Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 31

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 31

–**–**–

یہ کیسی بے یقینی ہے ہمارے اندر یا شائد یہ بھی مایوسی کی ایک قسم ہے۔مگر مایوسی کو تو کفر قرار دیا گیا ہے۔گویا یہ سارے بے یقین بھی اپنے اعتبار کے کافر ہیں؟؟
ڈیرے پر واپس پہنچنے سے پہلے میں یہ طے کر چکا تھا کہ ایک آدھ ہفتے میں یہاں سے کوچ کرجاوں گا۔کیونکہ میں جب تک سکینہ کے آس پاس ٹھکانہ بنائے رہتا اس کی برکت لوگ میری کرامت سمجھتے رہتے مگر میں اس ڈھونگ کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتا تھا۔واپس آکر میں نے دو گھڑی سستانے کے لئے کمر ٹکائی ہی تھی مہر دین کا پوتا اپنی چھوٹی سی سرخ سائیکل دوڑاتے ہانپا ہوا وہاں پہنچا میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔۔
سب خیر تو ہے کاکے؟
بچے نے مجھے چاروں طرف گھوم پھر کر یوں دیکھا جیسے تسلی کر رہا ہو کہ میں ٹھیک ہوں یا نہیں۔۔کچھ نہیں سائیں جی دادا ابا نے کہا تھا کہ جاکر دیکھوں سائیں جی ٹھیک ٹھاک ہیں ہے کہ نہیں بس اب میں چلا۔۔۔
وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی تیز تیز پیڈل چلاتے وہاں سے بھاگ گیا یہ بچے بھی اپنی دنیا میں رہنے والے مست ملنگ ہی ہوتے ہیں۔اپنی رمزیں خود ہی جانتے ہیں جانے مہردین نے اسے کس کام سے بھیجا تھا اور وہ کیا سمجھا تھا مگر دوپہر ڈھلتے ہی مہردین خود بھی شکورے کے ساتھ بڑبڑایا ہوا وہاں پہنچا۔ان دونوں کے چہرے پر لکھی پریشانی کی لکیریں دور سے پڑھی جاسکتی تھیں۔۔
سائیں جی۔۔سب خیری صلا ہے ناں؟؟
ہاں۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔مگر تم دونوں اتنے پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہو ان دونوں سے کوئی بات ٹھیک سے جڑ نہیں پائی۔۔وہ جی سکینہ نے آج صبع یہاں سے واپس جاکر تمہارے لیے بہت برا سفنہ دیکھا ہے۔۔میں ہنس پڑا۔۔بس اتنی سی بات ہے تم دونوں سکینہ کے سفنے سے گھبرا کر یہاں دوڑے چلے آئے۔۔میری زندگی پہلے ہی کسی بڑے خواب دے کم نہیں جاو جا کر سکینہ سے کہہ دو کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔میرے لیے فکر مند نہ ہوا کرو تم لوگ۔۔کچھ نہیں ہوگا مجھے۔۔
لیکن میری اس بے فکری کا سن دونوں پر کوئی اثر نہیں ہوا شکورا بولا بات اتنی سادی نہیں ہے جی۔سکینہ کے خواب سچ ہوتے ہیں سارے۔۔جب سے سانول کی موت ہوئی ہے اس کا کوئی خواب جھوٹا ثابت نہیں ہوا۔میں نے ان دونوں کو تسلی دی۔مگر تم دونوں اتنے پریشان کیوں ہو آخر اس نے ایسا کیا دیکھ لیا ہے خواب میں۔۔میرے پاس کھونے کو اب کچھ بچا ہی نہیں۔۔
شکورے نے گہری سانس لی ۔۔سائیں جی اب میں کیا بتاوں تمہیں۔۔میری تو زبان جلتی ہے بولتے ہوئے سکینہ نے خدانخواستہ تمہاری موت دیکھی ہے۔اس نے خواب میں دیکھا کہ ہمارا سائیں فوت ہوگیا۔۔اور ہم سب اس کے لیے کفن دفن کا انتظام کررہے ہیں۔۔۔
مہردین نئ شکورے کو سختی سے گھورا اور شکورا گھبرا کر خاموش ہوگیا۔وہ دونوں کافی دیر میرے قریب بیٹھے رہے جیسے اب ہیں خوف ہوکہ ان کے جاتے ہی مجھے کچھ ہو جائے گا پتہ چلا کہ سکینہ کے ہر خواب کی تعبیر تب سے سچی نکلتی جب سے سکینہ خود ایک خواب رفتہ جیسی زندگی گزار رہی ہے۔جب شام گہری ہونے لگی تو میں نے انہیں زبردستی واپس بھیج دیا ورنہ سن دونوں کا ارادہ اٹھنے کا نہیں لگ ریا تھا۔اندھیرا ڈھلا تو میرے دل کے اندھیرے بھی میرے ارد گرد رقص کرنے لگے چلو اچھا ہوا سکینہ نے مجھے میرا انجام مجھے پہلے ہی بتا دیا۔ورنہ میں خود اس انجام کے لیے ہمیشہ تیار تھا۔کہانی ختم ہونے کا وقت آپہنچا تھا۔رات ڈھلی تو میں یہی سوچ کر آنکھیں موندھ لیں کہ یہ آنکھیں شائد کھبی نہ کھلیں۔۔مگر حشر تک کی نیند شائد ابھی میرا مقدر نہیں تھی۔پرندوں کہ چہچہاہٹ اک نئی صبع کی نوید لے کر آئی تھی مگر میری آنکھ کھلنے کی وجہ کچھ اور تھی۔دور سڑک کے کنارے ایک بڑی امپورٹڈ گاڑی کا بونٹ کھلا ہوا تھا اور ڈرائیور سمیت ایک دوسرا شخص بونٹ پر جھکا ہوا کچھ دیکھ رہا تھا اتنے میں ایک تیسرا محافظ نما شخص قریبی جوہڑ دے پانی کا ایک کین بھر کر لایا اور ڈرائیور نے پانی گاڑی کے ریڈی ایٹر میں ڈال دیا۔میں نے بے زاری سے چہرہ موڑ کر آنکھیں بند کرلیں مگر پھر اچانک ایک مانوس سی آواز نے میرے وجود میں بجلیاں سی بھر دیں۔وہ ڈرائیور سے کہہ رہا تھا اور کتنی دیر لگے گی کم بخت۔۔سارا دن لگائے گا کیا ۔۔؟؟
میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔بونٹ پر جھکا ہوا شخص کبیر خان تھا۔۔ہاں وہ کبیر خان ہی تھا جو کھبی میرا محافظ ہوا کرتا تھا۔جانے وہ اس ویرانے میں کیا کر رہا تھا ڈرائیور نے اسے کچھ کہا اور پھر اچانک اس کہ نظر دور بیٹھے مجھ ہر پڑی۔میری رگوں میں خون جلنے لگا۔میں کبیر دے خاصے فاصلے پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے ماضی اور حال کے حلیئے میں زمین آسمان کا فرق تھا مگر پھر بھی نہ جانے کیوں کبیر کی نظریں مجھے اپنے جسم کے آر پار ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے قریب آنے خو اشارہ کیا مگر میں نے لاتعلقی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر کبیر خان نے میری طرف بڑھنے کی کوشش کی تو میں کسی بھی بہانے وہاں سے اٹھ کر دوسری جانب چل پڑوں گا کبیر نے اپنے ساتھ کھڑے محافظ سے کچھ کہا اور محافظ سر ہلا کر میری جانب چل پڑا میں چپ سادھے بیٹھا رہا۔اچھا ہوا کہ کبیر خان خود میری طرف نہیں آیا ورنہ وہ میری آواز ضروت پہنچان لیتا محافظ نے میرے قریب آکر سلام کیا اور جیب دے میری تصویر نکال کر اس نے میرے سامنے رکھ دی ۔
باباجی۔۔ان صاحب کو یہاں آس پاس کہیں دیکھا ہے آپ نے؟
میں بظاہر لاپرواہی سے تصویر پر ایک دکھ بری نگاہ ڈالی اور پھر آنکھیں موندھ کر جواب دیا یہ تو کوئی بڑا آدمی لگتا ہے آپنے حلیئے سے۔۔اس چھوٹے سے گاوں میں بھلا اس کا کیا کام۔۔کون ہے یہ آدمی ۔۔۔؟؟
محافظ نے گہری سانس لی۔۔یہ میرے صاحب کا صاحب ہیں بہت عرصے پہلے چکے گئے تھے سب چھوڑ چھاڑ کر۔ہم تب دے انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔۔
میں نے غور نظروں سے محافظ کی طرف دیکھا مگر مجھے یاد نہیں ایا کہ وہ کون تھا۔شائد کبیر یا کمالی کے داتی عملے کا کوئی ملازم ہوگا۔بہرحال وہ جو کوئی بھی تھا کبیر کسی بھی لمحے میری طرف آسکتا تھا یا پھر شائد اسی شخص کو میری بڑی ہوئی داڑھی اور لٹوں کے پیچھے میرے ماضی کی کوئی جھلک نظر آسکتی تھی لہذا میں نے وہاں سے اٹھ جانے میں بہتری جانی۔تم لوگ یہاں اپنا وقت ضائع کررہے ہو یہاں آس پاس کی سبھی بستیوں میں اپنی زندگی کے بہت سے سال گزار چکا ہوں سبھی جگہ آنا جانا رہتا ہے یہ شخص کھبی یہاں نہیں آیا۔۔جاو کہیں اور تلاش کرو۔۔میں ذرا ڈیرے کے لیے پانی بھر لوں۔۔
محافظ بھی میرے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا اور یم دونوں مخالف سمتوں کی جانب چک پڑے میں نے کچھ دور جاکر ایک درخت کے اوٹ سے چھپ کر دیکھا تو محافظ اور کبیر آپس میں کچھ بات کررہے تھے پھر وہ تینوں گاڑی میں سوار ہوگئے اور ریاست پور سے مخالف سمت میں آگے بڑھ گئے لیکن میں کبیر خان کو اچھی طرح جانتا تھا وہ اتنی جکدی ہار ماننے والوں میں سے نہین تھا۔آج نہیں تو کل وہ اس راستے پر ضرور پلٹتا۔۔میرے دل میں خدشہ ہمیشہ سے موجود تھا کہ میرے ہوں چلے جانے کہ بعد وہ سب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہے ہوں گے اور پھر کبیر خان جیسا وفادار تو کھبی بھی ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔۔مجھے یقین تھا کہ اس نے ہر وہ جگہ چھان ماری ہوگی جہاں میری موجودگی کا ذرا برابر بھی امکان ریا ہوگا۔میرا دل ایک بار شدت سے مچلا کہ میں ایک لمحے کے لیے کبیر خان کو روک کر عینی کے بارے میں پوچھ لوں پھر میں اسے آپنی قسم دے کر منا لیتا کہ وہ کھبی کسی کے سامنے میرا ذکر نہیں کرے گا۔۔مگر پھر میں خود ہی اپنے اندر کے اس ابال پر قابو پالیا۔کبیر مجھے اپنے ساتھ لیے بنا کھبی واپس نہیں جاتا یا پھر خود بھی عمر بھر کے لئے یہیں ڈیرے ڈال دیتا۔ان کے جانے کے بعد بیت دیر بعد تک میرے دل کی دھڑکنیں معمول پر نہیں آئیں۔سب کچھ دوبارہ تازہ ہوگیا میرے دل اور دماغ میں۔۔یادیں کھبی پرانی ہوتیں یاد ماضی کو بھلانا صرف دل بہلاوے کی باتیں ہیں۔چاہے ہم ساری عمر بھی اپنی یادوں سے فرار لے کر بھاگتے رہیں۔ہم جہاں تھک کر گرتے ہیں وہیں سے یادوں کی سرحد شروع ہوتی ہے۔کبیر خان کی آمد نے میرے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اب میرا یہاں رہنا ممکن نہیں تھا وہ کھبی بھی واپس پلٹ سکتا تھا میں نے مہردین کے ذریعے شکورے خو بلاوا بھیجا۔میری امید کے مطابق سکینہ بھی شکورے کے ساتھ چلی آئی۔شائد شکورے نے اسے بھی میری روانگی کے خدشے سے آگاہ کردیا تھا سکینہ میرے لیے کافی فکر مند دکھائی دے رہی تھی میں نے اسے تسلی دی ۔۔
میری فکر نہ کرنا۔۔میں تو بہت پہلے مرگیا تھا۔۔اب صرف تصدیق ہونا باقی ہے ہوسکے تو اپنے ماں باپ اور نانا کی خاطر کسی بہتر اور نیک بندے کو اپنا جیون ساتھی چن لینا میں جانتا ہوں تمہاری لیے وہ دوہری زندگی جینا بھی کسی عذاب دے کم نہیں ہوگا۔مگر یہ دنیا اپنے لگے بندھے اصولوں پر چلتی ہے۔۔سو جیسا دیس ہے ویسا بھیس بنا لوں۔۔
میں نے شکورے اور مہردین کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ بستی میں میری روانگی کا کسی سے ذکر نہیں کریں گئے رخصت ہوتے وقت ہم چاروں کی آنکھیں نم تھیں وہی کچھ جھوٹے وعدے ہوئے پھر سے ملنے کے۔۔جلد لوٹ آنے کے۔۔سدا ایک دوسرے کو یاد رکھنے کے جانے یہ آخری ملاقاتیں ہمیں اتنے جھوٹ بولنے پر کیوں مجبور کردیتی ہیں؟؟
جب کے روکنے والے اور جانے والے دونوں ہی جانتے ہیں کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہے۔صبع منہ اندھیرے میں وہاں سے چک پڑا سڑک پر آتے ہی مجھے مس مل گئی۔میں چپ چاپ سرجھکائے آخری سیٹ کے ایک کونے میں جا کر ٹک گیا بس دیہاتیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ۔گھنٹہ بھر ہچولے لے کھانے کے بعد اچانک گاڑی رک گئی میں چونک کر سر اٹھایا آگے پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا۔وہ پولیس والے اوپر چڑھ آئے ان کی باتوں سے لگتا تھا جیسے وہ کسی خاص شخص کی تلاش میں ہیں۔اتنے میں سن میں سے ایک کی نظر مجھ پر پڑی وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا اور پھر زور سے چلایا ۔۔
یہ تو یہاں بیٹھا ہوا ہے..؟؟
پولیس والے کہ اس طرح چلانے پر بس میں بیٹھے سارے دیہاتیوں نے گھبرا کر یوں پلٹ کے میری طرف دیکھا جیسے کوئی بس میں بھینسا گھس آیا ہو۔کچھ ہی دیر میں میرے ارد گرد کئی سپاہی بندوقیں تانے کھڑے تھے۔مجھے بس سے اتار کر سڑک کنارے کھڑا کر دیا گیا مگر میں نے ایک بات محسوس کی کہ پولیس والے میرے قریب آنے سے کترا رہے تھے اور میری ہر جنبش پر ان کی مسلسل اور کڑی نظریں جمی ہوئی تھیں۔انہوں نے انتہائی سختی سے مجھے ہاتھ فضا میں بلند کر کے کھڑا رہنے کا حکم دے دیا۔کچھ دیر بعد ان کا ایک افسر سرکاری جیپ میں وہاں نمودار ہوا اور اس نے بس کے ڈرائیور اور مسافروں کے نام پتے نوٹ کرنے کے بعد بس کو جانے کی اجازت دے دی۔پھر وہ میری طرف متوجہ ہوا اس کے کاندھوں پر سجے پھول بتا رہے تھے کہ وہ انسپکٹر ہے۔اس کے ماتحتوں نے اسے زور دار سلامی دی اور کچھ کھسر پھسر کی۔انسپکٹر نے سر سے پاوں تک مجھے کئی بار غور سے دیکھا اور اپنے ماتحتوں سے پوچھا۔اس کی تلاشی لی ہے۔۔۔
نہیں صاحب جی۔ہم جانچ والے عملہ کا انتظار کر رہے تھے
انسپکٹر نے غصے سے اب ہیں جھآڑا۔اوئے۔اس ویرانے میں بارود کو جانچنے والا عملہ تمہارا ماما لے کر آئے گا ؟؟
ویسے کیا تم لوگوں کو یقین ہے کہ یہ وہی خود کش ہے جس کی مقبری ہوئی تھی۔۔؟
صاحب جی۔حلیہ تو بالکل وہی ہے۔وہی لمبے بال گھنی لٹوں جیسی بڑی داڑھی سرخ آنکھیں ملنگ کا بھیس۔یہ تصویر دیکھیں ذرا۔۔سب انسپکٹر نے جیب سے ایک سادہ کاغذ پر بنا خاکہ نکال کر انسپکٹر کو دیکھایا۔ان کی باتوں سے مجھے اتنا ہی پتہ چل چکا تھا کہ انسپکٹر علاقے کا تھانے دار ہے اور وہ کسی خود کش کی تلاش میں یہاں ناکہ لگائے بیٹھا تھے۔میرے ہاتھ ہوا میں کھڑے کھڑے اکڑنے لگے تو میں نے تھانے دار کو پہلی بار مخاطب کیا۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے ہاتھ نیچے کر لوں۔میں ایک فقیر ہوں۔رہاست پور سے آرہا ہوں۔آپ چاہیں تو تصدیق کروا لیں۔میں کوئی دہشت گرد نہیں ہوں۔میری آواز سن کر وہ سارے یوں اچھل پڑے جیسے میں نے واقعی کوئی خود کش دھماکہ کردیا ہو۔
تھانے دار میری بات سے زیادہ میرے لہجے اور سکون بھرے انداز سے پریشان ہوگیا تھا۔اس نے مجھے قمیض اتارنے کو کہا۔میں نے اپنا پھٹا پرانہ جھولا اتار کر ایک جانب پھینک دیا۔کچھ دیر تک وہ سارے دور کھڑے میرا جائزہ لیتے رہے پھر تھانے دار کے اشارے پر ایک سپاہی نے مستعدی سے آگے بڑھ کر میری مشکیں کس دیں۔اور میری پوری طرح جامع تلاشی لینے کے بعد اس نے اعلان کر دیا۔۔
نہیں صاحب جی۔یہ بندہ تو نہتا کے ۔
تھانے دار سمیت سب نے اطمینان سے سانس لیا اور میرے ہاتھ کھول دیئے گئے۔میرے تھیلے میں انہیں صرف کچھ گڑ اور چنے ملے۔تھانے دار نے جیب کے وائرلیس سیٹ پر اپنے کسی سینئیر سے بات کی اور مجھے قمیض پہننے کا حکم دیا دور ویرانے میں سامنے سڑک کے کنارے بنے ایک چھوٹے سے کیبن نما کھوکھے والے نے تھانے دار کے لیے ابلتی دودھ پتی چائے کی ایک چینک اور چند چھوٹے پرانے سے شیشے کے گلاس بھجوادیئے اور وہیں درخت تلے کرسی لگا کر تھانے دار کا دفتر بنا دیا گیا۔ان چھوٹے علاقوں میں صدر اور وزیراعظم سے زیادہ تھانے دار کو ڈر ہوتا ہے۔انسان غلام میرا ہوا ہے اور سدا غلام ہی رہے گا کھبی اپنی خواہشوں کا اور کھبی آپنے جیسے انسانوں کا۔تھانے دار نے ازراہ کرم مجھے بھی سائے میں اپنے سامنے زمین پر بیٹھنے کی اجازت دے دی۔۔
جب تک ریاست پور سے تمہاری بات کی تصدیق نہیں ہوجاتی تم زیر حراست رہوگے ویسے تمہارا یہ صاف لہجہ اور بات کرنے کے انداز مجھے شک میں ڈال رہا ہے کہ تم ہمسایہ ملک کے کوئی جاسوس ہو۔اس علاقے میں کسی کا لہجہ اتنا صاف نہیں ہے اور تمہارے حلیئے سے میل بھی نہیں کھاتا۔ٹھیک ٹھیک بتاوں تم کون ہو۔۔؟؟
میرا دل چاہا ہے کہ میں زور زور سے قہقہے لگا کر ہنسوں۔کل تک جس حلیئے اور بھیس کی وجہ سے یہ دنیا میری راہ میں پلکیں بچھاتی تھی۔میری عزت اور تکریم میں کھڑی ہوجاتی تھی میری طرف پیٹھ کر چلنے والے بے ادبی سمجھتے تھے آج وہی حلیہ اور جوگی کا بھیس مجھے ایک عادی مجرم ثابت کرنے پے تلا ہوا تھا م۔سکینہ کے حصار سے نکلتے ہی اس کی برکت اور اس کے نام کے فیض کے اثرات ختم ہونا شروع ہوگئے تھے میں نے کہیں پڑھا تھا چالیس میل کا فاصلہ خاص ہجرت کی مسافت کا مکمل کرتا ہے جیسے چالیس دن کا چلہ تبلیغ یا دوسرے روحانی عوامل کے لئے بہت اہم ہے۔شاید کچھ شخصیات کا حصار بھی کس خاص شخص کی ذات پر چالیس کے ہندسے ست مشروط ہو می۔ نے بے خیالی میں تھانے دار سے پوچھا۔۔
یہاں سے ریاست پور کتنا دور ہے ۔۔
تھانے دار نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔۔پینسٹھ میل۔۔
کیوں۔۔؟ مگر تم فکر نہ کرو۔۔ہمارا وائرلیس پر رابطہ ہے ابھی گھنٹے بھر میں تمہاری اصلیت سب کے سامنے آجائے گی تھانے دار نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ مجھے ہتھکڑی لگا کر دوسری آنے والی پڑا نی جیپ میں بیٹھا کر تھانے پہنچا دیا جائے۔ان میں کچھ تازہ بھرتی شدہ نوجوان سپاہیوں نے آج تک کوئی دہشت گرد خود کش نہیں دیکھا تھا۔اس لیے وہ مجھے کسی عجونے کی طرح دیکھ رہے تھے خود کش ۔؟؟
ہم کتنے بد قسمت معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ہماری لغت میں جانے کب سے ایسے نئے لفظ شامل ہوتے رہے ہیں۔
خود کش۔۔دہشت گرد۔۔درانداز۔۔انتہاپسند۔۔کوئی ایک اچھا لفظ بھی تو نہیں ہمارے مقدر میں ساری دنیا میں انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی راحت کے سامان کے لیے دم رات جتا رہتا پے۔مگر ہم ایک دوسرے سے محبت کرنا کب سیکھیں گئے۔۔؟
کب ہماری لغت میں دہشت کش محبت پسند سکون اندوز نامی لفظ شامل ہوں گے۔۔ہم جینا کب سیکھیں گے؟اور یہ خود کش۔۔؟۔۔ایک انسان خود خو فنا کر کے اپنی جیسی دوسری مخلوق کی جان لینے پر کیسے آمادہ ہوسکتا ہے ۔۔؟؟
کاش ہم سب جانور ہی پیدا ہوتے تو شائد حیوانیت کا یہ الزام ہم پر نہ لگتا۔۔اب رو شائد اگر جانوروں خو اگر ایک دوسرے کو الزام دینا ہوتو اسے انسان کہہ کر پکارتے ہوں گئے
مجھے تھانے پہنچا دیا گیا۔۔خلاف معمول تھانے کی عمارت باہر سے بڑی پرسکون اور خوبصورت تھی تھانے کے سامنے صاف پانی کی ایک چھوٹی سی نہر بہہ رہی تھی جو تھانے کی عمارت کے آس پاس پھیلے وسیع عریض اور سر سبز کھیتوں کو سیراب کرنے کے کام آتی ہوگی۔تھانے کے پس منظر میں دور پہاڑوں پر سورج کی دھوپ نے سونا پھیلا رکھا تھا۔نہر کے اوپر ایک چھوٹا سا اینٹوں کا پل تھا جو تھانے کے مرکزی چوبی گیٹ کو باہر کی سڑک سے ملاتا تھا جس کے عقب میں تھانے کی پرانی مگر انگریز دور کی آیک پر شکوہ عمارت موجود تھی۔اس لمحے میں نے ایک عجیب بات محسوس کی کہ پل اور دیواریں آیک جیسے اجزا اور ساخت کی بنی اینٹوں سے تعمیر ہوتے ہیں۔مگر پل۔ملاپ کا استعارہ ہوتے ہیں جب کہ دیواریں خفیہ جدائی کی علامت بن جاتی ہی۔پل لوگوں کو ملاتے ہیں اور دیواریں جدائیاں ڈال دیتی ہیں۔تھانے کی اونچی لمبی دیواروں نے بھی میرے اور باقی دنیا کے درمیان جدائی کھڑی کردی تھی اور مجھے ایک حوالاتی کمرے میں بند کردیا گیا جو تھانے کے صحن میں دھوپ کے رخ میں بنا ہوا تھا۔شائد یہ بھی قیدی کو اذیت دینے کا طریقہ ہو۔ہم انسان اپنے جیسے انسانوں کو اذیت دینے کے کتنے زیادہ طریقے ایجاد کرلیتے ہیں۔۔
راحت دینے کے لیے ہمارے پاس تھوڑا سا بھی وقت نہیں بچتا۔شام ڈھلنے تک میں وہیں حوالات میں بیٹھا آتے جاتے سپاہیوں اور دیگر سائلوں کو دیکھتا رہا۔شام کو عصر کے بعد ایک سپاہی نے کم دودھ زیادہ پانی والی پتلی سی چائے کا ایک پیالہ مجھے پکڑا دیا۔۔
جانتے ہو۔۔؟ دہشت گردی کی سزا کیا ہے۔۔؟اگر تم ہر یہ الزام ثابت ہوگیا تو سیدھے سولی چڑھ جاو گئے۔۔
کیوں خود کو ہلاکت میں ڈال دیا تم نے ؟؟
لمحے بھر میں مجھے سکینہ کی پیشن گوئی یاد آگئی۔تو میری موت اس دہشت گردی کے الزام میں سولی چڑھ جانے سے عبارت کرنے چلی تھی یہ قدرت؟؟؟
چلو یونہی موت آنی ہے تو یونہی سہی ۔۔
میں چشم تصور سے دیکھا کہ تھانے دار نے میرا ورثاء کے طور پر ریاست پور سے شکورے اور مہردین کو بلا کر میت ان کے حوالے کردی ہے۔کیونکہ تھانے دار کو میں پہلے ہی ریاست پور میں اپنی جان پہچان کا اشارہ دے چکا تھا میرے بارے میں مزید یہ کچھ جانتے نہیں تھے قدرت اپنے اپنے مسودے مکمل اور کسی بھی غلطی یا بھول سے پاک لکھتی ہے۔میں نے اطمینان سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگالی۔قضا نے میرے گرد اپنا جال بن لیا تھا۔اب تو سکون ہی سکون ہے میں نے آنکھیں موندھ لیں اور وہ ناز ادا چھم سے میری بند آنکھوں کے پردے ہر آبیٹھتی۔کاش میں ایک بار اسے دیکھ پاتا۔میرا دل کسی نادان بچے کی طرح مچل سا گیا۔۔
جیسے ننگے پاوں
پھٹے پرانے کپڑوں والے بچے
اپنی خالی جیبوں کا احساس لیے دل کو اچھی لگنے والی مہنگی چیزیں
کسی دوکان کے بندشیشوں سے
پہروں لگ کر تکتے ہیں ناں
میں بھی تم کو یوں ہی محسن
اکثر تکتا رہتا ہوں
میں بھی اسی خالی جیبوں والے بچے کی طرح اسے تکنے کی آس میں جانے کب دیوار سے ٹیک لگائے سو گیا۔مجھ جیسوں کے لیے یہ نیند اور خواب کتنی بڑی نعمت ہیں۔بیداری میں کچھ نہ پانے والے اکثر خوابوں میں مرادیں پالیتے ہیں۔میری منت بھی خواب میں پوری ہوگئی۔مین اس کی آرٹ گیلری میں اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور وہ حسب معمول اپنے کومل ہاتھوں کی جادو گری سے میرے مجسمے میں جان ڈال رہی تھی۔مجھے تو وہ خود ہمیشہ کی طرح ایک مجسمہ لگ رہی تھی۔ہم دونوں خاموش تھے۔دنیا کی کسی زبان یا ڈکشنری کا کوئی لفظ بھی تو ایسا نہیں تھا جو ہم دونوں کے دل کی باتوں کو کسی بولی میں ڈھال کر منتقل کر سکتا ہو۔ایدی صورت میں صرف نظر ہی نظر کے لیے زبان کا کام دیتی ہے۔میں نے جانے کتنی دیر اس کے ساتھ نظر کی یہ بولی بولتا رہا اور پھر کسی نے مجھے زور سے آواز دے کر اٹھایا۔۔۔چل بھئی ملنگ بادشاہ۔۔۔
تھانے دار صاحب تجھے بلا رہے ہیں۔۔
میں نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔صبع ہوچکی تھی مجھے ہتھکڑیوں سمیت تھانے دار کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔جہاں پہلے سے چند دیگر پولیس افسر کرسیاں ڈالے بیٹھے ہوے تھے تھانے دار خود ایک جانب مودب سا کھڑا تھا جس کا مطلب تھا کہ بیٹھے ہوے افسر خصوصی طور پر کہیں اور سے یہاں آئے تھے۔سب نے مجھے غور سے دیکھا میرے چند خاکے بنائے گئے اور پہلے سے لائے گئے چند خاکوں اور تصویروں سے میرا حلیہ جوڑا گیا۔پھر ایک افسر نے خو عہدے میں ایس پی تھا مجھ سے پہلی بار براہ راست بات کی ریاست پور سے صرف اتنا پتا چلا ہے کہ تم نے کچھ مہنے وہاں بستی سے باہر درخت تلے گزارے ہیں۔اس سے پہلے تم کہاں تھے۔۔۔؟؟
میں دھیرے سے مسکرایا۔فقیر کا کوئی ایک ٹھکانہ کب ہوتا ہے صاحب۔اس سے پہلے شکر گڑھ ریلوے پلیٹ فارم پر ڈیرہ تھا اور اس سے پہلے کہیں اور ویرانہ ٹھکانہ تھا میرا۔اب آپ کی یہ حوالات ہے ۔۔
ایس پی نے الجھی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھا۔مگر تمہارا یہ کب لہجہ۔۔یہ اعتماد یہ تمہارے حلیئے کو غلط ثابت کرتا ہے ہمیں الجھا رہا ہے تمہارا یہ اعتماد۔۔میں جانتا ہوں جگہوں کا تم نے ابھی نام لیا تم نے ضرور وہاں وقت گزارا ہوگا۔مگر آخر تم ہو کون۔۔؟؟تمہارا شناختی کارڈ بھی نہیں ہے جس سے تمہاری پیدائش وغیرہ کا ریکارڈ دیکھا جا سکے ۔
میں نے کمرے میں بیٹھے باقی سب لوگوں پر ایک گہری نظر ڈالی۔۔حیرت کی بات ہے۔۔کوئی اگر آپ جیسی کوتوالی کے سامنے بات کرتے ہوئے لڑکھڑا جائے۔اس کی آواز کانپے تب بھی آپ لوگ اس پر جھوٹا ہونے کی تہمت لگا دیتے ہیں۔اور اگر بنا گھبرائے اپنا مدعا بیان کردے تب بھی آپ لوگوں کو اس کا یہ اعتماد مشکوک لگتا ہے۔آپ میری باتوں پر یقین نہ کریں۔اپنی تفشیش پوری کریں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے میرا لیے اب سلاخوں کے پیچھے یا اس زندان سے باہر ہونا ایک جیسا ہے میں دونوں طرف ہی قید رہتا ہوں۔آپ اطمینان سے اپنی تسلی کری۔۔
میں خاموش ہوا تو ان سب کے تنے ہوئے چہروں ہر مزید کئی شکنیں پڑ چکیں تھیں۔۔
ایس پی۔نے میرے سامنے ایک تصویر رکھی جو میرے موجودہ حلیئے سے کافی حد تک مشابہہ تھی۔ہمیں اس شخص کی تلاش ہے۔یہ دشمن ملک کا جاسوس ہے ہمارے ملک میں دہشت گردی کے بہت سے منصوبوں پر عمل کر چکا ہے اور ابھی تک وہ معصوم لوگوں کے جان کے درپے ہے تمہارا حلیہ اور تمہاری ادھوری کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ تم یہی دہشت گرد ہو جس کے نہ جانے کتنے نام اور بہروپ ہیں۔یہ بھی تمہاری طرح بہت سے علاقوں میں جوگی فقیر یا ملنگ کے حلیئے میں گھومتا رہتا ہے اور یہ موقع پاتے ہی اپنا کام کر جاتا ہے۔سینکڑوں معصوموں کو
دھماکوں میں موت کے گھاٹ اتار چکا ہے یہ اب لہذا تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ اپنی پوری شناخت واضع کردہ۔ورنہ ساری عمر انہی سلاخوں کئ پیچھے پڑے سڑتے رہو گے۔۔
اس کا لہجہ اور ان سب کے تیور صاف بتا رہے تھے کہ وہ کسی بھی حال میں میری شناخت جانے بنا وہاں مجھے وہاں سے جانے نہیں دیں گے۔مگر میں انہیں کیا بتاتا؟
میں جس شناخت سے ساری عمر بھاگتا رہا وہ اک بار پھر میرا مذاق اڑانے کے لیے میرئ سامنے کھڑی ہونے کو تیار تھی۔میں نے پولیس والوں کو پھر وہی جواب دیا کہ میری شناخت ایل بھکاری کے علاوہ اور کچھ نہیں مگر وہ بھلا کب ماننے والے تھے مجھے دوبارہ حوالات میں بند کردیا گیا اور اگلے روز مجھے ضلع کی بڑی جیل میں منتقل کردیا گیا میری تصویریں کھینچ کر اخبار اور اشتہارات کے ذریعے علاقے میں پہنچا دی گئی کہ علاقہ پولیس نے ایک مشکوک کو دہشت گردی کے شک کی بنیاد میں پکڑا ہے۔کسی کو اس کے بارے میں اطلاع ہوتو آکر پولیس سے ملے اگلی صبع سب سے پہلے مجھے شکورے اور مہردین کی آواز سنائی دیں۔پولیس والے انہیں دو جاہل دیہاتی بوڑھے سمجھ کر دھتکار رہے تھے جبکہ وہ دہائی دے رہے تھے کہ پکڑا جانے والا ہوئی دہشت گرد نہیں ان کا جوگی سائیں ہے۔مگر وہاں ان کی کوئی سننے والا نہیں تھا۔پولیس والوں نے صبع ہی میری انگلیوں کے نشانات لے کر جانچ کے لیے بڑے شہر بھجوا دیئے تھے۔شکورے اور مہردین کو تھوڑی دیر کے لیے مجھ سے ملاقات کی اجازت ملی تو وہ دونوں روپڑے ۔۔
میں دھیرے سے مسکرایا۔۔شائد میں وہ نہیں ہوں جو تم دونوں مجھے سمجھ رہے ہو۔اور پھر تم دونوں نے ہی تو کہا تھا کہ سکینہ کا دیکھا ہوا ہر خواب سچ تعبیر ہوتا ہے۔شائد اس کے خواب کی تعبیر کا وقت آگیا ہے ۔۔
وہ دونوں میرے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ پکڑ کر روتے رہے اور ملاقات کا وقت ختم ہوگیا شکورے نے جاتے جاتے مجھے بتایا کہ جس دن سے سکینہ نے وہ خواب دیکھا ہے تبھی سے وہ دعا کے لیے ہاتھ جوڑے بیٹھی ہے اور اپنے رب سے ہر گھڑی رو رو کر صرف یہی دعا مانگ رہی ہے کہ سائیں کو کچھ نہ ہو۔سائیں جی کو ہم سب کی عمر لگ جائے مگر سائیں کی آنے والی فنا ٹل جائے۔اور پھر اگلی صبع چائے پہنچانے والے سنتری نے آکر زور دار انداز میں سلاخیں کھڑکائیں۔اٹھ جاو ملنگ بادشاہ۔تمہاری رہائی کا پروانہ آگیا ہے۔میں حیران حوالات سے باہر نکلا تو تھانے دار نے مجھے اپنے کمرے میں بلوا لیا اس بار اس کا لہجہ بہت نرم اور معذرت خواہانہ تھا۔معاف کرنا فقیرو۔۔ہم بھی انسان ہیں۔ڈیوٹی کرتے وقت اونچ نیچ ہوجاتی ہے۔ہمارا کام ایسا ہے۔شک کے اوپر ہمارے یقین کا قلعہ کھڑا رہتا ہے۔اس کے بغیر ہمارا کام نہیں چلتا۔۔
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا آپ اتنی وضاحت کیوں پیش کررہے ہیں۔میں نے تو ہلکی سی شکایت بھی نہیں کی تھانے دار چائے واکے لڑکے کو چائے ناشتہ میز پر سجانے کا اشارہ کیا۔۔تم نے کوئی شکایت یا گلہ نہیں کیا اسی بات نے تو مجھے مزید شرمندہ کر رکھا ہے ہم جس دہشت گرد کی تلاش میں تھے اسے کل رات سرحد کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا ہے تمہارے فنگر پرنٹس کی رپورٹ بھی بالکل کلئیر آئی ہے اب تم آزاد ہو۔جہاں جانا چاہو جاسکتے ہو مگر پہلے ناشتہ کر لو…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: