Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 8

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 8

–**–**–

ساری زمین تسخیر کرنے کے بعد اب اس کی نظر چاند ستاروں پہ رہتی ہے۔اچھا ہے قدرت نے ہر انسان کی طبعی زندگی اور موت کا ایک پیمانہ مقرر کر رکھا ہے ورنہ اس حضرات انسان نے سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ فلک اور فرش کو ملانے والی لفٹ ایجاد کرکے خود اپنا حساب کتاب کروانے عرش پر جا اترتا۔کلب میں نوجوان جوڑوں کی بہتات تھی پب اور باراتنے پر ہجوم تھے کے ٹل دھرنے کی جگہ نہ تھی جوئے خانوں اور بڑے کیسینوں کے باہر انتظار کرنے والوں کی لمبی قطاریں ہاتھ میں ٹوکن لیے کھڑی تھیں۔میں نے رفیق جب اس حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کلب تو کسی ایک اسلامی ملک کا حصہ نہیں لگ رہا۔تو رفیق نے حسب معمول ایک جاندار قہقہہ لگایا اور ڈر جھٹک کر بولا۔۔
اسلامی ملکوں میں کلب نہیں ہوا کرتے۔۔۔دوبئی ایک کاسمو پولیٹن شہر ہے یہاں تمہیں ہر مذہب کا پیرو کار ملے گا یہ اب اس پیروکار کی مرضی ہے کہ وہ اپنے مذہب کو کس حد تک برتتا ہے۔عابد اور زاہدوں کے لیے مسجدیں کھلی ہیں اور رندوں کے لیے شراب خانے۔وہ کہتے ہیں ناں۔رند کے رند رہے پر ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔۔تو بس وہی معاملہ یہاں بھی ہے ۔۔
کلب کی ہر منزل پر حسن کا جلوہ اس کثرت سے بکھرا ہوا تھا کہ اسے اپنی محدود بصارت میں سمیٹنا کسی بھی انسان کے لیے ناممکن تھا۔رفیق مجھے کیسینو کے اندر لے گیا اور میں وہاں پیسے کی ریل پیل دیکھ کر چکرا ہی تو گیا تھا
مذہب انسان کو جس چیز سے منع کرتا ہے۔جانے اس عمل کو قدرت انسانوں کے لیے اس قدر پرکشش کیوں بنا دیتی ہے؟؟
شاید یہی گناہ اور ثواب کا بنیادی فلسفہ ہے اور اسی جبر پر سزا جزا کا سارا دارومدار ہوتا ہے۔مگر فی الحال تو اس کلب میں لوگ پانڈے پھینک رہے تھے اور شمار بازی کے نشے میں مسرور سزا اور جزا کا کا ہر فلسفہ بھلا کر بس ان لمحوں کو جی رہے تھے جو انہیں میسرتھا۔مسئلہ تو مجھ جیسوں کو تھا جو گناہ کرتے وقت ثواب کی طرح کنجوسی کر جاتے اور کار ثواب بھی ڈر ڈر کر کسی گناہ کی طرح کرتے ہیں۔ہم کیسینو سے باہر نکل رہے تھے کہ اچانک کلب میں ایک ہم چل سی مچ گئی۔سبھی علمہ ایک دم وچو بند ہوگیا اور محافظوں کی دوڑیں لگ گئی پتہ چلا کے کلب کا مالک اور رفیق کا آقا بہروز کریم وہاں آچکا ہے۔میں بھی رفیق اور باقی سارے نوکروں کی طرح ایک قطار میں کھڑا ہوگیا بہروز ہال میں داخل ہوا تو چاروں طرف سناٹا سا چھا گیا۔
وہ ڈھلتی عمر کا ایک دیدہ زیب شخص تھا۔مغربی لباس میں ملبوس ہاتھ میں ہوانا کا قیمتی سگار ہیرے سے جڑی ٹائی پن اور کفلنکس امریکی ڈیزائیز سوٹ اور میچنگ جوتے آنکھوں میں عجیب سی وحشت اور اداسی کھویا کھویا سا وہ شخص واقعی ہی وہ کسی عظیم سلطنت کا سلطان لگ رہا تھا جیسے دولت ہر کسی کو راز نہیں آتی ویسے ہی آمیری بھی پر کسی کا ساتھ نہیں دیتی میں نے بہت سے امیروں کو فقیروں سے بدتر شخصیت لیے پھرتے دیکھا تھا مگر بہروز کریم پر امارات ہر ٹوٹ کر برستی محسوس ہو رہی تھی۔اس کے اردگرد اسٹاف مینجر اور محافظوں کا ایک ہجوم تھا مگر پھر بھی وہ کلب کے نوکروں کے سلام کا جواب خندہ پیشانی سے دیتے ہوئے اگے بڑھتا رہا۔رفیق نے مجھے بتایا کہ جس رات بہروز اپنے کسی ہوٹل یا کلب کا دورہ کرتا تھا وہ رات وہاں کے عملے کے لیے شب برات بن جاتی تھی کیونکہ اس رات ان سب کو ایک ماہ کی تن خواہ کے برابر بونس ملتا تھا اس مخصوص کلب کی ہر منزل پر موجود سبھی فرد بہروز کے مہمانوں کے طور پر برتے جاتے تھے ان کا ہر بل ہر خرچہ بہروز کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔بار میں جام کے جام لنڈھائے جاتے اور کیسینو میں ہر فرد کو ہزاروں ریال مالیت کے ٹوکن مفت فراہم کیے جاتے تھے۔سبھی کے لیے دعوت عام تھی۔میں حیرت سے رفیق کی ساری رام کہانی منہ کھولے سن رہا تھا کی اچانک بہروز ہمارے قریب سے گزرا تو رفیق نے جلدی سے اسے سلام کیا۔
بہروز نے مسکرا کر جواب دیا تو رفیق نے موقع غنیمت جان کر تیزی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچ کر قطار میں آگے کر دیا۔۔۔
یہ میرا دوست ہے پری زاد ہے مالک۔۔۔کچھ دن پہلے ہی پاکستان سے آیا ہے یہاں مزدوری کرنے کے لیے اس کا سلام بھی قبول کیجئے ۔۔۔
بہروز نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔کیا نام بتایا تم نے۔۔۔؟
میں چپ رہا رفیق نے جلدی سے میرا نام دہرایا۔پری زاد مالک
بہروز کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔خوب۔اسے کام نا ملے تو فیکٹری لے مینجر مصطفی کے پاس بھیج دینا ۔۔
بہروز مختصر سی بات کر کے آگے بڑھ گیا اور میں حیرت سے رفیق کو دیکھتا رہا۔تمہارا مالک تو اردو بول لیتا ہے ۔۔
رفیق نے ہنس کر جواب دیا دوبئی میں سبھی عربی نہیں بولتے۔میرے مالک ہندوستانی مسلمان ہیں تقسیم کے بعد ان کے ماں باپ یہاں دوبئی میں آ کے بس گئے تھے ہم پاکستانی اور ہندوستانی نوکروں سے وہ اردو میں ہی بات کرتے ہیں۔۔
کلب سے واپسی پر رفیق مجھے بہروز کریم کی کامیابی کی داستان سناتا رہا کہ کیسے کامیابی کی سیڑھیاں طے کرتے کرتے آج وہ دوبئی کے بزنس ورلڈ کے آسمان کا تارہ بن چکا تھا۔بہروز کریم کی اس افسانوی اور کامیابی سے متعلق بہت سی پراسرار کہانیاں بھی مشہور تھیں۔مثلا یہ کے وہ اپنے دشمنوں کو کھبی معاف نہیں کرتا اور اس کے اس وجیہہ چہرے کے پیچھے ایک سفاک شخص چھپا ہوا ہے جو آپنی کامیابی کی راہ میں انے والی ہر شے کو تہس نہس کردیتا ہے
رفیق بہروز کے بارے میں بولتے بولے اچانک اسٹیرنگ پر ہاتھ مار کر زور سے ہنس پڑا۔۔
دیکھ لو پری اس پیارے۔۔تمہیں جس نام سے اتنی چڑ ہے آج وہی نام میرے مالک سے تمہارے تعارف کا سبب بن گیا ورنہ بہروز صاحب نے آج تک کسی کی طرف پلٹ کر دوبارہ نہیں پوچھا۔وہ کہتے ہیں ناں۔۔خدا نے دنیا میں ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا مقصد ضرور رکھا ہے تو مجھے تو تمہارے نام کا مقصد آج صاف نظر آرہا ہے۔۔۔
گھر پہنچنے کے بعد بھی ساری رات بہروز کریم کے بارے سوچتا رہا کہ کوئی انسان آخر اتنی بے تحاشہ دولت کا کیا کرتا ہوگا۔۔؟دولت مند و کے دن بھی تو ہم غریبوں کی طرح چوبیس گھنٹے کے ہی تو ہوتے ہیں وہ بھی ہماری طرح سوتے جاگتے ہیں تو پھر باقی بچے ہوئے چند گھنٹوں کے لیے کس کے پاس قارون کا خزانہ اور کے ہاتھ خالی کشکول کیوں ہوتا ہے ۔؟؟
اگلے دن رفیق مجھے فیکٹری ایریا میں لے گیا۔مینجر مصطفی ایک سخت گیر اور اکھڑا مزاج مصری تھا جو سوائے کام کی بات کے دوسری کوئی بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔اس نے رفیق کو سر سے پیر تک گھورا اور عربی میں کچھ کہا اتنے سالوں میں یہاں رہتے رہتے رفیق کی عربی کافی روا ہو چکی تھی رفیق نے عربی میں ہی میری طرف اشارہ کر کے کچھ کہا۔مصطفی نے میرے کاغذ طلب کیے اور پانچ منٹ بعد ہی ہم اس کے کمرے سے باہر کھڑے تھے رفیق نے میرے کاندھے پر ہاتھ مار کر کھا۔
چل پیارے۔۔تیرا کام تو بن گیا۔یہ مینجر تھوڑا ٹیڑھا آدمی ہے مگر ہے مالک کا خاص بندہ اب یہ تمہارے سارے انتظامات یوں چٹکی بجانے میں کردے گا۔میں نے اسے مالک کا حکم پہنچا دیا۔اس دن مجھے ایک اور بات پتا چلی کہ بہروز کریم کی سلطنت میں تو سینکڑوں ایسی گاڑیاں ہیں جن میں سے ایک رفیق چلاتا ہے۔خوش قسمتی سے رفیق کچھ عرصے تک بہروز کریم کے ذاتی دفتر کی گاڑی چلاتا رہا تھا اس لیے بہروز کو رفیق کا چہرہ مسخ یاد رہ گیا ہوگا پانچ روز بعد مجھے رفیق نے مجھے مصطفی کے دستخطوں سے فیکڑی کا حکم نامہ تھما دیا۔مجھے خاص معقول تنخواہ پر فیکٹری کی رات کی شفٹ میں کام لگادیا تھا کام کچھ مشکل نہیں تھا۔بس لوہے اور دیگر خام مال کا کمپیوٹر میں اندراج کرنا تھا اور سپلائی کے وقت چارٹ بنانا تھا۔میں رات بھر میں ڈیوٹی دے کر صبع گھر واپس پہنچا تو رفیق جانے کی تیاری میں ہوتا ہم ایک ساتھ چائے کا ایک ایک کپ حلق سے نیچے انڈیلتے اور میں سونے کے لیے کمرے کی جانب بڑھ جاتا۔میری راتیں جاگنے اور دن سونے لگے تھے۔ان دنوں مجھے عجیب سا احساس ہوا۔۔کہ رات انسان کی شخصیت یکسر بدل جاتی ہے۔دن کا اجالا ہماری بنت سی دیکھی صلاحتیوں کو خوابیدہ کردیتا ہے۔شام ڈھلنے کے بعد ہم زیادہ رومان پرور شفاف اور کسی حد تک ڈنر بھی ہوجاتے ہیں یا شاید مختلف شخصیات پر اس دن اور رات کے بھید کا مختلف اثر ہوتا ہوگا ۔۔
میں فیکڑی میں اپنا کام رات کے پہلے پہر میں ہی مکمل کر لیتا تھا۔پھر میں ہوتا اور صحرا کا تاروں سے بھرا آسمان میرے ساتھ رات بھر باتیں کرتا رہا۔میں گھر سے آئے ہوے خطوں کا جواب نہیں دیتا تھا البتہ ہر ماہ ایک معقول رقم گھر ضرور بھیج دیتا تھا۔اس رات بھی گھر سے آیا ایک خط دیکھ رہا تھا کہ فیکٹری کے پچھلے حصہ میں کچھ کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دی۔میں تیزی سے پیچھے کی جانب لپکا چند پرانے مزدور کچھ لوہے کی پٹیاں ایک گودام میں سنبھال کر رکھ رہے تھے میں نے ان سے تفصیل پوچھنا چاہی تو فورمین نے مجھے جھڑک دیا.. ||
گر میں خاموش بیٹھنے والا نہیں تھا۔میں نے انہیں تنبہیہ کی کہ اگر انہوں نے میری بات نا مانی تو میں صبع ہوتے ہی مینجر مصطفی کو بتا دو گا۔اتنے میں پیچھے سے مصطفی کی آواز گونجی۔میں یہیں ہوں۔تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔اور آج تو تمہارا آف تھا تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟
ہم یہ ساری گفتگو انگریزی میں کر رہے تھے۔سچ یہ ہے کہ مصطفی کو وہاں دیکھ کر میں پریشان ہوگیا تھا۔آج واقع ہی میری چھوٹی تھی۔مگر ایک ساتھی کے بیمار ہونے کی وجہ سے مجھے اچانک ڈیوٹی پہ آنا پڑا۔میں نے مصطفی کو بتایا کہ شفٹ انچارج کے طور پر میرے ڈیوٹی ہے۔کہ میں ہر چیز کا باقاعدہ اندراج کروں۔مصطفی نے میری بات لاپرواہی میں ڈال دی ۔۔
ٹھیک ہے۔۔
تم اپنا فرض پورا کیا۔۔اب تمہارے انچارج کی حثیت سے سے میں تمہیں یہ حکم دے رہا ہوں کہ تم واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاوں اور خاموشی سے صبع تک اپنی شفٹ ختم کر کے چپ چاپ واپس گھر چلے جانا ۔۔
مصطفی کی آواز کھردری اور لہجہ بہت سخت تھا۔میں نے اس وقت ان سے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔مگر میں نے سوچ لیا تھا کہ کسی بھی طرح بہروز کریم تک یہ اطلاع ضرور پہنچاؤں گا۔چاہے اس کا انجام کچھ بھی ہو۔بہروز ہفتے میں ایک آدھ بار اس فیکٹری کا دورہ بھی کرتا تھا۔اور پھر چھٹی رات جب میں نے احاطے کے باہر بہروز کریم کے اسکواڈ کی گاڑیوں کو کرتے دیکھا تو میں تیزی سے ہال کے گیٹ پر آہ کھڑا ہوگیا۔مصطفی بھی بہروز کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اسے کام کے بارے میں کچھ تفصیلات بتا رہا تھا۔مجھے راستے میں کھڑے دیکھ کر مصطفی کے ماتھے پر بل پڑگئ۔جب وہ لوگ راہداری میں میرے قریب سے گزرے تو میں نے اچانک آگے بڑھ کر بہروز کریم خو براہ راست مخاطب کر کے کہا۔مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے جناب۔بہروز پلٹ کر میری طرف دیکھا۔اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔۔
مصطفی نے مجھے بڑی طرح جھاڑ دیا۔تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ مالک بہروز کو آج تک کسی نے یو راستے کے بیچ نہیں ٹوکا۔میں تمہیں اس وقت نوکری سے فارغ کرتا ہوں سفر ہو جاوں یہاں سے کل آہ کر مہینے بھر کی تنخواہ لے جانا۔۔۔میں نے اطمینان سے مصطفی کی بات سنی۔ٹھیک ہے میں چلا جاوں گا۔مگر مجھے ایک بار مالک سے بات کرنی ہے۔یہ بہت ضروری ہے ۔۔۔
اس پاس کا عملہ وحشت زدہ سا مجھے یوں چھوڑ رہا تھا جیسے مجھ سے بڑا احمق انہوں نے پہلے اس روئے زمین پر کھبی نہ دیکھا ہو۔بہروز نے اطمینان سے اپنا سگار سلگایا
ہاں بولا لڑکے۔اگر تمہیں پیسے وغیرہ چاہیے ہیں تو تم واقعی میرا بہت وقت ضائع کیا ہے ۔۔اکاونٹس والوں سے لے لو ۔۔۔
میں نے جلدی سے واضع کیا کے نہیں جناب مجھے پیسے نہیں چاہئیں میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔یہاں فیکٹری میں کچھ ایسی ترسیلات بھی ہوتی ہیں۔جن کا ریکارڑ نہیں رکھا جاتا میں نے کوشش کی مجھے منع کر دیا گیا ۔۔
میری بات سن کر مصطفی مجھے ڈانٹ کر مجھے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر بہروز نے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کردیا اور اپنے خاص محافظ فیروز سے کہا۔فیروز خان کچھ دیر بعد اس لڑکے کو میرے دفتر میں لے آو۔۔۔
بہروز حسب معمول مختصر سی بات کر کے آگے بڑھ گیا ۔۔
فیروز خان نے مجھے چھوڑ کر دیکھا اسے بہروز کے سب سے قریب سمجھا جاتا تھا۔اور وہی بہروز کا محافظہ خاص بھی تھا۔اس کےعلاوہ بہروز کسی دوسرے باڈی گارڈ پر اتنا بھروسہ نہیں کرتا تھا۔فیروز خان ہی اس کے خواب گاہ کے باہر رات کو پہرہ بھی دیتا تھا۔یہ سب کچھ مجھے رفیق پہلے ہی بتا چکا تھا۔میں نے جب بھی فیروز کو دیکھا اسے خاموش ہی پایا تھا۔شاید ایسے بھی آپنے مالک بہروز کریم کی طرح زیادہ بات کرنے کی عادت نہیں تھی۔رات کی شفٹ کے تمام ملازم فیروز کے ایک اشارے پر دوبارہ اپنے اپنے کام میں جت گئے مگر ان سب کے ۔۔
تاثرات سے صاف لگ رہا تھا کہ انہیں آج رات ہی میری نوکری کے خاتمہ کا پورا یقین تھا۔کچھ دیر بعد چپڑاسی نے آہ کر فیروز کو بتایا کہ مالک مجھے طلب کر رہے ہیں۔فیروز نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا اور ہم دونوں بہروز کریم کے جہازی سائز کے عالیشان دفتر میں داخل ہوگئے۔مصطفی بھی کمرے میں موجود تھا جانے اس نے میرے بارے مالک کو کیا بتایا ہوگا۔؟بہروز کریم کے چہرے پر حسب معمول سپاٹ سا تاثر تھا۔اس نے غور سے میری طرف دیکھا۔
تو تم کو نا جس کو رفیق نے بھرتی کروایا تھا؟ہاں کہو
کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔؟
میں نے رات کا پورا قصہ بہروز کو سنا دیا ۔۔وہ اطمینان سے بیٹھا سگار کے کش لیتا ہوا میری بات سنتا رہا۔میری بات ختم ہوئی تو اس نے گہرا کش لے کے میری طرف غور سے دیکھا۔تم جانتے ہو اگر تمہارہ لگایا ہوا یہ الزام غلط ثابت ہوا تو نہ صرف نوکری جائے گی بلکے تمہیں غلط بیانی کے الزام میں پولیس کے حوالے بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔آپ آپنے طور پر اس بات کی تصدیق بھی کروا سکتے ہیں۔۔
بہروز کریم نے پلٹ کر عقب میں مودب کھڑے مصطفی سے براہ راست پوچھا۔۔
کہو مصطفی کیا یہ لڑکا سچ کہہ رہا ہے ۔۔۔۔؟
مصطفی نے ایک توقف کرکے میری طرف دیکھا اور پھر دھیرے سے بولا۔۔جی مالک یہ سچ بول رہا ہے ۔۔
میں نے چونک کر مصطفی کی طرف دیکھا اس کا جواب میری تواقع کے بالکل برعکس تھا اور اس سے بھی زیادہ حیرت مجھے بہروز کریم کا ردہ عمل دیکھ کر ہوئی۔اس نے اطمینان سے سگار کا ایک لمبا سا کش اور مصطفی سے کہا
ٹھیک ہے مصطفی ۔۔جاتے ہوئے میرے لیے ایک کپ بلیک کافی کا بولتے جانا ۔۔
بہروز کو میرا خیال آیا لڑکے تم کافی پیو گے ۔۔
میں نے جلدی سے انکار میں سر ہلایا۔مصطفی کمرے سے جا چکا تھا میں نے بھی واپسی دروازے کی طرف رخ کیا بہروز نے مجھے آواز دے کر روکا لیا۔مصطفی میرا خاص آدمی ہے میرے وفاداروں میں سے ایک قریبی وفادار لیکن مجھے اچھا لگا کے ابھی وفاداری کی نیاب صنف دنیا سے بالکل ہی ناپید نہیں ہوئی تم نے اپنی نوکری کی پرواہ کیا بنا اپنی وفاداری نبھائی۔میرے ذہن سے تمہارا نام نکل گیا۔بڑا دلچسپ سا نام تھا ۔۔؟
بہروز نے ذہن پر ذور ڈالتے ہوے میری طرف دیکھا ۔میں نے دھیرے سے اپنا نام دہرایا۔۔پری زاد۔۔۔
بہروز مسکرایا ۔۔ہاں ۔۔پری زاد میں نے اس دن بھی محسوس کیا تھا کہ تمہیں اپنا نام کچھ خاص پسند نہیں تو پھر تم یہ نام بدل کیوں نہیں لیتے ۔۔۔؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: