Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 11

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 11

–**–**–

گہری نیند کے عالم میں سالار نے کھٹکے کی آواز سنی تھی پھر وہ آواز دستک کی آواز میں تبدیل ہو گئی تھی۔رُک رُک کر۔۔۔۔۔مگر مسلسل کی جانے والی دستک کی آواز ۔۔۔۔۔وہ اوندھے منہ پیٹ کے بل سو رہا تھا۔دستک کی اس آواز نے اس کی نیند توڑ دی تھی۔
وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور بیڈ پر بیٹھے بیٹھے اس نے تاریکی میں اپنے چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کی۔خوف کی ایک لہر اس کے اندر سرایت کر گئی۔وہ آواز کھڑکیوں کی طرف سے آ رہی تھی۔یوں جیسے کوئی ان کھڑکیوں کو بجا رہا تھا مگر بہت آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔یا پھر شاید کوئی ان کھڑکیوں کو ٹٹولتے ہوئے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔سالار کے ذہن میں پہلا خیال کسی چور کا آیا تھا ، وہ سلائیڈنگ ونڈوز تھیں اور بدقسمتی سے وہاں کوئی گرل نہیں تھی۔اس کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کی گئی تھی کیونکہ وہ امپورٹڈ گلاس کی بنی ہوئی تھیں جنھیں آسانی سے توڑا یا کاٹا نہیں جا سکتا تھا اور انہیں صرف اندر سے کھولا جا سکتا تھا۔گھر کے چاروں طرف موجود لان میں ویسے بھی رات کو کتے کھلے ہوتے تھے اور ان کے ساتھ تین گارڈز بھی ہوتے تھے۔۔۔۔۔مگر ان تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود اس وقت اس کھڑکی کے دوسری طرف موجود چھوٹے سے برآمدے میں کوئی موجود تھا جو اس کھڑکی کو کھولنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
اپنے بیڈ سے دبے قدموں اٹھ کر وہ تاریکی میں ہی کھڑکی کی طرف آیا جس طرف سے آواز آ رہی تھی۔وہ اس کے بالکل مخالف سمت گیا اور بہت احتیاط کے ساتھ اس نے پردے کے ایک سرے کو تھوڑا سا اٹھاتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔لان میں لگی روشنیوں میں اس نے کھڑکی کے سامنے جسے کھڑا دیکھا تھا اس نے اسے ہکا بکا کر دیا تھا۔
“یہ پاگل ہے۔”بےاختیار اس کے منہ سے نکلا۔اس وقت اگر لان میں پھرتے چار غیر ملکی نسل کے کتے اسے دیکھ لیتے تو سالار یا کسی بھی دوسرے کے پہنچنے سے پہلے وہ اسے چیر پھاڑ چکے ہوتے اور اگر کہیں گارڈز میں سے کسی نے اسے وہاں دیکھا ہوتا تو بھی وہ تفتیش یا تحقیق پر وقت ضائع کرنے سے پہلے اسے شوٹ کر چکے ہوتے مگر وہ اس وقت بالکل محفوظ وہاں کھڑی تھی اور یقیناً اپنے گھر کی دیوار پھلانگ کر یہاں آئی تھی۔
ہونٹ بھینچے اس نے کمرے کی لائٹ آن کی۔لائٹ آن ہوتے ہی دستک کی آواز رُک گئی۔کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔پردے کھینچتے ہی اس نے سلائیڈنگ ونڈو کو ہٹا دیا۔
“اندر آؤ جلدی۔”سالار نے تیزی سے امامہ سے کہا۔وہ کچھ نروس ہو کر کھڑکی سے اندر آ گئی۔اس کے ہاتھ میں ایک بیگ بھی تھا۔
پردے برابر کرتے ہی سالار نے مڑکر اس سے کہا۔
“فارگاڈسیک امامہ ! تم پاگل ہو۔”امامہ نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔وہ اپنا بیگ اپنے پیروں میں رکھ رہی تھی۔
“تم دیوار کراس کر کے آئی ہو؟”
“ہاں۔”
“تمہیں گارڈز یا کتوں میں سے کوئی دیکھ لیتا تو۔۔۔۔۔اس وقت باہر تمہاری لاش پڑی ہوتی۔”
“میں نے تمہیں بہت دفعہ رنگ کیا ، تمہارا موبائل آف تھا ، کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا میرے پاس۔”
سالار نے پہلی بار اس کا چہرہ غور سے دیکھا۔اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور چہرہ ستا ہوا تھا۔وہ بڑی سی سفید چادر لپیٹے ہوئے تھے مگر اس چادر اور اس کے کپڑوں پر جگہ جگہ مٹی کے داغ تھے۔
“تم مجھے لاہور چھوڑ کر آ سکتے ہو؟”وہ کمرے کے وسط میں کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی۔
“اس وقت؟” اس نے حیرانی سے کہا۔
“ہاں ، ابھی اسی وقت۔میرے پاس وقت نہیں ہے۔”
سالار نے تعجب کے عالم میں وال کلاک پر ایک نظر ڈالی۔”وکیل نے تمہارے گھر فون کیا تھا ، تمہارا مسئلہ حل نہیں ہوا؟”
امامہ نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ، وہ لوگ مجھے صبح کہیں بھجوا رہے ہیں۔میں تمہیں اسی لیے سارا دن فون کرتی رہی مگر تم نے موبائل آن نہیں کیا۔میں چاہتی تھی تم وکیل سے کہو کہ وہ بیلف کے ساتھ آ کر مجھے وہاں سے آزاد کرائے مگر تم سے کانٹیکٹ نہیں ہوا اور کل اگر تم سے کانٹیکٹ ہوتا بھی تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ لوگ اس سے پہلے ہی مجھے کہیں شفٹ کر دیتے اور یہ ضروری تو نہیں کہ مجھے یہ پتا ہوتا کہ وہ مجھے کہاں شفٹ کر رہے ہیں۔”
سالار نے جماہی لی۔اسے نیند آ رہی تھی۔”تم بیٹھ جاؤ۔”اس نے امامہ سے کہا۔وہ ابھی تک کھڑی تھی۔
“تم اگر مجھے لاہور نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم بس اسٹینڈ تک پہنچا دو ، میں وہاں سے خود لاہور چلی جاؤں گی۔”اس نے سالار کو نیند میں دیکھ کر کہا۔”میرا اندازہ ہے کہ اس وقت تو کوئی گاڑی لاہور نہیں جا رہی ہو گی۔”
“میں تمہیں صبح۔۔۔۔۔”امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
“نہیں ، صبح نہیں۔میں صبح تک یہاں سے نکل جانا چاہتی ہوں۔اگر لاہور کی گاڑی نہیں ملی تو میں کسی اور شہر کی گاڑی میں بیٹھ جاؤں گی پھر وہاں سے لاہور چلی جاؤں گی۔”
“تم بیٹھو تو سہی۔”سالار نے اس سے ایک بار پھر کہا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی۔سالار خود ہی اپنے بیڈ کی پائینتی پر بیٹھ گیا۔
“لاہور تم کہاں جاؤ گی؟”اس نے پوچھا۔
“جلال کے پاس۔”
“مگر وہ تو تم سے شادی سے انکار کر چکا ہے۔”
“میں پھر بھی اس کے پاس جاؤں گی ، اسے مجھ سے محبت ہے۔وہ مجھ کو اس طرح بےیارومددگار نہیں چھوڑ سکتا۔میں اس سے اور اس کے گھر والوں سے ریکویسٹ کروں گی۔میں جانتی ہوں وہ میری بات مان لیں گے ، وہ میری صورت ِحال کو سمجھ لیں گے۔”
“مگر تم تو مجھ سے شادی کر چکی ہو۔”امامہ چونک کر سالار کا چہرہ دیکھنے لگی۔
“پیپر میرج ہے وہ۔۔۔۔۔میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں مجبوراً نکاح کر رہی ہوں ، شادی تو نہیں ہے یہ۔”
وہ اسے پلکیں جھپکائے بغیر گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔”تم جانتی ہو ، میں آج لاہور گیا تھا جلال کے پاس۔”
امامہ کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔”تم نے اسے میری پریشانی اور صورت ِحال کے بارے میں بتایا؟”
“نہیں۔”سالار نے نفی میں سر ہلایا۔
“کیوں؟”
“جلال نے شادی کر لی ہے۔”سالار نے لاپرواہی سے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا۔وہ سانس لینا بھول گئی۔پلکیں جھپکائے بغیر وہ کسی بت کی طرح اسے دیکھنے لگی۔
“تین دن ہو گئے ہیں اس کی شادی کو ، کل پرسوں تک وہ سیر و تفریح کے لئے نادرن ایریاز کی طرف جا رہا ہے۔اس نے میری کوئی بات سننے سے پہلے ہی مجھے یہ سب کچھ بتانا شروع کر دیا تھا۔شاید وہ چاہتا تھا کہ میں اب تمہارے بارے میں بات نہ کروں۔ اس کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے۔”سالار بات کرتے کرتے رُک گیا۔”میرا خیال ہے کہ اُس کے گھر والوں نے تمہارے مسئلے کی وجہ سے ہی اس کی اس طرح اچانک شادی کی ہے۔”وہ یکے بعد دیگرے جھوٹ پر جھوٹ بولتا جا رہا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آ رہا۔”جیسے کسی خلا سے آواز آئی تھی۔
“ہاں ، مجھے بھی یقین نہیں آیا تھا اور مجھے توقع تھی کہ تمہیں بھی یقین نہیں آئے گا مگر یہ سچ ہے۔تم فون کر کے اس سے بات کر سکتی ہو اس بارے میں۔”سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔
امامہ کو لگا وہ پہلی بار صحیح معنوں میں گھپ اندھیرے میں آ کھڑی ہوئی ہے۔روشنی کی وہ کرن جس کے تعاقب میں وہ اتنا عرصہ چلتی آئی ہے ، ایک دم گل ہو گئی ہے۔راستہ تو ایک طرف ، وہ اپنے وجود کو بھی نہیں دیکھ پا رہی تھی۔
“اب تم خود سوچ لو کہ لاہور جا کر تم کیا کرو گی۔وہ تو اب تم سے شادی کر سکتا ہے ، نہ اس کے گھر والے تمہیں پناہ دے سکتے ہیں۔بہتر ہے تم واپس چلی جاؤ ، ابھی تمہارے گھر والوں کو پتا نہیں چلا ہو گا۔”
امامہ نے کہیں بہت دور سے سالار کی آواز آتی سنی۔وہ کچھ نا سمجھنے والے انداز میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
“مجھے لاہور چھوڑ آؤ۔”وہ بڑبڑائی۔
“جلال کے پاس جاؤ گی؟”
“نہیں ، اس کے پاس نہیں جاؤں گی مگر میں اپنے گھر نہیں رہ سکتی۔”
وہ یک دم صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔سالار نے ایک سانس لے کر اُلجھن بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
“یا پھر مجھے گیٹ تک چھوڑ آؤ ، میں خود چلی جاتی ہوں۔تم چوکیدار سے کہو وہ مجھے باہر جانے دے۔”اس نے بیگ اٹھا لیا۔
“تمہیں اندازہ ہے کہ یہاں سے بس اسٹینڈ کتنی دور ہے۔اتنی دھند اور سردی میں تم پیدل وہاں تک جا سکو گی۔”
“جب اور کچھ نہیں رہا میرے پاس تو دھند اور سردی سے مجھے کیا ہو گا۔”سالار نے اسے گیلی آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کو رگڑ رہی تھی۔سالار اس کے ساتھ کہیں جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔لاہور تو بہت دور کی بات تھی ، اسے ابھی بھی نیند آ رہی تھی اور وہ سامنے کھڑی لڑکی کو ناپسند کرتا تھا۔
“ٹھہرو ، میں چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔”وہ نہیں جانتا اس کی زبان سے جملہ کیوں اور کیسے نکلا۔
امامہ نے اسے ڈریسنگ روم کی طرف جاتے دیکھا۔وہ کچھ دیر بعد باہر نکلا تو شب خوابی کے لباس کے بجائے ایک جینز اور سویٹر میں ملبوس تھا۔اپنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے اس نے کی چین اور گھڑی کے ساتھ ساتھ اپنا والٹ بھی اٹھایا۔امامہ کے قریب آ کر اس نے بیگ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“نہیں ، میں خود اٹھا لوں گی۔”
“اٹھا لیتا ہوں۔”اس نے بیگ لے کر کندھے پر ڈال دیا۔وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے پورچ میں آ گئے۔سالار نے اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور بیگ کو پچھلی سیٹ پر رکھ دیا۔
گاڑی گیٹ کی طرف آتے دیکھ کر چوکیدار نے خود ہی گیٹ کھول دیا تھا مگر اس کے قریب سے گزرتے ہوئے سالار نے اس کی آنکھوں میں اس حیرت کو دیکھ لیا تھا جو اس کی نظروں میں رات کے اس وقت فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ کو دیکھ کر آئی تھی۔یقیناً وہ حیران ہوا ہو گا کہ وہ لڑکی اس وقت اس گھر میں کہاں سے آئی تھی۔
“تم مجھے بس اسٹینڈ پر چھوڑو گے؟”مین روڈ پر آتے ہی امامہ نے اس سے پوچھا۔سالار نے ایک نظر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“نہیں ، میں تمہیں لاہور لے جا رہا ہوں۔”اس کی نظریں سڑک پر مرکوز تھیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گاڑی اس بڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی جو تقریباً سنسان تھی۔ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
اسٹئیرنگ پر دایاں ہاتھ رکھے اس نے بائیں ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھ کر جماہی روکی اور نیند کے غلبے کو بھگانے کی کوشش کی۔اس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ بےآواز رو رہی تھی اور سالار اس بات سے باخبر تھا۔وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور اپنی ناک رگڑ لیتی۔۔۔۔۔اور پھر سامنے ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جما کر رونا شروع کر دیتی۔
سالار وقفے وقفے سے اس پر اچٹتی نظر ڈالتا رہا۔اس نے امامہ کو کوئی تسلی دینے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی کچھ دیر آنسو بہا کر خاموش ہو جائے گی ، مگر جب آدھ گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسی رفتار سے روتی رہی تو وہ کچھ اُکتانے لگا۔
“اگر تمہیں گھر سے اس طرح بھاگ آنے پر اتنا پچھتاوا ہونا تھا تو پھر تمہیں گھر سے بھاگنا ہی نہیں چاہئیے تھا۔”
سالار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔امامہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
“ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ، ابھی تو شاید تمہارے گھر میں کسی کو تمہاری غیر موجودگی کا پتا بھی نہیں چلا ہو گا۔”اس نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کے بعد اسے مشورہ دیا۔
“مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔”اس بار اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے بھرائی ہوئی مگر مستحکم آواز میں کہا۔
“”تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟”سالار نے فوراً پوچھا۔
“تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”وہ ایک بار پھر آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔سالار نے گردن موڑ کر اسے غور سے دیکھا اور پھر گردن سیدھی کر لی۔
“لاہور میں کس کے پاس جاؤ گی؟”
“پتا نہیں۔”امامہ کے جواب پر سالار نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب۔۔۔۔۔تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
“فی الحال تو نہیں۔”
“تو پھر آخر تم لاہور جا ہی کیوں رہی ہو؟”
“تو پھر اور کہاں جاؤں؟”
“تم اسلام آباد میں ہی رہ سکتی تھیں۔”
“کس کے پاس؟”
“لاہور میں بھی تو کوئی نہیں ہے جس کے پاس تم رہ سکو۔۔۔۔۔اور وہ بھی مستقل۔۔۔۔۔جلال کے علاوہ۔”سالار نے آخری تین لفظوں پر زور دیتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“اس کے پاس جا رہی ہو تم۔”کچھ دیر بعد اس نے قدرے چھبتے ہوئے انداز میں کہا۔
“نہیں ، جلال میری زندگی سے نکل چکا ہے”سالار اندازہ نہیں کر سکا کہ اس کی آواز میں مایوسی زیادہ تھی یا افسردگی۔”اس کے پاس کیسے جا سکتی ہوں میں۔”
“تو پھر اور کہاں جاؤ گی؟”سالار نے ایک بار پھر تجسس کے عالم میں پوچھا۔
“یہ تو میں لاہور جانے پر ہی طے کروں گی کہ مجھے کہاں جانا ہے ، کس کے پاس جانا ہے۔”امامہ نے کہا۔
سالار نے کچھ بےیقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔کیا واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا یا پھر وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی۔گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
“تمہارا فیانسی۔۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔۔ہاں اسجد۔۔۔۔۔کافی اچھا ، ہینڈسم آدمی ہے۔”ایک بار پھر سالار نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔”اور یہ جو دوسرا آدمی تھا۔۔۔۔۔جلال۔۔۔۔۔اس کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔کچھ زیادتی نہیں کر دی تم نے اسجد کے ساتھ؟”
امامہ نے اس کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔وہ صرف سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔سالار کچھ دیر گردن موڑ کر اس کے جواب کے انتظار میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر اسے احساس ہو گیا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔
“میں تمہیں سمجھ نہیں پایا۔۔۔۔۔جو کچھ تم کر رہی ہو ، اسے بھی نہیں۔۔۔۔۔تمہاری حرکتیں بہت۔۔۔۔۔بہت عجیب ہیں۔۔۔۔۔اور تم اپنی حرکتوں سے زیادہ عجیب ہو۔”سالار نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
اس بار امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“کیا تمہاری حرکتوں سے زیادہ عجیب ہیں میری حرکتیں۔۔۔۔۔اور کیا میں تم سے زیادہ عجیب ہوں۔۔۔۔۔”بڑے دھیمے مگر مستحکم لہجے میں پوچھے گئے اس سوال نے چند لمحوں کے لیے سالار کو لاجواب کر دیا تھا۔
“میری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔۔۔۔۔اور میں کس طرح عجیب ہوں؟”چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سالار نے کہا۔
“تم جانتے ہو ، تمہاری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔”امامہ نے واپس ونڈ اسکرین کی طرف گردن موڑتے ہوئے کہا۔
“یقیناً میری خود کشی کی ہی بات کر رہی ہو تم۔”سالار نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔”حالانکہ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا ، نہ ہی میں خود کشی کی کوشش کر رہا ہوں۔میں تو صرف ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔”
“کیسا تجربہ۔”
“میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں ، مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا ، اس لئے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔”وہ بولتا رہا۔
“کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟”
“بہت آسان سا سوال ہے مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔”What is next to ecstasy?” اس نے گردن موڑ کر امامہ سے پوچھا۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔”Pain”
“And what is next to pain?” سالار نے بلاتوقف ایک اور سوال کیا۔
“Nothingness”
“What is next to nothingness?” سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔
“Hell” امامہ نے کہا۔
“And what is next to hell?” اس بار امامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
“What is next to hell?” سالار نے پھر اپنا سوال دُہرایا۔
“تمہیں خوف نہیں آتا۔”سالار نے امامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔
“کس چیز سے۔”سالار حیران ہوا۔
“Hell سے۔۔۔۔۔اس جگہ سے جس کے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔سب کچھ اس کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔معتوب اور مغضوب ہو جانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسس ہے۔”امامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔
“میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا۔۔۔۔۔سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔”سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
“فکر مت کرو۔۔۔۔۔آ جائے گی۔۔۔۔۔ایک وقت آئے گا۔۔۔۔۔جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آ جائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہو جائے گی۔۔۔۔۔تب تمہیں خوف آنے لگے گا۔۔۔۔۔موت سے بھی اور دوزخ سے بھی۔۔۔۔۔اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتا دے گا۔۔۔۔۔پھر تم کسی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کرو گے۔۔۔۔۔”What is next to ecstasy?” امامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔
“یہ تمہاری پیش گوئی ہے؟”سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ چھبتے ہوئے لہجے میں کہا۔
“نہیں۔”امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
“تجربہ؟”سالار نے گردن سیدھی کر لی۔
“ہاں ، یہ تمہارا تجربہ ہی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔کی تو تم نے خود کشی ہی ہے۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔میں نے اپنے طریقے سے یہ کوشش کی تھی۔۔۔۔۔تم نے اپنے طریقے سے کی ہے۔”سالار نے سرد مہری سے کہا۔
امامہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے۔گردن موڑ کر اس نے سالار کو دیکھا۔
“میں نے کوئی خود کشی نہیں کی ہے۔”
“کسی لڑکے کے لئے گھر سے بھاگنا ایک لڑکی کے لیے خود کشی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔وہ بھی اس صورت میں جب وہ لڑکا شادی پر تیار ہی نہ ہو۔۔۔۔۔دیکھو ، میں خود ایک لڑکا ہوں۔۔۔۔۔بہت براڈ مائنڈڈ اور لبرل ہوں اور میں بالکل برا نہیں سمجھتا اگر ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج یا شادی کر لے۔۔۔۔۔مگر وہ لڑکا اس کا ساتھ تو دے ، ایک ایسے لڑکے کے لئے گھر سے بھاگ جانا جو شادی کر چکا ہو۔۔۔۔۔چچ چچ ۔۔۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر تمہاری عمر میں بھاگنا ۔۔۔۔۔بالکل حماقت ہے۔”
“میں کسی لڑکے کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”
“جلال انصر ! ” سالار نے اس کی بات کاٹ کر اسے یاد دلایا۔
“میں اس کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”وہ بےاختیار بلند آواز میں چلائی۔سالار کا پاؤں بےاختیار بریک پر جا پڑا۔اس نے حیرانی سے امامہ کو دیکھا۔
“تو مجھ پر کیوں چلا رہی ہو ، مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔”سالار نے ناراضی سے کہا۔وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“یہ جو تمہاری مذہب والی تھیوری یا فلاسفی یا پوائنٹ یا جو بھی ہے I don’t get it کیا فرق پڑتا ہے۔اگر کوئی کسی اور پیغمبر کو ماننا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔زندگی ان فضول بحثوں کے علاوہ بھی کچھ ہے۔۔۔۔۔مذہب ، عقیدے یا فرقے پر لڑنا۔۔۔۔۔What rubbish ۔ ”
امامہ نے گردن موڑ کر ناراضی کے عالم میں اسے دیکھا۔”جو چیزیں تمہارے لیے فضول ہیں ، ضروری نہیں وہ ہر ایک کے لیے فضول ہوں۔میں اپنے مذہب پر قائم رہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس مذہب کے کسی شخص سےشادی کرنا چاہتی ہوں۔تو یہ میرا حق ہے کہ میں ایسا کروں ، میں تم سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتی جسے تم نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔اس لیے تم ان معاملات کے بارے میں اس طرح کے تبصرے مت کرو۔”
“مجھے حق ہے کہ میں جو چاہے کہوں Freedom of expression (اظہار کی آزادی) “سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔امامہ نے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی۔وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔سالار بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
“یہ جلال انصر۔۔۔۔۔میں اس کی بات کر رہا تھا۔”وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اپنے اسی موضوع کی طرف آ گیا۔
“اس میں کیا خاص بات ہے؟”اس نے گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا۔وہ اب ونڈاسکرین سے باہر سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
“جلال انصر اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔تم ایک خوبصورت لڑکی ہو ، میں حیران ہوں تم اس میں کیسے دلچسپی لینے لگیں۔۔۔۔۔کیا وہ بہت زیادہ۔۔۔۔۔intelligent ہے؟”اس نے امامہ سے پوچھا۔
امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔”intelligent ۔۔۔۔۔کیا مطلب؟”
“دیکھو یا تو کسی کی شکل اچھی لگتی ہے۔۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا تمہیں جلال کی شکل اچھی لگی ہو گی یا پھر کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ ۔۔۔۔۔پیسہ وغیرہ کسی میں دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔۔اب جلال کا فیملی بیک گراؤنڈ یا مالی حالت کے بارے میں ، میں نہیں جانتا مگر خود تمہارا فیملی بیک گراؤنڈ جتنا ساؤنڈ ہے ، یہ بھی تمہارے لیے اس میں دلچسپی کا باعث نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔واحد بچ جانے والی وجہ کسی کی ذہانت ، قابلیت وغیرہ ہے۔۔۔۔۔اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیا وہ بہت intelligent ہے۔۔۔۔۔کیا بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اور brilliant ہے؟”
“نہیں۔”امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
سالار کو مایوسی ہوئی۔”تو پھر۔۔۔۔۔تم اس کی طرف متوجہ کیسے ہوئیں۔”امامہ ونڈ اسکرین سے بار ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نظر آنے والی سڑک دیکھتی رہی۔سالار نے اپنا سوال دُہرایا۔صرف کندھے اچکاتے ہوئے وہ دوبارہ ڈرائیونگ پر توجہ دینے لگا۔گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
“وہ نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔”تقریباً پانچ منٹ بعد خاموشی ٹوٹی تھی۔ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں امامہ یوں بڑبڑائی تھی جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔سالار نے اس کا جملہ سن لیا تھا مگر اسے وہ ناقابلِ یقین لگا۔
“کیا؟”اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
“جلال نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔”اسی طرح ونڈ اسکرین سے باہر جھانکتے ہوئے کہا مگر اس بار اس کی آواز کچھ بلند تھی۔
“بس آواز کی وجہ سے۔۔۔۔۔سنگر ہے؟”سالار نے تبصرہ کیا۔
امامہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“پھر؟”
“بس وہ نعت ہی پڑھتا ہے۔۔۔۔۔اور بہت خوبصورت پڑھتا ہے۔”
سالار ہنسا۔تم صرف اس کے نعت پڑھنے کی وجہ سے اس سے محبت میں گرفتار ہوئیں۔میں کم از کم اس پر یقین نہیں کر سکتا۔”
امامہ نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔”تو مت کرو۔۔۔۔۔تمہارے یقین کی کس کو ضرورت ہے۔”اس کی آواز میں سرد مہری تھی۔گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
“فرض کرو یہ مان لیا جائے کہ تم واقعی اس کے نعت پڑھنے سے کچھ متاثر ہو کر اتنا آگے بڑھ گئیں۔۔۔۔۔تو یہ تو کوئی زیادہ پریکٹیکل بات نہیں ہے۔۔۔۔۔باربرا کارٹ لینڈ کے ناول والا رومانس ہی ہو گیا یہ تو۔۔۔۔۔اور تم ایک میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہو کر اتنا اممیچیور ذہن رکھتی ہو۔”سالار نے بےرحمی سے تبصرہ کیا۔
امامہ نے ایک بار پھر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔”میں بہت میچیور ہوں۔۔۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔۔پچھلے دو چار سالوں میں مجھ سے زیادہ پریکٹیکل ہو کر کسی نے چیزوں کو نہیں دیکھا ہو گا۔”
“میری رائے محفوظ ہے۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے تمہارا پریکٹیکل ہونا میرے پریکٹیکل ہونے سے مختلف ہو۔اینی وے میں جلال کی بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔وہ جو تم نعت وغیرہ کا ذکر کر رہی تھیں اس کی بات۔”
“بعض چیزوں پر اپنا اختیار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔میرا بھی نہیں ہے۔”اس بار امامہ کی آواز میں شکستگی تھی۔
“میں پھر تم سے اتفاق نہیں کرتا۔ہر چیز اپنے اختیار میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔کم از کم اپنی فیلنگز ، ایموشنز اور ایکشن پر انسان کو کنٹرول ہوتا ہے۔۔۔۔۔ہمیں پتا ہوتا ہے کہ ہم کس شخص کے لیے کس طرح کی فیلنگز ڈویلپ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔کیوں کر رہے ہیں ، اس کا بھی پتا ہوتا ہے۔۔۔۔۔اور جب تک ہم باقاعدہ ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ان فیلنگز کو ڈویلپ نہیں ہونے دیتے۔۔۔۔۔وہ نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔اس لئے یہ نہیں مان سکتا کہ ایسی چیزوں پر اپنا کنٹرول ہی نہ رہے۔”
اس نے بات کرتے ہوئے دوسری بار امامہ کو دیکھا اور اسے احساس ہوا کہ وہ اس کی بات نہیں سن رہی تھی۔وہ پلکیں جھپکائے بغیر ونڈاسکرین کو دیکھ رہی تھی یا شاید ونڈاسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔اس کی آنکھیں متورم تھیں اور اس وقت بھی ان میں نمی نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔وہ ذہنی طور پر کہیں اور موجود تھی۔۔۔۔۔کہاں یہ وہ نہیں جان سکتا تھا۔اسے وہ ایک بار پھر ابنارمل لگی۔
بہت دیر تک خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتے رہنے کے بعد سالار نے قدرے اکتا کر ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔
“نعت پڑھنے کے علاوہ اس میں اور کون سی کوالٹی ہے؟”اس کی آواز بلند تھی۔امامہ بےاختیار چونک گئی۔
“نعت پڑھنے کے علاوہ اس میں اور کیا کوالٹی ہے؟”سالار نے اپنا سوال دُہرایا۔
“ہر وہ کوالٹی جو ایک اچھے انسان۔۔۔۔۔اچھے مسلمان میں ہوتی ہے۔”امامہ نے کہا۔
“مثلاً ۔” سالار نے بھوئیں اچکاتے ہوئے کہا۔
“اور اگر نہ بھی ہوتیں تو بھی وہ شخص حضرے محمد ﷺ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ میں اسے اسی ایک کوالٹی کی خاطر کسی بھی دوسرے شخص پر ترجیح دیتی۔”
سالار عجیب سے انداز میں مسکرایا۔” what a logic ایسی باتوں کو میں واقعی ہی نہیں سمجھ سکتا۔”
اس نے گردن کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔
“تم اپنی پسند سے شادی کرو گے یا اپنے پیرنٹس کی پسند سے؟” امامہ نے اچانک اس سے پوچھا۔ وہ حیران ہوا۔
“آف کورس اپنی پسند سے۔۔۔۔۔ پیرنٹس کی پسند سے شادی والا زمانہ تو نہیں ہے یہ۔” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔
“تم بھی تو کسی کوالٹی کی وجہ سے ہی کوئی لڑکی پسند کرو گے۔۔۔۔۔ شکل و صورت کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ یا پھر جس سے تمہاری انڈراسٹینڈنگ ہو جائے گی اس سے۔۔۔۔۔ ایسا ہی ہو گا نا۔” وہ پوچھ رہی تھی۔
“یقیناً۔” سالار نے کہا۔
“میں بھی تو یہی کر رہی ہوں۔ اپنی اپنی ترجیحات کی بات ہوتی ہے۔ تم ان چیزوں کی بنا پر کسی سے شادی کرو گے، میں بھی ایسی ہی ایک وجہ کی بنا پر شادی کرنا چاہتی تھی جلال انصر سے۔۔۔۔۔” وہ رکی۔
“میری خواہش ہے، میری شادی اس سے ہو جو حضرت محمدﷺ سے مجھ سے زیادہ محبت رکھتا ہو۔ جلال انصر! آپ ﷺ سے مجھ سے زیادہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔ مجھے لگا، مجھے اسی شخص سے شادی کرنی چاہئیے۔۔۔۔۔ میں نے تم سے کہا بعض چیزوں پر اختیار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ بعض خواہشات۔۔۔۔۔ بس ان سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہوتا۔” اس نے افسردگی سے سر کو جھٹکتے ہوئے کہا۔
“اور اب جب وہ شادی کر چکا ہے تو اب تم کیا کرو گی؟”
“پتا نہیں۔”
“تم ایسا کرو۔۔۔۔۔ کہ تم کسی اور نعت پڑھنے والے کو ڈھونڈ لو، تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔” وہ مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسا۔
امامہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی۔ وہ سفاکی کی حد تک بے حس تھا۔” اس طرح کیوں دیکھ رہی وہ تم۔۔۔۔۔ میں مذاق کر رہا ہوں۔” وہ اب اپنی ہنسی پر قابو پا چکا تھا۔ امامہ نے کچھ کہنے کے بجائے گردن موڑ لی۔
“تمہیں تمہارے فادر نے مارا ہے۔” سالار نے پہلے کی طرح کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولنے کا معمول جاری رکھا۔
“تمہیں کس نے بتایا۔” امامہ نے اسے دیکھے بغیر کہا۔
“ملازمہ نے۔” سالار نے اطمینان سے جواب دیا۔” بیچاری یہ سمجھ رہی کے کہ تم جو یہ شادی سے انکار کر رہی ہو وہ میری وجہ سے کر رہی ہو۔ اس لئے اس نے مجھ تک تمہاری “حالتِ زار” بڑے درد ناک انداز میں پہنچائی تھی۔۔۔۔۔ مارا ہے تمہارے فادر نے؟”
“ہاں۔” اس نے بے تاثر انداز میں کہا۔
“کیوں؟”
“میں نے پوچھا نہیں۔۔۔۔۔ شاید وہ ناراض تھے اس لئے۔”
“تم نے کیوں مارنے دیا۔”
امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔” وہ میرے بابا ہیں، انہیں حق ہے، وہ مار سکتے ہیں مجھے۔”
سالار نے حیرانی سے اسے دیکھا۔” ان کی جگہ کوئی بھی ہوتا، وہ اس صورتِ حال میں یہی کرتا۔۔۔۔۔ مجھے یہ قابلِ اعتراض نہیں لگا۔” وہ بڑے ہموار لہجے میں کہہ رہی تھی۔
“اگر مارنے کا حق ہےا نہیں تو پھر تمہاری شادی کرنے کا بھی حق ہے۔۔۔۔۔ اس پر اتنا ہنگامہ کیوں کھڑا کر رہی ہو تم۔” سالار نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“کسی مسلمان سے کرتے۔۔۔۔۔ اور چاہے جہاں مرضی کر دیتے۔۔۔۔۔ میں کروا لیتی۔”
“چاہے وہ جلال انصر نہ ہوتا۔” استہزائیہ انداز میں کہا۔
“ہاں۔۔۔۔۔ اب بھی آخر کون سا ہو گئی ہے اس سے۔” اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی جھلملا رہی تھی۔
“تو تم ان سے یہ کہہ دیتیں۔”
“کہا تھا۔۔۔۔۔ تم سمجھتے ہو میں نے نہیں کہا ہو گا۔”
“مجھے ایک بات پر بہت حیرانی ہے۔” سالار نے چند لمحوں کے بعد کہا۔”آخر تم نے مجھے سے مدد لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔۔۔۔۔ بلکہ کیسے کر لیا۔ تم مجھے خاصا ناپسند کرتی تھیں۔” اس نے امامہ کی بات کا جواب دئیے بغیر بات جاری رکھی۔
“میرے پاس تمہارے علاوہ دوسرا کوئی آپشن تھا ہی نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔” میری اپنی کوئی فرینڈ اس طرح میری مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس طرح کوئی لڑکا کر سکتا تھا۔ اسجد کے علاوہ میں صرف جلال اور تم سے واقف تھی۔۔۔۔۔ اور سب سے قریب ترین صرف تم تھے جس سے میں فوری رابطہ کر سکتی تھی، اس لئے میں نے تم سے رابطہ کیا۔” وہ مدھم آواز میں رک رک کر بولتی رہی۔
“تمہیں یقین تھا کہ میں تمہاری مدد کروں گا؟”
“نہیں۔۔۔۔۔ میں نے صرف ایک رسک لیا تھا۔ یقین کیسے ہو سکتا تھا مجھے کہ تم میری مدد کرو گے۔ میں نے تمہیں بتایا نا! میرے پاس تمہارے علاوہ اور کوئی آپشن تھا ہی نہیں۔”
“یعنی تم نے ضرورت کے وقت گدھے کو باپ بنا لیا ہے۔” اس کے بے حد عجیب لہجے میں کئے گئے تبصرے نے یک دم امامہ کو خاموش ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ وہ بات منہ پر مارنے میں ماہر تھا مگر اس نے غلط بھی نہیں کہا تھا۔
“ویری انٹرسٹنگ۔” اس نے امامہ کے جواب کا انتظار کئے بغیر کہا جیسے اپنے تبصرے پر خود ہی محظوظ ہوا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میں گاڑی کچھ دیر کے لئے یہا ں روکنا چاہ رہا ہوں۔” سالار نے سڑک کے کنارے بنے ہوئے ایک سستے قسم کے ہوٹل اور سروس اسٹیشن کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں ذرا ٹائر چیک کروانا چاہ رہا ہوں۔گاڑی میں دوسرا ٹائر نہیں ہے، رستے میں اگر کہیں ٹائر فلیٹ ہو گیا تو بہت مسئلہ ہو گا۔”
امامہ نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ وہ گاڑی موڑ کر اندر لے گیا۔ اس وقت دور کہیں فجر کی اذان ہو رہی تھی۔ ہوٹل میں کام کرنے والے دو چار لوگوں کے علاوہ وہاں اور کوئی نہیں تھا۔ اسے گاڑی اندر لاتے دیکھ کر ایک آدمی باہر نکل آیا۔ شاید وہ گاڑی کی آواز سن کر آیا تھا۔ سالار گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گیا۔
وہ کچھ دیر سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی۔ اذان کی آواز کچھ زیادہ بلند ہو گئی تھی۔ امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کار کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکل آئی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر سالار نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔
“یہاں کتنی دیر رکنا ہے؟” وہ سالار سے پوچھ رہی تھی۔
“دس پندرہ منٹ۔۔۔۔۔ میں انجن بھی ایک دفعہ چیک کروانا چاہتا ہوں۔”
“میں نماز پڑھنا چاہتی ہوں، مجھے وضو کرنا ہے۔” اس نے سالار سے کہا۔ اس سے پہلے کہ سالار کچھ کہتا۔
اس آدمی نے بلند آواز میں اسے پکارتے ہوئے کہا۔
“باجی! وضو کرنا ہے تو اس ڈرم سے پانی لے لیں۔”
“اور وہ نماز کہاں پڑھے گی؟” سالار نے اس آدمی سے پوچھا۔
“یہ سامنے والے کمرے میں۔۔۔۔۔ میں جائے نماز دے دیتا ہوں۔” وہ اب پائپ اتار رہا تھا۔
“پہلے جائے نماز دے دوں پھر انجن آ کر چیک کرتا ہوں۔” اس آدمی نے اس کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
سالار نے دور سے امامہ کو اس ڈرم کے پاس کچھ تذبذب کی حالت میں کھڑے دیکھا۔ وہ لاشعوری طور پر آگے چلا آیا۔ وہ تارکول کا ایک بہت بڑا خالی ڈرم تھا جسے ایک ڈھکن سے کور کیا گیا تھا۔
“اس میں سے پانی کیسے لوں؟” امامہ نے قدموں کی چاپ پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سالار نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ کچھ فاصلے پر ایک بالٹی پڑی ہوئی تھی۔ وہ اس بالٹی کو اٹھا لایا۔
“میرا خیال ہے یہ ا سی بالٹی کو پانی نکالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔” اس نے امامہ سے کہتے ہوئے ڈرم کا ڈھکن اٹھایا اور اس میں سے پانی بالٹی میں بھر لیا۔
“میں کرا دیتا ہوں وضو۔” سالار کو اس کے چہرے پر تذبذب نظر آیا مگر پھر کچھ کہنے کے بجائے وہ اپنی آستین اوپر کرنے لگی۔ اپنی گھڑی اتار کر اس نے سالار کی طرف بڑھا دی اور پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی۔ سالار نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھوں پر کچھ پانی ڈالا۔ امامہ کو بے اختیار جیسے کرنٹ لگا۔ اس نے یک دم اپنے ہاتھ پیچھے کر لئے۔
“کیا ہوا؟” سالار نے کچھ حیرانی سے کہا۔
“کچھ نہیں، پانی بہت ٹھنڈا ہے۔۔۔۔۔ تم پانی ڈالو۔” وہ ایک بار پھر ہاتھ پھیلا رہی تھی۔
سالار نے پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ وہ وضو کرنے لگی۔ پہلی بار سالار نے اس کے ہاتھوں کو کہنیوں تک دیکھا۔ کچھ دیر کے لئے وہ اس کی کلائیوں سے نظر نہیں ہٹا سکا، پھر اس کی نظر اس کی کلائیوں سے اس کے چہرے پر چلی گئی۔ وہ اپنی چادر کو ہٹائے بغیر بڑی احتیاط کے ساتھ سر، کانوں اور گردن کا مسح کر رہی تھی اور سالار کی نظریں اس کے ہاتھوں کی حرکت کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ اس کی گردن میں موجود سونے کی چین اور اس میں لٹکنے والے موتی کو بھی اس نے پہلی بار دریافت کیا تھا۔ سالار نے اسے جتنی بار دیکھا تھا اسی طرح کی چادر میں دیکھا تھا۔ چادر کا رنگ مختلف ہوتا مگر وہ ہمیشہ اسے ایک ہی انداز میں لپیٹے ہوتی۔ وہ کبھی اس کے خدوخال پر غور نہیں کر سکا۔
“پاؤں پر پانی میں خود ڈال لیتی ہوں۔” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سالار کے ہاتھ سے اس بالٹی کو پکڑ لیا جو اب تقریباً خالی ہونے والی تھی۔ سالار چند قدم پیچھے ہٹ کر محویت سے دیکھنے لگا۔
وہ وضو کر چکی تو سالار کی محویت ختم ہوئی۔ اس نے گھڑی ا س کی طرف بڑھا دی۔
آگے پیچھے چلتے ہوئے وہ اس کمرے تک آئے جہاں وہ آدمی گیا تھا۔ وہ آدمی جب تک کمرے میں ایک طرف مصلحٰے بچھا چکا تھا۔ امامہ خاموشی سے جائے نماز کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لاہور کی حدود میں داخل ہوتے ہی امامہ نے اس سے کہا۔” اب تم مجھے کسی بھی اسٹاپ پر اتار دو۔۔۔۔۔ میں چلی جاؤں گی۔”
“تم جہاں جانا چاہتی ہو، میں تمہیں وہاں چھوڑ دیتا ہوں۔ اتنی دھند میں کسی ٹرانسپورٹ کا انتظار کرتے تمہیں بہت وقت لگے گا۔” سڑکیں اس وقت تقریباً ویران تھیں، حالانکہ صبح ہو چکی تھی مگر دھند نے ہر چیز کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
“مجھے نہیں پتا، مجھے کہاں جانا ہے پھر تمہیں میں کس جگہ کا پتا بتاؤں ۔ ابھی تو شاید میں ہاسٹل جاؤں اور پھر وہاں۔۔۔۔۔” سالار نے اس کی بات کاٹ دی۔
“تو پھر میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ دیتا ہوں۔” کچھ فاصلہ اسی طرح خاموشی سے طے ہوا پھر ہاسٹل سے کچھ فاصلے پر امامہ نے اس سے کہا۔
“بس تم یہاں گاڑی روک دو، میں یہاں سے خود چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہاسٹل نہیں جانا چاہتی۔” سالار نے سڑک کے کنارے گاڑی روک دی۔
“پچھلے کچھ ہفتوں میں تم نے میری بہت مدد کی ہے، میں اس کے لئے تمہارا شکریہ ادا کر نا چاہتی ہوں۔ تم میری مدد نہ کرتے تو آج میں یہاں نہ ہوتی۔” وہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔ “تمہارا موبائل ابھی میرے پاس ہے، مگر مجھے ابھی اس کی ضرورت ہے، میں کچھ عرصہ بعد اسے واپس بھجوا دوں گی۔”
“اس کی ضرورت نہیں، تم اسے رکھ سکتی ہو۔”
“میں کچھ دنوں بعد تم سے دوبارہ رابطہ کروں گی پھر تم مجھے طلاق کے پیپرز بھجوا دینا۔” وہ رکی۔
“میں امید کرتی ہوں کہ تم میرے پیرنٹس کو کچھ نہیں بتاؤ گے۔”
“یہ کہنے کی ضرورت تھی؟” سالار نے بھنوئیں اچکاتے ہوئے کہا۔” مجھے کچھ بتانا ہوتا تو میں بہت پہلے بتا چکا ہوتا۔” سالار نے قدرے سردمہری سے کہا۔” تم مجھے بہت برا لڑکا سمجھتی تھیں، کیا ابھی بھی تمہاری میرے بارے میں وہی رائے ہے یا تم نے اپنی رائے میں کچھ تبدیلی کی ہے۔” سالار نے اچانک تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا۔
“تمہیں نہیں لگتا کہ میں دراصل بہت اچھا لڑکا ہوں۔”
“ہو سکتا ہے۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔ سالار کو اس کی بات پر جیسے شاک لگا۔
“ہو سکتا ہے۔” وہ بے یقینی سے مسکرایا۔”ابھی بھی ہو سکتا ہے، تم بہت ناشکری ہو امامہ، میں نے تمہارے لئے اتنا کچھ کیا ہے جو اس زمانے میں کوئی لڑکا نہیں کرے گا اور تم پھر بھی مجھے اچھا ماننے پر تیار نہیں۔”
“میں ناشکری نہیں ہوں۔ مجھے اعتراف ہیں کہ تم نے مجھ پر بہت احسان کئے ہیں اور شاید تمہاری جگہ کوئی دوسرا کبھی نہ کرتا۔۔۔۔۔”
سالار نے اس کی بات کاٹ دی۔” تو میں اچھا ہوا نا۔”
وہ کچھ نہیں بولی صرف اسے دیکھتی رہی۔
“نہیں، مجھے پتا ہے تم یہی کہنا چاہتی ہو، حالانکہ مشرقی لڑکی کی خاموشی اس کا اقرار ہوتی ہے مگر تمہاری خاموشی تمہارا انکار ہوتی ہے۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا۔”
“ہم ایک فضول بحث کر رہے ہیں۔”
“ہو سکتا ہے۔” سالار نے کندھے اچکائے۔”مگر مجھے حیرانی ہے کہ تم۔۔۔۔۔”
اس بار امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔” تم نے میرے لئے یقیناً بہت کچھ کیا ہے۔۔۔۔۔ اور اگر میں تمہیں جانتی نہ ہوتی تو یقیناً میں تمہیں ایک بہت اچھا انسان سمجھتی اور کہہ بھی دیتی۔۔۔۔۔ مگر میں تمہیں اتنی اچھی طرح جانتی ہوں کہ میرے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ تم ایک اچھے انسان ہو۔۔۔۔۔”
وہ رکی۔ سالار پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتا رہا۔
“جو آدمی خود کشی کی کوشش کرتا ہو، شراب پیتا ہو، جس نے اپنا کمرہ عورتوں کی برہنہ تصویروں سے بھر رکھا ہو۔۔۔۔۔ وہ اچھا آدمی تو نہیں ہو سکتا۔”امامہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
“تم کسی ایسے آدمی کے پاس جاتیں جو یہ تینوں کام نہ کرتا مگر تمہاری مدد بھی نہ کرتا تو کیا تمہارے لئے وہ اچھا آدمی ہوتا؟” سالار نے تیز آواز میں کہا۔” جیسے جلال انصر؟”
امامہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔”ہاں، اس نے میری مدد نہیں کی، مجھ سے شادی نہیں کی مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ برا ہو گیا ہے۔ وہ اچھا آدمی ہے۔۔۔۔۔ ابھی بھی میرے نزدیک اچھا آدمی ہے۔”
“اور میں نے تمہاری مدد کی۔۔۔۔۔ تم سے شادی کی مگر یقیناً اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اچھا ہو گیا ہوں، میں برا آدمی ہوں۔” وہ عجیب سے انداز میں کہتے ہوئے مسکرایا۔”تمہارا خود اپنے بارے میں کیا خیال ہے امامہ۔۔۔۔۔ کیا تم اچھی لڑکی ہو؟”
اس نے اچانک چبھتے ہوئے انداز میں پوچھا اور پھر جواب کا انتظار کئے بغیر کہنے لگا۔
“میرے نزدیک تم بھی اچھی لڑکی نہیں ہو، تم بھی ایک لڑکے کے لئے اپنے گھر سے بھاگی ہو۔۔۔۔۔ اپنے منگیتر کو دھوکا دیا ہے تم نے۔۔۔۔۔ اپنی فیملی کی عزت کو خراب کیا ہے تم نے۔۔۔۔۔” سالار نے ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے صاف گوئی سے کہا۔
امامہ کی انکھو ں میں ہلکی سی نمی آ گئی۔”تم ٹھیک کہتے ہو، میں واقعی اچھی لڑکی نہیں ہوں۔ ابھی مجھے یہ جملہ بہت سے لوگوں سے سننا ہے۔”
“میں تمہیں بہت لمبی چوڑی وضاحت دے سکتی ہوں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں، تم ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے۔”
“فرض کرو، میں تمہیں لاہور نہ لے کر آتا کہیں اور لے جاتا پھر۔۔۔۔۔ مگر میں تمہیں بحفاظت یہاں لے آیا۔۔۔۔۔ یہ میرا تم پر کتنا بڑا احسان ہے، تمہیں اندازہ ہے اس کا۔”
امامہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے یقین تھا تم مجھے کہیں اور نہیں لے جاؤ گے۔”
وہ اس کی بات پر ہنسا۔”مجھ پر یقین تھا ۔۔۔۔۔ کیوں؟ میں تو ایک برا لڑکا ہوں۔”
“مجھے تم پر یقین نہیں تھا۔۔۔۔۔ اللہ پر یقین تھا۔” سالار کے ماتھے پر کچھ بل پڑ گئے۔
“میں نے اللہ اور اپنے پیغمبر ﷺ کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا ہے، یہ کبھی نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ مجھے تمہارے جیسے آدمی کے ہاتھوں رسوا کرتے، یہ ممکن ہی نہیں تھا۔”
“فرض کرو ایسا ہو جاتا۔” سالار مصر ہوا۔” میں ایسی بات کیوں فرض کروں جو نہیں ہوئی۔” وہ اپنی بات پر قائم تھی۔
“یعنی تم مجھے کسی قسم کا کوئی کریڈٹ نہیں دو گی۔” وہ مذاق اڑانے والے انداز میں مسکرایا۔
“اچھا فرض کرو میں اب تمہیں جانے نہیں دیتا تو تم کیا کرو گی۔ گاڑی کا دروازہ جب تک میں نہیں کھولوں گا، نہیں کھلے گا۔۔۔۔۔ یہ تم جانتی ہو۔۔۔۔۔ اب بتاؤ تم کیا کرو گی۔”
وہ یک ٹک اسے دیکھتی رہی۔” یا میں یہ کرتا ہوں۔”سالار نے ڈیش بورڈ پر پڑا ہوا اپنا موبائل اٹھایا اور اس پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔”کہ تمہارے گھر فون کر دیتا ہوں۔” اس نے موبائل کی سکرین کو اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ اس پر امامہ کے گھر کا نمبر تھا۔
“میں انہیں تمہارے بارے میں بتاتا ہوں کہ تم کہاں ہو، کس کے ساتھ ہو۔۔۔۔۔ پھر یہاں سے تمہیں سیدھا پولیس اسٹیشن لے جا کر ان کی تحویل میں دے دیتا ہوں۔۔۔۔۔ تو پھر تمہارے اعتقاد اور اعتبار کا کیا ہوا۔” وہ مذاق اڑانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔
امامہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔ سالار کو بے حد خوشی محسوس ہوئی۔ سالار نے موبائل آف کرتے ہوئے ایک بار پھر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
“کتنا بڑا احسان کر رہا ہوں میں تم پر کہ ایسا نہیں کر رہا۔” اس نے موبائل کو دوبادہ ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔” حالانکہ تم بے بس ہو، کچھ بھی نہیں کر سکتیں، اسی طرح رات کو میں تمہیں کہیں اور لے جاتا تو تم کیا کر لیتیں۔”
“میں تمہیں شوٹ کر دیتی۔” سالار نے حیرانی سے اسے دیکھا پھر قہقہہ مار کر ہنسا۔
“کیا کر دیتیں۔ میں۔۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔۔ شوٹ۔۔۔۔۔ کر ۔۔۔۔۔ دیتی۔”
اس نے اسی انداز میں رک رک کر اسے کہا۔ وہ اسٹیرئنگ پر دونوں ہاتھ رکھ کر کھلکھلا کر ہنسا۔
“کبھی زندگی میں پسٹل دیکھا بھی ہے تم نے۔” اس نے امامہ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
سالار نے اسے جھکتے اور اپنے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھا۔ جب وہ سیدھی ہوئی تو اس نے سالار سے کہا۔” شاید اسے کہتے ہیں۔”
سالار ہنسنا بھول گیا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں چھوٹے سائز کا ایک بہت خوبصورت اور قیمتی لیڈیز پستول تھا۔ سالار پستول پر اس کے ہاتھ کی گرفت دیکھ کر جان گیا تھا کہ وہ کسی اناڑی کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ اس نے بے یقینی سے امامہ کو دیکھا۔
“تم مجھے شوٹ کر سکتی تھیں؟”
“ہاں، میں تمہیں شوٹ کر سکتی تھی مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ تم نے مجھے کوئی دھوکا نہیں دیا۔”
اس نے مستحکم آواز میں کہا۔ اس نے پستول سالار کی طرف نہیں کیا تھا، صرف اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔
“گاڑی کا لاک۔۔۔۔۔ ” اس نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے سالار سے کہا۔ سالار نے غیر ارادی طور پر اپنی طرف موجود بٹن دبا کر لاک کھول دیا۔ امامہ نے دروازہ کھول دیا۔ وہ اب پستول اپنی گود میں موجود بیگ میں رکھ رہی تھی۔ دونوں کے درمیان مزید کوئی بات نہیں ہوئی۔ امامہ نے گاڑی سے باہر نکل کر اس کا دروازہ بند کر دیا۔ سالار نے اسے تیز قدموں کے ساتھ ایک قریب آتی ہوئی ویگن کی طرف جاتے اور پھر اس میں سوار ہوتے دیکھا۔
اس کی قوت مشاہدہ بہت تیز تھی۔۔۔۔۔ وہ کسی بھی شخص کے چہرے کو پڑھ سکتا تھا۔۔۔۔۔ اور اسے اس چیز پر بڑا زعم تھا۔۔۔۔۔ مگر وہاں اس دھندآ لود سڑک پر گاڑی پر بیٹھے ہوئے اس نے اعتراف کیا۔ وہ امامہ ہاشم کو نہیں جان سکا تھا۔۔۔۔۔ وہ اگلے کئی منٹ اسٹیرئنگ پر دونوں ہاتھ رکھے بے یقینی کے عالم میں وہیں بیٹھا رہا تھا۔ امامہ ہاشم کے لئے اس کی ناپسندیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔
وہ واپسی پر دھند کی پرواہ کئے بغیر پوری رفتار سے گاڑی چلا کر آیا تھا۔ پورا رستہ اس کا ذہن اسی ادھیڑ بن میں لگا ہوا تھا کہ اس نے پستول آخر کہاں سے نکالا تھا۔ وہ پورے وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ جس وقت وہ وضو کے لئے پاؤں دھو رہی تھی اس وقت وہ پستول اس کی پنڈل کے ساتھ نہیں تھا ورنہ وہ ضرور اسے دیکھ لیتا۔ بعد میں نماز پڑھنے کے دوران بھی وہ بغور اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا رہا تھا، پستول تب بھی اس کی پنڈل کے ساتھ بندھا ہوا نہیں تھا۔ وہ برگر کھانے اور چائے پینے کے بعد گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی اور وہ کچھ دیر بعد گاڑی میں آیا تھا۔ وہ یقیناً گاڑی میں موجود اس کے بیگ میں ہی ہو گا۔ وہ اندازے لگاتا رہا۔
وہ جس وقت اپنے گھر پہنچا اس کا موڈ آف تھا۔ گیٹ سے گاڑی اندر لے جاتے ہوئے اس نے چوکیدار کو اپنی طرف بلایا۔”رات کو میں جس لڑکی کے ساتھ یہاں سے گیا تھا تم اس کے بارے میں کسی کو نہیں بتاؤ گے بلکہ میں رات کو کہیں نہیں گیا، سمجھ میں آیا۔” اس نے تحکمانہ انداز میں کہا۔
“جی۔۔۔۔۔ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔” چوکیدار نے فرمانبرداری سے سر ہلایا۔ وہ احمق نہیں تھا کہ ایسی چیزوں کے بارے میں کسی کو بتاتا پھرتا۔
اپنے کمرے میں آ کر وہ اطمینان کے ساتھ سو گیا۔ اس کا اس دن کہیں جانے کا ارادہ نہیں تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اس وقت گہری نیند میں تھا، جب اس نے اچانک کسی کو اپنے کمرے کے دروازے کو زور زور سے بجاتے سنا۔ وہ یک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔ دروازہ واقعی بج رہا تھا۔ اس نے مندی ہوئی نظروں سے وال کلاک کو دیکھا جو چار بجا رہا تھا۔ اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے وہ اپنے بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے دروازہ بجانے والے پر شدید غصہ آ رہا تھا۔ اسی غصے کے عالم میں اس نے بڑبڑاتے ہوئے ایک جھٹکے کے ساتھ دروازہ کھول دیا۔ باہر ملازم کھڑا تھا۔
“کیا تکلیف ہے تمہیں۔۔۔۔۔ کیوں اس طرح دروازہ بجا رہے ہو؟ دروازہ توڑنا چاہتے ہو تم؟” وہ دروازہ کھولتے ہی ملازم پر چلایا۔
“سالارصاحب باہر پولیس کھڑی ہے۔” ملازم نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔ سالار کا غصہ اور نیند ایک منٹ میں غائب ہو گئے۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں وہ پولیس کے وہاں آ جانے کی وجہ جان گیا تھا اور اس ان کی اور امامہ کے گھر والوں کی اس مستعدی پر حیرت ہوئی۔ آخر چند گھنٹوں میں سیدھے اس تک کیسے پہنچ گئے تھے۔
“کس لئے آئی ہے پولیس؟” اس نے اپنی آواز کو پرسکون رکھتے ہوئے بے تاثر چہرے کے ساتھ پوچھا۔
“یہ تو جی پتا نہیں، وہ بس کہہ رہے ہیں کہ آپ سے ملنا ہے،مگر چوکیدار نے گیٹ نہیں کھولا۔ اس نے ان سے کہہ دیا ہے کہ آپ گھر پر نہیں ہیں مگرا ن کے پاس آپ کے وارنٹ ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں اندر نہیں آنے دیا گیا تو وہ زبردستی اندر آ جائیں گے اور تمام لوگوں کو گرفتار کر کے لے جائیں گے۔”
سالار نے بے اختیار اطمینان بھرا سانس لیا۔ چوکیدار نے واقعی بڑی عقل مندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسے یقیناً یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ پولیس رات والی لڑکی کے معاملے میں ہی تفتیش کے لئے وہاں آئی تھی اس لئے اس نے نہ تو پولیس کو اندر آنے دیا نہ ہی انہیں یہ بتایا کہ سالار گھر پر موجود تھا۔
“تم فکر مت کرو۔ میں کچھ نہ کچھ کرتا ہوں۔”سالار نے ملازم سے کہا اور واپس اپنے بیڈ روم میں آگیا، وہ کسی عام شہری کا گھر ہوتا تو پولیس شاید دیواریں پھلانگ کر بھی اندر موجود ہوتی مگر اس وقت وارنٹ ہونے کے باوجود اس گھر کا سائز اور جس علاقے میں وہ واقع تھا انہیں خوف میں مبتلا کر رہے تھے۔ اگر امامہ کا خاندان بھی اثر ورسوخ والا نہیں ہوتا تو شاید اس وقت پولیس اس سیکٹر میں آنے اور خاص طور پر وارنٹ کے ساتھ آنے کی جرات ہی نہ کرتی مگر اس وقت پولیس کے سامنے آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورت تھی۔
سالار نے بیڈ روم کے اندر آتے ہی فون اٹھا کر کراچی سکندر عثمان کو فون کیا۔
“پاپا! ایک چھوٹا سا پرابلم ہو گیا ہے۔” اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
“یہاں ہمارے گھر کے باہر پولیس کھڑی ہے اور ان کے پاس میرے گرفتاری کے وارنٹ ہیں۔”
سکندر عثمان کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا۔
“کیوں۔۔۔۔۔؟”
“یہ تو نہیں پتا پاپا۔۔۔۔۔ میں سو رہا تھا، ملازم نے جگا کر مجھے بتایا، کیا میں جا کر پولیس والوں سے پوچھوں کہ وہ کس سلسلے میں مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟” سالارنے بڑی فرمانبرداری اور معصومیت کے ساتھ سکندر عثمان سے پوچھا۔
“نہیں، باہر نکلنے یا پولیس کو اندر بلوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنے کمرے میں ہی رہو۔ میں تھوڑی دیر بعد تمہیں رنگ کرتا ہوں۔” سکندر عثمان نے عجلت کے عالم میں موبائل بند کر دیا۔ سالار نے مطمئن ہو کر فون رکھ دیا وہ جانتا تھا کہ اب کچھ دیر بعد پولیس وہاں نہیں ہو گی اور واقعی ایسا ہی ہوا تھا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد ملازم نے آ کر اسے پولیس کے جانے کے بارے میں بتایا۔ ملازم ابھی اس سے بات کر ہی رہا تھا جب سکندر نے دوبارہ کال کی تھی۔
“پولیس چلی گئی ہے؟” سکندر نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
“ہاں چلی گئی ہے۔” سالار نے بڑے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔
“اب تم میری بات ٹھیک طرح سنو۔ میں اور تمہاری ممی رات کو کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ تم تب تک گھر سے کہیں نہیں نکلو گے۔۔۔۔۔ سنا تم نے۔” سالار کو ان کے بات کرنے کا انداز بہت عجیب سا لگا۔ انہوں نے بہت اکھڑ انداز اور سرد مہری سے اس سے بات کی تھی۔
“سن لیا۔۔۔۔۔” وہ دوسری طرف سے فون بند کر چکے تھے۔
سالار ابھی فون بند کر رہا تھا جب اس کی نظر اپنے کمرے کے کارپٹ پر پڑی۔ وہاں جوتے کے نشانات تھے اور اس نے دیکھا کہ ملازم بھی قدرے حیرانی کے عالم میں ان نشانات کو دیکھ رہا تھا جو کھڑکی سے قطار کی صورت میں بڑھ رہے تھے۔
“جوتے کے ان نشانات کو صاف کر دو۔” سالار نے تحکمانہ انداز میں کہا۔
ملازم کمرے سے باہر چلا گیا۔ سالار اٹھ کر کھڑکی کی طرف آ گیا اور اس نے وہ سلائیڈنگ ونڈو پوری طرح کھول دی۔ اس کا اندازہ ٹھیک تھا۔ جوتے کے وہ مٹی والے نشانات باہر برآمدے میں بھی موجود تھے۔ امامہ اپنی کیاریوں سے گزر کر دیوار پھلانگ کر ان کی کیاریوں میں کودی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کے جوتے کے تلے مٹی سے بھر گئے تھے۔ اوس کی وجہ سے وہ مٹی کم اور کیچڑ زیادہ تھی اور اس کے برآمدے کے سفید ماربل پر وہ نشانات بالکل ایک قطار کی صورت میں آ رہے تھے۔ وہ ایک گہری سانس لیتا ہوا اندر آ گیا، ملازم کمرے میں ان نشانات کو صاف کرنے میں مصروف تھا۔
“باہر برآمدے میں بھی پیروں کے کچھ نشانات ہیں انہیں بھی صاف کر دینا۔” سالار نے اس سے کہا۔
“یہ کس کے نشان ہیں؟” ملازم زیادہ دیر اپنے تجسس پر قابو نہیں رکھ سکا۔
“میرے۔۔۔۔۔” سالار نے اکھڑ لہجے میں کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ رات کو کھانا کھانے میں مصروف تھا جب سکندر عثمان اور طیبہ آ گئے تھے۔ ان دونوں کے چہرے ستے ہوئے تھے۔ سالار اطمینان سے کھانا کھاتا رہا۔ وہ دونوں اسے مخاطب کئے بغیر اس کے پاس سے گزر کر چلے گئے تھے۔
“کھانا ختم کر کے میرے کمرے میں آؤ۔” سکندر عثمان نے جاتے جاتے اس سے کہا تھا۔ سالار نے جواب دینے کے بجائے فروٹ ٹرائفل اپنی پلیٹ میں نکال لی۔
پندرہ منٹ بعد وہ جب ان کے کمرے میں گیا تو اس نے سکندر کو کمرے میں ٹہلتے ہوئے پایا جب کہ طیبہ فکرمندی کے عالم میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔
“پاپا! آپ نے بلوایا تھا؟” سالار نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“بیٹھو پھر تمہیں بتاتا ہوں کیوں بلایا ہے۔” سکندر عثمان نے اسے دیکھتے ہی ٹہلنا بند کر دیا۔ وہ بڑے اطمینان سے طیبہ کے برابر بیٹھ گیا۔
“امامہ کہاں ہے؟” سکندر نے لمحہ ضائع کئے بغیر پوچھا۔
“کون امامہ؟” اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کے چہرے پر تھوڑی بہت گھبراہٹ ضرور ہوتی، مگر وہ اپنے نام کا ایک ہی تھا۔
سکندر کا چہرہ سرخ ہو گیا۔”تمہاری بہن۔۔۔۔۔” وہ غّرائے۔
“میری بہن کا نام انیتا ہے پاپا۔” سالار کے اطمینان میں کوئی کمی نہیں آئی۔
“تم مجھے صرف ایک بات بتاؤ۔ آخر تم مجھے اور کتنی بار اور کتنے طریقوں سے ذلیل کراؤ گے۔” اس بار سکندر عثمان دوسرے صوفے پر بیٹھ گئے۔
“آپ کیا کہہ رہے ہیں پاپا! میری سمجھ میں نہیں آ رہا۔” سالار نے حیرانی سے کہا۔” حالانکہ تمہاری سمجھ میں اب سب کچھ آ رہا ہے۔” انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا۔”دیکھو، مجھے آرام سے بتا دو کہ امامہ کہاں ہے۔ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا تم نے سمجھ لیا ہے۔”
“پاپا! آپ کس امامہ کی بات کر رہے ہیں۔ میں کسی امامہ کو نہیں جانتا۔”
“میں وسیم کی بہن کی بات کر رہا ہوں۔” سکندر عثمان اس بار غّرائے۔
“وسیم کی بہن؟” وہ کچھ سوچ میں پڑ گیا۔”اچھا۔۔۔۔۔ یاد آیا۔۔۔۔۔ وہ جس نے مجھے ٹریٹمنٹ دیا تھا لاسٹ ائیر۔”
“ہاں وہی۔۔۔۔۔ اب چونکہ تمہاری یاداشت واپس آ گئی ہے اس لئے مجھے یہ بھی بتا دو کہ وہ کہاں ہے۔”
“پاپا! وہ اپنے گھر میں ہو گی یا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں۔ میرا اس سے کیا تعلق؟”اس نے حیرانی سے سکندر سے کہا۔”اس کے باپ نے تمہارے خلاف اپنی بیٹی کے اغوا کا کیس کروا دیا ہے۔”
“میرے خلاف۔۔۔۔۔I don’t believe it میراا مامہ سے کیا تعلق ہے۔” اس نے پرسکون لہجے اور بے تاثر چہرے کے ساتھ کہا۔
“یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”
“پاپا! میں اس کو جانتا تک نہیں ہوں۔ ایک دو بار کے علاوہ میں اس سےملا تک نہیں۔ پھر اس کے اغوا سے میرا کیا تعلق اور مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ وہ اغوا ہو گئی ہے۔”
“سالار! اب یہ ایکٹنگ بند کرو۔ مجھے بتا دو کہ وہ بچی کہاں ہے۔ میں نے ہاشم مبین سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان کی بیٹی کو ان تک پہنچاؤں گا۔”
“تو آپ اپنا وعدہ پورا کریں اگر ان کی بیٹی کو ان تک پہنچا سکتے ہیں تو ضرور پہنچائیے، مگر مجھے کیوں ڈسٹرب کر رہے ہیں۔” اس بار سالار نے ناگواری سے کہا۔
“دیکھو سالار! تمہاری اور امامہ کے درمیان اگر کسی بھی قسم کی انڈرسٹینڈنگ ہے تو ہم اس معاملے کو حل کر لیں گے۔ میں خود اس کے ساتھ تمہاری شادی کروا دو ں گا۔ تم فی الحال یہ بتاؤ کہ وہ کہاں ہے۔” سکندر عثمان نے اس بار اپنے لب و لہجے میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا۔
“فارگاڈسیک پاپا۔۔۔۔۔ اسٹاپ اٹ۔۔۔۔۔ کون سی انڈرسٹینڈنگ، کیسی شادی۔۔۔۔۔ میری کسی کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ ہوتی تو میں اسے اغوا کروں گا اور میں انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ کروں گا امامہ جیسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔وہ میری ٹائپ ہے؟” اس بار سالار نے بلند آواز میں کہا۔
“تو پھر وہ تم پر اس کے اغوا کا الزام کیوں لگا رہے ہیں؟”
“یہ آپ ان سے پوچھیں ، مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟” اس نے اسی ناگواری سے جواب دیا۔
“آج ہاشم مبین کہہ رہے ہیں کل کو کوئی اور آ کر کہے گا اور آپ پھر مجھ پر چلانا شروع کر دیں گے۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو بتایا ہے میں سو رہا تھا جب پولیس آ کر باہر کھڑی ہو گئی اور اب آپ آ گئے ہیں اور آتے ہی مجھ پر۔۔۔۔۔ مجھے تو یہ تک نہیں پتا کہ وسیم کی بہن اغوا ہوئی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔ آخر وہ لوگ مجھ پر الزام کیوں لگا رہے ہیں۔ کیا ثبوت ہے ان کے پاس کہ میں نے ان کی بیٹی کو اغوا کیا ہے اور بالفرض میں نے اغوا کیا بھی ہے تو کیا میں یہاں اپنے گھر بیٹھا رہوں گا۔ مجھے اس وقت اس لڑکی کے ساتھ ہونا چاہئیے۔” سالار تلخی سے بولتا رہا۔
“مجھے ایس پی سے تمہارے کیس کی تفصیلات کا پتا چلا ہے، پھر میں نے کراچی سے ہاشم مبین کو فون کیا، وہ مجھ سے بات کرنے پر تیار نہیں تھا۔ مجھے اس سے بات کرنے کے لئے منتیں کرنی پڑیں۔ اس نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا ہے۔۔۔۔۔ اس کی بیٹی رات کو غائب ہوئی ہے۔۔۔۔۔ اور تم بھی رات کو گئے ہو اور صبح آئے ہو۔”
“تو پاپا! اس میں اغوا کہاں سے آ گیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں رات کو کہیں نہیں گیا اور دوسری بات یہ ہے کہ اغوا کرنے کے لئے کسی کے گھر جا کر لڑکی کو زبردستی لے جانا ضروری ہے اور میں کسی کے گھر نہیں گیا۔”
“ہاشم مبین کے چوکیدار نے رات کو تمہیں جاتے اور اور صبح آتے دیکھا ہے۔”
“اس کا چوکیدار جھوٹا ہے۔” سالار نے بلند آواز میں کہا۔
“میرے چوکیدار نے تمہیں رات کو ایک لڑکی کو کار میں لے جاتے دیکھا ہے۔” سکندر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ سالار چند لمحے کچھ بول نہ سکا۔ سکندر یقیناً گھر آتے ہی چوکیدار سے بات کر چکے تھے۔
“وہ میری ایک فرینڈ تھی جسے میں گھر چھوڑنے گیا تھا۔” اس نے طیبہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“کون ہے وہ فرینڈ؟ اس کا نام اور پتہ بتاؤ۔”
“سوری پاپا میں نہیں بتا سکتا۔It’s personal۔”
“یہاں اسلام آباد چھوڑنے گئے تھے؟”
“ہاں۔۔۔۔۔”
“تم اسے لاہور چھوڑ کر آئے ہو۔ ایس پی نے مجھے خود بتایا ہے۔ تم چار ناکوں سے گزرے ہو۔ چاروں پر تمہارا نمبر نوٹ کیا گیا ہے۔ راستے میں تم نے ایک سروس اسٹیشن پر رک کر گاڑی چیک کروائی ہے۔۔۔۔۔ اس لڑکی کے ساتھ وہاں کھانا کھایا ہے۔” سکندر نے اس سروس اسٹیشن اور ہوٹل کا نام بتاتے ہوئے کہا۔ سالار کچھ دیر سکندر کو دیکھتا رہا مگر اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔” ایس پی نے مجھے یہ سب کچھ خود بتایا ہے۔ اس نے ابھی ہاشم مبین کو یہ سب کچھ نہیں بتایا۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں تم سے بات کروں اور خاموشی کے ساتھ لڑکی کو واپس پہنچا دوں یا اس کے گھر والوں کو اس لڑکی کا پتا بتا دوں تاکہ یہ معاملہ خاموشی سے کسی مسئلے کے بغیر ختم ہو جائے مگر وہ کب تک ہاشم مبین کو نہیں بتائے گا۔ وہ دوستی کا لحاظ کر کے سب کچھ چھپا بھی گیا تب بھی ہاشم مبین کے اور بہت سے ذرائع ہیں۔ اسے وہاں سے پتا چل جائے گا اور پھر تمہاری پوری زندگی جیل میں گزرے گی۔”
سکندر نے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ وہ متاثر ہوئے بغیر انہیں دیکھتا رہا۔
“اب جھوٹ بولنا چھوڑ دو اور مجھے بتا دو کہ وہ لڑکی کہاں ہے۔”
“وہ لڑکی ریڈ لائٹ ایریا میں ہے۔” سکندر کو اس کی بات پر کرنٹ لگا۔
“واٹ۔۔۔۔۔؟”
“میں اسے وہاں سے لایا تھا، وہیں چھوڑ آیا ہوں۔”
وہ سفید چہرے کے ساتھ سالار کو دیکھتے رہے۔
“مگر وہ امامہ نہیں تھی، میں پرسوں لاہور گیا ہوا تھا وہاں سے میں رات گزارنے کے لئے اس لڑکی کو لایا تھا، آج میں اسے وہاں چھوڑ آیا۔ میرے پاس اس کا کوئی کانٹیکٹ نمبر تو نہیں ہے، مگر آپ میرے ساتھ لاہور چلیں تو میں آپ کو اس لڑکی کے پاس لے جاتا ہوں یا پتا بتا دیتا ہوں آپ خود یا پولیس کو کہیں کہ وہ اس لڑکی سے تصدیق کر لیں۔”
کمرے میں یک دم خاموشی چھا گئی۔ طیبہ اور سکندر بے یقینی سے سالار کو دیکھ رہے تھے جب کہ وہ بڑے مطمئن انداز میں کھڑکیوں سے باہر دیکھ رہا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آتا کہ تم۔۔۔۔۔ تم اس طرح کی حرکت کر سکتے ہو۔ تم ایسی جگہ جا سکتے ہو؟” ایک لمبی خاموشی کے بعد سکندر نے کہا۔
“آئی ایم سوری پاپا! مگر میں جاتا ہوں۔۔۔۔۔ اور اس بات کا امامہ کے بھائی وسیم کو بھی پتا ہے۔ میں کئی بار ویک اینڈ پر اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں جاتا رہا ہوں اور وسیم یہ بات جانتا ہے، آپ اس سے پوچھ لیں۔”
“ایڈریس دو اس لڑکی کا۔” وہ کچھ دیر بعد غّرائے۔
“میں اپنے کمرے سے لے کر آتا ہوں۔” اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے موبائل اٹھایا اور لاہور میں رہنے والے اپنے ایک دوست کو فون کرنے لگا۔ اسے ساری صورت ِحال بتانے کے بعد اس نے کہا۔
“اکمل! میں اپنے پاپا کو ریڈ لائٹ ایریا کے اس گھر کا پتا دے رہا ہوں جہاں ہم جاتے رہتے ہیں۔ تم وہاں کسی بھی ایسی لڑکی کو جو مجھے جانتی ہے اس کو اس بارے میں بتا دو، میں ابھی کچھ دیر تک تمہیں دوبارہ فون کرتا ہوں۔”
وہ کہتے ہوئے تیزی سے ایک چٹ پر ایک ایڈریس لکھنے لگا اور پھر اسے لے کر سکندر کے کمرے میں آ گیا۔ اس نے چٹ سکندر کے سامنے کر دی، جسے انہوں نے تقریباً چھین لیا۔ ایک نظر اس چٹ پر ڈال کر انہوں نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے۔” وہ اطمینان سے انداز میں وہاں سے آ گیا۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے اکمل کو دوبارہ فون کیا۔
“میں تمہیں وہاں پہنچ کر فون کرتا ہوں۔” اکمل نے اس سے کہا وہ بیڈ پر لیٹ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ پندرہ منٹ کے بعد اکمل نے اسے فون کیا۔
“سالار! میں نے سنعیہ کو تیار کیا ہے۔ اسے میں نے سارا معاملہ سمجھا دیا ہے۔” اکمل نے اسے بتایا وہ سنعیہ کو جانتا تھا۔
“اکمل! اب تم ایک کاغذا ور پینسل لو اور میں کچھ چیزیں لکھوا رہا ہوں اسے لکھو۔” اس نے اکمل سے کہا اور پھر اسےا پنے گھر کے بیرونی منظر اور لوکیشن کی تفصیلات لکھوانے لگا۔
“یہ کیا، میں نے دیکھا ہوا ہے تمہارا گھر۔۔۔۔۔” اکمل نے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
“تم نے دیکھا نے سنعیہ نے تو نہیں دیکھا۔ یہ ساری تفصیلات میں سنعیہ کے لئے لکھوا رہا ہوں اگر پولیس اس کے پاس آئی تو وہ یہ ساری چیزیں اس سے پوچھے گی صرف یہ تصدیق کرنے کے لئے کہ کیا وہ واقعی میرے ساتھ یہاں اسلام آباد میں تھی۔ وہ گاڑی میں چھپ کر آئی تھی۔ اور رات کے وقت آئی تھی اس لئے اسے زیادہ تفصیل کا نہیں پتا، مگر گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے دائیں اور بائیں دونوں طرف لان ہے۔ میری گاڑی کا رنگ سرخ تھا۔ اسپورٹس کار اور نمبر۔۔۔۔۔” وہ اسے لکھواتا گیا۔
“ہم پولیس کے چار ناکوں سے گزرے تھے۔ اس نے سفید شلوار قمیص، سفید چادر اور سیاہ سویٹر پہنا ہوا تھا، رستے میں ہم اس نام کے سروس اسٹیشن پر بھی رکے تھے۔”سالار نے نام بتایا، سروس اسٹیشن اور ہوٹل، وہ دھند کی وجہ سے صحیح طرح نہیں دیکھ سکی۔” سالار یکے بعد دیگرے ہر چیز کی تفصیل لکھواتا گیا۔ سروس اسٹیشن پر گاڑی ٹھیک کرنے والے آدمی سے لے کر چائے بنانے والے لڑکے کے حلیے اور اس کمرے کی تفصیلات۔۔۔۔۔ انہوں نے کیا کھایا تھا، سالار اور لڑکے کے درمیان کیا گفتگو ہوئی تھی۔ اس نے چھوٹی چھوٹی تفصیلات اسے لکھوائی تھیں۔ اس نے اپنے گھر کے پورچ سے لے کر اپنے کمرے تک کے راستے اور اپنے کمرے کا تمام حلیہ بھی اسے نوٹ کروا دیا تھا۔
“سنعیہ سے کہو یہ سب کچھ رٹ لے۔” اس نے اکمل کو آخری ہدایت دی اور فون بند کر دیا۔ فون بند کر کے وہ بیڈ پر بیٹھا ابھی کچھ سوچ رہا تھا جب سکندر عثمان اچانک دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں آئے۔
“اس لڑکی کا کیا نام ہے؟”
“سنعیہ!” سالار نے بے اختیار کہا۔ سکندر عثمان مزید کچھ کہے بغیر کمرے سے نکل گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: