Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 4

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 4

–**–**–

ابے اونا ساز۔۔۔تیری پھر سے تین سیپلیا آئی ہیں مطلب تو اگلے سال بھی باقی کالج کے لنگر کی توڑے گا۔ناساز کے باقی دوست بھی ہنس پڑے ناساز نے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور ایک بھر پور کش لے کے دھواں فضاء میں اڑادیا۔۔
وہ بدل کیا گریں گئ جو گھنٹوں کے بل چلے ۔۔
پتہ چلا کے گذشتہ تین چار سال سے ناساز چوتھے سال میں ہی اٹکا ہوا ہے نا اسے پاس ہونے کی جلدی تھی نہ ہی کالج والے اسے نکالنے پر آمادہ تھے کیونکہ وہ کالج کی ادبی سوسائٹی کا صدر تھا اور اس کی صدارت میں کالج بہت سی ٹرافیاں اور کپ جیت چکا تھا وہ ایک بہترین مقرر اور افسانہ نگار تھا اگلی صبع میں کالج کئ گیٹ کے اندر داخل ہوا تو ناساز گیٹ کے قریب ہی بے چینی سے ٹہل رہا تھا مجھے دیکھتے ہی اس نے مجھے اشارہ سے مجھے قریب بلایا ۔۔
بات سنو لڑکے۔۔
میں جھجکتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔
سگریٹ پیتے ہو؟
میں نے انکار میں سر ہلایا وہ بے زاری سے بولا
پھر کیا خاک جیتے ہو۔۔۔۔
میری جیب میں اس وقت شام کی ٹیوشن سے ملنے والے چند۔ روپے پڑے تھے میں سیدھا وہاں سے کینٹین گیا اور سب سے بہتر کی ایک ڈبیا اور ماچس لے کر دوبارہ ناساز کے پاس آیا اور سگریٹ اور ماچس اس کی ہتھیلی پے رکھ دیے وہ سگریٹ دیکھ کے چونکہ سا گیا اس نے جلدی سے سگریٹ سلگا کر دوچار بھر پور کش لگائے اور میں نے پہلی نکوٹین کو اپنے سامنے بیٹھے شخص کہ رگوں میں پوری طرح سرایت ہوتے ہوئے محسوس کیا اس نے مزید چند کش لیے میں پلٹ کر جانے لگا ناساز نے مجھے جلدی سے آواز دے کر روکا اور مجھے غور سے دیکھتے ہوے بولا۔۔
پیسے تھے تمہارے پاس۔۔؟
ہاں کرائے کے پیسے تھے جو آج تمہارے کام اگئے۔۔۔
وہ زور سے ہنسا اور ہاتھ بڑھا کر بولا مجھے ناساز کہتے ہیں میں اپنا تخلص ناشادر رکھنا چاہتا تھا مگر پتا چکا کے میرے حق پر پہلے ہی کوئی موسیقار ڈاکہ ڈال گیا تمہارا نام کیا ہے
میں نے آٹکتے ہوئے اپنا نام بتایا پری زاد ۔۔
ناساز زور سے کہا واہ نام تو بڑا شاعرانہ رکھا ہے پیارے
زندگی میں مرتبہ مجھے کس کے لہجے اور نظر میں اپنا نام سن کر طنز اور تمسخر کی جھلک نہیں دکھائی دی یہ میری اور ناساز کی دوستی کی ابتدا تھی ساری زندگی کا پہلا دوست جس سے بات کرتے ہوئے میری زبان لڑکھڑاتی نہیں تھی نہ ہی مجھے ٹھنڈا پسینے آتے تھے سگریٹ اس کی زندگی کا ایک ایسا لازم جزو تھا کے کھبی کھبی مجھے یو محسوس ہونے لگتا تھا جیسے ناساز سگریٹ کو نہیں سگریٹ دھیرے دھیرے ناساز کو پی کر نگل رہا ہو وہ عمر میں مجھ سے چھ سال بڑا تھا مگر اپنی باتوں سے وہ بوڑھی روح دیکھائی دیتا تھا چند ہفتوں بعد شہر کے تمام مرادانہ زنانہ کالجوں کے درمیان تقریری مقابلے ہوئے ناساز کا نام سر چڑ کر بولنے لگا میں ایسی تقریبات میں جانے سے گریز کرتا تھا مگر وہ فائنل مقابلے کی تقریب میں میں مجھے کسی طرح زبردستی پکڑ کر لے گیا ہاں میری جانب ہمارے کالج کے لڑکوں کی نشتین لگ رہی تھیں اور دوسری جانب لڑکیوں کے کالج کی طالبات بیٹھی اپنے کالج کی مقرارات کی حوصلہ افزائی کے لیے شور مچا رہی تھیں میں ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھا رہا ناساز نے اپنے دھواں دار تقریروں سے ماحول گرما دیا نہ جانے آخری مرحلے پر وہ پس پار کیوں ہوگیا اور لڑکی نے پہلا انعام جیت لیا میں نے باہر نکلتے ہی براہ راست اپنے دوست سے اس شے کا اظہار کر دیا کے وہ جان بوجھ کر ہارا ہے۔
ناساز دھیرے سے مسکرایا تم اگر دھیان سے دیکھتے تو تمہیں پتا چلتا کہ میں جیت گیا ہوں زندگی ہر بازی اول اور دوئم نمبر دے نہیں ناپی جاتی ۔۔
پھر اس نے مجھے غور سے دیکھا ۔
تم نے کھبی کسی سے محبت کی ہے پری زاد ۔۔۔؟
پل بھر کے لیے مجھے یو محسوس ہوا کے ناساز بھی باقی سب لوگوں کی طرح میرا مذاق اڑا رہا ہے مگر مجھے اس کی آنکھوں میں اس کی صاف سچائی دکھائی دی میں نے سر جھکا کر دھیرے سے جواب دیا مجھ سے بھلا کون محبت کرے گی۔
ناساز کیوں تم سے محبت کیوں نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔؟
میں چپ رہا ناساز نے نصیحت کی شعر یاد رکھا کرو
صنف نازک پر بڑا اچھا اثر ہوتا ہے اچھے شعر کا ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر بولا ۔منیر نیازی پڑھا کروں ۔۔
اس کی ایک نظم تو زبانی یاد کرو ۔۔۔۔۔
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں
ضروری بات کہنی ہو
کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو
اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے
کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت کچھ اور تھی
اس کو جاکر بتانا ہو
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ۔۔
میں نے جلدی جلدی اارہ نظم اپنی کاپی پر نوٹ کرلی اور اسی وقت اس کارٹا بھی لگا لیا ۔۔بس اب یاد رکھنا کہ تمہیں اپنی گفتگو کے دوران کسی نہ کسی بہانے یہ نظم دہرانی ہے میں تمہیں چند اور اثر انگیز غزلیں اور نظمیں بھی یاد کروا دوں گا کیا مجھے؟
میں جلدی سے کسی بچے کی طرح سر ہلایا مجھے یاد آیا کے دعا کو بھی شاعرو شاعری سے کافی گہرا لگاوں تھا اور شاید ہادی ہو کو بھی بہت سے شعر یاد تھے دعا کا خیال آتے ہی میرے گال میں شدید جلن کا احساس ہوااگلی چند دنوں میں ناساز نے مجھے بہت سی نظمیں یاد کروا دی اور پھر جس دن میں نے بزم ادب پر پریڈ میں کھڑے ہوکر ۔۔
محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی ۔۔
سنائی تو پہلی مرتبہ کلاس کے لڑکوں نے دل سے میرے لیے تالیاں بجائیں اور استاد نے بھی مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ شاباش دی ناساز کی کہی ہوئی بات سچ ثابت ہورہی تھی لوگ میری بات غور سے سننے لگے تھے میرے دل میں ایک عجیب سی خواہش انگڑائیاں لینے لگی کہ کھبی کالج میں پہلے کہ طرح لڑکے اور لڑکیوں کے اداروں کا مقابلہ ہو اور میں بھی اسٹیج پر میں بھی جاکر ناساز کی طرح پڑھوںمیں نے سارے بڑے شاعروں کو تقریبا حفظ کر لیا اور مجھے کالج کی بزم ادب ٹیم میں بھی شامل کر لیا گیا تھا اس کوشش میں میرے اندر بھی جھوٹا ہی سہی مگر ایک چھوٹا موٹا شاعر پلنے لگا میری باتوں میں شاعری کا رنگ جھلکنے لگا ناساز کسی منجھے ہوئے استاد کی طرح میری شاعرانہ تربیت کررہا تھا وہ کہیں سے بھی اچانک نازل ہوجاتا ۔۔
یہ کیا غالب اور میرے کے ڈٹے لگاتے رہتے ہو آج کل کی لڑکیاں اتنی مشکل شاعری بھلا کب سمجھتی ہیں احمد فراز کو پڑھا کرو اور وہاں۔۔۔کھبی کھبی ساحر لدھیانوی کو دہرانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ساغر کو تو جانتے ہو ناں
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
پل دو پل میری کہانی ہے ۔۔
والا۔۔۔اور ہاں ۔۔۔کل سے تمہیں یہ دہراتے رہنا ہے ۔۔
میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں
تم ہوتیں تو کیسا ہوتا تم اس پر کتنا حیراں ہوتیں
میں دبے لفظوں میں ناساز کو یہ سمجھانےکی کوشش کرتا کہ جس کسی ایک کے لیے وہ مجھ سے یہ ساری مشق کرارہا ہے اس ایک تو میری زندگی میں کوئی وجود ہی نہیں ہے پھر یہ تیاری کا کام کی؟مگر ناساز بھلا میری کب سننتا تھا ایک کالج سے واپسی کے راستے پر وہ میری ایسی تربیت میں مصروف تھا کی میری نظر پرانے کباڑئیے کی دوکان کے مٹیالے شیشے سے اندر پڑی اور میرے قدم وہیں جم کر رہ گئے اندر ایک پرانا پیانو پڑا تھا کباڑئیے نے میری دلچسپی محسوس کی تو جلدی بولا
خالص شیشم کی لکڑی کا ہے انگریز کے پرانے کلب سے خریدا ہے تم خریدو گئے کیا۔۔
صرف تیرہ ہزار میں دے دوں گا ۔۔۔
میں نے اپنی جیب دیکھی دو سو اسی میں پڑھے تھے میں نے دھیرے دھیرے سے کباڑئیے سے کہا ایک دن ضرور خرید لوگا۔۔۔ہم دونوں آگئے بڑھ گئے ۔میں تھکے ہارے قدموں سے گھر واپس پہنچا تو صحن میں داخل ہوتے ہی ایک جھٹکے سے روک گیا صحن میں دعا کی امی کھڑی میری اماں سے کچھ بات کررہی تھیں ان دونوں نے قدموں کی آواز سن کر میری طرف دیکھا۔۔۔
دعا کی امی نے مجھے دیکھ کر برا سا منہ بنایا اور امی خود تاکید کرتی ہوئی گھر سے نکل گئیں اے بہن آنا ضرور ۔۔ہم لوگ زیادہ عرصے تک نارضگیاں پالنے کے شوقین نہیں ہیں ان کے جانے کے بعد بڑا منہ بنانے کی باری امی کی تھی دعا اور ہادی کی بات طے ہوگئی ہے آپنی بیٹی کی منگنی کا پیغام دینے آئی تھی یا شاید یہ جتانے کے لیے کہ تیری اس حرکت کے بعد بھی ان کی لاڈلی کے لیے محلے کے سب سے بڑے گھر سے رشتہ آیا ہے تونے تو ہمیں کہی کا نہیں چھوڑا پری زاد ۔
میں اماں کی بڑ بڑاہٹ نظر انداز کرتا ہوا اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا میں اچھی طرح جانتا تھا کہ ایک دن ہونا تھا مگر پھر بھی ناجانے کیوں دعا کے رشتےکی خبر ان کر کر میرا دل بجے سا گیا تھا اگلے روز کالج میں ناساز نے میری یہ کیفیت بھانپ لی۔۔۔
کہا بات ہے پیارے؟آج کچھ بجے سے دیکھائی دے رہے ہو؟میرا قریب پڑا کینکر اٹھا کر تلاب کی برف پھینکا ۔۔
تو اس سے پہلے تم نے مجھے کب جلتے یا جگمگاتے دیکھوں ہے وہ میرے قریب آہ کر بیٹھ گیا جل تو رہے ہو۔اور بڑی شدت سے جل رہے ہو۔مگر یہ جلن جگمگانے والی نہیں ہے۔
اندر ہی اندر رکھ کر دینے والی ہے۔بتاوں گئے نہیں کب سے سلگ رہے ہو؟میں نے اسے دعا والی ساری بات بتا دی ناساز سن کر ایک سردسی آہ بھری ۔۔
منزلیں اپنی جگہ
راستے آپنی جگہ
جب قدم ہی ساتھ نے دیں
تو مسافر کیا کرے ؟؟؟؟
پھر کسی بڑے بزرگ کی طرح بیٹھ کے مجھ سے عہد لینے لگا مجھ سے ایک وعدہ کرو۔۔۔آج کے بعد اپنے اندر اس آگ کو کھبی بجھنے نہیں دو گے۔یہ جیون بنا اس من کی نار کے صرف ایک سرد خانہ ایک بوجھ ہوتا ہے اس لیے بندے کے اندر یہ سلگن سلگتی رہنی چاہیے عام انسان سے بھی بڑے بڑے کارنامے کروا جاتی ہے۔یہ تڑپ ہے۔۔۔یہ جلن ہے۔۔عام طور پر آدمی گیلی تیلی کی طرح ساری عمر سلگین سے بھری نم زندگی گزاردیتا ہے مگر سے جلن کے لیے ماچس کی رگڑ میسر نہیں آتی۔اس لڑکی سے ناکام محبت نے تمہیں وہی رگڑ فراہم کردی ہے ب جل گئے ہو تو خود کو بجھنے مت دینا ۔س وقت مجھے ناساز کی بات ٹھیک طرح سے سمجھ میں نہیں آئی مگر آ نے ٹھیک ہی کہا تھا جب مقدر میں آخر کار فنا ہی لکھا ہوتا ہے تو پھر یہ بجھ بجھ کر سلگ الگ کر جینا کیسا؟
تیز بھڑکتے ہوئے ہوئے شعلے کی طرح الگ ہوجانے میں ہی مزہ ہے میں بھی اس روز کے بعد کچھ ایسا جلا کہ میرے اندر کچھ بھسم ہوگیا بس میں اور میری کتابیں میری چھت اور آسمان پر رات کو چمکتے میرے دوست ستارے یہی کچھ باقی رہ گیا تھا میری زندگی میں اگلے سال کالج والوں نے رحم کھا کر ناساز کو سند دے ہی دی اور وہ اپنے گاوں واپس جانے سے پہلے مجھ سے لپٹ کر رو پڑا ۔۔
اپنا خیال رکھنا اور مجھے بول مت جانا ۔
میں بھیگی پلکوں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر اس کی گاڑی چھوٹتے ہوئے دیکھتا رہا اور بوجھل قدموں کے ساتھ گھر واپس آگیا کالج کے فائنل ائیر سے قبل ہی پہلے ابا پھر اماں یکے بعد دیگرے چل بسے اور مجھے پہلی بار یتیمی کا احساس اس وقت ہوا جب بھائی بھائیوں نے گھر کے خرچے میں ہاتھ بٹانے کا حکم صادر کر دیا ان سب کی خواہش یہی تھی کہ میں یونیورسٹی میں داخلے کا ارادہ ترک کرکے کہیں کلرکی یا چپڑاسی کی سرکاری نوکری پکڑوں تاکہ میرا بوجھ ان کاندھوں سے ہٹ جائے مگر میں نے کسی نہ کسی طرح انہیں قائل کر ہی لیا کہ۔۔۔۔کسی سرکاری نوکری کو ملتے ہی تعلیم کا سلسلہ ترک کر دو گا تب تک میں شام سے رات تک ٹیوشنز پڑھا کر گھر کا خرچہ بانٹ سکتا ہوں میں اب وہ پہلے اب وہ پہلے والا ناکام اور نالائق علم نہیں رہا تھا ناساز کی لگائی ہوئی آگ کئ بھٹی میں تپ کر کندن ہوچکا تھا کالج میں بھی فائنل میں میری تیسری پوزیشن آئی تھی تعلیمی ادارے فخر سے اپنے ادبی پروگراموں مشاعروں میں مدعو کرتے تھے میرا نام ایک ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر کے طور پر شہر کی گلیوں کوچوں میں پھیل رہا تھا لوگ میرئ صورت دیکھتے ہی لوگوں کا وہ بے اختیار تاثر ۔۔۔۔جسے کوئی نہیں چھپا سکتا تھا البتہ اب لوگوں کے رویے میں اتنی منافقت ضرور آگئی تھی کہ بچپن میں وہ میرے منہ پر ہنسہ دیتے تھے مگر اب بڑے ہو نے کے بعد وہ قہقہہ میرے پلٹ جانے کے بعد ان کے حلق سے برآمد ہوتے تھے یونیورسٹی کے پہلے دو ہفتوں میں بھی اردو ڈپارٹمنٹ کی راہداریوں میں یہ قہقہہ گونجتا رہا جا ک اب عادی ہو چکا تھا اپنے ڈپارٹمنٹ کی تعارفی کلاس میں جب مجھے لیکچر ہال کے ڈائس پر بلایا گیا تو آس پاس سے ہلکی ہلکی سرگوشیاں بلند ہونے لگی ۔۔
ارے۔۔۔؟ یہ تو پری زاد ۔۔۔ائے ہائے ۔۔۔سارا مزہ کر کرادیا شاعری تو غضب کی کرتا ہے مگر شخصیت ۔۔۔توبہ توبہ۔۔۔
نہیں نہیں۔۔یہ پری زاد نہیں ہوسکتا۔۔یہ تو فیکٹری کا فورمین لگتا ہے۔میں یہ ساری سرگوشیاں اور فقرے سنتے ہوئے ان کئ درمیان سے چلتا ہوا ڈائس پر اگیا کلاس پر ایک سکوت سا طاری ہوگیا۔میں نے اپنا نام بتانے کے بعد کسی لمبی چوڑی تمہید کے بجائے صرف دو مصرعوں پر اکتفا کیا۔
قصے مری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہیں سارے
شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے
سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں بابر
کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے۔۔؟
میں اپنی بات ختم کرکے ڈائس سے اتر آیا گزرے دنوں کے ساتھ میری کلاس نے میری بدصورتی کے ساتھ سمجھوتہ کر کیا تھا۔پر میں خود اپنے اس بے چین اور بے قرار دل کا کیا کرتا؟کھبی کھبی تو میرا من کرتا ہے کہ کوئی تیز دار خنجر لے کے اپنا سینہ چیر ڈالوں اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنا یہ روٹی دل نکال کر اس کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دو کہ پھر کھبی کوئی ٹکڑا سینے میں جڑانے نہ پائے مگر پھر میرا سدا کا ناداں دل مجھ سے سوال کرتا ہے کہ آخر اس کی خطا ہی کیا تھی۔صرف اتنی کہ کوئی اسے بھی کھبی پیار بھری ایک نظر سے دیکھ لے صرف ایک نظر محبت سے بھری خلوص سے پر ۔۔۔صرف ایک نظر جو صرف میرے لیے ہو۔میرے دل میں ہاوس یا بازاری پن کا کوئی کھوٹ نہیں تھا
میرا اس ایک نظر کے لیے ہر احساس پاک تھا بس ایک لمحہ ہی مجھے ساری زندگی کے لیے درکار تھا بس ایک پل جب کوئی مجھے اپنا ماں لے ۔۔۔کیا یہ خواہش ہے یہ تمنا یہ اس قدر گراں مشکل یا نا ممکن یا ناجائز تھی کہ میں اس کے اپنے اندر جاگ اٹھنے پر ساری زندگی خود ہی کو ملامت کرتا رہوں ۔۔۔؟خود کو مار ڈالوں۔۔۔؟آخر یہ دنیا ایسے ہی ہر نظر
خوبصورتوں کے لیے کیوں بچا رکھتی ہے؟کیا مجھ جیسوں کے لیے قدرت کے کشکول میں ایسی ایک نظر کی بھیگ بھی نہیں تھی؟میرے بس میں ہوتا تو میں اس دنیا کے تمام خوبرو مردوں کو کسی سات سمندر پار جزیرے میں قید کر دیتا یا کاش ہمارے ہاں دیگرفیشنوں کی طرح خوبصورت ماسک چہرے پر چڑھا کر باہر نکلنے کا رواج ہوتا تو میں اپنے لیے اس دنیا سب سے پیارا اور خوبصورت ماسک بنوا لیتا اور پھر کھبی اپنے اس چہرے سے نہ اتارتا۔اس روز بھی میں یونیورسٹی کی ایک سنسان راہداری سے گزرتے ہوئے کچھ ایسا ہی بے سروپا خیالات کی یلغار کا شکار تھا کہ اچانک مجھے اپنے عقب میں کسے لڑکے کی آواز سنائی دی
مسٹر پری زاد ۔۔۔میں نے رک کر دیکھا انگریزی ڈپارٹمنٹ کا ایک ہینڈ سن لڑکا حسام آپنے دو تین کلاس فیلوز کے ساتھ میری جانب بڑھ رہا تھا اسی گروپ میں ایک شعلہ جوالہ قسم کی لڑکی جینز اور کھلی شرٹ میں ملبوس ان کے ساتھ میرے قریب آکر کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔
آپ اردو ڈیپارٹمنٹ کے پری زاد ہیں ناں؟ میرا نام حسان ہے یہ باسط اور یہ ہماری دوست آمنہ ہم۔تینوں انگلش ڈیپارٹمنٹ سے ہیں ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: