Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 6

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 6

–**–**–

آمنہ کی آنکھ سے آنسوں ٹپک۔ٹھیک کہہ رہی ہو میں۔۔۔۔اب میں یونیورسٹی نہیں آو گی پری زاد۔۔پندرہ دن کے بعد میری وہ دکھانے کے لیے وہ رسم بھی ہوجائے گی جسے یہاں رخصتی کہتے ہیں۔۔آمنہ کی آنکھیں اب باقاعدہ بتانے لگی تھی تم سوچ رہے ہو گے یہ عالی شان گھر یہ رہن سہن آو میری اعلی تعلیم یہ سب کا طرف اشارہ کرتے ہیں یہ سب دکھاوا ہے پری زاد ہماری شان و شوکت انہی سیٹھ عابد جیسے لوگوں کے دم سے قائم ہے جسے کھبی لوگ بازار حسن کہا کرتے تھے اب وہ بازار کسی خاص علاقے تک محدود نہیں رہا پھیل کر شہر کی ان اونچی اور اعلی سطحوں تک پہنچ گیا ہے جیسے میں اپنی ماں کہتی ہوں پتہ نہیں وہ میری سگی ماں ہے بھی یہ نہیں یہ بھی اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے آپنی تعلیم کا شوق پورا کرنے دیا یا شاید یہ بھی بازار میں بولی بڑھانے کا ایک کار آمد نسخہ ہوگا
آخر سیٹھ عابد کا دل بھر جانے تک مجھے معاشرے میں اس کی بیوی کے طور پر ہی تو اس کے ساتھ چکنا ہوگا آمنہ بولتے بولتے چپ ہوگئی میرے پاس اب کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا میں نے واپسی کے لیے قدم اٹھائے تو عقب سے آمنہ کی آواز آئی میں نے تمہیں یہ سب کچھ اس لیے بتایا ہے کہ پری زاد کیونکہ تم ایک سچے دوست ہو۔۔
میں نے پلٹ کر سر جھکائے سیاہ لباس میں ملبوس ڈھلتی سر نئی شام جیسی آمنہ کے وجود کو آخری بار آپنی دکھتی آنکھوں کے آئینے میں سمویا۔اس کے گلابی عارض آنسووں سے ایسے ڈھل گئے تھے جیسے تیز بارش کے بعد اچانک شام کو جب بادل چھٹ جاتے ہیں تو افق پر لالی ایک آگ سی لگا دیتی ہے ۔۔۔
آمنہ کاش میرے پاس پندرہ کروڑ ہوتے تو میں آپ کو خرید کر آزاد کر دیتا مگر آپ تو جانتی ہیں کہ زندگی کی اصل فلم میں لڑکے کے پاس لڑکی کے ماں باپ کو ادا کرنے کے لیے کھبی پیسے انہیں ہوتے۔۔۔وہ تو بس کیسی اور کے خریدے گئے پیانو پر بیٹھ کر جدائی کا گانا ہی گا سکتا ہے ۔۔۔۔
آمنہ کے ہونٹوں پر میری بات سن کر ذرا دیر کے لیے ایک ہلکی سی مسکان ابھری اور میں اس کی وہی آخری مدھ مسکان بھرا چہرہ آپنی آنکھوں میں لیے ایک جھٹکے سے وہاں سے نکل گیا لان میں فوارے کے قریب کرسی ڈالے امنہ کی ماں ابھی تک بیٹھی فون پر کسی سے بات کر رہی تھی مجھے واپس جاتے دیکھ کر انہوں نے فون کاٹ دیا اور ان کی کاروباری آواز نے میرے قدم جکڑ لیے۔۔۔۔
سنو لڑکے۔۔میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔زندگی میں کچھ حاصل کرنا چاہو رو آپنی میں اس کے دام ضرور رکھا کرو ۔۔شاید اس وقت میں تمہاری نظر میں کوئی بہت بری عورت ہوں مگر تمہیں ایک پتے کی بات بتا رہی ہوں۔مرد کی شکل اور شخصیت کوئی نہیں دیکھتا سب اس کا رتبہ اور عہدہ پرکھتے ہیں دولت مرد کے عیب پر خامی پر پردہ ڈال دیتی ہے آئیندہ زندگی میں کچھ پانا چاہو تو میری ہمیشہ یاد رکھنا۔۔
پندرہ دن بعد شہر کے تمام بڑے اخباروں میں ملک معروف صنعت کار سیٹھ عابد کی دوسری شادی کی خبریں نمایا طور پر شائع ہوئیں خبر کو عنوان تھا ۔ایم اے انگلش کی آمنہ اور سیٹھ عابد کی ذہنی ہم آہنگی آخر کا خوبصورت رشتے میں تبدیل نیا شادی شدہ جوڑا ہنی مون کے لیے سوئزر لینڈ روانہ ۔۔۔
آمنہ عابد نے ایئرپورٹ پر صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں واپسی پر ایک میڈیا سٹی کے منصوبے کے آغاز کا اعلان کردیا۔
میں نے بے زاری سے اخبارات یونیورسٹی لائبریری کی میز پر پٹخ دئیے ٹھیک ہی کہا تھا آمنہ کی ماں نے۔سارا کھیل پیسے کا ہے یہ سوچ لفظ اعلی خیالات اور ادب دفن۔۔۔یہ سب کسی کام کے نہیں جب تک انسان کی جیب میں دھیلا نہ ہو اور دمڑی پاس ہو تو پھر سارا میلہ ہی اپنا ہے میں اپنے خیالات میں الجھا ہوا چھت سے نیچے اترا تو صحن میں دونوں بڑے بھائی اور بھابھیاں استقبال کے لیے تیار کھڑے تھے
ہاں میاں۔۔اور کتنی چلے گی تمہاری پڑھائی ۔۔۔؟گھر کے خرچوں کا بھی کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں ۔۔؟
اب تمہاری ان شام کی دو ٹیوشنوں میں گزارہ نہیں ہونے کا
دوسرے بولے۔میں تو کہتا ہوں کہ پڑھ کر تم نے کون سا کہیں کلکٹر لگ جانا ہے وہی کلرکی ہوگی اور وہی مہینہ بھر کے پانچ سات ہزار ۔۔
بھابھی نے مشورہ دیا۔میرئ مانو تو کل کوئی وقتی ملازمت پکڑ لو۔۔بھئی سچ تو یہ ہے کہ اب ہمارے بچوں کے خرچے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ہمیں خود اپنے منہ سے کہتے شرم آتی ہے تمہارے عمر کے محلے کے سب لڑکے نوکریوں پر لگ کر اپنا گھر چلا رہے ہیں ۔۔
میرے لیے ان کے یہ جمعلے کچھ نئے نہیں تھے ہفتے میں ایک آدھ بار یہ قسط وار سیریل ضرور چلتا تھا مگر آج ناجانے کیوں میرا دل پہلے ہی اتنا بھرا ہوا تھا کہ میں نہ چاہتے ہوے بھی تلخ لہجے میں ان سب سے کہہ دیا کہ اگر اس گھر کا کاروبار میری کمائی کی وجہ سے روکا ہوا ہے تو میں کوشش کرو گا کہ اسی ماہ کوئی نوکری یا کوئی مزدوری پکڑ کر ان اب کے منہ بند کردوں گھر سے نکلنے کے بعد میرے قدم یونیورسٹی کی بس پکڑنے کے لیے بس اسٹاپ کی جانب بڑھنے کی بجائے کسی انجان سمت بڑھ گئے گھر والے بھی ٹھیک ہی کہتے تھے ڈگری مل جانے کے بعد مجھے جیسے ناجانے کتنے نوکری سالوں بوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں اور پھر انٹرویو۔۔۔جو کسی بھی نوکری کا لازمی جزو ہوتا ہے اس کے لیے اچھی شخصیت کا ہونا بھی کھبی کھبی شرط اول بن جاتا ہے اور میری شخصیت۔۔؟مجھے تو شاید کوئی بڑی فرم یا دفتر انٹرویو کے لیے طلب ہی نا کرے مگر نوکری یا کام ملنے کے لیے میرے پاس کوئی ہنر بھی تو نہیں تھا مجھے یاد آیا کہ محلہ کا ایک لڑکا شوکی بچپن ہی سے کسی ویلڈینگ گیراج پر مزدوری پر لگ گیا تھا اور اس کی ماں کے بقول ہر ماہ ایک معقول رقم گھر والوں کے ہاتھ پہ لا کے رکھتا ہے میں نے سوچ لیا تھا کے فائنل کے ہونے والے امتحانات جو اگلے ماہ شروع ہورہے تھے ان کی تیاری میں مزید وقت ضائع نہیں کرو گا اور آج گھر جانے سے پہلے کوئی نہ کوئی کام ضرور ڈھونڈ کر پلاٹوں گا شوکی کے گیراج کا پتہ مجھے معلوم تھا میں نے گیراج کے گیٹ پر پہنچ کر سامنے کام کرتے لڑکے سے شوکی کے بارے میں پوچھا لڑکا شوکی کو بلانے اندر چلا گیا میں نے اس پاس نظر دوڑائی گیراج کے گیٹ کے اوپر ایک بورڈ پر بڑا بڑا استاد مستانہ ویلڈینگ گیراج لکھا ہوا تھا۔کچھ ہی دیر میں شوکی نمودار ہوا اور مجھے گیٹ پر کھڑے دیکھ کر گرم جوشی سے آگے بڑھ کر مجھے ملا۔
ارے۔۔۔پری زاد بھائی آپ۔۔۔۔یہاں ۔۔۔سب خیر تو ہے۔۔۔۔؟
میں نے ایک لمبی سانس بھری۔ہاں۔۔۔سب خیر ہے ۔۔۔مجھے تمہارے گیراج میں کوئی کام مل سکتا ہے کیا۔۔؟مجھے کام کی تلاش ہے ۔شوکی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
آپ۔۔۔یہاں کام کریں گے مگر آپ تو پڑھے لکھے ہو پری بھائی
میں نے شوکی کو ٹوٹے پھوٹے میں سمجھانے کی کوشش کی کی نوکری اب میری ضرورت سے بڑھ کر مجبوری بن چکی ہے اتنے میں کرتے شلوار میں ملبوس اوپر سیاہ واسکٹ پہنے کانوں میں موتیے کا پھول سجائے ایک شخص باہر سے اندر داخل ہوا جس کے تیل میں چیڑے بال ایک جانب سلیقے سے کڑھے ہوئے تھے ہونٹوں پر پان کی لالی اور پتلی دار مونچھیں دونوں جانب سے اوپر اٹھی ہوئی تھیں اس نے شوکی کے سلام کے جواب میں مجھے غور سے دیکھا اور دھیرے اے گنگناتے ہوئے بولا وہ آئے ہیں ہمارے گھر میں خدا کی قدرت ہے میاں شوکی۔۔۔یہ حضرت کون ہیں ۔۔
شوکی نے جلدی سے میرا تعارف کروایا یہ پری زاد بھائی ہیں استاد جی میرے محلے رہتے ہیں اور کسی کام کی تلاش میں ہیں استاد مستانے پر بھی میرے نام کا وہی اثر ہوا جس کا ہمیشہ سے عادی تھا۔میں نے ڈر پیش آنے والی بحث کو مختصر کرنے کی غرض سے بولنے میں پہل کی
اگر میری صورت اور میری تعلیم آپ کی راہ میں حائل نہ ہو تو کیا آپ مجھے کوئی کام دے سکتے ہیں۔۔۔۔؟
میں بہت محنت کرو گا اور جلدی ہی سیکھ جاوں گا۔۔۔۔
استاد مستانہ میری سن کر ایک دم سنجیدہ ہوگیا
معاف کرنا میاں۔۔۔۔شاید تم برا مان گئے میرا مقصد تمہارا دل دکھانا ہرگز نہیں تھا۔کیا کرتے ہو۔۔۔؟
میرے بولنے سے پہلے شوکی بول اٹھا پری زاد بھائی پڑھتے ہیں استاد استاد نے میری طرف غور سے دیکھا لگتا ہے کوئی بہت بڑی مجبوری ہے ؟؟
ہاں ایساں ہی سمجھ لیجیئے ۔۔۔
مستانے استاد نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی ٹھیک ہے میاں کب سے کام پر آنا چاہتے ہو۔۔؟فی الحال تمہیں دیہاڑی پر رکھ سکتا ہو ۔۔
میں نے آستین چڑھالیں۔آج سے ہی استاد ۔۔۔۔
دیر گئے رات میں گھر پہنچا تو تو حسب معمول میرا انتظار کئے بنا سب سو چکے تھے۔میں نے آپنی زندگی کی پہلی مزدوری کی دیہاڑی کے روپے برآمدے میں پڑی بولی پر رکھ دئیے اور صبع سویرے منہ اندھیرے پھر دے آٹھ کر گیراج چلا گیا۔استاد مستانہ اپنے مزاج کا ایک الگ بندہ تھا۔فلموں میں کام کرنے کا شوق اسے لڑکپن میں ہی اس کے گاوں سے شہر تک کھینچ لایا تھا لیکن قسمت نے اداکار کی بجائےمستری بنا ڈالا۔مگر اس کے اندر کا فنکار ابھی تک زندہ تھا اور مستانہ ابھی تک ہر نئی فلم کا پہلا شو پہلے دن دیکھنے کا قائل تھا اور پھر فلم شو سے واپسی پر گھنٹوں اس کے تبصرے جاری رہتے۔
کیا خاک ایکٹنگ کی ہیرو نے۔۔ہاں قلم نے پھر بھی کچھ رنگ جمایا ۔۔نہ میاں۔۔۔موسیقی کا تو بیڑا غرق ہی کردیا اس نئی لڑکوں نے۔۔۔اور شاعری بھی کیا بے ہودہ اور بکواس ہوگئی۔۔
تو گلا کا باپ۔۔۔میں فلا کا بیٹا ۔۔بھلا یہ بھی کوئی شاعری ہے
شاعری تو تب ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔
جائیے آپ کہاں جائیں گے
یہ نظر کے پھر آئے گی
تیرے میرے سپنے اب تک رنگ ہیں
عجیب داستان ہے
کہاں شروع کہاں ختم واہ واہ کیا بات تھی اس شاعری کی۔
استاد نشانی گھنٹوں بولتا رہتا اور ہم سارے شاگرد چپ چاپ اس کے تبصرے سنتے رہتے مجھے استاد نے ویلڈینگ پلانٹ پر بیٹھے ایک طویل لیکچر دیا ۔۔
دیکھوں میاں۔۔یہ جو آگ کی چنگاریاں ہیں یہ آج سے تمہارے لیے پھول کلیاں اور پھل جھڑیاں ہیں یہ ایک آدھ دن میں ہی تمہارے لباس میں ہزار ننھے ننھے شگاف ڈال دیں گی تمہارے ہاتھوں اور جسم کے کھلے حصوں پر انگارکی طرح برس کر تمہارے سارے جسم کو داغ دار کر دیں کے شروع شروع میں کافی جلن بھی ہو گی مگر پھر دھیرے دھیرے یہ آگ تمہاری دوست بن جائے گی اور تمہیں ان چنگاریوں کی عادت اور طلب پڑ جائے گی۔اگ کے ان جگنووں سے جتنی جلدی آشنائی ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ان سے بچنے کی کوشش کرو گے تو کام نہیں سیکھ سکو گے۔
اب میں استاد کو کیا بتاتا کی جو پہلے ہی جل کے راکھ ہو چکے ہوں۔۔ان کو بھلا یہ بھڑکتی آگ کیا بگاڑے گی۔۔؟
اور پھر جلن کے احساس زندہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔مجھ جیسے بے حسوں کے لیے کیا چنگاری اور کیا پھل جھڑی؟یونیورسٹی کے فائنل امتحان میں بھی میں نے جیسے تیسے کر کے دے ہی ڈالا حلاناکہ اب مجھے ڈگری سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔انہیں دنوں میرے ہم جماعتوں نے مجھے بتایا کے یونیورسٹی کے سالانہ رسالے منگوالیا اور ایک دن گیراج میں بیٹھا میں اس رسالے کا ورق گردانی کر رہا تھا کہ استاد نے مجھے دیکھ لیا اور میرے ہاتھ سے رسالہ جھپٹ کر اس کرسی پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالتے ہی اس کی آنکھیں پھیل گئی۔
ارے واہ میاں۔۔تم تو شاعر بھی یو۔۔بھئی کمال ہے۔۔
بتایا کیوں نہیں پہلے ۔۔؟میں نظریں چرا گیا۔اس میں بتانےلائق کیا تھا بھلا ۔۔۔؟کیا مطلب تم شاعری کو معمولی بات سمجھتے ہو۔۔۔مجھ جیسوں سے اس کی قدر پوچھو میاں۔۔۔واہ۔۔کیا رچاو ہے تمہارے لفظوں میں ۔۔ہم وزن۔۔۔
ہر مقطع مصرعے سے بڑھ کر استاد نے وہیں باہر سردیوں کی ڈھلتی دھوپ میں کرسی ڈلوائی اور سورج ڈوبنے سے قبل وہ سب کچھ حفظ کر چکا تھا۔میں بہت دیر سے لوہے کے ایک پڑئ نما ٹکڑے کا کاٹنے کی تگ ورد میں الجھا ہوا تھا مگر اس دن ایسا لگ رہا تھا جیسے شعلے کو بھی مجھ سے کوئی بیر ہوگیا ہو۔جب انسان کا وقت بڑا ہو تو ہر چیز تاثیر کھو دیتی ہے۔شبنم آگ اگلنےلگی ہے اور شعلے سرد پڑ جاتے ہیں۔استاد مجھے بہت دیر تک اس سرد چنگاری سے فولاد کاٹنے کی لا حاصل سعی کرتے دیکھتا رہا اور پھر اٹھ کر میرے قریب گیا۔کھبی کھبی تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے
پری زاد میاں۔۔کیوں اپنی جوانی ان شعلوں میں راکھ کر رہے ہو۔آخر ایسی کیا مجبوری ہے تمہاری ۔۔۔؟؟؟؟
میں نے مستانہ استاد کی آنکھوں میں جھانکا۔پیسہ۔مجھے لگتا ہے میرئ ہر کمزوری ہر عیب اور ہر ناکامی کا علاج صرف پیسہ ہے استاد۔اور مجھے زندگی میں بہت سارا پیسہ کمانا ہے۔۔استاد نے بے چارگی سے میری طرف دیکھا پر اس روزانہ کی مزدوری سے تم کتنا کما سکو گے۔۔دن رات محنت کرو تب بھی مہینے کے آخر میں تمہارے ہاتھ میں پندرہ بیس ہزار سے زیادہ کچھ نہیں آئے گا۔البتہ چند سالوں کے اندر تمہاری جوانی ضرور گھل چکی ہوگی اور تمہاری نظر جواب دے جائے گی ہاتھوں میں رعشہ پیدا ہو چکا ہو گا اور انگلیاں جل مر کوئلہ ہو چکی ہونگی ۔میں بے بس ہار کر بولا تو پھر میں کیا کروں۔۔۔مجھے پیسہ کمانا ہے استاد بہت زیادہ اتنا زیادہ کے کہ اس چمک سے میرا وجود کا ہر داغ ہر عیب چھپ جائے اگر تم پیسہ کمانے چاہتے ہو تو دبئی چلے جاو وہاں اس ہنر کی بہت مانگ ہے اگر قسمت نے ساتھ دیا تو چند سالوں میں کافی کماں لو گئے۔۔کم از کم اپنا گیراج تو کھول سکوں گئے ۔۔۔۔
میں نے استاد سے یہ نہیں کہہ پایا میں صرف ایک گیراج نہیں یہ پورا شہر خریدنا چاہتا ہوں استاد۔۔کیا تم مجھے دوبئی بھجواسکتے ہو کسی طرح۔۔۔؟؟؟
دوبئی جانا آسان نہیں ہے میاں۔ویزہ۔ٹکٹ اور قدم جمانے کے لیے تین چار ماہ کے قیام پر پانچ لاکھ روپے تو لگ ہی جائے گا اور پھر آگے تمہاری قسمت کی تمہیں لمبے عرصے کے لیے کفیل ملتا ہے کہ نہیں۔۔
اگلا پورا ہفتہ میں یہی سوچتا رہا کی ہماری زندگی کے ہر فیصلے کا مقدر کاغذ کے ان چند ٹکڑوں سے ہی کیوں جڑا ہوا رہتا ہے ۔۔؟لوہے کے پرانے صندوق سے سردیوں کے کپڑے ڈھونڈتے ہوئے میں ایسی ہی سوچ میں گم تھا کہ اچانک میری نظر کالج یونیورسٹی دور لکھی گئی شاعری کے رجسٹر پر پڑی کھبی میرا خواب تھا کہ میری شاعری کا مجموعہ بھی بازار میں ائے اور میری کتاب کی پذیرائی میں شہر کے دانش ارشاد میں منعقد کریں اور مجھے بھی لوگوں کے جھگھٹے میں سراہا جائے رجسٹر کے ورق پلٹتے ہوئے میری پلکیں بھیگنے لگی کھبی کھبی مجھے یو محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل کا رشتہ باقی جسم سے کسی سوتیلے جیسا ہوتا ہے سارا جسم اور اعضاعہ جب ایک دوسرے کے ساتھ تال میل میں جڑے رہتے ہیں تب یہ سوتیلا تنہا اور اداس کسی روٹھے بچے کی طرح دور بیٹھا کسی اور ہی دنیا میں گم ہوتا ہے رجسٹر میں لکھی شاعری بھی کسی ایسے ہی سوتیلے اور روٹھے ہوئے بچے کی باتوں جیسی تھی اگلے روز میں عابد گروپ آف کمپنیز کے گیٹ پہ کھڑا تھا پہلے تو چوکیدار نے میرا حلیہ دیکھتے ہی مجھے صاف منع کردیا مگر جب میں نے اپنے نام کی پرچی انگریزی میں لکھ کر اس کے حوالے کی کہ وہ ایک بار اندر اسقبالئے پر جاکر اسے اندر بھجوادے اگر انکار ہوا تو میں گیٹ سے ہی واپس لوٹ جاوں گا تو چند لمحے سوچنے کے بعد وہ اندر چکا گیا۔مجھے اندر بھلا لیا گیا اور گھنٹہ بھر انتظار کے بعد میں سیٹھ عابد کے دفتر میں اس کے سامنے کھڑا تھا سیٹھ عبد نے سگار کا ایک لمبا سا کش لیا اور طنزیہ انداز میں بولے۔۔کیوں میں نے کہاں تھا نا۔۔۔اس دنیا میں ہر چیز بکاو ہے بس ٹھیک قیمت لگانے والا ہونا چاہیے
تو بولو۔۔۔کتنی قیمت رکھی ہے تم نے آپنی اس شاعری کی ۔۔۔
میں نے اپنا رجسٹر اس کے سامنے میز پر رکھ دیا۔مجھے دوبئی کا ٹکٹ اور ویزے ک خرچہ چاہیے گر آپ دے سکیں تو۔
سیٹھ عابد نے رجسٹر اٹھا کر کسی دوکان دار کی طرح پہلے تعلق اور پھر ورق گردانی کی۔تم ہو کہ شاعری میری کمزوری ہے مگر پھر بھی دو صفحات کی یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔۔۔
میں نے اس کباڑئیے کو غور سے دیکھا آپ چاہیں تو بطور قرض مجھے یہ رقم دے دیں اور اسٹامپ لکھوالیں کی میں کسی خاص مدت کے بعد آپ کو یہ پیسے واپس لوٹا دو گا شاعری البتہ ہمیشہ کے لیے آپ کی ہی رہے گی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: