Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 13

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 13

–**–**–

سالار پچھلی رات ایک فاسٹ فوڈ outlet سے اپنا پسندیدہ برگر لے کر آیا تھا۔وہ فریج میں پڑا تھا۔سعد نے اسے نکال لیا۔
“اسے رکھ دو ، یہ تم نہ کھانا۔”سالار نے جلدی سے کہا۔
“کیوں؟”سعد نے مائیکروویو کی طرف جاتے ہوئے پوچھا۔
“اس میں پورک (سؤر کا گوشت) ہے۔”سالار نے لاپرواہی سے کہا۔
“مذاق مت کرو۔”سعد ٹھٹک گیا۔
“اس میں مذاق والی کون سی بات ہے۔”سالار نے حیرانی سے اسے دیکھا۔سعد نے جیسے پھینکنے والے انداز میں پلیٹ شیلف پر رکھ دی۔
“تم پورک کھاتے ہو؟”
“میں پورک نہیں کھاتا۔میں صرف یہ برگر کھاتا ہوں کیونکہ یہ مجھے پسند ہے۔”سالار نے برنر جلاتے ہوئے کہا۔
“تم جانتے ہو ، یہ حرام ہے؟”
“اسلام میں؟”
“ہاں ! ”
“اور پھر بھی ؟”
“اب تم پھر وہی تبلیغی وعظ شروع مت کرنا ، میں صرف پورک ہی نہیں کھاتا ، ہر قسم کا گوشت کھا لیتا ہوں۔”سالار نے لاپرواہی سے کہا۔وہ اب فریج کی طرف جا رہا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آ رہا۔”
“خیر اس میں ایسی بےیقینی والی کیا بات ہے۔یہ کھانے کے لیے ہی ہوتا ہے۔”وہ اب فریج میں پڑے دودھ کے پیکٹ کو نکال رہا تھا۔
“ہر چیز کھانے کے لیے نہیں ہوتی۔”سعد کچھ تلملایا۔”ٹھیک ہے تم زیادہ مذہبی نہ سہی مگر مسلمان تو ہو اور اتنا تو تم جانتے ہی ہو گے کہ پورک اسلام میں حرام ہے ، کم از کم ایک مسلمان کے لیے۔”سالار خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہا۔
“میرے لئے کچھ مت بنانا ، میں نہیں کھاؤں گا۔”سعد یک دم کچن سے نکل گیا۔
“کیوں؟”سالار نے مڑ کر اسے دیکھا۔سعد واش بیسن کے سامنے کھڑا صابن سے ہاتھ دھو رہا تھا۔
“کیا ہوا؟”سالار نے اس سے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
سعد نے جواب میں کچھ نہیں کہا وہ اسی طرح کلمہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوتا رہا۔سالار چھبتی ہوئی نظروں سے ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ہاتھ دھونے کے بعد اس نے سالار سے کہا۔
“میں تو اس فریج میں رکھی کوئی چیز نہیں کھا سکتا ، بلکہ تمہارے برتنوں میں بھی نہیں کھا سکتا۔اگر تم یہ برگر کھا لیتے ہو تو اور بھی کیا کچھ نہیں کھا لیتے ہو گے۔چلو باہر چلتے ہیں ، وہیں جا کر کچھ کھاتے ہیں۔”
“یہ بہت انسلٹنگ ہے۔”سالار نے قدرے ناراضی سے کہا۔
“نہیں ، انسلٹ والی تو کوئی بات نہیں ہے۔بس میں یہ حرام گوشت نہیں کھانا چاہتا اور تم اس معاملے میں پرہیز کے عادی نہیں ہو۔”سعد نے کہا۔
“میں نے تمہیں یہ گوشت کھلانے کی کوشش نہیں کی۔تم نہیں کھاتے ، اس لیے میں نے وہ برگر پکڑتے ہی تمہیں منع کر دیا۔”سالار نے کہا۔”مگر تم کو تو شاید کوئی فوبیا ہو گیا ہے۔تم اس طرح ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے میں نے اپنے پورے فلیٹ میں اس جانور کو پالا ہوا ہے اور رات دن ان ہی کے ساتھ رہتا ہوں۔”سالار ناراض سا ہو گیا۔
“چلو باہر چلتے ہیں۔”سعد نے اس کی ناراضی کو ختم کرتے ہوئے کہا۔
“باہر چل کر کچھ کھائیں گے تو میں بل پے نہیں کروں گا ، تم کرو گے۔”سالار نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، میں کر دوں گا ، نو پرابلم۔تم چلو۔”سعد نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا۔
“اور اگلی دفعہ تم میرے اپارٹمنٹ پر آتے ہوئے گھر سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آنا۔”سالار نے قدرے طنزیہ لہجے میں اس سے کہا۔
“اچھا لے آؤں گا۔”سعد نے کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اس ویک اینڈ پر جھیل کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔اس کی طرح بہت سے لوگ وہاں پھر رہے تھے۔وہ کچھ دیر اِدھر اُدھر پھرنے کے بعد ایک بینچ پر آ کر بیٹھ گیا۔بہت لاپرواہی سے ایک آئس کریم اسٹک کھاتے ہوئے وہ اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے میں مصروف تھا جب اس کی توجہ تین سال کے ایک بچے نے اپنی طرف مبذول کر لی۔وہ بچہ ایک فٹ بال کے پیچھے دوڑ رہا تھا اور اس سے کچھ فاصلے پر سیاہ حجاب اوڑھے ایک لڑکی کھڑی تھی جو مسکراتے ہوئے اس بچے کو دیکھ رہی تھی۔وہ وہاں موجود بہت سے ایشین میں سے ایک تھی مگر حجاب میں ملبوس واحد لڑکی تھی۔وہ لاشعوری طور پر اسے دیکھے گیا۔وہ بچہ فٹ بال کو پاؤں سے ٹھوکر لگاتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی بینچ کی طرف آ گیا تھا۔ایک اور ٹھوکر نے بال کو سیدھا سالار کی طرف بھیج دیا۔کسی غیر ارادی عمل کے تحت سالار نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے اپنے دائیں پاؤں میں پہنے ہوئے جاگر کی مدد سے اس بال کو روکا اور پھر پاؤں ہٹایا نہیں بلکہ اسی طرح فٹ بال پر ہی رکھا مگر اس بار اس کی نظر اس لڑکی کی بجائے اس بچے پر تھی جو تیز رفتاری سے اس بال کے پیچھے اس کی طرف آیا تھا۔
اس کے بالکل پاس آنے کی بجائے وہ کچھ دُور رک گیا۔شاید وہ توقع کر رہا تھا کہ سالار بال کو اس کی طرف لڑھکا دے گا مگر سالار اسی طرح فٹ بال پر ایک پاؤں رکھے بائیں ہاتھ سے آئس کریم کھاتے ہوئے دور کھڑی اس لڑکی کو دیکھتا رہا۔شاید اسے توقع تھی کہ اب وہ قریب آئے گی۔ایسا ہی ہوا تھا۔کچھ دیر تک اسے فٹ بال نہ چھوڑتے دیکھ کر وہ لڑکی کچھ حیرانی سے آگے اس کی طرف آئی تھی۔
“یہ فٹ بال چھوڑ دیں۔”
اس نے قریب آ کر بڑی شائستگی سے کہا۔سالار چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے فٹ بال سے اپنا پاؤں اٹھایا اور وہیں بیٹھے بیٹھے فٹ بال کو ایک زور دار کک لگائی۔
فٹ بال اڑتے ہوئے بہت دور جا گری۔کک لگانے کے بعد اس نے اطمینان سے اس لڑکی کو دیکھا۔اس کا چہرا اب سُرخ ہو رہا تھا جبکہ وہ بچہ ایک بار پھر اس فٹ بال کی طرف بھاگتا جا رہا تھا جو اب کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔اس لڑکی نے زیرِلب اس سے کچھ کہا اور پھر واپس مڑ گئی۔سالار اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کو سن یا سمجھ نہیں سکا مگر اس کے سُرخ چہرے اور تاثرات سے وہ یہ اندازہ بخوبی لگا سکتا تھا کہ وہ کوئی خوشگوار الفاظ نہیں تھے۔اسے اپنی حرکت پر شرمندگی بھی ہوئی مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اس نے یہ حرکت کیوں کی وہ لڑکی امامہ سے مشابہت رکھتی تھی۔
وہ لمبے سے سیاہ کوٹ میں سیاہ حجاب اوڑھے ہوئے تھی۔دراز قد اور بہت دُبلی پتلی تھی۔بالکل امامہ کی طرح۔اس کی سفید رنگت اور سیاہ آنکھیں بھی اسے امامہ جیسی ہی محسوس ہوئی تھیں۔امامہ بہت لمبی چوڑی چادر میں خود کو چھپائے رکھتی تھی۔وہ حجاب نہیں لیتی تھی مگر اس کے باوجود اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے اسے اس کا خیال آیا تھا اور لاشعوری طور پر اس نے وہ نہیں کیا جو وہ لڑکی چاہتی تھی۔شاید اسے کسی حد تک یہ تسکین ہوئی تھی کہ اس نے امامہ کی بات نہیں مانی مگر۔۔۔۔۔وہ امامہ نہیں تھی۔
“آخر کیا ہو رہا ہے مجھے ، اس طرح تو۔۔۔۔۔”اس نے حیران ہوتے ہوئے سوچا۔وہ جیب میں سے ایک سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔سگریٹ کے کش لیتے ہوئے وہ ایک بار پھر اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اپنے بچے کو فٹ بال کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔سالار اسے دیکھ رہا تھا اور اس کے علاوہ ہر شے سے بےنیاز نظر آ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس رات وہ کافی دیر تک امامہ کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔اس کے اور جلال انصر کے بارے میں اسے یقین تھا اب تک وہ دونوں شادی کر چکے ہوں گے ، کیونکہ اپنا نکاح نامہ سکندر سے حاصل کرنے کے بعد وہ یہ جان چکی ہو گی کہ طلاق کا حق پہلے ہی اس کے پاس تھا۔اسے اس سلسلے میں سالار کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔یہ جاننے کے باوجود کہ جلال انصر اس کے کہنے پر بھی امامہ سے شادی پر تیار نہیں ہوا تھا اسے پھر بھی نہ جانے کیوں یہ یقین تھا کہ جلال انصر ایک بار امامہ کے پاس پہنچ جانے پر اسے انکار نہیں کر سکا ہو گا۔اس کی منت سماجت پر وہ مان گیا ہو گا۔
امامہ اس کے مقابلے میں بہت خوبصورت تھی اور امامہ کا خاندان ملک کے طاقت ور ترین خاندانوں میں سے ایک تھا۔کوئی احمق ہی ہو گا جو جلال انصر جیسی حیثیت رکھتے ہوئے امامہ کو سونے کی چڑیا نہ سمجھتا ہو یا پھر ہو سکتا ہے وہ واقعی امامہ کی محبت میں مبتلا ہو جو بھی تھا اسے یقین تھا کہ وہ دونوں شادی کر چکے ہوں گے اور پتا نہیں کس طرح ہاشم مبین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر چھپنے میں کامیاب ہوئے ہوں گے یا یہ بھی ممکن ہے کہ ہاشم مبین نے اب تک انہیں ڈھونڈ نکالا ہو۔
“مجھے پتا تو کرنا چاہئیے اس بارے میں۔”اس نے سوچا اور پھر اگلے ہی لمحے خود کو جھڑکا۔”فارگاڈ سیک سالار ! دفع کرو اسے ، جانے دو ، کیوں خوامخواہ اس کے پیچھے پڑ گئے ہو۔یہ جان کر آخر کیا مل جائے گا کہ ہاشم مبین اس تک پہنچے ہیں یا نہیں۔”اس نے بےاختیار خود کو جھڑکا مگر اس کا تجسس ختم نہیں ہوا۔
“واقعی میں نے یہاں آنے کے بعد یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ ہاشم مبین اب تک اس تک پہنچے ہیں یا نہیں۔”اسے حیرانی ہو رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میرا نام وینس ایڈورڈ ہے۔”
وہ لڑکی اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی تھی۔وہ اس وقت لائبریری کی بک شیلف سے ایک کتاب نکال رہا تھا ، جب وہ اس کے قریب آئی تھی۔
“سالار سکندر ! “اس نے وینس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔
“میں جانتی ہوں ، تمہیں تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔”
وینس نے بڑی گرم جوشی سے کہا۔سالار نے اسے یہ نہیں کہا کہ اسے بھی تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔وہ اپنی کلاس کے پچاس کے پچاس لوگوں کو ان کے نام سے جانتا اور پہچانتا تھا۔نہ صرف یہ بلکہ وہ بریف بائیوڈیٹا بھی بغیر اٹکے کسی غلطی کے بتا سکتا تھا۔جیسے وہ اس وقت وینس کو یہ بتا کر حیران کر سکتا تھا کہ وہ نیو جرسی سے آئی تھی۔وہاں وہ سال ایک ہیوریج کمپنی میں کام کرتی رہی تھی۔اس کے پاس مارکیٹنگ میں ایک ڈگری تھی اور وہ اب دوسری ڈگری کے لیے وہاں آئی تھی اور وہ اس سے کم از کم چھ سات سال بڑی تھی۔اگرچہ اپنے قدوقامت سے سالار اس سے بہت بڑا لگتا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ وہ اس وقت اپنے بیچ میں سب سے کم عمر تھا۔اپنے بیچ میں صرف وہی تھا جو کسی قسم کی جاب کیے بغیر سیدھا ایم بی اے کے لیے آیا تھا۔باقی سب کے پاس کہیں نہ کہیں کچھ سال کام کرنے کا تجربہ تھا مگر اس وقت وینس کو یہ سب کچھ بتانا اسے خوش فہمی کا شکار کرنے کے مترادف تھا۔
“اگر میں آپ کو کافی کی دعوت دوں تو؟”وینس نے اپنا تعارف کروانے کے بعد کہا۔
“تو میں اسے قبول کر لوں گا۔”
وہ اس کی بات پر ہنسی۔”تو پھر چلتے ہیں ، کافی پیتے ہیں۔”سالار نے کندھے اُچکائے اور کتاب کو دوبارہ شیلف میں رکھ دیا۔
کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر وہ دونوں تقریباً آدھہ گھنٹہ تک ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔یہ وینس کے ساتھ اس کی شناسائی کا آغاز تھا۔سالار کے لیے کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات بڑھانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔وہ یہ کام بہت آسانی سے کر لیا کرتا تھا۔اس بار مزید آسانی یہ تھی کہ پہل وینس کی طرف سے ہوئی تھی۔
تین چار ملاقاتوں کے بعد اس نے ایک رات وینس کو اپنے فلیٹ پر رات گزارنے کے لیے انوائٹ کر لیا تھا اور وینس نے کسی تامل کے بغیر اس کی دعوت قبول کر لی۔وہ دونوں یونیورسٹی کے بعد اکٹھے بہت ہی جگہوں پر پھرتے رہے۔سالار کے فلیٹ پر ان کی واپسی لیٹ نائٹ ہوئی تھی۔
وہ کچن میں اپنے اور اس کے لیے گلاس تیار کرنے لگا جبکہ وینس نے بےتکلفی سے اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے اس کے اپارٹمنٹ کا جائزہ لے رہی تھی پھر وہ اس کے قریب آ کر کاؤنٹر کے سامنے کھڑی ہو گئی۔”بہت اچھا اپارٹمنٹ ہے تمہارا۔میں سوچ رہی تھی کہ تم اکیلے رہتے ہو تو اپارٹمنٹ کا حلیہ خاصا خراب ہو گا مگر تم نے تو ہر چیز بڑے سلیقے سے رکھی ہوئی ہے۔تم ایسے ہی رہتے ہو یا یہ اہتمام خاص میرے لیے کیا گیا ہے۔”
سالار نے ایک گلاس اس کے آگے رکھ دیا۔”میں ایسے ہی رہتا ہوں ، قرینے اور طریقے سے۔”اس نے گھونٹ بھرا اور گلاس دوبارہ کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے وہ وینس کے قریب چلا آیا اس نے اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ دئیے۔وینس مسکرا دی۔سالار نے اسے اپنے کچھ اور قریب کیا اور پھر یک دم ساکت ہو گیا۔اس کی نظریں وینس کی گردن کی زنجیر میں جھولتے اس موتی پر پڑی تھیں ، جسے آج اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔سردی کے موسم کی وجہ سے وینس بھاری بھرکم سویٹرز اور جیکٹس پہنا کرتی تھی۔اس نے ایک دو بار اس کے کھلے کالر سے نظر آنے والی اس زنجیر کو دیکھا تھا مگر اس زنجیر میں لٹکا ہوا وہ موتی آج پہلی بار اس کی نظروں میں آیا تھا کیونکہ آج پہلی بار وینس ایک گہرے گلے کی شرٹ میں ملبوس تھی۔وہ اس شرٹ کے اوپر ایک سویٹر پہنے ہوئے تھی جسے اس نے سالار کے اپارٹمنٹ میں آ کر اُتار دیا تھا۔
اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔ایک جھماکے کے ساتھ وہ موتی اسے کہیں اور۔۔۔۔۔کہیں بہت پیچھے ۔۔۔۔۔کسی اور کے پاس لے گیا تھا۔۔۔۔۔مسح کرتے ہاتھ اور انگلیاں ۔۔۔۔۔ہاتھ اور کلائی۔۔۔۔۔کلائی سے کہنی تک کا سفر کرتی انگلیاں۔۔۔۔۔آنکھوں سے پیشانی۔۔۔۔۔پیشانی سے سفید چادر کے نیچے سیاہ بالوں پر پھسلتے ہوئے ہاتھ۔۔۔۔۔
امامہ کی گردن کے گرد موجود زنجیر تنگ تھی۔اس میں لٹکنے والا موتی اس کی ہنسلی کی ہڈی کے بالکل ساتھ جھولتا تھا۔زنجیر تھوڑی سی بھی لمبی ہوتی تو وہ اسے دیکھ نہ پاتا۔اس رات وہ بہت تنگ گلے کی شرٹ اور سویٹر میں ملبوس تھی۔اس موتی کو دیکھتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے مفلوج ہو گیا۔
وہ اسے کس وقت یاد آئی تھی۔اس نے موتی سے نظریں چُرانے کی کوشش کی۔وہ اپنی رات خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس نے وینس کو دیکھ کر دوبارہ مسکرانے کی کوشش کی۔وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
“مجھے تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت لگتی ہیں۔”
“مجھے تمہاری آنکھوں سے گھن آتی ہے۔”
کسی آواز نے اسے ایک چابک مارا تھا اور اس کے چہرے کی مسکراہٹ یک دم غائب ہو گئی۔وینس کے وجود سے اپنے بازو ہٹاتے ہوئے وہ چند قدم پیچھے مڑا اور کاؤنٹر پر پڑا ہوا گلاس اٹھا لیا۔وینس ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا؟”وہ چند قدم آگے بڑھ آئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ تشویش سے پوچھا۔
سالار نے کچھ کہے بغیر ایک ہی سانس میں خالی کیا۔وینس اس کے جواب نہ دینے پر اب کچھ اُلجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
وینس میں اس کی دلچسپی ختم ہونے میں صرف چند منٹ لگے تھے۔وہ نہیں جانتا اسے کیوں اس کے وجود سے اُلجھن ہونے لگی تھی۔وہ پچھلے دو گھنٹے ایک نائٹ کلب میں اس کے ساتھ ڈانس کرتا رہا تھا اور وہ اس کے ساتھ بےحد خوش تھا اور اب چند منٹوں میں۔۔۔۔۔۔”
سالار نے اپنے کندھے جھٹکے اور سنک کی طرف چلا گیا۔وہ اپنا گلاس دھونے لگا۔وینس دوسرا گلاس لے کر اس کے پاس چلی آئی۔سالار نے اس سے گلاس لے لیا۔وہ اپنے سینے پر دونوں بازو لپیٹے اس کے بالکل پاس کھڑی اسے دیکھتی رہی۔سالار کو اس کی نظروں سے جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی۔
“میں ۔۔۔۔۔میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”
گلاس کو شیلف پر رکھتے ہوئے اس نے وینس سے کہا۔وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔وہ بالواسطہ طور پر اسے وہاں سے جانے کے لیے کہہ رہا تھا۔وینس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔سالار کا رویہ بےحد توہین آمیز تھا۔وہ چند لمحے اسے گھورتی رہی پھر تیزی کے ساتھ اپنا سویٹر اور بیگ اٹھا کر اپارٹمنٹ کا دروازہ دھماکے سے بند کر کے باہر نکل گئی۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ کر صوفہ پر بیٹھ گیا۔
وینس اور امامہ میں کہیں کسی قسم کی کوئی مشابہت نہیں تھی۔دونوں کی گردنوں میں موجود موتی بھی بالکل ایک جیسا نہیں تھا اس کے باوجود اس وقت اس کی گردن میں جھولتے اس موتی کو دیکھ کر بےاختیار وہ یاد آئی تھی۔کیوں۔۔۔۔۔؟اب پھر کیوں۔۔۔۔۔؟آخر اس وقت کیوں۔۔۔۔۔؟وہ بےحد مشتعل ہو رہا تھا۔اس کی وجہ سے اس کی رات خراب ہو گئی تھی ، اس نے سینٹر ٹیبل پر پڑا ہوا ایک کرسٹل کا گلدان اُٹھایا اور پوری قوت سے اسے دیوار پر دے مارا۔
ویک اینڈ کے بعد وینس سے اس کی دوبارہ ملاقات ہوئی ، لیکن وہ اس سے بڑے روکھے اور اکھڑے ہوئے انداز میں ملا۔یہ اس سے تعلقات شروع کرنے سے پہلے ہی ختم کرنے کا واحد راستہ تھا۔اسے ہر اس عورت سے جھنجلاہٹ ہوتی تھی جو اسے کسی بھی طرح سے امامہ کی یاد دلاتی اور وینس ان عورتوں میں شامل ہو گئی تھی۔وینس جو اس کی طرف سے کسی معذرت اور اگلی دعوت کا انتظار کر رہی تھی وہ اس کے اس رویے سے بری طرح دلبرداشتہ ہوئی تھی۔Yale میں یہ اس کا پہلا افئیر تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلے چند ماہ وہ پڑھائی میں بےحد مصروف رہا ، اتنا مصروف کہ امامہ کو یاد رکھنے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کو کل پر ٹالتا رہا شاید یہ سلسلہ ابھی چلتا رہتا اگر اس شام اچانک اس کی ملاقات جلال انصر سے نہ ہو جاتی۔
وہ ویک اینڈ پر بوسٹن گیا ہوا تھا جہاں اس کے چچا رہتے تھے وہ وہاں اپنے ایک کزن کی شادی اٹینڈ کرنے آیا تھا۔
اس شام سالار اپنے کزن کے ہمراہ تھا جو ایک ریسٹورنٹ چلا رہا تھا۔وہ وہاں کھانا کھانے آیا ہوا تھا۔اس کا کزن آرڈر دینے کے بعد کسی کام سے اٹھ کر گیا تھا۔سالار کھانے کا انتظار کر رہا تھا جب کسی نے اس کا نام لے کر پکارا۔
“ہیلو۔۔۔۔۔! ” سالار نے بےاختیار مڑ کر اسے دیکھا۔
“آپ سالار ہیں؟”اس آدمی نے پوچھا۔
وہ جلال انصر تھا۔اسے پہچاننے میں لحظہ بھر کے لیے دقت اس لیے ہوئی تھی کیونکہ اس کے چہرے سے اب داڑھی غائب تھی۔
سالار نے کھڑے ہو کر اس سے ہاتھ ملایا۔ایک سال پہلے کا ایڈونچر ایک بار پھر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔رسمی علیک سلیک کے بعد اس نے جلال کو رسماً کھانے کی دعوت دی۔
“نہیں ، مجھے ذرا جلدی ہے۔بس آپ پر اتفاقاً نظر پڑ گئی تو آ گیا۔”جلال نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
“امامہ کیسی ہے؟”جلال نے بات کرتے کرتے اچانک کہا۔سالار کو لگا وہ اس کا سوال ٹھیک سے سن نہیں سکا۔
“سوری۔۔۔۔۔”اس نے معذرت خواہانہ انداز میں استفسار کیا۔جلال نے اپنا سوال دُہرایا۔
“میں امامہ کا پوچھ رہا تھا۔وہ کیسی ہے؟”
سالار پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتا رہا۔وہ امامہ کے بارے میں اس سے کیوں پوچھ رہا تھا۔
“مجھے نہیں پتا یہ تو آپ کو پتا ہونا چاہئیے۔”اس نے کچھ اُلجھتے ہوئے انداز میں کندھے جھٹکتے ہوئے کہا۔
اس بار جلال حیران ہوا۔”مجھے کس لئے؟”
“کیونکہ وہ آپ کی بیوی ہے۔”
“میری بیوی؟”جلال کو جیسے کرنٹ لگا۔
“آپ کیا کہہ رہے ہیں۔میری بیوی کیسے ہو سکتی ہے وہ۔میں نے اس سے شادی سے انکار کر دیا تھا۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ایک سال پہلے آپ ہی تو آئے تھے اس سلسلے میں مجھ سے بات کرنے کے لیے۔”جلال نے جیسے اسے کچھ یاد دلایا۔”میں نے تو آپ سے یہ بھی کہا تھا کہ آپ خود اس سے شادی کر لیں۔”
سالار بےیقینی سے اسے دیکھتا رہا۔
“میں تو یہ سوچ کر آپ کے پاس آیا تھا کہ شاید آپ نے اس سے شادی کر لی ہو گی۔”وہ اب وضاحت کر رہا تھا۔
“آپ نے اس سے شادی نہیں کی؟”سالار نے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔آپ سے تو ساری بات ہوئی تھی میں نے انکار کر دیا پھر اس سے میری شادی کیسے ہو سکتی تھی؟پھر میں نے سنا کہ وہ گھر سے چلی گئی۔میں نے سوچا آپ کے ساتھ کہیں چلی گئی ہو گی۔اسی لیے تو آپ کو دیکھ کر آپ کی طرف آیا تھا۔”
“میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔میں تو پچھلے سات آٹھ ماہ سے یہیں ہوں۔”سالار نے کہا۔
“اور مجھے یہاں آئے دو ماہ ہوئے ہیں۔”جلال نے بتایا۔
“مجھ سے ملاقات کے بعد کیا اس نے دوبارہ آپ سے رابطہ یا ملاقات کرنے کی کوشش کی تھی؟”
سالار نے کچھ اُلجھتے ہوئے انداز میں پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔”وہ مجھ سے نہیں ملی۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لاہور جا کر اس نے آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔”سالار کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔
“مجھ سے رابطہ کرنے سے کیا ہوتا؟”
“آپ کے لیے وہ گھر سے نکلی تھی۔اسے آپ کےپاس جانا چاہئیے تھا۔”
“نہیں۔۔۔۔۔وہ میرے لیے گھر سے نہیں نکلی تھی۔آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ میں اس سے شادی نہیں کر سکتا۔پھر آپ یہ مت کہیں کہ وہ میرے لیے گھر سے نکلی تھی۔”جلال کے لہجے میں اچانک کچھ تبدیلی آ گئی۔”ساری بات آپ ہی سے تو ہوئی تھی۔”
“کیا آپ واقعی سچ کہہ رہے ہیں کہ وہ دوبارہ آپ کے پاس نہیں گئی؟”
“میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گا اور اگر وہ میرے ساتھ ہوتی تو میں آپ کے پاس اس کے بارے میں پوچھنے کیوں آتا۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔”جلال کے لہجے میں اب بےنیازی تھی۔
“آپ مجھے اپنا کانٹیکٹ نمبر دے سکتے ہیں؟”سالار نے کہا۔
“نہیں۔۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ آپ کو مجھ سے اور مجھے آپ سے دوبارہ رابطے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔”جلال نے بڑی صاف گوئی سے کہا اور واپس مڑ گیا۔
سالار کچھ الجھے ہوئے انداز میں اس کی پشت پر نظریں جمائے رہا ، یہ باقابلِ یقین بات تھی کہ وہ جلال سے نہیں ملی۔کیوں۔۔۔۔۔؟کیا اس نے میری اس بات پر واقعی یقین کر لیا تھا کہ جلال نے شادی کر لی ہے؟سالار کو اپنا جھوٹ یاد آیا مگر یہ کیسے ممکن ہے وہ مزید اُلجھا۔۔۔۔۔۔میری بات پر اسے یقین کیسے آ سکتا ہے جبکہ وہ کہہ بھی رہی تھی کہ اسے میری بات پر یقین نہیں ہے۔
وہ کرسی کھینچ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔
اور اگر جلال کے پاس نہیں گئی تو پھر وہ کہاں گئی۔کیا کسی اور شخص کے پاس؟جس سے اس نے مجھے بےخبر رکھا ، مگر یہ ممکن نہیں ہے اگر کوئی اور ہوتا تو وہ مجھے اس سے بھی رابطہ کرنے کے لیے کہتی۔اگر وہ فوری طور پر جلال کے پاس نہیں بھی گئی تھی تو سکندر سے نکاح نامہ لینے اور طلاق کے حق کے بارے میں جاننے کے بعد اسے اسی کے پاس جانا چاہئیے تھا ، وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے جلال کی اس فرضی شادی کے بارے میں اسے کیوں بتایا۔شاید وہ اسے پریشان کرنا چاہتا تھا یا پھر یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اب کیا کرے گی یا پھر شاید وہ بار بار اس کے اس مطالبے سے تنگ آ گیا تھا کہ وہ پھر جلال کے پاس جائے ، پھر جلال سے رابطہ کرے ، وہ ایسا کرنے کی وجہ نہیں جانتا تھا، جو بھی تھا بہر حال اسے یقین تھا ! امامہ جلال کے پاس جائے گی۔
مگر سالار کو اب پتا چلا تھا کہ اس کی توقع یا اندازے کے برعکس وہ وہاں گئی ہی نہیں۔
ویٹر اب کھانا سرو کر رہا تھا ، اس کا کزن آ چکا تھا ، وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے کھانا کھاتے رہے مگر سالار کھانا کھاتے اور باتیں کرتے ہوئے بھی مسلسل امامہ اور جلال کے بارے میں سوچتا رہا۔کئی ماہ بعد یک دم وہ اس کے ذہن میں پھر تازہ ہو گئی تھی۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے گھر واپس چلی گئی ہو؟”کھانا کھاتے کھاتے اسے اچانک خیال آیا۔
“ہاں یہ ممکن ہے۔۔۔۔۔”اس کا ذہن متواتر ایک ہی جگہ اٹکا ہوا تھا۔مجھے پاپا سے بات کرنی چاہئیے۔انہیں یقیناً اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ پتا ہو گا۔”سکندر عثمان بھی ان دنوں شادی میں شرکت کی غرض سے وہیں تھے۔
واپس گھر آنے کے بعد رات کے قریب جب اس نے سکندر کو تنہا دیکھا تو اس نے ان سے امامہ کے بارے میں پوچھا۔
“پاپا ! کیا امامہ واپس اپنے گھر آ گئی ہے؟”اس نے کسی تمہید کے بغیر سوال کیا۔
اور اس کے سوال نے کچھ دیر کے لیے سکندر کو خاموش رکھا۔
“تم کیوں پوچھ رہے ہو؟”چند لمحوں کے بعد انہوں نے درشتی سے کہا۔
“بس ایسے ہی۔”
“اس کے بارے میں اتنا غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔تم اپنی اسٹڈیز پر اپنا دھیان رکھو تو بہتر ہے۔”
“پاپا ! پلیز آپ میرے سوال کا جواب دیں۔”
“کیوں جواب دوں۔۔۔۔۔تمہارا اس کے ساتھ تعلق کیا ہے؟”سکندر کی ناراضی میں اضافہ ہو گیا۔
“پاپا ! اس کا ایک بوائے فرینڈ مجھے آج ملاہے یہاں ، وہی جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔”
“تو پھر۔۔۔۔۔؟”
“تو پھر یہ کہ ان دونوں نے شادی نہیں کی۔وہ بتا رہا تھا کہ امامہ اس کے پاس گئی ہی نہیں۔جب کہ میں سمجھ رہا تھا کہ لاہور جانے کے بعد وہ اسی کے پاس گئی ہو گی۔”
سکندر نے اس کی بات کاٹ دی۔”وہ اس کے پاس گئی یا نہیں۔ اس نے اس شادی کی یا نہیں۔یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔نہ ہی تمہیں اس میں انوالو ہونے کی ضرورت ہے۔”
“ہاں ، یہ میرا مسئلہ نہیں ہے مگر میں جاننا چاہتا ہوں کیا امامہ آپ کے پاس آئی تھی؟آپ نے اسے شادی کے پیپرز کیسے بھجوائے تھے۔میرا مطلب کس کے ذریعے۔”سالار نے کہا۔
“تم سے کس نے کہا کہ اس نے مجھ سے رابطہ کیا تھا؟”
وہ ان کے سوال پر حیران ہوا۔”میں نے خود اندازہ لگایا۔”
“اس نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا وہ رابطہ کرتی تو میں ہاشم مبین کو اس کے بارے میں بتا دیتا۔”
سالار ان کا چہرہ دیکھتا رہا۔”میں نے تمہارے کمرے کی تلاشی لی تھی اور میرے ہاتھ وہ نکاح نامہ لگ گیا۔”
“مجھے یہاں بھجواتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ آپ وہ پیپرز امامہ تک بھجوا دیں گے۔”
“ہاں۔۔۔۔۔یہ اس صورت میں ہوتا اگر وہ مجھ سے رابطہ کرتی مگر اس نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔تمہیں یہ یقین کیوں ہے کہ اس نے مجھ سے ضرور رابطہ کیا ہو گا۔”اس بار سکندر نے سوال کر ڈالا۔
سالار کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے پوچھا۔
“پولیس کو اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلا؟”
“نہیں ، پولیس کو پتا چلتا تو اب تک وہ ہاشم مبین کے گھر واپس آ چکی ہوتی مگر پولیس ابھی بھی اس کی تلاش میں ہے۔”سکندر نے کہا۔
“ایک بات تو طے ہے سالار کہ اب تم دوبارہ امامہ کے بارے میں کوئی تماشا نہیں کرو گے۔وہ جہاں ہے جس حال میں ہے تمہیں اپنا دماغ تھکانے کی ضرورت نہیں ، تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔پولیس جیسے ہی اسے ڈھونڈے گی میں وہ پیپرز ہاشم مبین تک پہنچا دوں گا ، تاکہ تمہاری جان ہمیشہ کے لیے اس سے چھوٹ جائے۔”
“پاپا ! کیا اس نے واقعی کبھی گھر فون نہیں کیا مجھ سے بات کرنے کے لیے۔”سالار نے ان کی بات پر غور کیے بغیر کہا۔
“کیا وہ تمہیں فون کیا کرتی تھی؟”
وہ ان کا چہرہ دیکھنے لگا۔”گھر سے چلے جانے کے بعد اس نے صرف ایک بار فون کیا تھا پھر میں یہاں آ گیا۔ہو سکتا ہے اس نے دوبارہ فون کیا ہو جس کے بارے میں آپ مجھے نہیں بتا رہے۔”
“اس نے تمہیں فون نہیں کیا۔اگر کرتی تو میں تمہاری اور اس کی شادی کے بارے میں بہت سے معاملات کو ختم کر دیتا۔میں تمہاری طرف سے اسے طلاق دے دیتا۔”
“یہ سب آپ کیسے کر سکتے ہیں۔”
سالار نے بہت پُر سکون انداز میں کہا۔
“یہاں تمہیں بھجوانے سے پہلے میں نے ایک پیپر پر تمہارے signatures لیے تھے ، میں طلاق نامہ تیار کروا چکا ہوں۔”سکندر نے جتاتے ہوئے کہا۔
“fake document (جعلی ڈاکومنٹ)۔”سالار نے اسی انداز میں تبصرہ کیا۔”میں تو نہیں جانتا تھا کہ آپ طلاق نامہ تیار کروانے کے لیے مجھ سے سائن کروا رہے ہیں۔”
“تم پھر اس مصیبت کو میرے سر پر لانا چاہتے ہو؟”سکندر کو ایک دم غصہ آ گیا۔
“میں نے یہ نہیں کہا کہ میں اس کے ساتھ رشتہ کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔میں آپ کو صرف یہ بتا رہاں ہوں کہ آپ میری طرف سے یہ رشتہ ختم نہیں کر سکتے۔یہ میرا معاملہ ہے میں خود ہی اسے ختم کروں گا۔”
“تم صرف یہ شکر کرو کہ تم اس وقت یہاں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہو ، ورنہ تم نے جس خاندان کو اپنے پیچھے لگا لیا تھا وہ خاندان قبر تک بھی تمہارا پیچھا نہ چھوڑتا اور یہ بھی ممکن ہے وہ یہاں بھی تمہاری نگرانی کروا رہے ہوں۔یا انتظار کر رہے ہوں کہ تم مطمئن ہو کر دوبارہ امامہ کے ساتھ رابطہ کرو اور وہ تم دونوں کے لیے ایک کنواں تیار کر لیں۔”
“آپ خوامخواہ مجھے خوفزدہ کر رہے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ میں یہ ماننے پر تیار نہیں ہوں کہ یہاں امریکہ میں کوئی میری نگرانی کر رہا ہو گا اور وہ بھی اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اور دوسری بات یہ کہ میں امامہ کے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں کر رہا کیونکہ میں واقعی نہیں جانتا وہ کہاں ہے ، پھر رابطے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
“تو پھر تمہیں اس کے بارے میں اس قدر کانشس ہونے کی کیا ضرورت ہے۔وہ جہاں ہے جیسی ہے ، رہنے دو اسے۔”سکندر کو کچھ اطمینان ہوا۔
“آپ میرے موبائل کے بل چیک کریں۔وہ موبائل اس کے پاس ہے۔ہو سکتا ہے پہلے نہیں تو اب وہ اس سے کالز کر لیتی ہو۔”
“وہ اس سے کالز نہیں کرتی۔موبائل مستقل طور پر بند ہے۔جو چند کالز اس نے کی تھیں وہ سب میڈیکل کالج میں ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں کو ہی کی تھیں اور پولیس پہلے ہی انہیں انویسٹی گیٹ کر چکی ہے۔لاہور میں وہ ایک لڑکی کے گھر گئی تھی مگر وہ لڑکی پشاور میں تھی اور اس کے واپس نے سے پہلے ہی وہ اس کے گھر سے چلی گئی ، کہاں گئی ، یہ پولیس کو پتا نہیں چل سکا۔”
سالار چھبتی ہوئی نظروں سے انہیں دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔”آپ کو حسن نے میرے اور اس کے بارے میں بتایا تھا؟”
سکندر کچھ بول نہیں سکے۔موبائل کے امامہ کے پاس ہونے کے بارے میں صرف حسن ہی جانتا تھا۔کم از کم یہ ایسی بات تھی جو سکندر عثمان صرف اس کے کمرے کی تلاشی لے کر نہیں جان سکتے تھے۔اسے ان سے بات کرتے ہوئے پہلی بار اچانک حسن پر شبہ ہوا تھا کیونکہ سکندر عثمان کو اتنی چھوٹی موٹی باتوں کا پتا تھا جو صرف اسے پتا تھیں یا پھر حسن کو۔۔۔۔۔کوئی تیسرا ان سے واقف نہیں تھا۔اس نے سکندر عثمان کو کچھ نہیں بتایا تھا تو یقینی طور پر یہ حسن ہی ہو سکتا تھا جس نے انہیں ساری تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔
“اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ مجھے حسن نے بتایا ہے یا کسی اور نے۔۔۔۔۔یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ اس بات کے بارے میں مجھے پتا نہ چلتا۔یہ صرف میری حماقت تھی کہ میں نے ہاشم مبین کے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور تمہارے جھوٹ پر یقین کر لیا۔”
سالار نے کچھ نہیں کہا ، وہ صرف ماتھے پر تیوریاں لئے انہیں دیکھتا اور ان کی بات سنتا رہا۔”اب جب میں نے تمہیں اس سارے معاملے سے بچا لیا ہے تو تمہیں دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئیے جس سے۔۔۔۔۔”
سکندر عثمان نے قدرے نرم لہجے میں کہنا شروع کیا مگر اس سے پہلے کہ ان کی بات مکمل ہوتی سالار ایک جھٹکے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سکندر عثمان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد وہ ساری رات اس تمام معاملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ پہلی بار اسے ہلکا سا افسوس اور پچھتاوا ہوا تھا۔اسے امامہ ہاشم کو اس کے کہنے پر فوراً طلاق دے دینی چاہئیے تھی پھر شاید وہ جلال کے پاس چلی جاتی اور وہ دونوں شادی کر لیتے۔امامہ کے لیے بےحد ناپسندیدگی رکھنے کے باوجود اس نے پہلی بار اپنی غلطی تسلیم کی۔
“اس نے دوبارہ مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔وہ طلاق لینے کے لیے کورٹ نہیں گئی۔اس کے خاندان والے بھی ابھی تک اسے ڈھونڈ نہیں سکے۔وہ جلال انصر کے پاس بھی نہیں گئی تو پھر آخر وہ گئی کہاں ، کیا اس کے ساتھ کوئی حادثہ۔۔۔۔۔؟”
وہ پہلی بار بہت سنجیدگی سے ، کسی ناراضی یا غصے کے بغیر اس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
“یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ مجھ سے اتنی شدید نفرت اور ناپسندیدگی رکھنے کے بعد میری بیوی کے طور پر کہیں خاموشی کی زندگی گزار رہی ہو ، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ امامہ کسی کے ساتھ بھی دوبارہ رابطہ نہیں کر رہی۔ اب تک جب ایک سال سے زیادہ گزر گیا ہے کیا وہ واقعی حادثے کا شکار ہو گئی ہے؟کیا حادثہ پیش آ سکتا ہے اسے۔۔۔۔۔؟
اس کے بارے میں سوچتے سوچتے اس کی ذہنی رو ایک بار پھر بہکنے لگی۔
“اگر کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے تو میں کیا کروں۔۔۔۔۔وہ اپنے رسک پر گھر سے نکلی تھی اور حادثہ تو کسی کو کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے پھر مجھے اس کے بارے میں اتنا فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے؟پاپا ٹھیک کہتے ہیں جب میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر مجھے اس کے بارے میں اتنا تجسس بھی نہیں رکھنا چاہئیے۔خاص طور پر ایک ایسی لڑکی کے بارے میں جو اس حد تک احسان فراموش ہو جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتی ہو اور جو مجھے اتنا گھٹیا سمجھتی ہو اس کے ساتھ جو بھی ہوا ہو گا ٹھیک ہی ہوا ہو گا وہ اسی قابل تھی۔”
اس نے اس کے بارے میں ہر خیال کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔
کچھ دیر پہلے کی تاسف آمیز سنجیدگی وہ اب محسوس نہیں کر رہا تھا نہ ہی اسے کسی قسم کے پچھتاوے کا احساس تھا۔ وہ ویسے بھی چھوٹی موٹی باتوں پر پچھتانے کا عادی نہیں تھا۔ اس نے سکون کے عالم میں آنکھیں بند کر لیں اس کے ذہن میں اب دور دور تک کہیں امامہ ہاشم کا تصور موجود نہیں تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“کبھی Van dame گئے ہو؟”اس دن یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے مائیک نے سالار سے پوچھا۔
“ایک دفعہ۔”
“کیسی جگہ ہے؟”مائیک نے سوال کیا۔
“بری نہیں ہے۔”سالار نے تبصرہ کیا۔
“اس ویک اینڈ پر وہاں چلتے ہیں۔”
“کیوں۔۔۔۔۔؟”میری گرل فرینڈ کو بہت دلچسپی ہے اس جگہ میں۔۔۔۔۔وہ اکثر جاتی ہے۔”مائیک نے کہا۔
“تو تمہیں تو پھر اس کے ساتھ ہی جانا چاہئیے۔”سالار نے کہا۔
“نہیں سب لوگ چلتے ہیں ، زیادہ مزہ آئے گا۔”مائیک نے کہا۔
“سب لوگوں سے تمہاری کیا مراد ہے؟”اس بار دانش نے گفتگو میں حصہ لیا۔
“جتنے دوست بھی ہیں ۔۔۔۔۔سب۔۔۔۔۔! ”
“میں ، سالار ، تم ، سیٹھی اور سعد ۔”
“سعد کو رہنے دو۔۔۔۔۔۔وہ نائٹ کلب کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگانے لگے گا یا پھر ایک لمبا چوڑا وعظ دے گا۔”سالار نے مداخلت کی۔
“تو پھر ٹھیک ہے ہم لوگ ہی چلتے ہیں۔”دانش نے کہا۔
“سینڈرا کو بھی انوائیٹ کر لیتے ہیں۔”سالار نے اپنی گرل فرینڈ کا نام لیا۔
اس ویک اینڈ پر سب وہاں گئے اور تین چار گھنٹوں تک انہوں نے وہاں خوب انجوائے کیا۔اگلے روز سالار صبح دیر سے اٹھا۔وہ ابھی لنچ کی تیاری کر رہا تھا جب سعد نے اسے فون کیا۔
“ابھی اٹھے ہو؟”سعد نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
“ہاں دس منٹ پہلے۔۔۔۔۔”
“رات کو دیر تک باہر رہے ہو گے۔اس لئے۔۔۔۔۔”سعد نے اندازہ لگایا۔
“ہاں۔۔۔۔۔ہم لوگ باہر گئے ہوئے تھے۔”سالار نے دانستہ طور پر نائٹ کلب کا نام نہیں لیا۔
“ہم لوگ کون۔۔۔۔۔؟تم اور سینڈرا؟”
“نہیں پورا گروپ ہی۔”سالار نے کہا۔
“پورا گروپ۔۔۔۔۔؟مجھے لے کر نہیں گئے۔میں مر گیا تھا؟”سعد نے چڑ کر کہا۔
“تمہارا خیال ہی نہیں آیا ہمیں۔”سالار نے اطمینان سے کہا۔
“بہت گھٹیا آدمی ہو تم سالار ، بہت ہی گھٹیا۔۔۔۔۔یہ دانش بھی گیا تھا؟”
“ہم سب مائی ڈئیر ، ہم سب۔۔۔۔۔”سالار نے اسی اطمینان کے ساتھ کہا۔
“مجھے کیوں نہیں لے کر گئے تم لوگ ! ” سالار کی خفگی میں کچھ اور اضافہ ہوا۔
“تم ابھی بچے ہو۔۔۔۔۔ہر جگہ بچوں کو لے کر نہیں جا سکتے۔”سالار نے شرارت سے کہا۔
“میں ابھی آ کر تمہاری ٹانگیں توڑتا ہوں ، پھر تمہیں اندازہ ہو گا کہ یہ بچہ بڑا ہو گیا ہے۔”
“مذاق نہیں کر رہا یار ۔۔۔۔۔ہم نے تمہیں ساتھ جانے کو اس لیے نہیں کہا کیونکہ تم جاتے ہی نہیں۔”اس بار سالار واقعی سنجیدہ ہوا۔
“کیوں تم لوگ دوزخ میں جا رہے تھے کہ میں وہاں نہ جاتا۔”سعد کے غصے میں کوئی کمی نہیں آئی۔
“کم از کم تم اسے دوزخ ہی کہتے ہو۔ہم لوگ نائٹ کلب گئے ہوئے تھے اور تم کو وہاں نہیں جانا تھا۔”
“کیوں مجھے وہاں کیوں نہیں جانا تھا۔”سعد کے جواب نے سالار کو کچھ حیران کیا۔
“تم ساتھ چلتے؟”
“آف کورس۔۔۔۔۔”
مگر تمہیں وہاں جاکر کیا کرنا تھا۔ نہ تم ڈرنک کرتے ہو، نہ ڈانس کرتے ہو۔۔۔۔۔ پھر وہاں جاکر تم کیا کرتے۔۔۔۔۔ ہمیں نصیحتیں کرتے۔”
“ایسی بات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے ڈرنک اور ڈانس نہیں کرتا، مگر آؤٹنگ تو ہوجاتی ہے۔ میں انجوائے کرتا۔” سعد نے کہا۔
“مگر ایسی جگہوں پر جانا اسلام میں جائز نہیں ہے؟” سالار نےچبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ سعد چند لمحے کچھ کہہ نہیں سکا۔
“میں وہاں کوئی غلط کام کرنے تو نہیں جارہا تھا۔ تم سے کہہ رہا ہوں صرف آؤٹنگ کی غرض سے جاتا۔” چند لمحوں بعد اس نے قدرے سنبھلتے ہوئے کہا۔
“اوکے!اگلی بار ہمارا پروگرام بنے گا تو تمہیں بھی ساتھ لے لیں گےبلکہ مجھے پہلے پتہ ہوتا تو کل رات بھی تمہیں ساتھ لے لیتا ہم سب نے واقعی بہت انجوائے کیا۔” سالار نے کہا۔
“چلو اب میں کر بھی کیا کرسکتا ہوں۔ خیر آج کیا کر رہے ہو؟” سعد اب اس سے معمول کی باتیں کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ تک ان دونوں کے درمیان
گفتگو ہوتی رہی پھر سالار نے فون بند کردیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“تم اس ویک اینڈ پر کیا کرہے ہو؟ اس دن سعد نے سالار سے پوچھا۔ وہ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں موجود تھے۔
“میں اس ویک اینڈ پر نیویارک جارہا ہوں، سینڈرا کے ساتھ۔”سالار نے اپنا پروگرام بتایا۔
“کیوں۔۔۔۔۔؟” سعد نے وچھا۔
“اس کے بھائی کی شادی ہے۔ مجھے انوائٹ کیا ہے اس نے۔”
“واپس کب آؤ گے؟”
“اتوار کی رات کو۔”
“تم ایسا کرو کہ اپنے اپارٹمنٹ کی چابی مجھے دے جاؤ۔ میں دو دن تمہارے اپارٹمنٹ پر گزاروں گا۔ کچھ اسائمنٹس ہیں جو مجھے تیار کرنے ہیں اور اس ویک اینڈ پر وہ چاروں ہی گھر ہوں گے ۔ وہاں بڑا رش ہو گا میں تمہارے اپارٹمنٹ میں اطمینان سے پڑھ لوں گا۔” سعد نے کہا۔
“اوکے تم میرے اپارٹمنٹ میں رہ لینا۔” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
اسے سینڈرا کے ساتھ جمعہ کی رات کو نکلنا تھا۔ سالار کا بیگ اس کی گاڑی کی ڈگی میں تھا۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ سینڈرا کو عین آخری وقت میں چند کام نبٹانے پڑ گئے اور وہ جو سر شام نکلنے کا ارادہ کئے بیٹھ تھے ان کا پروگرام ہفتے کی صبح تک ملتوی ہوگیا۔ سینڈرا پے انگ گیسٹ کے طور پر کہیں رہتی تھی اور وہ اس کے پاس رات نہیں گزار سکتا تھا۔ اسے اپنے پارٹمنٹ واپس آنا پڑا۔
رات کو تقریباً گیارہ بجے سینڈرا کو اس کی رہائش گاہ پر ڈراپ کرنے کے بعد اپارٹمنٹ چلا آیا۔ اس نے سعد کو ایک چابی دی تھی۔ دوسری چابی اس کے پاس ہی تھی وہ جانتا تھا کہ سعد اس وقت بیٹھا پڑھ رہا ہوگا مگر اس نے اسے ڈسٹرب کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ وہ اپارٹمنٹ کا بیرونی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا ، لونگ روم کی لائٹ آن تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی اسے کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا وہ اپنے بیڈروم میں جانا چاہتا تھا مگر بیڈ روم کے دروازے پر ہی رُک گیا۔
بیڈ روم کا دروازہ بند تھا مگر اس کے باوجود اندر سے اُبھرنے والے قہقہے اور باتوں کی آوازیں سن سکتا تھا۔ سعد کے ساتھ اندر کوئی عورت تھی۔ وہ جامد ہوگیا۔ اس کے گروپ میں صرف سعد تھا جس کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ کسی لڑکی کے ساتھ اس کے تعلقات نہیں تھے۔وہ جتنا مذہبی آدمی تھا اس سے یہ توقع کی ہی نہیں جاسکتی تھی وہ اندر داخل نہیں ہوا۔قدرے بے یقینی سے واپس مڑگیا اور تب اس کی نظر لونگ روم کی ٹیبل پر رکھی بوتل اور گلاس پر پڑی ، وہاں سے کچن کاؤنٹر جہاں کھانے کے برتن ابھی تک پڑے تھے۔ وہ مزید وہاں رُکے بغیر اسی طرح خاموشی سے وہاں سے نکل آیا۔
اس کے لئے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ سعد وہاں کسی لڑکی ساتھ رہنے کے لئے آیا تھا۔ بالکل نا قابل یقین۔ جو شخص حرام گوشت نہ کھاتا ہو۔ شراب نہ پیتا ہو پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہ،و ہر وقت اسلام کی بات کرتا رہتا ہو، دوسروں کو اسلام کی تبلیغ کرتا ہو، وہ کسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔ اپارٹمنٹ کے دروازے کو باہر سے بند کیے ہوئے اسی طرح شاک کے عالم میں تھا۔ بوتل اور گلاس ظاہر کر رہے تھے کہ اس نے پی بھی ہوئی ہےاور شاید کھانا وغیرہ بھی کھایا ہوگا۔ اسی فریزراور کچن میں جہاں کا وہ پانی تک پینے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ اسے ہنسی آرہی تھی جو اپنے آپ کو جتنا اچھا اور سچا مسلمان ظاہر کرنے یا بننے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے وہ اتنا بڑا فراڈ ہوتا ہے ایک یہ شخص تھا جو یوں ظاہر کرتا تھا جیسے پورے امریکہ میں ایک ہی مسلمان ہے اور ایک لڑکی امامہ تھی۔ جو ٹینٹ جتنی بڑی چادر اوڑھتی تھی اور کردار اس کا یہ تھا کہ ایک لڑکے کے لئے گھر سے بھاگ گئی۔۔۔۔۔ اور بنتے پھرتے ہیں سچے مسلمان۔” نیچے اپنی گاڑی میں آکر بیٹھتے ہوئے اس نے کچھ تنفر سے سوچا۔”منافقت اور جھوٹ کی حد ان پر ختم ہوجاتی ہے۔”
وہ گاڑی پارکنگ سے نکالتے ہوئے بڑ بڑا رہا تھا اس وقت وہ سینڈرا کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے دانش کے پاس واپس جانے کا فیصلہ کیا وہ اسے دیکھ کر حیران ہوا۔ سالار نے بہانہ بنادیا کہ وہ بور ہورہا تھا اس لئے اس نے دانش کے پاس آنے اور رات وہاں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ دانش مطمئن ہوگیا۔
اتوار کی رات کو جب وہ واپس نیو ہیوں اپنے اپارٹمنٹ آیا تو سعد وہاں نہیں تھا، اس کے فلیٹ میں کہیں بھی ایسے آثار نہیں تھے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ وہاں کوئی عورت آئی تھی، وائن کی وہ بوتل بھی اسے کہیں نہیں ملی۔ وہ زیر لب مسکراتا ہوا پورے اپارٹمنٹ کا تفصیلی جائزہ لیتا رہا۔ وہاں موجو د ہر چیز ویسے ہی تھی جیسی وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ سالار نے اپنا سامان رکھنے کے بعد سعد کو فون کیا۔ کچھ دیر رسمی باتیں کرتے رہنے کے بعد وہ موضوع پر آگیا۔
“پھر اچھی رہی تمہاری اسٹڈیز۔۔۔۔۔ اسائمنٹ بن گئے۔؟
“ہاں یار! میں تو دو دن اچھا خاصا پڑھتا رہا، اسائمنٹس تقریبا ً مکمل کرلی ہیں۔ تم بتاؤتمہارا ٹرپ کیسا رہا؟” سعد نے جواباً پوچھا۔
“بہت اچھا۔۔۔۔۔”
“کتنی دیر میں پہنچ گئے تھے وہاں ، رات کو سفر کرتے ہوئے کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی؟”
سعد نے سرسری سے لہجے میں پوچھا۔
“نہیں رات کو سفر نہیں کیا؟”
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کے فرائیڈے کی رات کو نہیں سیٹرڈے کی صبح گئے تھے ہم لوگ وہاں۔” سالار نے بتایا۔
” تم پھر سینڈ را کی طرف رہے تھے۔؟”
“نہیں دانش کے پاس۔”
“کیوں یہاں آجاتے اپنے اپارٹمنٹ پر۔”
“آیا تھا۔” سالار نے بڑے اطمینان سے کہا۔
دوسری طرف خاموشی چھاگئی۔ سالار دل ہی دل میں ہنسا۔ سعد کے پیروں نیچے سے یقیناً اس وقت زمین نکل گئی تھی۔
“آئے تھے۔۔۔۔۔؟ کب۔۔۔۔۔؟ اس بار وہ بے اختیار ہکلایا۔
“گیارہ بجے کے قریب۔۔۔۔۔ تم اس وقت کسی لڑکی کے ساتھ مصروف تھے۔ میں نے تم لوگوں کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس لئے وہاں سے واپس آگیا۔”
وہ اندازہ کرسکتا تھا کہ سعد پر اس وقت سکتہ طاری ہوچکا ہوگا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ سالار اس طرح اس کا بھانڈا پھوڑ دے گا۔
“ویسے تم نے کبھی اپنی گرل فرینڈ سے ملوایا نہیں۔” اس نے مزید کہا۔ سعد کو سانس لینے میں جتنی دقت ہورہی ہوگی وہ اندازہ کرسکتا تھا۔
“بس ویسے ہی ملوادوں گا۔” اس نے دوسری طرف سے بے حد مدھم اور معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
“مگر تم کسی اور سے اس کا ذکر مت کرنا۔” اس نے ایک ہی سانس میں کہا۔
“میں کیوں ذکر کروں گا، تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
سالار اس کی کیفیت سمجھ سکتا تھا۔ اسے اس وقت سعد پر کچھ ترس آرہا تھا۔
اس رات سعد نے چند منٹوں بعد ہی فون رکھ دیا۔ سالار کو اس کی شرمندگی کا اچھی طرح اندازہ تھا۔
اس واقعے کے بعد سالار کا خیال تھا کہ سعد دوبارہ کبھی اس کے سامنےاپنی مذہبی عقیدت اور وابستگی کا ذکر نہیں کرے گا مگر اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی تھی کہ سعد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ وہ اب بھی اسی شدومد سے مذہب پر بات کرتا۔ دوسروں کو ٹوک دیتا۔ نصیحتیں کرتا۔ نماز پڑھنے کی ہدایت دیتا۔ صدقہ ، خیرات دینے کے لئے کہتا۔ اللہ سے محبت کے بارے میں گھنٹوں بولنے کے لئے تیار رہتا اور ،مذہب کے بارے میں بات کر رہا ہوتا تو کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے۔
اس کے گروپ کے لوگوں کے ساتھ اور بہت سے لوگ سعد سے بہت متاثر تھے اور اسکے کردار سے بہت مرعوب ۔۔۔۔۔ اور اللہ سے اس کی محبت پر رشک کا شکار ، ایک مثالی مسلم۔۔۔۔۔ جوانی کی مصروف زندگی میں بھی۔۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ سعد بات کرنا جانتا تھا اس کا انداز بیاں بے حد متاثر کن تھا۔ اور اس کے شناسا لوگوں میں صرف سالار تھا، جس پر اس کی نصیحت کوئی اثر نہیں کرتی تھی جو اس سے ذرہ برابر متاثر نہیں تھا اور نہ ہی کسی رشک کا شکار۔ جسے سعد کی داڑھی اس کے دین لئے استقامت کا یقین دلانے میں کامیاب ہوئی تھی نہ ہی دوسروں کے لئے اس کا ادب واحترام اس کا نرم انداز گفتگو۔
امامہ سے مذہبی لوگوں کے لئے اس کی نا پسندید گی کا آغاز ہوا تھا۔ جلال سے اسے آگے بڑھایا تھا اور سعد نے اسے انتہا پر پہنچا دیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مذہبی لوگوں سے بڑھ کر منافق کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ داڑھی رکھنے والا مرد اور پر دہ کرنے والی عورت کسی بھی قسم کی بلکہ ہر قسم کی برائی کا شکار ہوتے ہیں اور ان لوگوں سے زیادہ جو خود کو مذہبی نہیں کہتے۔
اتفاق سے ملنے والے تینوں لوگوں نے اس یقین کو مستحکم کیا ۔ امامہ ہاشم پردہ کرنے والی لڑکی اور ایک لڑکے کے لئے اپنے منگیتر ، اپنے خاندان اپنے گھر کو چھوڑ کر رات میں فرار ہوجانے والی لڑکی۔
جلال انصر۔۔۔۔۔ ڈاڑھی والا مرد، حضور ﷺ کی محبت میں سرشار ہو کر نعتیں پڑھنے والا اور ایک لڑکی سے افئیر چلانے والا اور پھر اسے بیچ راستے میں چھوڑ کر ایک طرف ہوجانے والا ، پھر دین الگ دنیا الگ کر بات کرنے ولا۔ سعد ظفر کے بارے میں اس کی رائے ایک اور واقعہ سے اور خراب ہوئی۔
وہ ایک دن اس کے اپارٹمنٹ پر آیا ہوا تھا۔ سالار اس وقت کمپیوٹر آن کئے اپنا کام کرتے ہوئے اس سے باتیں کرنے لگا۔ پھر اسے کچھ چیزین لانے کے لئے اپارٹمنٹ سے قریبی مارکیٹ جانا پڑا اور اسے پیدل وہاں آنے جانے اور شاپنگ کرنے میں تیس منٹ لگے تھے۔ سعد اس کے ساتھ نہیں آیا تھا۔ جب سالار واپس آیا تو سعد کمپیوٹر پر چیٹنگ میں مصروف تھا۔ وہ کچھ دیر مزید اس کے پاس بیٹھا گپ شپ کرتا رہا پھر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد سالار نے لنچ کیا اور ایک بار پھر کمپیوٹر پر آکر بیٹھ گیا۔
وہ بھی کچھ دیر چیٹنگ کرنا چاہتا تھا اور یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ اس نے لاشعوری طور پر کمپیوٹر چلاتے ہوئے اس کی ہسٹری دیکھی۔ وہاں ان ویب سائٹس اور پیجز کی کچھ تفصیلات تھیں جو کچھ دیر پہلے اس نے یا سعد نے دیکھی تھیں۔
سعد نے جن چند ویب سائٹس کو دیکھا تھا وہ بیہودہ تھیں ۔ اسے اپنے یا کسی دوسرے دوست کے ان پیجز دیکھنے یا ان ویب سائٹس کو وزٹ کرنے پر حیرت نہ ہوتی نہ اعتراض ۔ وہ خود ایسی ویب سائٹس کا وزٹ کرتا رہتا تھا مگر سعد کے ان ویب سائٹس کو وزٹ کرنے پر اسے حیرت ہوئی تھی۔ اس کی نظروں میں وہ کچھ اور نیچے آگیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“پھر تمہاری کیا پلاننگ ہے؟ پاکستان آنےکا ارادہ ہے”
وہ اس دن فو ن پر سکندر سے بات کررہا تھا۔ سکندر نے اسے بتایا تھا کہ وہ طیبہ کے ساتھ کچھ ہفتوں کے لئے آسٹریلیا جارہے ہیں۔ انہیں وہاں اپنے رشتہ داروں کے ہاں ہونے والی شادی کی کچھ تقریبا میں شرکت کرنی تھی۔
آپ دونوں وہاں نہیں ہوں گے تو میں پاکستان آکر کیا کروں گا۔” اسے مایوسی ہوئی۔
“یہ کیا بات ہوئی ۔ تم بہن بھائیوں سے ملنا، انیتا تمہیں بہت مس کر رہی ہے۔ سکندر نے کہا۔
پاپا!میں ادھر ہی چھٹیاں گزاروں گا۔ پاکستان آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
“تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھ آسٹریلیا چلو، معیز بھی جارہا ہے۔” انہوں نے اس کے بڑے بھائی کا نام لیتے ہوئے کہا۔
“میرا دماغ خراب نہیں ہے کہ میں اس طرح منہ اٹھا کر آپ کے ساتھ آسٹریلیاچلوں۔ معیز کے ساتھ میری کون سی انڈر اسٹینڈنگ ہے، جو آپ مجھے اس کے جانے کا بتارہے ہیں۔” اس نے خاصی بیزاری کے ساتھ کہا۔
“میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا اگر تم وہیں رہنا چاہتے ہو تو ایسا ہی سہی بس اپنا خیال رکھنا اور دیکھو سالار کوئی غلط کام مت کرنا۔”
انہوں نے اسے تنبیہ کی ۔ وہ اس غلط کام کی نوعیت کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا اور وہ یہ جملہ سننے کا عادی ہوچکا تھا کہ اب اگر سکندر ہر بار فون بند کرنے سے پہلے اس سے یہ جملہ نہ کہتے تو اسے حیرت ہوتی۔
سکندر سے بات کرنے کے بعد اس نے فون کرکے اپنی سیٹ کینسل کروادی۔ فون کا ریسیور رکھنے کے بعد صوفے پر چت لیٹا چھت کو گھورتے ہوئے وہ یونیورسٹی بند ہونے کے بعد کے کچھ ہفتوں کی مصروفیات کے بارے میں سوچتا رہا۔
“مجھے چند دن سکینگ کے لئے کہیں جانا چاہیے یا پھر کسی دوسری اسٹیٹ کو وزٹ کرنا چاہیے۔” وہ منصوبہ بنانے لگا۔”ٹھیک ہے میں کل یونیورسٹی سے آکے کسی آپریٹر سے ملوں گا۔ باقی کا پرواگرام وہیں طے کروں گا۔” اس نے فیصلہ کا۔
اگلے دن اس نے ایک دوست کے ساتھ مل کر سکینگ کے لئے جانے کا پروگرام طے کرلیا۔ اس نے سکندر اور اپنے بڑے بھائی کو اپنے پروگرام کے بارے میں بتادیا۔
چھٹیاں شروع ہونے سے ایک دن پہلے اس نے ایک انڈین ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا وہ کھانا کھانے کے بعد بھی کافی دیر وہاں بیٹھا رہا پھر وہ ایک قریبی پب میں چلا گیا۔ کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے دوران اس نے وہاں کچھ پیگ پئے۔
رات دس بجے کے قریب ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسے اچانک متلی ہونے لگی۔ گاڑی روک کر وہ کچھ دیر کے لئے سڑک کے گرد پھیلے ہوئے سبزے پر چلنے لگا سرد ہوا اور خنکی نے کچھ دیر کے لیے اسے نارمل کردیا مگر چند منٹوں کے بعد ایک بار پھر اسے متلی ہونے لگی۔ اسے اب اپنے سینے اور پیٹ میں ہلکا ہلکا درد بھی محسوس ہورہا تھا۔
یہ کھانے کا اثر تھا یا پیگ کا۔ فوری طور پر اسے کچھ اندازہ نہیں ہوا۔ اب اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا۔ یک دم جھکتے ہوئے اس نے بے اختیارقے کی اور پھر چند منٹ اسی طرح جھکا رہا۔ معدہ خالی ہوجانے کے بعد بھی اس کو اپنی حالت بہتر محسوس نہیں ہوئی۔ سیدھا کھڑے رہنےکی کوشش میں اس کے پیر لڑکھڑا گئے۔ اس نے مڑ کر کر اپنی گاڑی کی طرف جانے کی کوشش کی مگر اس کا سر اب پہلے سے زیادہ چکرا رہا تھا۔ چند گز دور کھڑی گاڑی کو دیکھنے میں بھی اسے دقت ہورہی تھی۔ اس نے بمشکل چند قدم اٹھائے مگر گاڑی کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی وہ چکرا کر زمین پر گر پڑا اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اس کا ذہن تاریکی میں ڈوبتا جارہا تھا ۔مکمل طور پر ہوش کھونے سے پہلے اس نے کسی کو اپنے آپ کو جھنجھوڑتے محسوس کیا۔ کوئی بلند آواز میں اس کے قریب کچھ کہہ رہا تھا۔ آوازیں ایک سے زیادہ تھیں۔
سالار نے اپنے سر کو جھٹکنے کی کوشش کی ۔ وہ پورے سر کو حرکت نہیں دے سکا۔ اس کی آنکھیں کھولنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ وہ اب مکمل طور پر تاریکی میں جاچکا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: