Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Last Episode 33

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – آخری قسط نمبر 33

–**–**–

ہاں عینی ہی تھی میری مجسمہ ساز وہی قراء العین مگر اس کی آنکھوں پر یہ سیاہ چشمہ کیوں لگا ہوا تھا ابھی تک؟میں نے خان خو اشارہ کیا کہ وہ لڑکی کو کہے چشمہ اتار دے مگر خان نے میرا اشارہ نہ دیکھا اور وہاں سے جا چکا تھا میں نے دھیرے سے بھاری آواز میں کہا بی بی اپنے چہرے سے یہ اندھیرے کا پردہ ہٹا دو تاکہ تمہاری آنکھوں میں جھانک کر تمہاری روح کے زخم دیکھ سکوں۔۔
مگر وہ روپڑی۔۔
نہیں سائیں جی۔۔میری آنکھیں بے نور ہیں۔۔آپ ان میں جھانک کر بھی صرف اندھیرا ہی دیکھیں گئے۔
میں زور سے چلا اٹھا ۔۔
کیوں۔۔ تمہاری آنکھیں اب تک بے نور کیوں ہیں۔۔؟اگر دعا پی کروانی ہے تو بینائی کی دعا کرواو عینی نظریں چرا گئی۔
نہیں سائیں جی۔۔جس کو دیکھنے کے لیے مجھے بصارت چاہیے تھے۔وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا اب میں بینائی کا کیا کرو گی۔میں اس کی بات سن کر سسک اٹھا وہ بھی روتی رہی اور پھر اچانک میرے کانوں میں خان کی آواز گونجی
سائیں جی کیا ہوا۔۔سب خیر تو ہے ناں۔۔۔
تم رو کیوں رہے ہو۔۔کیا کوئی بڑا سپنا دیکھا ہے ۔۔
میں نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں خان مجھ پر جھکا ہوا تھا میرے گالوں سے میرے آنسوں پونچھ رہا تھا گویا میں واقعی ہی خواب دیکھ رہا تھا۔بڑی مشکل سےمیں نے خان کو سمجھا بھجا کر کر کام پر بھیجا مگر خود میرا چین و سکون مزید برباد ہوگیا۔کچھ خواب ہمیں اس قدر بے سکون کر جاتے ہیں۔سپنے کے پنجرے میں بند یہ دل ایک دم ہی ہر دیوار ہر رکاوٹ توڑ کر باہر نکلنے کو بے تاب ہوگیامجھے لگا وہ خواب ادھورا رہ گیا ہو شاید عینی کی آنکھیں واپس مل چکی ہوں مگر میری اواز پہچان کر اور میرے چہرے کو دیکھ کر اس نے مجھے نہ پہچاننے کے لیے یہ ساری کہانی گھڑی ہو۔مجھے خان پر شدید غصہ آنے لگا جس نے درمیان میں میری نیند توڑ کر مجھے خواب کے آخری حصے اور انجام جاننے سے روک دیا۔سکینہ نے کہا تھا محبت میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمارے خواب سچے ہونے لگتے ہیں قدرت نے ایک ہی رات مجھے دو اشارے دیئے تھے۔۔۔
پہلا ثریا اور کلیم کی کہانی سنا کر۔۔اور دوسرا یہ ادھورا خواب دکھا کر۔یقین قدرت مجھے یہ جتانا چاہ رہی تھی کہ عینی اگر بینائی ملنے کے بعد مجھے دیکھ لیتی تو ضرور وہ رو رو کر خدا سے یہی شکوہ کرتی کہ اس چہرے لو دیکھنے سے تو بہتر تھا کہ اسے دوبارہ بصارت ہی نہ ملتی۔میں آندھی ہی رہتی تو اچھا تھا میرے اندر چلتے جھکڑ تیز ہونے لگے۔جیسے واقعی عینی نے مجھے دیکھ لیا ہو میری حالت شام تک اتنی بگڑ گئی کہ مجھے سانس بھی اٹک اٹک کر آنے لگی خان نے مجھے یوں تڑپتے دیکھا تو بناء کچھ کہے ایک جانب بھاگ گیا اور گھنٹہ بھر بعد شہر کے کسی مستند ڈاکٹر کی دواوں کا بکسہ اٹھائے اس کے آگے آگے بھاگتا ہوا نمودار ہوا۔ڈاکٹر نے میری نبض دیکھی اور تشویش سے خانکی طرف دیکھا۔۔؟
تمہارے سائیں کی حالت تو بہت خراب ہے۔میں دوا کی تین خوراک کیں دیے تو جارہا ہوں مگر ہوسکے تو سائیں کو شہر کے بڑے ہسپتال پہنچانے کی کوشش کرو۔۔
خان نے تیزی سے سر ہلایا مگر وہ اندر سے جانتا تھا کہ میں اب یہاں سے کہیں نہیں ٹلنے والا ہوں۔اگلے روز بادل پھر ٹوٹ کر برسے میری سانس اکھڑنے لگی تھی جیسے سینے کی قید سے آزاد ہونے میں اسے بہت سی سلاخوں سے ٹکرا کر باہر نکلنا پڑ رہا ہو۔۔میری نظر دھیرے دھیرے پتھرانے لگی تو خان نے روتے ہوئے میرا ہاتھ تھام لیا۔۔
چلو سائیں۔۔۔ایک بار میری بات بھی مان لو۔۔چلو کسی بڑے ہسپتال چلتے ہیں۔۔
میں نے برستی بارش کی بوندوں میں خان کے آنسو مل کر پانی ہوتے دیکھے اور مسکرایا۔میری آواز رک رک کر نکل رہی تھی۔
کیوں ڈھونگی کہیں کے۔۔ذرا سی بیماری نے ہی تمہارے سائیں کی کرامات پر تمہارا یقین اور اعتماد چٹخا دیا۔۔؟
ابھی کل تک تو تم سارے علاقے میں سب سے کہتے پھرتے تھے کہ تمہارا جوگی سائیں اپنی دعا سے ہر بیماری اور ہر روگ کا علاج کرسکتا ہے اور آج جب خود تمہارا سائیں بیمار پڑا تم اسے شہر کے بڑے تجربہ کار ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضد کر رہے ہو۔اگر میری دعاوں میں باقی لوگوں لے لیے اتنا اثر ہوتا تو کیا آج اپنی بیماری ایک پھونک میں ہی ہوا نہ ہوجاتی۔۔؟خان لاجواب سا وہیں بیٹھا روتا رہا۔میری نظروں کے سامنے اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔تیز بارش میں بھیگتی ایکسپریس گاڑی پلیٹ فارم پر داخل ہوئی تو ایک ہلچل سی مچ گئی۔کچھ مسافر اترے اور کچھ ٹرین پر سوار ہوگئے۔میں نے دور اسٹیشن کے بیرونی گیٹ سے ایک نوجوان جوڑے کو اندر آتے دیکھا مرد تیز بارش سے خود کو بچاتے ہوئے کسی کہ تلاش میں برآمدے کی جانب بڑھ گیا۔میری لمبی جتا دھاری بالوںکی لٹیں بھیگ کر میرے چہرے کے گرد پھیل چکی تھیں۔میں سر جھکائے یوں مراقبے میں پڑا ہوا تھا جیسے اپنی آخری سانس نکلنے کا خود انتظار کر رہا ہوں۔اچانک میرے قریب ہی سیاہ لباس میں کسی نازک سے سراپے کا ہیوالا ابھرا اور وہ میرے قریب بیٹھ گئی۔خان نے اسے ڈبے لفظوں میں میری بیماری اور بگڑتی حالت کے بارے میں بتایا مگر وہ برستی بارش میں یونہی دھرنا دئیے بیٹھی رہی۔خان کو مجبورا وہاں سے اٹھ کر جانا پڑا تاکہ وہ تنہائی میں مجھ سے اپنی منٹ بیان کرسکے۔۔
نقاہت اور غنودگی سے میری آنکھیں بند ہوئی جاتی تھیں مگر جان ہوں اٹکی ہوئی تھی جیسے ضد پر آڑی ہو اور پھر ہلکا سا کھنکار کر بولی تو اس کی مترنم آواز نے میرے و
وجود میں چھپی سبھی خفیہ گھنٹیوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔مجھے یوں لگا جیسے میرے ارد گرد زلزلہ آگیا ہو۔میں اس کی میٹھی آواز کیسے بھول سکتا تھا۔؟
ہاں۔۔۔یہ اسی کی آواز تھی جس کی سانسوں کی آہٹ بھی میں سن سکتا تھا۔۔
میرے خواب سچ ہونے کا وقت آگیا تھا۔۔
مجھے پتہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد خواتین کی موجودگی پسند نہیں کرتے اور نہ ہی کسی عورت سے ہم کلام ہونا آپ کو اچھا لگتا ہے مگر میں آج بڑی امید لے کر آپ کے پاس آئی ہوں کئی سال بھٹک رہی ہوں دربدر۔۔میرا کوئی اپنا کھوگیا ہے آپ کی دعا کا بڑا چرچہ سنا ہے۔۔میں آپ سے التجا کرتی ہوں۔۔۔میرے لیے بھی دعا کریں۔۔
میری آنکھوں سے آنسوں ٹیک پڑے میری دعا میرے سامنے بیٹھی مجھے دعا کرنے کا کہہ رہی تھی وہ بے چین اور پریشانی میں اپنی خوبصورت انگلیوں کو حسب عادت بار بار آپس میں جوڑ کر کھول رہی تھی۔یہ وہی ہاتھ تھے جنہوں نے کھبی میرا چہرہ چھوکر ایک مجسمہ تراشا تھا میری جھکی نظر نے اس کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی دیکھی میں خاموش رہا وہ مجھے پہچان نہیں پائی تھی۔پہچانتی بھی کیسے؟
اس نے آج تک مجھے دیکھا ہی کب تھا؟ میری سانس اکھڑنے لگی مجھ میں اس کے چہرے کو نظر بھر کر دیکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔میری رکتی سانسوں کی آواز سن کر وہ گھبرا کر میرے اور قریب آگئ۔۔۔۔۔آپ ٹھیک تو ہیں ناں ۔۔؟؟
دفعتہ میری نظر اس کے آنکھوں ہر لگے کالے چشمے پر پڑی تو میرے اندر ایک وقت کئی جھکڑ چلنے لگے۔حسب توقع ایک چشمہ اس کی خوبصورت سرمئی آنکھوں کا پہرے دار بنا بیٹھا تھا۔کہیں خدانخواستہ عینی کی آنکھوں کا آپریشن واقعی ناکام تو نہیں ہوگیا تھا۔تیز بارش اس کا نازک وجود بھگو رہی تھی۔میرا جی چاہا کہ میں اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کے وجود کے لیے چھتری بن جاوں مگر میں تو خود کسی کم زور پتے کی طرح لرز رہا تھا۔وہ کچھ دیر یونہی دو زانو بیٹھی بھیگتی رہی اور پھر واپس جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی میرا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو جیسے۔اسے آواز دے کر روک لینے کی خواہش کو میں نے نہ جانے کا طرح روکا بس زبان دانتوں تلے دان لی مڑتے ہوئے اچانک پانی میں اس کا پاوں پھسلا اور وہ ڈگمگا گئی میں تڑپ کر اسے گرنے سے روکنے کی کوشش کے طور پر آگے بڑھا تو اس کے ہاتھ کسی سہارے کی تلاش میں فضا میں لہراتے اور میرے چہرے کو چھوگئے میں گھبرا کر پیچھے ہٹا تو وہ کچھ لمحوں کے لیے حیرت اور صدمے سے ششدر رہ گئی اور پھر اس نے بے تابی سے دوبارہ میرے چہرے پر اپنی انگلیاں پھریں اور زور سے چلائی۔۔
پری زاد۔۔۔یہ آپ ہیں ناں۔۔۔اپ چپ کیوں ہیں۔۔؟بولتے کیوں نہیں؟
میں اپنا چہرہ ہاتھ میں چھپائے وہاں سے اٹھ کر چند قدم بھاگا مجھ میں بھاگنے کی ہمت اور طاقت ہوتی تو پھر رونا پی کس بات کا تھا میں لڑ کھڑا کر یوں گرا جیسے کوئی کسی کی نظر سے گرتا ہے مگر مجھے دنیا کی نظر سے گرنے کی پرواہ ہی کب تھی۔مجھے تو بس ایک نگاہ سے بچنا تھا کہ جس میں کھبی میرا ایک مقام تھا مجھے زمانے کی ہر فنا قبول تھی مگر اس کی نظر میں نفرت یا رحم اور ہمدردی کی جھلک میرے لیے دنیا کی ہر موت سے کہیں بڑھ کر قضاہ تھی میں نے خود کو پوری طرح سمیٹ کر چھپا لیا اچانک میرے کانوں میں ایک مردانہ آواز گونجی ۔
کہاں تک بھاگیں گے اور کب تک خود کو چھپائیں گے
پری زاد صاحب میں آپ کو اتنا کم زور نہیں سمجھتا تھا
ڈاکٹر عدنان میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔آس پاس چلتے لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی۔۔عینی وہیں دور بیٹھی رو رہی تھی۔میں نے عدنان سے منٹ کی مجھے جانے دو عدنان اس کی جس ایک نظر سے بچنے کے لیے میں نے ساری دنیا چھوڑ دی وہ نظر میرا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک آپہنچی ہے۔۔میں بہت نڈھال اور بڑا گھائل ہوں عدنان مجھے اور زخمی نہ کرو۔۔میرا دم میرے آس آخری بھرم کت ساتھ نکل جانے دو۔۔عدنان کی آواز لرز رہی تھی اس ایک نظر کا اتنا ہی خوف تھا تو آپ نے عینی سے محبت کیوں کی تھی؟؟؟؟
نہیں۔۔یہ جھوٹ ہے۔۔میں نے محبت نہیں کی۔۔
عدنان نے میرے لرزتے ہاتھ تھام لیے۔محبت نہیں کی تو پھر یہ تیاگ کیسا؟اس کا سامنا کرنے کا خوف کیوں۔کمالی نے امریکہ واپسی پر ہی ہمیں سب کچھ بتا دیا تھا۔کاش آپ مجھ سے یہ بات نہ چھپاتے۔۔اور پھر ہر گرہ خود کھلتی گئی آپ نے میری محبت کی وجہ سے اپنے آپ کو اس حد تک برباد کرلیا پری زاد؟
آخر کیوں ایسا کون کرتا ہے۔۔چھین لیتے اسے مجھ سے اس پر سب سے زیادہ حق اس ساری دنیا میں صرف آپ کا تھا آپ نے وہ حق بھی مجھے سونپ دیا۔صرف اس خوف سے کہ وہ آنکھیں ملنے کے بعد آپ کو قبول نہیں کرے گی آپ نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ وہ زندگی کہ اتنے اہم موڑ پر اپنے فیصلے کیدے کرے گی اس نے آپ کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ مان دیا۔اس کے کتنے بھرم آپ سے جڑے تھے اور آپ اس کو بیچ منجدھار میں چھوڑ آئے۔۔یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ آپ کے بغیر کیسے چل پائے گی۔۔؟
میں نے اپنی سانسیں جمع کیں۔۔
میں اس کی نئی رنگوں سے بھری دنیا کو اپنے وجود کی کالک سہ سیاہ نہیں کرنا چاہتا تھا صرف تم ہی اس کے قابل تھے اور میں صرف تمہارے بھروسے اسے چھوڑا تھا میں جانتا تھا اگر میں اس کا ہاتھ مانگتا تو وہ مجھے دیکھ کر بھی شاید انکار نہ کرتی کیونکہ اس کی روح میرے ان گنت احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی لیکن مجھے کسی احسان کا بدلہ نہیں چاہیے تھا عدنان۔۔میری منزل تو بس ایک نظر تھی اس کی پیار بھری ایک نظر۔۔
عدنان نے حتمی لہجے میں کہا۔۔
ٹھیک ہے۔۔اگر آپ کی نظر کی پہچان کا اتنا ہی دعوی ہے تو آج یہ بھرم بھی آز مالیتے ہیں۔۔وہ آرہی ہے۔۔دیکھتے ہیں آپ کو دیکھ کر اس کی نظر کیا کہتی ہے۔۔آج آپ کے مقدر کی وہ نظر خود فیصلہ کرے گی۔۔جب آپ حسب وعدہ آپریشن سے پہلے نیو یارک نہیں پہنچے تو عینی نے اپنی آنکھوں کے آپریشن سے انکار کردیا تھا۔۔وہ جان گئی تھی کہ آپ کیوں نہیں آئے میں نے آپ کی قسم دی کر اس کا آپریشن تو کروادیا مگر بینائی ملنے کے بعد بھی اس نے اپنی آنکھوں پر آج تک وہ سیاہ چشمہ لگا رکھا ہے۔۔
میں چلا اٹھا ۔۔
مگر کیوں۔۔تم نے اس کا ساتھ نھبانے کا وعدہ کیا تھا مجھ سے تبھی عینی کی آواز میرے قریب سے ابھری ۔
وعدے تو آپ نے بھی بہت کیے تھے دوستی نبھانے کے
پری زاد آپ یہ کیسے بھول گئے کہ میرا آپ سے روح کا رشتہ تھا اور جب روح کے رشتے جڑ جائیں تو چہرے بے معنی ہوجاتے ہیں۔۔آپ کو مجھ لے اتنا بھی بھروسہ نہیں تھا بس۔۔اتنا ہی جانتے تھے آپ مجھے۔۔۔؟
خان نے صورت حال دیکھ کر سنگیتی کو محسوس کرتے ہوئے لوگوں کو پرے دھکیل دیا تھا۔میں وہیں زمین پر پڑا بارش میں بھیگ رہا تھا۔عینی نے وہیں زمین پر دو زانو بیٹھ کر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔میری جلتی روح کسی ٹھنڈے پانی کی آبشار تلے آگئی۔اس نے میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھوا اور منہ پر لگی دھول اپنے ڈوپٹے سے صاف کی مجھے یوں لگا جیسے میرے غم کی ہر سیاہی دھلتی چکی گئی ہو۔میں اس کے چھوتے ہی کتنا خوبصورت ہوگیا تھا۔بالکل پری زاد بن گیا تھا۔عینی نے اپنی آنکھوں سے سیاہ چشمہ اتار لیا۔میرے نصیب کی نظر میری نظر دے ٹکرائی کسی بھی طنز۔حقارت۔تمسخر یا نفرت سے پرے۔ایک پیار بھری نظر۔۔میرے مقدر کی نظر۔۔وہ میرا سر گود میں لیے بیٹھی روتی رہی اور برستی بارش کی بوندیں اس کے پاک اور معطر آنسووں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے خود ان آنسووں میں مل کر خود کو پاک کرتی رہیں۔۔
میں بھی کتنی بد نصیب ہوں۔۔آپ نے سب سے چھپا کر جس محبت کو اپنے من میں دبائے رکھا۔اس کی خبر میرے سوا باقی سب کو تھی۔۔ایک بار صرف ایک بار مجھ سے کہہ کر تو دیکھتے پری زاد۔۔تب میں آپ کو بتاتی کہ آپ میرے لیے کیا ہیں۔اتنا کمزور سمجھ رکھا تھا آپ نے مجھے۔۔
عینی کو دور کھڑے قضاء کے فرشتے نے مجھے اشارہ کیا انشاء جی اٹھو۔۔اب کوچ کرو ۔۔
میں نے چند سانسیں مزید ادھار مانگیں اور اس مہہ وش کے ہاتھوں کو تھام لیا۔۔نہیں عینی۔۔میں تم پر زندگی کے رنگوں کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا تھا۔میرے نہ ہونے سے تمہاری روشن دنیا میں ایسی کون سی کمی ہوجاتی۔۔۔؟
میں تو یوں بھی تمہاری زندگی میں اضافی تھا۔۔اس کے آنسوں بارش کی تیز بوندوں کے ساتھ مل کر میرے چہرے کو پاک کرتے رہے۔پہلے میں خود نہیں جانتی تھی پری زاد مگر آپ سے دور ہوکر جانا کہ میری ہر کمی آپ سے ہی ہوتی ہوتی ہے۔۔آپ نے خود کھبی کہا نہیں اور مجھے امریکہ جاکر پتا چلا کہ آپ اضافی نہیں۔۔لازمی ہیں۔۔۔
میں نے عینی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ہاں کھبی نہیں کہہ پایا۔۔مگر آج کہتا ہوں۔۔مجھے تم سے محبت ہے عینی بہت محبت شدید محبت۔۔
میری نبض ڈوب رہی تھی میرے کان میں قضاء دھیرے سے گنگنائی۔۔وحشی کو سکون سے کیا مطلب۔۔جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا۔۔؟؟
آس پاس کا سارا شور مجھے دھیرے دھیرے سرگوشیوں میں ڈھلتا محسوس ہورہا تھا۔۔جانے لوگ آپس میں کیا سرگوشیاں کررہے تھے؟
بارش تیز تر ہو کر بھی مجھے بھگو نہیں پارہی تھی اتنی تیز آندھی کے باوجود حبس سے میرا دم کیوں گھٹ رہا تھا وہ میرا سر گود میں لیے زارو قطار رو رہی تھی۔اور اللہ سے کہہ رہی تھی ۔۔زندگی سمٹ کر ان چند لمحوں میں سمٹ آئی ہے جب عمر بھر کی ریاضت اور دعائیں رنگ لاتی ہیں ۔۔
آج میری عمر بھر کی امید بھی پوری ہوئی۔اب بھلا کس کو جینے یا مرنے سے غرض تھی۔کتنی صدیاں اس ایک پل میں جی لی تھیں میں نے۔۔زندگی نے ہر قرض چکا دیا تھا میری اضافی اور مانگی ہوئی سانسیں پوری ہونے کو آئیں تو آس پاس دھیرے دھیرے روشنی کم ہونے لگی۔میری آنکھیں پتھرانے لگیں۔کھبی سنا تھا کہ دھڑکن بند ہو بھی جائے تو دماغ کچھ لمحے زیادہ جیتا ہے۔چاروں طرف ایک عجیب سا شور مچ گیا جیسے بہت سے لوگ مل کر بین کر رہے ہوں جانے سب رو کیوں رہے تھے میری پتھرائی آنکھیں تو ابھی تک اسی پر جمی ہوئی تھیں۔جس نے میری تکمیل کردی تھی خان دھاڑیں مار مار کر سب سے لپٹ کر میری اشارہ کر کے جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا۔عدنان کی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔اس نے عینی کو تھام رکھا تھا۔ہاں اب وہی تو اس کا سہارا تھا کسی نے آگے بڑھ کر میرے جسم پر سفید چادر ڈال دی۔میرا چہرہ واضع رہا۔مجھے اپنے قدموں کی جانب سے خون کی گردش رک کر سارے جسم میں جامد ہوتی محسوس ہوئی اور میرے ذہن کے اندھیرے بڑھنے لگے۔پھر کسی نے آگے بڑھ کر میری آنکھوں ہر ہاتھ رکھ کر زور سے کہا۔۔۔انا للہ و انا آلیھ راجعون۔۔۔۔😭
اور میرے پیوٹے بند کردئیے اور میرا دماغ ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں ڈوب گیا 💔😭
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
ضروری بات کہنی ہو
کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو۔ اسے واپس بلانا ہو
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اسے جاکر بتانا ہو…
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔۔۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
(ختم شدہ)۔۔۔
کیسا لگا آپ کو ناول پری زاد اپنی رائے کا اظہار کمنٹ بکس میں بتائیے گا۔اور آپ سب بہن بھائیوں کی سپورٹ اور محبت کا بہت شکریہ اللہ اپ سب کو ہمیشہ آباد رکھے دعاوں میں یاد رکھئے گا ۔۔ پھر ملیں گے کسی نیو سٹوری کے ساتھ انشاءاللہ۔۔خدا نگہبان۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: