں لیے واپس لوٹ گیا۔کچھ دیر میں کبیر خان آگیا۔وہ کچھ چپ چپ سا تھا۔میں نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔مجھ سے ابھی تک ناراض ہو کبیر خان؟۔۔کبیر نے جلدی سے کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔نہیں صاحب ہم آپ کے غکسم ہے۔۔مگر آپ نے اس ڈاکٹر کو معاف کر کے اچھا نہیں کیا دشمن پر رحم نہیں کھانا چاہیے کیونکہ جب اس کا وقت آئے گا تو وہ آپ پر رحم نہیں کرے گا۔۔
میں نے گہری سانس لی۔۔تم ٹھیک کہتے ہو کبیر خان۔۔مگر محبت شاید ہمیں بزدل بنا دیتی ہے۔کھبی کھبی محبت میں ہم ایسے لوگوں کو بھی بخش دیتے ہیں جو ہمارے قتل کا باعث بن جاتے ہیں۔۔اور اس جنگل نما دنیا کا نس یہی تو قانون ہے۔۔مار دو۔۔یا پھر خود مر جانے کے لیے تیار ہو جاو میں نے خود خو مار دیا کبیر خان ۔۔۔
کبیر سر جھکائے واپس چلا گیا۔اگلے دو دن بھی پر لگا کر اڑ گئے اور پھر عدنان اور عینی کی امریکہ روانگی کا دن بھی آگیا۔وہ دونوں بے حد خوش دیکھائی دے رہے تھے عینی کی اب بھی وہی ضد تھی۔میں تو کہتی ہوں آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔تین چار ہفتے میننسارے ٹیسٹ ہو جائیں گے اور پھر آپریشن کے بعد ہم سب اکھٹے واپس آجائیں گے۔کتنا مزہ آئے گا۔جب ہم تینوں وہاں ایک ساتھ ہوں گے۔۔ورنہ یہ عدنان تو اپنی بورنگ باتوں سے میرا سر کھا جائے گا اتنے بہت سے دن۔۔
میں نے وعدہ کیا تم لوگ پہنچو۔۔میں بھی جلد آنے کی کوشش کروں گ۔۔یہاں پیچھے بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں عدنان نے سر ہلایا۔۔کوشش نہیں جناب۔۔آپ کو اس بکی کے آپریشن سے پہلے ہر حال پہنچنا ہوگا۔اسے اکیلے برداشت کرنا خود میرے بس کی بات نہیں ہے۔ہاں البتہ آپ کی موجودگی میں کافی سوبر برتاو کرتی ہے عینی نے اسے گھورا۔بکومت۔۔پری زاد جانتے ہیں کہ میں کتنی سوبر اور ویل مینزڈ ہوں۔۔تمہاری گواہی کی ضرورت نہیں ۔۔
اتنے میں اندر سے ایک فلائیٹ کا اعلان ہونے لگا۔میں نے ان دونوں کو رخصت کیا ٹھیک ہے بابا۔۔تم دونوں ہی بہت سچجے ہو ۔۔۔چلو اب دیر نہ کرو۔۔فلائٹ کا اعلان ہوگیا ہے عینی جاتے جاتے ایک لمحے کے لیے پلٹی۔میرا دل بے قابو ہونے لگا وہ میرا سب کچھ لوٹ کر اپنے ساتھ لے جارہی تھی اس کی آنکھیں بھی بھیگ رہی تھیں۔۔
پری زاد۔۔وقت لر پہنچنے کی کوشش کیجیے گا۔۔میں وہاں روزانہ آپ کو یاد کروں گی سپنا بہت خیال رکھیئے گا ۔۔
میری آواز کپکپا سی گئی
مجھے یوں لگا جیسے میرا دل کسی نے مٹھی میں لے کر بہت زور سے مسل ڈالا ہو۔۔تم بھی ہمیشہ میری یادوں میں رہو گی میری پیاری آرجے۔۔الوداع
وہ ایک لمحہ رکی اور پلٹ کر اندر لاونج کی جانب بڑھ گئی میں بہت دیر تک ان لوگوں کی بھیڑ میں گم ہوتا ہوا دیکھتا رہا ۔۔اپنی زندگی کو اپنے قدم بہ قدم دور جانے کا یہ نظارہ شاید دنیا میں مجھ سے پہلے کسی بد نصیب نے نہ کیا ہو۔عینی چلی گئی۔میں جہاز کی اڑان بھرنے تک والی اناونسمنٹ تک وہیں بیٹھا رہا۔لوہے اور چند دیگر دھاتوں خس بنا ہوا ایک ریوہیکل ہوائی جہاز مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر بہت دور اڑان بھر گیا میں گھر واپس لوٹا تو آدھی رات ڈھل چکی تھی۔میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ گاڑی نکالے مگر کبیر خان کو اطلاع نہ کرے۔مجھے شاید کچھ دیر کے لیے کسی کام سے باہر جانا پڑے۔گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کر میں روز مرہ اور ماہانہ خرچوں کے کچھ چپک دستخط کیے اور کمالی کے نام ایک خط میں سارے معاملات کی تفصیل لکھ ڈالی۔فجر سے کچھ دیر قبل میں تنہا گھر سے باہر نکلا اور ڈرائیور کو میں نے ریلوے اسٹیشن چلنے کے لیے کہا۔عینی کے جانے کے بعد میرا دل دماغ جیسے بالکل سن سے ہوگئے تھے۔میں چل پھر ریا تھا سانس لے رہا تھا مگر میں زندہ کب تھا۔صرف سانس لینا پی زندگی کی شرط کیوں ٹھہرا دی گئی ہے؟۔۔
جیون تو اس سے کہیں بڑھ کر اور سوا ہے۔ڈرائیو کو باہر انتظار کرتے چھوڑ کر میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم ہر پہنچا تو کوئی گاڑی روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی میں نے بنا سوچے سمجھے آخری اسٹیشن کا ٹکٹ لیا اور درجہ بندی کے اہتمام کی فکر لیے بغیر پہلی بوگی میں سوار ہوکر ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر میں ٹرین نے سٹی بجائی اور پلیٹ فارم چھوڑ دیا۔مگر یادیں دماغ کا پلیٹ فارم بھلا کب چھوڑتی ہیں ۔۔
ٹرین اسٹیشن ڈر اسٹیشن ہوتی ہوئی جانے کہاں چلی جارہی تھی۔لوگ ڈبے میں سوار ہوتے اور اپنی منزل آنے پر اترتے رہے
مگر میری منزل کہاں تھی۔یہ میں بھی نہیں جانتا تھا۔دو دن بعد ٹرین کسی بڑے جنکشن پر آکر کھڑی ہوگئی اور سبھی مسافر اتر گئے۔۔پتہ چلا کہ یہ آخری اسٹیشن ہے۔اب اگلے دن یہی ٹرین یہاں سے واپس میرے شہر تک جائے گی۔کاش یہ ٹرین تمام عمر یونہی چلتی رہتی آگے بڑھتی رہتی اور اس کا کوئی آخری اسٹیشن نہ آتا۔کتنا ناداں تھا میں۔کیا سوچ کر اس ٹرین میں آبیٹھا تھا۔کہ میری باقی تمام عمر کا سفر اسی ٹرین میں کت جائے گا۔؟۔۔جب تیسری بار ٹرین کے عملے نے مجھے آ کر بتایا کہ اب یہ گاڑی آگے کہیں نہیں جائے گی تو میں نیچے اتر آیا اور کچھ فاصلے پر بچھے لکڑی کے ایک پرانے بینچ پر جا کر بیٹھ گیا۔دنیا کے سارے ریلوے اسٹیشن شاید ایک سے ہی ہوتے ہیں۔ناساز ٹھیک پی کہتا تھا منزلیں اپنی جگہ ہیں راستے آپنی جگہ۔جب قدم ہی نہ ساتھ دیں تو مسافر کیا کرے؟؟
یہاں پر موجود سبھی مسافر کوئی نہ کوئی منزل اور مقصد سفر رکھتے تھے۔ہر کسی کو کہیں جانے کی جلدی تھی بچے بوڑھے عورتیں اور مرد بھیڑ ہجوم اور بھانت بھانت کی بولیاں عجلت زادہ راہ اور راستوں کی فکر۔۔سبھی کسی نہ کسی دھن میں مگن تھے۔مگر میں بے حس بیٹھا اطمینان سے یہ سب دیکھتا رہا ۔۔شام ڈھلی اور پھر گہری رات بے ڈیرے ڈال دیے۔۔۔میرے پیچھے وہاں گھر میں ضرور طوفان آچکا ہوگا جب کئی گھنٹے انتظار کے بعد میں واپس نہیں لوٹا ہوں گا تو کبیر نے ضرور اسٹیشن کے باہر میرے انتظار میں کھڑے ڈرائیور سے رابطہ کیا ہوگا یا وہ اس سے بھی پہلے میری تلاش میں نکل چکا ہوگا۔اور پھر جب ان لوگوں نے مجھے اسٹیشن پر نہیں پایا ہوگا تو گھر میں کہرام مچ گیا ہوگا۔کمالی کو تو میرے جانے کا تھوڑا بہت علم تھا کبیر مگر ٹک کت بیٹھنے والا نہیں تھا۔وہ ضرور میری تلاش میں سب چھوڑ چھاڑ کر گھر سے نکل پڑا ہوگا۔۔کہیں وہ دوسری ٹرین پکڑ کر ہر اسٹیشن کھوجتا ہوا یہاں تک بھی نہ آپہنچے میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔گھر نکلتے وقت میرے کوٹ کی جیب میں پڑے بٹوے میں بہت سے بڑے نوٹ ابھی باقی تھے میں نے ٹکٹ گھر سے کسی دوسری مخالف سمت جاتی گاڑی کا ٹکٹ لیا اور صبع منہ اندھیرے اس گاڑی میں سوار ہو کر ڈبے سے باہر کی بھاگتی دنیا کا نظارہ شروع کردیا۔مجھے اپنے ماضی اپنے دل کی حماقتوں اور اپنی پرانی پہچان سے کچھ ایسی چڑ ہوگئی تھی کہ میں نے اگلے کئی دنوں تک اسی بے مقصد سفر کو اپنی ذات کھو دینے کا بہانہ بنالیا۔۔جہاں گاڑی رک جاتی میں وہاں سے کسی اور جانب کا کوئی ٹکٹ لے کر کسی اور گاڑی میں بیٹھ جاتا۔مجھے شہروں یا بستیوں کے ناموں سے کوئی غرض نہیں تھا نہ ہی میں نے اس عرصے میں کسی ریلوے پلیٹ فارم سے باہر نکل کر اس شہر بستی ہا گاوں کو نظر بھر دیکھا تھا۔۔میں تو بس چلتے رہنا چاہتا تھا میری شیو بڑھتے بڑھتے داڑھی کی صورت اختیار کرنے لگی تھی اور میرے کپڑے دھول اور ۔مٹی سے غرق ہو چکے تھے۔مگر اب مجھے کسی چیز سے کوئی غرض نہیں تھا جہاں بھوک ہا پیاس کا احساس ستاتا وہیں اتر کر کسی پلیٹ فارم پر لگے نلکے سے پیاس بجھا لیتا اور کسی ٹھیلے والے سے کچھ کے کر کھا لیتا…😭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: