Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 12

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 12

–**–**–

ان کے جانے کے بعد سالار کو اس وکیل کا خیال آیا جس کے ذریعے انہوں نے ہاشم مبین احمد سے رابطہ کیا تھا۔ اس وکیل کو ہائر کرنے والا بھی حسن ہی تھا اور سالار سکندر کے نام سے وہ وکیل بھی واقف نہیں تھا، مگر سالار کے لئے قابل تشویش بات اس میں حسن کا انوالو ہونا تھا۔ ہاشم مبین احمد اس وکیل سے حسن اور حسن سے اس تک بہت آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔
اس نے اگلا فون حسن کو کیا اور حسن کو سارے معاملے کی نوعیت سے گاہ کیا۔
“میں تمہیں پہلے ہی اس سب سے منع کر رہا تھا۔” اس نے چھوٹتے ہی سالار سے کہا۔” میں وسیم اور اس کی فیملی کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کے اثر ورثوخ سے بھی بخوبی واقف ہوں۔” وہ بولتا جا رہا تھا۔
سالار نے کچھ اکتاہٹ بھرے لہجے میں اسے ٹوکا۔” میں نے تمہیں فون اپنے مستقبل کا حا ل جاننے کے لئے نہیں کیا۔ میں صرف ایک خطرےسے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔”
“کس خطرے سے؟” حسن چونکا۔” تم نے جو وکیل ہائر کیا تھا وہ اس کے ذریعے تم تک اور پھر مجھ تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں۔” سالار نے اس سے کہا۔
“نہیں، وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔” حسن نے اس کی بات پر قدرے لاپرواہی سے کہا۔
“کیوں۔۔۔۔۔؟”
“کیونکہ میں نے سارا کام پہلے ہی بہت محتاط ہو کر کیا ہے۔” وہ وکیل بھی میرے اصلی نام اور پتے سے واقف نہیں ہے۔ اسے جو ایڈریس اور فون نمبر میں نے دیا تھا وہ جعلی تھا۔
سالار بے اختیار مسکرایا۔ اسے حسن سے ایسی عقلمندی اور چالاکی کی توقع رکھنی چاہئیے تھی۔ وہ ہر کام بڑی صفائی سے سرانجام دینے کا ماہر تھا۔
“میں صرف اس کے پاس ایک بار گیا تھا پھر فون پر ہی رابطہ کیا اور اس ملاقات میں بھی میرا حلیہ بالکل مختلف تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ صرف حلیے سے ہاشم مبین احمد مجھ تک پہنچ سکتے ہیں؟”
“اور اگر وہ پہنچ گئے تو۔۔۔۔۔؟”
“تو۔۔۔۔۔ پتا نہیں۔۔۔۔۔ اس تو کے بارے میں، میں نے نہیں سوچا۔” حسن نے صاف گوئی سے کہا۔
“کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم کچھ دنوں کے لئے کہیں غائب ہو جاؤ اور یوں ظاہر کرو کہ جیسے تمہاری یہ غیرموجودگی کچھ ضروری کاموں کے لئے تھی۔” سالار نے اسے مشورہ دیا۔
“اس سے بہتر مشورہ بھی میرے پاس ہے۔ میں اس وکیل کو کچھ روپے پہنچا کر یہ ہدایت دے دیتا ہوں کہ ہاشم مبین یا پولیس کے پہنچنے پر وہ انہیں میرا غلط حلیہ بتائے۔ کم از کم اس طرح فوری طور پر میں کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوں گا اور ان ہی دنوں میں ویسے بھی چند ہفتوں کے لئے انگلینڈ جا رہا ہوں۔”
حسن نے بتایا۔”پولیس اگر پہنچ بھی گئی تو تب بھی میں ان کی پہنچ سے بہت دور رہوں گا، مگر مجھے یہ یقین نہیں ہے کہ وہ مجھ تک پہنچ سکیں گے۔ اس لئے تم اطمینان رکھو۔”
“اگر تم واقعی اتنے بے فکر اور مطمئن ہو تو ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے وہ تم تک نہ ہی آئیں، مگر میں نے پھر بھی سوچا کہ میں تمہیں بتا دوں۔” سالار نے فون بند کرتے ہوئے اس سے کہا۔
“ویسےتم اس لڑکی کو اب لاہور میں کہاں چھوڑ کر آئے ہو؟”
“لاہور کی ایک سڑک پر چھوڑ آیا ہوں اس کے علاوہ اور کہاں چھوڑ سکتا تھا۔ اس نے اپنے محل وقوع اور حدود اربعہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ وہ بس چلی گئی۔”
“عجیب بے وقوف ہو، کم از کم تم تو اس سے اس کا ٹھکانہ پوچھنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔”
“ہاں! مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں پڑی۔” سالار نے دانستہ امامہ سے آخری بار ہونے والی اپنی گفتگو گول کر دی۔
“میں حیران ہوں کہ تم اب کس طرح کے معاملات میں نوالو ہونے لگے ہو، اپنی ٹائپ کی لڑکیوں کے ساتھ انوالو ہونا دوسری بات ہے مگر وسیم کی بہن جیسی لڑکیوں کے ساتھ انوالو ہو جانا۔۔۔۔۔ تمہارا ٹیسٹ بھی دن بدن گرتا جا رہا ہے۔”
“میں”انوالو” ہوا ہوں۔۔۔۔۔” تم واقعی عقل سے پیدل ہو ورنہ کم از کم اس طرح کی بات مجھ سے نہ کرتے۔۔۔۔۔ ایڈونچر اور انوالومنٹ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے حسن صاحب!” سالار نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“اور آپ نے یہ فاصلہ ایک ہی چھلانگ میں طے کر لیا ہے سالار صاحب!” حسن نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“تمہارا دماغ خراب ہے اور کچھ نہیں۔”
“اور تمہارا دماغ مجھ سے زیادہ خراب ہے ورنہ اس طرح کی حماقت کو ایڈونچر کبھی نہ کہتے۔” حسن بھی قدرے جھلایا ہوا تھا۔
“اگر تم نے میری مدد کی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمہارے منہ میں جو آئے تم کہہ دو۔” سالار کو اس کی بات پر اچانک غصہ آ گیا۔
“ابھی میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا ہے۔ تم کس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہو۔ یہ ٹیسٹ والی بات کی طرف یا دماغ خراب ہونے والی بات کی طرف؟” حسن نے اسی انداز میں اس کی بات سے متاثر ہوئے بغیر پوچھا۔
“اچھا اب منہ بند کر لو۔ فضول بحث مت کرو۔”
“اس وقت ان تمام باتوں کو کرنے کا مطلب گڑے مردے اکھاڑنا ہے۔” حسن اب سنجیدہ تھا۔
“فرض کرو پولیس کسی صورت ہم تک پہنچ جاتی ہے اور پھر وہ امامہ کا اتا پتا جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کیا بتائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ کبھی بھی اس بات پر یقین کریں گے کہ امامہ کے بارے میں تمہیں کچھ پتا نہیں ہے۔ اس وقت تم کیا کرو گے؟”
“کچھ بھی نہیں کروں گا۔ میں ان سے بھی وہی کہوں گا جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔” اس نے بلند آواز میں کہا۔
“ہاں اور سارا مسئلہ تمہارے اس بیان سے ہی شروع ہو گا۔ میں امامہ کے بارے میں نہیں جانتا ہوں۔” حسن نے اس کا جملہ دہرایا۔”تمہیں اچھی طرح اندازہ ہونا چاہئیے کہ وہ ہر قیمت پر امامہ تک پہنچنا چاہیں گے۔”
“یہ بہت بعد کی بات ہے، میں امکانات اور ممکنات پر غور کر کے پریشان نہیں ہوتا۔جب وقت آئے گا، دیکھا جائے گا۔” سالار نے لاپرواہی سے کہا۔
“تم سے مجھے صرف یہ مدد چاہئیے کہ تم اس سارے معاملے کو راز ہی رکھو اور پولیس کے ہتھے نہ لگو۔”
“تمہارے کہے بغیر بھی میں یہ ہی کرتا۔ ویسے بھی میں اگر پکڑا گیا تو وسیم کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔اس بار تم نے مجھے واقعی بڑی embarrassing صورتِ حال سے دوچار کیا ہے۔”
“اوکے میں فون بند کر رہا ہوں کیونکہ تم پر پھر وہی دورہ پڑنے والا ہے۔ وہی نصیحتیں اور پچھتاوا۔۔۔۔۔”
“You are acting like my father۔”
سالار نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔ اس کا ذہن پچھلی رات کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس کے ماتھے کی تیوریاں اور بل بہت نمایاں تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ اس حد تک گر جائے گا۔”
“ریڈ لائٹ ایریا، مائی فٹ، کبھی میرے خاندان کی پچھلی سات نسلوں سے بھی کوئی وہاں نہیں گیا اور یہ لڑکا۔۔۔۔۔ کیا ہے جو میں نے اسے نہیں دیا۔۔۔۔۔ کیا ہے جس کی کمی رہنے دی ہے اور اسے دیکھو کبھی یہ خود کشی کی کوشش کرتا پھرتا ہے اور کبھی ریڈ لائٹ ایریا، میرے اللہ۔۔۔۔۔آخر کس حد تک جائے گا یہ؟” سکندر عثمان نے اپنا سر تھام لیا۔
“مجھے تو گھر کے ملازموں پر بھی بہت زیادہ اعتراض ہے۔ آخر کیوں اس لڑکی کو انہوں نے اندر آنے دیا۔ گھر کے معاملات پر نظر رکھنی چاہئیے انہیں۔” طیبہ نے بات کا موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
“گھر کے معاملات اور مالک کے معاملات پر نظر رکھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ یہاں معاملہ گھر کا نہیں تھا، مالک کا تھا۔” سکندر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔” اور پھر اس میں سے کسی نے بھی کسی لڑکی کو یہاں آتے نہیں دیکھا۔ وہ کہتا ہے وہ اسے اسی دن لایا تھا، چوکیدار کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوا اس نے اس کے ساتھ کسی لڑکی کو آتے نہیں دیکھا۔ہاں ! جاتے ضرور دیکھا ہے ملازموں کا بھی یہی کہنا ہے۔انہوں نے نہ تو کسی لڑکی کو آتے دیکھا ہے نہ ہی جاتے دیکھا ہے۔”سکندر نے کہا۔
“اس کا مطلب ہے کہ وہ یقیناً اس لڑکی کو اچھی طرح چھپا کر لایا ہو گا۔”
“شیطانی دماغ ہے اس کا۔۔۔۔۔یہ تم جانتی ہو تم صرف یہ دعا کرو کہ یہ سارا معاملہ ختم ہو جائے۔ہاشم مبین کی بیٹی مل جائے اور ہماری جان چھوٹ جائے تاکہ ہم اس کے بارے میں کچھ سوچ سکیں۔”سکندر عثمان نے کہا۔
“میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہو گئی ہے ، جس کی مجھے یہ سزا مل رہی ہے۔میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں؟”وہ بےحد بےبس نظر آ رہے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اگلے روز صبح معمول کے مطابق اُٹھا اور کالج جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔ناشتہ کرنے کے لیے وہ ڈائیننگ ٹیبل پر آیا تو اس نے خلافِ معمول وہاں سکندر عثمان کو موجود پایا۔وہ عام طور پر اس وقت ناشتہ نہیں کیا کرتے تھے۔ذرا دیر سے فیکٹری جایا کرتے تھے۔سالار کو اس وقت انہیں وہاں موجود پا کر کچھ حیرت ہوئی ، مگر ان کے ستے ہوئے چہرے اور سُرخ آنکھوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید وہ ساری رات نہیں سو سکے۔
سالار کو صبح صبح باہر نکلنے کے لیے تیار دیکھ کر انہوں نے قدرے درشتی سے سے اس سے کہا۔”تم کہاں جا رہے ہو؟”
“کالج۔”
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔میرے گلے میں یہ مصیبت ڈال کر تم خود کالج جا رہے ہو۔جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہو جاتا تم کہیں نہیں جاؤ گے۔تمہیں پتا ہے تم کتنے خطرے میں ہو؟”
“کیسا خطرہ؟”وہ ٹھٹکا۔
“میں نہیں چاہتا ہاشم مبین تمہیں کوئی نقصان پہنچائے۔اس لیے فی الحال تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم گھر پر رہو۔”سکندر عثمان نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔”اس کی بیٹی مل جائے پھر تم دوبارہ کالج جانا شروع کر دینا۔”
“اس کی بیٹی اگر ایک سال نہیں ملے گی تو کیا میں ایک سال تک اندر بیٹھا رہوں گا۔آپ نے اسے میرے بیان کے بارے میں بتایا نہیں ہے۔”سالار نے تیز لہجے میں کہا۔
“میں اسے بتا چکاہوں۔سنعیہ نے بھی تمہاری بات کی تصدیق کر دی تھی۔”ان کے لہجے میں سنعیہ کا نام لیتے ہوئے تلخی تھی۔”مگر ہاشم مبین ابھی بھی مصر ہے کہ اس کی بیٹی کو تم نے ہی اغوا کیا ہوا ہے۔”
“تو میں کیا کروں۔۔۔۔۔اسے یقین نہیں آتا تو نہ آئے۔مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔سالار نے لاپرواہی سے کہتے ہوئے ناشتہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“تمہیں فرق نہیں پڑتا ، مجھے پڑتا ہے۔تم ہاشم مبین احمد کو نہیں جانتے۔وہ کتنے اثرورسوخ والا آدمی ہے اور کس حد تک جا سکتا ہے اس کا اندازہ صرف مجھے ہے۔میں نہیں چاہتا کہ وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچائے۔اس لیے ابھی تم گھر پر ہی ہو۔”
سکندر عثمان نے اس بار کچھ نرم لہجے میں کہا۔شاید انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی سختی کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔وہ ان کی بات نہیں مانے گا۔
“پاپا ! میری اسٹڈیز کا حرج ہو گا۔سوری ! میں گھر پر نہیں بیٹھ سکتا۔”سالار سکندر عثمان کے لہجے کی نرمی سے متاثر نہیں ہوا تھا۔
“تمہارا حرج ہوتا ہے یا نہیں ، مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔میں صرف تمہیں گھر پر چاہتا ہوں۔سمجھے تم۔”اس بار انہوں نے اچانک بھڑک کر بلند آواز میں اس سے کہا۔
“کم از کم آج تو مجھے جانے دیں۔آج مجھے بہت سے ضروری کام نپٹانے ہیں۔”سالار یک دم ان کے غصے پر کچھ پزل ہوا۔
“تم وہ کام ڈرائیور کو بتا دو ، وہ کر دے گا یا پھر کسی دوست سے فون پر بات کر لو۔”سکندر نے حتمی انداز میں کہا۔
“مگر پاپا۔۔۔۔۔آپ مجھے اس طرح۔۔۔۔۔”سکندر عثمان نے اس کی بات نہیں سنی۔وہ ڈائننگ روم سے نکل رہے تھے۔وہ کچھ دیر بلند آواز میں بڑبڑاتا رہا پھر تنگ آ کر خاموش ہو گیا۔وہ جانتا تھا کہ سکندر عثمان اسے باہر نکلنے نہیں دیں گے مگر اسے بات کی توقع نہیں تھی۔اس کا خیال تھا کہ سنعیہ کو سامنے لانے پر اس کی اپنی فیملی کے ساتھ ہاشم مبین بھی مطمئن ہو جائیں گے اور کم از کم یہ مصیبت اس کے کندھوں سے اُتر جائے گی ، مگر اس کے لیے سکندر عثمان کا یہ انکشاف حیران کن تھا کہ ہاشم مبین نے ابھی بھی اس کے بیان پر یقین نہیں کیا تھا۔
سالار وہاں بیٹھا ناشتہ کرتے ہوئے کچھ دیر ان تمام معاملات کے بارے میں سوچتا رہا۔کالج نہ جانے کا مطلب گھر میں بند ہو جانا تھا اور وہ گھر میں بند نہیں ہونا چاہتا تھا۔اس کا موڈ یک دم آف ہو گیا۔ناشتہ کرتے کرتے اس نے اسے ادھورا چھوڑ دیا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سکندر صاحب ! میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔”وہ لاؤنج میں بیٹھے تھے جب ملازمہ کچھ جھجکتے ہوئے ان کے پاس آئی۔
“ہاں کہو۔۔۔۔۔پیسوں کی ضرورت ہے؟”سکندر عثمان نے اخبار پڑھتے ہوئے کہا۔وہ اس معاملے میں خاصے فراخ دل تھے۔
“نہیں صاحب جی ! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں کچھ اور کہنا چاہتی ہوں آپ سے۔”
“بولو۔۔۔۔۔”وہ ہنوز اخبار میں منہمک تھے۔ملازمہ کچھ پریشان ہونے لگی۔ناصرہ نے بہت سوچ سمجھ کر سالار اور امامہ کے بارے میں سکندر عثمان کو بتانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اسے یہ سب کچھ اب بہت پریشان کن لگ رہا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ جلد یا بدیر یہ پتا چل جائے کہ ان دونوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ وہ تھی اور پھر اسے اور اس کے پورے خاندان کو پولیس کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی لیے اپنے شوہر سے مشورے کے بعد اس نے سکندر عثمان کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ کم از کم وہ دونوں گھر والوں میں سے کسی ایک کی ہمدردی اپنے ساتھ رکھے۔
“چپ کیوں ہو ، بولو۔۔۔۔۔”سکندر عثمان نے اسے خاموش پا کر ایک بار پھر اس سے کہا۔ان کی نظریں ابھی بھی اخبار پر جمی ہوئی تھیں۔
“سکندر صاحب ! میں آپ کو سالار صاحب کے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔”ناصرہ نے بالآخر ایک طویل توقف کے بعد کہا۔
سکندر عثمان نے بےاختیار اخبار اپنے چہرے کے سامنے سے ہٹا کر اسے دیکھا۔
“سالار کے بارے میں۔۔۔۔۔؟کیا کہنا چاہتی ہو؟”انہوں نے اخبار کو سامنے سینٹر ٹیبل پر پھینکتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“سالار صاحب اور امامہ بی بی کے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔”سکندر عثمان کا دل بےاختیار اچھل کر حلق میں آ گیا۔
“کیا۔۔۔۔۔؟”
“بہت دن پہلے ایک دن سالار صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ میں ان کا موبائل اپنی بیٹی کے ہاتھ امامہ بی بی کو پہنچا دوں۔”سکندر عثمان کو لگا وہ دوبارہ کبھی ہل نہیں سکیں گے۔تو ہاشم مبین احمد کا خیال اور اصرار ٹھیک تھا ، ان کے بد ترین قیاس اور اندازے درست تھے۔
“پھر۔۔۔۔۔؟”انہیں اپنی آواز کسی کھائی سے آتی لگی۔”میں نے انکار کر دیا کہ یہ کام میں نہیں کر سکتی مگر انہوں نے مجھے بہت دھمکایا۔انہوں نے کہا کہ وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے۔جس پر مجبوراً میں وہ موبائل امامہ بی بی تک پہنچانے کے لیے تیار ہو گئی۔”
اپنی پوزیشن کو محفوظ رکھنے کے لیے ناصرہ نے اپنے بیان میں جھوٹ کی آمیزش کرتے ہوئے کہا۔”پھر اس کے کچھ دن بعد ایک دن سالار صاحب نے کہا کہ میں کچھ کاغذات امامہ بی بی تک پہنچاؤں اور پھر اسی وقت ان کاغذات کو واپس لے آؤں۔میں نے اپنی بیٹی کے ذریعے وہ کاغذات بھی امامہ بی بی کے پاس پہنچا کر واپس منگوا لیے اور سالار صاحب کو دے دیئے۔میں نے سالار صاحب سے ان کاغذات کے بارے میں پوچھا مگر انہوں نے نہیں بتایا مگر مجھے شک تھا کہ شاید وہ نکاح نامہ تھا کیونکہ اس وقت سالار صاحب کے کمرے میں پانچ لوگ موجود تھے۔ان میں سے ایک کوئی مولوی بھی تھا۔”
سکندر عثمان کو وہاں بیٹھے بیٹھے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔”اور یہ کب کی بات ہے؟”
“امامہ بی بی کے جانے سے چند دن پہلے۔”ناصرہ نے کہا۔
“تم نے مجھے اس بارے میں کیوں نہیں بتایا؟”سکندر عثمان نے درشت لہجے میں کہا۔
“میں بہت خوفزدہ تھی صاحب جی۔۔۔۔۔سالار صاحب نے مجھے دھمکیاں دی تھیں کہ اگر میں نے آپ کو یا کسی اور کو اس سارے معاملے کے بارے میں بتایا تو وہ مجھے یہاں سے باہر پھینکوا دیں گے۔”ناصرہ نے کہا۔
“وہ کون لوگ تھے ، انہیں پہچانتی ہو؟”سکندر عثمان نے بےحد اضطراب کے عالم میں کہا۔
“بس ایک کو۔۔۔۔۔حسن صاحب تھے۔”اس نے سالار کے ایک دوست کا نام لیا۔”باقی اور کسی کو میں نہیں پہچانتی۔”ناصرہ نے کہا۔
“میں بہت پریشان تھی۔آپ کو بتانا چاہتی تھی مگر ڈرتی تھی کہ آپ میرے بارے میں کیا سوچیں گے مگر اب مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔”
“اور کون کون اس کے بارے میں جانتا ہے؟”سکندر عثمان نے کہا۔
“کوئی بھی نہیں۔بس میں ، میری بیٹی اور میرا شوہر۔”ناصرہ نے جلدی سے کہا۔
“ملازموں میں سے کسی اور کو کچھ پتا ہے؟”
“توبہ کریں جی ! میں کیوں کسی کو کچھ بتاتی۔۔۔۔۔میں نے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔”
“تم نے جو کچھ کیا اس کے بارے میں تو میں بعد میں طے کروں گا مگر فی الحال تم ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو تم کسی کو بھی اس سارے معاملے کے بارے میں نہیں بتاؤ گی۔اپنا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر لو۔ورنہ اس بار میں نہ صرف تمہیں واقعی اس گھر سے نکال دوں گا بلکہ میں ہاشم مبین اور پولیس سے کہہ دوں گا کہ یہ سب کچھ تم نے کروایا ہے۔تم نے ہی ان دونوں کو گمراہ کیا تھا اور تم ہی ان دونوں کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچاتی رہیں ، پھر پولیس تمہارے ساتھ اور تمہارے خاندان کے ساتھ کیا کرے گی تمہیں یاد رکھنا چاہئیے۔تمہاری ساری عمر جیل کے اندر ہی گزر جائے گی۔”وہ غصے کے عالم میں اسے دھمکا رہے تھے۔
“نہیں صاحب جی ! میں کیوں کسی کو کچھ بتاؤں گی۔آپ میری زبان کٹوا دیجئیے گا۔اگر میرے منہ سے دوبارہ اس کے بارے میں کچھ سنیں۔”
ناصرہ گھبرا گئی مگر سکندر عثمان نے رکھائی کے ساتھ اس کی بات کاٹ دی۔
“بس کافی ہے۔اب تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔”انہوں نے اسے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
سکندر عثمان پریشانی کے عالم میں اِدھر اُدھر ٹہلنے لگے۔اس وقت ان کے سر پر واقعی آسمان ٹوٹ پڑا تھا اور اس وقت انہیں پہلی بار سالار کے ہاتھوں بےوقوف بننے کا احساس ہو رہا تھا۔وہ کس ڈھٹائی ، مہارت اور بےہودگی سے ان سے جھوٹ پر جھوٹ بولتا اور انہیں دھوکا دیتا گیا تھا اور انہیں اس کا احساس تک نہیں ہو سکا تھا اور اگر ملازمہ انہیں یہ سب کچھ نہ بتاتی تو وہ ابھی بھی ٹانگ پر ٹانگ رکھے مطمئن بیٹھے ہوتے۔یہی سوچ کر کہ سالار امامہ کے ساتھ انوالو نہیں ہے اور نہ ہی اس کی گمشدگی میں اس کا کوئی حصہ تھا۔وہ چند دن گھر پر رہ کر ایک بار پھر کالج جانا شروع کر چکا تھا۔
وہ جانتے تھے کہ سالار کی نگرانی کروائی جا رہی تھی اور ہاشم مبین احمد کو سب کچھ پتا چلنے کا مطلب کیا تھا۔وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ان کا کچھ دیر پہلے کا اطمینان یک دم ختم ہو گیا تھا۔وہ اندازہ کر سکتے تھے کہ وہ کاغذات کیسے تھے۔ان پانچ آدمیوں کی موجودگی کا مطلب کیا تھا ، سالار اور امامہ کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا تھی اور اس وقت ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس کا گلا دبا دیں یا پھر اسے شوٹ کر دیں مگر وہ جانتے تھے وہ یہ دونوں کام نہیں کر سکتے تھے۔سالار سکندر ان کا وہ بیٹا تھا جس سے وہ اپنی اولاد میں سب سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اس طرح بےوقوف بننے کے بعد پہلی بار وہ سوچ رہے تھے کہ وہ اب سالار سکندر کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے۔وہ اسے مکمل طور پر ہر معاملے کے بارے میں اندھیرے میں رکھیں گے ویسے ہی جیسے وہ کر رہا تھا۔
“اس کی امامہ سے جان پہچان کیسے ہوئی؟”سکندر عثمان نے اپنے گھر میں بےچینی سے ٹہلتے ہوئے طیبہ سے پوچھا۔
“مجھے کیا پتا کہ اس کی جان پہچان امامہ سے کیسے ہوئی۔کوئی بچہ تو ہے نہیں کہ میری انگلی پکڑ کر چلتا ہو۔”طیبہ نے قدرے خفگی سے کہا۔
“میں نے تم سے بہت بار کہا تھا کہ اس پر نظر رکھا کرو مگر تم۔۔۔۔۔تمہیں اپنی ایکٹیوٹیز سے فرصت ملے تو تم کسی اور کے بارے میں سوچو۔”
“اس پر توجہ دینا صرف میرا ہی فرض کیوں ہے۔”طیبہ یک دم بھڑک اٹھیں۔”آپ کو بھی تو اپنی ایکٹیوٹیز چھوڑ دینی چاہئیں۔سارا الزام میرے ہی سر کیوں۔”
“میں تم کو کوئی الزام نہیں دے رہا اور اس بحث کو ختم کرو۔امامہ کے ساتھ شادی۔۔۔۔۔تم اندازہ کر سکتی ہو کہ ہاشم مبین کو جب اس تعلق کا پتا چلے گا تو وہ کیا تماشا کھڑا کریں گے۔مجھے یہ سوچ کر شاک لگ رہا ہے کہ اس نے ایسی حرکت کرنے کا سوچ کیسے لیا۔اسے بالکل بھی احساس نہیں ہوا کہ ہماری اور ہماری فیملی کی سوسائٹی میں کتنی عزت ہے۔”سکندر عثمان طیبہ کے قریب صوفے پر بیٹھے ہوئے بولے۔”ایک پرابلم ختم ہوتی ہے تو ہمارے لئے دوسری پرابلم شروع کر دیتا ہے۔یہ سارا چکر اسی وقت شروع ہوا ہو گا جب پچھلے سال اس نے خود کشی کی کوشش کے بعد اس کی جان بچائی تھی۔ہم بےوقوف تھے کہ ہم نے اس معاملے پر نظر نہیں رکھی ، ورنہ شاید یہ سب بہت پہلے سامنے آ جاتا۔”سکندر عثمان اپنی کنپٹی مسلتے ہوئے کہنے لگے۔
“اور یقیناً یہ لڑکی بھی اس کے ساتھ اپنی مرضی سے انوالو ہوئی ہو گی ورنہ اس طرح کوئی کسی کے ساتھ مرضی کے خلاف تو نکاح نہیں کر سکتا اور ہاشم مبین احمد کو دیکھیں ، وہ یوں شور مچا رہا ہے جیسے اس کی بیٹی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے ، جو کیا ہے سالار نے ہی کیا ہے۔انہوں نے تو ایف آئی آر بھی اغواء کی درج کروائی ہے۔”طیبہ نئے سرے سے سلگنے لگیں۔
“جو بھی ہے قصور تمہارے بیٹے کا ہے۔نہ وہ ایسے کاموں میں پڑتا نہ اس طرح پھنستا۔اب تو تم صرف یہ سوچو کہ تمہیں اس صورت حال سے کس طرح بچنا ہے۔”
“ابھی ہم اتنی بری طرح نہیں پھنسے ، جس طرح آپ سوچ رہے ہیں۔اس پر یہ جرم ثابت نہیں ہوا۔پولیس یا ہاشم مبین احمد کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور ثبوت کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتے۔”
“اور جس دن ان تک کوئی ثبوت پہنچ گیا اس دن کیا ہو گا۔تم نے یہ سوچا ہے۔”سکندر عثمان نے کہا۔
“آپ پھر امکانات کی بات کر رہے ہیں۔ایسا ہوا تو نہیں ہے اور ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ہو بھی نا۔”
“اس نے اگر ہمیں اتنا بڑا دھوکا دے دیا ہے تو ہو سکتا ہے ایک اور دھوکا یہ ہو کہ اس کا رابطہ اس لڑکی کے ساتھ نہیں ہے۔ممکن ہے یہ ابھی بھی اس لڑکی کے ساتھ رابطے میں ہو۔”سکندر عثمان کو خیال آیا۔
“ہاں ہو سکتا ہے۔پھر کیا کیا جائے۔”
“میں اس سے بات کروں گا تو سمجھو پتھر کے ساتھ اپنا سر پھوڑوں گا ، وہ پھر جھوٹ بول دے گا ، جھوٹ بولنے میں تو ماہر ہو چکا ہے۔”انہوں نے تنفر آمیز لہجے میں کہا۔
“بس چند ماہ میں اس کا بی اے مکمل ہو جائے گا پھر میں اسے باہر بھجوا دوں گا۔کم از کم ہر وقت ہاشم مبین احمد کی طرف سے جن اندیشوں کا میں شکار رہتا ہوں وہ تو ختم ہوں گے۔”انہوں نے سگریٹ کا ایک کش لگایا۔
“مگر آپ ایک چیز بھول رہے ہیں سکندر ! “طیبہ نے بڑی سنجیدگی سے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔
“کیا؟”سکندر نے انہیں چونک کر دیکھا۔
“سالار کی امامہ کے ساتھ خفیہ شادی۔۔۔۔۔اس شادی کے بارے میں جو کچھ بھی کرنا ہے وہ آپ کو خود ہی کرنا ہے۔آپ کیا کریں گے ، اس شادی کے بارے میں۔”
“طلاق کے علاوہ اس شادی کا اور کیا کیا جا سکتا ہے۔”سکندر عثمان نے قطعی لہجے میں کہا۔
“وہ شادی ماننے پر تیار نہیں ہے تو طلاق دینے پر رضامند ہو جائے گا۔”
“جب میں اسے ثبوت پیش کروں گا تو اسے اپنی شادی کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا۔”
“اور اگر شادی کا اعتراف کرنے کے بعد بھی اس نے امامہ کو طلاق دینے سے انکار کر دیا تو۔”
“کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا پڑے گا اور وہ میں نکال لوں گا۔چاہے وہ اپنی مرضی سے اسے طلاق دے یا پھر مجھے زبردستی کرنا پڑے۔میں یہ معاملہ ختم کر دوں گا ، اس طرح کی شادی انسان کو ساری عمر خوار کرتی ہے۔اس سے تو پیچھا چھڑانا ہی پڑے گا ، ورنہ میں اسے اس بار مکمل طور پر اپنی جائیداد سے عاق کر دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔”سکندر عثمان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حسن کچھ دیر پہلے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں تھا ، جب اچانک اسے اپنے والد کی کال ملی ، وہ جلد از جلد اپنے گھر پہنچنےکے لیے کہہ رہے تھے۔ان کا لہجہ بےحد عجیب تھا مگر حسن نے توجہ نہیں دی ، لیکن جب پندرہ منٹ بعد اپنے گھر پہنچا تو پورچ میں کھڑی سکندر عثمان کی گاڑی دیکھ کر چوکنا ہو گیا۔وہ سالار کے گھر کی تمام گاڑیوں اور ان کے نمبرز کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔
“سکندر انکل کو میرے اس معاملے میں انوالو ہونے کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں اس لئے مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ سالار کا دوست سمجھ کر پوچھ گچھ کے لئے آئے ہوں گے۔میں بڑے اطمینان سے ان کی باتوں کا جواب دوں گا اور کسی بھی الزام کی تردید کر دوں گا لیکن میری پریشانی پاپا کے سامنے میری پوزیشن مشکوک کر دے گی ، اس لئے انکل سکندر کو دیکھ کر مجھے کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کرنا چاہئیے۔”اس نے پہلے اپنا لائحہ عمل طے کیا اور پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اسٹڈی میں داخل ہو گیا۔اس کے والد قاسم فاروقی اور سکندر عثمان کافی پی رہے تھے ، لیکن ان کے چہرے کی غیر معمولی سنجیدگی اور اضطراب وہ ایک لمحے میں بھانپ گیا تھا۔
“کیسے ہیں انکل سکندر آپ ! اس بار بہت دنوں کے بعد آپ ہماری طرف آئے۔”باوجود اس کے کہ سکندر یا قاسم نے اس کی ہیلو کا جواب نہیں دیا۔حسن نے بہت بےتکلفی کا مظاہرہ کیا۔ اسے اس بار بھی جواب نہیں ملا تھا۔سکندر عثمان اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔
“بیٹھو۔”قاسم فاروقی نے قدرے درشتی سے کہا۔
“سکندر تم سے کچھ باتیں پوچھنے آیا ہے تمہیں ہر بات کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا ہے۔اگر تم نے جھوٹ بولا تو میں سکندر عثمان سے کہہ چکا ہوں کہ وہ تمہیں پولیس کے پاس لے جائے۔میری طرف سے تم بھاڑ میں جاؤ۔میں تمہیں کسی بھی طرح بچانے کی کوشش نہیں کروں گا۔”
قاسم فاروقی نے اس کے بیٹھتے ہی بلا تمہید کہا۔
“پاپا ! آپ کیا کہہ رہے ہیں ، میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔”حسن نے حیرت کا مظاہرہ کیا مگر اس کا دل دھڑکنے لگا تھا۔معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا جتنا اس نے سمجھ لیا تھا۔
“اوور سمارٹ بننے کی کوشش مت کرو۔سکندر ! پوچھو اس سے ، کیا پوچھنا چاہتے ہو اور میں دیکھتا ہوں یہ کیسے جھوٹ بولتا ہے۔”
“امامہ کے ساتھ سالار کی شادی میں شرکت کی ہے تم نے؟”
“انکل۔۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔آپ کیا بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔کون سی شادی۔۔۔۔۔کیسی شادی۔۔۔۔۔”حسن نے مزید حیرت کا مظاہرہ کیا۔
“وہی شادی جو میری عدم موجودگی میں میرے گھر پر ہوئی جس کے لیے امامہ کو پیپرز بھجوائے گئے تھے۔”
“پلیز انکل ! آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں۔آپ کے گھر میں ضرور آتا جاتا رہتا ہوں مگر مجھے سالار کی کسی شادی کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے اور نہ ہی میری معلومات کے مطابق اس نے شادی کی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے تو اس لڑکی کا بھی پتا نہیں ہے ، جس کا آپ نام لے رہے ہیں۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے سالار کی کسی لڑکی کے ساتھ انوالومنٹ ہو ، مگر میں اس کے بارے میں نہیں جانتا ، وہ ہر بات مجھے نہیں بتاتا۔”
سکندر عثمان اور قاسم فاروقی خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔وہ خاموش ہوا تو سکندر عثمان نے اپنے سامنے پڑا ہوا ایک لفافہ اٹھایا اور اس میں موجود چند کاغذ نکال کر اس کے سامنے رکھ دئیے۔حسن کا رنگ پہلی بار اترا۔وہ امامہ اور سالار کا نکاح نامہ تھا۔
“اس پر دیکھو۔۔۔۔۔۔تمہارے ہی signatures ہیں نا؟”سکندر نے سرد لہجے میں پوچھا۔اگر یہ سوال انہوں نے قاسم فاروقی کے سامنے نہ کیا ہوتا تو وہ ان دستخط کو اپنے دستخط ماننے سے انکار کر دیتا مگر اس وقت وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔
“یہ میرے signatures ہیں ، مگر میں نے نہیں کیے۔”اس نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
“پھر کس نے کیے ہیں ، تمہارے فرشتوں نے یا سالار نے؟”قاسم فاروقی نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
حسن کچھ بول نہیں سکا۔وہ حواس باختہ سا باری باری انہیں دیکھنے لگا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سکندر عثمان اس طرح اس کے سامنے وہ نکاح نامہ نکال کر رکھ دیں گے۔وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ انہوں نے وہ نکاح نامہ کہاں سے حاصل کیا تھا ، سالار سے یا پھر۔۔۔۔۔اس کی ساری عقلمندی اور چالاکی دھری کی دھری رہ گئی تھی۔
“تم یہ نہیں مانو گے کہ سالار کا امامہ کے ساتھ نکاح تمہاری موجودگی میں ہوا ہے۔”قاسم فاروقی نے اکھڑے ہوئے لہجے میں اس سے کہا۔
“پاپا ! اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔یہ سب سالار کی ضد پر ہوا تھا ، اس نے مجھے مجبور کیا تھا۔”حسن نے یک دم سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔کچھ بھی چھپانے کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔وہ جھوٹ بولتا تو اپنی پوزیشن اور خراب کرتا۔
“میں نے اسے بہت سمجھایا تھا مگر۔۔۔۔۔”
قاسم فاروقی نے اس کی بات کاٹ دی۔”اس وقت تمہیں یہاں صفائیاں اور وضاحتیں پیش کرنے کے لئے نہیں بلایا۔تم مجھے صرف یہ بتاؤ کہ اس لڑکی کو اس نے کہاں رکھا ہوا ہے؟”
“پاپا ! مجھے اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔”حسن نے تیزی سے کہا۔
“تم پھر جھوٹ بول رہے ہو۔”
“آئی سویر پاپا ! مجھے واقعی کچھ پتا نہیں ہے۔وہ اسے لاہور چھوڑ آیا تھا۔”
“یہ جھوٹ تم کسی اور سے بولنا ، مجھے صرف سچ بتاؤ۔”قاسم فاروقی نے ایک بار پھر اسی تند و تیز لہجے میں کہا۔
“میں جھوٹ نہیں بول رہا پاپا ! “حسن نے احتجاج کیا۔
“لاہور کہاں چھوڑ آیا تھا؟”
“کسی سڑک پر۔اس نے کہا تھا وہ خود چلی جائے گی۔”
“تم مجھے یا سکندر کو بےوقوف سمجھ رہے ہو ، اس نے اس لڑکی سے شادی کی اور پھر اسے ایک سڑک پر چھوڑ دیا۔بےوقوف مت بناؤ ہمیں۔”قاسم فاروقی بھڑک اٹھے۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں پاپا ! اس نے کم از کم مجھ سے یہی کہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو سڑک پر چھوڑ آیا تھا۔”
“تم نے اس سے پوچھا نہیں کہ پھر اس نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کیوں کی ، اگر اسے یہی کرنا تھا۔”
“پاپا ! اس نے یہ شادی اس لڑکی کی مدد کے لیے کی تھی۔اس کے گھر والے زبردستی اس کی شادی کسی لڑکے سے کرنا چاہتے تھے وہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔اس نے سالار سے رابطہ کیا اور مدد مانگی اور سالار اس کی مدد پر تیار ہو گیا۔وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ سالار واقتی طور پر اس سے نکاح کر لے تاکہ اگر اس کے والدین زبردستی اس کی شادی کرنا چاہیں تو وہ اس نکاح کا بتا کر انہیں روک سکے۔”
حسن اب سچائی پر پردہ نہیں ڈال سکتا تھا۔اس نے پوری بات بتانے کا فیصلہ کیا۔
“اور اگر ضرورت پڑے تو بیلف کے ذریعے اس کو رہائی دلوائی جا سکے مگر یہ کوئی محبت وغیرہ کی شادی نہیں تھی۔وہ لڑکی ویسے بھی کسی اور لڑکے کو پسند کرتی تھی۔آپ اس نکاح نامے کو دیکھیں تو اس میں بھی اس نے طلاق کا حق پہلے ہی لے لیا ہے ، تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ سالار سے رابطہ کئے بغیر ہی طلاق حاصل کر لے۔”
“بس یا کچھ اور؟”قاسم فاروقی نے اس سے کہا۔حسن کچھ نہیں بولا۔خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔
“میں قطعاً تمہاری کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔تم نے بہت اچھی کہانی بنائی ہے مگر میں کوئی بچہ نہیں ہوں کہ اس کہانی پر یقین کر لوں۔تمہیں اب امامہ تک پہنچنے میں سکندر کی مدد کرنی ہے۔”قاسم فاروقی نے قطعی لہجے میں کہا۔
“پاپا ! یہ میں کیسے کر سکتا ہوں۔مجھے اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔”حسن نے احتجاج کیا۔
“تم یہ کیسے کرو گے۔یہ تم خود جان سکتے ہو۔مجھے صرف یہ بتانا تھا کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔”
“پاپا پلیز ! آپ مجھ پر یقین کریں ، میں امامہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔نکاح کروانے کے علاوہ میں نے اور کچھ نہیں کیا۔حسن نے کہا۔
“تم اس کے اتنے قریب ہو کہ اپنی خفیہ شادی میں وہ تمہیں گواہ کے طور پر لے رہا ہے مگر تمہیں یہ نہیں پتا کہ اس کی بیوی گھر سے بھاگنے کے بعد اب کہاں ہے۔میں یہ ماننے پر تیار نہیں ہوں حسن ! کسی صورت میں بھی نہیں۔”قاسم فاروقی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
“تمہیں اگر پتا نہیں ہے تو بھی تم اس کا پتا کراؤ۔۔۔۔۔کہ وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔سالار تم سے کچھ نہیں چھپائے گا۔”
“پاپا ! وہ بہت سی باتیں مجھے بھی نہیں بتاتا۔”
“وہ سب باتیں تمہیں بتاتا ہے یا نہیں ، میں فی الحال صرف ایک چیز میں دلچسپی رکھتا ہوں اور وہ امامہ کے بارے میں معلومات ہیں۔تم ہر طریقے سے اس سے امامہ کا پتا حاصل کرو اور سالار کو کسی بھی طرح یہ پتا نہیں چلنا چاہئیے کہ سکندر کو اس کی شادی کی اطلاع مل چکی ہے یا اس نے اس سلسلے میں تم سے کوئی ملاقات کی ہے۔اگر مجھے یہ پتا چلا کہ سالار یہ بات جان گیا ہے تو میں تمہارا کیا حشر کروں گا یہ تمہیں یاد رکھنا چاہئیے۔میں سکندر کو تو پہلے ہی اجازت دے چکا ہوں کہ وہ ہاشم مبین کو تمہارا نام دے دے ، اس کے بعد ہاشم مبین تمہارے ساتھ پولیس کے ذریعے نبٹے یا کسی اور طریقے سے ، میں بالکل پرواہ نہیں کروں گا۔اب تم یہ طے کر لو کہ تم نے سالار کے ساتھ دوستی نبھانی ہے یا پھر اس گھر میں رہنا ہے۔”قاسم فاروقی نے قطعیت سے کہا۔
“پاپا ! میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح امامہ کے بارے میں کچھ معلومات مل جائیں۔میں سالار سے اس کے بارے میں بات کروں گا۔میں اسے یہ نہیں بتاؤں گا کہ سکندر انکل کو اس سارے معاملے کے بارے میں پتا چل گیا ہے۔”وہ میکانیکی انداز میں دہراتا جا رہا تھا۔
وہ اس بار واقعی بری طرح اور خلاف توقع پھنسا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار چند دن گھر بیٹھا رہا تھا مگر پھر ضد کر کے اس نے کالج جانا شروع کر دیا۔ہاشم مبین اور اس کے گھر والے امامہ کی تلاش میں زمین آسمان ایک کئے ہوئے تھے۔اگرچہ وہ یہ سب کچھ بڑی رازداری کے ساتھ کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے ملازمین اور پولیس کے ذریعے سکندر کو ان کی کوششوں کی خبر مل رہی تھی۔وہ لاہور میں بھی امامہ کی ہر سہیلی سے رابطہ کر رہے تھے جسے وہ جانتے تھے۔
سالار نے ایک دن اخبار میں بابر جاوید نامی ایک شخص کا خاکہ دیکھا۔اس کے بارے میں معلومات دینے والے کے لئے انعام کا اعلان تھا۔وہ اس نام سے اچھی طرح واقف تھا۔یہی وہ فرضی نام تھا جو حسن نے وکیل کو امامہ کے شوہر کا دیا تھا اور وہ اشتہار یقیناً امامہ کے گھر والوں کی طرف سے تھا حالانکہ نیچے دیا گیا فون نمبر امامہ کے گھر کا نہیں تھا ، وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ پولیس اس وکیل کے پاس پہنچ گئی ہو گی اور اس کے بعد اس وکیل نے اس آدمی کے کوائف انہیں بتائے ہوں گے۔اب یہ حقیقت صرف وہ وکیل ، حسن اور خود وہ جانتا تھا کہ بابر جاوید سرے سے کوئی وجود نہیں رکھتا مگر وہ مطمئن ہو گیا تھا۔وہ ہاشم مبین کے گھر والوں کو کسی حد تک بھٹکانے میں کامیاب رہا تھا۔
اس پورے عرصے کے دوران سالار امامہ کی کال کا منتظر ۔ اس نے کئی بار امامہ کو اس کے موبائل پر کال بھی کیا مگر اسےموبائل آف ملتا۔اسے یہ تجسس ہو رہا تھا کہ وہ کہاں تھی۔اس تجسس کو ہوا دینے میں کچھ ہاتھ حسن کا بھی تھا جو بار بار اس سے امامہ کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس پورے عرصے کے دوران سالار امامہ کی کال کا منتظر ۔ اس نے کئی بار امامہ کو اس کے موبائل پر کال بھی کیا مگر اسےموبائل آف ملتا۔اسے یہ تجسس ہو رہا تھا کہ وہ کہاں تھی۔اس تجسس کو ہوا دینے میں کچھ ہاتھ حسن کا بھی تھا جو بار بار اس سے امامہ کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا ، بعض دفعہ وہ چڑ جاتا۔
“مجھے کیا پتا کہ وہ کہاں ہے اور مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کر رہی۔بعض دفعہ مجھے لگتا ہے اسے مجھ سے زیادہ تمہیں دلچسپی ہے۔”
اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ حسن کا یہ تجسس اور دلچسپی کسی مجبوری کی وجہ سے تھی۔وہ بری طرح پھنسا ہوا تھا۔سالار کا خیال تھا کہ امامہ اب تک جلال کے پاس جا چکی ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے شادی بھی کر چکی ہو اگرچہ اس نے امامہ سے جلال کی شادی کے بارے میں جھوٹ بولا تھا مگر اسے یقین تھا کہ امامہ نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا ہو گا۔وہ اس کے پاس دوبارہ ضرور گئی ہو گی۔خود سالار بھی چاہتا تھا کہ وہ خود جلال سے رابطہ قائم کرے یا پھر ذاتی طور پر جا کر ایک بار اس سے ملے۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ امامہ اس کے ساتھ رہ رہی ہے یا نہیں ، مگر فی الحال یہ دونوں کام اس کے لیے ناممکن تھے۔سکندر عثمان مسلسل اس کی نگرانی کروا رہے تھے اور وہ اس بات سے بھی واقف تھا کہ وہ یہ نگرانی کروانے والے واحد نہیں ہیں۔ہاشم مبین احمد بھی یہی کام کروا رہے تھے اور اگر وہ لاہور جانے کا ارادہ کرتا تو اول تو سکندر عثمان اسے جانے ہی نہ دیتے اور بالفرض جانے کی اجازت دے بھی دیتے تو شاید خود بھی اس کے ساتھ چل پڑتے اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سارے معاملے میں اس کی دلچسپی کم سے کم ہوتی جا رہی تھی۔اسے اب یہ سب کچھ ایک حماقت لگ رہا تھا۔ایسی حماقت جو اسے کافی مہنگی پڑ رہی تھی۔سکندر اور طیبہ اب ہمہ وقت گھر پر رہتے تھے اور اسے کہیں بھی جانے کے لیے اسے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی تھی۔حسن اب اس سے کم کم ملنے لگا تھا۔وہ اس کی وجہ بھی نہیں جانتا تھا۔اس صورت حال سے وہ بہت بور ہو رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اس رات کمپیوٹر پر بیٹھا تھا جب اس کے موبائل پر ایک کال آئی تھی۔اس نے کی بورڈ پر ہاتھ چلاتے ہوئے لاپرواہی سے موبائل اٹھا کر دیکھا اور پھر اسے ایک جھٹکا لگا تھا۔اسکرین پر موجود نمبر اس کے اپنے موبائل کا تھا۔امامہ اسے کال کر رہی تھی۔
“تو بالآخر آپ نے ہمیں یاد کر ہی لیا۔”اس نے بےاختیار سیٹی بجائی۔اس کا موڈ یک دم فریش ہو گیا تھا۔کچھ دیر پہلے والی بوریت یکسر غائب ہو گئی تھی۔
“میں تو سمجھ بیٹھا تھا کہ اب تم مجھے کبھی کال نہیں کرو گی۔اتنا لمبا عرصہ لگا دیا تم نے۔”رسمی علیک سلیک کے بعد اس نے پوچھا۔
“میں بہت دنوں سے تمہیں فون کرنا چاہ رہی تھی مگر کر نہیں پا رہی تھی۔”دوسری طرف سے امامہ نے کہا۔
“کیوں ، ایسی کیا مجبوری آ گئی تھی۔فون تو تمہارے پاس موجود تھا۔”سالار نے کہا۔
“بس کوئی مجبوری تھی۔”اس نے مختصراً کہا۔
“تم اس وقت کہاں ہو؟”سالار نے کچھ تجسس آمیز انداز میں پوچھا۔
“بچکانہ سوال مت کرو سالار ! جب تم جانتے ہو کہ میں تمہیں یہ نہیں بتاؤں گی تو پھر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟”
“میرے گھر والے کیسے ہیں؟”
سالار کچھ حیران ہوا۔اسے امامہ سے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔
“بالکل ٹھیک ہیں ، خوش و خرم ہیں ، عیش کر رہے ہیں۔”اس نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔”تم واقعی بہت اچھی بیٹی ہو ، گھر سے جا کر بھی تمہیں گھر اور گھر والوں کا کتنا خیال ہے۔ہاؤ نائس۔”
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی پھر امامہ نے کہا۔”وسیم کیسا ہے؟”
“یہ تو میں نہیں بتا سکتا مگر میرا خیال ہے ٹھیک ہی ہو گا۔وہ خراب کیسے ہو سکتا ہے۔”اس کے انداز اور لہجے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
“انہیں یہ تو پتا نہیں چلا کہ تم نے میری مدد کی تھی؟”سالار کو امامہ کا لہجہ کچھ عجیب سا لگا۔
“پتا لگا۔۔۔۔۔؟مائی ڈئیر امامہ ! پولیس اسی دن میرے گھر پہنچ گئی تھی جس دن میں تمہیں لاہور چھوڑ کر آیا تھا۔”سالار نے کچھ استہزائیہ انداز میں کہا۔”تمہارے فادر نے میرے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی تھی تمہیں اغوا کرنے کے سلسلے میں۔”وہ ہنسا۔”ذرا سوچو میرے جیسا بندہ کسی کو اغوا کر سکتا ہے اور وہ بھی تمہیں۔۔۔۔۔جو کسی بھی وقت کسی کو شوٹ کر سکتی ہے۔”
اس کے لہجے میں اس بار طنز تھا۔”تمہارے فادر نے پوری کوشش کی ہے کہ میں جیل پہنچ جاؤں اور باقی کی زندگی وہاں گزاروں مگر بس میں کچھ خوش قسمت واقع ہوا ہوں کہ بچ گیا ہوں۔گھر سے کالج تک میری نگرانی کی جاتی ہے۔ڈمب کالز ملتی ہیں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔اب تمہیں کیا کیا بتاؤں۔بہر حال تمہاری فیملی ہمیں خاصا زچ کر رہی ہے۔”اس نے جتانے والے انداز میں کہا۔
“میں نہیں جانتی تھی کہ وہ تم تک پہنچ جائیں گے۔”اس بار امامہ کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا۔”میرا خیال تھا کہ انہیں کسی بھی طرح تم پر شک نہیں ہو گا۔مجھے افسوس ہے کہ میری وجہ سے تمہیں اتنے پرابلمز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔”
“واقعی تمہاری وجہ سے مجھے بہت سے پرابلمز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔”
“میری کوشش تھی کہ میں پہلے خود کو محفوظ کر لوں پھر ہی تمہیں فون کروں اور اب میں واقعی محفوظ ہوں۔”
سالار نے کچھ تجسس آمیز دلچسپی کے ساتھ اس کی بات سنی۔”تمہارا موبائل اب میں استعمال نہیں کروں گی اور میں اسے واپس بھیجنا چاہتی ہوں ، مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔”وہ اسے بتا رہی تھی۔”میں تمہیں کچھ پیسے بھی بھجواؤں گی۔ان تمام اخراجات کے لئے جو تم نے میرے لئے کئے۔۔۔۔۔”
سالار نے اس بار اس کی بات کاٹی۔”نہیں ، پیسے رہنے دو۔مجھے ضرورت نہیں ہے۔موبائل کی بھی ضرورت نہیں ہے۔میرے پاس دوسرا ہے۔تم چاہو تو اسے استعمال کرتی رہو۔”
“نہیں ، میں اب اسے استعمال نہیں کروں گی۔میری ضرورت ختم ہو چکی ہے۔”
اس نے کہا۔کچھ دیر وہ خاموش رہی پھر اس نے کہا۔”میں چاہتی ہوں کہ تم اب مجھے طلاق کے پیپرز بھجوا دو اور طلاق کے پیپرز کے ساتھ نکاح نامہ کی ایک کاپی بھی جو میں پہلے تم سے نہیں لے سکی۔”
“کہاں بھجواؤں؟”سالار نے اس کے مطالبے کا جواب کہا۔اس کے ذہن میں یک دم ایک جھماکا ہوا تھا۔وہ اگر اب طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اس نے ابھی تک کسی سے شادی نہیں کی تھی نہ ہی طلاق کے اس حق کو استعمال کیا تھا ، جو نکاح نامہ میں وہ اس کی خواہش پر اسے تفویض کر چکا تھا۔
“تم اسی وکیل کے پاس وہ پیپرز بھجوا دو جس کو تم نے ہائر کیا تھا اور مجھے اس کا نام اور پتا لکھوا دو ، میں وہ پیپرز اس سے لے لوں گی۔”
سالار مسکرایا۔وہ بےحد محتاط تھی۔”مگر میرا تو اس وکیل کے ساتھ ڈائریکٹ کوئی رابطہ نہیں ہے۔میں تو اسے جانتا بھی نہیں ہوں پھر پیپرز اس تک کیسے پہنچاؤں؟”
“جس دوست کے ذریعے تم نے اس وکیل سے رابطہ کیا تھا اسی دوست کے ذریعے وہ پیپرز اس تک پہنچا دو۔”یہ تو طے تھا کہ وہ اسے کسی بھی طرح اپنا کوئی اتا پتا نہ دینے کا فیصلہ کر چکی تھی اور اس پر پوری طرح قائم تھی۔
“تم طلاق لینا کیوں چاہتی ہو؟”وہ اس وقت بہت موڈ میں تھا۔
دوسری طرف یک دم خاموشی چھا گئی۔شاید وہ اس سے اس سوال کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
“طلاق کیوں لینا چاہتی ہوں؟تم کتنی عجیب بات کر رہے ہو۔یہ تو پہلے ہی طے تھا کہ میں تم سے طلاق لوں گی پھر اس سوال کی کیا تک بنتی ہے”۔امامہ کے لہجے میں حیرانی تھی۔
“وہ تب کی تھی ، اب تو خاصا لمبا وقت گزر گیا ہے اور میں تمہیں طلاق دینا نہیں چاہتا۔”سالار نے بےحد سنجیدگی سے کہا۔وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ دوسری طرف اس وقت امامہ کے پیروں کے نیچے سے حقیقتاً زمین نکل گئی ہو گی۔
“تم کیا کہہ رہے ہو؟”
“میں یہ کہہ رہا ہوں امامہ ڈئیر ! میں تمہیں طلاق دینا نہیں چاہتا ، نہ ہی دوں گا۔”اس نے ایک اور دھماکہ کیا۔
“تم۔۔۔۔۔تم طلاق کا حق پہلے ہی مجھے دے چکے ہو۔”امامہ نے بےاختیار کہا۔
“کب کہاں۔۔۔۔۔۔کس وقت۔۔۔۔۔۔کس صدی میں۔”سالار نے اطمینان سے کہا۔
“تمہیں یاد ہے ، میں نے نکاح سے پہلے تمہیں کہا تھا کہ نکاح نامے میں طلاق کا حق چاہتی ہوں میں۔اگر تم طلاق نہیں بھی دیتے تو میں خود ہی وہ حق استعمال کر سکتی ہوں۔تمہیں یہ یاد ہونا چاہئیے۔”وہ جتا رہی تھی۔
“اگر میں تمہیں یہ حق دیتا تو تم یہ حق استعمال کر سکتی تھی مگر میں نے تو تمہیں ایسا کوئی حق دیا ہی نہیں۔تم نے نکاح نامہ دیکھا وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔خیر تم نے دیکھا ہی ہو گا ورنہ آج طلاق کی بات کیوں کر رہی ہوتیں۔”
دوسری طرف ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔سالار نے ہوا میں تیر چلایا تھا مگر وہ نشانے پر بیٹھا تھا۔امامہ نے یقیناً پیپرز سائن کرتے ہوئے انہیں دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔سالار بےحد محفوظ ہو رہا تھا۔
“تم نے مجھے دھوکا دیا۔”بہت دیر بعد اس نے امامہ کو کہتے سنا۔
“ہاں ، بالکل اسی طرح جس طرح تم نے پسٹل دکھا کر مجھے دھوکا دیا۔”وہ برجستگی سے بولا۔
“میں سمجھتا ہوں کہ تم اور میں بہت اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ہم دونوں میں اتنی برائیاں اور خامیاں ہیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو مکمل طور پر Complement کرتے ہیں۔”وہ اب ایک بار پھر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
“زندگی۔۔۔۔۔سالار ! زندگی اور تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔یہ نا ممکن ہے۔”امامہ نے تند لہجے میں کہا۔
“مجھے نپولین کی بات دُہرانی چاہئیے کہ میری ڈکشنری میں نا ممکن کا لفظ نہیں ہے یا مجھے تم سے یہ ریکویسٹ کرنی چاہئیے کہ آؤ ! اس نا ممکن کو مل کر ممکن بنائیں۔”وہ اب مذاق اڑا رہا تھا۔
“تم نے مجھ پر بہت احسان کیے ہیں ، ایک احسان اور کرو۔مجھے طلاق دے دو۔”
“نہیں ، میں تم پر احسان کرتے کرتے تھک گیا ہوں ، اب اور نہیں کر سکتا اور یہ والا احسان یہ تو نا ممکن ہے۔”سالار ایک بار پھر سنجیدہ ہو گیا تھا۔
” میں تمہارے ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں سالار ! تمہارا اور میرا لائف اسٹائل بہت مختلف ہے ، ورنہ شاید میں تمہاری پیشکش پر غور کرتی مگر اب اس صورت میں یہ ممکن نہیں ہے۔تم پلیز ، مجھے طلاق دے دو۔”وہ اب نرم لہجے میں کہہ رہی تھی۔سالار کا دل بےاختیار ہنسنے کو چاہا۔
“تم اگر میری پیش کش پر غور کرنے کا وعدہ کرو تو میں اپنا لائف اسٹائل بدل لیتا ہوں۔”سالار نے اسی انداز میں کہا۔
“تم سمجھنے کی کوشش کرو ، تمہاری اور میری ہر چیز مختلف ہے۔زندگی کی فلاسفی ہی مختلف ہے۔ہم دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔”اس بار وہ جھنجلائی۔
“نہیں۔۔۔۔۔نہیں میری اور تمہاری فلاسفی آف لائف بہت ملتی ہے۔تمہیں اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر یہ ملتی نہ بھی ہوئی تو بھی ذرا سے ایڈجسٹمنٹ کے بعد ملنے لگے گی۔”وہ اس طرح بولا جیسے اپنے بہترین دوست سے گفتگو کر رہا ہو۔
“ویسے بھی مجھ میں کمی کیا ہے۔میں تمہارے پُرانے منگیتر اسجد سے خوبصورت نہ سہی مگر جلال انصر جیسا معمولی شکل و صورت کا بھی نہیں ہوں۔میری فیملی کو تم اچھی طرح جانتی ہو۔کیرئیر میرا کتنا برائٹ ہو گا ، اس کا تمہیں اندازہ ہے۔میں ہر لحاظ سے جلال سے بہتر ہوں۔”وہ اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولا۔اس کی آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ناچ رہی تھی۔وہ امامہ کو بری طرح زچ کر رہا تھا اور وہ ہو رہی تھی۔
“میرے لیے کوئی بھی شخص جلال جیسا نہیں ہو سکتا اور تم۔۔۔۔۔تم تو کسی صورت بھی نہیں۔”اس کی آواز میں پہلی بار نمایاں خفگی تھی۔
“کیوں؟”سالار نے بےحد معصومیت سے پوچھا۔
“تم مجھے اچھے نہیں لگتے ہو۔آخر تم یہ بات کیوں نہیں سمجھتے۔دیکھو ، تم نے اگر مجھے طلاق نہ دی تو میں کورٹ میں چلی جاؤں گی۔”وہ اب اسے دھمکا رہی تھی۔سالار اس کی بات پر بےاختیار ہنسا۔
“یو آر موسٹ ویلکم۔جب چاہیں جائیں۔کورٹ سے اچھی جگہ میل ملاقات کے لیے اور کون سی ہو گی۔آمنے سامنے کھڑے ہو کر بات کرنے کا مزہ ہی اور ہو گا۔”وہ محفوظ ہو رہا تھا۔
“ویسے تمہیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئیے کہ کورٹ میں صرف میں نہیں پہنچوں گا ، بلکہ تمہارے پیرنٹس بھی پہنچیں گے۔”وہ استہزائیہ انداز میں بولا۔
“سالار ! میرے لیے پہلے ہی بہت سے پرابلمز ہیں تم ان میں اضافہ نہ کرو۔میری زندگی بہت مشکل ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔کم از کم تم تو میری مشکلات کو نہ بڑھاؤ۔”اس بار امامہ کے لہجے میں رنجیدگی و بےچارگی تھی۔وہ کچھ اور محفوظ ہوا۔
“میں تمہارے مسائل میں اضافہ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔؟مائی ڈئیر ! میں تو تمہاری ہمدردی میں گھل رہا ہوں ، تمہارے مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔تم خود سوچو ، میرے ساتھ رہ کر تم کتنی اچھی اور محفوظ زندگی گزار سکتی ہو۔”وہ بظاہر بڑی سنجیدگی سے بولا۔
“تم جانتے ہو نا ، میں نے اتنی مشکلات کس لیے سہی ہیں۔تم سمجھتے ہو ، میں ایک ایسے شخص کے ساتھ رہنے پر تیار ہو جاؤں گی جو ہر وہ کبیرہ گناہ کرتا ہے جسے میرے پیغمبر ﷺ نا پسند کرتے ہیں۔نیک عورتیں نیک مردوں کے لیے ہوتی ہیں اور بری عورتیں برے مردوں کے لیے۔میں نے زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں مگر میں اتنی بری نہیں ہوں کہ تمہارے جیسا برا مرد میری زندگی میں آئے۔جلال مجھے نہیں ملا مگر میں تمہارے ساتھ بھی زندگی نہیں گزاروں گی۔”اس نے بے حد تلخ انداز میں تمام لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا۔
“شاید اسی لیے جلال نے بھی تم سے شادی نہیں کی ، کیونکہ نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہوتی ہیں ، تمہارے جیسی نہیں۔”سالار نے اسی ٹکڑا توڑ انداز میں جواب دیا۔
دوسری طرف خاموشی رہی۔اتنی لمبی خاموشی کہ سالار کو اسے مخاطب کرنا پڑا۔”ہیلو۔۔۔۔۔تم سن رہی ہو؟”
“سالار ! مجھے طلاق دے دو۔”اسے امامہ کی آواز بھرائی ہوئی لگی۔سالار کو ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا۔
“تم کورٹ میں جا کر لے لو ، جیسے تم مجھ سے کہہ چکی ہو۔”سالار نے ترکی بہ ترکی کہا اور دوسری طرف سے فون بند کر دیا گیا۔
حسن نے ان چند ماہ میں سالار سے امامہ کے بارے میں جاننے کی بےحد کوشش کی تھی (حسن کے اپنے بیان کے مطابق ) مگر وہ ناکام رہا تھا۔وہ اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے کہ سالار اور امامہ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔سالار کی طرح خود انہوں نے موبائل پر بار بار اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔
سکندر نے سالار کو امریکہ میں مختلف یونیورسٹیز میں اپلائی کرنے کے لیے کہہ دیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اس کا اکیڈیمک ریکارڈ ایسا تھا کہ کوئی بھی یونیورسٹی اسے لینے میں خوشی محسوس کرے گی
امامہ نے سالار کو دوبارہ فون نہیں کیا تھا حالانکہ سالار کا خیال تھا کہ وہ اسے دوبارہ فون کرے گی اور تب وہ اسے بتا دے گا کہ وہ اسے نکاح نامے میں پہلے ہی طلاق کا حق دے چکا ہے اور وہ نکاح نامے کی کاپی بھی اس کے حوالے کر دے گا۔وہ اس سے یہ بھی کہہ دے گا کہ اس نے اس کے ساتھ صرف ایک مذاق کیا تھا مگر امامہ نے اس سے دوبارہ رابطہ قائم نہیں کیا ، نہ ہی سالار نے اپنے پیپرز میں اس نکاح نامے کو دوبارہ دیکھنے کی زحمت کی ، ورنہ وہ بہت پہلے وہاں اس کی عدم موجودگی سے واقف ہو جاتا۔
جس دن وہ آخری پیپر دے کر واپس گھر آیا۔سکندر عثمان کو اس نے اپنا منتظر پایا۔
“تم اپنا سامان پیک کر لو ، آج رات کی فلائٹ سے تم امریکہ جا رہے ہو ، کامران کے پاس۔”
“کیوں پاپا ! اس طرح اچانک۔۔۔۔۔سب کچھ ٹھیک تو ہے؟”
“تمہارے علاوہ سب کچھ ٹھیک ہے۔”سکندر نے تلخی سے کہا۔
“مگر پھر آپ مجھے اس طرح اچانک کیوں بھیج رہے ہیں؟”
“یہ میں تمہیں رات کو ائیرپورٹ چھوڑنے کے لیے جاتے ہوئے بتاؤں گا۔فی الحال تم جا کر اپنا سامان پیک کرو۔”
“پاپا پلیز ! آپ مجھے بتائیں آپ اس طرح مجھے کیوں بھجوا رہے ہیں؟”سالار نے کمزور احتجاج کیا۔
“میں نے کہا نا میں تمہیں بتا دوں گا۔تم جا کر اپنا سامان پیک کرو ، ورنہ میں تمہیں سامان کے بغیر ہی ائیرپورٹ چھوڑ آؤں گا۔”
سکندر نے اسے دھمکایا۔ وہ کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔اپنا سامان پیک کرتے ہوئے الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ سکندر عثمان کے اس اچانک فیصلے کے بارے میں سوچتا رہا اور پھر اچانک اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔اس نے اپنی دراز کھول کر اپنے پیپرز نکالنے شروع کر دئیے۔وہاں نکاح نامہ نہیں تھا۔اسے ان کے اس فیصلے کی سمجھ آ گئی تھی اور اسے پچھتاوا ہوا کہ اس نے نکاح نامے کو اتنی لاپرواہی سے وہاں کیوں رکھا تھا۔وہ نکاح نامہ سکندر عثمان کے علاوہ کسی اور کے پاس ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ ان کے علاوہ کوئی اور اس کمرے میں آنے اور اس کی دراز کھولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔
اس کے ذہن میں اب کوئی الجھن نہیں تھی۔اس نے بڑی خاموشی کے ساتھ اپنا سامان پیک کیا۔وہ اب صرف یہ سوچ رہا تھا سکندر عثمان سے ائیرپورٹ جاتے ہوئے کیا بات کرے گا۔
رات کو ائیر پورٹ چھوڑنے کے لیے صرف سکندر اس کے ساتھ آئے تھے ، طیبہ نہیں۔ان کا لہجااور انداز بےحد روکھا اور خشک تھا۔سالار نے بھی اس بار کوئی سوال نہیں کیا۔ائیرپورٹ جاتے ہوئے سکندر عثمان نے اپنا بریف کیس کھول کر ایک سادہ کاغذ اور قلم نکالا اور بریف کیس کے اوپر رکھ کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
“اس پر سائن کر دو۔”
“یہ کیا ہے؟”سالار نے حیرانی سے اس سادہ کاغذ کو دیکھا۔
“تم صرف سائن کرو ، سوال مت کرو۔”انہوں نے بے حد روکھے انداز میں کہا۔سالار نے مزید کچھ کہے بغیر ان کے ہاتھ میں پکڑا ہوا قلم لے کر اس کاغذ پر سائن کر دیے۔سکندر نے اس کاغذ کو تہہ کر کے بریف کیس میں رکھا اور بریف کیس کو دوبارہ بند کر دیا۔
“جو کچھ تم کر چکے ہو ، اس کے بعد تم سے کچھ کہنا یا کوئی بات کرنا بےکار ہے۔تم مجھ سے ایک کے بعد دوسرا ، اور دوسرے کے بعد تیسرا جھوٹ بولتے رہے۔یہ سمجھتے ہوئے کہ مجھے تو کبھی حقیقت کا پتا ہی نہیں چلے گا۔میرا دل تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں امریکہ بھیجنے کی بجائے ہاشم مبین کے حوالے کر دوں تاکہ تمہیں اندازہ ہو اپنی حماقت کا ، مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں تمہارا باپ ہوں ، مجھے تمہیں بچانا ہی ہے۔تم میری اس مجبوری کا آج تک فائدہ اٹھاتے رہے ہو مگر آئندہ نہیں اٹھا سکو گے۔میں تمہارا نکاح نامہ امامہ کے حوالے کر دوں گا اور اگر مجھے دوبارہ یہ پتا چلا کہ تم نے اس سے رابطہ کیا ہے یا رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو میں اس بار جو کروں گا تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔تم میرے لیے کافی مصیبتیں کھڑی کر چکے ہو ، اب ان کا سلسلہ بند ہو جانا چاہئیے سمجھے تم۔”
انہوں نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔وہ جواب میں کچھ کہنے کی بجائے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔اس کے انداز میں عجیب طرح کی لاپرواہی اور اطمینان تھا۔سکندر عثمان بے اختیار سلگا۔یہ ان کا وہ بیٹا تھا جو 150 + کا آئی کیو رکھتا تھا۔کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ وہ سرے سے کوئی آئی کیو رکھتا بھی تھا یا نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلے چند ماہ جو اس نے امریکہ میں گزارے تھے وہ اس کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔وہ اس سے پہلے بھی کئی بار سیر و تفریح کے لیے اپنی فیملی کے ساتھ اور ان کے بغیر امریکہ اور یورپ جاتا رہا تھا مگر اس بار جس طریقے سے سکندر نے اسے امریکہ بھجوایا تھا اس نے جہاں ایک طرف اسے مشتعل کیا تھا تو دوسری طرف اس کے لیے بہت سے دوسرے پرابلمز بھی پیدا کر دئیے تھے۔اس کے جو دوست اے لیول کے بعد امریکہ آ گئے تھے۔وہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھ رہے تھے۔وہ کسی ایک اسٹیٹ میں نہیں تھے۔ کچھ یہی حال اس کے رشتہ داروں اور کزنز کا تھا۔ خود اس کے اپنے بہن بھائی بھی ایک جگہ پر نہیں تھے۔وہ اپنی فیملی سے اتنا اٹیچ نہیں تھا کہ ان کی کمی محسوس کرتا یا ہوم سکنیس کا شکار ہوتا۔یہ صرف اس طرح اچانک وہاں بھجوائے جانے کا نتیجہ تھا کہ وہ اس طرح اضطراب کا شکار ہو رہا تھا۔
کامران سارا دن یونیورسٹی میں ہوتا اور اگر وہ گھر آتا بھی تو اپنی اسٹڈیز میں مصروف ہو جاتا۔اس کے ایگزامز قریب تھے جبکہ سالار سارا دن یا تو اپارٹمنٹ میں بیٹھا فلمیں دیکھتا رہتا یا پھر چینلز گھمانے میں مصروف رہتا اور جب وہ ان دونوں کاموں سے بیزار ہو جاتا تو آوارہ گردی کے لیے نکل جاتا۔اس نے وہاں اپنے قیام کے دوران نیو یارک میں اس علاقے کا چپہ چپہ چھان مارا تھا جہاں کامران رہ رہا تھا۔وہاں کا کوئی نائٹ کلب ، ڈسکو ، پب ، بار ، تھیٹر ، سینما یا میوزیم اور آرٹ گیلری ایسی نہیں تھی جہاں وہ نہ گیا ہو۔
اس کا اکیڈیمک ریکارڈ ایسا تھا کہ جن تین levy league کی یونیورسٹیز میں اس نے اپلائی کیا تھا ان تینوں میں رزلٹ آنے سے پہلے ہی اس کی ایڈمیشن کی درخواستیں قبول کی جا چکی تھیں۔وہ تینوں یونیورسٹیز ایسی تھیں جن میں اس کے دور یا قریب کا کوئی رشتے دار نہیں تھا اور یہ اس نے جان بوجھ کر کیا تھا۔وہ جانتا تھا کہ سکندر عثمان اپنی پوری کوشش کریں گے کہ اسے کسی ایسی یونیورسٹی میں ایڈمٹ کروائیں جہاں اس کے بہن بھائیوں میں سے نہیں تو کم از کم اس کے رشتہ داروں میں سے کوئی ضرور موجود ہو تاکہ وہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہیں۔سالار کی جگہ ان کا کوئی دوسرا بیٹا levy league کی کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا تو سکندر عثمان فخر میں مبتلا ہوتے اور اس چیز کو اپنے اور اپنی پوری فیملی کے لئے اعزاز سمجھتے مگر یہاں وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئے تھے کہ وہ سالار پر نظر کیسے رکھ سکیں گے۔سالار نے ان یونیورسٹیز میں سے Yale کو چُنا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نہ صرف Yale میں ان کا کوئی شناسا اور واقف کار نہیں تھا ، بلکہ New Haven میں بھی سکندر عثمان کا کوئی رشتہ دار اور دوست نہیں تھا۔
رزلٹ آنے کے بعد اسے یونیورسٹی سے میرٹ اسکالر شپ بھی مل گیا تھا۔اپنے باقی بھائیوں کے برعکس اس نے ضد کر کے ہوسٹل میں رہنے کے بجائے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیا تھا۔سکندر عثمان اسے اپارٹمنٹ میں رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے ، مگر اسکالرشپ ملنے کی وجہ سے اس کے پاس اتنی رقم آ گئی تھی کہ وہ خود ہی کوئی اپارٹمنٹ لے لیتا کیونکہ یونیورسٹی کے اخراجات کے لیے سکندر اس کے کاؤنٹ میں پہلے ہی ایک لمبی چوڑی رقم جمع کروا چکے تھے حالانکہ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا بھی اسکالر شپ لے رہا تھا مگر سالار سکندر کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان سے ہر وہ “کام” اور “مطالبہ” کرنے کے لئے بنایا تھا جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو۔وہ زمین پر خاص طور پر انہیں تنگ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا جس چیز کو ان کے دوسرے بچے مشرق کہتے وہ اسے مغرب کہتا۔جسے دوسرے زمین قرار دیتے وہ اس کے آسمان ہونے پر دلائل دینا شروع کر دیتا۔وہ اس کی باتوں ، حرکتوں اور ضد پر زیادہ سے زیادہ اپنا بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول ہائی کر سکتے تھے اور کچھ نہیں۔
New Haven جانے سے پہلے سکندر اور طیبہ اس کے لیے خاص طور پر پاکستان سے امریکہ آئے تھے۔وہ کئی دن تک اسے سمجھاتے رہے تھے ، جنہیں وہ اطمینان سے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتا رہا تھا۔وہ کئی سالوں سے نصیحتیں سننے کا عادی تھا اور عملی طور پر وہ نصیحتیں اب اس پر قطعاً کوئی اثر نہیں کرتی تھیں۔دوسری طرف سکندر اور طیبہ واپس پاکستان جاتے ہوئے بےحد فکرمند بلکہ کسی حد تک خوفزدہ بھی تھے۔
وہ Yale سے فنانس میں ایم بی اے کرنے آیا تھا اور اس نے وہاں آنے کے چند ہفتوں کے اندر ہی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔
پاکستان میں جن اداروں میں وہ پڑھتا رہا تھا اگرچہ وہ بھی بہت اچھے تھے مگر وہاں تعلیم اس کے لیے کیک واک تھی۔Yale میں مقابلہ بہت مشکل تھا وہاں بےحد قابل لوگ اور ذہین اسٹوڈنٹ موجود تھے۔اس کے باوجود وہ بہت جلد نظروں میں آنے لگا تھا۔
اس میں اگر ایک طرف اس کی غیر عمولی ذہنی صلاحیتوں کا دخل تھا تو دوسری طرف اس کے رویے کا بھی۔ایشین اسٹوڈنٹس والی روایتی ملنساری اور خوش اخلاقی اس میں مفقود تھی۔اس میں لحاظ و مروت بھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ احساسِ کمتری اور مرعوبیت تھی جو ایشین اسٹوڈنٹس امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیز میں فطری طور پر لے کر آتے ہیں۔اس نے بچپن ہی سے بہترین اداروں میں پڑھا تھا۔ایسے ادارے جہاں پڑھانے والے زیادہ تر غیر ملکی تھے اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بھی کوئی علم کے بہتے ہوئے سر چشمے نہیں ہوتے۔وہ یہ بھی جانتا تھا کہ Yale نے اسکالر شپ دے کر اس پر کوئی احسان نہیں کیا وہ اگر باقی دونوں یونیورسٹیز میں سے کسی کا انتخاب کرتا تو اسکالر شپ اسے وہاں سے بھی مل جاتا اور اگر ایسا نہ بھی ہوتا تب بھی اسے یہ معلوم تھا کہ اس کے ماں باپ کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ جہاں چاہتا ایڈمیشن لے سکتا تھا۔اگر اپنے فیملی بیک گراؤنڈ اسٹیٹس اور قابلیت کا زعم نہ ہوتا تب بھی سالار سکندر اس قدر تلخ اور الگ تھلگ نیچر رکھتا تھا کہ وہ کسی کو اپنی خوش اخلاقی کے جھوٹے مظاہرہ سے متاثر نہیں کر سکتا تھا۔رہی سہی کسر اس کے آئی کیو لیول نے پوری کر دی تھی۔
شروع کے چند ہفتوں میں ہی اس نے اپنے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی اور یہ بھی پہلی بار نہیں ہوا تھا۔وہ بچپن سے تعلیمی اداروں میں اسی قسم کی توجہ حاصل کیا کرتا تھا۔وہ ایسا اسٹوڈٹ نہیں تھا ، جو فضول باتوں پر بحث برائے بحث کرتا۔اس کے سوال ہی اس طرح کے ہوتے تھے کہ اس کے اکثر پروفیسرز کو فوری طور پر ان کا جواب دینے میں دشواری ہوتی۔جواب غیر تسلی بخش بھی ہوتا ، تب بھی وہ جتاتا نہیں تھا صرف خاموش ہو جاتا تھا ، مگر وہ یہ تاثر بھی نہیں دیتا تھا کہ وہ مطمئن ہو گیا تھا یا اس جواب کو تسلی کر رہا تھا۔وہ بحث صرف ان پروفیسرز سے کرتا تھا ، جن کے بارے میں اسے یہ یقین ہوتا کہ وہ ان سے واقعی کچھ نہ کچھ سیکھے گا یا جب کے پاس روایتی یا کتابی علم نہیں تھا۔
پڑھائی وہاں بھی اس کے لیے بہت مشکل نہیں تھی ، نہ ہی اس کا سارا وقت پڑھائی میں گزرتا تھا۔پہلے کی نسبت اسے کچھ زیادہ وقت دینا پڑتا تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنے لئے اور اپنی سرگرمیوں کے لئے وقت نکال لیا کرتا تھا۔
وہ وہاں کسی ہوم سکنیس کا شکار نہیں تھا کہ چوبیس گھنٹے پاکستان کو یاد کرتا رہتا یا پاکستان کے ساتھ اس طرح کے عشق میں مبتلا ہوتا کہ ہر وقت اس کے کلچر کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس کرتا نہ ہی امریکہ اس کے لیے کوئی نئی اور اجنبی جگہ تھی اس لیے اس نے وہاں موجود پاکستانیوں کو تلاش کرنے اور ان کے ساتھ روابط بڑھانے کی دانستہ طور پر کوئی کوشش نہیں کی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود بخود وہاں موجود کچھ پاکستانیوں سے اس کی شناسائی ہو گئی۔
یونیورسٹی کی دوسری بہت سی سوسائٹیز ، ایسوسی ایشنز اور کلبز میں اس کی دلچسپی تھی اور اس پاس ان کی ممبر شپ بھی تھی۔
پڑھائی سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنا زیادہ تر وقت بے کار پھرنے میں ضائع کرتا تھا۔خاص طور پر ویک اینڈز۔۔۔۔۔سینما ، کلبز ، ڈسکوز ، تھیٹرز ۔۔۔۔۔اس کی زندگی ان ہی چاروں کے درمیان تقسیم شدہ تھی۔ہر نئی فلم ، ہر نیا اسٹیج پلے ، ہر نیا کنسرٹ ، اور کوئی بھی نئی انسسٹر و مینٹل پرفارمنس وہ نہیں چھوڑتا تھا یا پھر ہر نیا چھوٹا ، بڑا ریسٹورنٹ ، مہنگے سے مہنگا اور سستے سے سستا ۔۔۔۔۔اسے ہر ایک کے بارے میں مکمل معلومات تھیں۔
اور سب کے درمیان وہ ایڈونچر اس کے ذہن میں اب تک تھا جس کی وجہ سے وہ امریکہ میں موجود تھا۔سکندر کو اس کے نکاح کا پتا کب چلا تھا ، کیسے چلا تھا ، سالار نے جاننے کی کوشش نہیں کی مگر وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ سکندر عثمان کو اس کے بارے میں کیسے پتا چلا ہو گا۔یہ حسن یا ناصرہ نہیں تھے جنہوں نے سکندر عثمان کو سالار اور امامہ کے بارے میں بتایا ہو گا۔وہ ان کی طرف سے مطمئن تھا یہ خود امامہ ہی ہو گی ، جس نے اس سے فون پر بات کرنے کے بعد یہ سوچا ہو گا کہ اس کے بجائے سکندر عثمان سے ساری بات کی جائے اور اس نے یقیناً ایسا ہی کیا ہو گا ، اسی لیے اس نے دوبارہ سالار سے رابطہ نہیں کیا۔سکندر نے اس سے رابطہ کرنے کے بعد ہی اس کے کمرے کی تلاشی لے کر وہ نکاح نامہ برآمد کر لیا تھا۔
مگر یہ سب کب ہوا تھا۔۔۔۔۔؟یہ وہ سوال تھا ، جس کا جواب وہ نہیں ڈھونڈ پا رہا تھا۔
جو بھی تھا امامہ کے لیے اس کی نا پسندیدگی میں پاکستان سے امریکہ آتے ہوئے کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔یکے بعد دیگرے وہ اس کے ہاتھوں زک اٹھانے پر مجبور ہوا تھا اور اب وہ پچھتاتا تھا کہ اس نے اس تمام معاملے میں امامہ کی مدد کیسے کی۔بعض دفعہ اسے حیرانی ہوتی تھی کہ آخر وہ امامہ جیسی لڑکی مدد کرنے پر تیار کیسے ہو گیا تھا اور اس حد تک مدد کہ۔۔۔۔۔
وہ اب ان تمام واقعات کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی کوفت محسوس کرتا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Last Episode 26

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: