Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 5

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 5

–**–**–

جی فرمائیے ۔۔
حسام کی جگہ آمنہ بولی۔دراصل ہمیں آپ کی مدد چاہیے ہم شیکسپیئر کا پلے سٹیج فارم کرنا چاہتے ہیں مگر ہمیں اجازت اس صورت میں ملی کہ ڈرامے کا ایک شو اردو زبان میں ترجمعے ساتھ بھی پیش کیا جائے کیا آپ ہمارے لیے ڈرامے کا ترجمہ کردیں گئ۔۔۔؟
میں ان تینوں کے متجس چہروں پر نظر ڈالی۔کوشش کرو گا کہ ترجمعے کر پاوں ویسے کس ڈرامے کا ترجمہ کرنا ہے؟
وہ تینوں خوش ہوگئے اور باسط جلدی سے بولا۔۔
او تھیلو۔Othelo ڈرامے کا ۔۔
ٹھیک ہے آپ لوگ مجھے تین چار دن کی مہلت دیں میں ترجمہ کرکے آپ لوگوں اطلاع دے دو گا ۔۔
ان تینوں نے خوش ہوکر نعرہ لگایا۔۔گریٹ
اور جاتے وقت ان تینوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا۔آمنہ سے ہاتھ ملاتے وقت بڑی مشکل سے میں نے اپنے ہاتھ کی لرزش پر قابو پایا۔تیسرے دن میں ترجمہ کا پہلا ڈرافٹلے کر انگلش ڈیپارٹمنٹ میں حسام گروپ کی تلاش میں نکلا تو پتہ چلا کہ وہ سارا گروپ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ڈرامے کی ریہرسل کر رہے ہیں۔میں چپ چاپ ہال میں داخل ہوکر آخری نشتوں پر بیٹھ کر ان کی ریہرسل دیکھنے لگا ہال میں ملگھجی سی نا مکمل راشنی یا ادھورا سا اندھیرا اچھایا ہوا تھا صرف سامنے ہال کے اسٹیج پر تیز روشنی رکھی گئی تھی سب ہی اداکاریکے بہترین جوہر دکھا رہے تھے مگر ان سب میں آمنہ کی اداکاری کی چھاپ ہی الگ تھی وہ بہت ڈوب کر اپنے مکالمے ادا کر رہی تھی اور سارا گروپ اسے تھوڑی تھوڑی دیر بعد خوب جم کرداد دے رہے تھا خاص طور پر حسام کا بس نہیں چل رہا تھا کی وہ اپنےجوش اور خوشی کا اظہار کیسے کرے آمنہ کی منجھی ہوئی اداکارہکی طرح آخری سین میں ہیروئن کی موت کا منظر پیش کر رہی تھی میں خود اس کی اداکاری میں اس قدر کھوچکا تھا کہ اس نے جب آخری سانس لے کر سر ڈھلکایا تو میں بے اختیار آپنی جگہ پر کھڑے ہوکر تالیاں بجانے پر مجبور ہوگیا۔ان سب نے مجھے دیکھا اور سب زور سے چلائے۔۔
ارے۔۔۔۔یہ تم ہو پری زاد۔۔۔۔آو۔۔۔اسٹیج پر آجاو۔۔۔۔
حسام نے باقی انجان لوگوں سے میرا تعارف کراتے ہوئے انہیں یہ بتایا کہ میں اس ڈرامے کا اردو میں ترجمہ کرنے والا ہوں۔میں نے آمنہ خو اس کی اداکاری کی داد دی تو وہ سر جھٹک کر بولی۔
نہیں ۔۔۔ابھی میں پوری طرح خود کو کرداد میں ڈھال پارہی ہوں۔ہاں مگر جب ہیروئن کی موت ہوتو اس وقت اس کے اوپر کچھ شعر یا کوئی غمزدہ نظم اوور لیپ over.lap ہونی چاہیے۔۔۔تب ہم پورے ہال کو رونے پر ضرور مجبور کردیں گے۔۔۔
انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے باقی کچھ طلبہ ہو جو اس ڈرامے میں حصہ لے رہے تھے وہ مجھے اس طرح دیکھ رہے تھے میں دنیا کا کوئی آٹھواہ عجوبہ ہوں۔وہ اب کے سب اونچے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے ان کے قیمتی لباس کلون اور پرفیوم کی مہک ہاتھوں میں پہنی قیمتی گھڑیوں اور بریسلٹ اور ایک جانب بے پرواہی سے پھینکے گئے مہنگے بیگز اور جین جیکٹس میری سادہ سفید شرٹ اور پانچ سال پرانی گھسی ہوئی پتلون سے بلکل بھی میل نہیں کھا رہے تھے۔دراصل امارت کی اپنی ایک خاص چکا چوند ہوتی جاے کسی تشریح کی ضرورت نہیں پڑتی۔اور غربت۔۔۔۔سات پردوںمیں بھی چھپی ہوتو اس کی شناخت چھپائے نہیں چھپتی آمنہ کی کچھ انگریزی میڈیم ٹائپ سہیلیوں نے اسے کہنی مار کر کچھ کہا اور سب زور سے ہنس پڑیں۔امنہ نے مجھ سے نظر بچا کر ان اب خو انگریزی میں ڈانٹا اور اپنے رویے پر قابو پانے کی ہدائیت کی۔میں جانتا تھا کہ ان کا الٹرا ماڈرن لڑکیوں نے میرے بارے میں آمنہ سے کیا سرگوشی کی ہوگی میں نے امبیکا بنایا کہ میں نے اوتھیلو کا ترجمہ کرلیا ہے اور اگر وہ لوگ تو کل سے ہی اردو ڈرامےکی
ریہرسل شروع کر سکتے ہیں حسام نے مجھے بھی ریہرسل دیکھنے کےلیے آنے کی درخواست کی تاکہ میں اپنے تلفظ کی جانچ بھی کر سکوں زندگی کی دوڑ میں ہم اردو میڈیم والوں کے پاس آخر میں صرف ایک یہی تلفظ ہی تو باقی رہ جاتا ہے۔ورنہ کچھ بچتا ہے تو صرف کمتری کا وہ احساس جو ہمیں ساری عمر قدم قدم پر آپنے کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہونے کا ادراک دیتا ہے رہتا ہے ۔۔۔
رات کو جب کھولی چھت پر تاروں کی اوڑھی کے نیچے لیٹا ڈرامے کے بارے سوچ رہا تھا تو مجھے آمنہ کی بات یاد ائی کہ اگر لڑکی کی موت پر کوئی نظم پس منظر میں اس آخری سین خو بھرے تو تاثر دوبالا ہوسکتا ہے۔ اوتھیلو۔ کے اختتام میں ہیرو کسی رقیب کی لگائی ہوئی شک کی آگ میں جھلس کر خود اپنے ہاتھوں سے ہیروئن کو گلا دبا کر ماردیتا ہے۔پل بھر کی نفرت کا غلبہ ساری عمر کی محبت کو نگل جاتا ہے مجھے یہ بات کھبی سمجھ نہی آئی کہ انسان کی برسوں کی محبت کا امارت گھڑی بھر میں نفرت کے کڑوے زہر میں کیسے تبدیل ہوجاتا ہے؟یا پھر شاید محبت اور نفرت دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں؟
جذبات کے بازاروں میں دونوں کا مول یکسا رہتا ہے؟مگر جب کسی انسان کو دوسرے سے نفرت ہو جاتی ہے تو وہ اس سے وابستہ چیزوں۔جگہوں۔یادوں اور دوسرے سے جڑے معمولات سے بھی کیوں نفرت کرنے لگتا ہے جس راستے پر کھبی دو پیار کرنےوالے ایک ساتھ چکے جاتے۔وہ راستہ کیوں ممنوعہ بن جاتا ہے وہ ایک بنچ جہاں کھبی وہ ساتھ بیٹھے تھے بارش میں گیلی سڑک کے کنارے کھڑا وہ گرم چائے والا جس کے ایک کپ میں ان دونوں نے ساتھ چائے پی تھی۔وہ کتابوں کی پرانی دوکان۔۔ پہلی ٹوٹی ہوئی چوڑی کا ٹکڑا۔۔ صفحوں میں رکھا وہ سوکھا گلاب۔وہ پرفیوم کی خالی شیشی۔اس کی دی ہوئی وہ آدھی بچی ہوئی لیپ اسٹک۔
ایک کھویا ہوا کف لنک۔ایک ساتھ دیکھی ہوئی فلم کا ٹکٹ
وہ فٹ ہاتھ پر بچھے ہوئے پتے جس پر پر کھبی ساتھ چرمراہٹ کی آواز سنی تھی۔وہ پرانا بس اسٹاپ۔23 نمبر کی وہ کھٹارا سے بس۔۔۔درخت کے نیچے کھڑا وہ لیموں پانی والا
بھلا ان سب چیزوں کا ان کی بدلتی محبت اور نفرت میں ڈھلتی اس کڑواہٹ سے کیا تعلق۔۔۔۔؟؟؟؟
ہم اس ایک شخص کی نفرت میں ان سب یادوں۔باتوں اور جگہوں کو کیوں شامل کر لیتے ہیں؟انسان کتنا ظالم ہے کہ معصوم یادوں سے بھی انتقام لینے سے باز نہیں رہتا ۔
ڈرامے والے دن ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور ساری یونیورسٹی اوتھیلو ڈرامے کو اردو میں جملے بولتے دیکھنے لے لیے جمع تھی۔ہیروئن کی آخری سانس نکلنے سے پہلے پس منظر میں میری نظم کے بول گونج اٹھتے ہیں ۔۔
سنو۔۔۔تمہاری وفا پر۔۔گرچہ پورا یقین ہے
مگر ۔۔۔بدلتی رتوں کے وارکا۔۔کچھ بھروسہ نہیں
سوگرکھبی ایسا ہو
تمہیں مجھ سے نفرت ہوجائے ۔۔
اور میری روح کی کومل پنکھڑیاں
تمہیں کسی ببول کے مانند چھبنے لگیں
تو بیتے دنوں کو یاد نہ کرنا
کی یادوں کا زہر۔۔۔ذخم بھرنے نہیں دیتا ۔۔
ہاں مگر دیکھوں۔۔۔
کھبی ان باتوں سے نفرت نہ کرنا
جو ہم نے گھنٹوں ایک ساتھ بیٹھ کر کی تھیں
کہ بات تو معصوم رابطہ ہوتی ہیں
اور کسی کم نصیب کی بے رطبی سے
ان باتوں کا کیا لینا دینا ۔۔۔۔۔۔؟؟💔
ڈرامے کے منظر میں اوتھیلو ہیروئن کے پاس پہنچا ہے رٹ ڈھل رہی ہے اور ہیروئن۔۔ڈیس ڈی مونا(DESDEMONA) سورہی ہے اوتھیلو آپنی محبوبہ کو جاتا ہے اور سرد لہجے میں ڈیس ڈی مونا سے کہتا ہے کہ وہ اپنی آخری دعا کر لے۔اوتھیلو کی محبوبہ کی آنکھ میں آنسوں بھر اتے ہیں اور وہ اپنے محبوب سے التجا کرتی ہے کہ وہ اسے آج رات جینے دے اور چاہے صبع مار ڈالے ۔۔مگر اوتھیلو کی آنکھ پر شک کے کالے ناگ کس کر پٹی باندھ چکے ہیں وہ ہیروئن سے کہتا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی پس منظر نظم کے بول اوور لیپ ہو رہے ہیں۔۔۔۔
اور سنو میرے محبوب۔۔
کھبی ان رنگوں سے نفرت نہ کرنا
جو مجھے بہت اچھے لگتے تھے
کہ رنگ تو روح کو اجالتے ہیں
اور کسی کے مقدر کے اندھیروں سے
ان رنگوں کا کیا لینا دینا ۔۔۔؟
ڈیڈ ڈی مونا آخری مرتبہ اپنے محبوب اوتھیلو کو بھیگی پلکوں سے نظر بھر کر دیکھتی ہے۔اوتھیلو کے بھاری ہاتھوںکی انگلیاں اس کی نازک شہہ رگ کو دبانا شروع کردیتی ہے لڑکی سانس گھٹنے ہی وجہ سے تڑپتی ہےاور بستر کی چادر نیچے گرتی ہے ۔۔۔
اے میری وفا کے مالک
کھبی ان نظاروں سے نفرت نہ کرنا
جو ہم نے ایک ساتھ دیکھے تھے
کہ نظارے تو قدرت کا حسن ہوتے ہیں
اور کسی حرماں نصیب کی بدصورت یادوں سے
ان نظاروں کا کیا لینا دینا۔۔۔۔۔؟
اوتھیلو کی مضبوط گرفت میں اس کی محبوبہ کا دم تیزی سے بند ہورہا ہے اور وہ بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ کر جان دے رہی ہے۔اوتھیلو کی آنکھیں وحشت سے باہر کو بال رہی ہیں اور وہ پوری قوت سے اپنی جان سے پیاری
ڈیس ڈی مونا کا گلا گھونٹ رہا تھا تکلیف کی شدت سے اس کی محبوبہ کی انگلیوں کے ناخن اوتھیلو کے بازوں کی رگوں میں میں پیوست ہوئے جارہے ہیں لڑکی کا نازک بدن آخری مرتبہ زور سے کانپا۔۔
میرے ہم نفس۔۔۔میری جان
بس مجھ سے
اور صرف مجھ سے نفرت کرنا
کہ میری روح کی سیاہی سے ہی
یہ چار سو اندھیرا ہے
میری بدصورتی سے ہی
ہر رنگ پھیکا ہے
ہر منظر ویران ہے
ہر بات بے رابطہ اور جھوٹی ہے
ہر بے وفائی۔۔۔میرے نام ہے
سو بس مجھ ہی نفرت کرنا
کہ صرف میں ۔۔۔۔
اور فقط میں ہی ۔۔۔
تمہاری اس نفرت کے قابل ہوں ۔۔۔💔😭
اوتھیلو کی محبوبہ اپنے محبوب کی گرفت میں تڑپ کر آخری ہچکی لیتی ہے اور اس کی روح قفس عنصری اے پرواز کر جاتی ہے مگر مرتے مرتے بھی اس کی بے جان کھلی آنکھیں اپنے پیارے اوتھیلو کو ہی دیکھ رہی ہوتی ہیں لڑکی کا محبوب اس کا قاتل اوتھیلو آپنی محبوبہ کا سر گود میں لیے بیٹھا رورہا تھا اسٹیج کا پردہ گرجاتا ہے ڈرامہ ختم ہونے کہ بعد چند لمحے سارے ہال میں سناٹا سا چھایا رہا اور پھر تالیوں کی گونج سے وہ شور مچا کے تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا آمنہ راتوں رات سارے شہر کی یونیورسٹیوں میں مقبول ہو چکی تھی ڈرامے کی کامیابی کی خوشی میں اس نے اپنے گھر میں ایک پارٹی رکھی اور ہم سب خو تاکید کے ساتھ دعوت دی۔میں نہیں جانا چاہتا تھا مگر اس نے میری ایک نہیں سنی اور مجھے مجبور اس شام وہاں جانا ہی پڑا۔
گھر گیا تھا پورا محل تھا مغربی طرز کا ایک وسیع و عریض پھولوں بھرا باغیچہ خس لے درمیان ہو یوں کے گھر جیسی ایک شاندار عمارت کھڑی تھی پچھلی جانب سوئمنگ پول تھا اور پارٹی کا بندوبست وہیں کیا گیا تھا موسیقی کا اہتمام بھی تھا اور جدید اصطلاح کہے جانے والی ڈی۔جیز لڑکے لڑکیاں کی فرمائش پر دھنیں بدل بدل کر بجا رہے تھے
آمنہ کہیں سے اپنی ماں کو کھینچتی ہوئی لے آئی اور میرا تعارف کروایا قیمتی ساڑھی میں ملبوس سونے اور ہیرے سے لدی پھندی اس عورت نے مجھے غور اور ہونٹ سکیڑ کر کہا خوب۔۔۔تو یہ ہے پری زاد۔۔۔۔۔؟انٹرسٹنگ
میرا جی چاہا امنہ کے کان میں دھیرے سے کہوں کہ ایسے جانے کتنے منظر میں اردو فلموں میں دیکھ چکا ہوں جہاں امیروں کی محفل میں غریب کو اس کی حثیت یاد دلائی جاتی ہے پھر مجھے خود اپنی سوچ پر ہنسی آگئی۔اتنے میرے عقب سے ایک بہکی آواز بلند ہوئی۔۔
اخاہ۔۔۔تو یہ ہیں مسٹر پری زاد۔۔۔؟جن کی شاعری اور ڈرامے
ڈب کے گئی تھی بھئی واہ آمنہ۔۔۔۔کیا اداکاری کی تھی تم نے
میں نے پلٹ کر دیکھا۔ایک پکی عمر کا موٹا سا شخص آہستہ آہستہ ڈگمگاتے قدموں سے ہماری جانب چکا آرہا تھا آمنہ نے تعارف کروایا کی یہ سیٹھ عابد ہیں۔ان کے خاندانی دوست وہ شخص آمنہ سے کافی حد تک بے تکلف ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔یہ پھر یہ نشے کا کمال تھا۔میں ایک جانب ہٹ کر کھڑا ہوگیا تاکہ امنہ کو فرصت ملے تو میں اس سے اجازت لے کر وہاں سے نکل جاوں سیٹھ عابد کھانا لے کر پلٹا تو اس کی نظر پھر مجھ پر پڑ گئی اور وہ میری طرف چلا آیا۔۔
اور جناب۔۔کیا مصروفیت ہے آج کل۔۔دراصل میں خود بھی چھوٹا موٹا شاعر ہوں ۔۔۔
اور چاہتا کہ جلدی میری کتاب بھی میرے مداحوں کی پیاس بجھانے کے لیے شائع ہوجائے۔۔۔مگر کیا کروں یہ کاروبار کا دھندا ہی جان نہیں چھوڑتا ۔۔
سیٹھ عابد نے وہی کھڑے کھڑے آپنی دو چار غزلیں مجھے سنائیں جنہیں سن کر میں نے شکر کیا کی اس کی کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔سیٹھ عابد اپنی دھن میں مگن بولے جارہے تھا ۔آمنہ تمہاری شاعری کی بڑی تعریف کرتی ہے میں چاہتا ہوں تم میری شاعری کی نوک پلک سنوار کر اسے بھی ایسا بنا دو کہ وہ آمنہ کے معیار پر پورا اتر جائے
میں نے حیرت سے سیٹھ عابد کی طرف دیکھا صاف ظاہر تھاکہ وہ چاہتا تھا کہ میں اپنی شاعری اس کی کتاب کے لیے اسے دے دوں۔سیٹھ عابد نے میری آنکھوں میں جھانکا
اور اس کام کے لیے میں تمہیں ایک خطیر رقم دینے کو تیار ہوں۔آمنہ بتارہی تھی کہ تم ٹیوشنز پڑھا کر اپنی کا خرچہ پورا کرتے ہو۔۔۔میں اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکا ۔
معاف کیجیئے گا عابد صاحب۔۔۔زندگی میں ہر چیز بکاو نہیں ہوتی عابد طنزیہ انداز میں مسکرایا۔ غلط ۔۔۔اج کل سب بکاوں مال ہے اور جس محل میں آج تم کھڑے ہو۔ان امراء کے لیے یہ شاعری۔یہ خوبصورت لفظ ان کی ایک شام بہلانے کے کام آسکتے ہیں مگر اس زیادہ نہ ان کے پاس وقت ہوتا ہے نہ فرصت کہ وہ روزانہ تمہیں بلا کر تمہارے فن سے محفوظ ہوسکیں۔میں پھر بھی تمہارے الفاظ تمہاری سوچ اور تمہارے خیالات کی بہت اچھی قیمت لگا رہا ہوں وقت ملے تو ٹھنڈے دل سے سوچ لینا میں نے بڑے بڑے قلم کاروں کی مسودے ردی کے بھاو بکتے دیکھا ہیں ۔۔
میں نے آمنہ سے اجازت لےکر واپس چلا آیا جب انسان کے پاس دولت کی بہتات ہوتو اس کے اندر کا کباڑیاں کیوں جاگ جاتا ہے؟کیا یہ سبھی امیر ایک جیسے ہوتے ہیں؟مگر آمنہ تو ان جیسی نہیں ہے۔میں ہمیشہ اس کی آنکھیں میں اپنے لفظوں کے لیے خاص احترام دیکھا تھا میرا بولا دل ایک بار پھر راہ بھٹکنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا۔اگلے دن امنہ نے مجھے یونیورسٹی میں چپ اور اداس دیکھا تو سے لگا کہ میں گزشتہ شام اس کی ماں کے سلوک سے دل برداشتہ ہوں اس نے مجھ سے معذرت کی مگر میں نے اسے تسلی دی کہ میں اس سلوک کا عادی ہوں مگر آمنہ کی سیاہ جھیل سی آنکھوں میں اداسی اتر آئی مجبورا اس کے دل بہلانے کے لیے مجھے فلموں والی مثال دھرانی پڑی کہ اس کی پارٹی میں آنے سے پہلے میں نے درجن بھر فلمیں دیکھ کر خود کو پہلے ہی ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا۔البتہ بس ایک کمی رہ گئی کہ وہاں کوئی بڑا سا پیانو نہیں پڑا ہوا تھا۔جس پر بیٹھ کر ایسی سچویشن میں غریب لڑکا کا ہیروئن کے لیے گانا گاتا ہے میری بات سن کر آمنہ زور سے ہنس پڑی یو لگا جیسے تیر بارش میں دھوپ نکل آئی ہو مگر میں آمنہ سے چاہتے ہوے بھی یہ نہیں کہہ پایا کہ فلموں میں پیانو پر گانے والا ہیرو ہوتا ہے جو مردانہ وجاہت اور خوبصورتی سے مالا مال ہوتا ہے جبکہ میں اگر پیانو پر گانے کے لیے بیٹھ بھی جاتا تو میری وجہ سے سارا منظر دھندلا ہوجاتا جب چہرہ ہی دھول سے اٹا ہوتو آئینہ کیا کرے؟اور پھر چند دن بعد آمنہ آنے اچانک یونیورسٹی آنا بند کردیا میں نے اس کے سب دوستوں سے پوچھا مگر کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا آخر پانچویں دن دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے بنگلے کے دروازے تک پہنچ گیا چوکیدار نے آمنہ کے نام پر مجھے گھر کے لان تک پہنچا دیا لان میں لگے سنگ مرمر کے بڑے فوارے کے پاس آمنہ کی ماں کو بیٹھے دیکھ کر میرے قدم اٹکنے لگے دوسرا جھٹکا مجھے آمنہ کی ماں کی انگلیوں میں پکڑے سگریٹ کو دیکھ کر لگا اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور سگریٹ کی راکھ جھاڑ کر بولی ۔
آمنہ سے ملنے آئے ہو۔۔۔
میں نے سر پٹا کر جواب دیا۔جی۔۔۔۔۔
آمنہ کی ماں نے میری آنکھوں میں جھانکا ۔محبت کرتے ہو میری بیٹی سے۔۔۔۔؟
مجھے لگا جیسے کسی نے میری قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو آمنہ کی ماں کی آنکھیں مجھے اپنے جسم سے پار ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں ۔
آمنہ کی ماں کی بات سن کر چند لمحے کے لیے گنگ ہی رہ گیا وہ مجھے غور سے دیکھتی ہوئی۔بولیں جواب دو۔۔۔کیا میں غلط کہہ رہی ہوں؟۔۔تمہارے چہرے پر صاف لکھا ہے کہ تم آمنہ سے محبت کرتے ہو۔۔۔۔اس کی شدید محبت میں مبتلا ہو۔۔میں کوئی جواب نہ دے سکا۔پھر شاید انہی کو میری حالت پر ترس آگیا۔اندر چلے جاوں۔وہ ڈائینگ روم میں آچکی ہوگی۔۔۔۔میں تیز قدم اٹھاتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گیا آمنہ ڈائینگ روم کی کھڑکی کے قریب اداس کھڑی تھی۔مجھے دیکھ کر وہ ایک پھیکی سی مسکراہٹ مسکرائی۔
آو پری زاد۔۔۔۔کیسے ہو؟
میں چھوٹتے ہی سوال پوچھا۔آپ اتنے دن سے یونیورسٹی کیوں نہیں آئیں ۔۔سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔
آمنہ نے میری طرف دیکھنے سے گریز کیا۔ہاں۔۔۔میں نے یونیورسٹی چھوڑ دی ہے ممانے شادی طے کردی ہے ۔۔۔۔۔
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔شادی؟یو اچانک۔۔۔؟
مگر کس کے ساتھ۔۔۔؟سیٹھ عابد کےساتھ۔۔میری شادی عابد کے ساتھ ہورہی ہے یہ میرے لیے دوسرا جھٹکا تھا۔
سیٹھ عابد کے ساتھ۔۔۔مگر آپ اور وہ۔۔۔؟ میرا مطلب ہے آپ کی لیے اس شخص سے کہیں زیادہ بہتر انتخاب موجود تھے
میں نے حسام کو بھی آپ کے بہت قریب دیکھا ہے۔۔۔پھر بھی یہ سیٹھ عابد ۔۔۔۔؟؟؟؟
آمنہ کی پلکیں نم ہونے لگیں۔بات میرے انتخاب کی نہیں
پری زاد۔۔۔
اونچی بول کی ہے۔
جو میرے لیے اونچی بولی لگائے گا میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا دیا جائے گا سیٹھ عابد کی بولی پندرہ کروڑ کی تھی میری نیلامی میں اس سے اونچی بولی کسی اور نے نہیں دی۔لہذا مجھے عابد کے نام کر دیا گیا ۔مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میں بول پڑا۔بولی کسی اور نے نہیں دی
بولی طوائفوں کی لگتی ہے آمنہ جی ۔۔۔
شریف گھرانوں کی لڑکیاں رخصت ہوتی ہیں عزت کے ساتھ ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: