Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 32

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 32

–**–**–

میرا دل اس وقت کچھ بھی کھانے پینے کا نہیں تھا۔مگر تھانے دار کا دل رکھنے کے لیے میں نے چائے کے چند گھونٹ حلق سے اتارے اور جانے کے لیے کھڑا ہوگیا۔تھانے دار برآمدے تک میرے ساتھ آیا۔کہاں جاو گئے؟؟
کوئی منزل نہیں ہے میرے جہاں قدم اٹھیں گئے اسی طرف نکل جاو گا آپ کی ہمدردی کا بہت شکریہ۔۔
تھانے دار مجھ سے مزید کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش ہوگیا۔شائد تمہیں اپنے متعلق بات کرنا کچھ زیادہ پسند نہیں ہے۔چلو جیسے تمہاری مرضی۔اکرم خان نام ہے میرا۔۔کھبی کسی مدد کی ضرورت ہو تو یاد رکھنا اور ہاں۔کل جو دیہاتی تمہارے حق میں گواہی دینے کے لیے آئے تھے اگر وہ دوبارہ آئیں تو اب ہیں کیا بتاو۔۔؟
میں نے پلٹ کر تھانے دار کی طرف دیکھا ان سے کہیئے گا یہاں پر گنا ہونا میرے نصیب میں نہیں تھا۔جہاں لکھی ہوگی۔وہان خود پہنچ جاو گا۔میری تلاش میں بھٹکنے کی کوشش نہ کریں ۔۔
میں اکرم خان کو وہیں ہکا بکا چھوڑ کر تھانے دار کی چار دیواری سے باہر نکل آیا۔۔پھر وہی پل اور وہی دیوار۔
میں قصبے کی طرف جاتی پگڈنڈی کی مخالف سمت میں چل پڑا۔۔راستے میں بادلوں نے مجھے تنہا چلتے دیکھ کر آپس میں کچھ سرگوشیاں کیں اور پھر سارے بادل زور سے گڑ گڑا کر ہنس پڑے۔شریر بوندیں ایک بے گھر بیچارے کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کے لیے بادلوں کی گود سے ایک ایک کر کے زمین کی طرف لپکنے لگیں۔بادلوں نے بنجارے کو بھیگتے دیکھ کر ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اپنئ جھولی میں بند ساری شرارتی بوند مجھ بنجارے پر برسادیں۔موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ویرانے میں برستی بارش کی بوندوں کی بولی کوئی سنے تو اسے بارش کی تنہائی پر بھی پیار آجائے وہ میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔مجھ سے اٹھکیلیاں اور ضد کر رہی تھیں کہ میں دوسروں کی طرح ان کے اور سے گھبرا کر کسی درخت یا اوٹ کی پناہ تلاش کر لوں مگر میں نہیں رکا۔بھیگتا رہا میں بہت دور تک یونہی چلتا رہا بہت دیر تک مجھے یاد آتی آرہی اور اس اجنبی ویرانے کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے۔یہ شاعر بھی کیسے کیسے خیال جوڑ لیتے ہیں اپنی تخیل کی کرشماتی دنیا سے زندگی کے ہر قدم پر ہمیں ان کے بول کسی نہ کسی طور اپنے حال سے جڑے محسوس ہوتے ہیں۔گھنٹہ بھر بھیگنے کے بعد مجھے سردی لگنے لگی تھی۔مگر نہ جانے میں کہاں تھا۔یہ کون سی جگہ تھی شام ڈھلنے والی تھی۔کچھ دیر بعد کسی بیل گاڑی والے نے میرے قریب سے گزرتے ہوے مجھے آواز لگائی۔۔۔
کہاں جارہے ہو صوفیو۔میں پہنچا دوں ۔۔
میں نے اس دیاوان سے راستہ پوچھا۔۔یہ راستہ کہاں جاتا ہے وہ کوئی پرانہ لطیفہ یاد کر کے زور سے ہنسا۔راستہ رو کہیں نہیں جاتا۔یہیں پڑا رہتا ہے دن بھر فقیروں۔بس میں ہی آتا جاتا رہتا ہوں۔۔
مجھے اس کی زندہ دلی اچھی لگی ۔اس دور میں بھی اگر کوئی اپنے من کی الجھنیں بھلا کر لبوں پر ایک ایک ہلکی سی مسکان برقرار رکھ سکتا ہے تو یقینا وہ دل والا ہے بیل گاڑی بے مجھے پکی سڑک تک پہنچا دیا۔جہاں سے اکا دکا سواریاں گزر رہی تھیں مگر میری حالت سردی لگنے کی وجہ سے بگڑتی جارہی تھیں۔رات ڈھلنے سے پہلے مجھے بخار ہوچکا تھا۔کسی بس والے بے ترس کھا کر مجھے بٹھا لیا اور بنا پوچھے ہی ایک ویران سے ریلوے اسٹیشن پر اتار دیا۔شائد وہی بس کا آخری سٹاپ تھا۔ساتھ ہی اس نے اسٹیشن کے ایک چپڑاسی کو میرا خیال رکھنے کا بھی کہہ دیا۔بخار نے میرے حواس اس بڑی طرح متاثر کیے تھے کہ میں خود کوئی فیصلہ لینے کے قابل نہیں رہا تھا۔ریلوے اہل کار نے میری حالت دیکھی تو مجھے کسی بڑے شہر جاتی ریل گاڑی میں سوار کروادیا اور ٹی ٹی سے درخواست کی کہ مجھے پہنچتے ہی کسی قلی یا مزدور سی کہلوا کر شہر کے بڑے ہسپتال پہنچا دے۔دو دن کا طویل سفر میرے ہوش اور بے ہوشی کے وقفوں میں یوں گزر کہ مجھے کچھ پتا نہیں چلا۔گاڑی رکی تو میں نے ٹی ٹی کو بنا بتائے لڑکھڑاتا رحمان ہوا پلیٹ فارم پر اتر آیا۔میں مزید ان لوگوں پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔تھکن کے مارے میرا بڑا حال تھا اور غنودگی کے غلبے نے مجھے ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھنے پر مجبور کردیا۔جب انے اور جانے والے مسافروں کی بھیڑ چھٹی تو میری نظر پلیٹ فارم کے گھڑیال کے ساتھ لگے جلتے بجھتے برقی بورڈ پر پڑی جس کے اوپر شہر کا نام لکھا ہوا تھا میرے اندر ایک دم شدید اور کان پھاڑ دینے والا شور سا اٹھا۔جیسے میری روح کے سارے تار ایک ہی جھٹکے میں کسی نے خھنجھنا کر رکھ دیے ہوں۔یہ تو میرا شہر تھا ہاں وہی شہر جہاں میں پیدا ہوا تھا وہی شہر جہاں وہ کوچہ جاناں تھا جہاں وہ رہتی تھی۔میں نے گھبرا کر اٹھنے اور پلیٹ فارم سے نکلتی ایک گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کی مگر میں لڑ کھڑا کر وہیں گر گیا۔کسی قلی نے آخری وقت ہر مجھے سنبھال لیا ورنہ شاید میں ٹرین کے نیچے آکر کٹ جاتا۔میرے اردگرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا۔تماشہ کہیں بھی ہو تماش بین مل پی جاتے ہیں۔ویسے بھی ہمیں تماشہ دیکھنا اچھا لگتا ہے۔وہ سب مجھے بڑی جھاڑ پلا رہے تھے اور حماقت پر ڈانٹ رہے تھے۔کچھ نے مجھے خود کشی کے ارادے کے جرم میں پولیس کے حوالے کر دینے کا مشورہ بھی دیا۔خود کشی بھی کتبا عجیب جرم ہے جرم کا ارادہ ہو یا اگر جرم نا مکمل رہ جائے تو اس کے لیے کڑی سزا ہے مگر یہی جرم اگر مکمل ہوجائے تو دنیا کا ہر قانون اس کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے اتنے میں کسی شناسا کی آواز ہجوم میں ابھری ۔۔
ہٹو دور یہاں سے جاو اپنا کام کرو تم سب لوگ۔۔
میں نے گھبرا کر نظر اٹھائی تو میرا دل زور سے دھڑکا۔آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔
کھبی کھبی ہمارے خدشات حقیقت کا روپ دھارنے میں کس قدر عجلت سے کام لیتے ہیں۔ہماری سوچ کی پرواز سے بھی تیز جلد باز اندیشے مجھے یہی خدشہ تھا کہ یہاں مجھے اپنا کوئی جاننے والا نہ مل جائے اور ٹھیک اسی وقت بھیڑ کو دھکیل کر اندر آنے والے نے میرا اندیشہ سچ کر دکھایا آنے والا خان تھا۔کچھ دیر کے لیے مجھے دیکھ کر گم سم ہی رہ گیا۔خود میں بھی اسے یہاں اپنے شہر کے پلیٹ فارم پر دیکھ کر حیرت زدہ تھا۔خان دوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا اور رونے لگا۔۔
کیوں ظلم کرتے ہو ہم غریبوں پر سائیں۔۔کیوں بار بار مجھے اکیلا چھوڑ جاتے ہو۔؟؟
میں نے بڑی مشکل سے اسے خود سے علیحدہ کیا۔مگر تم یہاں کیا کررہے ہو۔؟۔۔آس پاس کھڑے لوگ حیرت سے ہم دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔خان نے حسب معمول کسی حوالدار کی طرح سب کو ڈانٹا جاو یہاں سے بابا۔۔کیا مصطفی قریشی کی کوئی فلم چل رہی ہے جو تم سارے یوں منہ کھول کر کھڑے دیکھ رہے ہو۔۔۔جاو۔۔۔اپنا کام کرو۔۔۔شکر کرو سائیں جی ادھر آگیا ہے۔۔۔اب دیکھنا کیسے سب کی قسمت بدلتی ہے۔۔۔چلو اب بھاگو سارے یہاں سے ۔۔
دھیرے دھیرے بھیڑ چھٹنے لگی۔خان مت مجھے بتایا کہ اس کہ حالات درس بہتر ہوے تو بیوی نے ضد کی کہ اب انہیں بچوں کی تعلیم کے لیے یہ چھوٹا قصبہ چھوڑ کر کسی بڑے شہر منتقل ہوجانا چاہیے۔لہذا خان نے کچھ عرصہ قبل کسی سے سفارش کروا کر یہاں ریلوے اسٹیشن پر اپنا چھوٹا سا کیبن بنا لیا اور اب وہ اپنے بیوی بچوں سمیت اسی شہر منتقل ہوچکا تھا۔جانے میری قسمت کے خالی کشکول میں مقدر بار بار وہی پرانے سکے ڈال دیتا تھا۔مجھے خان کے خلوص پر کوئی شک نہیں تھا۔وہ سیدھا سادھا سا بے لوث انسان میرے لیے اپنی جان سے بھی گزر سکتا تھا مگر میرا نادان دوست تھا۔۔اور مجھے شاید کسی دانا دشمن کی تلاش تھی۔خان کا کھوکھا یہاں بھی خوب چلتا تھا اور اس نے اپنی عادت کے مطابق یہاں بھی سب پر اپنا خاہ مخواہ کا رعب جما رکھا تھا خان نے تھوڑی دیر میں ہی پلیٹ فارم کے شیڈ سے پڑے کھلے آسمان تلے ایک بوڑھے برگد کے درخت کے نیچے میرا بسیرا بنا دیا۔فقیر کا ٹھکانہ بھی بھلا کیا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ایک پھٹا پرانہ چھپر۔جو نہ دھوپ روک سکتا ہے نہ بارش۔۔درخت کے نیچے یہاں بھی پکی اینٹ اور سیمنٹ سے بنے ایک گول چبوترے نے برگد کی جڑوں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔بالکل میرے غموں کی طرح جو ہر لمحہ میرے اپنا گھیرا ڈالے رہتے تھے رات کو گھر جانے سے پہلے کچھ دیر خان میرے پاس رکا اور میری خستہ حالی دیکھ کر گھبرا گیا ۔۔
تمہیں شاید بخار لگتا ہے جوگی سائیں ۔۔،؟..
نہین میں ٹھیک ہوں ۔۔بس تھکن ہے بہت لمبا سفر کی۔۔
تم جاو۔۔بیوی بچے انتظار کررہے ہوں گے۔۔مجھے ابھی بہت جاگنا ہے اس شہرکا آسمان اور ستارے میرے پرانے دوست بیت سی باتیں کرنی ہیں ان سے آج رات۔۔نہ چاہتے ہوے بھی خان مجبورا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔مگر اس کے بارے ہی جانے کیوں مجھے یہ احساس ستانے لگا کہ میں اسے کچھ دیر مزید روک لیتا تو اچھا تھا۔میرے لیے یہ احساس ہی بڑا جان لیوا تھا کہ میں اپنے پی شہرمین تنہا ہوں۔ریت اینٹ اور سیمنٹ کی بنی چند عمارتوں اور سڑکوں سے پڑے شاید وہ بھی اسی تاروں بھرے آسمان تلے جاگ رہی ہوگی؟
شاید اپنی آرٹ گیلری میں کوئی مجسمہ تراش رہی ہو۔۔یا پھر شاید اپنی چھت پر اپنی پسندیدہ زرد پھولوں والی نیوی بلیو شال پہنے ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے میری طرح ستاروں سے باتیں کررہی ہوگی۔یہ آسمان بھی تو اس کی شال کی طرح تھا۔میری آنکھیں بھیگنے کریں تو مجھے اپنی تنہائیکا شدت سے احساس ہوا۔کھبی کھبی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جن ہم خود اپنا سامنا کرنے سے ہی کتراتے ہیں۔میں بھی ساری رات خود سے بھاگتا رہا صبع تک مزید نڈھال ہوچکا تھا۔صبع ہوتے ہی جب دن کی روایتی بھیڑ اور چہل پہل کا دور شروع ہوا تو حسب معمول سب سے پہلے ضعیف العقیدہ لوگ میرے آس پاس جمع ہونے لگے شاید اس میں میری پرانی شہرت کا بھی ضرور کچھ حصہ رہا ہوگا۔کیونکہ ریلوے کے جن اہل کاروں کی ٹرین ڈیوٹی کا روٹ شکر گڑھ رہا تھا وہ مجھے پہلے سے جانتے تھے اور انہوں نے میرا نام نہاد۔کرامات۔کے بہت قصے سن رکھے تھے۔اسٹیشن ماسٹر آتے جاتے لوگوں کو یوں ٹھٹھک کر درخت کے قریب جمع ہوتے دیکھا تو وہ بھی اپنے دفتر سے باہر نکل آیا اور جھڑک کر پوچھنے لگا۔۔
یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے۔۔کون ہے یہ مجزوب۔؟؟
آسٹیشن ماسٹر کی آواز سن کر ریلوے کے چھوٹے موٹے اہل کار ادھر ادھر بدک گئے۔۔اسٹیشن ماسٹر نے مجھے غور سے دیکھا۔۔
کون ہو تم۔۔؟اور کیا تم جانتے نہیں ہوکہ ریلوے کی سرکاری زمین پر کوئی بھی مستقل یا عارضی بسیرا ڈالنا ممنوع ہے میں بمشکل اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔۔بسیرے بھی بھلا کھبی ممنوع اور غیر ممنوع ہوتے ہیں جناب ۔۔؟ شاید مکین ممنوعہ یا غیر ممنوعہ ہوتے ہوں۔۔
میں نے جانے کے لیے قدم بڑھائے مگر بخار کی تھکن اور نقاہت کی وجہ سے مجھے ایک زور دار چکر آیا اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔اسٹیشن ماسٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر مجھے تھامنے کی کوشش کی ارے ارے سنبھل کے بھائی تمہاری طبعیت تو بہت ناساز لگتی ہے اسٹیشن ماسٹر کی آواز پر دو قلی دوڑتے چکے آئے اور انہوں نے مجھے سہارا دے کر دوبارہ میرے مسکن پر بٹھا دیا۔میں نے اسٹیشن ماسٹر کو تسلی دی۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔میں خود بھی یہاں سے جانا چاہ رہا تھا۔آپ فکر نہ کریں زیادہ دیر نہیں ٹکوں گا یہاں پر اسٹیشن ماسٹر کے چہرے پر ندامت کے آثار تھے نہیں نہیں ایسی کوئی جلدی بھی نہیں ہے۔ تم تو جانتے ہو کچھ لوگ اسی طرح چھپر ڈالتے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے سرکاری زمین پر پہلے پکا جھونپڑی اور پھر چار دیواری کھڑی کرکے قبضہ کر لیتے ہیں۔بطور اسٹیشن ماسٹر میرا فرض ہے کہ میں پلیٹ فارم اور اسٹیشن کی حدود میں کسی بھی ناجائز تجاوز کو روکوں۔مگر تم اس وقت اس قابل نہیں ہو کہ اپنے بل بوتے پر ایک قدم بھی چل سکو کچھ دن آرام کر لو طبعیت سنبھل جائے تو چکے جانا ۔۔
میں نے تھک کر آنکھیں موندھ لیں ۔
آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔۔مگر یہ شہر مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے۔آپ ایک احسان اور کردیں مجھ پر۔یہاں سے کہیں بہت دور دراز جانے والی گاڑی پر سوار کروادیں مجھے اتنے میں ہی اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کا ایک ماتحت وہاں آپہنچا سپرنٹنڈنٹ آفس سے فون ہے آپ کا صاحب اسٹیشن ماسٹر نے سر ہلایا اور جانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے میرے پاس رکا اعجاز نام ہے میرا۔۔فی الحال تم آرام کرو۔۔میں ذرا دفتر کے معاملے نپٹا لوں تمہارے جانے کا انتظام بھی ہوجائے گا ذرا صبر سے کام لو ۔۔
آسٹیشن ماسٹر پلٹ گیا۔۔اب میں اسے کیا بتاتا کہ مجھے زندگی میں کڑواہٹ کی آس قدر عادت ہوگئی ہے کہ اب میٹھے کی عادت ہی نہیں رہی۔پھر چاہے وہ صبر کا پھل ہی کیوں نہ ہو۔کچھ دیر بعد ایک ریلوے اہل کار بخار کی شربت کی بوتل اور چند گولیاں مجھے تھما گیا۔۔یہ دوائیاں اسٹیشن ماسٹر صاحب نے بھیجی ہیں۔۔جلدی سے یہ گولیاں اور شربت غنک جاو۔۔۔
ہمارے اعجاز صاحب نے ڈسپنسر کا کورس بھی کر رکھا ہے یہاں سب کی چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج وک خود کرتے ہیں۔شام کو بیٹھک میں خوب ہجوم رہتا ہے ان کی ۔۔
وہ باتونی نہ جانے کیا کچھ کہتا رہا اور تب تک وہاں سے نہین ٹلا جب تک میں نے دوا کی خوراک لے نہی لی کچھ لوگ اپنے لفظ اتنے بے دریغ کیوں لٹاتے رہتے ہیں۔جانے مجھے ہمیشہ سے ایسا کیوں لگتا تھا کہ لفظ ادا ہونے کے بعد ہمیں خالی کرجاتے ہیں۔کچھ دیر میں جان اگیا اور اپنا کیبن کھولنے کی بجھائے سیدھا میرئ طرف چکا آیا ۔۔
سائیں جی۔۔وہ کالو ٹھیلے والا بتا رہا تھا کہ اسٹیشن ماسٹر صاحب آئے تھے تمہاری طرف سب خیر تو ہے ناں ۔۔
ہاں۔۔سب خیر ہے وہ اپنا فرض پورا کرنے آئے تھے۔۔اچھے انسان ہیں خان کے چہرے پر چھائی فکر مندی کی لکیریں چھٹ گئیں اور وہ وہیں کھڑے کھڑے اعجاز صاحب کی شان میں زمین اور آسمان کے قلابے ملانے لگا کہ دیکھنے میں تو اسٹیشن ماسٹر صاحب بہت سخت نظر آتے ہیں مگر دل کے بہت اچھے ہیں۔سب ملازمین کا بہت خیال رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔جانے یہ اوپر سے سخت نظر آنے والے اکثر اندر سے نرم اور نیک دل کیوں ہوتے ہیں۔۔شاید یہ ساری دنیا ہی ایسے تضادات کا مجموعہ ہے۔میں دن بھر وہیں منہ ڈھانپے پڑا رہا۔نقاہت اور بیماری بھی کتنی بڑی معذوری ہوتی ہے یا تو ہمارے دل اور دماغ کو اتنی قوت پرواز نہ دی گئی ہوتی یا پھر ہمیں اس کم زور جسم اور قوت ارادی کا تابع نہ کیا گیا ہوتا کہ ہم اپنے ارادوں کی تکمیل کی خواہش میں بس پھڑک کر ہی رہ جائیں۔میں بھی سارا دن اسٹیشن چھوڑ کر کہیں دور نکل جانے کے اپنے کم زور ارادے سے لڑتا رہا مگر میرے لاغر جسم نے میرا ساتھ نہ دیا۔شام اعجاز صاحب نے بھی دوسرا پھیرا ڈالا اور حال چال پوچھ کر جاتے جاتے کیا سوچ کر دوبارہ میرئ طرف پلٹ آئے۔۔
بات چیت سے تم کافی پڑھے لکھے لگتے ہو۔پھر یہ جوگ کیوں لے رکھا ہے۔بھئی معاف کرنا۔میں اس پیری فقیری ہر اعتبار نہیں کرتا۔آج کل کے اس منافق دور میں اصل پیر فقیر بھلا کب پائے جاتے ہیں؟
اعجاز صاحب کے لہجے میں تلخی گھلی ہوئی تھی۔میں نے تائید کی۔ٹھیک کہتے ہیں۔کاش یہ چھوٹی سی بات اس ظاہر پرست دنیا کو بھی سمجھ آجائے کہ صرف حلیہ درویشی کی ضمانت نہیں ہوتا۔۔دیوانے اور مجذوب میں بڑا فرق ہوتا ہے اعجاز صاحب نے چونک کر میری طرف دیکھا آدمی دلچسپ لگتے ہو۔موقع ملا تو کھبی تفصیلات ہوگی۔۔تم آرام کرو اسٹیشن ماسٹر صاحب کے جاتے ہی دور اپنے ٹھیکے پر بے چین کھڑا خان لپک کر میرے قریب آگیا کہا کہہ رہے تھے آسٹیشن ماسٹر صاحب۔۔میرے متعلق تو کچھ نہیں کہا؟؟
ہاں۔۔کہ رہے تھے کہ یہ خان سارا دن ادھر کی ادھر لگاتا رہتا ہے دل لگا کہ کام نہیں کرتا وقت ضائع کرتا ہے۔۔سوچ رہیں ہیں کہ تمہارے ٹھیکہ کا لائسنس منسوخ کردیں۔
میری بات سن کر خان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
کیا بول رہے ہو جوگی سائیں۔۔میں تو سارا دن محنت کرتا ہوں۔تم محنت کم باتیں زیادہ کرتے ہو۔۔آج سے کوشش کرو کہ انہیں دوبارہ تم سے شکایت نہ ہو۔خان نے جلدی سے سر ہلایا اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے جلدی سے اپنے ٹھیلے کی جانب بڑھ گیا اور میں نے سکون سے سر ٹکا لیا میں جانتا تھا اب رات گئے تک وہ کام میں جٹا رہے گا میرا وہ نادان دوست تھا۔۔اگلی شام آئی تو عصر کے بعد ایک قلی خوان اٹھائے میری طرف چلا آیا۔۔
آسٹیشن ماسٹر صاحب کے گھر میں نیاز ہے آج ختم قرآن کی تمہارا حصہ بھی بھیجا ہے میرا جی چاہا کہ میں کھانے کی ٹرے واپس لوٹا دوں کہ میرا کچھ بھی کھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا مگر نیاز کا سن کر میں خاموش رہا۔شام ڈھلی تو میرے دل کے اندھیرے بڑھ گئے اور اسٹیشن روشنیوں سے جگمگانے لگا۔مگر میرے تاریک دل کا اجال سکتا وہ اجالا کہاں تھا میری قسمت میں؟
خان بے چارہ دن بھر کام مین جتا رہا۔میں نے سوچ رکھا تھا کہ یہاں سے جاتے ہوئے اسے بتا کر جاوں گا کہ میں نے اس کی ناز برداری اور خدمت گزاری سے بچنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔میں وہ پتھر تھا جس سے سر ٹکڑانے والا پجاری بدلے میں صرف زخم ہی پاسکتا تھا۔رات ہوئی تو اسٹیشن ماسٹر صاحب حسب معمول اسٹیشن کا ایک جائزہ لینے کے لیے پلیٹ فارم پر سارے موجود اہل کاروں و ہدایات دیتے نظر آئے مگر جانے کیوں اس رات مجھے اعجاز صاحب کی چال اور آواز میں وہ بانکپن اور کڑک مفقود محسوس ہوئی جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔میرے قریب سے گزرتے ہوئے وہ رک گئے۔۔
تم سوتے نہیں ہوکیا۔۔؟طبعیت اب کیسی ہے تمہاری۔۔؟
ٹھیک ہوں۔۔بس نیند آتے آتے آتی ہے ۔۔۔
وہ تھکے ہوے انداز میں وہیں چبوترے پر میرے قریب بیٹھ گئے۔۔ہاں ٹھیک کہا تم نے۔۔کھبی کھبی تو نیند بھی نخریلی شہزادی بن جاتی ہے۔آپ آج کچھ پریشان دیکھائی دیتے ہیں سب ٹھیک تو ہے۔۔؟
انہوں نے ایک گہرے سانس لی۔۔ہاں اب تو ٹھیک ہی سمجھو۔وہ کہتے ہیں ناں۔۔درد کا حد سے گزر جانا ہی دوا ہو جاتا ہے تم یہاں نئے ہو اس لیے تمہیں نہیں پتا کہ آج کل کا دن بڑا بھاری گزرتا ہے مجھ پر۔پرانے ملازمین سارے واقف ہیں اس کہانی سے۔ میں نے غور سے اس ٹوٹے ہوئے انسان کی طرف دیکھا ہمارے آس پاس بکھرے ان ہزاروں لاکھوں انسانوں میں سے ہر ایک اپنے اندر کتنا غم چھپائے کتنا درد دبائے بیٹھا ہے مگر ہم خود غرضوں کو اپنے سوا دوسرا کوئی نظر ہی کب آتا ہے بھلا۔۔۔؟
اگر مناسب سمجھیں تو مجھے کچھ بتائیں
اعجاز صاحب نے لمبی گہری سانس لی ۔۔
بس بیوی کی بیماری نے پریشان کر رکھا ہے اس بد نصیب بے بھی کم دن ہی خوشی دیکھی۔اب تو سارا دن بستر پر ہی پڑی رہتی ہے۔ہماری ایک ہی اکلوتی بیٹی تھی ثریا۔۔بچپن سے ہی دونوں کی جان۔۔لاڈ اور نازوں سی پلی۔۔سکول کالج سے یونیورسٹی تک ہے مضمون ہر مقابلے میں اول۔۔
چندے آفتاب۔۔چندے ماہتاب۔۔سچ پوچھو تو اس کی خوب صورتی سے ہم دونوں میاں بیوی کھبی کھبی بے حد خوفزدہ ہوجاتے تھے۔اس لیے جلد ہی اس کے ہاتھ پیلے کر کے رخصت کرنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔بہت سے رشتے آئے مگر مجھے خاص طور ہر کسی ایسے رشتے کی تلاش تھی جہاں ساس نندوں کا جھمیلا بھی کم ہو اور لڑکا معاشی طور پر بھی کافی مضبوط ہو۔ہم نے ثریا کو بہت نازوں سے پالا تھا اور ہمیں یہ ڈر تھا کہ وہ روایتی ساس نندوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور سختی برداشت نہیں کر سکے گی۔آخر کار رشتہ لانے والی نے ایسے ایک لڑکے کے بارے میں بتایا خو ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی بیرون ملک سے کافی کچھ کما کر دوبارہ اپنے ملک منتقل ہوا تھا اکیلا رہتا تھا اور یہاں رشتے کا بھی خواہش مند تھا۔مجھے یوں لگا جیسے قدرت نے یہ رشتہ میرے صبر کے بدلے ہی بھیجا ہے۔ہم نے ہر طرح سے چھان پھٹک کرلی۔لڑکا واقعی بہت شریف اور خاندانی تھا اور ثریا کی تصویر دیکھ کر تو اس رشتے والی کا ڈر ہی پکڑ لیا تھا کہ اب وہ رشتہ کرے گا تو ہماری ثریا سے۔ورنہ ساری عمر کنوارہ ہی رہے گا۔لڑکے کا نام کلیم تھا مگر میری بیوی اس رشتے خو قبول کرنے میں ذرا ہچکچا رہی تھی۔۔
میں نے حیرت سے اعجاز صاحب کی طرف دیکھا
مگر کیوں۔۔؟؟؟
اعجاز صاحب نے نظریں جھکالیں۔۔
دراصل لڑکا کچھ کم صورت تھا۔ہماری ثریا کی دودھ جیسی شفاف رنگت کے سامنے کلیم کا گہرا سانولا رنگ اور نین نقش بہت ہیچ محسوس ہوتے تھے اعجاز صاحب کی بات سن کر مجھے ایک زور دار جھٹکا لگا۔۔ثریا نے کیلم کو دیکھا تھا۔۔؟۔۔۔میرا مطلب ہے اس کا فیصلہ تھا اس بارے میں۔۔
ثریا کا فیصلہ وہی تھا جو کسی بھی شریف مشرقی گھرانے کی لڑکی کا ہوسکتا ہے۔۔اس نے یہ حق اپنے والدین کو تفویض کردیا تھا۔۔بالآخر پہلے پر غور کرنے کے بعد قرعہ کیلم کے نام ہی کھلا اور ہماری لاڈلی ہماری دعاوں اور آرزووں کے حصار میں کیلم کے ساتھ رخصت ہوگئی ۔۔
میں نے بے چینی سے پہلو بدلا۔۔
پھر اتنے اداس کیوں ہیں۔۔سنا ہے انسان کا اندر خوبصورت ہونا چاہیے۔۔بیرونی بدصورتی کی تو شاید پھر بھی عادت پڑ جاتی ہوگی ۔؟
مجھے لگا یہ سوال میں نے اعجاز صاحب سے نہیں۔۔خود آپنے آپ سے کیا ہے اعجاز صاحب نے لمبی گہری آہ بھری
ہاں۔۔میری ثریا نے پہلے دن سے ہی ہماری خوشی کے لیے کلیم کو پورے دل سے تسلیم کر لیا تھا۔کلیم تو پہلے پی ثریا کے پیار میں دیوانہ تھا مگر ۔۔میں نے بے چینی سے پہلو بدلا
مگر کیا؟؟؟؟؟
مگر یہ دنیا والے کب کسی کو پھلتا پھولتا اور خوش دیکھ سکتے ہیں کلیم اور ثریا جس محفل میں بھی جاتے اور جہاں سے بھی گزرتے ان کی جوڑی کو دیکھ کر لوگ معنی خیز آشارے کرتے طنزیہ مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے پہلوئے حور میں لنگور جیسے فقرے کسے جاتے۔۔تنگ آکر کلیم نے ثریا کو لے جانا پی چھوڑ دیا۔مگر لوگوں کی زبان کون روک سکتا ہے۔کلیم اپنی محرومیوں کا غصہ ثریا پر اتارنے لگا اس کے کان میں کسی نے یہ بات ڈال دی تھی کہ ضرور ثریا کے کردار میں کوئی کھوٹ یا کمی ہوگی ورنہ اس جیسی پری چہرہ لڑکی کیلم جیسے کم صورت کو قبول کیوں کرتی؟؟
کلیم کو جنوں بڑھتا ہی گیا اور ثریا کی خوبصورتی نے اسے نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا۔۔اسے گلی محلے کہ شہر کا ہر بندہ اس کا مذاق اڑانے محسوس ہونے لگا۔۔ ثریا کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔مجھ سے اور ثریا کی ماں سے ایک بڑی غلطی ہوگئی تھی رشتہ ہمیشہ جوڑ والوں میں کرنا چاہیے پھر چاہے یہ جوڑ معاشی حالت کا ہو یا پھر صورت کا۔
بے جوڑ رشتے کھبی زیادہ دیر چل نہیں پاتے۔کلیم ثریا پر شک کرنے لگا۔ذرا ذرا سی بات پر اسے دھن کر رکھ دیتا اور پھر ایک دن ثریا اس حالت میں گھر واپس آئی کہ اس کا چہرہ اور بدن نیل نیل تھا اور پھر اعجاز کی قوت گویائی جواب دینے لگی۔۔میں نے بے تابی سے پوچھا پھر کیا ہوا۔۔
پھر تیسرے راز کلیم ثریا کو طلاق بھجوادی۔۔
میری آواز حلق میں اٹک سی گئی ۔
طلاق۔۔۔؟؟؟
ہاں۔۔طلاق۔۔تین سال پہلے ہماری ثریا گھر واپس اگئی تھی۔بہت صابر شاکر تھی میری بیٹی۔۔کھبی کسی دے کوئی شکوہ نہیں کیا۔۔اس کی ماں نفسیاتی دباو اور شوگر سمیت کئی بیماریوں کا شکار ہوتی گئی۔مگر ثریا سہتی رہی اور پھر ایک دن چپ چاپ آنکھیں موندھ کر ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ گئی۔۔😭😭
ہاں۔۔آج اس کی دوسری برسی تھی۔۔یہ نیاز اسی سلسلے میں بانٹی گئی تھی مجھ سے مزید کچھ نہیں کہا گیا۔اعجاز صاحب اٹھ کر چلے گئے مجھے لگا وہ مجھے میری اپنی کہانی سنا کر پلٹ گئے میں تو سمجھا تھا کہ دنیا میں بس ایک میں ہی ان عذابوں کا شکار ہوں۔مگر یہاں تو ہر قدم پر ایک نئے روپ اور نئے نام کے ساتھ دھرنا دئیے بیٹھے ملتا ہے اعجاز صاحب نے ٹھیک ہی کہا تھا جوڑے ہمیشہ جوڑ والوں کے بھلے لگتے ہیں۔اچھا ہوا میں عینی کی زندگی سے چپ چاپ نکل ایا ہم دونوں بھی تو اسی ظالم دنیا کے باسی تھے عینی مجھے قبول کر بھی لیتی تو یہ جگ والے ہمیں جینے نہ دیتے۔یہاں روپ کے بدلے صرف روپ ہے۔ترازو کے ایک پلڑے میں حسن ہو تو دوسرا بانٹ تبھی اسے متوازن کرسکتا ہے جب وہ خود بھی حسین ہو۔ساری رات میرا دل و دماغ میں عجیب سی سنسناہٹ ہوتی رہی۔۔
جیسے قدرت نے میری کہانی کا انجام کسی دوسرے کی زبانی مجھ تک پہنچا دیا ہو۔جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور پھر خان کی ہلکی ہلکی آوازوں نے مجھے دوبارہ جگا دیا صبع ہوچکی تھی خان مجھے بتا رہا تھا کہ ۔۔
سائیں یہ بی بی کب سے آپ کے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی کہتی ہے کہ سائیں کا بڑا نام سنا ہے۔دعا لینے آئی ہے ۔۔
میں نے چونک کر سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا اور ایک لمحے میں ہی میرے لیے آسمان زمین پر گر گیا اور زمین فلک سے جا ملی میرے سامنے عینی بیٹھی ہوئی تھی😱

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: