Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 9

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 9

–**–**–

میں نے بہروز کی طرف دیکھا ں بدل لینے سے میری قسمت تو نہیں بدل جائے گی مالک۔۔۔ویسے بھی یہ نام مجھے میری اوقات یاد دلاتا رہتا ہے ۔۔بہروز نے میری آنکھوں میں جھانکا۔مرد کو اتنا حساس نہیں ہونا چاہیے دوبئی کس لیے آئے ہو۔؟
میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔بہت سارا پیسہ کمانے۔۔آپ کی طرح بہت بڑا آدمی بننے کے لیے ۔۔
بہروز ہونٹوں پر ایک تلخاے مسکراہٹ لمحے بھر کی جھلک دکھا کر غائب ہوئی بڑا آدمی۔۔؟جانتے ہو لڑکے۔۔یہ میری طرح کے جو بڑے لوگ دولت اور ترقی کے آسمان پر آج چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان سب کی ذندگی میں ایک نہ ایک بار تمہاری طرح ایک رات کسی غیر قانونی ترسیل کا پتہ چلا تھا فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اس کی خبر دینے کی بجاۓ اس آلودہ نظام کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا ۔۔
بہروز کریم اپنی بات ختم کر کے کھڑا ہوگیا اور باہر جاتے ہوئے لمحے بھر کے لیے میرے پاس رکا۔گھر جانے سے پہلے اکاؤنٹٹ سے ملتے جانا ۔۔
میں اپنی جگہ غم سا کھڑا رہ گیا اور بہروز کمرے سے نکل گیا۔صبع چھٹی سے پہلے فیکٹری کا خزانچی میرے پاس آیا اور ایک نوٹوں سے بھرا الفافہ میرے ہاتھ میں تھا گیا۔اس روز مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ بہروز کریم کی اس سلطنت کا اصل دارومدار کچھ غیر قانونی دھندو پر ہے جن کی خبر باہر والوں کو نہیں تھی۔رفیق کو جب اس سارے معاملے کا پتہ چلا تو وہ مجھ پر بڑی طرح برس پڑا کہ آخر مجھے ان کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت کیا تھی؟اس نے مجھے خبر دار کیا کہ ایک بار تو بہروز نے مجھے معاف کردیا مگر دوبارہ اگر کھبی ایسا کچھ ہوا تو وہ میرے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتے گا مگر نا جانے کیوں مجھے دوسرے عملے کے برعکس بہروز کریم سے بالکل بھی خوف محسوس نہیں ہوتا تھا اگلے ہفتے میری ڈیوٹی رات کی بجائے دن کی شفٹ میں تبدیل کر دی گئی۔مصطفی سے اب میرا گاہے بگاہے سامنا ہوتا رہتا تھا مگر اس کے لہجے اور تیور میں بھی پہلے جیسی سختی نہیں رہی تھی ور پھر کچھ دن گزرنے کے بعد ایک شام فیکٹری سے باہر نکلنے سے پہلے اپنے برقی کارڈ کے ذریعے واپسی کا وقت نوٹ کروارہا تھا تب اچانک سے کی شفٹ والے کارکن نے مجھے مصطفی ک پیغام دیا کہ اس نے مجھے مل کر جانے کا کہا ہے میں وہی گیٹ کے قریب صحرا میں بنے ایک شیڈ کے نیچے مصطفی ک انتظار کرنے لگا مغرب کے بعد مصطفی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچا اور گاڑی سے اترتے ہی اس نے مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا مصطفی نے کمرے میں داخل ہونے کے بعد مجھے کنڈی لگانے کا اشارہ کیا اور اپنے مخصوص کرخت مصری لہجے میں بولا جتنا کما رہے ہو اس پر اکتفا کرنا چاہتے ہو یا پھر کم وقت میں کچھ زیادہ بنانے کی ہمت رکھتے ہو؟؟
میر جواب بہت سیدھا تھا میرے پاس کھونے کے لیے کچھ خاص نہیں اور میں اپنی ہمت ازمانا چاہتا ہوں ۔۔
مصطفی نے لمبی بت نہیں کی بس اتنا کہا کہ رات کو ساحل پر کچھ لانچون پر سامان ائے گا مجھے وہ سامان وصول کر کے بہروز کی ایک دوسری فیکٹری کے گودام تک پہنچانا ہوگا
س کام میں میرے ساتھ چند دوسرے معاون بمع چار گاڑیوں اور ڈرئیور کے ہوں گے۔۔میں نے زیادہ تفصیل میں جائے بناہامی بھر لی۔مصطفی نے میرا کاندھا تھپتپھایا ۔
کم مشکل ہے مگر یاد رکھوں کامیابی ہمیشہ بہادر کا ساتھ دیتی ہے تمہیں یہ سب کچھ قانون کی نظر سے بچ کر کرنا ہوگا اور گرفتاری کی صورت میں تمہارا مالک سے سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔امید ہے سمجھ گئے ہوگے ۔۔
میں نے سر ہلایا آپ بے فکر رہیں۔۔میری زبان ہمیشہ بند رہے گی رات ڈھلتے ہی ہم آٹھ لوگ چار بڑی جیپوں میں سوار دور دراز کے ایک ویران ساحل پر پہنچ گئے۔سمندر خاموش اور آسمان تاریک تھا۔ہم سب اندھیرے میں ایک بڑی چٹان کی اوٹ میں گاڑیاں کھڑی کرکے لانچوں کا انتطار کرنے لگے
میرے لیے وہ سات کارندے بالکل اجنبی تھے اور ہم میں سے کوئی بھی آپس میں بات نہیں کر رہا تھا۔دور کہیں سمندر میں لنگر انداز جہاز سے موسیقی اور نوجوان جوڑوں کے گانے بجانے کی آوازیں ہوا کی دوش پر چند لمحوں کے لیے فصا میں بکھر جاتیں اور پھر وہی طویل سناٹا ہمیں گھیر لیتا تھا آج 14 فروری کا دن تھا جیسے ساری دنیا میں محبت کے دن کے طور پر منایا جاتاہے آج جب میں فلیٹ سے نکل کر ڈیوٹی کے لیے فیکٹری کی طرف آہ رہا تھا تو میں نے دوبئی کے دور دیوار بازار اور سڑکوں کو سرخ اور سفید رنگ غاروں اور پھولوں سے ٹے ہوئے دیکھا نوجوان لڑکیاں سرخ لباس میں ادھر ادھر رنگ برنگی تتلیوں کی طرح اڑتی پھر رہی تھیں اور نوجوان سیاہ لباس پہنے اور گلے میں سرخ اسکارف یا ٹائی پہنے محبت کا دن منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے شاید سمندر میں لنگر انداز جہاز میں بھی ویلنٹائن کی پارٹی جاری تھی۔کاش دنیا میں بدصورت لوگوں کا بھی کوئی ویلنٹائن ڈے منایا جاتا۔یہ ہر تقریب اور ہر تہوار جو محبت سے منسوب ہے اس پر صرف خوبصورت کا قبضہ کیوں جما رہتا ہے میرا دل چاہا اگر خوبصورت لوگ محبت کا دن مناتے ہیں تو ہم جیسوں کو بھی کوئی نفرت کا دن منانے کی اجازت ہونی چاہیے۔کچھ تو ایسا ہو ہم سے بھی منسوب ہو میں جانے کس الٹی سیدھی سوچوں کے بھنور میں گھرا ہوا تھا کہ اچانک دور سے چند لانچون کی مخصوص جلتی بجھتی روشنیاں نظر آنے لگیں شاید یہ کوئی سگنل یا کوئی خاص اشارہ تھا جو پہلے سے ساحل والوں کے لیے طے شدہ تھا۔ہم سب ہوشیار ہوگئے میری گاڑی کے ڈرائیور نے ڈیش بورڈ کھول کر اس میں سے پسٹل نکال کر میرے حوالے کر دیا ۔میں اسے یہ بھی نہ کہہ سکا کہ مجھے اس کا استعمال نہیں آتا کچھ دیر میں لانچیں ساحل کے قریب آگئیں اور ہم سب گاڑیوں سے اتر کر لانچوں کی طرف بڑھے۔لانچے ساحل سے لگ چکی تھی اور ہم ابھی چند قدم کے فاصلے پر تھے کہ اچانک ساحل کا وہ ویران حصہ بڑی بڑی دیوہیکل سرچ لائٹس کی روشنیوں میں جگمگا سا گیا اور ہم سب پل بھر میں اس تیز روشنی میں نہا گئے ۔۔
کوئی لاوڈ سپیکر پر ذور اے انگریزی میں چلایا۔کوئی بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش نہ کرے تم سب کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے ۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔پھر ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی چلایا۔بھاگو اور اس کے ساتھ ہی ہماری طرف تین چار فائر ہوے اور آرچ لائٹس چھناکے کے ساتھ ٹوٹ گئیں ایک بھگدڑ سی مچ گئی۔۔تیز روشنی کے بعد ایک دم چھانے والا اندھیرا عام اندھیرے سے زیادہ سیاہ اور گہرا ہوتا ہے لہذا ہم سب اندھیرے میں گیرتے پڑتے اپنی گاڑیوں کی طرف بھاگے مگر مجھے راستے میں ایک ٹھوکر لگی اور اگلے ہی لمحے میں گیلی ریت پر اوندھے منہ گرا ہوا تھا لوہے کی ایک سرد نال میری کن پٹی سے ٹکرائی اور کسی نے پوری قوت سے میرے سر پر پستول کا دستہ مارا اندھیرے کا طوفان میری آنکھوں کی پتلیوں سے ہوا میرے دماغ کی رگوں میں اتر گیا اور میرے سارے وجود پر موت جیسا سکوت طاری ہو گیا بے ہوشی شاید نیند کی انتہا ہے اور نیند موت کا ایک چھوٹا وقفہ ہوتی ہے میں بھی کسی ایسے ہی وقفے کے درمیان موت کی صلیب پر لٹک رہا تھا جب شاید ٹھنڈے پانی کی ایک ایک بوچھاڑ نے مجھے کھینچ کر اس صلیب نیچے اتار پھینکا۔پانی کی دوسری ریلی کے ساتھ ہی میں ایک جھٹکے سے واپس ہوش کی دنیا میں لوٹ آیا۔میرے ہاتھ پاوں کسی کھردری رسی کے ساتھ اس قدر مضبوطی سے ایک کرسی کے ساتھ باندھے گئے تھے کی مجھے کہ مجھے وہ خار دار تار جیسی رسی اپنے ہاتھوں کی کلائیوںاوت پاوں کے نخنوں میں کھبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔مجھے کرسی پر بیٹھا کر میری گردن بھی رسی سے لپیٹ کر کرسی پشت سے اس طرح کا کر باندھی گئی تھی کی میری ذرا سی جنپش سے وہ رسی میرئ گردن کے گوشت میں پیوست ہوتی جارہی تھی۔وہ ایک اندھیرا سا کمرہ شاید تہہ خانہ تھا ۔۔۔
میں نے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر میری آواز میرے گلے میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔کچھ دیر میں میرے عتب میں چند لوگوں کے قدموں کی آہٹ ہوئی اور کسی نے سامنے آکر میرے چہرے پر ایک زور دار طمانچہ رسید کیا اور چلا کر عربی میں کچھ پوچھا اور میرے جواب دینے سے پہلے ہی دوسرا طمانچہ میرے گال پر اپنے نشان ثابت کر گیا میں نے چلا کر انگریزی میں کہا میں عربی نہیں بول سکتا لہذا جو کوئی بھی ہے مجھ سے انگریزی میں بات کریں اس بار وہ تینوں اندھیرے سے نکل کر میرے سامنے آگئے ۔۔۔
شاید پولیس یا کوئی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہل کار تھے۔اس بار انہوں نے رابطے کے لیے انگریزی کا سہارا لیا۔ان کے سوال انتہائی مختصر اور انداز بڑا سفاکانہ تھا وہ چیخ چیخ کر مجھ سے پوچھتے رہے کی میں کون ہوں دوبئی میں کب سے قیام پذیر ہوں اور میرا ان سمگلروں اے کیا تعلق اور رشتہ ہے اور یہ کہ میں کا کے لیے کام کرتا ہوں؟میرے پاس جواب میں سوائے خاموشی کے ساتھ کچھ نہیں تھا اور پھر کوئی چارہ نہ پا کر انہوں نے دھیرے دھیرے ستم کا دائرہ کار بڑھانا شروع کردیا میرے بدن کے ہر جوڑ کو لوہے کی ایک چھوٹیسے مخصوص ہتھوڑی اے اس طرح ٹھوکا گیا کی ہر ضرب مجھے میری روح میں چھید کرتی ہوئی محسوس ہورہی تھی میرے ہاتھ اور پیروں کی انگلیاں کو اسی ہتھوڑی کی ضرب سے ایک ایک کر کے ناکارہ کردیا گیا میرے جسم کے جلتے سگریٹوں سے وقفے وقفے سے داغا جاتا رہا اور اس تمام عرصے میںجھے پنجوں کے بل کھڑا کر کے میرے ہاتھوں سے کھردری رسی چھت پر ایک کنڈے کے ساتھ باندھے رکھے گئے۔اس طرح کے میرے بازووں پر میرے جسم کا سارا بوجھ یوں پڑتا رہے کے میرے شانوںاور میری کہنیوں کے جوڑ کھل جائیں مگر میں وہیں جھولتا رہوں۔وہ ہر بار تشدد کے وقفے میں دوبارہ اپنا سوال دہراتے کہ میں کا کے لیے کام کرتا ہوں۔۔۔۔؟اور میرے گروہ کو کون کنٹرول کرتا ہے ؟میں ہر دفعہ تکلیف اور آذیت کے سمندر سے گزرتے ہوے ڈوب کر جب ہوش کی حد پار کر کے بت سدھ ہوجاتا تو مجھے یہی لگتا تھا کہ میری روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ہے اور اب میں دوبارہ کھبی ہوش میں نہیں آوں گا۔مگر میرے ستم گر تجربہ کار اور اپنے فن میں ماہر تھے۔انہیں مجھے زندہ رکھنا آتا تھا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان میں سے ایک تھک کر دوسرے دو جلادوں سے کہا کہ اسے ڈر ہے کہیں میں مر ہی نا جاوں۔لہذا ہمیں اسے سلطانی گواہ بنا لینا چاہیے اور مجھ سے عدالتی اسٹامپ پیپر پر ایک معادہ کر لیا جائے کہ اگر انہیں اپنے گروہ کے مالک میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اقبالی بیان دے دوں تو وہ مجھے اگلے جہاز سے میرے ملک بنا کسی الزام کے ڈی پورٹ کردیں گے مجھے وہاں قید ہونے کے بعد دو یا تین دن کا حساب تو یاد رہا تھا مگر پھر اس کے بعد اذیت کی شدت سے میری بے ہوشی کے وقفے اتنے طویل ہونے لگے کی اب مجھے دن اور رات کی ہر تمیز اور گنتی بھول چکی تھی۔۔میرے جسم کے ایک ایک ریشے سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھی اور اب یہ درد میرے بدن کی حدوں سے نکل کر میرے اردگرد موجود ہر چیز میں منتقل ہوتا محسوس ہورہا تھا مگر میں انہیں کچھ نہیں بتایا۔جانے میرے اندر اتنی برداشت کرنے کی اتنی سکت کب اور کیسے پیدا ہوگئی تھی۔شاید ساری عمر زبان کے گھاوں سہتے سہتے میرے روح کی اذیت سہنے کی اس قدر عادت ہوگئی تھی کے جسم پر ہر لمحہ یہ لگتے گھاو اور داغ ان روح کے زخموں مقابلے میں مجھے بہت کم تر محسوس ہوتے تھے۔۔۔
وہ مجھے ہر طرح سے ازما چکے تو آخری حربے کے طور پر انہوں نے میرے ہاتھ اور پاوں کے ناخن ایک ایک کر کے میری کھال سے نوچنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ اوزار منگوالیے۔ان میں سے ایک ہاتھ کھولنے کے لیے نیچے جھکا تو دوسرے نے بے زاری سے ایک لمبی انگرائی لی کہ آدھی رات تو بیت ہی چکی ہے تو کیوں نہ اس نیک کام کو اگلے روز صبع تک مقرر کر دیا جائے۔ویسے بھی میری حالت اس وقت تک اتنی ابتر ہوچکی تھی کی شاید مجھے اپنے ماس سے ناخنوں کے علیدہ ہونے کا پتہ بھی نہ چلتا کتنی عجییب بات ہے کہ درد اور اذیت محسوس کرنے لے لیے بھی انسان کا اپنے حواس میں رہنا ضروری ہے انسانی جسم کی رگیں اس درد کے پیغام کو دماغ کےایک خاص حصے تک پہنچا کر جسم کو دوبارہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ درد میں مبتلا ہے
مجھے اس روز دنیا کے ہر دیوانے اور خرد سے بیگانےشخص کی تقدیر پر ٹوٹ کر رشک ایا۔نہ دنیا میں کسی درد کا جھمیلا اور نہ اخرت میں کسی عذاب کا ڈر۔کاش اس دیوانے پن کو اختیار کرنا بھی ہمارے بس میں ہوتا ۔۔۔
وہ لوگ جانے کس وقت تہہ خانے سے جا چکے تھے مگر میرا ذہن ابھی تک کسی آزاد جنگلی اور وحشی گھوڑے کی طرح بے لگام دوڑ رہا تھا۔دفعتا مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری پشت پر بندے ہاتھوں کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑ گئی تھی۔میں نے کرسی کو دوچار زور دار جھٹکے دینے کی کوشش کی تو منہ سے چیخیں نکل گئی۔آذیت درد اور تکلیف کے دریاوں کے بند کھل سے گئے اور میرے جسم کے تمام مساموں سے درد یوں قطرہ قطرہ کر کے پھوٹ کر نکلا جیسے شدید گرمی کی کڑی دوپہر میں پسینہ پھوٹتا ہے ۔
کرسی ایک جانب لھڑک گئی اور میں اس کے ساتھ ہی بندھے ہاتھوں پیروں سمیت زمین پر اوندھے منہ گر گیا اور کچھ دیر کے لیے اور کچھ دیر کے لیے میرے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔جانے کتنی دیر بعد مجھے دوبارہ ہوش آیا تجھے محسوس ہوا کہ کرسی کی ہتھی ٹوٹ چکی ہے اور میرے ہاتھ پشت سے تقریبا کھل چکے ہیں میں نے پوری قوت لگا کر ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ آزاد کر لیے اور کانپتی زخمی خون سے سن ہوئی انگلیوں ہے ساتھ اپنے پیروں ی بندش بھی کھول ڈالیں اور خود کو کسی نہ کسی ظرح گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں تک پہنچا اور چاروں ہاتھوں پیروں کی مدد سے جانے کتنی صدیوں میں دیڑھیان چڑ کر اوپر تہہ خانے کے دروازے تک اپنے گھائل اور پور پور زخمی بدن کو پینچایا۔خوش قسمتی دے دروازہ ایک ہلکی دی کنڈی کی مدد سے باہر کی جانب سے بند تھا اور جب میں نے اپنے پورے جسم کے وزن کو دروازے پر دو چار مرتبہ دے مارا تو چٹخنی کھل گئی اور میں اپنے ہی زور میں باہر کھلے ہال میں جا گرا میری توقع کے برعکس وہ کوئی جیل یا دفتر کی بجائے ایک ویران دی نا مکمل عمارت تھی س کے تہہ خانے میں مجھے قید رکھا گیا تھا۔میں پوری قوت لگا کر لڑکھڑاتا ہوا کھڑا ہوگیا اور اس کوشش میں جانے کتنی بار زمین پر گرا۔میرے قدم یوں جھولتے ہوئےزمین پر پڑ رہے تھے جیسے میری ٹانگوں میں موجود ہر ہڈی کو پیس کر چکنا چور کردیا گیا ہو۔کسی نہ کسی طرح میں زیر تعمیر ہال کے ڈھانچے سے باہر نکلا اور صحن میں نظر آنے والے لوہے کے بڑے گیٹ کی طرف بڑھا۔میں احاطے کی دیوار کا سہارا لے کر دھیرے دھیرے گیٹ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اچانک صحن اور عمارت کا پورا احاطہ تیز روشنی سے جگمگا اٹھا صرف اندھیرا ہی انسان کی بصارت نہیں چھینتا۔کھبی کھبی روشنی کی چکا چوند بھی ہمیں اندھا کر دیتی ہے میں بھی چند لمحوں کے نابینا سا ہوگیا تھا اور پھر مجھے بہت سے سائے اپنی جانب دوڑتے نظر آئے میں نے دیوانہ وار گیٹ سے باہر نکلنے کے لیے جست لگائی مگر مجھے راستے میں ہی کسی نے دبوچ لیا اور میں اس طرح بے سدھا سا زمین پر گر گیا جیسے سینکڑوں میل صحرا اور جنگل میں لگاتار دوڑنے والا گھوڑا شدید تھکن سے چور ہوکر کانپتی ہوئے آخری بار کھبی نہ اٹھنے کے لیے زمین ہر گرجاتا ہے میرئ پلکیں بوجھل ہوکر دھیرے دھیرے بند ہوتی گئیں ۔شاید میری موت آخر کار مجھے اپنی مہربانی اغوش میں لینے کے لیے پلکوں کے در پر اپنے سفید پنکھ پھیلائے آکھڑی ہوئی تھی۔مجھے اس موت کی دیوی کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی ۔۔
پری زاد ۔۔اٹھو ۔۔۔چلو بہت دیر ہوگئے۔۔۔
میں نے غور سے آواز سننے کی کوشش کی۔ہاں۔۔۔۔کوئی میرا نام پکار تو رہا ہے مگر یہ آواز ۔۔؟
ہاں میں اس کو پہچانتا تھا کوئی کسی سے کہہ رہا تھا ۔۔
اسے ہوش میں لاو۔۔۔یہ مجھے زندہ چاہیے ۔۔۔
میرے ڈوبتے ذہن نے اواز پہچان لی ۔۔یہ بہروز کریم کی آواز تھی۔تو کیا مجھے بہروز کریم نے خود اغوا کروایا تھا؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: