Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 29

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 29

–**–**–

میری زبان بے ساختہ پھسل پڑی۔کچھ مزید بیمار کرنے کی دوا بھی کرتے ہیں آپ۔؟
حکیم صاحب نے چونک کر میری طرف دیکھا۔نہیں۔مجھے صرف شفا دینے کا حکم ہے۔۔سو اپنی کوشش جاری رکھتا ہوں۔مگر لگتا ہے یہ ہنر آپ نے خوب سیکھ رکھا ہے۔مگر تقدیر سے لڑنا کا کچھ فائدہ نہیں سائیں جی جو جتنی سانسیں لکھوا کر لایا ہے۔۔اسے اتنی جینی ہیں ۔۔خود کو سزا دینا مناسب نہیں خان حیرت سے میرے اور حکیم صاحب کے درمیان ہونے والا یہ مکالمہ سن رہا تھا حکیم صاحب جانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔۔
دنیا کی ہر طب کا تعلق کسی نہ کسی طور انسان کے اعصاب اور اس کی شفایابی کی خواہش سے ضرور ہوتا ہے۔۔جینے کی خواہش اور صحت کی آرزو بیمار عضو کت خلیوں کے دروازے دوا کو اندر کشید کرنے کے لیے کھول دیتی ہے ورنہ سب دعائیں ناکام و نامراد واپس لوٹ جاتی ہیں۔اپنے جینے کی کوئی وجہ پیدا کیجئے صاحب۔۔
حکیم صاحب پلٹ گئے۔کسی نے سچ کہاں ہے کہ حکمت کا تعلق صرف علاج اور دوا دارو کے علم سے نہیں ہوتا۔انسان کے اندر جھانک لینا ہی اصل دانش و حکمت ہے۔۔۔اس چھوٹے سے قصبے کا یہ حکیم بھی کچھ ایسا پی دانا تھا۔جو انسان کی صرف نبض ہی دیکھنا نہیں جانتا تھا اس نبض کی بولی بھی پڑھ سکتا تھا۔خان شد و مد سے حکیم صاحب کی ہدایات کے مطابق میری تیمارداری میں جٹا رہا۔۔تیسرے دن ڈھول بتاشوں کے ساتھ ایک ہجوم نذر و نیاز کی دیگیں سبز چادریں سنہری غلاف اور نہ جانے کیا کچھ اٹھائے ہوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ پہنچا۔عقدہ کھلا کہ زمیں دار صاحب کی خدا نے سن لی ہے اور ان کی گل ناز نے انہیں خوش خبری سنا دی ہے کہ انشاءاللہ جلد ہی ان کی آنگن میں پھول کھیلنے والا ہے۔تھوڑی دیر میں جشن منانے والے یک دم خاموش اور مودب سے کھڑے ہوگئے پتہ چلا کہ زمیں دار صاحب خود تشریف لا رہے ہیں۔زمیں دار پکی عمر کا ایک سخت گیر اور جہاں دیدہ شخص دکھائی دیتا تھا۔گل ناز بھی اس کے ساتھ میری قدم بوسی کے لیے آئی تھی۔اس نے دور سے ہی اشارہ کر کے اپنے سر کے دائیں کو میری نشان دہی کروادی زمیں دار مودب سا میرے سامنے قریب آکر بیٹھ گیا میں پہلے اس جھلی کی باتوں پے یقین نہیں کرتا تھا سائیں جی۔۔بچہ تو مرد کے نصیب سے ہوتا ہے میں اسے ہمیشہ یہی سمجھاتا رہا پر یہ چھپ چھپ کر پیروں فقیروں کے ڈر پر منتیں مانگتی رہی اور چڑھاوے چڑھاتی رہی۔مگر اس کے نصیب کا چڑھاوا تک تو یہیں اسی قصبے کے ریلوے پلیٹ فارم پر انتظار کر رہا تھا۔آپ بھی ہماری یہ نذر نیاز قبول کرو ل۔۔اور ہاں۔۔آج کے بعد آپ کا تین وقت کا کھانا میری حویلی سے آیا کرے گا خدا کے لیے انکار نہ کرنا میں نے سرجھکائے شرمائی سی بیٹھی گل ناز کی طرف دیکھا سارا اسٹیشن دور کھڑے یہ تماشا دیکھ رہا تھا میں چپ رہا۔۔مگر صاف نظر آرہا تھا کہ میرے لیے مزید مشکلات منہ کھولے میری جانب بڑھ رہی ہیں اور میرا رہا آیا چین اور سکون بھی غرک ہونے والا ہے۔میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ اب مزید اس پلیٹ فارم پر جمے رہنا ان کم زور عقیدہ لوگوں کو ذیادہ بھٹکانے کا باعث ہوگا۔میں نہیں جانتا تھا کہ تنہائی بھی کسی کے لیے اتنی بڑی نعمت ثابت ہوسکتی ہے کہ وہ کم نصیب اس کے لیے ترس ہی جائے میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جتنا میں تنہا رہنا چاہتا تھا۔میرے گرد ہجوم اس قدر بڑھتا جارہا تھا رات گئے ایک مال گاڑی اسٹیشن پر لگی تو میں نے اپنے بکھرے وجود کو سمیٹا۔پلیٹ فارم پر لگے گھڑیال نے رات کے تین بجے کا اعلان کیا
اور میں دھیرے دھیرے رینگتی ہوئی مال گاڑی میں سوار ہوگیا خان سمیت سارا پلیٹ فارم چین کی نیند سو رہا تھا میں ایک نسبتا خالی بوگی میں فرش پر بکھرے خشک بھوسے پر نیم دراز ہوگیا اگلی دوپہر کسی نے بوگی کا اہنی دروازہ سرکایا تو میری آنکھ کھل گئی۔کوئی ریلوے اہلکار تھا مجھے دیکھ کر ان نے درشت لہجے میں پوچھا۔۔
تم کون ہو۔۔اور یہاں خالی بوگی میں کیا کر رہے کو ۔۔؟
میں نے دھیرے سے جواب دیا فقیر ہوں۔ٹکٹ کے پیسے نہیں تھے اس لیے یہاں بیٹھ گیا۔تم سپنا سامان دیکھ لو میں نے کچھ بھی نہیں اٹھایا۔۔
ریلوے اہلکار کا لہجہ تبدیل ہوگیا۔۔میرا یہ مطلب نہیں تھا بادشاہو۔۔پر آپ کو کہا جانا ہے۔۔یہ مال گاڑی تو ہفتہ بھر اسی جنکشن پر لگی رہے گی۔۔کوئی خدمت ہمارے لائق تو بتاو نہیں۔۔تمہاری مہربانی۔۔میں یہیں ستر جاتا ہوں۔۔
میں چپ چاپ گاڑی ست اتر کر ایک طرف ہوگیا۔ریلوے اسٹیشن سنسان پڑا تھا شاید یہاں گاڑیوں کا گزر کم ہی ہوتا ہوگا۔سہ پہر کی دھوپ ڈھل رہی تھی۔مجھے ریلوے پلیٹ فارم کا ایک برا تجربہ پہلے ہی ہوچکا تھا لہذا اس بار میں نے پلیٹ فارم پر ڈیرہ جمانے کی بجائے قصبے سے دور جاتی ایک پکڈنڈی کی راہ لی سارا راستہ کیکر اور کانٹوں سے آٹا پڑا تھا اور دور دور تک سبزے کا نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا درخت اور جھاڑیاں خشک پڑی ہوئی تھیں اور راستے پر دھول اڑتی رہی عجیب قحط سالی کی سی کیفیت طاری تھی سارے علاقے میں۔میں نے ایک خشک ہوتے جوہڑ سے پرے ڈیرہ جمانے کا فیصلہ کیا جہاں ایک بوڑھے درخت کی بے تحاشہ پھیلی ہوئی شاخوں اور جڑوں نے ایک مسکن سا بنا رکھا تھا شام ہونے سے پہلے میں نے اس پاس کی تھوڑی سی جگہ سے کنکر اور کانٹے ہٹا کر اپنے گزارے کےلیے تھوڑی سی زمین صاف کر لی لیکن اس ذرا سی مشقت نے ہی مجھے نڈھال کر کے رکھ دیا تھا۔میں وہیں درخت سے ٹیک لگا کر سستا رہا تھا کہ دور سے ایک بوڑھا شخص سائیکل پر کسی بچے کو بٹھائے خراماں خراماں پیڈل مارتے میرے قریب ست گزرا اور پھر آگے جا کر نہ جانے اسے کہا خیال آیا کہ وہ دوبارہ میری طرف پلٹا میں نے بے زاری سے آنکھیں بند کر لیں۔پھر وہی آدم زاد۔۔؟بوڑھے نے میرے قریب آکر اچھی طرح میرا جائزہ لیا۔میں چپ رہنے میں ہی عافیت جانی۔بوڑھے نے مجھ سے پوچھا اس علاقے میں نئے آئے لگتے ہو جی۔۔میرا نام مہر دین ہے۔۔اور یہ میرا پوتا کمالا۔۔کوئی روٹی ٹکر چاہیے ہو تو بتاو جی۔۔میں اس علاقے کا ڈاکیا ہوں
میں نے دور کھڑی سرخ سائیکل کے پیے سے کھیلتے بچے پر نظر ڈالی نہیں میرے پاس جھولے میں کچھ چنے اور گڑ موجود ہے۔۔مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔تم جاو یہاں سے ۔۔بوڑھے مہر دین پر میری کرختگی کا کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا۔وہ آس پاس میلوں دور پھیلی بنجرو بے آباد زمین خو دیکھتے ہوئے حسرت سے بولا صاف پانی کا بڑا کال پے یہاں پر انسان اور جانور۔بندے اور ڈنگر سارے اسی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔برسوں سے بارش کا ایک چھینٹا بھی نہیں برسا یہاں پر۔۔میں کوشش کرو گا کہ کہیں سے ایک صراحی صاف پانی لادوں تمہیں۔۔
بوڑھا اٹھ کھڑا ہوا چل کمالے۔۔تیری ماہ راہ دیکھتی ہوگی مہر دین اپنی سائیکل کی طرف جاتے جاتے دو پل کے لیے روکا جوگی اور سائیں لوکوں کی دعا میں بڑا اثر ہوتا ہے۔۔ہمارے علاقے کے لیے دو بول پڑھ دینا جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاو میں خاموش رہا۔۔مہر دین نے ایک لمبی سی ٹھنڈی آہ بھری اور آگے بڑھ گیا۔۔میں نے سکون کی سانس لی اور آنکھیں موندھ لیں۔۔مگر سکون بھلا کب لکھا تھا لکھنے والے نے میرئ قسمت میں۔۔اگلی صبع جب میری آنکھ کھلی تو آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔کچھ دیر میں ہی وہ زور کا مینہ برسا کہ ہر طرف جل تھل ہوگیا۔اچانک ایک جانب شور سا اٹھا میں نے گھبرا کر دیکھا تو مہر دین ایک ہجوم کی قیادت کرتا ہوا میری جانب دوڑا چکا آرہا تھا..
خلیل خبران نے کہا تھا۔جب کھبی میں نے صبر کی زمین میں اپنے درد کا پودا سینچا بدلے میں اس نے مجھے خوشی کا پھل دیا۔۔
مگر شاید میرے نصیب میں صرف غم اور پریشانی کے تنا درخت ہی لکھے تھے۔مہردین اور اس شور مچاتے ہجوم کی صورت ایک نئی مصیبت میری جانب بڑھی چلی آرہی تھی بارش کی بوچھاڑ تیز تر اور ان سب کے نعروں کا شور ہنگامہ خیز تھا پاوں میں پرانے چپل اور سروں پر ناکافی اور چھید ڈلی برائے نام چھتریاں وہ سب میرے قریب پہنچے تو میرے بھپرے ہوئے تیور دیکھ کر خاموشی سے کھڑے ہوگئے۔کچھ لمحوں تک ہمارے درمیان صرف برستی بوندوں کی بولی مترجم کے فرائض سرانجام دیتی رہی مگر دنیا کا سب سے مشکل کام شاید خاموش رہنا ہے۔سو ان سب کو بھی یہ خاموشی کھلنے لگی۔اور پھر مہردین نے ہی سب سے پہلے ہمت کی اور ہلکے اے کھنکار کر بولا۔۔
یہ سب تمہارا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں سائیں لوکو۔۔میں تو کل ہی سمجھ گیا تھا کہ اب اپنے اس بنجر اور خشک علاقے کی قسمت بھی کھلنے والی ہے۔مگر تم نے تو ایک رات میں ہی کرشمہ کر دیکھایا۔میں نے درشت لہجے میں سب کو دھتکارا۔یہ بوڑھا مہردین دیوانہ ہوگیا ہے شاید۔۔اور تم سب بھی بڑے بدھو ہو جو اس کی باتوں میں آکر یہاں چلے آئے ؟
بارشیں اپنے وقت پر ہی برستی ہیں۔۔چاہے آسمان کے بادلوں کی ہوں یا پھر نصیب کی۔۔جاو جا کر پانی ذخیرہ کرنے کی کوئی تدبیر کرو۔ورنہ پھر سالوں تک پانی کو ترستے رہوگے
پتہ نہیں انہیں میری بات کتنی سمجھ آئی اور کتنی رائیگاں گئی مگر ان میں سے کچھ بزرگ اور پکی عمر کے چند لوگ آگے بڑھے۔کسی نے چادر کسی نے چاول گڑ اور چنوں اے بھرے جھولے میرے سامنے خالی کردیئے۔کوئی جیب میں چند سکے بھر کے لایا تھا تو کسی نے دودھ سے بڑی گڑوی میرے سامنے دھر دی۔مہردین رو پڑا ۔ہمارے پاس بس یہی کچھ ہے سائیں لوکو۔اسے قبول کر لو اور وعدہ کرو اب تم یہاں سے کہیں نہیں جاو گے ہمیشہ ہمارا سایہ بن کر یہیں ڈیرہ ڈالے رہو گے ۔۔۔
میں نے اپنا ست پکڑ لیا۔ان لوگوں کو مزید سمجھانا بے فائدہ تھا اس لمحے میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اس برستی بارش سے لڑ پڑوں۔انسان اپنی ظاہری دشمن سے جنگ لڑ سکتا ہے۔اسے ہرا کر شکست دے سکتا ہے۔اپنی فتح۔جیت سکتا ہے۔مگر قدرت ہی دشمن ہوجائے تو کوئی کیا کرے۔۔؟
تقدیر کا وار ہمیشہ سات پردوں میں چھپے اور خفیہ ہوتے ہیں۔جیسے گھات میں چھپا کوئی دشمن اچانک گائل کر جائے۔میں مقدر کے ہاتھوں زخمی ہوکر وہیں۔درخت کے نیچے بیٹھا بھیگتا رہا۔مگر کچھ بارشیں صرف بنجر دھرتی کو سیراب کرنے کے لیے برستی ہیں جو دل کے سلگتے آنگن کو بھگودے۔ایسا ساون میری قسمت میں بھلا کب تھا۔۔؟
اگلے روز مہردین میرے پاس آیا تو میں نے سختی سے اسے منع کیا کہ اگر اس بستی والوں نے مجھے زیادہ تنگ کیا یا آس پاس کے علاقوں میں اس اتفاقیہ بارش کا خوامخواہ چرچا کیا تو میں چپ چاپ یہاں سے آٹھ کر کیسی دوسری جانب نکل جاوں گا۔مہردین نے فورا اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور قسم کھائی کہ وہ ایسا۔۔گناہ ۔۔کرے گا اور نہ کسی اور کو کرنے دے گا ۔۔
میرے پاس اس کے علاوہ اور چارہ بھی کیا تھا؟ کسی نئی بستی یا کسی جنگل کی جانب نکلنے سے پہلے کچھ دن یہاں بتانا اب ناگزیر لگنے لگا تھا۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اس بار یہ جوگی سائیں کا لقب اور ان بھولے بھولے لوگوں کی یہ ضعیف اعتقادی کا بت ہمیشہ کے لیے توڑ کر ہی آگے بڑھوں گا مہردین نے میری دھمکی شاید موثر انداز میں بستی کے لوگوں تک پہنچا دی تھی اس لیے چند دن سکون رہا البتی عصر کے بعد تک کے وقفے میں اکاد کا ضرورت مند مجھ سے کچھ فاصلے پر دور پگڈنڈی پر آبیٹھتے اور دور ہی سے دعا کی التجا کر کے واپس پلٹ جاتے۔انسان اور دعا کا بھی کتنا پرانا اور ازلی رشتہ ہے جانے کائنات کی دعا پہلے وارد ہوئی ہوگی یا انسان۔۔؟میں دن بھر خود کو یہاں وہاں الجھائے رکھنے کی کوشش میں کسی نہ کسی طور پر صبع سے شام تو کرلیتا تھا مگر شام ڈھلتے ہی اس کہ یادیں کالی رات کے سایوں کی طرح مجھے گھیر لیتی تھیں۔جانے وہ کیسی ہوگی واپس آکر اس نے دوبارہ اپنا ریڈیو پروگرام شروع کیا ہوگا کہ نہیں۔۔؟اب وہ کیسی دکھتی ہوگی۔؟کچھ چہروں کا حسن صرف ضرب کھانا جانتا ہے۔کھبی تقصیم نہیں ہوتا وہ بھی دوگنی چوگنی دل کش حسین ہوچکی ہوگی۔کاش دنیا کے کسی جراح کے پاس تو وہ نشتر ہوتا جو ایک ہی چرکے میں ہمارے سارے جسم سے ان کی یادوں کا سارا زہر نکال دیتا۔۔
اگلے روز مہردین کے ساتھ ایک دوسرا بوڑھا بھی کھنکارتے ہوئے عصر کے بعد میرے قدموں میں آکر بیٹھ گیا۔۔یہ شکور دیں ہے سائیں لوکو۔۔۔اپنا شکورا۔۔اس کی نواسی کو بڑے زور کا بخار ہوگیا ہے۔۔اگر آپ کی اجازت ہوتو دعا کے لیے یہاں لے آئیں۔۔میں نے ناگواری سے مہردین کی طرف دیکھا اس نے جکدی سے وضاحت پیش کی۔میں نے اسے بہت سمجھایا ہے سائیں پر یہ جھلا میری بات سمجھتا ہی نہیں۔۔کہتا ہے سائیں کے روبرو دعا کی درخواست کر کے دیکھو۔۔بڑا مجبور ہے یہ بیچارہ۔۔اس کی سکینہ کو جن آتے ہیں ہیں جناب دور کی دعا سے وہ شیطان بھلا کہاں جان چھوڑیں گئے ان کی
میں نے جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا کہ میں دعا کردوں گا۔اگر تین دن تک لڑکی کی طبعیت نہ سنبھلے تو اسے لے آنا۔ان دور دراز کے علاقوں میں جو ان لڑکیوں کی مختلف گھریلو معاشرتی مسائل کی وجہ سے ہسٹیریا(Hysteriya)اور دیگر نفسیاتی دورے پڑتے رہتے ہیں جن کا دورانیہ چند گھنٹوں کا ہوتا ہے میرا خیال تھا کہ شکورے کی نواسی بھی ایک آدھ دن میں بھلی چنگی ہوجائے گی۔مگر ہمیشہ کی طرح میری یہ خوش فہمی بھی تیسرے دن ہی دور ہوگئی جب شکورا سیاہ چادر میں لپٹی ایک گم سم سی لڑکی خو لے کر میرے ٹھکانے پر آپہنچا۔۔میں خود اپنے ہی الفاظ کے جال میں پھنس چکا تھا۔بادل نخواستہ میں نے دکھاوے کے طور پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔گلابی شام کے ڈھلتے سورج کی کرن سے سکینہ کے ناک کا لونگ پل بھر کے لیے چمکا تو ایک لمحے کے لیے میری نظر اس کی نظر سے ٹکرائی۔اف۔کس قدر ویران آنکھیں تھیں۔کسی برباد شہر کی طرح۔۔جس کو سب کچھ لوٹ کر جاتے ہوئے لٹیرے اسے ریل چھڑک کر آگ لگا گئے ہوں۔کچھ ایسا ہی دھواں اٹھتا محسوس ہورہا تھا مجھے سکینہ کی ان جلتی آنکھوں سے شکورا اپنی دھن میں بولے جارہا تھا۔کچھ عرصہ پہلے تک بلکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ہنستی بولتی تھی۔ساری سکھیوں سمیت پورے گاوں میں اودھم مچاتئ پھرتی تھی۔کوئی بھی محفوظ نہیں تھا ان کی شیطانیوں سے۔۔باغوں میں جھولے جھولتی تھیں۔ایک سہیلی کی چھت سے دوسری کی چھت پر کد کڑے لگاتی پھرتی تھی۔پھر نہ جانے کیا ہوا۔رفتہ رفتہ اسے چپ لگتی گئ ساری ہنسی اور قہقہے کھوگئے اور یہ ایسی ہوگئی اس کی نانی کہتئ ہے کہ وہ اس لیے ان کڑیوں کو شام ڈھلنے کے بعد ویران جگہوں پر جانے سے منع کرتی تھی ضرور کسی ویران درخت تلے بیٹھے اسے کوئی جن چمٹ گیا ہے۔بس سائیں جی۔۔بس اب تمہاری دعا کا ہی آسرا ہے ۔کچھ ایسا پڑھ کر پھونکو کہ میری سکینہ پھر سے پہلے جیسی ہوجائے
اس تمام عرصے میں سکینہ دونوں سے لا تعلق سی بیٹھی کچی زمین پر ایک تنکے کی مدد سے لکیریں بناتی مٹاتی رہی ڈھلتی شام میں اس کے چہرے کی پیلاہٹ نے آس پاس کے ماحول میں سرسوں سی بکھیر رکھی تھی۔میں نے بنا کچھ کہے چپ چاپ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔میری دیکھا دیکھی پہلے شکورے اور پھر سکینہ نے بھی اس کی تقلید میں ہاتھ دیئے۔خود اپنے لیے دعا مانگتی وہ مجھے بہت معصوم لگی۔میں نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر شکورے سے کہا۔۔
اسے کسی اچھے حکیم یا طبیب کو دکھاو ہوسکے تو شہر لے جا کر کسی بڑے ڈاکٹر سے علاج کرو او۔۔دعا کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے ۔۔
شکورے نے اہ بھری۔۔آپ ٹھیک کہتے ہیں سائیں جی۔۔پر یہ پگلی کسی کی سنتی کب ہے میں نے شہر چلنے کا کہا تو صاف انکار کردیا اس نے۔۔کہتی ہے اس کا جو ہونا ہے ادھر ہی ہونا ہے میں نے غور سے سکینہ کی طرف دیکھا۔
کیوں لڑکی ۔۔کیوں تنگ کرتی ہو اپنے بزرگوں کو بات مان کیوں نہیں لیتی ان کی ؟؟؟؟
سکینہ میری ڈانٹ سے گھبرا سی گئی۔۔جی۔۔وہ۔۔مجھے لگا کہ وہ اپنے نانا کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کر پا رہی۔سر جھکا کے بس اتنا ہی بول پائی۔۔ٹھیک ہے جی۔۔آپ کہتے ہیں رومان لوں گی شکورا خوش ہوگیا۔۔دیکھا سائیں۔۔میں جانتا تھا اس کا علاج تمہارے پاس ہی ملے گا شکورا سکینہ کو ساتھ لیے واپس پلٹ گیا۔مگر یہ جانے کیوں ان دونوں کے جانے کے بعد بھی بہت دیر تک مجھے سکینہ کی ویران کالی سیاہ سی آنکھیں اپنے آس پاس بھٹکتی ہوئی محسوس ہوتی رہیں۔سورج کی زردی شب کی سیاہی تبدیل ہوئی رات کا چاند سکینہ کے چہرے کا سورج مکھی لیے آسمان پر نمودار ہوگیا۔جانے وہ کیا کہنا چاہتی تھی۔۔؟اس کی آنکھوں میں زمانے بھر کا وہ کرب کیسا تھا۔۔؟
اگلی صبع مہردین تازہ پانی کی صراحی لایا تو اس نے خود ہی شکورے کا ذکر چھیڑ دیا۔کل دے ذرا سکون ہے بیچارے کے گھر میں۔کیسی ہنستی بولتی چڑیا تھی اس بد نصیب کے گھر کی۔اب تو جیسے منہ میں زبان ہی نہیں ہے اس کے
میں نے شکورے کی طرف دیکھا۔اچانک ایسا کیا ہوگیا اسے
اور اس کی یہ حالت کب سے ہے ۔۔؟
تین سال ہوگئے ہیں سرکار۔بہت علاج کروایا بڑے پھیرے لگائے ہیں شکورے نے آس پاس کی ساری بستیوں کے۔۔کوئی مزار کوئی درگاہ نہیں چھوڑی جہاں اس نے دعا نہ کی ہو علاقے کے سارے حکیم اور طبیب بھی تھک کر ہمت ہار چکے ہیں۔۔کسی نے شکورے کو مشورہ دیا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے لڑکی کو لے کہ کسی دور دراز بستی میں چلا جائے شاید ماحول بدلنے سے کچھ بہتر ہو۔مگر یہ طریقہ بھی بے فائدہ رہا۔۔آخر کار شکورے کو واپس لوٹنا پی پڑا۔ابھی چند دن پہلے جس رات تمہاری دعا سے علاقے میں بارش براہ تھی۔اس سے ایک رات پہلے ہی تو شکورا واپس لوٹا تھا اپنی سکینہ کو لے کر۔۔میں نے بے خیالی سے مہردین سے پوچھا کہاں لے گیا تھا شکوردین اپنی نواسی کو ۔۔؟
شکر گڑھ۔۔وہیں ریلوے پلیٹ فارم کے قریب پی گھر ہے اس کے داماد کا میں چونک سا گیا۔۔یہ تو وہی علاقہ تھا جس کے پلیٹ فارم پر خان کا کیبن واقع تھا۔کتنا عرصہ رہی سکینہ وہاں پر۔۔؟ لگ بھگ چھ ماہ۔۔مگر وہاں بھی اس جھلی کا من نہیں لگا بس دب بھر بیٹھی آسمان کو تکتی رہتی تھی پھر کچھ سوچ کے مہردین خود پی اداس ہوگیا اور پتہ ہے سائیں جی۔۔کھبی کھبی تو بالکل جوگنوں جیسی حرکتیں کرتی ہے۔۔اپنے آپ دے باتیں کرتی رہتی ہے مہردین کی بات سن کر میرے اندر کی بے چینی مزید بڑھ گئی۔میں نے مہردین سے کہا کہ وہ شام ڈھلنے سے پہلے شکورے کو میرے پاس بھیج دے۔سر شام ہی شکورا سکینہ سمیت آگیا۔۔حکم سائیں۔سکینہ کیسی ہے اب۔۔؟
شکوردین نے گہرا سانس لیا۔پہلے سے کچھ بہتر ہے سائیں ایک آدھ دن میں شہر کی بڑی ڈاکڑانی کو بھی دکھانے کے جاوں گا۔سکینہ کے باپ کو بھیجا ہے میں نے شہر۔۔ڈاکڑانی کا پتہ لگانے اور وقت لینے کے لیے ۔۔
میں نے اپنے اندر ابھرتے ایک عجیب سے موہوم خدشے کی تصدیق چاہی۔جب تم سکینہ کو دوسری بستی لے گئے تھے ماحول بدلنے کے لیے۔۔تب وہاں اس کا میل جول کن لوگوں سے تھا۔؟۔۔شکورے نے تاسف بھرے لہجے میں سکینہ کی حالت زار بیان کی۔وہ کب کس سے ملتی ہے سائیں جی۔وہاں بھی سارا دن گم سم بیٹھی رہتی تھی۔۔سکینہ اس وقت بھی ہم دونوں کی باتوں سے لاتعلق سی بیٹھی زمین پر تنکے کی مدت سے اپنا پسندیدہ کھیل کھیل رہی تھی۔اتنے میں گاوں سے ایک پکی عمر کا جوڑا آکر ہم سے کچھ دور فاصلے پر بیٹھ گیا عورت کافی پریشان نظر آرہی تھی۔مرد نے منت کی۔سائیں جی۔ ہمارا چھوٹا بیٹا بہت بیمار ہے
چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے دعا کرو کہ وہ ٹھیک ہوجائے بڑا تیز بخار ہے اسے تین دن سے میرا جی چاہا کہ میں انہیں بڑی طرح دھتکاروں میں نے مرد کو جھاڑا کہ وہ کسی ڈاکٹر لے پاس جانے کی بجائے یہاں کیوں آگیا ہے۔؟مرد نے بتایا کہ وہ کافی علاج کروا چکا ہے مگر بچے کی حالت نہیں سدھر رہی تنکے کی مدت سے زمین پر لکیریں کھینچتی سکینہ دھیرے سے خود کلامی کی ٹھیک ہوجائے گا صبع تک رب کی مرضی سے بس آج رات کی سختی ہے شکورا گاوں سے آئے ہوئے جوڑے سے بات چیت میں مصروف تھا اس لیے میرے علاوہ کسی نے بھی سکینہ کی یہ سرگوشی نہیں سنی۔ویسے بھی اس کی آواز اتنی دھیمی تھی جیسے وہ خود اپنے آپ سے بڑبڑا رہی ہو میں جانتا تھا کہ عورت اور مرد دعا لیے بنا وہاں سے نہین ٹلیں گے لہذا حسب معمول میں نے اپنے سدا کے خالی ہاتھوں کا کشکول ہوا میں بلند کرلیا۔اس جوڑے کے جانے کہ بعد شکورا اور سکینہ بھی اٹھ کت چلے گئے شکورے نے جاتے جاتے بتایا اگر شہر میں بات بن گئی تو وہ سکینہ کو کل شہر لے جائے گا۔میرے اندر کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی جیسے کوئی بہت بڑا سر بستہ زاز آپنے قفل کھولنے کر بے تاب ہو مگر میں اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے اس کی کنجی کہیں کھو بیٹھا ہوں۔اگلی صبع سورج کچھ زیادہ ہی ناراض سا نمودار ہوا اور اپنا غصہ جھلستی کرنوں کی صورت میں بن سایہ جانداروں پر برسانے لگا۔دوپہر سے پہلے ہی گزشتہ روز والا مرد بھاگتا ہوا آیا اور میرے قدموں میں گر گیا۔میرے کاکے کا بخار اتر گیا ہے سائیں۔۔کل رات تو ہم سمجھتے تھے کہ بس جان لے کر ہی چھوڑے گا یہ بخار اس کی۔بڑا تڑپا ہے ساری رات بستر پر جیسے کوئی مچھلی بن پانی کے تڑپتی ہے۔۔
سچ بتاوں سائیں تو میں امید چھوڑ بیٹھا تھا۔۔مگر پھر تمہاری دعا نے فجر کے بعد ایسا اثر دکھایا کہ سورج نکلنے تک میرا کاکا بھلا چنگا ہو کر اٹھ کے بیٹھ گیا سب تمہاری کرامت پے سائیں۔۔ساری تمہاری دعا کے کرشمے اور برکتیں ہیں قربان جاوں میں اپنے سوہنرے رب کے اس نے تمہیں ہم غریبوں کی مدت کے لیے بھیجا ہے اس بستی میں ۔۔
شکورا نہ جانے کیا کچھ کہتا رہا مگر میرے تو سارے لفظ ہی نہ جانے کہاں کھوچکے تھے کل ہی میرے سامنے سکینہ نے یہ سرگوشی کی تھی کہ شکورے کا بچہ رات بھر کی سختی کے بعد صحیح سفایاب ہوجائے گا اور اس کی کہی ہوئی بات ہو بہو ٹھیک ثابت ہوئی تھی۔یہ سب کیا ماجرا تھا اور پھر میرے ذہن میں یکے بعد دیگرے جھماکے ہوتے گئے سکینہ بھی اسی دن واپس اپنی بستی میں پہنچی تھی جس دن میں نے یہاں ڈیرہ ڈالا تھا اور پھر اسی رات اس علاقے میں برسوں بعد بارش برسی تھی۔دوسرا جھماکا ہوا اور مجھے مہردین کی بات یاد آگئی کہ سکینہ کے نانا سکینہ کو ماحول کی تبدیلی کے لیے اسی قصبے میں لے گیا تھا جہاں ریلوے پلیٹ فارم پر میرا ٹھکانہ تھا۔میں بے چینی میں کھڑا ہوگیا اور ادھر ادھر ٹہلنے لگا جہاں جہاں قدرت نے میری دعا کی لاج رکھی تھی۔وہاں آس پاس سکینہ کی موجودگی کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔میرا جی چاہا کہ میں اسی وقت بستی میں سکینہ کے گھر چلا جاوں۔مگر لوگ میری اس حرکت کا نہ جانے کیا مطلب لیتے۔؟
میں دو چار قدم بڑھ کر واپس پلٹ آیا اتنے میں دور پگڈنڈی پر سورج کی قہر برساتی دھوپ کی گرمی سے تپتی زمین سے اٹھتی سراب کی لہروں میں مجھے شکورے کا ہیولہ دھیرے دھیرے لاٹھی ٹیکتا ہوا شہر کی جانب جاتی بڑی سڑک کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دیا اس کے پیچھے سر جھکائے گٹھڑی سی بنی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ضرور وہ سکینہ پی ہوگی۔ایسے موقعوں پر انسان کے دل اور زبان سے ہمیشہ اس قسم کی غیر تشکرانہ فقرے ادا ہوتے ہیں کہ کاش میں اس وقت کچھ اور مانگ لیتا تو وہ خدا وہ مجھے بھی ضرور دیتا مگر ہم انسان بھی کتنے بھولے ہیں۔بھلا اس لمحے کس کو کچھ اور مانگنے کا خیال ہی کب آتا ہے ہمیں ٹھیک قبولیت کے لمحے قدرت جو عطا کرتی ہے۔ہم اسی کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے۔؟مگر میں ان لوگوں میں سے نہیں تھا مجھے اس لمحے شکورا اور سکینہ ہی اپنی ہر چاہت پر دعا کا بدل نظر آرہے تھے۔شکورا میرے قریب پہنچا تو گرمی کی وجہ سے بڑی طرح ہانپ رہا تھا۔۔
شہر کی بڑی ڈاکڑانی سے بات ہو گئی ہے سائیں جی اس نیماڑیں کو وہیں لے جارہا ہوں۔اس کے باپ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔اگر تمہارا حکم نہ ہوتا تو کھبی نہ جاتا۔دعا کرنا ہمارے لیے اگر بس وقت ہر مل گئی تو رات تک واپسی ہوگی۔ورنہ کل تیری خدمت میں حاضری دوگا۔۔
سکینہ حسب معمول سرجھکائے کھڑی تھی میں نے شکورے کو دو لمحے درخت کے نیچے سستانے کا اشارہ کیا سکینہ نے خود خو سمیٹا اور اپنے کم زور اور مضحمل سے وجود کو شکورے کے پیچھے چھپالیا شکورے نے سوالی نظروں سے میری طرف دیکھا میں نے اسے تسلی دی کچھ دیر سستالو۔شاید شہر جانے کی ضرورت نہ رہے اب۔۔تم شکر گڑھ کے اسٹیشن پر کھوکھا لگانے والے خان کو جانتے ہو۔۔؟
شکورے نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ہاں جی۔وہ میرے داماد کا ہمسایہ ہے وہیں ریلوے اسٹیشن کے باہر ہی تو کواٹر ہے میری بیاہتا بیٹی کا۔۔اور اس علاقے کا چودھری۔۔؟کھبی اس سے ملاقات ہوئی ہے ایک آدھ بار میں جب سکینہ کو لے کر ریاست پور کی بڑی درگاہ ہر دعا کے لیے گیا تھا تب وہاں چودھری صاحب بھی اپنی گھر والی کے ساتھ دعا کے لیے آئے ہوئے تھے۔وہیں دعا کرتے دیکھا تھا انہیں ۔۔
اب میرے پاس مزید شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی میں نے شکورے کو ایک جانب ہٹنے کا اشارہ کیا اور براہ راست سکینہ کی طرف دیکھا۔وہ میری نظروں کی کاٹ سے گھبرا کر مزید سمٹ گئی میری آواز خود میرے لیے اجنبی تھی۔۔کون ہو تم۔۔۔؟۔۔..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: