پیکو موچی ( بچوں کے لیئے کہانی ) از پروین سرور

0
پیکو موچی ( بچوں کے لیئے کہانی ) از پروین سرور

–**–**–

دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد جب پی کو شام کے وقت لدا پھندا اپنی دکان کی طرف لمبے لمبے قدم بڑھاتا واپس آنے لگا تو نہر کے کنارے مانو بلی سفید کوٹ اور سرخ پھندنے دار کانوں تک ڈھکی ٹوپی پہنے ، گلے میں جارجٹ کا پھول دار رومال لپیٹے ڈھول بجا بجا کر اعلان کر رہی تھی۔
کڑم ۔ دھم ۔ کڑم ۔ دھم ۔ آؤ بھائی ۔ آؤ بھائی ۔ آؤ ۔ آ کر ۔ کھاؤ مٹھائی ۔
لڈو ۔ پیڑے ۔ برفی ۔ جلیبی ۔
قلاقند ۔ رس گلے ۔ اور ۔ اِمرتی ۔
ڈھم ۔ ڈھم ۔ ڈھم ۔
پھول نگر کا میلہ دیکھو ۔ پریوں کا ناچ دیکھو ۔ چھما ۔ چھم ۔ چھما ۔ چھم ۔ چھن ۔ چھن ۔
بونوں کا جادو دیکھو ۔ ہاتھ کی صفائی ۔ اڑن ِ چھو ۔ ایک آنے میں دو مزے ۔ ایک نہیں ۔ سو مزے ۔ جھوٹ نہیں ہے میرے بھائی ۔ آؤ ۔ بھائی ۔ آؤ ۔ بھائی ۔ڈھم ۔ ڈھم ۔ کڑم ۔ دھم ۔ دھڑم ۔ دھم ۔
مانو بلی آنکھیں بند کئے ڈھول بجانے میں مگن تھی ۔ اور پی کو اس کے قریب ہی اپنے بڑھتے قدم روکے مزے مزے سے اعلان سن رہا تھا ۔ اچھی اچھی مٹھائیوں کے نام سن کر ہی اس کے منہ میں پانی بھر رہا تھا ۔
جب زیادہ دیر تک صبر نہ ہو سکا تو اس نے اپنے کندھے پر رکھا ہوا رنگ برنگ پنکھڑیوں اور سبز گھاس کا بوجھل تھیلا زمین پر رکھ کر بڑے شوق سے پوچھا ۔
” بی بلی ۔ اِس میلے میں کیا میں بھی آ سکتا ہوں ؟”
مانو بلی نے جھٹ اپنی آنکھیں کھولیں تو اس کے پھولے پھولے سرخ گالوں اور پھولی سی ناک کو دیکھ کر ہنس دی ۔
” ارے بھائی پی کو ۔ پریوں اور بونوں میں آتے کیا اچھے لگو گے؟”
” یوں تو نہ کہو ” ۔ وہ شرما گیا ۔ ” بہت بڑا ہوں کیا؟”
” نہیں ۔ اتنے بڑے بھی نہیں ہو ۔ مگر ۔”
” مگر کیا ؟ اتنے زوروں میں پھر ڈھول کیوں بجا رہی ہو ۔ میرا بھی جی چاہتا ہے کہ خوب مزے سے پریوں کا ناچ دیکھوں ۔ جادو دیکھوں ۔ اور مٹھائیاں کھاؤں۔”
” یہ اعلان تمھارے لیئے نہیں ہے پی کو ۔ یہ تو چڑیوں اور چوہیوں کے لیئے ہے “۔
پی کو آنکھیں مٹکا کر بولا ۔ ” کوئی بات نہیں ہے ۔ نہ سہی ۔ تمھاری مرضی “۔
اس نے اپنا تھیلا واپس اپنے کندھے پر رکھا تو بلی کو کچھ شرم سی آئی ۔ وہ اس کا دِل رکھنے کے لیئے پوچھنے لگی ۔
” کہاں آئے تھے پی کو “؟
” نہر کے کنارے ۔ دکان کا سامان جمع کرنے “۔
” پھر ؟ لے لیا “؟
” ہاں “۔
” اب کہاں جاؤ گے “؟
” کہیں نہیں ۔ اپنی دکان پر ہی جاؤں گا ۔ تم میلے میں تو آنے دیتی نہیں ہو “۔
” پی کو بھائی “۔ بلی نے ڈھول گلے میں سے اتار کر زمین پر رکھا ۔ ” میرے بس کی بات ہو تو میں تمھیں ہاتھ پکڑ کر میلے میں گھما لاؤں ۔ مگر بات یہ ہے کہ تمھارے جیسے لڑکوں کو دیکھ کر پریاں اپنا ناچ بھول جاتی ہیں ۔ اور بونے جادو کرتے کرتے گڑبڑا جاتے ہیں”۔
” میں انہیں کچھ کہوں گا تھوڑا ہی “۔ پی کو مچل کر بولا ۔
” ضد نہ کرو ۔ دیکھو ۔ یہ میلہ دس دن تک جنگل میں رہے گا ۔ جتنے بھی پیسے جمع ہوں گے وہ بیمار پرندوں اور چھوٹے چھوٹے جانوروں کے ہسپتال میں علاج کے لیئے دیئے جایئں گے ۔ اور ایک ایمبولینس خریدی جائے گی “۔
” تم روز یونہی ڈھول بجا بجا کر شور مچاؤ گی “؟
” ہاں ۔ مجھے یہی کام دیا گیا ہے ۔ اس لیئے کر رہی ہوں ۔”۔ مانو بلی نے سوکھا سا منہ بنایا ۔ پھر اچانک کچھ سوچ کر بولی ۔ ” کچھ مدد تم بھی کر سکتے ہو “؟
” روپیہ دوں “؟ پی کو نے پوچھا ۔
” جیسی تمھاری مرضی “۔
“جوتے بھیج دوں “؟
” جو چاہو بھیج دو “۔
پی کو نے تھوڑی دیر کے لیئے اپنے ذہن پر زور دیا ۔ پھر چٹکی بجا کر بولا ۔ ” ضرور ۔ میں ضرور تمھاری مدد کروں گا ۔ تم فکر مت کرو ۔ مانو بلی “۔
اس نے جھٹ پٹ اپنا تھیلا سنبھالا اور چلنے ہی کو تھا کہ بلی جھجکتے ہوئے بولی ۔
” ایک بات سنو پی کو “۔
” کہو “۔
” مجھے جوتے چاہیئں “۔ بلی رک رک کر بولی ۔
” کیسے “؟
“مور پنکھ جیسے “۔
” جب چاہو لے لو ۔ آج ہی دے دوں ۔ ابھی “؟
” ابھی نہیں ۔ ابھی تو ڈھول بجا بجا کر اعلان کرنا ہے ۔ میں رات کو آؤں گی “۔
” اچھا بلی بہن ۔ دکان تمھاری اپنی ہے ۔ جب چاہو آؤ ۔ جب چاہو جاؤ “۔
” ہائے ۔ پی کو ۔ تم کتنے اچھے ہو “۔
پی کو خوش ہو گیا ۔ اس نے اپنے کوٹ کی جیبیں ٹٹول کر ایک ٹافی بلی کے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ۔ ” ممانو بلی ۔ یہ ایک ہی بچی تھی ۔ تم کھالو “۔
بلی مزے سے ٹافی کھاتے کھاتے بولی ۔ ” جوتے تیار رکھنا ۔ میں رات کو آؤں گی “۔
“ضرور “۔ پی کو آگے بڑھ گےا تو بلی پھول نگر کے میلے کا اعلان کرتے کرتے دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ کوئی جوتے بنانا تو پی کو سے سیکھے ۔ اِتنے نرم ۔ اِتنے ملائم اور اِتنے ہلکے جیسے جوتے نہیں پیروں میں پھول پہن رکھے ہوں ۔ چلو تو بے آواز ۔ بھاگو تو تیز رفتار اور اتارو تو شیشے کی طرح پھسل کر ہاتھ میں آ جایئں ۔ نہ پاؤں میں لگیں ۔ نہ پاؤں تھکیں ۔ نہ انگلیاں سوجیں ۔ نہ چھالے پڑیں ۔
پھر وہ ایک دم جیسے نیند سے چونک اٹھی ۔ جھٹ آنکھیں بند کر کے ڈھول بجانے لگی ۔ کڑم ۔ دھم ۔ دھڑم ۔ دھم ۔ آؤ ۔ آؤ ۔ جلدی آؤ ۔ بچوں کو ساتھ لے کر آؤ ۔ پھول نگر کا میلہ دیکھو ۔ ناچ دیکھع ۔ جادو دیکھو ۔ پری زادوں کے کرتب دیکھو ۔ آؤ ۔ آؤ ۔ آؤ ۔
ذرا سی دیر ڈھول پیٹنے کے بعد پھر ایک دم اسے پی کو کا خیال آ گیا ۔ اپنے آپ سے ہی کہنے لگی ۔ پی کو ہے بھی تو کتنا اچھا ۔ چھوٹا سا لڑکا ہے ۔ مگر بہت ہی پیارا ۔ اِدھر سورج نے جھانک کر سر اٹھایا ۔ ادھر وہ بستر سے باہر نکلا ۔ منہ ہاتھ دھو کر چائے پی اور پھر بیٹھ گیا جوتے سینے ۔ گیلے گیلے نوکیلے پتوں اور نرم نرم گھاس کو ٹھونک پیٹ کر ایسی شکل بناتا ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے ۔ اپنی بات کا بھی بڑا پکا ہے ۔ اور میٹھا تو اِتنا ہے کہ باتوں باتوں میں گاہک کا دل ہی اڑا لیتا ہے ۔ سبھی کہتے ہیں کہ اس کے جوتوں کا تو کیا ، باتوں ہی کا مول نہیں ۔
ٹافی ختم ہو چکی تھی اس لیئے اپنی مونچھیں چاٹتے ہوئے اسے پی کو پر اتنا پیار آیا کہ اس نے ہر گزرنے والی چڑیا اور گلہری سے کہہ دیا کہ میلے میں آنے کے لیئے پی کو سے جوتے خرید کر پہنیں تاکہ وہ امیر ہو جائے اور پھر اس میلے کے لیئے روپے بھجوائے ۔
بلی کے پاس سے رخصت ہو کر پی کو نے جلدی جلدی قدم بڑھائے اور اپنی دکان کھولی ۔ کندھے پر سے گھاس اور پتیوں کا تھیلا اتار کر ایک کونے میں رکھا اور پھر جھاڑن لے کر شیشے کی اونچی اونچی الماریوں پر جمی ہوئی گرد جھاڑ کر صاف کی ۔ خوب صورت ڈبوں کو قرینے سے سجایا ۔ ڈبے باندھنے کے سرخ فیتے کی چرخی کو دیوار پر کیل کے سہارے لٹکایا ۔ آئینہ لگی دیواروں کو رگڑ رگڑ کر چمکایا ۔ دکان کے بیچوں بیچ رکھی ہوئی چمکدار گول میز پر سرخ اور سنہری تیرتی ہوئی مچھلیوں کے مرتبان میں تازہ پانی ڈالا ۔ نازک نازک جھولے جیسی جھولتی ہوئی کرسیوں کو ایک قطار میں رکھا اور پھر دکان کے دروازے پر پھیلی ہوئی چنبیلی کی بیل میں سے کچھ پھول توڑ کر ایک الماری پر رکھے ہوئے گلدان میں سجا دیئے ۔
وہ اپنے کام میں محو تھا ۔ اسے صرف یہی خیال تھا کہ کسی طرح بلی کو مور پنکھ کے جوتے پہنچا دیئے جائیں اس لیئے اس نے بہت جلدی سب کام ختم کیئے ۔ دکان میں ہر طرف جوتے ہی جوتے رکھے ہوئے تھے ۔ بوڑھے خرگوشوں کے لیئے گھٹنوں تک لمبے بوٹ ، خوب صورت بلیوں کے لیئے مخمل کے پھولوں کی عنابی گرگابیاں ، حسین خرگوشنیوں کے لیئے پھندنوں دار بے آواز پنکھڑیوں کی سلیپریں اور چپلیاں ، گلہریوں کے بچوں کے لیئے ستارے ٹکے کلیوں کے بوٹ ۔
اس نے اپنا کام ختم کر کے دروازے پر گری ہوئی چق ایک رسی سے باندھ کر اونچی کی تو ایک دم چوں چوں کی آواز سنائی دی ۔

” پی کو ۔ پی کو “۔
اس نے فورآ مڑ کر دیکھا ۔ ایک لالی سرخ سرخ کپڑے پہنے کھڑی تھی ۔ ” میرے ناپ کے جوتے ہونگے “؟
سردی ہو چلی تھی اور لالی بچاری ننگے پاؤں کھڑی ٹھنڈ میں سکڑ رہی تھی ۔ تھر تھر کانپ بھی رہی تھی ۔ اِس لیئے اس کی آواز بھی کانپتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی ۔
” جوتے ۔ دو گے ؟ پی کو ” وہ بڑی مشکل سے بولی ۔
” کیوں نہیں ۔ لالی بیگم ۔ آپ تشریف رکھیئے “۔ اس نے ایک اسٹول آگے بڑھایا ۔ اور لالی اچک کر اس پر ٹِک گئی ۔
” ذرا جلدی “۔
” ابھی لیجیئے ۔ بہت جلدی “۔
وہ دکان میں رکھی ہوئی لکڑی کی سیڑھیاں کھٹا کھٹ چڑھ کر چھت سے لگی ہوئی الماریاں جھانک کر ایک چھوٹی سی ڈبیا اٹھا لایا ۔ اس کی گرد پھونک مار کر اڑاتے ہوئے بولا ” بہترین کام ۔ کم دام ۔ پسند آئے تو دیجئے انعام ۔ اور یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کو میرا کام پسند ہی نہ آئے “۔
اس نے لالی کے پنجوں میں کپاس کے نرم نرم پھولوں کے روئیں اٹکا دیئے ۔
کہاں تو لالی غریب ٹھنڈ میں ٹھٹھر رہی تھی جوتوں کی گرمی جو پہنچی تو ایک دم خوش ہو گئی ۔ ” اللہ تمھارا بھلا کرے۔ جواب نہیں ہے تمھارے کام کا ۔ خوش رہو پی کو ۔ کتنے دام “؟
اس نے چونچ سے اپنا بٹوہ کھول کر پیسے ٹٹولے ۔
” نہ ۔ نہ “۔ پی کو نے اس کو روک دیا ۔ ” قیمت جو چاہے پھول نگر کے میلے میں جو سرخ ڈبہ رکھا ہے اس میں ڈال دینا “۔
” اچھا “۔ لالی نے بٹوہ بند کر دیا ۔
” بے ایمانی مت کرنا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مفت میں جوتے پہن کر بھاگ جاؤ “۔
” لو ۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے ؟ تم فکر مت کرو “۔
” اچھا ۔ خدا حافظ “۔

لالی پھر سے اڑ گئی ۔ پی کو کھلکھلا اٹھا ۔ پھر شام کی ہلکی ہلکی دھوپ میں اپنی دکان کے سامنے گھاس پر بوریا بچھا کر جوتے سینے اور گیت گانے لگا ۔
ٹھک ٹھک کرتا جاتا ہوں
گیت خوشی کے گاتا ہوں

پریاں پہنیں ، چڑیاں پہنیں
بلیاں اور گلہریاں پہنیں

جو پہنے سج جائے
پھر بھی لینے آئے
میرے جوتے نرم گرم

” بھائی پی کو ۔ ایک جوڑی جوتے “۔
اس نے ٹھٹھک کر دیکھا ۔ بوڑھا خرگوش پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکرا رہا تھا ۔
” آیئے ۔ آیئے ۔ تشریف لایئے “۔ وہ ایک دم اٹھا ۔
” سفید جوتے “۔
” کیسے “؟
” کنول کے “۔
” خوب ۔ بہت خوب “۔ پی کو جھپاک سے دکان میں گھسا ۔ ایک ڈبہ جھاڑتا پونچھتا لے آیا ۔ پھر آرام کرسی گھسیٹ کر خرگوش کو بٹھاتے ہوئے بولا ” عالی جناب ۔ برف میں بھاگیئے یا پانی پر چلیئے ۔ یا ہوا میں تیرنے کی کوشش کیجیئے ۔ ایک بار خرید کر دوبارہ خود بخود میرے پاس چلے آئیں گے آپ ۔ کبھی کوئی شکایت نہ ہوگی “۔
خرگوش نے عینک کے شیشوں میں سے جھانک کر دیکھا ۔ پی کو کا خوب صورت چہرہ ۔ روشن آنکھیں اور بھولا بھالا نقشہ دیکھ کر خوش ہو گیا ۔
” ناپ تو بالکل ٹھیک ہے ۔ یوں پورا آیا ہے جیسے آپ ہی کے لیئے بنایا گیا تھا ۔ لایئے ڈبے میں بند کر دوں “۔
” نہیں نہیں ۔ رہنے دو پی کو ۔ میں نئے جوتے پہن کر ہی دکان سے باہر جاؤں گا ۔ پرانے کہیں پھینک دو ۔ دام “؟
پی کو خرگوش کو جوتے پہناتے پہناتے اٹھ کر کھڑا ہوا ۔ پھر اپنا کالر درست کرتے ہوئے بولا ۔ ” دام میں نہیں لوں گا “۔
” کیوں “؟ خرگوش حیران ہو گیا ۔
” پھول نگر کے میلے میں مانو بلی کے ڈبے میں اس جوتےکی قیمت ڈال دیجیئے گا ۔”۔
” یہ کیا بات ہوئی بھلا “۔ خرگوش اپنے کوٹ کی جیبیں ٹٹول رہا تھا ۔
” جی ہاں ۔ یہ آپ کے ایمان کا اِمتحان ہے “۔
” بہت اچھا ۔ ضرور اِمتحان لیجیئے ۔ میں پورا اتروں گا ۔ خدا حافظ “۔
خرگوش اپنی چھتری گھماتا ہوا چلا گیا تو پی کو پھر اپنے الٹ پلٹ کیئے ہوئے جوتوں کو سنوارتے ہوئے گنگنانے لگا ۔
دائیں ۔ بائیں ۔ دائیں ۔ بائیں
آگے پیچھے چلتے جاؤ
بھاگو ۔ ناچو یا رک جاؤ ۔
چٹانوں پر چڑھتے جاؤ ۔
کبھی نہ ٹوٹیں ۔ کبھی نہ کاٹیں ۔
میرے جوتے نرم ۔ گرم ۔
” پی کو “۔
ایک باریک سی آواز آئی ۔ چک ۔ چک ۔ چک ۔
پی کو نے دروازے میں سے جھانک کر دیکھا ۔ ایک کالی چوہیا رنگین چھتری سنبھالے کھڑی تھی ۔
” او ہو میم صاحب ۔ کیا ٹھاٹ ہیں ۔آؤ ۔ آؤ ۔ آگے آ جاؤ “۔
” جوتے “۔ چوہیا منمنائی ۔ اس کی مونچھیں سرک رہی تھیں ۔
” لو ۔ ابھی لو ۔ کیسے دوں “؟
” کھٹ کھٹ کرنے والے ۔ “۔ چوہیا بغل میں چھتری دبا اچھل کر اِسٹول پر چڑھ بیٹھی ۔

” فرسٹ کلاس ۔ بڑھیا کام ۔ بالکل مفت میں “۔
اپنے کندھے پر پڑے ہوئے جھاڑن سے صاف کر کے اُس نے چوہیا کے پیروں میں چھیلی ہوئی جامن کی گٹھلیاں پہنا دیں ۔
” ذرا چل کر دیکھیئے “۔
چوہیا مٹک مٹک کر دیوار میں لگے آئینے میں دیکھنے لگی ۔
” کیسی ہے “؟
” بو ۔ ہت ۔ آ ۔ چھی “۔
” آج کہاں جا رہی ہو “؟ پی کو شرارت سے اُس کے پھول دار فراک ، گلے میں پڑی ہوئی چاندی کی زنجیر اور سر پر رکھے ہوئے بڑے سے ہیٹ کے لٹکتے رِبن اور کالی کلائیوں میں پڑی چاندی کی چوڑیاں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
” میں “؟ چک ۔ چک ۔ چک ۔ چوہیا ہنسی ۔
“ضرور میلے میں جا رہی ہوگی “ِ
” ہاں “۔
” بس تو میرا کام بھی کرتی آنا ۔ اِس جوتے کے دام مانو بلی کے سُرخ ڈبے میں ڈال دینا “۔
” ضرور “۔ چوہیا کُھٹ کُھٹ کرتی دُکان سے باہر چلی تو پی کو نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہا ” وعدہ رہا نہ “؟
” پکا وعدہ “۔
” دیکھو ۔ جب بھی وعدہ کرو ضرور پُورا کرو یا پھر وعدہ ہی مت کرو “۔
” ارے نہیں ۔ نہیں ۔ پی کو ۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمھارے جُوتے کے دام ڈبے میں ضرور ڈالوں گی “۔
پھر وہ اپنی جامن کی گٹھلیوں کی ایڑیاں کھٹ کھٹاتی چلی گئی تو پی کو جی بھر کر ہنسا اور اُونچی آواز میں گانے لگا ۔
کام سے میں نہیں تھکتا ہوں
دن بھر کرتا رہتا ہوں

پھر بھی جُوتے سیتا ہوں
اور خوشی سے جیتا ہوں

میرا کام ہے جُوتے سینا
جُوتے سینا اور خُوش رہنا

آؤ بھائی ۔ آؤ بھائی
آ کر پہنو میرے بھائی

میرے جُوتے نرم ۔ گرم

بیٹھے بیٹھے بُہت شام ہو گئی ۔ مگر نہ گیت ختم ہوا نہ کام ۔ سردی بڑھ گئی تھی اِس لیئے اُس نے دُکان کے باہر ہی انگیٹھی سلگائی ۔ چائے بنائی ۔ پھونکیں اُڑا اُڑا کر گرم گرم چائے پی ۔ پھر دُکان کے فرش پر بوریا بچھا کر دُھندلا لیمپ روشن کرکے جُوتے سینے لگا اور سیتے سیتے ہی نہ معلوم کب جُوتوں پر ہی سر رکھ کر سو گیا ۔
آدھی رات کو جب چودھویں کا چاند آسمان پر جگ مگ کر رہا تھا اور چاندنی میں ہر چیز بڑی صاف ، بڑی ہی شفاف نظر آ رہی تھی تو ریشم پری پتھریلے راستوں پر بچ بچ کر قدم رکھتی ہوئی اُس کی دُکان کی طرف آئی ۔ سر سے پاؤں تک اُس نے سنہری ریشم کا نرم نرم لباس پہن رکھا تھا ۔ اُس کے گھونگریالے بھورے بال شانوں تک گرے تھے جن میں چھوٹے چھوٹے پھول بھی سجے ہوئے تھے ۔ لیکن وہ ننگے پاؤں ہونے کی وجہ سے بہت پریشان نظر آ رہی تھی ۔ اُسے ایسے جُوتے چاہیئے تھے جنھیں پہن کر وہ رات بھر پھول نگر کے میلے میں پریوں کے ساتھ مل کر ناچ سکتی ۔ دِن بھر وہ جگہ جگہ پوچھتی پھر رہی تھی مگر کوئی بھی اُسے ایک دِن میں جُوتے تیار کر کے دینے پر آمادہ نہ ہوتا تھا ۔
بڑی اُداس صورت لیئے اُس نے پی کو کی دُکان کا دروازہ آہستہ سے کھولا ۔ پھر جِھری میں سے جھانک کر دیکھا ۔ وہ بڑے مزے سے جُوتیوں کے ڈھیر پر اپنا سر رکے ، کوٹ کا کالر کانوں تک چڑھائے اپنے گھٹنے پیٹ سے چِپکائے سو رہا تھا ۔
ریشم پری دبے پاؤں آگے بڑھی ۔ دروازہ ذرہ سا چرچرایا تو ٹھٹک کر رہ گئی ۔ لیکن پھر اُس نے بڑی ہمت سے اپنا جھالر لگا سرسراتا ریشمی لباس چٹکیوں میں سنبھالا اور ساری دُکان میں ربڑ کی گڑیا کی طرح گھومنے لگی ۔
ہزاروں ہی جُوتے اُس کے سامنے پڑے تھے ۔ پیپل کے پتوں کی انگوٹھے دار چپلیاں ۔ کشتی نُما کھجور کی گٹھلیوں کی وصلیاں ۔ آم کی تراشی ہوئی گٹھلیوں کی آئینوں بھری جگ مگ کرتی سلیم شاہی ۔ مچھلی کے چھلکوں کی ستاروں جڑی پوٹھوہاری ۔ سیپ کے چمک دار بُوٹ ۔ موتیوں ٹکی جھم جھماتی شبنمی سلیپریں ۔ سُرخ مخمل کے پھولوں کی گرگابیاں جن پر زرد چنبیلی اور مولسری کے چھینٹے دیئے ہوئے تھے ۔
اُس نے دُکان میں ایک طرف رکھے ہوئے اِسٹول کو آگے سرکایا اور اِطمینان سے بیٹھ کر جلتے ہوئے لیمپ کی دُھندلی دُھندلی روشنی میں ہر جُوتے کو پہن کر دیکھا ۔ سبھی اتنے خوب صورت ، اِتنے آرام دہ تھے کہ وہ چکرا گئی ۔ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے ۔ کسے اُٹھائے اور کسے چھوڑے ۔ اُس کا جی تو یہی چاہتا تھا کہ وہ ہر جُوتی کا جوڑا اُٹھا کر لے جائے ۔ پھر سوچتے سوچتے جب اُس نے ایک شیشے کی اُونچی الماری سے ہٹ کر ذرا فاصلے پر کھڑکی میں رکھی ہوئی مور پنکھ کی جُوتیاں دیکھیں تو مارے خوشی کے کھل اُٹھی ۔ ” ہائے ۔ کتنی خوب صورت جُوتی ہے “۔
اُس نے دِل ہی دِل میں سوچا ۔ ” آج میں جی بھر کر ناچوں گی ۔ بس اب مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے “۔
جھٹ پٹ فیصلہ کرتے ہی اُس نے مور پنکھ پہن لی۔ اور اپنے گلے میں سے موتیوں کی مالا ٹٹول کر چڑیا کےانڈے برابر ایک چمکتا دمکتا موتی توڑ کر کھڑکی میں رکھ دیا اور اٹھلاتی کودتی باہر نکل آئی ۔
پی کو کو خبر ہی نہ ہوئی کہ کون آیا ۔ کون گیا ۔ وہ تو سوتا ہی رہا ۔

رات بھر ریشم مزے مزے سے میلے میں ناچتی رہی ۔ نہ پاؤن تھکے ، نہ جُوتے گھِسے ۔ بس ناچتی رہی ۔ تھرکتی رہی ۔ اور مٹکتی ہی رہی ۔ سب پریاں حیران ہوتی رہیں ۔
آخرکار ستارہ پری سے صبر نہ ہو سکا ۔ اُس نے جھٹ ریشم کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ ” سچ بتاؤ ۔ تُم اِتنی اچھی جُوتی کہاں سے لایئں “۔
ریشم نے بڑے ناز سے ہنس کر ستارہ کے پیروں میں اٹکی ہوئی ایک بدنُما جُوتی کی طرف دیکھا جس کے تلے گِھس گِھس کر آدھے رہ گئے تھے ۔ اور وہ قریب قریب ننگے پاؤں ہو چلی تھی ۔ پھر اُس نے شرارت سے اپنا ہاتھ چُھڑایا ۔ ” یہ نہ بتاؤں گی “۔
ستارہ پریشان ہو گئی ۔ ” میں ضرور پُوچھوں گی ۔ چھوڑوں گی نہیں ۔ جلدی بتاؤ “۔
” کبھی نہیں ۔ کبھی بھی نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے “۔
ستارہ نے لپک کر ریشم کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا ۔پھر اُس کو گدگدی کرتے ہوئے کہنے لگی ۔ ” بتاؤ ۔ اب بتاؤ ۔ میں جانے تو نہیں دوں گی ۔ یُونہی گدگدا گدگدا کر تنگ کروں گی “۔
” چھوڑو ۔ چھوڑو ۔ ہائے ۔ ابھی بتاتی ہوں “۔ ریشم کھلکھلائی ۔
” پھر جلدی بتاؤ “۔
” پی کو ۔ ارے بابا ۔ پی کو کی دُکان سے ۔ اور کہاں سے “۔ ریشم نے جلدی سے اپنا پیچھا چُھڑایا ۔ اور دُور بھاگی ۔
” مجے بھی لے چلو “۔
” کیا دو گی “۔
” جو کہو گی “۔
” اپنا جادو کا باجا مجھے دو گی “؟
” لے لینا ۔ مگر اپنے جیسی اچھی سی جُوتی دِلوادو “۔
” ابھی تو صبح ہو رہی ہے ۔ دیکھو سورج نکلنے والا ہے ۔ کل رات کو تُم میرے ساتھ جا سکتی ہو “۔
بڑی دیر تک وہ دونوں صلاح مشورے کرتی رہیں ۔ اور پھر اِدھر سورج آسمان پر چمکا ۔ اُدھر دونوں نے آنچل میں منہ چُھپایا اور کھلے پھولوں میں سمٹ گئیں ۔ اور پی کو آنکھیں ملتا ہوا جُوتیوں کے ڈھیر پر سے اُٹھا ۔
اُسے اپنے کام میں خیال ہی نہ آیا کہ مورپنکھ کی جُوتی غائب ہے ۔ اُس نے ہمیشہ کی طرح اُٹھ کر دُکان میں رکھی ہوئی ہر چیز کو جھاڑ پونچھ کر صاف کیا ۔ پھر منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدلے ۔ چائے پی ۔ اور کاروبار میں لگ گیا ۔
اِدھر دوپہر ہوئی ۔ اُدھر مانو بلی میاؤں میاؤں کرتی آئی ۔ ” پی کو ۔ جُوتے “۔
” اوہو ۔ آ گئیں ۔ میں نے کل ہی تمھارے لئے بڑے اچھے جُوتے بنا دیئے تھے “۔ اُس نے ٹین کی سُرخ کُرسی آگے بڑھائی اور بلی اپنا کوٹ سنبھالتی ہوئی آرام سے بیٹھ کر خُرخُرائی ۔
” پی کو ۔ کل اِتنی چِڑیوں اور گِلہریوں نے میرے ڈبے میں تمھاری جُوتیوں کے دام بھرے کہ میں حیران رہ گئی “۔
” سچ “؟ وہ الماریاں اور ڈبے گھسیٹتا پٹختا مورپنکھ ڈھونڈتے ہوئے بولا ۔
” بالکل سچ ۔ میں تمھیں اپنا ڈبہ لا کر دکھاؤں گی “۔
” ضرور “۔ پی کو نے کھٹا کھٹ سیڑھیاں چڑھ کر سبھی الماریاں چھان ماریں ۔
” دیر کیوں کر رہے ہو ۔ لاؤ نا ۔ میری جُوتی دو “۔
” مانو بلی “۔ وہ اُوپر کھڑے کھڑے کان کُھجا کر کُچھ سوچتے ہوئے بولا ۔
” ہاں ۔ کہو ۔”۔
“تمھاری جُوتی تو میں نے کل ہی تیار کر کےرکھی تھی مگر اِس وقت معلوم نہیں کہاں گئی “۔
” کِسی کو دے تو نہیں دی “؟
” بھلا ایسے کبھی ہو سکتا ہے ۔ تمھاری چیز کِسی اور کو کبھی دی جا سکتی ہی نہیں “۔
” تو پھر ڈھونڈ لو ۔ یہاں ہی رکھ کر بھول گئے ہو گے “۔
” رکھی تو یہاں ہی تھی “۔ وہ سیڑھیوں سے نیچے اُتر کر الماریاں دوبارہ جھانکنے لگا ۔
” پھر تم ڈھونڈ کر رکھ لینا پی کو ۔ میں کل آؤں گی “۔
” ذرا سی دیر اور ٹھہر جاؤ “۔
” نہیں ۔ میں رُک نہیں سکتی ۔ کیونکہ مجھے میلے کا اعلان بھی تو کرنا ہے “۔ وہ کُرسی پر سے کُود کر زمین پر آ گئی ۔
“ڈھول بجاؤ گی “؟ پی کو ہنس کر بولا ۔
” ہنستے کیوں ہو پی کو ؟ ڈھول کی آواز تمھیں اچھی نہیں لگتی کیا “؟
” ہوں ۔ کہاں گئی آخر “۔ وہ اپنی پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پھر سے اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہوئے مورپنکھ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ بلی کی بات سُن کر جھٹ بولا ۔ ” ہاں ہاں ۔ کیوں نہیں ۔ تُم اِتنے زوروں میں بجاؤ گی تو کیا مجھے ڈھول کی آواز اچھی نہیں لگے گی ۔ لو اور سُنو “۔
بلی خوشی خوشی باہر چلی گئی ۔ پھر وہیں سے چلائی ۔ ” پی کو ۔ میری جُوتی ڈھونڈ کر رکھنا “۔
” ضرور “۔
” بھولنا مت “۔
” نہیں نہیں ۔ تم کل ضرور لے لینا “۔
بلی کے اوجھل ہو جانے کے بعد پی کو نے دُکان کا ایک ایک کونہ چھان مارا ۔ نہ ڈبہ نظر آیا نہ جُوتی ۔اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا جب وہ کھڑکی کے قریب پنہچا تو انڈے برابر موتی جگ مگ کر رہا تھا ۔
” یہ کیا ہے “؟ اُس نے حیرانی سے موتی کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا اور واپس رکھ دیا ۔
فرش پر رکھی ہوئی جُوتیوں کو قرینے سے رکھتے ہوئے پھر اُسے خیال آیا ۔ ” یہ آیا کہاں سے “؟ کون لایا “؟ کب “؟
اُس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آ سکا ۔ پھر وہ سوچنے لگا کہ جُوتی آخر گئی کہاں ؟ میں نے تو ۔ اب یاد آیا ۔ اِس کھڑکی میں رکھی تھی ۔”۔
” لالی لے گئی۔؟ نہ “۔
” بوڑھا خرگوش لے گیا ؟ ہرگز نہیں ۔ اُس کے کام کی تو تھی ہی نہیں “۔
” چوہیا لے گئی ؟ مگر ۔ اُس کو تو جامن کی گٹھلیاں میں نے خود پہنائی تھیں “۔
“پھر ؟ یہ موتی کہاں سے آیا “؟
اُس نے سب کام چھوڑ کر موتی ایک بار پھر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر دیکھا اور پھر غصے میں آکر کھڑکی سے باہر پھینک دیا ۔ کچھ بھی ہو ۔ میں اِسے اپنی دُکان میں کبھی نہیں رکھوں گا ۔ جُوتی کھو گئی تو پھر کیا ہے ۔ اور بن جائے گی ۔
چنانچہ اُس نے دِن بھر کی محنت سے دھوپ میں بیٹھ کر دو جوڑی نفیس اور نہایت نازک مورپنکھ تیار کیئے اور شام کو جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر اُٹھا تو جتنا تھکا ہوا تھا اُتنا ہی خوش بھی تھا کہ اِتنے خوب صورت جُوتے تیار کیئے ہیں ۔ جب ذرا شام ڈھلی تو اُس نے روزانہ کی طرح گرم گرم چائے کی پیالی پی ۔ بُھربُھرے بسکٹ کھائے اور دُکان میں لیمپ روشن کر کے الماریوں اور کُرسیوں کے وسط میں جُوتے سینے بیٹھ گیا ۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ زیادہ دیر تک کام نہ کر سکا ۔ دِن بھر کا تھکا ہاراتو تھا ہی ۔ جُوتوں کے ڈھیر پر اونگھتے اونگھتے گر گیا اور گہری نیند میں غافل ہو گیا ۔
رات زیادہ گزر چلی تو ریشم اور ستارہ دبے پاؤں کھنکھناتی مسکراتی چلتی چلی آیئں ۔ اُس رات اُن کو جُوتے ڈھونڈنے میں دیر نہ لگی کیونکہ جہاں پی کو سو رہا تھا وہیں زمین پر مورپنکھ کے دونوں جوڑے رکھے تھے ۔
ستارہ نے بڑی خاموشی سے ایک تو خود پہن لیا اور دوسرا ڈبے میں رکھ کر سُرخ فیتے سے باندھ کر اپنے ہاتھ میں سنبھال لیا ۔ پھر سرگوشی میں کہنے لگی ” ریشم ۔ میں یہ دوسری جُوتی چاندنی کے لیئے لے جا رہی ہوں “۔
ریشم نے منہ سے تو کچھ نہ کہا صرف سر ہلا دیا ۔ اور پھر ستارہ نے اپنے گلے میں پڑی ہوئی مالا میں سے دو چمک دار ہیرے توڑ کر الماری کے اُوپر رکھ دیئے۔

اُس رات ناچ میں بڑی رونق تھی ۔ مینڈک بینڈ بجا رہے تھے اور چڑیاں راگ گا رہی تھیں ۔ ننھے ننھے بُھتنے پریڈ کر رہے تھے ۔ سفید داڑھیوں والے بونے تکونی ٹوپیاں پہنے موٹر سائیکل کے کرتب دکھا رہے تھے ۔رنگ برنگ پُھلجڑیوں کی روشنی میں پریاں ہاتھ پکڑےناچ رہی تھیں ۔
چاندنی نے جو اپنے نئے جُوتے دیکھے تو خوشی سے چمک اُٹھی ۔ ” ہائے ستارہ ۔ تم کتنی اچھی ہو ۔ کہاں سے لائیں ۔ “؟
” پسند ہیں ۔”؟
” کیوں نہیں ۔ ہائے کتنے اچھے جُوتے ہیں “۔
” بس تو پھر پہن لو “۔
چاندنی جھٹ پٹ اپنے نئے جُوتے پہن کر ستارہ کا ہاتھ پکڑتی ہوئی پریوں کے جُھرمٹ میں چلی گئی ۔
تینوں پریاں رات بھر ناچتی رہیں ۔تھرکتی رہیں ۔ مٹکتی رہیں ۔ اُن کے پیروں میں پی کو کی بنائی ہوئی جُوتیاں چمکتی رہیں ۔
آخر کار جب صبح ہونے کو آئی تو سُنبل پری اُن تینوں سے خفا ہو گئی ۔ کہنے لگی ” ریشم ۔ ستارہ ۔ ایسا بھی کیا کہ تم خود تو اچھی اچھی جُوتیاں پہن کر آجاتی ہو ۔ خوب خوب ناچتی ہو اور ہم بےچاریاں یونہی ننگے پاؤں توڑتی رہتی ہیں ۔ کل سے ہم نہ تو میلے میں آئیں گی اور نہ ناچ میں شریک ہوں گی “۔
” ہائے ۔ یوں تو نہ کہو “۔ ریشم نے آرام سے کہا ۔
” اِتنی خودغرضی مت کیا کرو نا ۔ ہمیں بھی اپنے جیسے جُوتے لے کر دو “۔
ریشم ستارہ کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور شرارت سے آنکھیں جھپکنے لگی ۔
صنوبر پری اپنے زخمی پاؤں دیکھ کر بِسورنے لگی ۔” بھئی اگر تم سب جاؤ گی تو میرے لیئے بھی لانا “۔
” تم خود ہی ہمارے ساتھ چلی چلو ۔ اپنی پسند کے لے لینا “۔
” ضرور “۔
” میں بھی جاؤں گی “۔ جُگنو پری اپنے پیروں کے ٹوٹے ہوئے ناخُن دیکھ کر پریشان ہو رہی تھی ۔ اُس کے کپڑوں میں جُگنو ہی جُگنو چمک رہے تھے ۔ اور کلائیوں میں جُگنو کنگن کھنک رہے تھے ۔
” روتی کیوں ہو ؟ آج نہیں ۔ کل رات کو تم سب میلے میں آنے سے پہلے میرے ساتھ چلنا “۔ ریشم پری بڑے پیار سے بولی ۔
” ضرور ۔ ضرور “۔
سب پریوں نے مل کر وعدہ کیا ۔ اور پھر جب سورج ہنس کر اُونچا چڑھا تو جلدی جلدی اپنے سر جُھکا کر پھولوں میں چُھپ گئیں ۔
اپنی عادت کے مطابق پی کو صبح ہی صبح خوشی خوشی اُٹھا ۔ سب سے پہلے اُس نے اپنی بنائی ہوئی جُوتیوں کو دیکھا تو ٹھٹھک کر رہ گیا ۔ اُن میں سے ایک بھی اپنی جگہ پر موجود نہ تھی ۔ اُن کی بجائے الماری کے تختے پر دو ہیرے جگ مگ کر رہے تھے ۔
یہ بات اُس کو ذرا بھی پسند نہ آئی کہ اُس کے جُوتے تو غائب ہو جائیں اور اُن کی جگہ ہیرے موتی کھڑکیوں الماریوں کے اُوپر پڑے چمکتے رہیں ۔ اور وہ روزانہ مانو بلی سے اپنی وعدہ خلافی کے لیئے شرمندہ ہوتا رہے ۔
” میں ہرگز یہ ہیرے اپنی دُکان میں نہیں رکھوں گا “۔ اُس نے بڑی شان سے دونوں ہیرے اُٹھائے اور کھڑکی سے باہر پھینک دیئے۔ اور خود مانو بلی کے انتظار میں سُوکھا سا ننہ بنا کر اپنی دُکان سے باہر دھوپ میں بیٹھ گیا ۔
اُس دِن پی کو نے مارے شرم کے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ۔ نہ کنگھی کی ۔ نہ کپڑے بدلے ۔ بس منہ ہاتھ دھو کر جُوتیاں بنانے کی فکر کرنے لگا ۔
تھوڑی دیر بعد جب مانو بلی اُچھلتی کودتی آئی تو اُس نے بڑے دُکھ بھرے لہجے میں کہا ۔ ” بی بلی ۔ مجھے کل کی طرح آج بھی بہت شرم آ رہی ہے کہ میں تمھیں تمھاری جُوتیاں نہیں دے سکتا ۔ دراصل بات یہ ہے کہ کوئی روز رات کو میری دُکان میں جُوتے چوری کر کے لے جاتا ہے “۔
سچ کہو “۔ بلی کی آنکھیں مارے حیرانی کے کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
” میرا خیال تو یہی ہے “۔
” اور تم کیا کرتے ہو ؟ جب چور آتے ہیں تو آہٹ نہیں ہوتی کیا “؟
” میں ؟ یہی تو مشکل ہے کہ میں گہری نیند میں کسی کی آہٹ نہیں سُن سکتا “۔ پی کو پریشان ہو کر بولا ۔
” یہ تو بہت بڑی بات ہے “۔
” ہے تو سہی ۔ مگر تم فکر مت کرو ۔ مانو بلی میں چوروں کا پتہ ضرور لگاؤں گا ۔ اُنہیں چھوڑوں گا نہیں “۔
” مگر میں تو آج اسی اُمید پر آئی تھی کہ مجھے جُوتے مل جائیں گے “۔
میں نے تو کل ہی بنا دیئے تھے اور آج صبح “۔ وہ اور کچھ نہ کہہ سکا ۔
” اچھا پی کو ۔ میں کل آ جاؤں گی “۔
” ضرور “۔
” میرے جُوتے سنبھال کر رکھنا “۔
” مانو بلی ۔ ذرا ٹھہرو ۔ اگر تمھیں اتنی ہی جلدی ہے تو یہاں بیٹھ جاؤ ۔ میں شام تک جُوتے تیار کر دوں گا تو پہن کر چلی جانا “۔
بلی جاتے جاتے رُک گئی ۔ ” یہاں بیٹھ تو جاؤں پی کو ۔ مگر ۔ مجھے میلے کا اعلان بھی تو کرنا ہے ۔ پھر ڈبے میں جمع ہونے والے روپوں کی رکھوالی بھی کرنی ہوگی “۔ وہ سوچ میں پڑ گئی ۔ پھر جلدی سے بولی ۔ ” نہیں بھئی ۔ میں یہاں زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں سکتی “۔
” اچھا تو پھر کل آ جانا “۔
” اچھا “۔
بلی سر جُھکائے چلی گئی تو پی کو نے وہیں دُکان کے سامنے سبز گھاس کے میدان میں بیٹھ کر بڑی محنت سے چھ جوڑی جُوتے بنائے ۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ اُن جُوتوں کے تلوں میں بُہت سی گوند لگا دے گا جس سے پہننے والا چپک کر رہ جائے گا ۔ لیکن جب گوند لگانے کا وقت آیا تو وہ دن بھر کے کام سے تھک کر چُور ہو رہا تھا ۔ رات ہو چکی تھی اور وہ اپنی دُکان میں زمین پر بیٹھا بیٹھا ہی اُونگھنے لگا ۔
گوند کی بوتل ہاتھ میں پکڑے پکڑے ہی وہ ایسا بےحال ہوا کہ وہیں جُوتوں کے ڈھیر پر گر کر سو گیا ۔
آدھی رات کو آہستہ سے دروازہ پھر کھلا اور چھ پریاں کھلکھلاتی ۔ گدگداتی اُس کی دُکان میں گھس آئیں ۔ ہر پری نے جھلمل کرتے خوب صورت کپڑے پہن رکھے تھے ۔ اور اُن کے کھلے ہوئے پروں پر رنگین ستارے چمک رہے تھے ۔ وہ سب کی سب ننگے پاؤں آئی تھیں ۔ لیکن ذرا ہی دیر میں چھ کے چھ جوڑی جُوتے اُن کے نازک نازک پیروں میں سج اُٹھے ۔
سُنبل کے ساتھ کی سب پریاں اپنے اپنے گلے میں پڑی ہوئی مالا کے موتی توڑ کر کھڑکی میں رکھنے لگیں تو ریشم پری بولی ۔ ” ٹھہرو ۔ یہ معمولی موتی پی کو کو شاید پسند نہیں جبھی تو وہ روز اُنھیں کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے ۔ میں اُس کے ہر جُوتے پر شبنم ایسے ہیرے بکھیرتی ہوں جو کبھی سورج کی روشنی میں غائب نہ ہوں گے ۔ سدا چمکتے ہی جائیں گے “۔
یہ کہہ کر اُس نے اپنا ہاتھ ہلایا اور پی کو کی دُکان میں بکھرے ہوئے سبھی جُوتوں پر ننھے ننھے ہیرے بکھر گئے ۔
سُنبل پری نے خوش ہو کر اپنی جادو کی چھڑی ہلائی اور ساری کی ساری دُکان سونے چاندی کی دیواروں سے جگ مگ کرنے لگی ۔ ستارہ پری نے اپنے پیروں میں سے چمکتے ہوئے ستارے نچھاور کیئے ۔ جُگنو پری نے ہر طرف جُگنو ہی جُگنو برسائے ۔ اور جھلمل کرتے چراغ ٹمٹمانے لگے ۔
اندر باہر اُجالا ہی اُجالا ہو گیا ۔ لیکن پی کو سوتا ہی رہا ۔ پریاں غائب بھی ہو گئیں ۔
دوسرے دن جب اُس نے اپنی دُکان کی رُت ہی بدلی دیکھی تو مارے غصے کے اپنی دُکان چھوڑ کر باہر آ گیا ۔ اور گھاس پر بیٹھ کر دھنک کے سات رنگوں کے سات جوڑی جُوتے بنانے لگا ۔ جب بلی اُس کے پاس آئی تو بڑی تیزی میں کہنے لگا ۔ ” مانو بلی ۔ گھبراؤ نہیں ۔ آج میں اُن چوروں کو کہیں جانے نہ دوں گا ۔ تم کل ضرور ضرور اپنی جُوتی لے لینا “۔
اُس دن غضب کی سردی تھی ۔ دھوپ بھی نہیں نکلی تھی ۔ اس لیئے مانو بلی ٹھنڈ میں سُکڑتے ہوئے بولی ” پی کو ۔ دُکان میں کیوں نہیں بیٹھتے “؟
پی کو نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ بس جُوتے ہی سیتا رہا ۔ بلی دُکان کے چاروں طرف گھوم پھر کر آئی ۔ کہنے لگی ” پی کو ۔ دُکان میں تالا کیوں لگا دیا “؟
پی کو بدستور جواب دیئے بغیر اپنا کام کرتا رہا ۔ بلی نے دُکان کی بند کھڑکی کے شیشوں میں سے جھانک کر دیکھا ۔ پھر چلائی۔
” ارے پی کو ۔ تمھاری دُکان میں تو غضب کی جگ مگ ہو رہی ہے ۔ تم نے دیکھا “؟
” مانو بلی “۔ وہ غصے سے کہنے لگا ۔ ” مجھے تنگ مت کرو ۔ یہ دُکان میری نہیں ہے ۔ تم اپنے جُوتے کل لینے کے لیئے آ جانا “۔
” یہ دُکان تمھاری نہیں ہے “؟
” ہاں ۔ میری نہیں ہے “۔
” پھر کس کی ہے “؟
” بھئی ۔ میں نے کہا جو ہے کہ تم کل آ جانا “۔
” مگر ۔ یہ دُکان “۔
پی کو کچھ نہ بتا سکا ۔ منہ پُھلا کر اپنے جُوتوں پر جُھک گیا اور بلی تنگ آ کر چلی گئی ۔
دن بھر کی محنت سے سات جوڑی جُوتے تیار ہو گئے تو پی کو نے ہر جُوتے میں بڑی ہوشیاری سے گُھونگرو لگا دیئے ۔ پھر بڑے اطمینان سے دُکان کے باہر ہی ٹھنڈ میں سکڑتا سکڑتا جُوتوں کے ڈھیر پر سو گیا ۔
آدھی رات کو روزانہ کی طرح سات پریاںں جُوتے لینے کے لیئے بھاگی آئیں ۔
” ہائے ۔ آج دُکان کیوں بند ہے “؟ نیلم پری نے چاند کی اُجلی اُجلی چاندنی میں ریشم پری کا ہاتھ پکڑ کر بڑے افسوس سے کہا ۔ ” آج جُوتے نہیں ملیں گے “؟
” لیکن ۔ لیکن ۔ پی کو تو یہاں سو رہا ہے “۔ ستارہ پری نے آہستہ سے اُنھیں ہلایا ۔
” اور جُوتے بھی تیار ہیں “۔ سُنبل پری خوش ہو کر بولی ۔
” پی کو کتنا اچھا ہے ۔ بہت ہی اچھا ۔ ہمارا کتنا خیال رہتا ہے اُس کو “۔ سُرخ پری نے جھٹ پٹ جُوتے پہنے ۔ اور پھر جب سات پریاں سات جوڑی جُوتے پہن کر دھنک کے رنگ اُڑاتی چلیں تو چھنک ۔ چھن ۔ چھنک ۔ چھن ۔ گُھونگرو بج اُٹھے ۔ اور پی کو کی آنکھ کھل گئی ۔

پریاں ڈر کے مارے بھاگنے لگیں تو وہ ڈانٹ کر بولا ” ٹھہر جاؤ ”
پریوں کے پیر بندھ گئے ۔ ستاروں کی چھاؤں میں اُن سب کے چہرے ماند پڑ گئے ۔
” ایک۔ دو ۔ تین “۔ پی کو اُن سب کو قطار میں کھڑا کر کے گنتی گن رہا تھا ۔ ” چار ۔ پانچ ۔ چھ ۔ سات ۔ خوب ”
پریاں مارے گھبراہٹ کے اپنے پیروں میں سے جُوتے اُتارنے لگیں ۔
” تم سب روز میری دُکان میں سے جُوتے اُٹھا کر لے جاتی ہو ۔ مجھے تنگ کرتی ہو ۔ آج سزا بھگتو “۔
” کیا کرو گے ۔ پی کو “۔ ریشم پری نے بھولےپن سے پوچھا ۔
” تم سب کو اپنی دُکان میں بند کر دوں گا ۔ تمھاری چوری کی یہی سزا ہے “۔
” لیکن یہ چوری تو نہیں تھی ۔ اپنی کھڑکی میں دیکھو ۔ تمھارے جُوتوں کی قیمت رکھی ہے “۔
” میں کوئی ہیرے موتی نہیں جانتا ۔ تم سب نے مجھے بہت پریشان کیا ہے “۔
” مگر ہم تو تمھیں انعام دیتی رہی ہیں “۔ ستارہ پری رونے لگی ۔
” مجھے کسی کا انعام نہیں چاہیئے “۔
” کیوں “؟
” میں کسی کا احسان نہیں لینا چاہتا ۔ بس مجھے معاف ہی رکھو “۔
” یہ کوئی احسان تو نہ ہوا ۔ پی کو “۔ چاندنی منہ بنا کر بولی ۔
” میں اپنی غریبی میں ہی خوش ہوں ۔ اُٹھا لو اپنے ہیرے موتی “۔
” جگ مگ کرتے ہیرے بھی نہیں لو گے پی کو “۔
” نہیں “۔ وہ گرجا ۔
” سونے کی دُکان بھی نہیں لو گے “؟
” چُپ رہو ۔ بدتمیز “۔
” اتنے گرم کیوں ہوتے ہو پی کو ۔ تمھاری وہ میٹھی باتیں کیا ہوئیں “؟
پی کو ذرا سا نرم پڑ گیا ۔ بولا ۔ ” مانگ کر لے جاؤ چاہے ساری دُکان ہی لے لو ۔ مگر بغیر بتائے ایک چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دوں گا “۔
” پی کو ۔ ہم جائیں “؟
” ہرگز نہیں “۔ اُس نے جلدی جلدی سب پریوں کو دُکان میں جمع کیا اور باہر سے تالا لگا دیا ۔
” پی کو ۔ پی کو ۔ اچھے پی کو “۔ ایک ننھا پری زاد اپنے ہاتھ میں ستاروں کی مشعل لیے کھڑا تھا ۔ ” تم نے کہیں سات پریاں تو نہیں دیکھیں “؟
پی کو نے اُس پری زاد کی طرف دیکھا جس کی تکونی ٹوپی کی چونچ میں ایک گُھونگرو لٹک رہا تھا ۔
” نہیں “۔
” وہ آئی تو اسی طرف تھیں ۔ میں نے اُنہیں آتے دیکھا تھا “۔
” مجھے نہیں معلوم “۔
” جھوٹ کہتے ہو “۔ پری زاد دُکان کی طرف بڑھا ۔
” کہہ جو دیا مجھے نہیں معلوم ۔ پھر “؟
پری زاد دُکان کی طرف بڑھا تو رونے اور سسکیاں لینے کی آواز آئی ۔ اُس نے چونک کر دیکھا ۔ ریشم پری رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے چلائی ۔
” نورین ۔ ہمیں چُھڑاؤ “۔
نورین ہنس کر پی کو کے قریب آیا ۔ اُس کے شانے کو تھپک کر بولا ۔ ” پی کو ۔ دوست ۔ یہ پریاں ہیں جنھیں تم نے قید کر رکھا ہے ۔ پھول نگر کے میلے میں سب ان کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ناچ کو دیر ہو رہی ہے “۔
” ہونے دو “۔
” اچھے پی کو ۔ انھیں جادو آتا ہے ۔ یہ صرف تمھاری خوشی کے لیے رو رہی ہیں ۔ آنسو بہا رہی ہیں ۔ تمھیں معلوم بھی نہ ہوگا اور یہ خود بخود غائب ہو جائیں گی “۔
پی کو سوچ میں پڑ گیا ۔ آہستہ سے بولا ۔ ” پھر کیا کروں “؟
” انھیں اگر تم خود آزاد کر دو گے تو یہ خوش ہو جائیں گی “۔
” مگر میں انھیں آزاد نہیں کروں گا “۔
” ارے بھائی ۔ مجھے تالا لگا لو ۔ انھیں چھوڑ دو ۔ اچھے پی کو ۔ پیارے پی کو “۔
پی کو ہنس کر آگے بڑھا ۔ اپنا لیمپ روشن کر کے پریوں سے بولا ۔ ” نکلو چلو ۔ بھاگو یہاں سے “۔
پریوں نے پی کو کو گھیرے میں لے لیا ۔ خوش ہو کر اُس کے گرد دائرے میں ناچتی ہوئی دُکان سے باہر نکل گئیں ۔
نورین بولا ” دیکھا ۔ پی کو ۔ پریاں کتنی خوش تھیں ۔ تم ہو ہی بہت اچھے ۔ اور مجھے معلوم ہے یہ سب کی سب تمھیں یہاں چھوڑ کر نہیں جائیں گی ۔ پرستان میں تمھارے جیسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے ۔ چلو ہمارے ساتھ “۔
” اپنی دُکان چھوڑ کر کیسے جاؤں “؟
” ہم تمھیں یہاں رہنے نہیں دیں گے “۔
“لیکن ۔ ذرا سوچو تو “۔
” لیکن ویکن کچھ نہیں “۔ پری زاد نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اُڑا کر لے گیا ۔
دوسرے دن مانو بلی اپنا ڈبہ اُٹھائے پی کو کو میلے میں اُس کی جُوتیوں سے جمع کی ہوئی رقم دکھانے اور اپنی مورپنکھ کی جُوتیاں لینے آئی تو اُس کے ساتھ لالی ، بوڑھا خرگوش اور چوہیا بھی تھی ۔ وہ تینوں بھاگم بھاگ پہنچے تو دُکان خالی پڑی تھی اور پی کو کہیں بھی نہ تھا ۔
( ختم شد )
( یہ کہانی بچوں کے مشہور رسالے ماہنامہ تعلیم و تربیت لاہور کے شماروں بابت دسمبر 1967 اور جنوری 1968 میں دو قسطوں میں شائع ہوئی تھی اور اُنہی شماروں سے نقل کی گئی )

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: