Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 27

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 27

–**–**–

مجھ پر ایک عجیب سی حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ اسی دو گھونٹ پانی اور چار لقموں کے لیے ہم اپنی زندگیوں کو عمر بھر نہ جانے کیسے کیسے عذاب اور جوکھم میں ڈالے رکھتے ہیں۔جب کے ان دونوں چیزوں کا حصول کھبی اتنی زندگی کا طلب گار نہیں ہوتا جتنی زندگی ہم اس بھوک اور پیاس کے لیے گنوا دیتے ہیں۔رفتہ رفتہ میری جیب میں موجود رقم ختم ہونے لگی اور پھر ایک دن جب کسی قصبے کے چھوٹے اسٹیشن پر میں نے جیب میں ٹکٹ لینے کے لیے پیسے نکالنا چاہے تو میرے ہاتھوں میں صرف چند سکے آگئے
میں نے الٹ پلٹ کر ساری جبییں دیکھ لی مگر کچھ ہاتھ نہیں آیا۔میں تھکا ہارا سا اسٹیشن سے باہر آگیا۔دور ایک تانگے والا درخت کے سائے میں کھڑا اپنے گھوڑے کو چارہ ڈال رہا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ جلدی سے میری جانب لپکا۔کہاں جاو گے بادشاہو۔۔اس علاقے کے تو نہیں لگتے۔
میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سارے سکے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔۔جہاں تک یہ سکے لے جاسکتے ہیں۔۔لے چلو۔۔اس بستی سے پرے۔۔کسی ویرانے میں ۔۔۔
تانگے والے نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔۔بستی سے پرے تو قبرستان ہے۔۔اوہ اچھا اب سمجھا۔۔کسی بڑے بوڑھے کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آئے ہو۔۔او بیٹھ جاو۔۔میں پہنچا دیتا ہوں
میں چپ چاپ تانگے کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور تانگے والے نے قصبے کے باہر سے ہی ایک لمبا چکر کاٹ کر ایک بڑے سے قبرستان کی چار دیواری کے باہر تانگہ روک دیا۔۔
واپس جاو گے۔۔۔میں یہیں انتظار کرو گا۔۔
میں خالی ذہن لیے نیچے اتر آیا ۔۔نہیں تم جاو میں دیر تک یہاں رکوں گا۔۔
تانگے والے کے چہرے پر ایک بار پھر بہت سارے سوال ابھرے مگر میرا بے زار سا روایہ دیکھ کر اس نے مجھ سے مزید کوئی بات نہیں کی اور چابک مار کر تانگہ موڑ لیا اور کچھ دیر بعد میں ہی ویران سڑک کے اس پاس بکھرے کھیتوں میں کہیں گم ہوگیا۔میں کچھ دیر تک یونہی باہر کھڑا سوچتا رہا اور پھر قبرستان کے لکڑی والے بڑے گیٹ کو دھکیل کر اندر داخل ہوگیا۔دور دور تک نئی اور پرانی قبروں کا ایک جال سا بچھا ہوا تھا۔میں قبروں کے کتبے اور ان پر لکھے سن وفات پڑھتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔کچھ تازہ قبروں پر اگر بتیوں کے جلے ہوئے ٹوٹے اور کچھ ماش کے دانے بکھرے ہوے تھے۔مرجھائے ہوے خشک پھولوں کی پتیاں جابجا بکھری ہوئی تھیں۔جانے لوگ مٹی میں چلے جانے والوں کے لیے اتنے پھول لے کر کیوں آتے ہیں۔اس زندگی میں ہی اسے گلابوں سے کیوں نہیں نہارتے۔چلتے چلتے تھک گیا تو ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور آنکھیں موندھ لیں۔ایک عجیب سی خاموشی چار سو پھیلی ہوئی تھی۔انسان کی عمر بھر کی فریاد اور چیخ و پکار کا صلہ با یہی ایک خاموشی ہے۔اچانک میرے بہت قریب ایک کرخت سی آواز ابھری۔۔
کون ہے بھی تو۔۔اور یہاں کیا کر رہا ہے۔۔
میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔۔ایک سخت گیر سا ہڈیوں کے ڈھانچے نما بوڑھا کمر پر ہاتھ رکھے تنا ہوا کھڑا مجھے گھور رہا تھا۔مجھ سے کوئی جواب نہیں بن پایا۔میں وہ دراصل۔۔۔اس نے کڑے تیوروں سے میری طرف دیکھا
کوئی قبر کھودوانی ہے کیا۔۔؟
نہیں نہیں میں تو بس اس نے مجھے دوبارہ سے پیر تک غور سے دیکھا اچھا۔۔میں سمجھا۔ ڈاکڑی کی پڑھائی والوں کے لیے قبروں سے ہڈیاں چرانے آئے ہو۔۔تو پھر کان کھول کر سن لے۔۔فقیر نام ہے میرا ۔۔میرے باپ دادا بھی اسی قبرستان کے گورکن تھے۔۔خبر دار یہاں سے ایک ہڈی بھی ادھر ادھر کی۔۔ہاں۔۔میرے ساتھ سیدھی طرح سودا کرے گا تو میں خود تیرے مطلب کی ہڈیاں تجھے بیچ دو گا۔۔
مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں اس کرخت طبعیت بوڑھے کو کیسے سمجھاوں کہ وہ مجھے جو سمجھ رہا ہے۔میں وہ نہیں ہوں۔۔میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔
نہیں۔۔میں یہاں مردوں کی ہڈیوں کی تلاش میں نہیں آیا تھک گیا تھا اسی لیے کچھ دیر کمر ٹکانے کے لیے رک گیا۔۔
فقیر نے مشکوک نظروں سے میری طرف دیکھا۔
کہیں تو اس چھوٹے قبرستان کے گورکن سلامے کا ساتھی رو نہیں ہے۔۔سچ بتا۔۔کس ارادے سے یہاں آیا ہے۔۔مجھے بھی غصہ آگیا اور میں نے سخت لہجے میں فقیر کو جھاڑ دیا۔تمہیں ایک بار کہی بات کی سمجھ نہیں آتی کیا۔میں کسی سلامے کو نہیں جانتا اور نہ ہی میرا تمہاری اس قبروں کی جگیر پر قبضے کا کوئی ارادہ ہے۔۔میں مسافر ہوں۔۔بس راہ بھٹک کر اس طرف آگیا۔۔سوچا تو شاید یہاں کچھ سکون ملے گا مگر یہاں تم جیسے بیوپاری ٹھیکے دار ملیں گے ایسا کھبی نہیں سوچا تھا میں نے جانے کے لیے قدم بڑھائے۔پیچھے سے فقیرے کی ڈھیلی سی آواز سنائی دی ۔۔
ذرا رک تو سہی۔میں نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔معاف کردے دراصل پچھلے چند دنوں سے یہ سارے گدھ میرے قبرستان پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔۔ایک عامل کو بھی بھیجا تھا لوگوں کو ڈرا کر بھگانے کے لیے۔اس لیے میں سمجھا کہ پھر انہی کی کوئی شرارت ہے۔۔نام کیا ہے تیرا اس علاقے کا تو نہیں لگتا مجھے جلدی میں کوئی نام نہیں سوجھا تو میں نے اپنے پرانے ڈرائیور کا نام بول دیا۔اکبر نام ہے میرا۔۔میں یہاں کا نہیں ہوں۔۔بلکہ میں کہیں کا بھی نہیں ہوں۔۔نہ کوئی گھر بار ہے نہ کوئی رشتے دار۔۔۔بس یونہی بستی بستی بھٹکتا رہتا ہوں۔۔یہاں بھی بھٹکتے ہوئے ہی آگیا تھا۔۔تم ناراض ہوتے ہو تو میں یہاں سے بھی چکا جاتا ہوں
فویت بالکل ہی نرم پڑ گیا۔۔او نئیں نئیں۔۔بس ایسے ہی غصے میں کچھ زیادہ بک گیا میں۔تیرا جب تک جی چاہے یہاں رہ سکتا ہے۔آدمی رو مجھے بھلا محسوس ہوتا ہے۔۔روٹی کھائے گا؟۔۔
میں نے اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں الٹ دیا۔میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔فقیر زور سے ہنس پڑا۔۔
اوئے جھلے پیسے کا نے مانگے ہیں تجھ سے۔۔چل اجا۔۔میری کوٹھڑی یہیں اسی قبرستان میں ہے۔صبع ہی ایک مردہ دفنایا تھا۔اس کے گھر والے میٹھے چاولوں کہ دیگ بانٹ گئے تھے ابھی بیت سے چاول پڑے ہیں۔۔میں چپ چاپ فقیر کے پیچھے چل پڑا۔۔
اس کی چھوٹی سی کٹیا میں ایک جھلنگا سی چارپائی۔کونے میں پڑی پانی کی صراحی اور گلاس اور ایل جانب چھوٹی سی دیوار کے پیچھے باورچی خانہ نما کونے میں چند پرانے سلور کے برتن پڑے ہوئے تھے۔ایک جانب گینتی بیلچہ کڈال رسی اور قبر کھودنے کے دیگر سامان پڑا ہوا تھا فقیر نے ایک پلیٹ میں چاول ڈال کر میرے سامنے رکھ دیے اور مجھے اپنے بارے میں بتاتا رہا کہ وہ یہاں تنہا رہتا ہے شادی اس نے کھبی کی نہیں اور میری طرح اس کا بھی کوئی رشتے دار نہیں ہے ۔۔باتوں باتوں میں شام ڈھل گئی اور جب فقیر کی کٹیا سے باہر نکلا تو رات ڈھل چکی تھی ۔میں نے فقیر سے رخصت چاہی تو اس نے مجھ سے پوچھا اب کہا ں جائے گا۔۔پتہ نہیں جہاں یہ راستہ لے جائے گا۔۔
فقیر نے چند لمحے سوچا اور پھر مجھے آواز دے کر روک لیا تو یہیں کیوں نہیں رہ جاتا۔تیرا ٹھکانہ بھی ہوجائے گا اور میرا ہاتھ بانٹنے والا بھی مجھے مک جائے گا۔۔
میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔مگر می۔ یہاں کیا کرو گا ؟
وہ زور سے ہنسا۔۔میری طرح قبریں کھو دے گا اور کیا..
میں نے حیرت سے فقیر کی طرف دیکھا۔۔کیا۔۔؟؟مگر میں نے آج تک کوئی قبر نہیں کھودی۔
فویت زور سے ہنسا۔جھوٹ بولتا ہے تو۔۔ہم سب ہر وقت کسی نہ کسی کی قبر کھود رہے ہوتے ہیں۔۔فکر نہ کر۔۔میں تجھے سب سکھادوں گا۔۔محنت سے جی تو نہیں چرائے گا ۔۔؟
میں نے دھیرے سے جواب دیا اب میرے پاس چرانے کے لیے کچھ نہیں۔جی بھی نہیں۔فقیر نے سنی اور سنی کردی ٹھیک ہے پھر اجا۔۔اور ہاں۔۔تونے یہ کپڑے کیسے ہیں رکھے ہیں۔لگتا ہے کسی گورے انگریز کی قبر سے چرا کر لایا ہے۔۔؟یا
پھر لنڈے بازار کا مال ہے۔گورے ایسے کپڑے پہنتے ہیں۔چل کیا یاد کرے گا میں تجھے اپنا ایک جوڑا دے دو گا کپڑے بدل کر آرام کر لے۔۔صبع بڑا کام کرنا ہے ۔ہم دونوں دوبارہ فقیر کی جھونپڑی میں داخل ہوگئے۔فقیر نے کسی کونے میں پڑے ایک بڑے ٹرنک سے ایک بستر نما گدیلا اور ایک چادر نکال کر میرے حوالے کردی یہی ایک طرف اپنا بستر ڈال لے۔اور میں رات خو ذرا دیر دے سوتا ہوں۔تیری آنکھ لگے تو بھلے سوجانا۔۔
فقیر نے اپنی اپنی جیب سے ایک مخصوص برانڈ کی بیٹری ٹٹولی اور اپنی چارپائی کے تکیے کے نیچے سے ایک پڑیا نکالی اور کاغذ میں لپٹی بہت سردی بھورے رنگ کی راڈ نما تیلیوں میں سے ایک دن کر اسے اپنی ہتھیلی پر رکھ کر رگڑنے لگا اور کچھ ہی دیر میں وہ پتلی کی ایک چھوٹی سی گولی بنانے میں کامیاب ہوگیا۔پھر اس نے وہ گولی بیڑی کے تمباکو میں شامل کر کے بیڑی دوبارہ جوڑ کر سلگائی۔جھونپڑی میں ایک عجیب سی ناگوار بو پھیل گئی۔فقیر نے زور دار تیسرا کش لگایا اور دھواں فضا میں پھیلا کر بولا
کھبی چرس پی ہے اکبرے۔۔میں نہیں میں سر ہلایا وہ زور سے ہنسا۔۔
اچھا ہے۔۔نہ پیا کر۔۔۔خون بھی جلا کر پی جاتی ہے یہ کم بخت پر میرا اس کے بنا گزارا نہیں۔قبرستان کی راتیں بڑی کالی اور لمبی ہوتی ہیں۔شط بتاوں تو نوجوانی میں مجھے یہاں اکیلے رہتے ہوے بڑا ڈر لگتا تھا۔نس انہی دنوں میں یہ لت لگ گئی۔۔
فقیر ساری رات نہ جانے کیا کچھ بڑ بڑاتا رہا اور میں چپ چاپ اس کی رام کہانی سنتا رہا شاید اسے بیت دنوں کے بعد کوئی سننے والا ملا تھا۔پھر نہ جانے رات کے کس پہر اس کی آنکھ لگ گئی جب وہ بولتا رہا میرا دھیان بٹا رہا۔مگر خاموشی ہوتے ہی میرے اندر چھپے کئی آسیب اور عفریت مجھے سالم نکلنے کے لیے اندھیرے میں میرے سامنے آکھڑے ہوئے ۔مجھے گھر چھوڑے ہوے مہینہ بھو ہونے کو آیا۔اب تک انہوں بے تھک ہار کر میری کھوج ختم کردی ہوگی۔وہاں نیو یارک میں عینی کے تمام ٹیسٹ ہو چکے ہوں گے۔ اور آج شاید آج کل میں اس کا آپریشن بھی ہونے والا ہوگا۔وہ مجھے عین وقت پر وہاں نہ پا کر کتنا مایوس ہوئی ہوگی مگر یہ مایوسی یقینا اس مایوسی سے کہیں کم ہوگی جو آنکھیں ملنے کے بعد اسے مجھے دیکھ کر ہوتی عدنان نے ضرور اسے سمجھا بجھا کر آپریشن کے لیے راضی کر لیا ہوگا۔کتنی خوشی ہوگی وہ جب پہلی بار سالوں بعد اس دنیا کے رنگوں کو اپنی خوبصورت آنکھوں سے دیکھے گی۔ساری رات باہر قبرستان کے ویرانے سے گیدڑ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آتی رہیں۔اور فقیر بے سد پڑا خراٹے لیتا رہا وہاں میرے آس پاس سب ہی سو رہے تھے کچھ اپنی اپنی قبروں میں اور فقیر اپنی چارپائی پر۔بس ایک میں ہی تھا جسے نیند نہیں آرہی تھی۔صبع ہوئی تو فقیر اپنے اوزار اٹھا کر میرے ساتھ کٹیا سے باہر نکل ایا۔اس نے اس پاس پھر کر نئی قبر کے لیے جگہ منتخب کی اور پھر کسی بوڑھے گدھ کی طرح قبرستان کے دروازے پر نظریں جما کر بیٹھ گیا۔گھنٹہ بعد ہی کچھ غم زدہ سے لوگ قبرستان میں داخل ہوئے اور اور فقیر کو نئی قبر کا پیغام پکڑا گئے۔فقیر نے ان کے جاتے ہی خوشی سے ایک نعرہ لگایا۔۔
واہ بھئی اکبرے تو تو میرے لیے بڑا خوش بخت ثابت ہوا ہے پتہ ہے۔۔دو دن فارغ بیٹھا تھا میں۔۔کوئی مر کر ہی نہیں دے رہا تھا پوری بستی میں ۔۔چل سجا شاباش ۔۔ہمیں گھنٹے بھر میں قبر تیار کرنی ہوگی۔۔وہ لوگ دوپہر کی نماز کے بعد آجائیں گے ۔۔
میں کسی معمول کی طرح کام میں جت گیا۔فقیر اپنے کام کا ماہر تھا جلد ہی جلد اس نے چھ فٹ گہری قبر کھود کر مغرب کی جانب لحد تیار کر لی۔ساتھ ساتھ وہ مجھ سے مٹی اٹھواتا جاتا اور قبر کی تیاری کے آزمودہ نسخے بھی بتاتا جارہا تھا۔میرا جسم پسینے سے شرابور ہوچکا تھا میں نے دوبئی کے ابتدائی ایام میں اس سے کہیں زیادہ سخت مزدوری کی تھی مگر درمیانی عرصے میں مشقت کی عادت مجھ سے چھوٹ گئی تھی لیکن میں فقیر کے ساتھ لگا رہا میں خود کو اس قدر تھکا دینا چاہتا تھا کہ میرے جسم کی ٹوٹتی رگوں سے میرے ماضی کی یادوں سمیت میری جان بھی قطرہ قطرہ بہہ کر نکل جائے۔ظہر کی نماز کے بعد جنازہ آگیا۔مرحوم کے ورثاء رونے دھونے افسردہ اور سوگوار ماحول میں لاش کو قبر میں اتارا اور سب نے مٹی ڈالنے کا فریضہ انجام دیا۔فقیر اسی تمام عرصے میں سی جانب لاتعلق سا بیٹھا بیڑیاں پھونکتا رہا۔مگر یہ رات والی خاص بیڑی نہیں تھی ۔۔میں بھی اس کے قریب جاکر بیٹھ گیا فقیر نے مجھے کہنی ماری ابھی دیکھنا کچھ دیر میں ان رونے دھونے والوں میں سے سگریٹ پینے والے دھیرے دھیرے ایک جانب سرکنا شروع ہو جائیں گے اور ایک دو ٹولیوں میں کھڑے ہوکر سگریٹ بیڑی پھونکیں گئے اور اپنے کاروبار کی باتیں شروع کردیں گے۔۔
اور کچھ دیر بعد واقعی ہی ایسا ہوا میں نے حیرت سے فقیر کی طرف دیکھا۔وہ مسکرایا سالوں سے دیکھ رہا ہوں یہ ڈرامہ۔سگریٹ ایسی بھلا ہے جو موت بھی بھلا دیتی ہے۔اور تجھے اب کیا بتاوں اکبرے۔۔میں نے تو یہاں جنازے پر بھی نشے میں دھت لوگوں کو آتے دیکھا ہے کم بخت کہیں بیٹھے پی رہے ہوتے ہیں کہ کسی اپنے کی موت کا پیغام آجاتا ہے۔بھاگ دوڑے قبرستان تک پہنچ جاتے ہیں۔آخری منہ دیکھائی کے لیے۔مگر قدم زمین پر نہیں پڑتے ٹھیک طرح۔۔
میں نے فقیر کے ہاتھ میں پکڑی بیڑی غور سے دیکھی ۔
تم بھی سارا دن یہ دھواں اندر انڈیلتے رہتے ہو۔۔میں نے سنا ہے اس سے کینسر ہوجاتا ہے۔۔
فقیر نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی پر قابو پایا تو بھی ان جاہلوں کی باتوں پر یقین کرتا ہے اکبرے۔۔
میری عمر ساٹھ سال سے اوپر کی ہے۔۔پندرہ سال کی عمر میں میں نے پہلا کش لگایا تھا ۔۔یقین کر آج تک کھبی زکام بھی نہیں ہوا مجھے جب کے میں نے اسی قبرستان میں اپنے ہاتھوں سے ایسے تیس پینتیس سال کے جوان مردے بھی دفنائے ہیں جنہوں نے عمر بھر کھبی تمباکو کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اور ان کے ساتھ آنے والے اسی بات ہر حیران تھے کہ نی تو سگریٹ پیتا تھا نی شراب۔۔۔پھر اچانک پی کیسے گزر گیا۔۔؟؟ اب بول کیا بولتا ہے
تیرے حساب سے تو مجھے کب کس کینسر سے مر جانا چاہیے تھا۔میں لاجواب ہوگیا۔
تو پھر ہر سگریٹ اور بیڑی کے پتے پر موت کا ڈراوہ کیوں لکھ دیتے ہیں ۔۔؟۔۔فقیر نے دبا دبا سا قہقہہ لگایا تاکہ اسکی آواز قبر میں مٹی ڈالتے ورثاء تک نہ پہنچے مجھے تو یہ بھی کچھ بڑی دوکان داری لگتی ہے اکبرے۔۔یہ کیا بات ہوئی بھلا
زہر ہے تو پھر بیچتے کیوں ہیں کھلے بازار میں؟
بند کردیں فروخت تمباکو کی مرحوم کے ورثاء دعا سے فارغ ہو کر دھیرے دھیرے پلٹ رہے تھے۔قبر پر عطر کیوڑے اور گلاب کی پتیوں کا چھڑہاو کر دیا گیا تھا۔فقیر نے جاتے ہوے لوگوں کو دیکھا اب کچھ دن تک اس قبر کے اوپر بڑی رونق رہے گی۔روزانہ کچھ لوگ آئیں گے۔۔پھر دھیرے دھیرے ویرانی چھا جائے گی سب اپنی اپنی دنیا داری میں الجھ کر یہاں سوئے شخص کو بھول جائیں گے۔ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے اکبرے ۔۔..
شام ڈھلنے سے کچھ دیر قبل فقیر بازار سے لوٹا تو اس کے ہاتھ میں کھانے پینے کا بیت سارا سامان اور تازہ بیڑی کے کچھ بنڈل تھے۔اس نے کچھ روپے میرے ہاتھ میں رکھ دیے۔یہ لے۔۔یہ تیری مزدوری کا حصہ ہے۔۔آدھے پیسوں کا میں سامان لے آیا ہوں۔۔
میں نے وہ روپے دوبارہ فقیر کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔۔یہ تم ہی رکھوں۔اب مجھے ان کی ضرورت نہیں پڑتی فقیر نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پھر زور سے ہنس پڑا۔تو بھی پورا ملنگ ہے۔۔چل ٹھیک ہے میرے پاس ہی جمع رہنے دے رات ڈھلی تو باہر قبرستان میں کچھ فاصلے پر عجیب سی جنتر منتر کی آوازیں آنے لگیں۔میں گھبرا کر اٹھ گیا فقیر جھونپڑی کے باہر بیٹھا بیڑی پھونک رہا تھا۔۔
یہ آوازیں کیسی ہیں۔۔؟
فقیر نے حسب عادت بلاوجہ قہقہہ لگایا۔کوئی عامل کسی زنانی کو بے وقوف بنانے کے لیے منتر پڑھ رہا ہے۔میں نے دور اندھیرے میں دیکھا تو واقعی کوئی جعلی پیر نما شخص چغہ پہنے دو تین عورتوں سمیت ایک قبر کے گرد بیٹھا ہوا آگ جلائے کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔یہ سب کیا ہے فقیر۔۔؟
یہ عورت اپنے شوہر کے ظلم سے پریشان ہے اور سوکن کو اسی قبرستان میں پہنچانا چاہتی ہے۔لہذا اس نے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ مل کر اس عامل کا کالے عمل کے لیے رقم دی ہے بیوقوف عورتیں گھر سے چھپ کر یہاں آئی ہیں اور رات بھر میں اچھی خاصی رقم اس ڈھونگی کو پکڑا کر واپس چک دیں گی۔میں نے حیرت سے فقیر کی طرف دیکھا تم اپنے قبرستان میں یہ ڈرامے بازی کیوں ہونے دے رہے ہو؟
اوئے اکبرے۔۔تو واقعی بڑا بھولا ہے۔۔جھلے۔۔یہ عامل مجھ سے پہلے ہی سودا کر چکا ہے آدھے پیسے میری جیب میں آئیں گے کھبی کھبی تو ان جھوٹے عاملوں کے کہنے پر میں خود ہی کسی قبر میں لیٹ جاتا ہوں اور ان کے عمل کے بیچ میں منہ سے ڈراونی آوازیں نکالتا ہوں تاکہ باہر بیٹھے لوگ اپنے پیر صاحب کی کرامت کا یقین کر لیں یاد رکھ اکبرے۔قبرستان میں جو بھی دھندا ہوتا ہے۔ اس کا آدھا حصہ قبرستان کے رکھوالے اور گورکن کو جاتا ہے میں حیرت سے منہ کھولے فقیر کی باتیں سن رہا تھا۔میں تو جیتے جاگتے انسانوں کو دنیا کے پھندوں اور مکرو فریب کے جال کو رو رہا تھا مجھے کہا پتہ تھا کہ یہاں مردوں کی بستی کے بکھیڑے زندوں سے بھی نرالے ہیں۔اس رات فقیر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ پرانی اور خالی قبریں باقاعدہ نشہ باز اور جواریوں کو کرائے پر دی جاتی ہیں تاکہ وہ رات بھر اپنا شغل اطمینان سے جاری رکھ سکیں۔علاقہ حوالدار بھی حصہ ملنے کے بعد یہاں کا رخ نہیں کرتا جعلی عامل اور پیر اپنے نئے گاہکوں پر اثر اور رعب ڈالنے کے لیے پہلی ملاقات میں ہی انہیں اپنے ڈیرے سے سیدھا فقیر کے قبرستان بھیج دیتے ہیں کہ جاکر فلاں قبرستان کی فلاں قبر کے سرہانے کھدائی کرو۔تمہارے خلاف دبایا گیا تعویز یا سلفی عمل وہیں ملے گا ضرورت مند بیچارہ بھاگا بھاگا قبرستان آتا ہے جہاں فقیر پہلے سے ہی کسی کالی مرغی کا سر۔۔سڑے ہوئے انڈے یا کسی بکرے کی سری دبا چکا ہوتا ہے۔۔سائل اپنے عامل کی کرامت کا بھر پور نظارہ دیکھ کر اپنی عمر بھر کی پونجی عامل پر کٹا دیتا ہے۔اور فقیر کا حصہ اسے مل جاتا ہے میں دن بھر بیٹھا حیرت سے فقیر کی باتیں سنتا رہا۔ہر جا جہاں دیگر۔کا مطلب مجھے اب سمجھ آرہا تھا۔میرا دن تو ان سب روز مرہ کی مصروفیات میں گزر جاتا تھا۔اور میں خود کو شدید حد تک تھکانے کے لیے فقیر کے حصے کا کام بھی خود کرنے لگا تھا۔مگر رات کاٹیں نہیں کٹتی تھی۔اچانک ہی کسی پہر وہ میری آنکھوں کے دریچے کھول کر میرے دل کے آنگن میں آکر بیٹھ جاتی۔میں لالھ خود کو چھپاتا اپنی آنکھیں میچ لیتا مگر وہ مجھ سے ہم کلام رہتی۔مجھے اپنے شب و روز بتاتی میری کرخت انگلیاں اور کڈال اور بیلچہ چلانے سے کھردرے چھالوں بھرے ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگاتی اور مجھ سے شکوہ کرتی کہ میں اسے تنہا چھوڑ کر کہاں چکا گیا ہوں۔پھر میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا اور جھونپڑی سے باہر نکل کر ساری رات تارے گنتا رہتا۔ایک ایسی ہی رات فقیر بھی میری آہٹ پر باہر آگیا۔۔
کیا بات ے اکبرے تو سوتا کیوں نہیں ہے کوئی پریشان ہے تو مجھے بتا جون جہاں بندہ پے تو۔۔کہیں کوئی عشق وشق تو نہیں ہوگیا تجھے۔۔
میں مسکرا دیا۔۔
کیوں ۔۔کیا وہ سارے جو راتوں کو جاگتے ہیں۔۔ان سب کو عشق کی بیماری ہوتی ہے کیا۔۔،؟فقیر بھی ہنس پڑا۔ہاں۔ اپنا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ جوانی کی یہ رت جگے عشق کا نتیجہ ہوتے ہیں۔۔تو شادی کیوں نہیں کر لیتا۔کب تک یوں اکیلا در بہ در خوار ہوتا رہے گا۔۔؟
اور اگر یہی سوال میں تم سے پوچھوں کی تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی فقیر تو پھر ۔۔فقیر نے ایک لمبی سرد آہ بھری آو نئیں یار۔۔یہ زنانیاں بڑی مطلبی ہوتی ہیں۔ان سے بندہ دور ہی رہے تو اچھا ہے میں نے تو دنیا میں آج تک جتنے بھی مسلے دیکھے ہیں وہ انہی کی وجہ سے ہیں۔اچھا خاصا مردان کے چکر میں نہ دین کا رہتا ہے۔نہ دنیا کا میں نے غور سے افسردہ فقیر کو دیکھا پھر تو میرا شک سولہ آنے سچ ہے کہ تم نے بھی کھبی کسی سے بھو پور عشق کیا ہے فقیر ورنہ ہوں غم زدہ نہ بیٹھے ہوتے۔
فقیر نے تازہ بیڑی سلگائی۔کیوں دل پشوری کرتا ہے اکبرے ہاں تھی جوانی میں کوئی۔یہی قبرستان میں ملاقات ہوتی تھی۔جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھی۔میں نے اس پر بڑا خرچہ کیا ہر مشکل وقت میں سہارا دیا پر جیسے ہی اسے مجھ سے بہتر بندہ ملا۔دو بول نکاح پڑھوا کر جانے کہاں چلی گئی پلٹ کر پوچھا بھی نہیں مجھ سے۔ بس اسی دن میرا ان عورتوں پر سے اعتبار اٹھ گیا۔میری بات کان کھول کر سن لے اکبرے۔۔یہ زنانیاں کسی کی نہیں ہوتیں۔
کھبی ان کے چکر میں نہ پڑنا اب میں اسے کیا بتاتا کہ یہ واردات مجھ پر جانے کتنی مرتبہ بیت چکی ہے اگلی رات دور کسی قبر کے سرہانے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔اگرچہ میں ان باتوں کا بہت حد تک عادی ہوچکا تھا۔مگر آواز میں اتنا درد تھا کہ مجھ سے رہا نہیں گیا میں کٹیا سے باہر نکلنے لگا تو فقیر نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔باہر نہ جا اکبرے۔کوئی دکھیاری ہے۔۔قبر پر چلہ کاٹنے آئی ہے اولاد کے لیے میں نے حیرت سے فقیر کو دیکھا مگر قبر ہر چلہ کاٹنے سے بے اولادی کیسے دور ہوسکتی ہے۔ فقیر نے جمھجنھلا کر کہا تو سمجھتا کیوں نہیں ہے یہ سارے کم زور عقیدے کے لوگ ہیں میں نے تو یہاں عورتوں کو اولاد کی خواہش میں کسی نو مولود بچے کی قبر پر نہانے کا نسخہ لے کر آتے بھی دیکھا ہے بس جو ہورہا ہے۔۔اسے ہونے دے۔۔ہم ان کو یہاں آنے سے روکیں گے تو یہ کسی اور قبرستان چلے جائیں گے۔تو چپ کر لے سوجا۔میں نے سر زمین پر ٹکالیا مگر میرا دھیان اب بھی باہر تھا۔۔۔
فقیر کیا تم نے کھبی کوئی اچھی بات نہیں دیکھی اس قبرستان میں۔۔ہاں بالکل دیکھی ہے ۔۔ایک بار کسی اللہ والے کو دفنا گئے تھے لوگ یہاں پورے چالیس دن اس کی قبر سے تازہ گلاب کی خوشبو آتی رہی۔۔اور کھبی کھبی رات کے اندھیرے میں مجھے وہ قبر بھی نورانی محسوس ہوتی تھی جیسے روشنی نکل رہی کو اندر سے البتہ گناہ گاروں کی قبر سے عذاب کی آوازیں بھی سنائی دے جاتی ہیں کھبی کھبار
دیکھ اکبرے ۔۔قبر میں جانے کے بعد بندے کا رابطہ ڈائریکٹ اس کے رب کے ساتھ ہوجاتا ہے۔پھر میرے تیرے جیسے گناہ گار انسانوں کو ان معاملات میں داخل اندازی نہیں کرنی چاہیئے سوجا چپ کر کے کل صبع فجر کے بعد ہی ایک قبر کھودنی ہے۔۔تگڑی رقم۔ لے گی انشاءاللہ..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: