Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 7

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 7

–**–**–

سیٹھ عابد کے ہونٹوں پر جمی طنزیہ یہ مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔واپس لوٹا بھی سکو گئے یا دوبئی جا کر غائب ہو جاو گے۔۔۔؟چلو ٹھیک ہے۔میرا سیکٹری تم سے شاعری کے حقوق کئ بارے میں کچھ دستاویزات پر دستخط کروالے گا تمہارا دوبئی کا ٹکٹ اور ویزہ میرے ذمے رہا۔
میں واپسی کے لیے پلٹ کر دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ اس کی آواز دوبارہ سنائی دی۔آمنہ اب کھبی کھبی تمہاری شاعری کی تعریف کرتی ہے۔مجھے امید ہے تم اس رجسٹر میں لکھی شاعری اسے نہیں سنائی ہوگی۔۔۔
میں نے دروازے کا ہینڈل گھمایا۔آپ بے فکر رہیں۔یہ نظمیں اور غزلیں کسے کے کانوں تک نہیں پہنچی اور آج کے بعد میرے یہ حافظے سے بھی ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے میں دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
مستانہ استاد حسن معمول آپنا چھوٹا سا ریڈیو کانوں سے لگا کر کھڑا تھا اور عالمگیر کی آواز کے ساتھ سر دھن رہا تھا۔
۔۔مجھے دل سے نہ بھلانا۔۔!!
۔۔چاہے روکے یہ زمانہ ۔۔۔!!
مجھے دیکھتے ہی وہ بولا۔آو میاں آو ۔کہیں تم بھی آپنے آستاد کو بھلا تو نہیں دو گے؟دیکھ رہا ہوں کہ آج کل تمہارا دل گیراج کے کام پہ نہیں لگتا۔ناغے بھی بلا ناغہ کرنے لگے ہو
میں نے استاد کا ہاتھ پکڑ کر اسے آپنے قریب بیٹھا لیا۔استاد میرے دوبئی جانے کے بندوبست کردو ٹکٹ اور ویزہ لگوا لیا ہے میں نے۔وہاں کوئی تمہاری جان پہچان ہے تو بتاو۔۔۔
استاد کے ہاتھ سے ریڈیو نیچے گرگیا اس نے مجھے جھپٹ کر سینے2سے لگا لیا واہ خوش کر دیا پیارے۔میں جانتا تھا تم ایک دن ضرور کچھ کر کے دیکھاوں گے۔کب جانا ہے ۔۔۔؟
میرے دور کا ایک برخوردار رہتا ہے وہاں۔میں آج ہی اسے فون کر دیتا ہوں۔تم اسی کے ساتھ رہوگے وہ بھی وہاں اکیلا ہے کئی سال سے۔رفیق نام ہے اس کا ۔۔اگلے تین چار ہفتے یوں گزرے جیسے چار پل گزریں ہوں۔بھائی بھابھیاں اور گھر والے آخری وقت تک یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں رہے اور پھر وہ دن بھی آپہنچا جس دن میں اپنا مختصر سا سامان باندھے ائیرپورٹ پے کھڑا تھا۔میں نے اس سے پہلے کھبی بھی جہاز تو کیا ٹرین سے بھی کوئی لمبا سفر نہیں کیا تھا۔اس کیے مجھ سے وہ تمام حماقتیں سرزد ہوتی رہیں جو مجھ جیسے کسی بھی فرد پہلی بار ہوائی سفر میں ہوسکتی تھیں۔
جہاز نے دوبئی ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اور میں گھنٹہ بھر بعد باہر نکلا تو انتطار کرنے کے باوجود مجھے رفیق کہیں نظر نہیں آیا۔ائیرپورٹ سے باہر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔میں چونک کر پلٹا آنے والا شخص مجھے کڑی نظروں سے گھوررہا تھا جعلی ویزے پر دوبئی آئے ہو۔جانتے ہو۔۔۔اس کی سزا کیا ہے۔۔۔؟؟
اس شخص کی بات سن کر چند لمحوں کے لیے تو میں گنگ ہی رہ گیا۔پل بھر میں ہی آنے والے حالات کی ایک جھلک نے میرے ہوش آڑا کر رکھ دئیے۔دیار غیر میں گرفتار ہونے والے پھر مشکل سے ہی دوبارہ سلاخوں کے پار نکل پاتے ہیں۔
سیٹھ عابد جیسے شخص سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی تھی۔ہوسکتا ہے اس نے ہمیشہ کے لیے میرا بندوبست کرنے کی غرض سے مجھے جعلی ویزہ ہی لگوا کے دیا ہو؟؟
میں نے ہمیشہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ایک عجیب سی نفرت دیکھی تھی۔یہ ویسی نفرت نہیں تھی جو باقی سارے لوگ میری بدصورتی کی وجہ سے مجھ سے محسوس کرتے تھے یہ عداوت کچھ الگ ہی تھی۔مجھے یاد ہے جب میں اپنا ویزہ لگا پاسپورٹ سیٹھ عابد کے دفتر سے اٹھانے کےلیے گیا تھا اس نے مجھے عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے ہوے کیا تھا۔آمنہ تمہاری شاعری کی بڑی عاشق ہے۔سچ پوچھوں تو اگر میں نے تمہیں دیکھ نہ رکھا ہوتا تو ضرور اپنے رقیبوں میں شمار کر لیتا ۔۔
اب میں اسے کیا بتاتا کہ رقیب ہونا میرا نصیب ہوتا تو پھر بات ہی کیا تھی؟مگر بہرحال سیٹھ عابد میرے الفاظ کار کا رقیب تو تھا اور اس کے لیے اتنی رقابت بھی کافی تھی شاید ۔۔۔؟
میں چپ چاپ کھڑا آپنی گرفتاری کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک وہ شخص زور سے ہنس پڑا۔آو یار تم تو سنجیدہ ہی ہوگئے ہو۔مجھے پہچانا نہیں ۔رفیق ہوں میں۔استاد مستانے کے دور کا بھانجا ۔۔۔
میں چونک کر دوبارہ اسے غور سے دیکھا استاد کے بتائے ہوے حلیے سے تو یکسر مختلف تھا۔وہ رفیق میری الجھن سمجھ گیا۔۔۔
ارے یار۔۔۔استاد نے مجھے پندرہ سال پہلے دیکھا تھا جب میں فیکا ہوا کرتا تھا ایک کمزور لاغر اور ناکارہ سا منہ بسورتا لڑکا۔مگر یہ دوبئی ہے پیارے۔آچھے اچھوں کی کایا پلٹ دیتا ہے اب مجھ ہی کو دیکھ لو۔۔
رفیق نے سے اپنی اور آپنے استاد کی ایک ساتھ کھینچی ہوئی پرانی بلیک اینڈوائٹ تصویر نکالی۔وہ واقعی بہت بدل گیا تھا۔عربی لباس اونچا قد بھرا ہوا جسم اور رنگت کون کہہ سکتا تھا کی وہی پرانا فیکا ہے جو چند سال پہلے پاکستان سے دوبئی اس صحرا میں قسمت آزمائی کے لیے اترا ہوگا۔میں نے شکایت کی۔بہت اچھا استقبال کیا تم نے جان ہی نکال کے رکھ دی میری۔
وہ زور سے ہنسا۔معاف کرنا یار۔۔۔مذاق آپنی پرانی عادت ہے ویسے تم ائیرپورٹ کے اس کونے میں جس طرح سہمے اور ڈرے ہوئے چھپے کھڑے تھے تمہیں دیکھ کر کوئی بھی سوچ سکتا تھا کے تم غیرقانونی طریقے سے دوبئی اے ہو ۔
ہم۔گیٹ نمبر 17 کے سامنے والے بڑے ستون کے پاس کھڑے تھے دوبئی آنے سے پہلے فون پر رفیق کے ساتھ یہی جگہ ملنے کے لیے طے ہوئی تھی۔ائیرپورٹ پر ایک نا ختم ہونے والی بھیڑ تھی بھانت بھانت کے لوگ مردوزن کا ایک سیلاب جہاں کسی کو کسی کی طرف دیکھنے یا اس پر دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ہر کوئی اپنے آپ میں گم کسی انجان منزل کی طرف رواں تھا۔مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا خود کو غم کر دینے کے لیے ہمیشہ کسی جنگل یا ویرانے کی ضرورت نہیں ہوتی انسانوں کا ہجوم بھی خود کو کھودینے کے لیے بڑا کارآمد ثابت ہوتا ہے رفیق میرے منع کرنی ہے باوجود میرا سامان اٹھا کر ائیرپورٹ سے باہر نکل آیا۔وہ مجھ سے عمر میں تین چار سال ہی بڑا ہوگا مگر اس وقت وہ میرے لیے لیے ایک مکمل بزرگ کا روپ دھارے مجھے مختلف نصیحتیں کررہا تھا ۔۔
یہاں کے عربی لوگ بڑے مغرور اجڑ اور جاہل ہوتے ہیں۔انہیں خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کا خبط ہے اس لیے ان کے منہ لگنے سے پرہیز کرنا ورنہ اپنے بندے کا قصور ہوتے ہوئے بھی تمہی کو خطاوار سمجھیں گے اور الگا جہاز میں بیٹھا کر تمہیں واپس پاکستان روانہ کردیں گے مجھے بھی ایک عمر ہوگئی ہے ان کے یہ ناذ نخرے اٹھاتے اور ان کا یہ خبط برداشت کرتے۔گالی ان کی زبان پر اتے دیر نہیں لگتی اور آپنے علاوہ دوسری سبھی اقوام کو یہ اپنا خادم تصور کرتے ہیں۔خاص طور پر ہم مزدور طبقہ لوگوں کو تو ہر پل ان کے غلام بن کر ہی یہاں گزراہ کرنا پڑتا ہے۔لہذا دماغ ہمیشہ ٹھنڈا رکھنا۔۔
رفیق نہ جانے کیا کچھ کہتا رہا اور میں حیرت سے صحرا میں سجے چند بدووں نے صحرا میں چلتے چلتے کچھ دیر کھیل تماشے کے لیے اونچی عمارتوں اور کشادہ سڑکوں کا یہ میلہ سجایا ہے۔ابھی تھوڑی دیر بعد شام ہوجائے گی تو وہ بدو آپنے خیموں سمیت یہ نقلی شہر بھی اکھاڑ کر چلتے بنیں گے جیسے ساحل پر کھیلنے والے بچے دن بھر گیلی ریت سے گھروندے بنا کر انہیں خشک کرتے ہیں اور پھر شام خو جب ان کی مائیں واپسی کے لیے آواز لگاتی ہیں تو وہ جاتے جاتے پیروں سے اپنا ہی بنایا شہر مسمار کرکے چلے جاتے ہیں مجھے دوبئی بھی ایسے چند شرارتی بچوں کا بنایا ہوا عارضی سا شہر رہا تھا۔رفیق مجھے جس عالی شان اور لمبی سی گاڑی میں لیے چوڑی سڑکوں پر تیز سے دوڑے جارہی تھا۔میں نے اس کی گاڑی کے ڈیش بورڈ ہاتھ پھیر کر رفیق سے کہا گاڑی تو بڑی کمال ہے۔۔۔اپنی ہے یا۔۔۔۔؟
رفیق نے زور دار قہقہہ لگایا۔فی الحال نہیں ایک دن اپنی بھی ہوجائے گی میرے مالک کی گاڑی ہے پیارے۔۔ہم تو صرف ڈرائیور ہیں۔مالک کی ڈرئیوری کر کے روزی کماتے ہیں
گاڑی مختلف راستوں سے ہوتی ہوتی کسی رہائشی علاقہ میں داخل ہوگئی جہاں اونچی اونچی عمارتوں میں بہت سارے چھوٹے فلیٹس بنے ہوئے تھے۔رفیق اس علاقے میں رہتا تھا ہم اس کے چھوٹے سے مگر صاف ستھرے فلیٹ میں داخل ہوے تو اس نے فورا چائے کا پانی چولہے پر چڑھا دیا فریج میں کھانے پینے کا سارا سامان پڑا ہے۔کھانا گرم کر کے کھا لینا مجھے کچھ دیر میں واپس جانا ہوگا مالک سے صرف دو گھنٹے کی چھوٹی لے کر آیا ہوں۔رات کو باقی باتیں ہوں گی۔رفیق لہک جھپک چائے کی پوری پیالہ دو گھونٹ میں حلق سےباتار کر وہاں سے چلتا بنا۔بہت کھلے دل کا لڑکا تھا رفیق بالکل استاد مستانہ کی طرح۔۔۔۔
مجھے وہ سب یاد آئے تو ایک دم اداس ہوگیا میں زندگی میں گھر سے باہر اور اتنی دور وقت نہیں گزارا تھا ہم انسان بھی کتنے زود فراموش ہوتے ہیں۔ذرا سی دوری ہمیں ماضی کا ہر عذاب بھلا کر پھر اسی ماضی کو یاد کرکے آہیں بھرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔جب میں اپنے گھر میں تھا۔تب بھی وہاں بھی میں نے وہاں کون سے اچھے دن دیکھے تھے۔مگر آج چند ہزار میل کا فاصلہ طے کرتے ہی مجھے اسی گھر اور اپنی گلیوں کی یاد ستانے لگی جہاں مجھے ہر پل کسی نئیذلت کا سامنا رہتا تھا۔جب ایک دن ہمیں یہ سب کچھ چھوڑ ہی جانا ہوتا ہے تو پھر ہم ان درو دیوار۔راستہ شجر اور آس پاس کے ماحول اور رشتوں سے اتنا جڑ کیوں جاتے ہیں کہ ذرا سی دوری خود ہمیں توڑ کر رکھ دیتی ہے۔یہ دنیا اگر عارضی پڑا ہے تو اپنے ساتھ عارضی پن کا احساس لے کر کیوں نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں رفیق نے بھاگ دوڑ کر مجھے ایک تعمیراتی کمپنی کے ذریعے کام پر لگوادیا فی الحال میرے پاس تین ماہ کا کام کرنے کا ویزہ تھا مگر رفیق نے وعدہ کر رکھا تھا کے وہ اپنے مالک سے میری سفارش کروا کر اسے سال بھر کے ویزہ میں تبدیل کروادے گا اگر میں نے محنت اور ایمانداری سے اپنا کام جاری رکھا تو اس مدت میں سال بہ سال توسیع بھی ہوتی رہے گی مجھے ایک زیر تعمیر عمارت کی پندرھویں منزل میں ویلڈنگ پلانٹ پر کام کرنے کی مزدوری ملی تھی۔میں اور رفیق صبع سویرے اپنے کاموں پر نکل جاتے اور رات گئے ہماری واپسی ہوتی تو عام طور پر ہم۔دونوں ہی تھکن سے اس قدر چور ہوتے کہ ہمیں بات کرنا بھی کسی بھاری بوجھ اٹھانے کی مانند لگتا تھا۔مہینہ بھر بعد جب مجھے میری پہلی تنخواہ ملی تو میری آنکھوں سے آنسوں نکل ائے۔آپنے ملک کی سال بھر کی کمائی سے بھی کچھ زیادہ روپے میری مٹھی میں بند تھے۔مگر مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا ان پیسوں کا کروں گا کیا۔۔۔۔؟؟
اس روز رفیق کو بھی تنخواہ ملی تھی لہذا کو اس خوشی میں وہ مجھے دوبئی دکھانے کے لیے اپنے مالک کی گاڑی مانگ لایا دوبئی کی ڈھلتی شام میں تبدیل ہوئی رات۔
رنگ اور نور کی برسات ہر چہرہ دھلا ہوا ہر عمارت جگمگاتی سی۔چمکتے راستے اور خوشیوں سے سرشار جوڑے باہوں میں بانہیں ڈالے اس دلربا شہر کی ایک شام سے زندگی کے جام کشید کرتے ہوئے خوش نصیب لوگ۔زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں ہے اس بات کا احساس مجھے اس شام ہوا ہر سانس سے زندگی نچوڑ لینے کو جینا کہتے ہیں مگر ہم جیسے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟
رفیق نے مجھے یوں گم سم بیٹھے دیکھا تو چپ نا رہ سکا ۔
کیا بات ہے شہزادے ۔۔کہاں کھوگئے ہو۔۔دوبئی دیکھوں شہر کی رونق دیکھو۔۔میں نے چڑ کر اسے جواب دیا۔ایک تو تم مجھے یہ شہزادہ نہ کیا کرو مجھے لگتا ہے باقی سب کی طرح تم بھی میرا مذاق اڑا رہے ہوں ۔۔۔
رفیق نے مجھے غور سے دیکھا۔تم تو واقع ہی برا مان گئے
اچھا چلو میں تمہارا دل بہلانے کے لیے دوبئی کے سب سے بڑے کلب میں لیے چلتا ہوں۔ویسے تو وہاں کا داخلہ ٹکٹ ہی ہم دونوں کی سال بھر کمائی سے زیادہ کا ہے مگر میرے مالک کی وجہ سے ہم اے کوئی ٹکٹ نہیں پوچھے گا میں نے حیرت سے رفیق کو دیکھا کیوں تمہارے مالک کہ جان پہچان ہے کلب والوں سے ۔۔۔؟رفیق زور سے ہنس پڑا ارے نہیں وہ کلب بھی میرئ مالک کا ہی ہے نہ صرف یہ کلب بلکہ ایسے ناجانے کتنے کلب اور ہوٹل ہیں میرے مالک کی کمپنی کے پاس کوئی حساب نہیں ہے اس دولت کا۔۔کہتے ہیں کے آج اگر وہ اپنا ہر کام اور کاروبار بند کر کے ہاتھ پے ہاتھ رکھ کے گھر بیٹھ جائے تو آئیندہ ساری زندگی روزانہ لاکھوں درہم اڑاتا رہے تب بھی اس کی نسلیں تا قیامت عیش کرتی رہیں گی ۔۔۔۔۔۔
رفیق اپنے مالک کے بارے بتاتا رہا اور گاڑی ساحل کنارے دوڑتی ہوئی ایک عظیم الشاں کلب میں داخل ہوگئی میرے لیے یہ سب کچھ طلسم جیسا تھا کئی منزلہ عمارت کے لیے ہر منزل پر کار پارکنگ بنائی گئی تھی اور ہر منزل کیسی الگ کھیل یا تفریح کے لیے مخصوص تھی عمارت کے اندر ہی ہوٹل ریستوران سوئمنگ پول گالف اور سنوکر کلبس شاپنگ پلازہ سینما تھیٹر جوئے خانے بار رقص گاہیں کیفے اور نہ جانے کیا کچھ آباد تھا کلب کیا تھا پورا ایک شہر تھا جیسے پچاس منزلہ عمارت میں سمودیا گیا تھا۔چھت پر فلکی نظام اور مختلف سیاروں اور ستاروں کو دیکھنے والا ایک پورا ہال بنایا گیا تھا جہاں بڑی بڑی دیوہیکل اور دوربینوں کے ذریعے چاند ستاروں کا معائنہ کیا جاسکتا تھا۔انسان کی ہوش لامحدود ہے… ||

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: