Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 3

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 3

–**–**–

مگر کچھ لوگوں کے خواب سدا خواب ہی رہتے ہیں۔میں بھی انہی میں سے ایک تھا دعا کو ٹیوشن پڑھاتے ہوئے مہینہ بھر ہونے کو آیا میرے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا کورس تقریبا ختم ہونے کو تھا۔بلکہ مرزا صاحب نے تو اب ہفتے میں صرف تین دن ٹیوشن اور تین دن خود دعا کی اپنی دہرائی کے لیے مقرر کر دیے تھے میری بے چینی بھڑتی جا رہی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ چند دن بعد یہ ٹیں دن کی ملاقات بھی ہمیشہ۔کے لیے ختم ہوجائے گی اس تمام عرصے میں دعا نے کھبی مجھ سے کورس کی کتابوں اور اپنی ٹیوشن کے ہوم ورک کے علاوہ کوئی بات نہیں کی تھی مگر پھر بھی ناجانے کیوں مجھ کو ایسا لگتا تھا کہ ہم دونوں اس ایک گھنٹے میں زمانے بھر کی باتیں کرتے تھے شاید حسن کی اپنی گفتگوں کوئی بولی ہوتی جیسے عام لفظوں یا زبان کی ضروت نہیں ہوتی یا شاید خوبصورتی کا احساس ہی اپنے اندر سارے جہاں کہ گفتگوں سموئے رکھتا ہی۔وہ کہتے ہیں ناں۔۔۔ع تخلئیے کی باتوں میں گفتگوں اضافی ہے۔۔۔
میں دعا اے گھر سے نکلنے کہ بعد بھی اس تخلئیے میں مقید رہتا تھا ۔اس رٹ بھی میں اپنے کمرے میں گود میں کتاب رکھے آپنے آپ سے اسی گفتگوں میں مصروف تھا کہ اچانک باہر گلی میں ایک شور سا اٹھا جیسے بہت سے لوگ چیختے چلاتے کسی کا پیچھا کر رہے ہوں میں گھبرا کر کمرے سے باہر نکلا اور چھت سے نیچے گلی میں جھانکا تو عجیب سا شور مچا تھا۔جلدی سے نیچے اوتار کر معلوم کیا تو بھانت بھانت کی باتیں سن کر میرے تو ہوش ہی اوڑھ گئے۔گلی میں چند بزرگ سرگوشی میں باتیں کر رہے تھے۔
ناں میاں کوئی کسی کی چھت یونہی نہیں ٹاپتا۔۔۔
ضرور لڑکی کی طرف سے کوئی اشارہ ہوگا۔دوسرے بڑے میاں منہائے اس لڑکی نے تو مولوی صاحب کی عزت دو کوڑی کی کردی۔
کیسی نے فتوی صادر کیا۔ہاں بھائی ۔۔۔۔۔یہ آج کل کی نئی نسل بھلا بڑوں کی عزت اور غیرت کیا جانے ۔۔۔۔
پری چلا کہ مولوی صاحب گھر والے خاندان کی کسی تقریب میں لیٹ ہوگئے تھے گھر میں دعا اور اس کا چھوٹا بھائی تھا کسی پڑوسی نے ان کی چھت پر کسی کو کودتے دیکھا تو شور مچا دیا۔سایہ یا شناخت ہوئے بنا فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا مگر اپنے پیچھے افواہوں اور بدنامیوں کا ایک سیلاب چھوڑ گیا کیونکہ اس لمحے دعا کو بھی چھت سے صحن میں اترتی سیڑھیوں سے نیچے آتے دیکھا گیا تھا۔مجھے ان اب پر بہت غصہ آیا کہ وہ دعا جیسی شریف اور باکردار لڑکی پر ایسے الزامات لگا رہے تھے۔اگلے دن بھی محلے میں یہی چرچا رہا دن کےتقریبا دو بجے کے قریب کیسی نے ہمارے گھر کا دروازہ بے تحاشہ پیٹنا شروع کردیا
سب سے پہلے ابا جی اور پھر ان کے پیچھے دو بڑے بھائی بھی گلی سے باہر نکلے باہر اے مولوی صاحب کا شور شرابے کی آواز آرہی تھی میں بھی سن گن لینے کے لیے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ۔باہر محلے داروں کی بھیڑ میں کھڑے مولوی صاحب غصے اور نفرت سے چلائے۔
یہ رہا۔۔۔۔یہاں گھر میں چھپا بیٹھا ہے۔جیسی اس کی شکل مکروہ ہے۔ویسے ہی گھناؤنے کرتوت ۔۔۔۔۔؟
کیا کیا ہے تم نے۔۔۔؟خوب۔۔ابھی بتاتا ہوں ۔۔۔۔
انہوں نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر سب کے سامنے لہرایا ۔
اب یہ کہنا کہ یہ خط تم نے نہیں لکھا۔۔۔
تمہاری تحریر خوب پہچانتا ہو لفنگے ۔۔۔۔
میں نے پہلی نظر میں ہی ہادی کے لیے لکھا اپنا خط پہچان لیا اور میری زبان سے حیرت میں بے ساختہ ہاں مگر یہ خط تو میں نے مگر میری بات ادھوری ہی رہ گئی اور مولوی صاحب کا ہاتھ تیزی سے گھوما اور میرے گال پہ ایک زناٹے دار چانٹا پڑگیا۔۔۔۔؟
سناٹے میں اس زور دار تھپڑ ایسے گونجی جیسے کسی نے بم کا دھماکہ ہو۔مگر آواز کے اس دھماکے سے کہیں زیادہ گونج میرے اندر بہت کچھ ٹوٹ جانے کی تھی مولوی صاحب اس طماچے کے بعد مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا اور چیخ چیخ کر کر مجمعے کو بتانے لگے کی گذشتہ رات ان کی چھت پر کوئی اور نہیں یہ پری زاد کودا تھا اور اس بات کی خبر دعا کی امی صبع سویرے اس وقت ہوئی جب وہ چھت پر گیلے ڈالنے کے لیے نے گئیں چھت پر ایک کونے میں میرا لکھا ہوا یہ خط مڑتڑا سا پڑا ہوا مل گیا۔وہ سب گھر والے میری تحریر اچھی طرح پہچانتے تھے کیونکہ میں دعا کا رجسٹر میری تحریر سے بڑا پڑا تھا سارے محلے دار لعنت ملامت کرنے لگے اس پاس گلی مکانوں کی چھتوں اور کھڑکیوں میں سے محلے کی عورتیں جھانک جھانک کر ایک دوسرے کو اشارے کر رہی تھی۔میرا بس نہیں چل رہا تھا کے کسی طرح زمین شق ہو اور میں اس کے اندر سما جاوں۔مولولی کے بھاری چانٹے کے نشان اگلے تین دم میں دھیرے دھیرے میرے گالوںسے مدغم پڑنے لگے مگر میری روح پر لگے اس تھپڑ کے داغ عمر بھر مندمل نہ ہونے پائے ۔بھیڑ کے چھٹتے ہی ابا اور بڑے بھائی مجھے گردن پکڑ کر گھسیٹتے ہوے گھر کے اندر صحن میں لے ائے اور پھر جس کے ہاتھ جو آیا اس نے اسی سے میرے جسم پر سیاہ نیل ڈال دیے 😭
بدن پر چوٹ کے نشان نیل گوں ہوں تو انہیں نیل کہا جاتا ہے
مگر گھائل کا پورا جسم ہی سیاہ پڑ جائے تو ایسے نیل کو کیا کہا جائے؟میں نے بہت کوشش کی کے انہیں یہ بتا سکوں کہ وہ خط میری تحریر میں ضرور تھا مگر میرا نہیں تھا مگر کسی نے میری ایک نہ سنی میں اللہ سے مخاطب ہوا اللہ سے پوچھا اے میرے رب دعا کو پسند کرنا یہ پڑھنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ سب نے میرا جسم ہی زخموں سے بڑ دیا میں اوس رات بہت رویا 😢💔
صبع ہوئی ابا جی ۔۔۔اچھا یہ تھی تمہاری ٹیوشن؟
خوب عزت افزائی کاروائی ہے آج ہماری؟
ڈوب کرو شرم سے ۔۔۔؟
عشق لڑانے سے پہلے اپنی شکل تو آئینے میں دیکھ لینی تھی
جس پر ہر چوٹ کے ساتھ میری روح پر بید کی طرح پڑنے والا ایک طعنہ بھی کسی تازیانے سے کی طرح میرے کانوں پگھلے شیشے کی طرح لگاتار انڈیلا جاتا رہا ۔۔
بہت دن تک تو میں شرم کے مارے چھت والے کمرے سے ہی باہر نہ نکلا سارے گھر والوں نے تقریبا میرا بائیکاٹ کر رکھا تھا میں دن بھر بھی کمرے میں بیٹھا یہ سوچتا رہتا تھا کہ آخر ہادی کو دیا گیا ورقعہ دعا کی چھت سے کیسے برامد ہوا
ضرور اس بدمعاش نے دعا کو اکیلا جان کر اس کے گھر گودنے کا منضوبہ بنایا ہوگا۔۔اور شور سے گھبرا کر وہ خط وہی پھینک کر فرار ہوگیا ہوگا۔جانے دعا میرے بارے میں کیا سوچتی ہوگی۔۔۔۔۔؟
اوسے بھی تو باقی سب لوگوںکی طرح یہی لگا ہوگا کہ میں نے اسے عشقیہ خط دینے کے لیے رات کو اوس کی چھت ٹاپا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کے کس طرح دعا تک اپنے دل کی بات پہنچاؤں کہ مجھے اپنے شکل آپنی اوقات کا اچھی طرح اندازہ ہے اور میں کھبی ایسی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔میرے دل میں اوس کے لیے جو بھی تھا وہ پمیشہ کے لیے میرے دل کے کیسی نازک گوشے میں پڑا رہنے کے لیے تھا۔ہماری کو پوجا کسی صلے کی تمنا کی تمنا کے لیے تو نہیں ہوتے❤
پروانے کو شمع سے موم دان کب چاہیے ہوتا ہے ❤
اسے تو بس جل جانا ہوتا ہے مجھے بھی تو بس جلنے سے واسطہ تھا 💕
روشنی کا کے حصہ میں ائے اس بھلا مجھے کیا غرض تھی ہائے لاکھوں کی بات واہ ❤❤❤❤❤❤❤❤
مگر اب دعا سے ملنا تو درکنار۔ میرے گھر والوں نے اس کے گھر کے سامنے سے کے دراوزے کے سامنے سے بھی گزرنے سے منع کردیا تھا۔دسویں کئ امتحانات میں بوجھل دل اور الجھے ہوئے دماغ کے ساتھ دیے اور با مشکل سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوا بڑی مشکل سے ابا سے کالج میں داخلے کی اجازت ملی وہ بھی اس شرٹ پہ کہ اپنی کالج کہ کتابوں اور فیس کا خرچہ تم خود برداشت کرو گے میں نے سوچ رکھا تھا کے کالج کے بعد شام کو چھوٹی موٹی کوئی نوکری یاں کسی دوکان پر کام پکڑ لوں گا۔اس لیے کالج میں داخلے کی کوشش کے ساتھ ساتھ میں دن بھر شہر کے چھوٹے موٹے پارسی ہوٹلوں والی سڑک پر کسی ہوٹل والے سے ڈانٹ کھا کر بلا تو ایک لمحے لے لیے مجھ یو لگا کہ میری آنکھوں کو دوکھ ہوا ہے مگر میں نے آنکھیں مل کر غور سے دیکھا تو ۔۔
ہاں وہ دعا ہی تھی خو کسی کے ساتھ اسکول کی چھوٹی کے بعد قریبی ریسٹورنٹ میں چائے پینے آئی تھیں دعا اب دسویں جماعت کی طالبہ تھی اور اس علاقے میں اسکول یا کالج کے طالبات کا گروپ کی شکل میں چائے پینے یا بریک میں گرما گرم سموسے چٹنی کی پلیٹ اڑانے کے لیے آنا معمول کی بات تھی میرا دل ذور سے دھڑکا۔شاید آج ہی وہ موقعہ تھا جب میں دعا سے مل کر اوس کی غلط فہمی دور کر سکتا تھا۔مگر جانے اوس کے ساتھ کون کون ہوں گی اور اگر دعا نے بورا منایا یا غصہ کیا تو۔پھر ۔۔۔؟
ایک اور تماشہ نا کھڑا ہوجائے کہیں اور اگر کہیں دعا نے گھر جاکر اپنے والد کو اس بات کی شکائیت کردی تو۔۔۔۔؟
پھر تو میرے ابا کے ہاتھوں میرا خون ہونا لازمی تھا۔
مگر میرے پاس اور چارہ بھی کیا تھا ؟جانے پھر دوبارہ دعا سے زندگی بھر آمنا سامنا بھی ہو پائے گا یا نہیں😔💔
مجھے ایک بار کوشش تو ضرور کرنی چاہیئے۔ آخر دعا نے خود بھی تو مہینہ بھر مجھ سے پڑھا ہے میرے بارے میں کچھ اندازہ تو اس نے بھی لگایا ہوگا اتنے عرصے بعد میں ؟
میں نے تو کھبی نظر بھر کے اوسے نہیں دیکھا تھا ۔۔
میں آپنے سے لڑتا خود ہی فیصلے کرکے انہیں رد کرتا رہا اور پھر اپنے اندر کی جنگ سے گھبرا کر میں نے مزید کچھ سوچےبنا اس کیفے کی طرف قدم بڑھا دیے۔اندر بہت رش تھا کالج کی لڑکیاں لڑکے عام لوگ کچھ مسقبل قسم کے گاہک نما بوڑھے بھی کھڑکیوں کے پاس قبضہ جمائے بیٹھے ہوئے تھے اس حسب معمول ایسی باتیں کرکے آہیں بھر رہے تھے کہ ان کا دور کیسا سنہرا زمانہ تھا اب تو بس افرا تفری نفسی کا عالم ہے۔شاید انسان کا اصل سے ابدتک یہی ایک مجبوری اور کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنے حال کو بھی دل سے بڑے نہیں پاتا آپنے حال سے کھبی لطف اندوز نہیں ہو پاتا اور وہی حال بیت کر جب سا کا ماضی بن جاتا ہے تو وہ اس خو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں کہ ۔۔آہ۔۔کیا زمانہ تھا۔۔۔کاش ہم اپنے حال بھی ماضی جیسی مٹھاس بھرنے کا کوئی جادو سیکھ پاتے۔میں ماضی اور حال کی تکرار کے درمیان ہال میں کھڑا ادھر ادھر دعا خو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور پھر وہ مجھے ایک کیبن کے پردے کہ اوٹ میں بیٹھی دکھائی سے گئی مجھے کچھ اطمینان ہوا کی چلو اس کے ساتھ زیادہ بھیڑ نہیں ہے لہذا بات کرنے میں آسانی ہوگی میں دھڑکتا دل کے ساتھ چھوٹےچھوٹے قدم اٹھاتا کیبن کے پاس پہنچ گیا۔بیراکچھ دیر پہلے ہی چائے کا کپ میز پر سجا کر واپس پلٹا تھا۔دعا کسی سے بات کررہی تھی اور اس کے سر پر سیاہ چادر ہمیشہ کی طرح سلیقے سے ٹکی ہوتی تھی میں نے دل کڑا کر کے زور سے کھنکار کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور دھیرے دعا کو سلام کیا اس کی سہیلی ابھی تک پردے کی سوٹ میں بیٹھی ہوئی میری نظر سے اوجھل تھی۔دعا نے چونک کر میری طرف دیکھا اور میری طرف دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ جیسے اڑ سا گیا میں نے دلاسا دینے کے لیے قدم بڑھایا کہ میرا مقصد اس کی بدنامی نہیں ہے میں تو صرف اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں مگر کیبن میں بیٹھی دوسرے شخص کو دیکھتے ہی خود میرے حواس ایک پل میں ہی کسی جھماکے سے بلب کی طرح فیوز ہوگئے دعا کے سامنے کوئی اور نہیں ہادی بیٹھا تھا وہی ہادی جس نے مجھ پر سے ناہید کے لیے وہ رقعہ لکھوایا تھا اور جس کی وجہ سے سارے زمانے نے میرا نام اور وجود پر تھوتھو کی تھی ہادی بھی پل بھر کے لیے گھبرا گیا میں تیزی سے واپس پلٹا اور کیفے سے نکل گیا ہادی میرے پیچھے دوڑتا ہوا باہر تک آیا اور زبردستی میرے راستے میں حائل ہوکر معذرت کرنے لگا ۔
معاف کردے یار پری ۔۔۔۔۔میں خود تجھے بتانا چاہتا تھا مگر دعا نے منع کردیا کے فی الحال معاملہ بیت گرم ہے ذرا بات ٹھنڈی ہوجائے تو پھر تجھ سے بات کرو ویسے شہزادے ۔۔۔
تونے بھی بڑا مردوں والا کام کیا ہے تیرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا تونے آخر تک زبان نہیں کھولی احسان رہے گا یار تیرا ہم دونوں پر۔۔۔۔۔میرا سر تیزی سے چکرا رہا تھا دعا جانتی کی اس کی چھت پر اس رات ہادی کودا تھا پھر بھی اس نے اپنے گھر والوں سے بات چھپائے رکھی مجھے گھر محلے والوں کے سامنے اتنا رسوا کیا سارے زمانے میں میرا تماشہ کیوں بننے دیا۔میرا سر گھوم رہا تھا میں بمشکل ہادی سے سوال کیا ۔
تو کیا وہ خط تونے دعا کے لیے لکھوایا تھا ۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں یار ۔۔اسی کو دینا تھا ایک دن اس نے میرے سامنے تماری لکھائی کی تعریف کردی تھی میں نے بھی اس سے شرط
شرط لگالی تمہارے ہی ہاتھ سے اپنے لیے خط لکھوا کے دو گا
میں نے حیرت سے ہادی کو دیکھا مگر تم تو ہر وقت یہی کہتے رہتے تھے کہ وہ تمہاری طرف دیکھتی تک نہیں کھبی گاستک نہیں ڈالتی تمہیں۔۔۔۔
ہادی نے زور دار قہقہہ لگایا وہ سب دعا کے کہنے پر ہی بولتا تھا تو نہیں جانتا یار یہ لڑکیاں ہم بے وقوف لڑکوں سے کئی زیادہ تیز ہوتی ہیں بڑا دماغ چلتا ہے ان کا ان ایسے معاملے میں دراصل وہ کسی بھی طرح کی بدنامی مول لینا نہیں چاہتی تھی میری طرف سے کسی کو آپ میں مبتلا کر کے آج بھی بڑی مشکل سے اسے چائے کے کپ کئ لیے راضی کیا تھا پر تونے آکر سارا معاملہ بگاڑ دیا ۔۔۔۔
میرا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا ہادی آپنی دن میں نا جانے کیا کیا بولتا رہا اتنے میں کیفے کا ایک بیرا باہر آیا اور ہادی سے بولا آپ کو اندر بلا رہی ہیں کہتی ہیں مہمان کو بھی ساتھ لے ائے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
میں لاکھ دامن چھڑانے کی کوشش کی مگر ہادی تقریبا کھینچتا ہوا کیفے کے اندر لے گیا۔دعا سر جھکائے بیٹھی تھی مجھے اندر آتے ہی دھیرے سے بولی امید ہے آپ نے ہم دونوں کو معاف کردیا ہوگا ہم دونوں کی وجہ سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں
میں خود آپ کو مل کر آپ کو ساری بات بتانا چاہتی تھی مگر حالات ایسے بگڑے کے میں کچھ نہ کرسکی ۔۔
میں چپ چاپ بیٹھا اس کی بات سن رہا ۔اس سے یہ بھی نہ کہہ سکا کے کم از کم مجھے سچ تو بتاتی دیتی دعا نے اپنی بات جاری رکھی دراصل میں نہیں چاہتی تھی کی جب تک ہادی کے گھر سے میرے لیے باقاعدہ رشتہ نہ آجائے تب تک کسی کو بھی ہمارے بارے میں ذرا بھی شک ہو آپ تو ابا جی کے غصے سے واقف ہیں ناں۔اس رات بھی ہادی کی ذرا سی غلطی سے سارا ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا آپ کا وہ لکھا ہوا وہ رقعہ کب اور کیسے گھبراہٹ میں وہاں گرگیا۔۔دعا کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی کچھ لوگ بولتے بولتے خاموش ہوجائیں تو ان کی خاموشی بولنے لگتی ہیں مگر مجھے آج اس کی یہ خاموشی بہت گراں گذر رہی تھی
دراصل میں بہت ڈر گئی تھی اس لیے جب ابا نے آپ کی تحریر دیکھ کر آپ پر شک کیا تو میں چپ رہی کیوں کے میں اگر ہادی یا کیسی اور کا نام لیتی تو انہیں مجھ پر شک ہوسکتا تھا میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوں صرف ایک آپ ہی ایسے تھے جن کے نام کے ساتھ میرا نام نہیں جوڑا جاسکا تھا مطلب کیسی کو مجھ ہر شک نہیں ہوسکتا تھا کہ میں آپ کو پسند کرتی ہوں۔۔۔۔
میں نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور بولتے بولتے چپ ہوگئی میرے اندر بیک وقت کئی شیشے چکنا چور ہوگئے اور میں ننگئے پاوں ان پر چلتا ہوا وہاں سے اٹھ آیا پتہ نہیں میں نے اس روز گھر تک کا راستہ کیسے طے کیا۔میرے آس پاس تیز ٹریفک کا شور گاڑیوں کے ہارن اور لوگوں کے گئے آوازوں کی بھر مارتھی مگر میں جیسے ساری دنیا سے لا تعلق اور بیگانہ سا ان راستوں پر چلتا رہا شاید ہمارے قدم کچھ راستوں پر چل چل کر اتنے راستہ آشنا ہوچکے ہوتے ہیں کہ دل اور دماغ بند ہونے کی صورت وہ ہر موڑ پہچان لیتے ہیں ورنہ میری جو حالت اس وقت تھی مجھے ضرور کسی ویرانے میں بھٹک جانے چاہیے تھا ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ۔۔۔
کوئی انڈا ہی ہوگا جو دعا پر مجھ سے کوئی تعلق جوڑنے کا شک کرے گا کہاں وہ اور کہاں میں؟اس نے کتنی آسانی سے یہ بات کہہ دی بعض حقائق ہم پر پہلے دن سے ہی روز روشن کی طرح عیاں ہوتے ہیں مگر پھر بھی کیسی کی زبان سے ان کی تشریح ہمیں کس قدر سوگوار کردیتی ہے ہم کمزور انسان اپنے اندر خود فریبیا کیوں پالے رکھتے ہیں؟
شاید اسی لیے اپنی پیدائش سے لے کر آپنی موت تک جانے انسان کتنی بار ٹوٹتا ہے مگر دعا کی پسند ہادی کیسے ہوسکتا ہے سارا محلہ ہادی کے قرضوں سے واقف تھا مگر پھر بھی دعا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میرا ذہن سن ہوگیا تھا مطلب یہ ہوا کہ انسان کی ظاہری شخصیت ہی آخر کار فتح یاب ہوتی ہے ۔یہ اندر کی خوبصورتی دل کی سچائی وغیرہ جیسی فضول کتابی باتیں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یکسر غلط ثابت ہوگئی تھیں شاید یہ ساری کتابی تکرار مجھ جیسے پری زاد کی تسلی کے لیے ہی تھی ۔
میرا داخلہ گورنمنٹ کے ایک کالج میں ہوگیا تھا میرا دل کالج جانے کے لیے آمادہ ہی نہیں ہورہا تھا دسویں جماعت تک ایک ہی سکول میں پڑھتے پڑھتے سارے استاد اور طالب علم میرے نام اور میری صورت کے تضاد سے آدھی ہوچکے تھےاور انہوں نے میری بدصورتی کو کسی معمولی کی طرح قبول کر لیا تھا مگر کالج جاتے یہ ساری بحث ایک بار پھر تازہ ہوگئی بہت دنوں تک کلاس میں کینٹین میں اور کالج کی راہداریوں میں مجھے پھر سے اسی تجربے سے گزرنا پڑا وہی طنز بھری مسکراہٹ جملے اور حقارت بھری مثالیں ۔۔۔
میرا خواب ہمیشہ کی طرح خاموشی ہی تھا کیونکہ میں جانتا تھا کی مجھے اس چھلنی سے بار بار چھلنا ہوگا انہی دنوں میری ملاقات فورتھ ائیر کے ناساز سے ہوئی دراصل اس سے پہلا تعارف بھی اس کے اس عجیب و غریب تخلیق کی وجہ سے ہوا تھا۔اس کا پورا نام جمیل احمد تھا وہ خود کو ناساز کہلوانا پسند کرتا تھا ایک دن میں راہداری سے گزر رہا تھا کے کسی سنئیر طالب علم زور سے اس کا نام پکارا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: