Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 30

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 30

–**–**–

میرا سوال سن کر سکینہ سے زیادہ شکورے کی چہرے پر حیرت اور تعجب کی ہوائیاں اڑنے لگیں سکینہ نے گھبرا کر اپنے نانا کی طرف دیکھا جیسے اس سے اپنی شناخت کی تصدیق چاہتی ہو۔شکورے نے گڑ بڑا کر کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔سائیں یہ میری نواسی ہے ۔۔
سکینہ کو جواب دینے دو۔۔
سکینہ مزید بوکھکا گئی۔۔وہ جی۔۔میں۔۔میں تو بس سکینہ ہوں۔۔نہیں تم وہ نہیں ہو جو نظر آتی ہو ساری دنیا کو دعائیں دیتی پھرتی ہو ان کے لیے رب سے مانگتی ہو۔پھر خود خو اس جوگن کے بھیس میں کیوں ڈھال رکھا ہے؟کیوں فقیری بنی پھرتی ہو۔۔؟کیوں خود کو اور اپنے گھر والوں کو اس عذاب میں ڈال رکھا ہے۔۔؟بولو بولتی کیوں نہیں۔۔؟شکورا میرے غصے بھرے لہجے خو میرا جلال سمجھ کر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا۔سکینہ بالکل روہانسی سی ہو گئی اور اس نے خود خو شکورے کی اوٹ میں چھپالیا پھر مجھے احساس ہوا کہ شاید غصہ میں میرا لہجہ کچھ زیادہ ہی تلخ اور بلند ہوگیا ہے۔یہ لڑکیاں جانے کس ریشم کی بنی ہوئی ہوتی ہیں لہجون کی تیز دھار سے بھی کٹ کٹ جاتی ہیں۔میں نے ایک گہری سانس لی اور شکورے کو کہا فی الحال وہ واپس اپنے گھر چکا جائے جب ضرورت ہوئی تو میں خود اسے بلاوں گا۔شکورے کا دل وہاں سے اٹھ کر جانے کو نہیں تھا مگر میرے لہجے کی سختی نے اسے بادل نخواستہ اٹھنے پر مجبور کر دیا۔سکینہ بھی چپ چاپ اس کے پیچھے چل دی۔اس کی گھبراہٹ اور آنکھوں میں اٹھتے سوالوں سے ایک بات تو مجھ پر واضع ہوگئی تھی کہ خود اسے بھی اپنی ان دعاوں کی قبولیت کے معجزے کا ابھی تک علم نہیں تھا۔ساری بات مجھ پر دھیرے دھیرے کھلنے لگی تھی جانے یہ اتفاق تھا یا میری تقدیر کا ایک اور مذاق مگر سچ یہی تھا کے خان والے پلیٹ فارم سے جہاں میرے ماتھے پر جوگی سائیں کی مہر لگی تھی۔ہر اس جگہ کے آس پاس سکینہ موجود رہی تھی جہاں لوگ میری دعا کی قبولیت کے حصول کے لیے بھٹکتے رہے تھے اور آج تک ان سب جگہوں پر خان سمیت جس ضرورت مند کی دعا قبول ہوئی۔دراصل وہ سکینہ کی دعا کی بدولت ہی ممکن ہوسکا تھا۔قدرت یہ سب میرے کھاتے میں ڈالتی رہی اور سیدھے سادھے لوگ میرے مرید بنتے چلے گے۔کسی کو بھی پتہ نہیں چلا کہ ان کی یہ دعائیں ایک نڈھال اور لاغر سی لڑکی کی سفارش کے بدلے قبولیت کا رنگ لاتی ہیں۔اگلے ایک دو روز میں میں نے باتوں میں شکورے سے ان سب باتوں کی تصدیق بھی کرلی۔خان کی بیوی اپنے ہمسایوں کے سامنے ہر لمحہ خان کی غریبی اور اپنی معاشی مشکلات کا رونا روٹی رہتی تھی۔اور خان کا بانڈ کھلنے سے پہلے بھی وہ کئی بار سکینہ کے سامنے اس خواہش کا اظہار کر چکی تھی کہ اگر خان کا بانڈ کھل جائے تو ان کے دن پھر جائیں گے۔ٹھیک اسی طرح سارے گاوں کو پتہ تھا کہ چوہدری کی خواہش ہے جیسے اس علاقے کے لوگ بارش کی تمنا میں نڈھال تھے۔مگر یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوا۔کتنا پریشان کیا تھا مجھے اس جوگی سائیں کے لقب نے لوگوں کو سکینہ کی اصلیت کا پتہ کیوں نہیں چلا ؟
لوگ تو درکنار خود سکینہ بھی اپنے آپ سے با واقف نظر آتی تھی ہمارے معاشرے میں لوگ ہمیشہ سائیوں۔بابوں۔اور جوگیوں۔کو ہی آخر اپنا میسحا کیوں سمجھتے ہیں۔کوئی سائینٹ جوگن یا بی بی ان کی نظروں میں دکھوں کی میسحا کیوں ثابت نہیں ہوتی؟سچ کہتے ہیں۔یہ دنیا نے اپنی جاگیر سمجھ رکھی ہے۔کوئی رتبہ کوئی عہد کوئی نشت بھی تو خالی نہیں چھوڑی اس نے حوا کی بیٹی کے لیے مگر ایک سوال خود میرے اندر بھی کسی سنپولیے کی طرح کلبلا رہا تھا۔سکینہ کو یہ اعزاز کب اور کیسے حاصل ہو۔کون سی ریاضت اسے اس مقام پر لے آئی تھی جس کی نقلی مہر اور شناخت نے مجھے علاقے بھر میں سائیں جوگی کے لقب سے مشہور کر رکھا تھا۔اگلی شام علاقے سے خانہ بدوشی کی ایک ٹولی کا گزر ہوا انہوں نے میرے ڈیرے سے کچھ پرے اپنے خیمے گاڑ لیے اور شب بسری کے لیے آگ کا الاو روشن کر لیا۔ان کے دو بڑے میرے پاس اجازت لینے کے لیے آئے کہ اگر مجھے ناگوار خاطر نہ ہوتو ان کی معمول رات دیر گئے تک صوفیانہ کلام اور کافیاں گانے کا ہے۔میں انہیں کیا بتاتا کہ کھبی میرے گھر اور گاڑی میں ہر لمحہ یہ کلام بجا کرتا تھا۔موسیقی کا ہماری زندگی سے کچھ عجیب سا رشتہ ہے ہم کھبی اسے مذہب کی وجہ سے رد کرتے ہیں اور کھبی دل کی خاطر اپنا لیتے ہیں۔حرام اور حلال کی تقسیم میں دنیا کے بڑے بڑے گویے اس کے سے جان چھڑانے کے بعد بھی کسی نہ کسی حیثیت میں اس سے دوبارہ جڑ جاتے ہیں۔کچھ خود کو نعتیہ اور حمد یہ کلام تک محدود کر لیتے ہیں۔کچھ صرف صوفیانہ کلام کی لے پکڑ لیتے ہیں۔گویا جھگڑا سر سے نہین سنگیت سے ہے۔لے کا نہیں جھگڑا صرف تال کا ہے میں جب دوبئی میں تھا تو میں نے بہت خوبصورت اور سریلی اذان سنی تھی۔یہی حال میرا اسپین کی مسجد کے ایک موذن کی خوش الحانی سن کر بھی ہوا تھا۔ایسی آواز کی قدم جکڑ کر رکھ دے انسان خود بی خود دعوت دینے والے کی جانب بڑھ جائے۔کچھ ایسی ہی کیفیت دوبئی کے ایک رمضان کی تراویح میں سورہ رحمان کی تلاوت سن کر ہوئی تھی میری شاید کچھ الحانیوں کا تعلق ہماری روح کے کچھ دھاگوں ہمارے خمیر کے کچھ ریشوں سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔خانہ بدوش قبیلے کا وہ خوش الحان بھی بہت سریلا تھا۔بابا بھلے شاہ کا کلام گڑوی کی تھاپ پر رات کی خاموشی میں سر بکھیر رہا تھا۔۔
جا دس دے دلبر ماہی نوں۔۔میکوں یار بھلایا جاندانئیں
سر رکھ کے یار دے قدماں وچ۔۔سر فیر اٹھایا جاندانئیں
میرا دل اک اے میری جان اک اے میرا دین اک اے میرا ایمان اک اے جدوں رب رسول قرآن اک اے۔۔دوجا یار بنایا جاندانئیں ۔۔۔
کسی نے کہا خوب کیا ہے کہ گھائل روح ہمیشہ سے جانتی ہے کہ اس کے رستے زخموں کا مرہم کیا ہے۔۔مسلہ صرف دماغ کو منانے کا ہے دل اور دماغ کی یہ ازلی جنگ ہم مجبور کم زور اور بے بس انسانوں کو سدا دو حصوں میں تقسیم رکھتی ہے۔ہم دین کے نہ ہو پاتے ہیں نہ دنیا کے۔مجھ جیسے پری زاد بن جاتے ہیں میں ایک بنجارہ۔جس کے لیے نہ کھبی زمین مہربان رہی نہ آسمان جانے کیا سوچ کر میری آنکھ سے آنسوں ٹپک پڑے تب ہی میرے قریب سے ایک ملائم سی آواز ابھری۔۔
آپ رو رہیں ہیں سائیں جی ۔۔
میں نے گھبرا کر اپنی آنکھیں پونچھ ڈالیں۔سکینہ جانے کب سے میرے قریب کچھ قدم فاصلے پر بیٹھی تھی۔میں نے حیرت سے آس پاس نظر ڈالی۔بستی کے بہت سے گھرانے خانہ بدوشوں کے جگ راتے میں شریک ہونے کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے کچھ فاصلے پر مہردین اور شکورا بھی بیٹھے سر دھنتے نظر آئے۔ہاں۔کچھ یاد کر کے آنکھ بھر آئی۔۔تمہاری آنکھیں بھی تو ہر لمحہ چھلکنے کے لئے بے تاب رہتی ہیں۔۔کیا غم ہے تمہیں۔۔؟اگر کوئی حرج نہ سمجھو تو مجھے بتا سکتی ہو۔سکینہ سر جھکائے بیٹھی رہی شکورے نے اٹھ کر میری طرف آنے کی کوشش کی تو مہردین نے اسے ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھا دیا اور جانے اس کے کان میں کیا کہا شاید مہردین بھی سمجھ گیا تھا کہ سکینہ کھبی اپنے نانا کے سامنے کھل کر زبان نہیں کھولے گی۔سکینہ مے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔کچھ نہیں ہوا مجھے سائیں جی۔میرے گھر والے تو بس ایسے ہی پریشان ہورہے ہیں۔خود ہی رل کھل کر ٹھیک ہو جاوں گی۔مجھے بھلا کیا ہونا ہے
میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔پھر ایک دم دنیا کیوں تیاگ دی تم نے۔جوگن کیوں بن گئی۔سکینہ نے پل بھر کے لیے نظریں اٹھائیں۔جوگ تو آپ نے بھی لے رکھا ہے سائیں جی آپ نے بھی کوئی روح لگا رکھا ہے کیا۔۔۔۔؟؟
میں نے چونک کر سکینہ کی طرف دیکھا اس نے ایک سوال میں ہی میرے سارے سوالوں کا جواب دے دیا تھا۔میں بھی کتبا کم فہم اور نادان تھا۔اتنے سامنے کی بات سمجھنے میں مجھے اتنی دیر لگ گئی تھی۔دنیا کے ہر جوگ کے پیچھے یہی ایک محبت کا روگ ہی تو چھپا ہوتا ہے۔یہی عشق کار فرمار رہتا ہے ہر عذاب کے در پردہ۔اسی پیار کی نشتر کی کاٹ کر داغ ملتا ہے۔ہر زخم کے پس منطر میں محبت ہمیں سائیں بنا دیتی ہے۔جوگ میں ڈھال دیتی ہے۔فقیر کے بہروپ میں لاکھڑا کرتی ہے۔سکینہ کی کہانی بھی اسی محبت کے مارے بدنصیبوں میں سے ایک کی داستان تھی…
تین سال پہلے جب وہ مکمل زندہ لڑکی تھی جس کا دل بارش کی پہلی بوندکے ساتھ ہی جھولا ڈالنے کے لیے مچلنےلگتا تھا ہوا کی سرگوشیاں جس کے دل گد گداتی تھیں لمحہ بھر کے لیے ٹھہرا بادل کا سایہ جسے دن بھر کے لیے خوشکر دیتا تھا تب ایسے ہی ایک کالی رات جب وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ برف بھری ٹوکریوں میں باغ سے آم چرا کر جمع کر رہی تھی تبھی اسے علاقے کے ایک گھبرو سانولنے دیکھ لیا۔سانول علاقے کے نمبر دار کا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا بیٹا تھا۔جو شہر کی یونیورسٹی سے ایم اے۔اسلامیات کی ڈگری لے کر آیا تھا اور اس کی پہلی نظر نے ہی ان دونوں کا کام کر کے رکھ دیا تھا۔دنیا کتنی ترقی کرگئی ہے چاند ستاروں پر گھمنڈ ڈالنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ وہاں انسان کے قدم پہنچ چکے ہیں۔صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے ہونے لگے ہیں۔ہر کسی کو ہر لمحہ ہر رابطہ میسر ہے۔مشین ہماری زندگی پر حاوی ہوچکی ہے۔محبت کی روایتی داستانوں کو لوگ گزرے دنوں کا قصہ کہتے ہیں۔ہیر رانجھا۔۔سسی پنوں۔۔سوہنی مہیوال اور شیریں اور فرہاد الف لیلی کی کہانیاں لگتی ہیں۔۔محبت ڈیجیٹل ہونے لگی ہے انسان عروج کی کتنی منزلیں طے کر چکا ہے۔مگر یہ پہلے نظر یہ آج بھی اپنے اندر وہی زمانے بھر کے عجائبات چھپائے بیٹھی ہے۔کوئی سائنسدان آج تک اس پہلی نظر کے ڈنک کا علاج نہیں ڈھونڈ پایا۔کوئی تریاق دریافت نہیں ہوا نظر کے زہر کا آج تک ہر خرابی کی جڑ یہی ایک پہلی نظر ہی تو ہے۔۔نئے زمانے کے نئے لوگ لاکھ انکار کریں لاکھ مذاق اڑائیں مگر سچ یہی ہے کہ محبت اور نظر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔پھر چاہے یہ نظر کسی بھی اور کسی بھی طور پر ہماری زندگیوں میں وارد ہوجائے۔یہی معاملہ سکینہ اور سانول کے ساتھ بھی ہوا۔دونوں ایک بار ملے اور پھر ملتے گئے۔مگر ظالم زمانے کو بھلا یہ ملاپ کب بھاتا ہے۔سماج سدا سے محبت کرنے والوں کا دشمن رہا ہے سو یہاں بھی یہی ہوا۔۔علاقے کے کسی بندے نے سکینہ کو سانول سے ملتے دیکھ لیا تھا۔۔بات پھیل گئی۔۔سانول باقاعدہ رشتہ لے کر اپنے گھر والوں کے ساتھ سکینہ کے گھر جانا چاہتا تھا۔مگر اس کے باپ نمبردار کی آنا ایک مزراع کے گھر رشتہ لے جانے کے آڑے آگئی۔۔ویسے بھی علاقے کا پٹواری اپنی بیٹی رضیہ کا سانول کے سنگ رخصت کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا اور نمبردار بھی پٹواری کے گھر رشتہ کرنے کا سوچ رہا تھا۔ رجو شکل صورت میں بھی چندے آفتاب چندے مہتاب تھی اور اس کے خواب بھی ناجانے کب سے سانول بس رہا تھا وہ تو اس کی یونیورسٹی کی چھٹیوں کی دعائیں مانگتی پھرتی تھی تاکہ تاکہ اس کے دل نگر کا شہزادہ واپس گھر لوٹ سکے مگر جب اسے کتا چلا کہ سانول اور سکینہ کی کہانیاں ریاست پور کے گلی کوچوں میں پھیل رہی ہیں تو اس کے سینے پر ایک وقت کئی سانپ لوٹ گئے۔جانے یہ محبت کی کہانیاں اتنی جلدی سارے زمانے میں کیوں اور کیسے پھیل جاتی ہیں؟ورنہ ہر دوسری آفت اکے گزر بھی جائے ہم اس کی تباہی سے آخری وقت تک بے خبر رہتے ہیں۔رضیہ جسے لاڈ سے جسے سارے گھر والے رجو کہتے تھے اس لیے بھی بے چین تھی کہ اس یقین تھا کہ بستی بھر میں صرف وہی ایک اس کے جوڑ کی ہے اس کا حسن چاند کے سامنے بھلا کسی اور کے روپ کا چراغ کیا جلے گا۔۔مگر اس نے جو سوچا تھا سب اس کے الٹ ہو رہا تھا یہ معمولی سی کمی کمین گھرانے کی سکینہ کہاں سے اس کے سپنوں کی تجوری ہر ڈاکہ ڈالنے آگئی رجو کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کسی طرح سکینہ کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے عمر بھر کے لیے داغ دار کردے جانے علاقے کا سب سے وجیہیہ نوجوان کو اس کے اندر کیا نظر آتا تھا؟؟
یہ رقیب بھی کتنے ظالم ہوتے ہیں۔جانے دنیا میں محبت بہت پہلی اتری تھی یا رقابت؟رقیب پر لمحہ حریف کی سانسیں بند کردینے کی فکر میں گھلتا رہتا ہے۔رجو کا بھی یہی حال تھا اور پھر آخر کار اس کے دل مراد بر آئی۔سانول کی ماں نے اس کے سامنے اپنا ڈوپٹہ ڈال دیا اور بہنوں نے اپنی چادریں پھیلا دیں کہ ان کی محبت اور ماں خاطر وہ رجو سے شادی کے لیے ہاں کردے۔۔دنیا میں چور اور ڈاکو دوسروں کے گھر میں بڑے بڑے ڈاکے ڈالتے ہیں مگر اس جہاں کا سب سے بڑا ڈاکہ یہ رشتوں کا ڈاکہ ہوتا ہے جو ہمارے ماں باپ بہن بھائی آپنی محبتوں اور خدمتوں کی دہائی دے کر کسی اپنے ہی چہیتے کی محبت لوٹ کر مار دیتے ہیں۔سانول بھی باپ کی ضد۔ماں کے آنسوں اور بہنوں کی آہوں کے سامنے آخر کار مجبور ہوگیا اور اس نے اپنی ہی محبت کا خرمن جلا ڈالا۔۔کہتے ہیں ریاست پور کی بڑی باراتوں میں سے ایک بارات تھی نمبردار کے بیٹے کی سانول کی جنج کیا چڑھی۔سکینہ کے دل کا دریا ہمیشہ کے لئے اتر گیا شادی سے ایک رات پہلے سانول آخری بار سکینہ سے ملنے کے لئے آیا۔۔
اس نے سکینہ کو اپنے دل کی حالت بتائی اور اپنی مجبوریوں کی ساری داستان بیان کی کہ وہ اپنی ماں بہنوں کی محبت کا اتنا مقروض ہے کہ جسے سودے کو طور پر ان دونوں کو اپنی محبت عمر بھر کے لیے گروی رکھنی پڑے گی سکینہ چپ رہی محبت میں عورت اپنی مجبوری بیان کرے تو اس پر دنیا بڑے سخت الزامات لگاتی ہے بے وفائی کے طعنے اور سنگ دلی کے طنز کئے جاتے ہیں۔تیروں عورت کا سینہ چھلنی کردیا جاتا ہے۔مگر مرد جب محبت میں اپنی مجبوری بیان کرتا ہے تو اسے آپنے رشتوں کی وفادار زمانہ شناس اور مخلص کہا جاتا ہے۔اس کی قربانیوں کے گن گائے جاتے ہیں اور زمانہ اسے آپنی پلکوں پر بٹھاتا ہے۔سانول بھی رجو کی پلکوں کی ڈولی چڑھ گیا۔۔۔
سارا گاوں ان دونوں خوبصورت اور سجیلی جوڑی دیکھنے کے لئے آگیا تھا۔۔ایسے لگتا تھا جیسے دونوں کو بس قدرت نے ایک دوسرے کے لیے ہی تراشا تھا۔دلوں کے حال تو خدا بہتر جانتا ہے مگر کہنے والے کہتے تھے کہ سانول اور رجو کی نظر ایک دوسرے سے ہٹائے نہیں ہٹ رہی تھی۔رجو نے جب شادی سانول کے گھر میں پہلا قدم رکھا تب ہی سے سانول کی ماں بہنیں رجو ہر صدقے واری جارہی تھیں۔دیر شب تک رسمیں چلتی رہیں اور ماں بہنوں نے اپنے شہزادے ویر کی بارات کا ہر آرمان جی بھر کے پورا کیا۔سارا محلہ سانول کے گھر کی طرف سے آنے والی شہنائیوں کی آواز اور ڈھول بتاشوں کی دھمک سے رات بھر گونجتا رہا۔ان کے قہقہوں کی آواز سکینہ کے گھر کے آنگن تک بھی آرہی تھی۔سکینہ کا دل کھبی نہ پھٹتا اگر ان کی ہنسی کی آوازوں میں خود اس کے اپنے محبوب کی آواز شامل نہ ہوتی۔اس درد کا احساس صرف وہ کرسکتا ہے جس نے زندگی میں کھبی خود محبت کی ہو ۔۔
جگر کیسے چھلنی ہوتا ہے اور سینے میں جلتے دل کا دھواں کیدے نکلتا ہے جب اپنا پی سانول کسی اور سانوری کے ساتھ شب عروجی منارہا ہو۔سکینہ کے اندر بھی کچھ ایسا شور مچا کے سب جل کر راکھ ہوگیا اور پھر ایسے ایسی چپ لگی کی لوگ اس کی آواز سننے کو بھی ترس گئے جسم کے اندر بہتا خون سوکھتا چلا گیا ہونٹوں سے مسکان کا رشتہ کچھ ایسے ٹوٹا کو وہ سدا کے لیے مسکرانا بھول گئی
محبت میں جب انسان کی شریانوں اور بہتی نسوں میں خون کے ساتھ دوڑتی ہو تب وہی محبت جانے پر لہو کی روانی روک بھی دیتی ہے۔خون صرف بہہ کر ہی خشک نہیں ہوتا کھبی کھبی نسوں کے اندر بھی اپنا بہاو کھو بیٹھتا ہے محبت کا مریض دن بہ دن لاغر اور کمزور ہوتا جاتا ہے دنیا بھر کے طبیب اس کے مرض کئ شناخت ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں۔مگر مرض کا سرا نہیں ملتا۔مریض سوکھ کر کانٹا ہوجاتا ہے اور یہ ظاہر پرست حکیم اور طبیب اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ آخر بنا کوئی چوٹ لگے بنا کسی بیماری کے اس مریض کا وزن دن بدن کم کیوں ہوتا جاتا ہے۔گالوں کی سرخی پیلاہٹ میں کیوں بدل رہی ہے جسم کی شدابی خشک ہوتے پتے کی طرح رخصت کیوں ہو رہی ہے ؟؟؟
سکینہ کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہورہا تھا اور پھر تین چار ماہ کے اندر اندر ایک چلتی پھرتی لاش بن گئی اس کا محبوب آپنی نئی دنیا میں مگن تھا ایک آدھ بار قصبے کے بازار ہا کسی درگاہ مزار پر سکینہ کا سامنا ہوا بھی تو وہ نظریں چراگیا۔یا شاید وہ سکینہ کو پہچان ہی نا پایا ہو یہ تو وہ سکینہ تھی ہی نہیں جو کھبی اس کے دل کی رانی تھی سکینہ بس سانول کو دیکھتی رہ گئی اور وہ آگے بڑھ گیا۔آج بھی کتنا بانکا اور سجیلا تھا اس کا محبوب مگر رجو کو کسی نوکرانی کی زبانی اس ٹکراو کی خبر ملی تو وہ برداشت نہ کر پائی اسے یوں محسوس ہوا جیسے سانول چھپ چھپ کر سکینہ سے ملتا ہے۔
رقیب ہمیشہ رقیب ہی ہوتا ہے۔محبوب کا درجہ پانے کے بعد اس کے اندر پلتے سدا کے شکوک و شبہات کھبی اسے اس اعزاز کا حق دار نہیں بننے دیتے۔رقیب نے چونکہ خود کسی کی محبت پے ڈاکہ مارا ہوتا ہے اس لیے وہ ساری زندگی خود ایسی چوری سے ڈرتا رہتا ہے ۔اس کی نیندیں اپنے خزانے کی حفاظت کی فکر میں اڑی رہتی ہیں جلن اور حسد کے سانپ اسے ڈستے رہتے ہیں۔رجو بھی کسی ایسی تپش کا شکار تھی وہ یہ بات نہیں بھولی تھی کہ کھبی سانول سکینہ پے مرتا تھا۔دونوں کئ محبت کے مثالیں دنیا دیا کرتی تھی۔کون جانے کب سانول کا دل پھر سے اپنی پرانی محبوبہ کی محبت میں جاگ اٹھے رجو سوچ سوچ کر ہلکان ہوگئی پھر آخر کار اسے وہ خوفناک فیصلہ کرنا ہی پڑا جو صرف ایک رقیب ہی کرسکتا ہے۔فنا کردینے والا فیصلہ جو محبت کرتے ہیں وہ خود کو ہیں وہ خود کو فنا کر لیتے ہیں اور جو رقیب ہوتے ہیں وہ دوسروں کو مار کر اپنی محبت کی بقا ڈھونڈتے ہیں۔رجو علاقے کی نیاز کی رسم کے مطابق منوں دودھ خرید کر ساری بستی میں تقسیم کروا دیا البتہ اس بانٹ میں بس ایک فرق تھا۔سکینہ کے گھر جو دودھ کی مٹکی بھیجی گئی تھی اس کے اندر علاقے کے سب سے زہریلے سانپ کا زہر حاصل کے چند بوندیں اس دودھ میں ملا دی گئیں تھی۔سکینہ کی ماں نے پیتل کی مٹکی سے دودھ نکال کر کٹوری سکینہ کے سامنے رکھ دی…
ماں چاہتی تھی اس کی مریض لاڈلی کے بے رونق چہرے پر کچھ رنگ آجائے شاید اس تازہ اور میٹھے دودھ کی تاثیر سے ہی کچھ پل کے لیے اس کی نڈھال سی دلاری توانائی محسوس کرے۔سکینہ نے دودھ کی کٹوری اٹھا کر منہ سے لگائی ہی تھی کہ باہر سے اس کے بوڑھے باپ کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔مگر دوسری آواز سن کر تو جیسے اس کی پوری کی پوری روح ہی جھنجھلا سی گئی یہ سانول کی آواز تھی۔ہاں اس سانول کی جس کی محبت نے اس کی روح کے ریشے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے۔سکینہ کے ہاتھ میں کٹوری کچھ ایسے لرزی کہ سارا دودھ اس کے کپڑوں پر چھلک گیا۔سکینہ نے کٹوری نیچے رکھ دی۔اور خود پردے کی اوٹ سے باہر والی بات چیت سننے لگی۔پتہ چلا کے سانول کسی کام سے سکینہ کی گلی سے گزر رہا تھا کہ سکینہ کے باپ کی نظر اس پر پڑگئی۔پرانی باتوں اور یادوں کا سلسلہ کچھ ایسا چلا کہ گلے شکوہ زبان تک آگئے۔سانول نے سکینہ کے باپ کو یقین دلایا کہ وہ آج بھی ان کے گھرانے کا ایک فرد سمجھتا ہے خود کو۔مگر سکینہ کا باپ بضد ہوگیا کہ اب ملاقات ہوہی گئی ہے تو دو گھڑی اس کے گھر کے صحن میں بیٹھ کر اب ہیں عزت بخشے۔سانول نے اسے ٹالنے کی بہت کوشش کی مگر اس کی ایک نہ چلی۔سکینہ کی ماں جو دل ہی دل میں ہمیشہ ہی سانول کو اپنے داماد کے روپ میں دیکھنے کی خواہش مند تھی اسے گھر میں پاکر ایک بار پھر اپنی ناکام آرزو کا غم لیے سانول کی خدمت میں مصروف ہوگئی۔گھر میں کچھ اور تو تھا نہیں پیش کرنے کے لیے سانول کے گھر سے آئی دودھ کی مٹکی میں سے ہی ایک کٹوری نکال کر سانول کو تھمادی جو اس نے ایک سانس میں حلق سے نیچے اتارلی۔اور جانے کے لیے کھڑا ہوگیا شاید وہ سکینہ کا سامنا کرنے کے خیال سے گھبرا رہا تھا۔مگر سانول دروازے تک بھی نہ پہنچ پایا تھا کہ لڑ کھڑا کر وہیں گر گیا۔۔سارے گھر میں بھونچال سا آگیا۔سبھی سانول کی جانب لپکے۔سکینہ بھی لاج شرم بھلا کر دروازے کی جانب دوڑی۔سانول کے ہونٹوں کے کنارے سے خون کی ایک پتلی سے لکیر نے زمین پر گلال بکھیر دیا تھا سانول اور سکینہ کی نظر آخری بار ٹکرائی آف دونوں کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔سانول خو کچھ کہنے اور سکینہ خو کچھ سننے کی مہلت ہی نہ ملی اور سانول نے وہیں سکینہ کے سامنے دم توڑ دیا۔ایک قیامت آگئی سکینہ کو سکتہ طاری ہوگیا۔سکینہ کے باپ اور باقی گھر کے مردوں کو علاقے کی پولیس نے قتل کے الزام میں دھر کر لے گئی۔۔
رجو کو جب سانول کی موت کا پتا چلا تو اس نے لمحے بھر میں ہی صحن میں بنے کنویں کی منڈیر ٹاپ کر گہرائی میں چھلانگ لگا دی۔خوش قسمتی سے گھر کی نوکرانی نے بروقت اطلاع کردی اور رجو کو زندہ کنویں سے نکال لیا گیا مگر وہ زندہ کب تھی۔چند اعضاء کے دھڑکنے اور سانس کی روانی کو زندگی کا نام کیوں دے دیتے ہیں لوگ؟؟
سات دن بعد رجو کا سکتہ ٹوٹا وہ پہلی بار ٹوٹ کر روئی اسے پتہ چلا کہ سکینہ کے گھر والوں نے جلن اور حسد کی آگ میں جلتے ہوئے سانول کو دودھ میں زہر ملا کر مار ڈالا ہے ساری بستی یہی سمجھتی تھی کہ یہ حرکت سکینہ کی ہوسکتی ہے جس ہر پردہ ڈالنے کے لیے اس کے گھر والوں نے خود خو قربانی کے بکرے کے طور پر پولیس کے حوالے کردیا رجو نے اپنی عدت کی بھی پرواہ نہیں کی اور اپنی سیاہ چادر اوڑھ کر سکینہ کے گھر پہنچ گئی۔سکینہ اور رجو کچھ دیر کے لئے ایک دوسرے کو ٹکر ٹکر دیکھتے رہے اور پھر رجو یوں لپک کر سکینہ کے سینے سے جا لگی جیسے برسوں کے بچھڑے ملتے ہیں اور پھر رجو یوں ایسا پھوٹ پھوٹ کر روئیں کہ سیلاب آگیا۔۔۔
صرف وہ دونوں ہی دنیا میں ایسی تھیں جو ایک دوسرے کے دل کا درد سمجھ سکتیں تھی۔سن دونوں کا محبوب ان سے بچھڑ گیا تھا۔وہ دونوں ایک دوسرے کی رقیب تھیں مگر رقیب سے زیادہ محبت کے بچھڑنے کا دکھ بھلا کون جانتا ہے۔یہاں محاورتہ نہیں حقیقتا دونوں کا غم ایک تھا
صرف وہ دونوں کرب کی کاٹ اور جان لیوا عذاب سے واقف تھیں۔۔رجو نے پولیس کو اپنا سچا بیان ریکارڈ کروا دیا سکینہ کے گھر والے رہا ہوگئے اور رجو سلاخوں کے پیچھے چلی گئی۔مگر اس وقت کی بھٹی نے سکینہ کو کچھ ایسے جلایا کہ وہ تپ کر کندن ہوگئی۔ایک ایسا پارس بن گئی جس سے چھو کر لوہا تو لوہا مٹی بھی سونا بنتی گئی۔سکینہ خود تو خاک ہوگئی مگر اس کی خاک سے قدرت نے دوسروں کے تخت جوڑ دئیے۔نصیب باندھ دئیے سکینہ دوسروں کی دعا کی قبولیت کا زینہ بن گئی شائد اسے یہ اعزاز اس لیے ملا کہ اس نے خود اپنے لیے دنیا ترک کر چھوڑی تھی اس کے ہاتھ جب بھی اٹھے یا اس کے لب جب بھی کھلے صرف اوروں کے لئے ہی کھلے خود اپنے لیے بچا ہی کب تھا کہ وہ مانگتی شائد ہم جب کسی دوسرے کے لئے اپنے خدا اے کچھ مانگتے ہیں تب ہم خلوص عاجزی اور بندگی کی اس معراج پر ہوتے ہیں جو دنیا کی ہر دعا کی قبولیت کا آخری پیمانہ ہے۔۔
نصف شب ڈھل چکی تھی خانہ بدوش بنجاروں کا جلایا ہوا الاو سرد پر گیا تھا بنجاروے آخری تان لگائی اور محفل برخاست کردی۔جانے اس لمحے پھر مجھے شدت سے یہ احساس کیوں ہوا کہ میں خود بھی تو ایک بنجارہ ہوں اور وہ مجسمہ ساز کسی چاند نگر کی شہزادی تھی۔بنجاروں کی پہنچ شہزادیوں تک بھلا کب ہوتی ہے مٹی کے کھلونوں کے بدلے روپ کا سونا کون بیچتا ہے ؟؟
روپ کے بدلے ہوتے ہیں اور جو مجھ جیسے بے روپ بد صورت ہوتے ہیں ان کے ہاتھ صرف خاک ہی آتی ہے خاک کے بدلے خاک شکورا اور مہردین سکینہ کو لے کر واپس جانے لگے تو میں نے شکورے سے کہا۔۔
اتنا کچھ ہوچکا تھا اور تم نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔۔؟
پھر بھی تمہاری یہ خواہش ہے کہ تمہاری نواسی ہنسے بولے اور پھر سے عام زندگی جیئے ۔۔؟؟
شکورا شرمندگی کے مارے سر جھکا کر کھڑا رہا مہردین نے اس کی مدد کی ساری بھلا بتانے کی باتیں ہیں سائیں جی۔بڑی شرمندگی ہی شرمندگی ہے اور پھر تم سے کون سی بات چھپی ہے سائیں یہ نیماڑاں تو بس یہ چاہتا ہے کہ اس کی سکینہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح ڈولی چڑھ کر اپنے لاڑے کے ساتھ رخصت ہوجائے۔اس کا بھی گھر بار کو بال بچے ہوں۔۔یہ باتیں سب کے سامنے کہنے والی تو نہیں ہیں نا سائیں جی۔۔بس تم دعا کرو ہماری سکینہ کے لیے۔۔
میں نے سر جھکائے کھڑی سکینہ پر ایک نظر ڈالی۔یہ مجھ جیسے برائے نام اور دکھاوے کے سائیں بابوں کی دعا سے بہت آگے جا چکی ہے مہردین۔۔اسے اس کے حال ہے چھوڑ دو اس کی خوشی اور اس کے غم کے معیار اس دنیا کی روایت سے بہت جدا ہیں۔۔اگر تم دونوں اس کی خوشی چاہتے ہو تو اس سے کہو کہ خود اپنے لئے خوشحالی اور گھر بار کی دعا کرے یہ اگر ماں گئی تو سب ٹھیک ہوجائے گا ورنہ اسے زیادہ تنگ مت کرنا۔۔یہ جس حال میں خوش رہے تم سب اس کی خوشی میں خوش رہنا مہردین اور شکورا سر جھکائے چہ چاپ سکینہ کو وہاں سے لے کر چلے گئے۔کچھ دیر میں ہی صبع کا اجالا پھیلنے لگا۔۔سویر سے انگڑائی اور انگڑائی سے زندگی جاگنے کا استعارہ جوڑ دیا گیا۔سکینہ کی بستی بھی انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔گھروں سے مرغوں کی بانگیں اور چھتوں کی چمنیوں سے زندگی کو نوید دیتا دھواں آسمان کی طرف بلند ہونے لگا اس سارے دیہات قصبوں اور بستیوں کی صبع ایک جیسی ہوتی ہے شہروں کی طرح جھٹکے سے نہیں بلکہ دھیرے دھیرے جاگنے والی سرکتی پھیلتی دھوپ کی طرح آہستہ آہستہ بستی کے دربام اور آنگنوں میں اترنے والی۔میں نے کسی گزررتے راہ گیر سے سانول کی قبر کا پتہ پوچھا اور قبرستان جاکر فاتحہ پڑھ آیا قبر کے قریب کچی زمین ہر مجھے بہت سی آڑھی ترچھی لکیریں کھچی نظر آئیں۔ویسی ہی لکیریں جیسی سکینہ نے میرے ڈیرے کی زمین پر ڈال رکھی تھیں۔میرا جی چاہا کہ میں ساری بستی کو اکھٹا کرکے انہیں یہ نوید سنا دوں کہ اب انہیں اپنی دعاوں کی قبولیت کے لئے کسی فقیر یا مجزوب کی حمایت کی ضرورت نہیں۔وہ دو ہاتھ جن کے اٹھنے کے بعد قدرت کوئی دعا رد نہیں کرتی وہ ہتھیلیوں کا چاند تو خود ان کی بستی کے ایک کچے گھر میں روشن ہے مگر یہ سدا کا ظاہر پرست لوگ بھلا میری بات پر کہاں یقین کریں گے۔ہاں البتہ سکینہ کسی چوہدری وڈیرے یا نمبردار کی بیٹی ہوتی تو یہی لوگ آنکھیں بند کر کے میرے جھوٹ پر بھی یقین کر لیتے اور اس وقت تک سکینہ کی حویلی کے باہر ضرورت مندوں کی بھیڑ لگ چکی ہوتی۔۔میں آج تک کھبی یہ بات نہیں سمجھ پایا تھا کہ ہم انسان دعا کی قبولیت کے لیے اپنے جیسے زندہ مردہ انسانوں کی سفارش یا وسیلہ کیوں ڈھونڈتے ہیں ہم اپنے رب سے براہ راست کچھ مانگتے ہوئے اتنا جھجکتے اور شرماتے کیوں ہیں؟؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: