Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 10

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 10

–**–**–

“میں اسجد سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تو شاپنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”امامہ نے مستحکم لہجے میں امی سے کہا۔سلمیٰ اسے اگلے روز اپنے ساتھ مارکٹ جانے کا کہنے کے لیے آئی تھیں۔
“پہلے تمہیں شادی پر اعتراض تھا ، اب تمہیں اسجد سے شادی پر اعتراض ہے ، آخر تُم چاہتی کیا ہو۔”سلمیٰ اس کی بات پر مشتعل ہو گئیں۔
“صرف یہ کہ آپ اسجد سے میری شادی نہ کریں۔”
“تو پھر کس سے کرنا چاہتی ہو تم۔”ہاشم مبین اچانک کھلے دروازے سے اندر آ گئے تھے۔یقیناً انہوں نے باہر کوریڈور میں امامہ اور سلمیٰ کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی اور وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پائے تھے۔امامہ یک دم چپ ہو گئی۔
“بولو ، کس سے کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔اب منہ بند کیوں ہو گیا ہے ، آخر تم اسجد سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔کیا تکلیف ہے تمہیں۔”انہوں نے بلند آواز میں کہا۔
“بابا ! شادی ایک بار ہوتی ہے اور وہ میں اپنی پسند سے کروں گی۔”وہ ہمت کر کے بولی۔
“کل تک اسجد تمہاری پسند تھا۔”ہاشم مبین نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“کل تھا ، اب نہیں ہے۔”
“کیوں ، اب کیوں نہیں ہے؟”امامہ کچھ کہے بغیر ان کا چہرہ دیکھنے لگی۔
“بولو ، اب کیوں پسند نہیں ہے وہ تمہیں۔”ہاشم مبین نے بلند آواز میں پوچھا۔
“بابا ! میں کسی مسلمان سے شادی کروں گی۔”ہاشم مبین کو لگا آسمان ان کے سر پر گر پڑا تھا۔
“کیا۔۔۔۔۔کہا تم نے۔۔۔۔۔؟”انہوں نے بےیقینی سے کہا۔
“میں کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کروں گی کیونکہ میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔”
کمرے میں اگلے کئی منٹ تک مکمل خاموشی رہی۔سلمیٰ کو جیسے سکتہ ہو گیا تھا اور ہاشم مبین۔۔۔۔۔وہ ایک پتھر کے مجسمے کی طرح اسے دیکھ رہے تھے۔ان کا منہ کھلا ہوا تھا وہ جیسے سانس لینا بھول گئے تھے۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی انہیں زندگی میں اپنی اولاد اور وہ بھی اپنی سب سے لاڈلی بیٹی کے سامنے اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کے چالیس سال مکمل طور پر بھنور کی زد میں آ گئے تھے۔
“تم کیا بکواس کر رہی ہو۔”ہاشم مبین کے اندر اشتعال کی ایک لہر اٹھی تھی۔
“بابا ! آپ جانتے ہیں میں کیا کہہ رہی ہوں۔آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔”
“تم پاگل ہو گئی ہو۔”انہوں نے آپے سے باہر ہوتے ہوئے کہا۔امامہ نے کچھ کہنے کی بجائے نفی میں گردن ہلائی۔وہ ہاشم مبین کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکتی تھی۔”اس لیے تمہیں پیدا کیا۔۔۔۔۔تمہاری پرورش کی کہ تم۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔”ہاشم مبین کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس سے کیا کہیں۔”صرف اسجد سے شادی نہ کرنے کے لیے تم یہ سب کر رہی ہو ، صرف اس لیے کہ تمہاری شادی اس آدمی سے کر دیں جس سے تم چاہتی ہو۔”
“نہیں ، ایسا نہیں ہے۔”
“ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔تم بےوقوف سمجھتی ہو مجھے۔”ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔
“آپ میری شادی کسی بھی آدمی سے کریں ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔بس وہ آپ کی کمیونٹی سے نہ ہو۔۔۔۔۔پھر آپ کم از کم یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ میں کسی خاص آدمی کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔”
ہاشم مبین اس کی بات پر دانت پیسنے لگے۔
“تم جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیداوار۔۔۔۔۔۔تمہیں پتا کیا ہے۔۔۔۔۔”
“میں سب جانتی ہوں بابا ! میری عمر بیس سال ہے ، میں آپ کی انگلی پکڑ کر چلنے والی بچی نہیں ہوں۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ کے اس مذہب کی وجہ سے ہمارے خاندان پر بڑی برکات نازل کی گئی ہیں۔”
وہ بڑے مستحکم اور ہموار انداز میں کہتی گئی۔”تم۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔بخشش نہیں ہو گی تمہاری۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔”
ہاشم مبین غصے کے عالم میں انگلی اٹھا کر بولنے لگے۔امامہ کو ان پر ترس آنے لگا۔اسے دوزخ میں کھڑے ہو کر دوزخ سے ڈرانے والے شخص پر ترس آیا ، اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر پھرنے والے شخص پر ترس آیا ، اسے مہر شدہ دل والے آدمی پر ترس آیا ، اسے نفس زدہ آدمی پر ترس آیا ، اسے گمراہی کی سب سے اوپر والی سیڑھی پر کھڑے آدمی پر ترس آیا۔
“تم گمراہی کے رستے پر چل پڑی ہو۔۔۔۔۔چند کتابیں پڑھ کر تم ۔۔۔۔۔۔”امامہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
“آپ اس بارے میں مجھ سے بحث نہیں کر سکیں گے ، میں سب کچھ جانتی ہوں ، تحقیق کر چکی ہوں ، تصدیق کر چکی ہوں۔آپ مجھے کیا بتائیں گے ، کیا سمجھائیں گے۔آپ نے اپنی مرضی کا راستہ چن لیا ہے ، میں نے اپنی مرضی کا راستہ چن لیا۔آپ وہ کر رہے ہیں جو آپ صحیح سمجھتے ہیں ،میں وہ کر رہی ہوں جو میں صحیح سمجھتی ہوں۔”آپ کا عقیدہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے۔میرا عقیدہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔کیا اب یہ بہتر نہیں ہے کہ آپ میرے اس فیصلے کو قبول کر لیں ، جذباتی حماقت کی بجائے بہت سوچ سمجھ کر اٹھایا جانے والا قدم سمجھ کر۔”
اس نے بڑی رسانیت اور سنجیدگی کے ساتھ کہا۔ہاشم مبین کی ناراضی میں اور اضافہ ہوا۔
“میں۔۔۔۔۔میں اپنی بیٹی کو مذہب بدلنے دوں تاکہ پوری کمیونٹی میرا بائیکاٹ کر دے۔۔۔۔۔میں فٹ پاتھ پر آ جاؤں۔۔۔۔۔نہیں امامہ ! یہ نہیں ہو سکتا۔تمہارا اگر دماغ بھی خراب ہو گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرا دماغ بھی خراب ہو جائے۔کوئی بھی مذہب اختیار کرو مگر تمہاری شادی میں اسجد سے ہی کروں گا ، تمہیں اسی کے گھر جانا ہو گا۔۔۔۔۔اس کے گھر چلی جاؤ اور پھر وہاں جا کر طے کرنا کہ تمہیں کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ہو سکتا ہے تمہیں عقل آ جائے۔”
وہ غصے کے عالم میں کمرے سے نکل گئے۔
“مجھے پتا ہوتا کہ تمہاری وجہ سے ہمیں اتنی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا تو میں پیدا ہوتے ہی تمہارا گلا دبا دیتی۔”ہاشم مبین کے جاتے ہی سلمیٰ نے کھڑے ہوتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔”تم نے ہماری عزت خاک میں ملانے کا تہیہ کر لیا ہے۔”
امامہ کچھ کہنے کی بجائے خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔وہ کچھ دیر اسی طرح بولتی رہیں پھر کمرے سے چلی گئیں۔
انہیں اس کے کمرے سے گئے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا جب دروازے پر دستک دے کر اسجد اندر داخل ہوا۔امامہ کو اس کے اس وقت وہاں آنے کی توقع نہیں تھی۔اسجد کے چہرے پر پریشانی بہت نمایاں تھی۔یقیناً اسے ہاشم مبین نے بلوایا تھا اور وہ اسے سب کچھ بتا چکے تھے۔
“یہ سب کیا ہو رہا ہے امامہ؟”اس نے اندر داخل ہوتے ہی کہا۔وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی اسے دیکھتے رہی۔
“تم کیوں کر رہی ہو یہ سب کچھ۔”
“اسجد ! تمہیں اگر یہ بتا دیا گیا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں تو پھر یہ بھی بتا دیا گیا ہو گا کہ میں کیوں کر رہی ہوں۔”
“تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم کیا کر رہی ہو۔”وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“مجھے اندازہ ہے۔”
“اس عمر میں انسان جذبات میں آ کر بہت سے غلط فیصلے کر لیتا ہے۔۔۔۔۔”
امامہ نے ترشی سے اس کی بات کاٹ دی۔”جذبات میں آ کر۔۔۔۔۔؟کوئی جذبات میں آ کر مذہب تبدیل کرتا ہے؟کبھی نہیں۔۔۔۔۔میں چار سال سے اسلام کے بارے میں پڑھ رہی ہوں ، چار سال کم نہیں ہوتے۔”
“تم لوگوں کی باتوں میں آ گئی ہو۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔”
“نہیں ، میں کسی کی باتوں میں نہیں آئی۔میں نے جس چیز کو غلط سمجھا اسے چھوڑ دیا اور بس۔”
وہ کچھ دیر بےچارگی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹکتےہوئے اس نے کہا۔
“ٹھیک ہے ان سب باتوں کو چھوڑو ، شادی پر کیوں اعتراض ہے تمہیں۔۔۔۔۔تمہارے عقائد میں جو تبدیلی آئی ہے وہ ایک طرف۔کم از کم شادی تو ہونے دو۔”
“میری اور تمہاری شادی جائز نہیں۔”
وہ اس کی بات پر ہکا بکا رہ گیا۔”کیا میں غیر مسلم ہوں؟”
“ہاں ، تم ہو۔۔۔۔۔”
“انکل ٹھیک کہہ رہے تھے کسی نے واقعی تمہارا برین واش کر دیا ہے۔”اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔
“پھر تم ایک ایسی لڑکی سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو۔بہتر ہے تم کسی اور سے شادی کرو۔”اس نے ترکی بہ ترکی کہا۔
“میں نہیں چاہتا کہ تم اپنی زندگی برباد کر لو۔”وہ اس کی بات پر عجیب سے انداز میں ہنسی۔
“زندگی برباد۔۔۔۔۔کون سی زندگی۔۔۔۔۔یہ زندگی جو میں تم جیسے لوگوں کے ساتھ گزار رہی ہوں۔جنہوں نے پیسے کے لیے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔”
“Behave yourself ۔۔۔۔۔تم بات کرنے کے تمام مینرز بھول گئی ہو۔کس کے بارے میں کیا کہنا چاہئیے اور کیا نہیں ، تم نے سرے سے ہی فراموش کر دیا ہے۔”اسجد اسے ڈانٹنے لگا۔
“میں ایسے کسی شخص کا احترام نہیں کر سکتی جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہو۔”امامہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔
“جس عمر میں تم ہو۔۔۔۔۔اس عمر میں ہر کوئی اسی طرح کنفیوز ہو جاتا ہے جس طرح تم کنفیوز ہو رہی ہو۔جب تم اس عمر سے نکلو گی تو تمہیں احساس ہو گا کہ ہم لوگ صحیح تھے یا غلط۔”۔اسجد نے ایک بار اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
“اگر تم لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ میں غلط ہوں ، تب بھی تم لوگ مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔اس طرح مجھے گھر میں قید کر کے کیوں رکھا ہوا ہے اگر تم لوگوں کو اپنے مذہب کی صداقت پر اتنا یقین ہے تو مجھے اس گھر سے چلے جانے دو۔۔۔۔۔حقیقت کو جانچنے دو۔۔۔۔۔”
“اگر کوئی اپنا ، اپنے آپ کو نقصان پہنچانے پر تل جائے تو اسے اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا اور وہ بھی ایک لڑکی کو۔۔۔۔۔امامہ ! تم اس مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھو ، اپنی فیملی کا خیال کرو ، تمہاری وجہ سے سب کچھ داؤ پر لگ گیا ہے۔”
“میری وجہ سے کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔اور اگر کچھ داؤ پر لگا بھی ہے تو میں اس کی پرواہ کیوں کروں۔میں تم لوگوں کے لئے دوزخ میں کیوں جاؤں ، صرف خاندان کے نام کی خاطر اپنا ایمان کیوں گنواؤں۔نہیں اسجد ! میں تم لوگوں کے ساتھ گمراہی کے اس راستے پر نہیں چل سکتی۔مجھے وہ کرنے دو جو میں کرنا چاہتی ہوں۔”اس نے قطعی لہجے میں کہا۔
“مجھ سے اگر تم نے زبردستی شادی کر بھی لی تو بھی تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔میں تمہاری بیوی نہیں بنوں گی ، میں تم سے وفا نہیں کروں گی۔مجھے جب بھی موقع ملے گا ، میں بھاگ جاؤں گی۔تم آخر کتنے سال مجھے اس طرح قید کر کے رکھ سکو گے ، کتنے سال مجھ پر پہرے بٹھاؤ گے۔۔۔۔۔مجھے صرف چند لمحے چاہئیے ہوں گے تمہارے گھر ، تمہاری قید سے بھاگ جانے کے لیے ۔۔۔۔۔اور میں۔۔۔۔۔میں تمہارے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں گی۔تم ساری عمر انہیں دوبارہ دیکھ نہیں سکو گے۔”
وہ اسے مستقبل کا نقشہ دکھا کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“اگر میں تمہاری جگہ پر ہوتی تو میں کبھی امامہ ہاشم جیسی لڑکی سے شادی نہ کروں۔۔۔۔۔یہ سراسر خسارے کا سودا ہو گا۔۔۔۔۔حماقت اور بےوقوفی کی انتہا ہو گی۔۔۔۔۔تم اب بھی سوچ لو۔۔۔۔۔اب بھی پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔۔۔تمہارے سامنے تمہاری ساری زندگی پڑی ہے۔۔۔۔۔تم کسی بھی لڑکی کے ساتھ شادی کر کے پُر سکون زندگی گزار سکتے ہو۔۔۔۔۔کسی پریشانی۔۔۔۔۔کسی بےسکونی کے بغیر مگر میرے ساتھ نہیں۔میں تمہارے لیے بدترین بیوی ثابت ہوں گی ، تم اس سارے معاملے سے الگ ہو جاؤ ، شادی سے انکار کر دو ، انکل اعظم سے کہہ دو کہ تم مجھ سے شادی کرنا نہیں چاہتے یا کچھ عرصے کے لیے گھر سے غائب ہو جاؤ۔جب تمام معاملہ ختم ہو جائے تو پھر آ جانا۔”
“تم مجھے اس طرح کے احمقانہ مشورے مت دو ، میں کسی بھی قیمت پر تم سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔کسی بھی قیمت پر۔نہ میں انکار کروں گا ، نہ اس معاملے سے الگ ہوں گا ، نہ ہی گھر سے کہیں جاؤں گا ۔۔۔۔۔میں تم سے ہی شادی کروں گا امامہ ! اب یہ ہمارے خاندان کی عزت اور ساکھ کا معاملہ ہے۔یہ شادی نہ ہونے اور تمہارے گھر سے چلے جانے سے ہمارے پورے خاندان کو جتنا نقصان اٹھانا پڑے گا اس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں ورنہ تم مجھے کبھی یہ مشورہ نہ دیتیں۔جہاں تک بُری بیوی ثابت ہونے یا گھر سے بھاگ جانے کا تعلق ہے۔۔۔۔۔تو یہ سب بعد کا مسئلہ ہے۔میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ، تم اس طرح کے ٹمپرامنٹ کی مالک نہیں ہو کہ دوسروں کو بےجا پریشان کرتی رہو۔۔۔۔۔اور وہ بھی مجھے ، جس سے تمہیں محبت ہے۔”اسجد بڑے اطمینان سے کہہ رہا تھا۔
“تمہیں غلط فہمی ہے ، مجھے کبھی بھی تم سے محبت نہیں رہی۔۔۔۔۔کبھی بھی۔۔۔۔۔میں ذہنی طور پر تمہارے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کو اس وقت سے ذہن سے نکال چکی ہوں جب میں نے اپنا مذہب چھوڑا تھا۔تم میری زندگی میں اب کہیں نہیں ہو ، کہیں بھی نہیں۔۔۔۔۔اگر میں اپنے گھر والوں کے لئے مسائل کھڑے کر سکتی ہوں تو کل تمہارے لیے کتنے مسائل کھڑے کروں گی تمہیں اس کا احساس ہونا چاہئیے اور اس غلط فہمی سے باہر نکل آنا چاہئیے۔۔۔۔۔ہم دونوں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔میں تم لوگوں کے خاندان کا حصہ کبھی نہیں بنوں گی۔
نہیں اسجد ! تمہارے اور میرے درمیان بہت فاصلہ ہے ، اتنا فاصلہ کہ میں تمہیں دیکھ تک نہیں سکتی اور میں اس فاصلے کو کبھی ختم نہیں ہونے دوں گی۔میں کبھی بھی تم سے شادی کے لئے تیار نہیں ہوں گی۔”
اسجد بدلتی ہوئی رنگت کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“کیا تم میرا ایک کام کر سکتے ہو؟”
“تمہارا کیا خیال ہے اب تک میں اس کے علاوہ کیا کر رہا ہوں۔”سالار نے پوچھا۔
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی ، پھر اس نے کہا۔”کیا تم لاہور جا کر جلال سے مل سکتے ہو۔”سالار نے ایک لمحہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کیں۔
“کس لئے۔”اسے امامہ کی آواز بہت بھاری لگ رہی تھی۔یوں جیسے اسے فلو تھا پھر اچانک اس کو خیال آیا کہ وہ یقیناً روتی رہی ہو گی۔یہ اسی کا اثر تھا۔
“تم میری طرف سے اس سے ریکویسٹ کرو کہ وہ مجھ سے شادی کر لے۔۔۔۔۔ہمیشہ کے لیے نہیں تو کچھ دنوں کے لیے ہی۔۔۔۔۔میں اس گھر سے نکلنا چاہتی ہوں اور میں کسی کی مدد کے بغیر یہاں سے نہیں نکل سکتی۔۔۔۔۔بس وہ مجھ سے نکاح کر لے۔”
“تمہارا تو اس سے فون پر رابطہ ہے تو پھر تم یہ سب خود اس سے فون پر کیوں نہیں کہہ دیتیں۔”سالار نے چپس کھاتے ہوئے بڑے اطمینان سے اسے مشورہ دیا۔
“میں کہہ چکی ہوں۔”اسے امامہ کی آواز پہلے سے زیادہ بھرائی ہوئی لگی۔
“پھر؟”
“اس نے انکار کر دیا ہے۔”
“ویری سیڈ۔”سالار نے افسوس کا اظہار کیا۔
“تو یہ ون سائیڈڈ لو افئیر تھا۔”اس نے کچھ تجسس کے عالم میں پوچھا۔
“نہیں۔”
“تو پھر اس نے انکار کیوں کر دیا؟”
“تم یہ جان کر کیا کرو گے۔”وہ کچھ چڑ کر بولی۔سالار نے ایک اور چپس اپنے منہ میں ڈالا۔
“میرے وہاں جا کر اس سے بات کرنے سے کیا ہو گا ، بہتر ہے تم ہی دوبارہ اس سے بات کر لو۔”
“وہ مجھ سے بات نہیں کر رہا ، وہ فون نہیں اٹھاتا۔ہاسپٹل میں بھی کوئی اسے فون پر نہیں بلا رہا۔وہ جان بوجھ کر کترا رہا ہے۔”امامہ نے کہا۔
“تو پھر تم اس کے پیچھے کیوں پڑی ہو ، جانے دو اسے۔وہ تم سے محبت نہیں کرتا۔”
“تم یہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتے ، تم صرف میری مدد کرو ، ایک بار جا کر اسے میری صورت حال کے بارے میں بتاؤ ، وہ مجھ سے اس طرح نہیں کر سکتا۔”
“اور اگر اس نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا تو۔”
“پھر بھی تم اس سے بات کرنا ، شاید۔۔۔۔۔شاید کوئی صورت نکل آئے ، میرا مسئلہ حل ہو جائے۔”
سالار کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی ، اسے امامہ کے حال پر ہنسی آ رہی تھی۔
فون بند کرنے کے بعد چپس کھاتے ہوئے بھی وہ اس سارے معاملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اس سارے معاملے میں زیادہ سے زیادہ انوالو ہوتا جا رہا تھا۔یہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا ایڈونچر محسوس ہو رہا تھا۔پہلے امامہ تک فون پہنچانا اور اب جلال سے رابطہ۔۔۔۔۔امامہ کا بوائے فرینڈ ۔۔۔۔۔اس نے چپس کھاتے ہوئے زیرِ لب دُہرایا۔امامہ نے اسے اس کے ہاسپٹل اور گھر کے تمام کوائف سے آگاہ کر دیا تھا اور اب وہ سوچ رہا تھا کہ اسے جلال انصر سے مل کر کیا کہنا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار نے اس شخص کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور وہ خاصا مایوس ہوا۔سامنے کھڑا لڑکا بڑی عام سی شکل و صورت کا تھا۔سالار کے لمبے قد اور خوبصورت جسم نے اسے صنفِ مخالف کے لئے کسی حد تک پرکشش بنا دیا تھا مگر سامنے کھڑا ہوا وہ شخص ان دونوں چیزوں سے محروم تھا۔وہ نارمل قد و قامت کا مالک تھا۔اس کے چہرے پر داڑھی نہ ہوتی تو وہ پھر بھی قدرے بہتر نظر آتا۔سالار سکندر کو جلال انصر سے مل کر مایوسی ہوئی تھی۔امامہ اب اسے پہلے سے زیادہ بےوقوف لگی۔
“میں جلال انصر ہوں ، آپ ملنا چاہتے ہیں مجھ سے؟”
“میرا نام سالار سکندر ہے۔”سالار نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
“معاف کیجئیے گا مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔”
“ظاہر ہے آپ پہچان بھی کیسے سکتے ہیں۔میں پہلی بار آپ سے مل رہا ہوں۔”
سالار اس وقت جلال کے ہاسپٹل میں اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا۔چند لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کرنے پر وہ اس کے پاس پہنچ گیا تھا۔اس وقت وہ ڈیوٹی روم کے باہر کھڑے تھے۔
“کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟”جلال اب کچھ حیران نظر آیا۔
“بیٹھ کر بات۔۔۔۔۔مگر کس سلسلے میں۔”
“امامہ کے سلسلے میں۔”
جلال کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔”آپ کون ہیں؟”
“میں اس کا دوست ہوں۔”جلال کے چہرے کا رنگ ایک بار پھر بدل گیا۔وہ چپ چاپ ایک طرف چلنے لگا۔سالار اس کے ساتھ تھا۔
“پارکنگ میں میری گاڑی کھڑی ہے ، وہاں چلتے ہیں۔”سالار نے کہا۔
گاڑی تک پہنچنے اور اس کے اندر بیٹھنے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
“میں اسلام آباد سے آیا ہوں۔”سالار نے کہنا شروع کیا۔
“امامہ چاہتی تھی کہ میں آپ سے بات کروں۔”
“امامہ نے کبھی مجھ سے آپ کا ذکر نہیں کیا۔”جلال نے کچھ عجیب سے انداز میں کہا۔
“آپ امامہ کو کب سے جانتے ہیں؟”
“تقریباً بچپن سے۔۔۔۔۔ہم دونوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں۔بڑی گہری دوستی ہے ہماری۔”
سالار نہیں جانتا اس نے آخری جملہ کیوں کہا۔شاید یہ جلال کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ تھے جن سے وہ کچھ اور محفوظ ہونا چاہتا تھا۔وہ جلال کے چہرے پر نمودار ہونے والی ناپسندیدگی دیکھ چکا تھا۔
“امامہ سے میری بہت تفصیلی بات ہو چکی ہے ، اتنی تفصیلی بات کے بعد اور کیا بات ہو سکتی ہے۔”جلال نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“امامہ چاہتی ہے کہ آپ اس سے شادی کر لیں۔”سالار نے جیسے نیوز بلیٹن پڑھتے ہوئے کہا۔
“میں اپنا جواب اسے بتا چکا ہوں۔”
“وہ چاہتی ہے آپ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔”
“یہ ممکن نہیں ہے۔”
“وہ اس گھر میں اپنے والدین اور گھر والوں کی قید میں ہے۔وہ چاہتی ہے آپ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو وقتی طور پر اس سے نکاح کریں اور پھر بیلف کی مدد سے اسے چھڑا لیں۔”
“یہ ممکن ہی نہیں ہے ، وہ ان کی قید میں ہے تو نکاح ہو ہی کیسے سکتا ہے۔”
“فون پر۔”
“نہیں ، میں اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا۔میں ایسے معاملات میں انوالو ہونا ہی نہیں چاہتا۔”جلال نے کہا۔”میرے والدین مجھے اس شادی کی اجازت نہیں دیں گے اور پھر وہ امامہ کو قبول کرنے پر تیار بھی نہیں ہیں۔”
جلال کی نظریں اب سالار کے بالوں کی پونی پر جمی ہوئی تھیں ، یقیناً سالار کی طرح اس نے بھی اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہو گا۔
“اس نے کہا کہ آپ وقتی طور پر اس سے صرف نکاح کر لیں تاکہ وہ اپنے گھر سے نکل سکے ، بعد میں آپ چاہیں تو اسے طلاق دے دیں۔”
“میں نے کہا نا میں اس کی مدد نہیں کر سکتا اور پھر اس طرح کے معاملات ۔۔۔۔۔آپ خود اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔۔۔اگر وقتی شادی کی بات ہے تو آپ کر لیں۔آخر آپ اس کے دوست ہیں۔”
جلال نے کچھ چھبتے ہوئے انداز میں سالار سے کہا۔”آپ اسلام آباد سے لاہور اس کی مدد کے لیے آ سکتے ہیں تو پھر یہ کام بھی کر سکتے ہیں۔”
“اس نے مجھ سے شادی کا نہیں کہا ، اس لئے میں نے اس بارے میں نہیں سوچا۔”سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے بےتاثر لہجے میں کہا۔”ویسے بھی وہ آپ سے محبت کرتی ہے ، مجھ سے نہیں۔”
“مگر عارضی شادی یا نکاح میں تو محبت کا ہونا ضروری نہیں۔بعد میں آپ بھی اسے طلاق دے دیں۔”جلال نے مسئلے کا حل نکال لیا تھا۔
“آپ کا مشورہ میں اسے پہنچا دوں گا۔”سالار نے سنجیدگی سے کہا۔
“اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر امامہ سے کہیں کہ وہ کوئی اور طریقہ اپنائے۔۔۔۔۔بلکہ آپ کسی نیوز پیپر کے آفس چلے جائیں اور انہیں امامہ کے بارے میں بتائیں کہ کس طرح اس کے خاندان نے اسے زبردستی قید کر رکھا ہے۔جب میڈیا اس معاملے کو ہائی لائٹ کرے گا تو خود ہی وہ امامہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے یا پھر آپ پولیس کو اس معاملے کی اطلاع دیں۔”
سالار کو حیرانی ہوئی۔جلال کی تجویز بری نہیں تھی۔واقعی امامہ اس بارے میں کیوں نہیں سوچ رہی تھی۔یہ راستہ زیادہ محفوظ تھا۔
“میں آپ کا یہ مشورہ بھی اسے پہنچا دوں گا۔”
“آپ دوبارہ میرے پاس نہ آئیں بلکہ امامہ سے بھی یہ کہہ دیں کہ وہ مجھ سے کسی بھی طریقے یا ذریعے سے دوبارہ رابطہ نہ کرے۔میرے والدین ویسے بھی میری منگنی کرنے والے ہیں۔”جلال نے جیسے انکشاف کیا۔
“”ٹھیک ہے ، میں یہ ساری باتیں اس تک پہنچا دوں گا۔”سالار نے لاپرواہی سے کہا۔جلال مزید کچھ کہے بغیر گاڑی سے اُتر گیا۔
اگر امامہ کو یہ توقع تھی کہ سالار جلال کو اس سے شادی کرنے کے لیے قائل کرے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی۔وہ امامہ سے کوئی ہمدردی رکھتا تھا نہ ہی کسی خوفِ خدا کے تحت اس سارے معاملے میں کودا تھا۔۔۔۔۔اس کے لئے یہ سب کچھ ایک ایڈونچر تھا اور ایڈونچر میں یقیناً جلال سے امامہ کی شادی شامل نہیں تھی۔اگر جلال سے اس کی شادی کے لئے دلائل دینے بھی پڑتے تو وہ کیا دیتا۔اس کے پاس صرف ایک دلیل کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں تھی کہ جلال اور امامہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور یہ وہ دلیل تھی جسے جلال پہلے ہی رد کر چکا تھا۔وہ مذہبی یا اخلاقی حوالوں سے قائل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ خود ان دونوں چیزوں سے نا بلد تھا۔مذہب اور اخلاقیات سے اس کا دور دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ آخر وہ امامہ کے لیے ایک دوسرے آدمی سے اتنی لمبی بحث کرتا کیوں۔وہ بھی ایسا آدمی جسے دیکھتے ہی اس نے ناپسند کر دیا تھا۔
اور یہ تمام وہ باتیں تھیں جو وہ اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے سوچ رہا تھا۔وہ آیا اس لیے تھا کیونکہ وہ جلال سے ملنا چاہتا تھا اور دیکھنا چاہتا تھا کہ امامہ کے پیغام پر اس کا ردِ عمل کیا رہتا تھا۔اس نے امامہ کا پیغام اسی کے لفظوں میں کسی اضافے یا ترمیم کے بغیر پہنچا دیا تھا اور اب وہ جلال کا جواب لے کر واپس جا رہا تھا اور خاصا محفوظ ہو رہا تھا۔آخر اس پیغام کے جواب میں وہ کیا کرے گی ، کہے گی۔اسجد سے شادی تو وہ نہیں کرے گی ، جلال اس سے شادی کرنے پر تیار نہیں ، گھر سے وہ نکل نہیں سکتی ، کوئی اور ایسا آدمی نہیں جو اس کی مدد کے لیے آ سکے پھر آخر وہ آگے کیا کرے گی۔عام طور پر لڑکیاں ان حالات میں خودکشی کرتی ہیں۔اوہ یس۔۔۔۔۔وہ یقیناً اب مجھ سے زہر یا ریوالور پہنچانے کی خواہش کرے گی۔
سالار متوقع صورت حال کے بارے میں سوچ کر پُر جوش ہو رہا تھا۔”خودکشی۔۔۔۔۔ویری ایکسائیٹنگ۔
“آخر اس کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا سکتی ہے۔”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“تم مجھ سے شادی کرو گے؟” سالار کو جیسے شاک لگا۔”فون پر نکاح؟” وہ کچھ دیر کے لئے بول نہیں سکا۔
لاہور سے واپس آنے کے بعد اس نے امامہ کو جلال کا جواب بالکل اسی طرح سے پہنچا دیا تھا۔ اس کا اندازہ تھا کہ وہ اب رونا دھونا شروع کرے گی اور پھر اس سے کسی ہتھیار کی فرمائش کرے گی، مگر وہ کچھ دیر کے لئے خاموش رہی پھر اس نے سالار سے جو کہا تھا اس نے چند ثانیوں کے لئے سالار کے ہوش گم کر دئیے تھے۔
“مجھے صرف کچھ دیر کے لئے تمہارا ساتھ چاہئیے۔ تاکہ میرے والدین اسجد کے ساتھ میری شادی نہ کر سکیں اور پھر تم بیلف کے ذریعے مجھے یہاں سے نکال لو۔ اس کے بعد مجھے تمہاری ضرورت نہیں رہے گی اور میں کبھی بھی اپنے والدین کو تمہارا نام نہیں بتاؤں گی۔” وہ اب کہہ رہی تھی۔
“اوکے کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔ مگر یہ بیلف والا کام تھوڑا مشکل ہے۔ اس میں بہت سی legalities انوالو ہو جاتی ہیں۔ وکیل کو ہائر کرنا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔”امامہ نے دوسری طرف سے اس کی بات کاٹ دی۔”تم اپنے فرینڈز سے اس سلسلے میں مدد لے سکتے ہو۔ تمہارے فرینڈز تو اس طرح کے کاموں میں ماہر ہوں گے۔”
سالار کے ماتھے پر کچھ بل نمودار ہوئے۔”کس طرح کے کاموں میں۔”
“اسی طرح کے کاموں میں۔”تم کیسے جانتی ہو۔”
“وسیم نے مجھے بتایا تھا کہ تمہاری کمپنی اچھی نہیں ہے۔”
امامہ کے منہ سے بے اختیار نکلا اور پھر وہ خاموش ہو گئی۔ یہ جملہ مناسب نہیں تھا۔
“میری کمپنی بہت اچھی ہے، کم از کم جلال انصر کی کمپنی سے بہتر ہے۔” سالار نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ اس بار بھی خاموش رہی۔
“بہرحال میں دیکھتا ہوں، میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں۔”سالار کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد بولا۔” مگر تمہیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئیے کہ یہ کام بہت رسکی ہے۔”
“میں جانتی ہوں مگر ہو سکتا ہے میرے والدین صرف یہ پتا چلنے پر ہی مجھے گھر سے نکال دیں کہ میں شادی کر چکی ہوں اور مجھے بیلف کی مدد لینی نہ پڑے یا ہو سکتا ہے وہ میری شادی کو قبول کر لیں اور پھر میں تم سے طلاق لے کر جلال سے شادی کر سکوں۔”
سالار نے سر کو قدرے افسوس کے عالم میں جھٹکا۔ اس نے دنیا میں اس طرح کا احمق پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ احمقوں کی جنت کی ملکہ تھی یا شاید ہونے والی تھی۔
“چلو دیکھتا ہوں، کیا ہوتا ہے۔” سالار نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔” حسن نے سالار کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر بےاختیار ہنسا۔
“یہ اس سال کا نیا ایڈونچر ہے یا آخری ایڈونچر؟”
“آخری ایڈونچر۔”سالار نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ تبصرہ کیا۔”یعنی تم شادی کر رہے ہو۔”
حسن نے برگر کھاتے ہوئے کہا۔
“شادی کا کون کہہ رہا ہے۔” سالار نے اسے دیکھا۔
“تو پھر؟”
“میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہ رہا ہوں۔ اس کو مدد کی ضرورت ہے، میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔” حسن اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
“آج تم مذاق کے موڈ میں ہو؟”
“نہیں، بالکل بھی نہیں۔ میں نے تمہیں یہاں مذاق کرنے کے لئے تو نہیں بلایا۔”
“پھر کیا فضول باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔ نکاح۔۔۔۔۔ لڑکی کی مدد۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔” اس بار حسن نے قدرے ناگواری سے کہا۔” محبت ہو گئی ہے تمہیں اس سے؟”
“مائی فٹ۔۔۔۔۔ میرا دماغ خراب ہے کہ میں کسی سے محبت کروں گا اور وہ بھی اس عمر میں۔” سالار نے تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
“یہی تو۔۔۔۔۔ میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ پھر تم کیا کر رہے ہو۔”
سالار نے اس بار اسے تفصیل سے امامہ اور اس کے مسئلے کے بارے میں بتایا۔ اس نے احسن کو صرف یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ لڑکی وسیم کی بہن ہے کیونکہ حسن وسیم سے بہت اچھی طرح واقف تھا لیکن اس سے تفصیلات سننے کے بعد حسن نے پہلا سوال ہی یہ کیا تھا۔
“وہ لڑکی کون ہے؟” سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
“وسیم کی بہن۔”
“واٹ۔” حسن بے اختیار اچھلا۔”وسیم کی بہن۔۔۔۔۔ وہ جو میڈیکل کالج میں پڑھتی ہے۔”
“ہاں۔”
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ، تم کیوں خوامخواہ اس طرح کی حماقت کر رہے ہو۔وسیم کو بتا دو اس سارے معاملے کے بارے میں۔”
“میں تم سے مدد مانگنے آیا ہوں ، مشورہ مانگنے نہیں۔”سالار نے ناگواری سے کہا۔
“میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں۔”حسن نے کچھ اُلجھے ہوئے انداز میں کہا۔
“تم نکاح خواں اور کچھ گواہوں کا انتظام کرو ، تاکہ میں اس سے فون پر نکاح کر سکوں۔”سالار نے فوراً ہی کام کی بات کی۔
“مگر تمہیں یہ نکاح کر کے کیا فائدہ ہو گا۔”
“کچھ بھی نہیں ، مگر میں کسی فائدے کے بارے میں سوچ بھی کب رہا ہوں۔”
“دفع کرو سالار ! اس سب کو۔۔۔۔۔تم کیوں کسی دوسرے کے معاملے میں کود رہے ہو اور وہ بھی وسیم کی بہن کے معاملے میں۔۔۔۔۔بہتر۔۔۔۔۔”
سالار نے اس بار درشتی سے اس کی بات کاٹی۔”تم مجھے صرف یہ بتاؤ میری مدد کرو گے یا نہیں۔۔۔۔۔باقی چیزوں کے بارے میں پریشان ہونا تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔”
“ٹھیک ہے ، میں تمہاری مدد کروں گا۔میں مدد کرنے سے انکار نہیں کر رہا ہوں ، مگر تم یہ سوچ لو کہ یہ سب بہت خطرناک ہے۔”حسن نے ہتھیار ڈالنے والے انداز میں کہا۔
“میں سوچ چکا ہوں ، تم مجھے تفصیلات بتاؤ۔”سالار نے اس بار فرنچ فرائز کھاتے ہوئے کچھ مطمئن انداز میں کہا۔
“بس ایک بات۔۔۔۔۔اگر انکل اور آنٹی کو پتا چل گیا تو کیا ہو گا۔”
“انہیں پتا نہیں چلے گا ، وہ یہاں نہیں ہیں ، کراچی گئے ہوئے ہیں اور ابھی کچھ دن وہاں رکیں گے۔وہ یہاں ہوتے پھر میرے لیے یہ سب کچھ کرنا بہت مشکل ہوتا۔”سالار نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔وہ اپنا برگر تقریباً ختم کر چکا تھا۔حسن اب اپنا برگر کھاتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا نظر آ رہا تھا مگر سالار اس کے تاثرات کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ حسن اس وقت اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں مصروف ہے۔اسے حسن سے کسی قسم کا خوف یا خطرہ نہیں تھا۔وہ اس کا بہترین دوست تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن نے نکاح کے انتظامات بہت آسانی سے کر لیے تھے۔سالار نے اسے کچھ رقم دی تھی جس سے اس نے تین گواہوں کا انتظام کر لیا تھا۔چوتھے گواہ کے طور پر وہ خود موجود تھا۔نکاح خواہ کو اندازہ تھا کہ اس نکاح میں کوئی غیر معمولی کہانی تھی۔مگر اسے بھاری رقم کے ساتھ اتنی دھمکیاں بھی دے دی گئی تھیں کہ وہ خاموش ہو گیا۔
حسن سہ پہر کے وقت اس نکاح خواں اور تینوں گواہوں کو لے آیا تھا۔وہ سب سالار کے کمرے میں چلے گئے تھے۔وہیں بیٹھ کر نکاح نامہ بھرا گیا تھا۔سالار امامہ کو اس بارے میں پہلے ہی انفارم کر چکا تھا۔مقررہ وقت پر فون پر نکاح خواں نے ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا تھا۔سالار نے ملازمہ کے ذریعے امامہ کو پیپرز بھجوا دیے تھے۔امامہ نے پیپرز لیتے ہی برق رفتاری سے ان پر سائن کر کے ملازمہ کو واپس دے دئیے تھے۔ملازمہ ان پیپرز کو واپس سالار کے پاس لے آئی تھی ، مگر وہ بری طرح تجسس کا شکار تھی۔
آخر وہ لوگ کون تھے جو سالار کے کمرے میں تھے اور یہ پیپرز کیسے تھے جن پر امامہ نے سائن کیا تھا۔اس کا ماتھا ٹھٹک رہا تھا اور اسے شبہ ہو رہا تھا کہ ہو نہ ہو وہ دونوں آپس میں شادی کر رہے تھے۔سالار کو پیپرز واپس دیتے ہوئے وہ پوچھے بغیر رہ نہیں سکی تھی۔
“یہ کس چیز کے کاغذ ہیں سالار صاحب؟”اس نے بظاہر سادگی اور معصومیت سے پوچھا۔
“تمہیں اس سے کیا۔۔۔۔۔جیسے بھی پیپرز ہوں۔۔۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو۔”سالار نے درشتی سے اسے جھڑک دیا۔
“اور ایک بات تم کان کھول کر سن لو ، اس سارے معاملے کے بارے میں اگر تم اپنا منہ بند رکھو گی تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا بلکہ بہت بہتر ہو گا۔۔۔۔۔”
“مجھے کیا ضرورت ہے جی کسی سے بھی اس بارے میں بات کرنے کی۔میں نے تو ویسے ہی پوچھ لیا۔آپ اطمینان رکھیں صاحب جی ! میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔”
ملازمہ فوراً گھبرا گئی تھی۔سالار ویسے بھی اتنا اکھڑ مزاج تھا کہ اسے اس سے بات کرتے ہوئے خوف آیا کرتا تھا۔سالار نے کچھ نخوت بھرے انداز میں سر کو جھٹکا۔اسے اس بات کا کوئی خوف نہیں تھا کہ ملازمہ یہ سب کسی کو بتا سکتی تھی۔اگر بتا بھی دیتی تو اسے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“تم ایک بار پھر جلال سے ملو ، ایک بار پھر پلیز۔۔۔۔۔”وہ اس دن اس سے فون پر کہہ رہی تھی۔
سالار اس بات پر چڑ گیا۔”وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا امامہ ! وہ کتنی بار کہہ چکا ہے۔آخر تم سمجھتی کیوں نہیں ہو کہ دوبارہ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اس نے بتایا تھا کہ اس کے ماں باپ اس کی کوئی منگنی وغیرہ کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔۔”
“وہ جھوٹ بول رہا ہے۔”امامہ نے بےاختیار اس کی بات کاٹ دی۔”صرف اس لیے کہ میں اس سے دوبارہ کانٹیکٹ نہ کروں ، ورنہ اس کے پیرنٹس اتنی جلدی اس کی منگنی کر ہی نہیں سکتے۔”
“تو جب وہ نہیں چاہتا تم سے شادی کرنا اور کانٹیکٹ کرنا۔۔۔۔۔تو تم کیوں خوار ہو رہی ہو اس کے پیچھے۔”
“کیونکہ میری قسمت میں خواری ہے۔”اس نے دوسری طرف سے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
“اس کا کیا مطلب ہوا؟”وہ اُلجھا۔
“کوئی مطلب نہیں ہے۔نہ تم سمجھ سکتے ہو۔۔۔۔۔تم بس اسے جا کر کہو کہ میری مدد کرے ، وہ حضرت محمد ﷺ سے اتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔اس سے کہو کہ وہ آپ ﷺ کے لئے ہی مجھ سے شادی کر لے۔”وہ بات کرتے کرتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“یہ کیا بات ہوئی۔”وہ اس کے آنسوؤں سے متاثر ہوئے بغیر بولا۔”کیا یہ بات کہنے سے وہ تم سے شادی کر لے گا۔”
امامہ نے جواب نہیں دیا ، وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔وہ بیزار ہو گیا۔
“تم یا تو رو لو۔۔۔۔۔یا پھر مجھ سے بات کر لو۔”
دوسری طرف سے فون بند کر دیا گیا۔سالار نے فوراً کال کی۔کال ریسیو نہیں کی گئی۔
پندرہ بیس منٹ کے بعد امامہ نے اسے دوبارہ کال کی۔”اگر تم یہ وعدہ کرتی ہو کہ تم روؤ گی نہیں تو مجھ سے بات کرو ، ورنہ فون بند کر دو۔”سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
“پھر تم لاہور جا رہے ہو۔”اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے اس سے پوچھا۔سالار کو اس کی مستقل مزاجی پر حیرانی ہوئی۔وہ واقعی ڈھیٹ تھی۔وہ اب بھی اپنی ہی بات پر اٹکی ہوئی تھی۔
“اچھا ، میں چلا جاؤں گا۔تم نے اپنے گھر والوں کو شادی کے بارے میں بتایا ہے۔”سالار نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
“نہیں ، ابھی نہیں بتایا۔”وہ اب خود پر قابو پا چکی تھی۔
“کب بتاؤ گی؟”سالار کو جیسے ڈرامے کے اگلے سین کا انتظار تھا۔
“پتا نہیں۔”وہ کچھ اُلجھی۔”تم کب لاہور جاؤ گے؟”
“بس جلد ہی چلا جاؤں گا۔ابھی یہاں مجھے کچھ کام ہے ورنہ فوراً ہی چلا جاتا۔”
اس بار سالار نے جھوٹ بولا تھا۔نہ تو اسے کوئی کام تھا اور نہ ہی وہ اس بار لاہور جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
“جب تم بیلف کے ذریعے اپنے گھر سے نکل آؤ گی تو اس کے بعد تم کیا کرو گی۔۔۔۔۔آئی مین ! کہاں جاؤ گی؟”سالار نے ایک بار پھر اسے اس موضوع سے ہٹاتے ہوئے کہا۔”اس صورت میں جب جلال بھی تمہاری مدد کرنے پر تیار نہ ہوا تو۔۔۔۔۔”
“میں ابھی ایسا کچھ فرض نہیں کر رہی ، وہ ضرور میری مدد کرے گا۔”امامہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پُر زور انداز میں کہا۔سالار نے کندھے اُچکائے۔
“تم کچھ بھی فرض کرنے کو تیار نہیں ہو ، ورنہ میں تم سے ضرور کہتا کہ شاید وہ نہ ہو جو تم چاہتی ہو پھر تم کیا کرو گی۔۔۔۔۔تمہیں دوبارہ اپنے پیرنٹس کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔۔۔۔۔تو زیادہ بہتر یہی ہے کہ تم ابھی یہاں سے نہ جانے کا سوچو۔۔۔۔۔نہ ہی بیلف اور کورٹ کی مدد لو۔بعد میں بھی تو تمہیں یہاں ہی آنا پڑے گا۔”
“میں دوبارہ کبھی یہاں نہیں آؤں گی ، کسی صورت میں نہیں۔”
“یہ جذباتیت ہے۔”سالار نے تبصرہ کیا۔
“تم ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے۔”امامہ نے ہمیشہ کی طرح اپنا مخصوص جملہ دُہرایا۔سالار کچھ جزبز ہوا۔
“اوکے۔۔۔۔۔کرو جو کرنا چاہتی ہو۔”اس نے لاپرواہی سے کہہ کر فون بند کر دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“کل شام کو ہم لوگ اسجد کے ساتھ تمہارا نکاح کر رہے ہیں۔تمہاری رخصتی بھی ساتھ ہی کر دیں گے۔”
ہاشم مبین نے رات کو اس کے کمرے میں آ کر اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔
“بابا ! میں انکار کر دوں گی۔۔۔۔۔آپ کے لئے بہتر ہے آپ اس طرح زبردستی میری شادی نہ کریں۔”
“تم انکار کرو گی تو میں تمہیں اسی وقت شوٹ کر دوں گا ، یہ بات تم یاد رکھنا۔”وہ سر اٹھائے انہیں دیکھتی رہی۔
“بابا ! میں شادی کر چکی ہوں۔”ہاشم مبین کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔”میں اس لیے اس شادی سے انکار کر رہی تھی۔”
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
“نہیں ، میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں۔میں چھے ماہ پہلے شادی کر چکی ہوں۔”
“کس کے ساتھ۔”
“میں یہ آپ کو نہیں بتا سکتی۔”
ہاشم مبین کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس اولاد کے ہاتھوں ا تنا خوار ہوں گے۔آگ بگولہ ہو کر وہ امامہ پر لپکے اور انہوں نے یکے بعد دیگرے اس کے چہرے پر تھپڑ مارنے شروع کر دئیے۔وہ چہرے کے سامنے دونوں ہاتھ کرتے ہوئے خود کو بچانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ اس میں بری طرح ناکام رہی۔کمرے میں ہونے والا شور سن کر وسیم سب سے پہلے وہاں آیا تھا اور اسی نے ہاشم مبین کو پکڑ کر زبردستی امامہ سے دور کیا۔وہ دیوار کے ساتھ پشت ٹکائے روتی رہی۔
“بابا ! آپ کیا کر رہے ہیں ، سارا معاملہ آرام سے حل کیا جا سکتا ہے۔”وسیم کے پیچھے گھر کے باقی لوگ بھی اندر چلے آئے تھے۔
“اس نے۔۔۔۔۔اس نے شادی کر لی ہے کسی سے۔”ہاشم مبین نے غم و غصہ کے عالم میں کہا۔
“بابا ! جھوٹ بول رہی ہے ، شادی کیسے کر سکتی ہے۔ایک بار بھی گھر سے نہیں نکلی۔”یہ وسیم تھا۔
“چھے ماہ پہلے شادی کر لی ہے اس نے۔”امامہ نے سر نہیں اٹھایا۔
“نہیں ، میں نہیں مانتا۔ایسا نہیں ہو سکتا ، یہ ایسا کر ہی نہیں سکتی۔”وسیم اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔امامہ نے دھندلائی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھا اور کہا۔
“ایسا ہو چکا ہے۔”
“کیا ثبوت ہے۔۔۔۔۔نکاح نامہ ہے تمہارے پاس؟”وسیم نے اکھڑ لہجے میں کہا۔
“یہاں نہیں ہے ، لاہور میں ہے ، میرے سامان میں۔”
“بابا ! میں کل لاہور سے اس کا سامان لے آتا ہوں۔دیکھ لیتے ہیں۔”وسیم نے ہاشم مبین سے کہا۔امامہ بےاختیار پچھتائی۔سامان سے کیا مل سکتا تھا۔
“شادی کر بھی لی ہے تو کوئی بات نہیں ، طلاق دلوا کر تمہاری شادی اسجد سے کرواؤں گا اور اس آدمی نے طلاق نہ دی تو پھر اسے قتل کروا دوں گا۔”ہاشم مبین نے سرخ چہرے کے ساتھ وہاں سے جاتے ہوئے کہا۔کمرہ آہستہ آہستہ خالی ہو گیا۔وہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔اسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ جال میں پھنسنے کے بعد کے احساسات کیا ہوتے ہیں۔یہ ایک اتفاق تھا کہ نکاح نامے کی کاپی سالار نے اس کو نہیں بھجوائی تھی۔اگر اس کے پاس ہوتی بھی تو تب بھی وہ اسے ہاشم مبین کو نہیں دے سکتی تھی ورنہ سالار سکندر کا نام نکاح نامے پر دیکھنے کے بعد ان کے لئے اس تک پہنچنا اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنا منٹوں کا کام تھا اور اس کے سامان سے نکاح نامہ نہیں ملے گا تو اس کے اس بیان پر کسی کو یقین نہ آ سکتا کہ وہ نکاح کر چکی تھی۔
اس نے کمرے کے دروازے کو لاک کر دیا اور موبائل پر سالار کو کال کرنے لگی۔اس نے اسے ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا تھا۔
“تم ایک بار پھر لاہور جاؤ اور جلال کو میرے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔۔میں اب اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔مجھے یہاں سے نکلنا ہے اور اس کے علاوہ میں کہیں نہیں جا سکتی۔تم میرے لئے ایک وکیل کو ہائر کرو اور اس سے کہو کہ وہ میرے پیرنٹس کو میرے شوہر کی طرف سے مجھے حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف ایک کورٹ نوٹس بھجوائے۔”
“تمہارے شوہر ، یعنی میری طرف سے۔”
“تم وکیل کو اپنا نام مت بتانا بلکہ یہ بہتر ہے کہ اپنے کسی دوست کے ذریعے وکیل کو ہائر کرو اور میرے شوہر کا کوئی بھی فرضی نام دے سکتے ہو۔تمہارا نام وکیل کے ذریعے انہیں پتا چلے گا تو وہ تم تک پہنچ جائیں گے اور میں یہ نہیں چاہتی۔”
امامہ نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اسے کیا خدشہ ہے اور نہ ہی سالار نے اندازہ لگانے کی کوشش کی۔
اس سے بات کرنے کے بعد امامہ نے فون بند کر دیا۔اگلے روز دس گیارہ بجے کے قریب کسی وکیل نے فون کر کے ہاشم مبین سے امامہ کے سلسلے میں بات کی اور انہیں امامہ کو زبردستی اپنے گھر رکھنے کے بارے میں اس کے شوہر کی طرف سے کئے جانے والے کیس کے بارے میں بتایا۔ہاشم مبین کو مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہی تھی۔وہ غصے میں پھنکارتے ہوئے اس کے کمرے میں گئے اور اسے بری طرح مارا۔
“تم دیکھنا امامہ ! تم کس طرح برباد ہو گی۔۔۔۔۔ایک ایک شے کے لیے ترسو گی تم۔۔۔۔۔جو لڑکیاں تمہاری طرح اپنے ماں باپ کی عزت کو نیلام کرتی ہیں ان کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔تم ہمیں کورٹ تک لے گئی ہو۔۔۔۔۔۔تم نے وہ سارے احسان فراموش کر دئیے ، جو ہم نے تم پر کئے۔تمہارے جیسی بیٹیوں کو واقعی پیدا ہوتے ہی دفن کر دینا چاہئیے۔”
وہ بڑی خاموشی سے پٹتی رہی۔اپنے باپ کی کیفیات کو سمجھ سکتی تھی مگر وہ اپنی کیفیات اور اپنے احساسات انہیں نہیں سمجھا سکتی تھی۔
“تم نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ، کسی کو نہیں۔ہمیں زندہ درگور کر دیا ہے تم نے۔”
سلمیٰ اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی تھیں مگر انہوں نے ہاشم مبین کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔وہ خود بھی بری طرح مشتعل تھیں ، وہ جانتی تھیں کہ امامہ کا یہ قدم کس طرح ان کے پورے خاندان کو متاثر کرنے والا تھا اور خاص طور پر ان کے شوہر کو۔
“تم نے ہمارے اعتماد کا خون کیا ہے۔کاش تم میری اولاد نہ ہوتیں۔کبھی میرے خاندان میں پیدا نہ ہوئی ہوتیں۔پیدا ہو ہی گئی تھی تو تب ہی مر جاتی۔۔۔۔۔یا میں ہی تمہیں مار دیتا۔”امامہ آج ان کی باتوں اور پٹائی پر نہیں روئی تھی۔اس نے مدافعت کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔وہ صرف خاموشی کے ساتھ پٹتی رہی پھر ہاشم مبین احمد جیسے تھک سے گئے اور اسے مارتے مارتے رک گئے۔ان کا سانس پھول گیا تھا۔وہ بالکل خاموشی سے ان کے سامنے دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔
“تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے ، سب کچھ چھوڑ دو۔اس لڑکے سے طلاق لے لو اور اسجد سے شادی کر لو۔ہم اس سب کو معاف کر دیں گے ، بھلا دیں گے۔”اس بار سلمیٰ نے تیز لہجے میں اس سے کہا۔
“نہیں ، واپس آنے کے لئے اسلام قبول نہیں کیا ،مجھے واپس نہیں آنا۔”امامہ نے مدھم مگر مستحکم آواز میں کہا۔”آپ مجھے اس گھر سے چلے جانے دیں ، مجھے آزاد کر دیں۔”
“اس گھر سے نکل جاؤ گی تو دنیا تمہیں بہت ٹھوکریں مارے گی۔۔۔۔۔تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ باہر کی دنیا میں کیسے مگرمچھ تمہیں ہڑپ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔جس لڑکے سے شادی کر کے تم نے ہمیں ذلیل کیا ہے وہ تمہیں بہت خوار کرے گا۔ہمارے خاندان کو دیکھ کر اس نے تمہارے ساتھ اس طرح چوری چھپے رشتہ جوڑا ہے ، جب ہم تمہیں اپنے خاندان سے نکال دیں گے اور تم پائی پائی کی محتاج ہو جاؤ گی تو وہ بھی تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائے گا ، تمہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی ، کوئی ٹھکانہ نہیں ملے گا۔”سلمیٰ اب اسے ڈرا رہی تھیں۔”ابھی بھی وقت ہے امامہ ! تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے۔”
“نہیں امی ! میرے پاس کوئی وقت نہیں ہے ، میں سب کچھ طے کر چکی ہوں۔میں اپنا فیصلہ آپ کو بتا چکی ہوں۔مجھے یہ سب قبول نہیں۔آپ مجھے جانے دیں ، اپنے خاندان سے الگ کرنا چاہتے ہیں ، کر دیں۔جائیداد سے محروم کرنا چاہتے ہیں ، کر دیں۔میں کوئی اعتراض نہیں کروں گی مگر میں کروں گی وہی جو میں آپ کو بتا رہی ہوں۔میں اپنی زندگی کے راستے کا انتخاب کر چکی ہوں۔آپ یا کوئی بھی اسے بدل نہیں سکتا۔”
“ایسی بات ہے تو تم اس گھر سے نکل کر دکھاؤ ، میں تمہیں جان سے مار دوں گا لیکن اس گھر سے تمہیں جانے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔اور اس وکیل کو تو میں اچھی طرح دیکھ لوں گا۔تمہیں اگر یہ خوش فہمی ہے کہ کوئی کورٹ یا عدالت تمہیں میری تحویل سے نکال سکتی ہے تو یہ تمہاری بھول ہے ، میں تمہیں کبھی بھی کہیں بھی جانے نہیں دوں گا۔میں بیلف کے آنے سے پہلے اس گھر سے کہیں اور منتقل کر دوں گا پھر میں دیکھوں گا کہ تم کس طرح اپنے فیصلے کو تبدیل نہیں کرتیں اور مجھے اگر وہ لڑکا نہ ملا جس سے تم نے شادی کی ہے تو پھر میں اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ تمہارا نکاح ہو چکا ہے اسجد سے تمہاری شادی کر دوں گا۔میں اس شادی کو سرے سے ماننے سے انکار کرتا ہوں۔تمہاری شادی صرف وہ ہو گی جو میری مرضی سے ہو گی ، اس کے علاوہ نہیں۔”وہ مشتعل انداز میں کہتے ہوئے سلمیٰ کے ساتھ باہر نکل گئے۔وہ وہیں دیوار کے ساتھ کھڑی خوفزدہ اور پریشان نظروں سے دروازے کو دیکھتی رہی۔اس نے جس مقصد کے لیے شادی کی تھی اس کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ہاشم مبین احمد اپنی بات پر چٹان کی طرح اڑے ہوئے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“بےچاری امامہ بی بی ! ” ناصرہ نے سالار کے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے اچانک بلند آواز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔سالار نے مڑ کر اسے دیکھا۔وہ اپنی اسٹڈی ٹیبل پر پڑی ہوئی کتابوں کو سمیٹ رہا تھا۔ناصرہ اسے متوجہ دیکھ کر تیزی سے بولی۔
“بڑی مار پڑی ہے جی کل رات کو۔”
“کس کو مار پڑی ہے؟”سالار نے کتابیں ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔
“امامہ بی بی کو جی ! اور کسے۔”وہ کتابیں ایک طرف کرتے کرتے رک گیا اور ناصرہ کو دیکھا جو کمرے میں موجود ایک شیلف کی جھاڑ پونچھ کر رہی تھی۔
“ہاشم مبین نے کل بہت مارا ہے اسے۔”
سالار بےحد محفوظ ہوا۔”واقعی؟”
“ہاں جی ، بہت زیادہ پٹائی کی ہے ، میری بیٹی بتا رہی تھی۔”ناصرہ نے کہا۔
“ویری نائس۔”سالار نے بےاختیار تبصرہ کیا۔
“جی۔۔۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”ناصرہ نے اس سے پوچھا۔
اس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ ناصرہ کو بڑی عجب لگی۔اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس خبر پر مسکرائے گا۔اس کے ذاتی “قیافوں ” اور “اندازوں” کے مطابق ان دونوں کے درمیان جیسے تعلقات تھے اس پر سالار کو بہت زیادہ افسردہ ہونا چاہئیے تھا مگر یہاں صورت ِحال بالکل برعکس تھی۔
“بےچاری امامہ بی بی کو پتا چل جائے کہ سالار صاحب اس خبر پر مسکرا رہے تھے تو وہ تو صدمے سے ہی مر جائیں۔”ناصرہ نے دل میں سوچا۔
“کس بات پر مارنا ہے جی ! سنا ہے وہ اسجد صاحب سے شادی پر تیار نہیں ہیں کسی اور “لڑکے” سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔”ناصرہ نے لڑکے پر زور دیتے ہوئے معنی خیز انداز میں سالار کو دیکھا۔
“بس اس بات پر۔”سالار نے لاپرواہی سے کہا۔
“یہ کوئی چھوٹی بات تھوڑی ہے جی ، ان کے پورے گھر میں طوفان مچا ہوا ہے۔شادی کی تاریخ طے ہو چکی ہے ، کارڈ آ چکے ہیں اور اب امامہ بی بی بضد ہیں کہ وہ اسجد صاحب سے شادی نہیں کریں گی۔بس اسی بات پر ہاشم صاحب نے ان کی پٹائی کی۔”
“یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس پر کسی کو مارا جائے۔”وہ اپنی کتابوں میں مصروف تھا۔
“یہ تو آپ کہہ رہے ہیں نا۔۔۔۔۔ان لوگوں کے لیے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔”ناصرہ نے اسی طرح صفائی کرتے ہوئے تبصرہ کیا۔”میں تو بڑی دکھی ہوں ! امامہ بی بی کے لیے۔بڑی اچھی ہیں ، ادب لحاظ والی۔۔۔۔۔اور اب دیکھیں۔۔۔۔۔کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے ان پر۔ہاشم صاحب نے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔میری بیٹی روز ان کا کمرہ صاف کرتی ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ بتاتی ہے کہ ان کا تو چہرہ ہی اُتر کر رہ گیا ہے۔”
ناصرہ اسی طرح بول رہی تھی۔شاید وہ شعوری طور پر یہ کوشش کر رہی تھی کہ سالار اسے اپنا اور امامہ کا حمایتی اور طرف دار سمجھتے ہوئے کوئی راز کہہ دے مگر سالار احمق نہیں تھا اور اسے ناصرہ کی اس نام نہاد ہمدردی سے کوئی دلچسپی تھی بھی نہیں۔اگر امامہ کی پٹائی ہو رہی تھی اور اسے کچھ تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو اس سے اس کا کیا تعلق تھا ، مگر اسے اس صورت ِحال پر ہنسی ضرور آ رہی تھی۔کیا اس دور میں بھی کوئی اس عمر کی اولاد پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے اور وہ بھی ہاشم مبین احمد جیسے امیر طبقے کا آدمی ۔۔۔۔۔حیرانی کی بات تھی۔۔۔۔۔”
سوچ کی ایک ہی رُو میں بہت سے متضاد خیالات بہ رہے تھے۔
ناصرہ کچھ دیر اسی طرح بولتی اپنا کام کرتی رہی مگر پھر جب اس نے دیکھا کہ سالار اس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا اور اپنے کام میں مصروف ہو چکا ہے تو وہ قدرے مایوس ہو کر خاموش ہو گئی۔”یہ پہلے محبت کرنے والے تھے ، جن کا رویہ بےحد عجیب تھا۔۔۔۔۔کوئی اضطراب۔۔۔۔۔ بےچینی اور پریشانی تو ان دونوں کے درمیان نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔ایک دوسرے کی تکلیف کا بھی سن کر ۔۔۔۔۔شاید امامہ بی بی بھی ان کے بارے میں اس طرح کی کوئی بات سن کر اسی طرح مسکرائیں ، کون جانتا ہے۔”
ناصرہ نے شیلف پر پڑی ایک تصویر اٹھا کر صاف کی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ اس کی زندگی کے سب سے مشکل اور تکلیف دہ فیصلوں میں سے ایک تھا مگر اس کے علاوہ اس کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ہاشم مبین احمد اسے کہاں لے جاتے اور پھر کس طرح اسے طلاق دلوا کر اس کی شادی اسجد سے کرتے ، وہ نہیں جانتی تھی۔واحد چیز جو وہ جانتی تھی وہ یہ حقیقت تھی کہ ایک بار وہ اسے کہیں اور لے گئے تو پھر اس کے پاس رہائی اور فرار کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اسے جان سے کبھی نہیں ماریں گے مگر زندہ رہ کر اس طرح کی زندگی گزارنا زیادہ مشکل ہو جاتا ، جیسی زندگی کی وہ اس وقت توقع اور تصور کر رہی تھی۔
ہاشم مبین احمد کے چلے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک بیٹھ کر روتی رہی اور پھر اس نے پہلی بار اپنے حالات پر غور کرنا شروع کیا۔اسے گھر سے صبح ہونے سے پہلے پہلے نکلنا تھا اور نکل کر کسی محفوظ جگہ پر جا کر پہنچنا تھا۔محفوظ جگہ۔۔۔۔۔؟اس کے ذہن میں ایک بار پھر جلال انصر کا خیال آیا ، اس وقت صرف وہی شخص تھا جو اسے صحیح معنوں میں تحفظ دے سکتا تھا۔ہو سکتا ہے مجھے اپنے سامنے دیکھ کر اس کا فیصلہ اور رویہ بدل جائے ، وہ اپنے فیصلے پر غور کرنے پر مجبور ہو جائے ، ہو سکتا ہے وہ مجھے سہارا اور تحفظ دینے پر تیار ہو جائے ، اس کے والدین کو مجھ پر ترس آ جائے۔
ایک موہوم سی اُمید اس کے دل میں اُبھر رہی تھی۔وہ مدد نہیں بھی کرتے تب بھی کم از کم میں آزاد تو ہوں گی۔اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزار تو سکوں گی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں یہاں سے کیسے نکلوں گی اور جاؤں گی کہاں۔۔۔۔۔؟
وہ بہت دیر تک پریشانی کے عالم میں بیٹھی رہی ، اسے ایک بار پھر سالار کا خیال آیا۔
“اگر میں کسی طرح اس کے گھر پہنچ جاؤں تو وہ میری مدد کر سکتا ہے۔”
اس نے سالار کے موبائل پر اس کا نمبر ملایا۔موبائل آف تھا ، کئی بار کال ملائی لیکن اس سے رابطہ نہ ہو سکا۔امامہ نے موبائل بند کر دیا۔اس نے ایک بیگ میں اپنے چند جوڑے ، کپڑے اور دوسری چیزیں رکھ لیں۔اس کے پاس کچھ زیورات اور رقم بھی تھی ، اس نے انہیں بھی اپنے بیگ میں رکھ لیا پھر جتنی بھی قیمتی چیزیں اس کے پاس تھیں ، جنہیں وہ آسانی سے ساتھ لے جا سکتی تھی اور بعد میں بیچ کر پیسے حاصل کر سکتی تھی وہ انہیں اپنے بیگ میں رکھتی گئی۔بیگ بند کرنے کے بعد اس نے اپنے کپڑے تبدیل کیے اور پھر دو نفل ادا کیے۔
اس کا دل بےحد بوجھل ہو رہا تھا۔بےسکونی اور اضطراب نے اس کے پورے وجود کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔آنسو بہا کر بھی اس کے دل کا بوجھ کم نہیں ہوا تھا۔نوافل ادا کرنے کے بعد جتنی آیات اور سورتیں اسے زبانی یاد تھیں اس نے وہ ساری پڑھ لیں۔
بیگ لے کر اپنے کمرے کی لائٹ بند کر کے وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔لاؤنج کی ایک لائٹ کے علاوہ ساری لائٹیں آف تھیں۔وہاں زیادہ روشنی نہیں تھی۔وہ محتاط انداز میں چلتے ہوئے سیڑھیاں اُتر کر نیچے آ گئی اور پھر کچن کی طرف چلی گئی۔کچن تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ محتاط انداز میں چیزوں کو ٹٹولتے ہوئے کچن کے اس دروازے کی طرف بڑھ گئی جو باہر لان میں کھلتا تھا۔عقبی لان کے اس حصے میں کچھ سبزیاں لگائی گئی تھیں اور اس گھر میں کچن کا وہ دروازہ واحد دروازہ تھا جسے لاک نہیں کیا جاتا تھا ، صرف چٹخنی لگا دی جاتی تھی۔دروازہ اس رات بھی لاک نہیں تھا۔وہ آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔کچھ فاصلے پر سرونٹ کوارٹرز تھے ، وہ بےحد محتاط انداز میں چلتے ہوئے لان عبور کر کے اپنے اور سالار کے گھر کی درمیانی دیوار تک پہنچ گئی۔دیوار بہت زیادہ بلند نہیں تھی ، اس نے آہستگی سے بیگ دوسری طرف پھینک دیا اور پھر کچھ جدوجہد کے بعد خود بھی دیوار پھلانگنے میں کامیاب ہو گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: