Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 28

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 28

–**–**–

اگلے روز فقیر کہیں سے اخبار اٹھا لایا۔۔چل بھئی اکبرے۔۔منڈوا دیکھنے چلتے ہیں میں نے چونک کر اسے دیکھا منڈوا
ہاں یار۔۔وہ کیا کہتے ہیں۔۔سینما یہ دیکھ بڑی زبردست پکچر لگی ہے بازار والے سینما میں۔۔
میں نے اخبار ہر نظر دوڑائی تو میرے ہاتھ کپکپا سے گئے آمنہ کی فلم ریلیز ہوچکی تھی اور سپر ہٹ ہو کر سلور
جوبلی منانے کو آئی تھی۔میں بہت دیر تک فلم کی خبریں پڑھتا رہا۔آمنہ عرف شہہ پارہ کے کیریئر کی بہترین فلم قرار دیا جارہا تھا اسے شہہ پارہ لا انٹرویو بھی چھپا تھا جس میں اس نے مجھے کھل کر یاد کیا تھا اور کہا تھا کہ پری زاد نہ ہوتا تو یہ فلم کھبی بن ہی نہ پاتی اس نے میرے لیے پیغام بھی چھوڑا تھا کہ میں جہاں کہیں بھی ہوں۔یہ جان لو کہ شہہ پارہ کا خواب پورا ہوگیا ہے۔۔اور اس نے پری زاد کو اپنا خواب گر اپنا سب سے بڑا محسن قرار دیا تھا۔میں ایک دم بہت اداس ہوگیا۔میں نے فقیر کو اکیلے فلم دیکھنے کے لیے بھیج دیا۔فلمیں وہ لوگ دیکھتے ہیں جو خواب دیکھنا جانتے ہوں۔وہ اپنے خواب کو سینما کے پردے پر جیتا جاگتا دیکھنا چاہتے ہیں۔مگر میرا تو کوئی خواب ہی نہیں بچا تھا۔سب سپنے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوچکے تھے۔میں بھلا اس قابل ہی کہاں تھا کہ کوئی خواب دیکھ سکتا۔فقیر کے جانے کے بعد میں نے ساری اخبار خو غور سے دیکھا مجھے گھر چھوڑے ہوے چھ ماہ سے زائدہ ہوچکے تھے۔مگر اخبار خو دیکھ کر لگتا تھا جیسے کل کی بات ہو۔وہی بزنس اور کاروباری خبریں وہی جھگڑے فساد کی باتیں وہی شادی بیاہ تقریبات وہی دنیا فتح کر لینے والے دعوے۔کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا ہم انسان کتنے بھولے ہوتے ہیں۔جو یہ سوچ لیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہمارے جاتے ہی سب کچھ رک جائے گا یا بدل جائے گا مگر کچھ نہیں رکتا کچھ نہیں بدلتا۔۔سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے بس ہم نہیں ہوتے۔گویا ہمارا ہونا نہ ہونا سب برابر ہے۔تو پھر اس نہ ہونے کے برابر ہونے کا اتنا زعم کیوں۔۔؟
اتنا گھمنڈ کا لیے۔۔؟مجھے پھر اس دشمن جاں کا خیال ستانے لگا۔اب تک تو اس کی بینائی واپس آچکی ہوگی۔جانے وہ واپس آنے کے بعد مجھے یاد کرتی ہوگی کہ نہیں۔؟
میں آتے وقت دفتر اور گھر سے اپنی ہر تصویر جلا کر وہاں سے نکلا تھا تاکہ جب کھبی عینی واپس آئے تو اسے کوئی بھی میری مورت نہ دکھائی دے جائے۔ویسے بھی میں شروع سے ہی تصویرے کھچوانے سے گریز کرتا تھا۔وہ ایک بار تو ضرور میرے گھر یا دفتر آئی ہوگی۔اور اس کی آنکھوں نے مجھے وہاں کھوجا بھی ضرور ہوگا۔کیسی دیکھتی ہوگی اس کی وہ کھوجتی ہوئی آنکھیں۔اس نازنین نے میرے دفتر اور گھر کے نرم قالین پر اپنے نازک قدم رکھتے ہوئے میری زیر استعمال چیزوں کو چھوا بھی ضرور ہوگا۔پھر عدنان کے شانے پر سر رکھ کر بہت دیر روتی ہوگی۔مگر عدنان نے اسے سنبھال لیا ہوگا۔اس کی کومل جبیں کو عدنان کا شانہ ہی جچتا تھا۔میری اس بے وقعت زندگی کے لیے تو بس اتنا ہی کافی تھا کہ میں کسی طور اس کی یادوں میں زندہ رہوں ۔
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاوں جو تم سے فرصت ہو
مگر مجھ جیسے کم نصیبوں کو مرنے کی فرصت بھی کہاں میسر تھی۔دن ہفتے اور ہفتوں مہینوں میں بدلتے گئے اور پھر ایک دن فقیر صبع سویرے کسی کام سے باہر گیا تو شام تک واپس نہ لوٹا۔۔میں جھونپڑی کے باہر بیٹھا اس کا انتظار کرتا رہا تھا کہ اچانک پولیس کی پرانی ولیز جیپ قبرستان میں داخل ہوئی اور میرے قریب آکر رک گئی۔خاکی رنگ کی جیپ سے دو سپاہی نیچے اترے اور ان میں سے ایک نے حسب عادت کڑک کر مجھ سے پوچھا۔اکبر تیرا ہی نام ہے میں کھڑا ہوگیا۔ہاں۔۔سب خیر تو ہے۔۔خیر تو نہیں ہے تیرے ساتھی فقیرے پر ساتھ والے چھوٹے قبرستان کر گورکن سلامے اور اس کے دوستوں نے حملہ کردیا ہے۔۔اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔جلدی چل۔۔وہ تجھ سے ملنا چاہتا ہے میں بوکھلایا سا ان کے ساتھ جیپ میں بیٹھ گیا۔گاڑی چل پڑی پولیس والوں کی آپس میں بات چیت سے مجھے پتا چلا کہ ان دونوں کی بہت پرانی ٹسل چل رہی تھی قبرستان کی حد بندی پر۔اور آج فقیر اسلامے اور اس کے ساتھیوں کے ہتھے چڑ پی گیا۔ہم ہسپتال پہنچے تو فقیر آخری سانسیں لے رہا تھا۔اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔۔
دیکھ لے اکبرے۔۔قبرستان کے دھندے نے قبر تک پہنچا دیا پر تو ایسی غلطی نہ کریں بندہ جتنی بھی حد بندیاں کر لے اس کی آخری حد اس کی قبر ہی ہوتی ہے فقیر دھیرے دھیرے پھر سے غنودگی میں چلا گیا اور پھر دوبارہ پھر دوبارہ کھبی ہوش کی دنیا میں واپس نہیں آیا۔سلاما اور اس کے ساتھی قتل عمد کے جرم میں پکڑے گئے تھے اور سرکاری وکیل نے عدالت کے ذریعے انہیں سولی تک پہنچانے کا پورا بندوبست کر لیا۔فقیر خو اسی کی جاگیر۔قبرستان کی ایک چھوٹی سے قبر میں اتار دیا گیا میرا جی اچاٹ ہوگیا اور فقیر کے چالیسویں کے بعد میں نے اپنی پوٹلی اٹھائی اور اسٹیشن سے پہلی گاڑی پکڑ کر پھر سے وہی سفر وہی انجان راستے مگر میری حالت دن بہ دن بتر ہوتی جارہی تھی جاڑے کا اثر تھا یا پھر مسلسل برسات کا مگر میرا بدن تپتپانے لگا اور پھر شاید تیز بخار نے مجھے آگھیرا مجبورا مجھے ایک چھوٹے سے ویران اسٹیشن پو اترنا پڑا۔فقیر مجھے ملنگ کہہ کر چھیڑتا تھا مگر اب میرا حلیہ اور میری ظاہری حالت واقعی کسی ملنگ سے بھی بدتر تھی۔رات ڈھل رہی تھی اور اسٹیشن ویران پڑا ہوا تھا مجھے شدید سردی لگ رہی تھی لہذا میں نے اپنی پرانی چادر کی بکل مار کر خود کو اچھی طرح لپیٹ لیا۔اور چائے کے ٹھیلے پر گرم گرم چائے بن رہی تھی۔ٹھیلے پر بد نما سی لکھائی میں لکھا ہوا تھا۔۔خانو کی چائے۔۔۔ہر غم بھگائے ۔۔
ٹھیلے والے نے مجھے ٹھٹھرتے ہوے دیکھا تو ایک کپ چائے لے کر میرے قریب آگیا چائے پیو گئے۔۔۔؟؟
میں نے انکار کیا۔نہیں ۔مجھے طلب نہیں ہے ٹھیلے والے نے حیرت سے مجھے دیکھا۔عجیب بھکاری ہو بھئی میں خود اپنی مرضی سے دے رہا ہوں تجھ سے پیسے نہیں مانگ رہا میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔بھکاری۔۔؟ہاں ٹھیک کہا تم نے میں بھکاری ہی ہوں۔۔بہت بھیگ مانگی ہے میں نے ساری زندگی۔۔ہر کچھ نہیں ملا۔۔اب کچھ چاہیے بھی نہیں جاو مجھے تنگ مت کرو۔۔
خان جانے میری ڈانٹ کو کیا سمجھا کہ اس کا لہجا ایک دم عاجزانہ ہوگیا۔معاف کرنا سائیں۔۔تم تو کوئی اللہ لوک ہو۔۔مجھ سے گستاخی ہوگئی میں نے اسے جھاڑ دیا۔بے و قوفی کی باتیں مت کرو میں کوئی سائیں نہیں ہوں۔۔اکیلا چھوڑ دو مجھے۔
خان نے جاتے بار بھی تین بار مڑ کر دیکھا مجھے۔میں نے تھک کر ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا دیا۔جس کے تنے کے ارد گرد پکی اینٹوں اور سیمنٹ کا چوبارہ اٹھا کر ایک گول پلیٹ فارم سا بنا دیا گیا تھا۔پھر مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ میں کب مکمل بے سدھ ہوکر ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا اور پھر جب میری آنکھ کھولی تو سورج کی تیز کرنوں نے میری آنکھیں چندھیا دیں میرے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھی تھی اور سب آپس میں جانے کیا سرگوشیاں کر رہے تھے مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر خان نے سب کو ڈانٹ کر ایک طرف سمیٹا۔چلو بابا۔۔کیا بھیڑ لگا رکھی ہے۔جوگی بابا کو ہوش آگیا ہے۔شاید لمبے مراقبے میں چلے گئے تھے۔میں نے چونک کر آس پاس کھڑے لوگوں کو دیکھا تو میری آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں…
وہ سب ہاتھوں میں پھولوں کئ ہار لیے یوں سر جھکائے میرے ارد گرد دائرے میں کھڑے تھے جیسے میں کوئی پیر ولی یا کوئی بزرگ ہوں۔میں گھبرا کر کھڑا ہوا اور بقا ہے سے چکراگیا میرے ڈگمگاتے جسم کو تھامنے کے لیے کئی ہاتھ ایک وقت آگے بڑھے تو میں نے سب کو جھٹک دیا تم لوگوں کا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا۔۔جاو یہاں سے۔۔مجھے تنہا چھوڑ دو خان نے دوبارہ سب کو جھاڑا۔۔جیسے میرا نائب ہو
سنا نہیں بابا۔۔جاو یہاں سے ابھی۔۔سائیں جلال میں ہے لوگ عقیدت سے دکام کرتے ہوے وہاں سے بادل نخواستہ چھٹنے لگے خان نے ہاتھ جوڑ کر مجھ سے پوچھا ۔۔۔
کھانا کھاو گئ سائیں۔۔
میرا صبر جواب دے گیا۔
آخر تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔۔؟ خان منمنایا آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں سائیں۔شاید آپ کی دعا سے خان کے دن پھر جائیں پچھلے سال آڑھ میں میرا سن کچھ بہہ گیا تھا۔ادھر ٹرینوں کی بدحالی نے بھی میرا دھندا مندا کردیا ہے سائیں۔۔میں نے جھنجھلا کر اسے دھتکارا۔۔
جاہل انسان۔۔تم میری بات کیوں نہیں سمجھتے۔میں کوئی پیر فقیر نہیں ہوں اگر میری دعا میں اثر ہوتا تو آج میں خود ہوں ڈر بدر خوار نہ ہوتا۔مگر خان ٹس سے مس نہ ہوا۔آخر کب تک ہن ظاہر پرست انسان بیرونی حلیے اور لباس کی بنیاد پر لوگوں کے زہد تقوی کا فیصلہ کرتے رہیں گے؟سر اور داڑھی کے بے تحاشا بڑھے ہوئے بال چہرے اور لباس پر وقت کی دھول اور غم کی شکنیں چادر پر درد کی سلوٹیں اور جھولی میں ناکامیوں کے کیکر اور کانٹے۔کیا کسی جوگی کا یہ حلیہ کافی ہوتا ہے اسے درویش ثابت کرنے کے لیے۔۔؟
میں نے جان چھڑانے کے لیے بے زاری سے کہاں اگر تمہاری تسلی میری دعا سے ہوتی ہے تو جاو میں نے تمہیں دعا دے دی خان کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر جانے کیا کچھ منتیں مانگتا ہوا وہاں سے ٹل گیا۔میں نے تھک کر دوبارہ آنکھیں موندھ لیں۔ان چھوٹے دیہات اور قصبوں کے لوگ کتنے سادہ روح ہوتے ہیں پھر شاید آج کل انسان اپنے غم کے ہاتھوں اس قدر ٹوٹا ہوا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے میسحا کا انتظار رہتا ہے۔کاش انہیں کوئی سمجھا سکتا کہ میں میسحا نہیں ۔ان سے زیادہ
دنیاداری کے داغوں سے آٹا برص کا مریض ہوں جو خود شفائے عشق کی تلاش میں زمانوں سے بھٹک رہا ہے بمشکل ایک ہی دن سکون سے گزر پایا اور اگلی صبع جب میں اپنے بخار سے تپتے جسم کو ایک بوسیدہ سے کمبل میں لپیٹے درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا تھبی اچانک وہی بے وقوف خان دور سے ہاتھ میں جانے کیا کاغذ پکڑے اور اسے لہراتے ہوئے شور مچاتا میرے قدموں سے آکر لپٹ گیا۔۔
تم واقعی پی اللہ لوک ہو سائیں کمال کر دیا ایک پی رات میں جیو سائیں۔۔جیو میں نے جلدی سے اپنے پاوں لپیٹ کر اسے دھکا دیا ہٹو پیچھے یہ کیا کررہے ہو۔۔؟۔خان خوشی سے چلایا۔سائیں یہ دیکھوں آپ کی دعا سے میرا دس ہزار کا بانڈ نکل ایا ہے۔۔سارے درد دور ہوگئے پھر بھی تم کہتے ہو کہ تم سائیں نہیں ہو۔مجھے آپنے قدموں میں پڑا رہنے دو کچھ دیر میں ہی آس پاس تمام ریلوے اسٹیشن کے عملے تک یہ خبر پہنچ چکی تھی اور اگلے چند دنوں کے اندر میری زندگی میں نت نئے عذابوں کا ایک دور شروع ہوگیا۔۔میرے ارد گرد قریب اور دور دراز کے سادہ لوگ دیہاتیوں کا ایک ہجوم جمع رہتا جو میرے قدموں میں دس بیس اور پچاس کے نوٹ نذرانے کے طور پر پھینک کر نہ جانے کون کون سی منتیں پوری کرنے کی دعائیں مانگتے رہتے۔میں جتنا ان لوگوں کو دھتکارتا اور قدموں میں پڑی اس ریز گاری کو لات مارتا وہ اتنا ہی ان کی نظروں میں معتبر ٹھرتا میرے بخار اور نقاہت نے مجھے اس قابل بھی نہیں چھوڑا تھا کہ میں کسی رات منہ اندھیرے چپ چاپ وہاں سے کسی اور منزل کی جانب نکل جاوں لیکن میں جاتا بھی تو کہاں جاتا
ہر طرف اسی انسان کا سامنا تھا مجھے اور بھلا انسان سے بڑا امتحان اور کیا ہوگا اس جہاں خراب میں۔۔؟ خان جب مجھے اس بھیڑ کر ہاتھوں بے حد اوزار دیکھتا تو ڈانٹ ڈپٹ کر لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیتا مگر دو چار گھنٹے بعد پھر وہی ہجوم۔۔پھر وہی بھانت کے انسان اور ان کی عجیب و غریب فرمائشیں کوئی عورت دھائی دیتی سائیں میری بہو بیٹا نہیں جنتی۔چار لڑکیاں اوپر تلے سینے پو مونگ دل رہی ہیں دعا کرو اس بار بیٹا ہو جائے ۔۔کوئی دوسرا کہتا بیٹے کو نوکری نہیں ملتی جوگی سائیں۔بس ایک نوکری دلادو تیسری جانب سے آواز آتی بس ایک دوکان کا سوال ہے سائیں کاروبار جما دو میں آنکھیں بند کیے منہ لپیٹے پڑا رہتا اور وہ میری خاموشی کو ہی میری دعا سمجھ کر کچھ دیر دیر رونے دھونے کے بعد آٹھ کر چلے جاتے ان میں سے کوئی نہ جانے کب لکڑی کی ایک تختی پر جلی حروف میں آستانہ جوگی سائیں لکھوا کر لے آیا اور اس تختی کو درخت کے ایک اونچے حصے پر کیل دے ٹھوک گیا وہ لوگ میری نقاہت اور بیماری کو میرا روزہ یا فاقہ سمجھتے تھے اور میری مردم بے زاری کو میری میری فقیری کی نشانی اوپر سے قدرت بھی میرے ساتھ کھل کر مذاق کرنے پر تلی ہوئی تھی میرے ارد گرد موجود لوگ کے جمگھٹے میں سے کسی نہ کسی کی مراد پوری ہوجاتی تو اسے میری کرامات کے کھاتے میں ڈال دیتے سو میں سے باقی ان ننانوے نا کام مرادوں کو کوئی نہیں گنتا تھا جو کھبی پوری نہیں ہو پاتی تھیں کالی رات کے گھپ اندھیرے میں ایک معمولی دیا سلائی بھی دور جلتی نظر آجاتی ہے اس پاس بکھری تاریکیوں پر کوئی نظر نہیں ڈالتا میں نے کئی بار کوشش کی کہ وہاں سے چپ چاپ اٹھ کر کوئی روز اسٹیشن سے گزرتی کسی گاڑی میں بیٹھ کر کہیں نکل جاوں ایک آدھ بار میں نظر بچا کر اسٹیشن سے باہر سڑک پر نکل بھی آیا مگر یہ جوگی سائیں کا لقب اور حلیہ اس پاس اور دور دراز کے علاقوں میں میری کچھ ایسی پہچان بن چکا تھا جیسی قیدی کے پیروں میں بیڑیاں یا کسی پیدائشی غلام کے ماتھے پر کھدی ہوئی کوئی سیاہ مہر میں جہاں بھی جاتا میری پیشانی پر ثبت یہ غلامی کی مہر لوگوں کو میرے ارد گرد اکھٹا کر دیتی میرا دم گھٹنے لگا میں گھبرا کر انہیں جھڑکتا دور ہٹاتا وہ میرے قریب آتے اور تھک ہار کر میں واپس اسی استانے کی راہ لیتا جہاں سے یہ مہر غلامی میری جبیں پر کندہ کی گئی تھی ایک آدھ بار کسی ویرانے کی راہ بھی اپنائی مگر مجھ جیسے سیاہ پوش کو ویرانہ بھی راس نہیں آتا تھا وہاں میری خبر زیادہ تیزی سے پھیلتی اور پھر جمع ہوتی خلقت کی وجہ سے اس ویرانے کی حرمت بھی مجروح ہوجاتی تھی میں دنیا کو دھتکارتے دھتکارتے تھک کر نڈھال ہوچکا تھا کیسی عجیب ہے یہ دنیا جب انسان اسے اپنانا چاہتا ہے یہ اسے دھکے دے کر دور بھگاتئ ہے خوار اور اوازار کرتی ہے۔ہر پل سسکا کر تڑپاتی ہے مگر جب وہی انسان دنیا سے بےزار ہوکر اسے لات مارتا ہے اور کنارہ کش ہونے کی کوشش کرتا ہے تب یہی دنیا خود اس کے قدموں سے لپٹ کر اسی انسان کی منتیں اور ترلے کرتی ہے کہ وہ اسے ٹھکرا کر نہ جائے اور پھر مجھ جیسوں کا سفر بھی بھلا کیا سفر تھا میرے لیے تو سب علاقے جگہیں لوگ موسم اور رویے سبھی ایک جیسے تھے کم از کم خان والے ریلوے اسٹیشن پر میرے پوشیدہ رہنے کے لیے ایک بھیس تو موجود تھا لہذا مختلف علاقوں کی خاک چھاننے کے بعد میں دوبارہ اسی جگہ پہنچ گیا جس کی مٹی سے میرے آس نئے بہروپ کا خمیر اٹھایا گیا تھا مجھے واپس وہاں پا کر سارے اسٹیشن پر جشن سا برپاہ ہوگیا اداس بیٹھے خان نے نعرے لگا لگا کر آسمان سر پر اٹھا لیا…
سائیں کیا بتاوں تم کو۔۔جب سے تم روٹھ کر گئے ہو میرا سارا دھندا مندا ہوگیا ہے۔۔سب پریشان ہیں کہتے ہیں سائیں کی برکت اٹھ گئی ہے یہاں سے اسی لیے کال پڑگیا ہے۔مگر اب یہ ویرانی دور ہوجائے گی۔بس سائیں ۔۔ اب ہم سب کا بیڑا پار ہے میں چپ چاپ بیٹھا اس بے وقوف کی داستان سنتا رہا اور دور سے تکتی قدرت مجھ پر قہقہے لگاتی رہی۔دوسرے روز علاقے کی ایک پرانی بند ٹرین پھر سے رواں کر دی گئی۔ہجوم بے قابو سا ہوگیا عجب مداری بنا کر رکھ ڈالا تھا اس تقدیر نے مجھے۔ٹھیک ہے۔۔یوں پے تو پھر یوں ہی سہی مقدر سب سے بڑا بازی گر ہے سو میں نے بھی قدرت کی ڈگڈی پر ناچتے رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔
میں سارا دن سر جھکائے درخت تلے بیٹھا رہتا اور لوگ آتے جاتے رہتے ایسی ہی ایک گرم دوپہر جب پرندے بھی آگ برساتے سورج سے بچنے کے لیے اپنے ٹھکانوں میں پر سمیٹے بیٹھے تھے پلیٹ فارم ہر اچانک ہلچل سی مچ گئی۔پتہ چلا کے علاقے کا سب سے بڑا زمیندار کی تیسری نئی نویلی دلہن اپنی خادماوں اور خاص کارندوں کے جھرمٹ میں تشریف لائی ہیں۔نوکرانیوں نے نذر نیاز کی پراتیں میرے قدموں میں رکھ دیں اور غلاموں نے اردگرد لگی بھیڑ کو جھڑک کر پرے بھگا دیا لڑکی نوجوان تھی اور اس کو سب چھوٹی سرکار کے نام سے پکار رہے تھے۔وہ میرے قریب آکر بیٹھ گئی میں سرجھکائے بیٹھا رہا اس کی چوڑیاں کھنکیں ۔۔
میرا نام گل ناز ہے جوگی سائیں۔۔رب کا دیا سب کچھ ہے پر گود ابھی بھی سونی ہے آپ کی ایک نظر چاہیے۔اس کی نرم اور ملائم آواز پر میں نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا واقعی وہ اسم باسمی تھی اپنے نام کی طرح جس پر پھول بھی رشک کریں۔وہ گل ناز تھی۔سنہری دمکتا رنگ آنکھوں میں کاجل اور ناک میں سونے کا لونگ سیاہ کڑھی ہوئی شال لپیٹے وہ خود گلاب کا پھول لگ رہی تھی۔پل بھر میں ہی مجھے اس کے حسین چہرے میں سب سے پہلے دعا۔پھر آمنہ پھر لیلی صباہ اور عینی کا چہرہ کا چہرہ جھلکتا ہوا نظر آیا میں نے گھبرا کر جلدی سے آنکھیں بند کر لیں۔۔
نہیں اب اور نہیں۔۔بس عورت چلی جا یہاں سے جا۔پھر کھبی اپنی صورت نہ دکھانا مجھے گل ناز ڈر کر پیچھے ہٹی تو خان دور سے بھاگتا ہوا آیا جوگی سائیں جلال میں آگیا چھوٹی سرکار بس سمجھو آپ کی مراد پوری ہوئی لڑکی ابھی تک گھبرائی ہوئی تھی۔۔اچھا میں تو سمجھی تھی کہ سائیں مجھ سے ناراض ہوگئے خان نے بڑے زعم سے جواب دیا یہی تو بات ہے ہمارے سائیں کی عورت اور پیسے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا مگر آج تک جس کو بھی سائیں نے ڈانٹا۔۔اس کی نیا پوری ہوئی۔۔
گل ناز کچھ دیر مزید عقیدت سے ہاتھ جوڑے میری قدموں میں بیٹھی رہی اور پھر دھیرے سے اٹھ کر خراماں خراماں واپس چلی گئی۔اگلے چند دنوں میں چاروں طرف یہ خبر پھیل چکی تھی کہ جوگی سائیں کو عورت اور خصوصا خوبصورت عورت سے کے وجود سے ہی نفرت ہے سب میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ حسن کا یہی زہر تو ہے جو ازل سے میری رگ رگ میں سرایت کر کے میری روح کو تمام عمر جھلساتا رہا ہے اور جل جل کر اتنی بار راکھ ہوچکا ہوں کہ اب چنگاری باقی نہیں رہی پھر ایک دن ایک نوجوان جوڑا جھجھکتے ہوئے میرے پاس آیا۔لڑکی اور لڑکا دونوں کافی سہمے ہوئے لگتے تھے لڑکے نے بند مٹھی کھولی اور پچاس روپے کا مڑا تڑا سا نوٹ میرے قدموں میں ڈال دیا ہمارے لیے دعا کریں سائیں جی کہ ہماری شادی ہوجائے ہم دونوں کے گھر والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور ہمارا رشتہ ناممکن ہے میں نے ہنسوں کے اس جوڑے کی طرف دیکھا صرف پچاس روپے میں شادی چاہتے ہو۔؟اتنا سستہ ہے تمہارا رشتہ
لڑکا کچھ شرمندہ سا ہوگیا میرے پاس تو فی الحال بس اتنے ہی ہیں میں نے نوٹ خو پرے کردیا اتنے پیسوں میں جوگی سائیں شادی نہیں کرواتا لڑکے نے پریشان ہوکر لڑکی کی طرف دیکھا لڑکی نے جلدی سے اپنے کانوں میں پہنی ہوئی سونے کی بالیاں اتار کر میرے سامنے رکھ دیں۔میں نے لڑکے کی طرف دیکھا لگتا ہے یہ تم سے زیادہ محبت کرتی ہے یہ بالیاں واپس اٹھا کو لڑکی محبت اگر سچی ہوئی تو بزات خود دنیا کی سب سے بڑی دعا بن جاتی ہے۔واپس چلے جاو تم دونوں اپنے گھر کو۔اور اس امید کے ساتھ جاو کہ تمہاری محبت ہی تمہاری دعا ہے تمہاری منت اور تمہارا تعویز ہے وہ دونوں یوں خوش باش سے اٹھے جیسے آج ہی ان کا رشتہ طے ہوگیا ہو۔اف یہ محبت کرنے والوں کی زود فہمیاں
محبت کرنے والے ہمیشہ ایک دوسرے و پانے کی دھن میں کیوں سر گرداں رہتے ہیں۔۔؟
کاش یہ ناداں جان پاتے کے دنیا میں کسی کا محبوب ہونا ہی کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے محبت کو تو محبوبیت سے غرض ہونی چاہیئے نہ کہ وصل یا وصال سے کسی کا محبوب ہونا کتنا بڑا عقیدہ مرتبہ ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے مجھ جیسے تو اپنی تمام عمر اسی مسند پر ایک لمحہ بیٹھنے کے لیے ترستے رہتے ہیں۔اپنا سارا جیون جلا دیتے ہیں مگر وہ پل بھر کے لیے بھی کسی کا محبوب نہیں بن پاتے اور پھر میری طرح یہی ایک خواہش دل میں لیے ہمیشہ کے لیے خاک میں مل کر خاک ہو جاتے ہیں میرے خاک ہونے کے دن بھی قریب آرہے تھے میری حالت اب زیادہ طر بتر رہنے لگی تھی۔مجھے دن تاریخ مہینے اس سنہ سے اب کوئی سروکار نہیں تھا مگر دور کھڑے خان کے ٹھیلے پر بدلتے ریلوے کے لائسنس سے اتنا پتہ چل جاتا تھا کہ مجھے گھر چھوڑے پانچ سال سے بھی زائد عرصہ ہوچکا تھا اور پھر موسم نے کروٹ بدلی اور جاڑے کی سردی اور کہرے نے ماحول پر اپنا سفید غلاف لپیٹ دیا۔میں رات گیلے لحاف تلے بارش میں بھیگتا رہا اور نتیجہ اگلے روز صاف ظاہر تھا۔خان کسی کام سے مجھے اٹھانے تو میرا ہاتھ چھوتے ہی اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔۔
اوہو۔۔تمہیں تو شدید تیز تپ چڑھی ہے سائیں۔میں ابھی حکیم صاحب کو لے کر آتا ہوں خان الٹے قدموں واپس بھاگ گیا میں نے آواز دے کر اسے روکنے کی کوشش کی کہ اب یہ روگ حکیم طبیب یا ویدوں کے بس سے باہر کی بات ہے ڈاکٹر اور طبیب مرض کا علاج کر سکتے ہیں مریض کا نہیں خاص طور پر جب مریض مجھ جیسا ہو کہ جیسے خود اپنے فنا ہونے کا انتظار سب سے زیادہ ہو۔میں نے کود کو تباہ اور برباد کرنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے تھے مگر یہ زندگی بھی اس دوغلی دنیا جیسی ہی تھی جو اس سے جان چھڑانا چاہے یہ اسی کے دامن سے لپٹی رہتی ہے خان گھنٹے بعد ہی کسی بزرگ حکیم کی جڑی بوٹیوں سے بنی دواوں کا بکسہ ہاتھ میں تھامے دوبارہ نمودار ہوگیا۔حکیم صاحب نے میری نبض دیکھ کر تشویش سے سر ہلایا۔خان غور سے ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا حکیم نے چمڑے کے بکس میں سے چند سفوف نکالے اور یکجا کر کے تین چار پڑیاں سی بنا دیں یہ لو خان میاں۔۔صبع دوپہر شام دن میں تین مرتبہ سادے پانی میں گھول کر پیلانی ہے یہ دوا۔سردی لگ گئ ہے تیرے سائیں کو۔۔بہت احتیات کی ضرورت ہے خان نے کسی تجربہ کار اور مستند تیمار دار کی طرح میرے طبیب کی ساری ہدایات ازبر کر لیں شاید غالب نے خان جیسے ہمدردوں کے لیے ہی کہا تھا کہ ۔۔
پڑیئے گئے بیمار
کوئی نہ ہو تیمار دار
مگر میری تیماردار کسی صورت میرا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔حکیم صاحب نے مجھ دے یہ نہیں پوچھا کہ یہ جو میں ساری خلقت کو دعائیں بانٹتا پھرتا ہوں خود اپنے لیے شفا یابی کی دعا کیوں نہیں کرتا حکیم نے جاتے جاتے میرا شانہ تھپتھپایا اور مسکرا کر بولے فکر نہ کریں سائیں جی جلدی ہی بھلے چنگے ہو جائیں گے ۔۔۔,

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: