Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 14

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 14

–**–**–

اس نے دو دن ہاسپٹل میں گزارے تھے۔ وہاں سے گاڑی میں گزرنے والے کسی جوڑے نے اسے گرتے دیکھا تھا اور وہی سے اُٹھا کر ہاسپٹل لے آئے تھے۔ ڈاکٹرز کے مطابق وہ فوڈ پوائزن کا شکار ہوا تھا۔ وہ ہاسپٹل آنے کے چند گھنٹوں کے بعد ہوش میں آگیا تھا اور وہاں سے چلے جانے کی خواہش رکھنے کے باجود وہ جسمانی طور پر اپنے آپ کو اتنی بری حالت میں محسوس کر رہا تھا کہ وہاں سے جا نہیں سکا ۔
اگلے دن شام تک اس کی حالت کچھ بہتر ہونے لگی مگر ڈاکٹرز کی ہدایت پر سالار نے وہ رات بھی وہیں گزاردی۔ اتوار کو سہ پہر وہ گھر آگیا تھا اور گھر آتے ہی اس نے ٹور آپریٹر کے ساتھ طے پایا جانے والا پروگرام چند دنوں کے لئے ملتوی کر دیا۔اسے پیر کی صبح نکلنا تھا اور اس نے طے کیا تھا کہ جانے سے پہلے وہ ایک بار پھر سینڈرا کو کال کرے گا لیکن اب پروگرام کینسل کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اس کو یا بلکہ کسی بھی دوست کو کال کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔
ایک ہلکے سینڈوچ کے ساتھ کافی کا ایک کپ پینے کے بعد اس نے سکون آور دوا لی اور سونے کے لئے چلا گیا۔
اگلے دن جب اس کی آنکھ کھلی اس وقت گیارہ بج رہے تھے۔ سالار کو نیند سے بیدار ہوتے ہی سر میں شدید درد کا احساس ہوا۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس نے اپنا ماتھا اور جسم چھوا ، اس کا ماتھا بہت زیادہ گرم تھا۔
“کم آن! “وہ بیزاری سے بڑبڑایا۔ پچھلے دو دن کی بیماری کے بعد وہ اگلے دو دن پستر پر پڑے ہوئے نہیں گزارنا چاہتا تھا اور اس وقت اسے اس کے آثار نظر آرہے تھے۔
جوں توں بیڈ سے نکل کر وہ منہ ہاتھ دھوئے بغیر ایک بار پھر کچن میں آگیا کافی بننے کے لئے رکھ کر وہ آکر answerphone پر ریکارڈ کالز سننے لگا۔ چند کالز سعد کی تھیں جس نے واپس پاکستان جانے سے پہلے اس سے ملنے کے لئے بار بار اسے رنگ کیا تھا اور پھر آخری کال میں اس کے اس طرح غائب ہونے پر اسے اچھی خاصی صلواتیں سنائی تھیں۔
سینڈرا کا اندازہ تھا کہ وہ اس سے ملے بغیر سکینگ کے لئے چلا گیا تھا۔ یہی خیال سکندر اور کامران کا تھا۔ انہوں نے بھی اسے چند کالز کی تھیں۔ چند کالز اس کے کچھ کلاس فیلوز کی تھیں۔ وہ بھی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے گھروں کو جانے سے پہلے کی گئی تھیں۔ ہر ایک نے اسے تاکید کی تھی کہ وہ انہیں جوابی کال کرے مگر اب وہ جانتا تھا کہ اب وہ سب واپس جا چکے ہوں گے البتہ وہ سکندر اور کامران اور سعد کو پاکستان میں کال کرسکتا تھا مگر اس وقت وہ یہ کام کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
کافی کے ایک مگ کے ساتھ دو سلائس کھانے کے بعد اس نے گھر پر موجود چند میڈیسنز لیں اور پھردوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ بخار کے لئے اتنا ہی کافی تھا اور شام تک وہ اگر مکمل طور نہیں تو کافی حد تک ٹھیک ہوچکا ہوگا۔
اس کا اندازہ بالکل غلط ثابت ہوا ۔ شام کے وقت میڈیسن کے زیر اثر آنے والی نیند سے بیدار ہوا تو اس کا جسم بری طرح بخار میں پھنک رہا تھا۔ اس کی زبان اور ہونٹ خشک تھے اور اسے اپنا حلق کانٹوں سے پھرا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ پورے جسم کے ساتھ ساتھ اس کا سر درد بھی شدید درد کی گرفت میں تھا اور شاید اس کے اس طرح بیدار ہونے کی وجہ یہ شدید بخار اور تکلیف ہی تھی۔
اس بار وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹےہوئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ تکیے پر ماتھے کے نیچے رکھتے ہوئے ہاتھوں کے انگوٹھوں سے کنپٹیوں کو مسلتے ہوئے سر میں اُٹھنے والی درد کی ٹیسوں کو کم کرنے کی کوشش کی مگر وہ بری طرح ناکام رہا۔ چہرہ تکیے میں چھپائے وہ بے حس و حرکت پڑا رہا۔
تکلیف کو برداشت کرنے کی کوشش میں وہ کب دوبارہ نیند کی آغوش میں گیا اسے اندازہ نہیں ہوا۔ پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو اس وقت کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ رات ہوچکی تھی اور صرف کمرہ ہی نہیں پورا گھر تاریک تھا وہ پہلے سے زیادہ تکلیف میں تھا۔ چند منٹوں تک بیڈ سے اٹھنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعد وہ دوبارہ لیٹ گیا۔ ایک بار پھر اس نے اپنے ذہن کو تاریکی میں ڈوبتے محسوس کیا مگر اس بار یہ نیند نہیں تھیں۔ وہ غنودگی کی کسی درمیانی کیفیت میں گزر رہا تھا ۔ وہ اب خود کو کراہتے ہوئے سن رہا تھا مگر وہ اپنی آواز کا گلا نہیں گھونٹ پارہا تھا۔ سینٹرل ہیٹنگ ہونے کے باجود اسے بے تحاشا سردی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا اور کمبل اس کی کپکپاہٹ کو ختم کرنے میں ناکام تھا وہ جسمانی طور پر خود کو اٹھ کر کچھ بھی پہننے یا اوڑھنے کے قابل نہیں تھا۔ اسے اپنے سینے اور پیٹ میں ایک بار پھر درد محسوس ہونے لگا۔
اس کی کراہوں میں اب شدت آتی جارہی تھی۔ ایک بار پھر متلی محسوس کرنے پر اس نے اٹھنے اور تیزی سے واش روم تک جانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوا تھا ۔ چند لمحوں کے لئے وہ بیڈ پر اٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ بیڈ سے اترنے کی کوشش کرتا اسے ایک زور کی ابکائی آئی۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں اندر رہ جانے والی تھوڑی بہت خوراک بھی باہر آگئی تھی ۔ وہ غشی کے عالم میں بھی اپنے کپڑوں اور کمبل سے بے نیا ز نہیں تھا مگر وہ مکمل طور پر گندگی سے لتھڑے ہوئے بے بس تھا اسے اپنا پورا وجود مفلوج محسوس ہورہا تھا۔ بے جان سی حالت میں وہ اسی طرح دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔ اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ وہ ارد گرد کے ماحول سے مکمل طور بے نیاز ہوچکا تھا۔ غشی کی کیفیت میں کراہوں کے ساتھ اس کے منہ میں جو کچھ آرہا تھا وہ بولتا جارہا تھا۔
غشی کا یہ سلسلہ کتنے گھنٹے جاری رہا تھا اسے یاد نہیں۔ ہاں البتہ اسے یہ ضرور یا د تھا اس کی کیفیت کے دو ران اسے ایک بار یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ مر رہاہے اور اسی وقت زندگی میں پہلی بار موت سے عجیب سا خوف محسوس ہوا تھا وہ کسی نہ کسی طرح فون تک پہنچنا چاہتا تھا وہ کسی کو بلانا چاہتا تھا مگر وہ بستر سے نیچے نہیں اتر سکا ۔ شدید بخار نے اسے مکمل طور مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔
اور پھر بالاآخر وہ خود ہی اس کیفیت سے باہر آگیا تھا اس وقت رات کا پچھلا پہر تھا جب وہ اس غنودگی سے باہر نکلا تھا۔ آنکھیں کھولنے پر اس نے کمرے میں وہی تاریکی دیکھی تھی مگر اس کا جسم اب پہلے کی طرح گرم نہیں تھا۔ کپکپی مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی اس کے سر اور جسم میں ہونے والا درد بھی بہت ہلکا تھا۔
کمرے کی چھت کو کچھ دیر گھورنے کے بعد اس نے لیٹے لیٹے اندھیرے میں سائیڈ لیمپ کو ڈھونڈ کر آن کردیا۔ روشنی نے کچھ دیر کے لئے اس کی آنکھوں کو چندھیا کر بند ہوجانے پر مجبور کردیا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر آنکھوں کے بند پپوٹوں کو چھوا۔ وہ سوجے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں چبھن ہورہی تھی۔ سوجے ہوئے تمام پپوٹوں کو بمشکل کھلے رکھتے ہوئے وہ اب ارد گرد کی چیزوں پر غور کرتا رہا تھا اور اپنے ساتھ ہونے والے تمام واقعات کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہلکے ہلکے جھماکوں کے ساتھ اسے سب کچھ یاد آتا جارہا تھا۔
اسے بے اختیار اپنے آپ سے گھن آئی بیڈ پر بیٹھے بیٹھے اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر اسے اتار کر پھینک دیا۔ پھر لڑکھڑاتے ہوئے بیڈ سے اتر گیا اور کمبل اور بیڈ شیٹ بھی کھینچ کر اس نے بیڈ سے اتار کر فرش پر ڈال دئیے۔
ان ہی لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ سوچے سمجھے بغیر باتھ روم میں گھس گیا۔
باتھ روم میں موجود بڑے آئینے کے سامنے اپنے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسے جیسے شاک لگا تھا۔ اسکی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں اور ان کے گرد پڑنے والے حلقے بہت نمایاں تھے اور چہرہ بالکل زرد تھا۔ اس کے ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ اسے اس وقت دیکھنے والا یہی سوچتا کہ وہ کسی لمبی بیماری سے اٹھا ہے۔
“چوبیس گھنٹوں میں اتنی شیو بڑھ گئی ہے؟” اس نے حیرانی کے عالم میں اپنے گالوں کو چھوتے ہوئے کہا۔” اتنی بری شکل تو میری فوڈ پوائزنگ کے بعد ہاسپٹل میں رہ کر بھی نہیں ہوئی تھی جتنی ایک دن کے اس بخار نے کردی ہے۔”
وہ بے یقینی کے عالم میں اپنے حلقوں کو دیکھتے ہوئے بڑ بڑایا۔ ٹب میں پانی بھر کر وہ اس میں لیٹ گیا۔ اسے حیرانی ہورہی تھی کہ بخار کی حالت میں بھی اس نے فوری طور اسی وقت اپنے کپڑے کیوں نہیں بدل لئے وہ کیوں وہیں پڑا رہا۔
باتھ روم سے نکلنے کے بعد بیڈ روم میں رہنے کے بجائے وہ کچن میں چلا گیا۔ اسے بے تحاشا بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے نوڈلز بنائے اور انہیں کھانے لگا۔” مجھے صبح ڈاکٹر کے پاس جا کر اپنا تفصیلی چیک اپ کروانا چاہیئے۔ اس نے نوڈلز کھاتے ہوئے سوچا۔ تھکن ایک بار پھر اس کے اعصاب پر سوار ہورہی تھی۔ نہانے کے بعد اسے اگرچہ اپنا وجود بہت ہلکا پھلکا محسوس ہورہا تھا مگر اس کی نقاہت ختم نہیں ہوئی تھی۔
نوڈلز کھانے کے دوران اس نے ٹی وی آن کردیا اور چینل سرچ کرنے لگا۔ ایک چینل پر آنے والا ٹاک شو دیکھتے ہوئے اس نے ریموٹ رکھ دیا اور پھر نوڈلز کے پیالے پر جھک گیا۔ اس نے ابھی نوڈلز کا دوسرا چمچہ منہ میں رکھا ہی تھا کہ وہ بے اختیار رک گیا۔ الجھی ہوئی نظروں سے ٹاک شو کو دیکھتے ہوئے اس نے ریموٹ کو ایک بار پھر اٹھالیا۔ ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے وہ ایک بار پھر چینل سرچ کرنے لگا مگر اس بار وہ ہر چینل کو پہلے سے زیادہ ٹھہر ٹھہر کر دیکھ رہا تھا اور اس کے چہرے کی الجھن بڑھتی جارہی تھی۔
“یہ کیا ہے؟” وہ بڑ بڑایا۔
اسے اچھی طرح یاد تھا وہ جمعہ کی رات کو سڑک پر بے ہوش ہونے کے بعد ہاسپٹل گیا تھا۔ ہفتہ کا سارا دن اس نے وہیں گزارا تھا اور اتوار کی سہ پہر کو وہ واپس آیا تھا۔ اتوار کی سہ پہر کو سونے کے بعد وہ اگلے دن گیارہ بجے کے قریب اٹھا تھا۔ پھر اسی رات اسے بخار ہوگیا تھا۔ شاید اس نے منگل کا سارا دن بخار کی حالت میں گزارا تھا اور اب یقیناً منگل کی رات تھی مگر ٹی وی چینلز اسے کچھ اور بتارہے تھے وہ ہفتہ کی رات تھی اور اگلا طلوع ہونے والا دن اتوار کا تھا۔
اس نے اپنی رسٹ واچ پر ایک نظر دوڑائی جو لونگ روم کی میز پر پڑی تھی۔ اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اس نے نوڈلز کا پیالہ میز پر رکھ دیا یک لخت ہی جیسے اس کی بھوک اڑ گئی تھی۔ وہاں موجود تاریخ نے اسے جیسے ایک اور جھٹکا دیا تھا۔
“کیا مطلب ہے ، کیا میں پانچ دن بخار میں مبتلا رہا ہوں۔ پانچ دن ہوش و حواس سے بے خبر رہا ہوں ؟ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟” وہ بڑا بڑارہا تھا۔
“پانچ دن ، پانچ دن تو بہت ہوتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھے، مجھے پانچ دن گزرنے کا پتہ ہی نہ چلے۔۔۔۔۔ میں پانچ دن تک اس طرح بے ہوش کیسے رہ سکتا ہوں۔”
وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ تیزی سے answer phone کی طرف بڑھ گیا، فون پر اس کے لئے کوئی ریکارڈ پیغام نہیں تھا۔
“پاپا نے مجھے کوئی کال نہیں کی اور۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔ سعد سب کو کیا ہو گیا۔۔۔۔۔کیا میں انہیں یاد نہیں رہا۔”
اسے جیسے کوئی پیغام نہ پا کر شاک لگا تھا۔ وہ بہت دیر تک بالکل ساکت فون کے پاس بیٹھا رہا۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاپا کو میرا خیال ہی نہ رہا ہو، یا کسی اور فرینڈ کو۔۔۔۔۔ یا پھر کسی اور کو۔۔۔۔۔اس طرح مجھے کیسے چھوڑ دیا انہوں نے۔ اور اس وقت اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے ہاتھ ایک بار پھر کپکپا رہے تھے۔ وہ نقاہت یا کمزوری نہیں تھی پھر وہ کیا تھا جو اسے کانپنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ اٹھ کر واپس صوفے کی طرف چلا آیا۔
نوڈلز کے پیالے کو ہاتھ میں لے کر وہ ایک بار پھر انہیں کھانے لگا اس بار نوڈلز میں چند منٹ پہلے کا ذائقہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ اسے لگا وہ بے ذائقہ ربڑ کے چند نرم ٹکڑوں کو چبا رہا ہے۔چند چمچے لینے کے بعد اس نے پیالہ دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ اسے کھا نہیں پا رہا تھا۔ وہ اب بھی عجیب سی بے یقینی کی گرفت میں تھا۔ کیا واقعی وہ پانچ دن یہاں اکیلا اس طرح پڑا رہا تھا کہ اسے خود اپنے بارے میں پتا تھا اور نہ ہی کسی اور کو۔
وہ ایک بار پھر واش روم میں چلا گیا۔ اس کا چہرہ کچھ دیر پہلے جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ نہانے سے وہ کچھ بہتر ہو گیا تھا مگر اس کی شیو اور آنکھوں کے گرد پڑے ہوئے حلقے اب بھی اسی طرح موجود تھے۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ کچھ دیر تک اپنی آنکھوں کے گرد پڑے ہوئے حلقوں کو چھوتا رہا جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ واقعی وہاں موجود تھے یا پھر اس کا وہم ہے۔ اسے یک دم اپنے چہرے پر موجود بالوں سے وحشت ہونے لگی تھی۔
وہیں کھڑے کھڑے اس نے شیونگ کٹ نکالی اور شیو کرنے لگا۔ شیو کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر احساس ہوا کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ یکے بعد دیگرے اسے تین کٹ لگے۔ اس نے شیو کے بعد اپنا چہرہ دھویا اور اس کے بعد تولیے سے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے اسے خشک کرنے لگا۔ جب اسے ان زخموں سے رستے ہوئے خون کا احسا س ہوا تو اس نے چہرے کو تولیے سے تھپتھپانا بند کر دیا۔ خالی الذہنی کے عالم میں وہ آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھنے لگا۔
اس کے گالوں پر آہستہ آہستہ ایک بار پھر خون کے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔ گہرا سرخ رنگ، وہ پلکیں جھپکائے بغیر ان قطروں کو دیکھتا رہا۔ تین ننھے ننھے سرخ قطرے۔
“What is next to estacy?”
“Pain”
سرد اور مدھم آواز آئی ۔ وہ پتھر کے بت کی طرح ساکت ہو گیا۔
“What is next to pain?”
“Nothingness”
اسے ایک ایک لفظ یاد تھا
“Nothingness”
وہ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔ اس کے گالوں کی حرکت سے خون کے قطرے اس کے گالوں پر پھسلنے لگے۔
“And what comes next to nothingness”
“Hell”
سالار کو یک دم ابکائی آئی۔وہ واش بیسن پر بے اختیار دوہرا ہو گیا۔ چند منٹ پہلے کھائی گئی خوراک ایک بار پھر باہر آ گئی تھی۔ اس نے نل کھول دیا۔ اس نے اس کے بعد کیا پوچھا تھا۔ اس نے اس کے جواب میں کیا کہا تھا اسے یاد تھا۔
“ابھی تمہیں کوئی چیز سمجھ میں نہیں آ رہی۔ آئے گی بھی نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب تم سب کچھ سمجھ جاؤ گے۔ ہر شخص پر ایک وقت آتا ہے جب وہ سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ جب کوئی معمہ، معمہ نہیں رہتا۔ میں اس دور سے گزر رہی ہوں۔ تم پر وہ دور آئندہ کبھی آئے گا۔ اس کے بعد تم دیکھنا۔ کیا تمہیں ہنسی آتی ہے۔”
سالار کو ایک اور ابکائی آئی، اسے اپنی آنکھوں سے پانی بہتا ہوا محسوس ہوا۔
“زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آ جاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے۔ کوئی ماں باپ ، کوئی بہن بھائی، کوئی دوست نہیں ہوتا۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے پیروں کے نیچے زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان، بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلا میں بھی تھامے ہوئے ہے۔ پھر پتا چلتا ہے ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک ذرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے۔ پھر پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے۔ صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔”
سالار کو اپنے سینے میں عجیب سا درد محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے بہتے ہوئے پانی کو منہ میں ڈالا اسے ایک بار پھر ابکائی آئی۔
“اس کے بعد ہماری عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔”
وہ اس آواز کو اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے حیرانی ہو رہی تھی وہ اسے اس وقت کیوں یاد ئی تھی۔
اس نے پانی کے چھینٹے اپنے چہرے پر مارنے شروع کر دئیے۔ چہرے کو ایک بار پھر پونچھنے لگا۔ آفٹر شیو کی بوتل کھول کر اس نے گالوں پر موجود ان زخموں پر لگانا شروع کر دیا جہاں اب اسے پہلی بار تکلیف ہو رہی تھی۔
واش روم سے باہر نکلتے ہوئے اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے ہیں۔
“مجھے ڈاکٹر کے پاس چلے جانا چاہئیے۔” وہ اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا۔” مجھے مدد کی ضرورت ہے اپنا چیک اپ کروانا ہے۔”
وہ نہیں جانتا تھا اسے یک دم وہاں وحشت کیوں ہونے لگی تھی۔ اسے اپنا سانس وہاں بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ یوں جیسے کوئی اس کی گردن پر پاؤں رکھے آہستہ آہستہ دباؤ ڈال رہا تھا۔
“کیا یہ ممکن ہے کہ سب لوگ مجھے اس طرح بھول جائیں۔ اس طرح۔۔۔۔۔”
اس نے اپنی وارڈروب سے نئے کپڑے نکال کر ایک بار پھر کچھ دیر پہلے کا پہنا ہوا لباس بدلنا شروع کر دیا۔ وہ جلد از جلد ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتا تھا اسے اپنے اپارٹنمٹ سے یک دم خوف محسوس ہونے لگا تھا۔
اس رات گھر آ کر وہ تقریباً ساری رات جاگتا رہا تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت نے اسے اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔ اس کا ذہن یہ تسلیم نہیں کر رہا تھا کہ اسے اس طرح بھلا دیا گیا ہے۔ وہ ماں باپ کی ضرورت سے زیادہ توجہ ہمیشہ حاصل کرتا رہا تھا۔ کچھ اس کی حرکتوں کی وجہ سے بھی سکندر عثمان اور طیبہ کو اس کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہونا پڑا تھا۔ وہ ہمیشہ ہی اس کے بارے میں فکر مند رہے تھے، مگر اب یک دم چند دنوں کے لئے وہ جیسے سب کی زندگی سے نکل گیا تھا۔ دوستوں کی، بہن بھائیوں کی، ماں باپ کی۔وہ اگر اس بیماری کے دوران وہاں اس اپارٹمنٹ میں مر جاتا توکسی کو پتا تک نہیں چلتا شاید تب تک جب تک اس کی لاش گلنے سڑنے نہ لگتی اور اس موسم میں ایسا ہونے میں کتنے دن لگتے۔
وہ اس رات ایک ایک گھنٹے کے بعد اپنے answer phone کو چیک کرتا رہا۔ اگلا پورا ہفتہ اس نے اسی بے یقینی کے عالم میں اپنے اپارٹمنٹ میں گزارا، پورے ہفتے کے دوران اسی کہیں سے کوئی کال نہیں ملی۔
“کیا یہ سب لوگ مجھے بھول گئے ہیں؟”
وہ وحشت زدہ ہو گیا۔ ایک ہفتہ تک بے وقوفوں کی طرح کسی کی کال کا انتظار کرتے رہنے کے بعد اس نے خود سب سے رابطہ کی کوشش کی۔
وہ ا نہیں فون پر بتانا چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ وہ کس کیفیت سے گزرا تھا۔ وہ ان کے ساتھ شکوہ کرنا چاہتا تھا ، مگر ہر ایک سے رابطہ کرنے پر اسے پہلی بار یوں محسوس ہوا جیسے کسی کو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ ہر ایک کے پاس اپنی مصروفیات کی تفصیلات تھیں۔
سکندر اور طیبہ اسے اسٹریلیا میں اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہے۔ وہ وہاں کیا کر رہے تھے، کتنا انجوائے کر رہے تھے۔ وہ کچھ غائب دماغی کے عالم میں ان کی باتیں سنتا رہا۔
“تم انجوائے کر رہے ہو اپنی چھٹیاں؟”
بہت لمبی چوڑی بات کے بعد طیبہ نے بالآخر اس سے پوچھا۔
“میں؟ہاں، بہت۔۔۔۔۔” وہ صرف تین لفظٖ بول سکا۔
وہ واقعی نہیں جنتا تھا کہ اسے طیبہ سے کیا کہنا، کیا بتانا چاہئیے۔”
باری باری سب سے بات کرتے ہوئے وہ پہلی بار اس قسم کی صورت حال اور کیفیت سے دوچار ہوا تھا۔ ان میں سے ہر ایک کو بنیادی طور پر صرف زپنی زندگی سے دلچسپی تھی۔ شاید وہ انہیں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بتاتا تو وہ اس کے لئے تشویش کا اظہار کرتے۔ پریشان ہو جاتے مگر وہ سب بعد میں ہوتا۔ اس کے بتانے کے بعد، اس سے پہلے ان کی زندگی کے دائرے میں اس کی زندگی کہاں آتی تھی۔ کس کو دلچسپی تھی یہ سننے میں کہ اس کے چند دن کس طرح غائب ہو گئے۔
اور شاید تب ہی اس نے پہلی بار سوچا اگر میری زندگی ختم بھی ہو گئی تو کسی دوسرے کو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ دنیا میں کیا تبدیلی آئے گی؟ میرا خاندان کیا محسوس کرے گا؟ کچھ بھی نہیں۔ چند دنوں کے دکھ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں اور دنیا میں تو شاید چند لمحوں کے لئے بھی کوئی تبدیلی نہ آئے۔
سالار سکندر اگر غائب ہو جائے تو واقعی کسی دوسرے کو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ چاہے اس کا آئی کیو لیول +150 ہو۔ وہ اپنی سوچوں کو جھٹکنے کی کوشش کرتا مگر ایسی مایوسی اور اس طرح کی ذہنی حالت۔۔۔۔۔ آخر مجھے ہو کیا گیا ہے اگر سب لوگ کچھ دنوں کے لئے مجھے بھول بھی گئے تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے میں بھی تو بہت بار بہت سے لوگوں کے ساتھ رابطہ نہیں رکھ پاتا۔ پھر اگر میرے ساتھ ایسا ہو گیا تو۔
مگر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اور اگر واقعی میں، میں اس بے ہوشی سے واپس نہ آتا تو۔۔۔۔۔اگر میرا بخار کم نہ ہواتا اگر سینے یا پیٹ کا وہ درد ختم نہ ہوتا۔۔۔۔۔ اپنے ذہن سے وہ یہ سب کچھ جھٹکنے کی کوشش کرتا لیکن ناکام رہتا یہ تکلیف سے زیادہ خوف تھا جس کا شکار وہ اس اچانک بیماری کےدوران ہوا تھا۔”شاید میں کچھ زایدہ حساس ہوتا جا رہا ہوں۔” وہ سوچتا ورنہ ایک معمولی سی بے ہوشی کو خواہ مخواہ ہوا بنا کر سر پر کیوں سورا کر رہا ہوں۔
وہ جھنجھلاتا۔
“کم از کم اب تو ٹھیک ہو چکا ہوں پھر آخر اب مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں اس طرح موت کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ آخر پہلے بھی تو کئی بار بیمار ہو چکا ہوں۔ خود کشی کی کوشش کر چکا ہوں، جب مجھے کسی خوف نے تنگ نہیں کیا تو اب کیوں مجھے اس طرح کے خوف تنگ کرنے لگے ہیں۔”
اس کی الجھن اور اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
“اور پھر مجھے تو بخار کی وہ تکلیف ٹھیک سے یاد بھی نہیں۔ میرے لئے تو یہ صرف خواب یا کوما کی طرح ہے۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں”۔ وہ مسکرانے کی کوشش کرتا۔
“کیا چیز ہے جو مجھے پریشان کر رہی ہو۔ کیا بیماری؟ یا پھر یہ بات کہ کسی کو میری ضرورت نہیں پڑی۔ کسی کو میری یاد نہیں آئی۔ خیال تک نہیں، میرے اپنے لوگوں کو بھی، میرے فیملی ممبرز کو، دوستوں کو۔۔۔۔۔”
“مائی گاڈ۔۔۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے سالار؟”یونیورسٹی کھلتے ہی پہلے ہی دن سینڈرا نے اسے دیکھتے ہی کہا۔
“مجھے کچھ بھی نہیں ہوا۔” سالار نے مسکرانے کی کوشش کی۔
“تم بیمار رہے ہو؟” اسے تشویش ہوئی۔
“ہاں تھوڑا بہت۔”
“مگر مجھے تو نہیں لگتے کہ تم تھوڑے بہت بیمار رہے ہو۔ تمہارا وزن کم ہو گیا ہے اور آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوئے ہیں۔ کیا بیماری تھی تمہیں؟”
“کچھ نہیں۔ تھوڑا سا بخار اور فوڈ پوائزننگ۔۔۔۔۔” وہ پھر مسکرایا۔
“تم پاکستان گئے ہوئے تھے؟”
“نہیں ، یہیں تھا۔”
“مگر میں نے تو تمہیں نیو یارک جانے سے پہلے کئی بار رنگ کیا۔ ہمیشہ answer phone ہی ملا۔ تم یہ ریکارڈ کروا دیتے کہ تم پاکستان جا رہے ہو۔”
“جسٹ سٹاپ اٹ!” وہ بے اختیار جھنجھلایا۔”سوال پر سوال کرتی جا رہی ہوتم۔”
سینڈرا حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔”تم میری بیوی تو نہیں ہو کہ اس طرح بات کر رہی ہو مجھ سے؟”
“سالار کیا ہوا؟”
“کچھ نہیں ہوا، بس تم ختم کرو یہ ساری بات۔ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟ کہاں رہے؟ کیوں رہے، ربش۔”
سینڈرا چند لمحے بول نہیں سکی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس طرح ری ایکٹ کرے گا۔
سینڈرا اس دن اس سے یہ سارے سوال پوچھنے والی اکیلی نہیں تھی۔ اس کے تمام دوستوں اور جاننے والوں نے اسے دیکھتے ہی کچھ اس طرح کے سوال، تبصرے یا تاثرات دئیے تھے۔
وہ دن ختم ہونے تک بری طرح جھنجھلاہٹ کا شکار ہو چکا تھا اور کسی حد تک مشتعل بھی۔ وہ کم از کم ان سوالوں کو سننے کے لئے یونیورسٹی نہیں آیا تھا۔ اس طرح کے تبصرے اسے بار بار یادہانی کروا رہے تھے کہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہو چکا ہے اور وہ ان احساسات سے چھٹکارا پانا چاہتا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“مووی دیکھنے کا پروگرام ہے اس ویک اینڈ پر، چلو گے؟” دانش اس دن اس کے پاس آیا ہوا تھا۔
“ہاں چلوں گا۔” سالار تیار ہو گیا۔
“پھر تم تیار رہنا، میں تمہیں پک کر لوں گا۔” دانش نے پروگرام طے کیا۔
دانش پروگرام کے مطابق اسے لینے کے لئے آ گیا تھا۔ وہ کئی ہفتوں کے بعد کسی سینما میں مووی دیکھنے کے لئے آیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ کم از کم اس رات وہ ایک اچھی تفریح میں کچھ وقت گزار سکے گا مگر مووی شروع ہونے کے دس منٹ بعد اسے وہاں بیٹھے بیٹھے اچانک شدیش قسم کی گھبراہٹ ہونے لگی۔ سامنے اسکرین پر نظر آنے والے کردار اسے کٹھ پتلیاں نظر آنے لگے جن کی حرکات اور آوازوں کو وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ وہ کچھ بھی کہے بغیر بہت آہستگی کے ساتھ اٹھ کر باہر آ گیا۔ وہ پارکنگ میں بہت دیر تک دانش کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھا رہا، پھر ایک ٹیکسی لے کر اپنے اپارٹمنٹ پر واپس آ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پروفیسر روبنسن اپنا لیکچر شروع کر چکے تھے۔ سالار نے اپنے سامنے پڑے پیپر پر تاریخ اور ٹاپک لکھا۔ وہ اکنامک Recession کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ سالار ہمیشہ کی طرح ان پر نظریں جمائے ہوئے تھا مگر اس کا ذہن غیر حاضر تھا اور یہ اس کے ساتھ زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔ وہ انہیں دیکھتے ہوئے کہیں اور پہنچ گیا تھا۔ کہاں، وہ یہ بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ ایک امیج سے دوسرے امیج، دوسرے سے تیسرے۔۔۔۔۔ ایک سین سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے۔۔۔۔۔ ایک آواز سے دوسری، دوسری سے تیسری۔۔۔۔۔ اس کا سفر کہاں سے شروع ہوا، کہاں نہیں۔
“سالار، چلنا نہیں ہے؟” سینڈرا نے اس کا کندھا ہلایا۔
وہ چونک گیا، کلاس خالی تھی، صرف سینڈرا اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے بے یقینی سے خالی کلاس کو اور پھر وال کلاک کو دیکھا پھر اپنی رسٹ واچ کو۔
“پروفیسر روبنسن کہاں گئے؟” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
“کلاس ختم ہو گئی، وہ چلے گئے۔” سینڈرا نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔
“کلاس ختم ہو گئی؟” اسے جیسے یقین نہیں آیا۔
“ہاں!” سالار نے بے اختیار اپنی آنکھوں کو مسلا اور پھر اپنی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ واحد چیز جو اسے پروفیسر روبنسن کے لیکچر کے بارے میں یاد تھی، وہ صرف ٹاپک تھا۔ اس کے بعد وہ نہیں جانتا تھا کہ انہوں نے کیا کہا تھا۔
“تم کچھ اپ سیٹ ہو؟” سینڈرا نے پوچھا۔
“نہیں، کچھ نہیں، میں کچھ دیر کے لئے یہاں اکیلا بیٹھنا چاہتا ہوں۔”
“اوکے۔” سینڈرا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور اپنی چیزیں اٹھا کر باہر چلی گئی۔
وہ اپنے سینے پر بازو باندھے سامنے نظر آنے والے رائیٹنگ بورڈ کو دیکھنے لگا۔ آج یہ تیسری کلاس تھی جس میں اس کے ساتھ یہ ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا یونیورسٹی دوبارہ جوائن کرنے کے بعد سب کچھ معمول پر آ جائے گا، وہ ڈیپریشن کے اس فیز سے باہر آ جائے گا جس کا وہ تب تک شکار تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ یوینورسٹی میں بھی مکمل طور پر اس ذہنی انتشار کا شکا تھا جس میں وہ اتنے دنوں سے تھا پہلی بار اس کا دل پڑھائی سے بھی اچاٹ ہو رہا تھا۔ وہاں ہر چیز اسے مصنوعی لگ رہی تھی۔ وہ زندگی میں پہلی بار صحیح معنوں میں ڈیپریشن کا شکار ہوا تھا۔ اسٹڈیز، یونیورسٹی، فرینڈز، کلب ، پارٹیز، ریسٹورنٹس، سیرو تفریح ہر چیز اس کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی تھی۔ اس نے دوستوں سے ملنایک دم چھوڑ دیا۔ answer phone پر اکثر اس کا پیغام ہوا کرتا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔وہ فرینڈز کے اصرار پر ان کے ساتھ کہیں جانے کا پروگرام بنا لیتا تھا اور پھر ایک دم جانے سے انکار کر دیتا۔ چلا بھی جاتا تو کسی وقت بھی بغیر بتائے اٹھ کر واپس آ جاتا۔ وہ یونیورسٹی میں بھی یہی کر رہا تھا۔ ایک دن جاتا، دو دن غائب رہتا۔ ایک پیریڈ لیتا، اگلے دو پیریڈ چھوڑ دیتا۔
اپنے اپارٹمنٹ میں کبھی کبھار وہ سارا دن بیڈ پر لیٹے ہوئے گزار دیتا، بعض دفعہ وہ فلم دیکھنا شروع کرتا اور ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد بھی اس کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے۔ ٹی وی چینلز گھماتے ہوئے وہ اسی کیفیت کا شکار رہتا۔ اس کی بھوک ختم ہو گئی تھی۔ وہ کوئی چیز کھانا شروع کرتا اور پھر یک دم اس کا دل ڈوب جاتا۔ وہ اسی طرح اسے چھوڑ دیتا ۔ بعض دفعہ وہ پورا پورا دن کچھ بھی نہیں کھاتا تھا۔ صرف یکے بعد دیگرے کافی کے کپ اپنے اندر انڈیلتا رہتا۔
وہ چین سموکر نہیں تھا مگر ان دنوں بن گیا تھا۔ وہ اپنی چیزیں بہت قرینے سے رکھنے کا عادی تھا مگر ان دنوں اس کا اپارٹمنٹ گندگی کی مثال تھا اور اسے ان بکھری ہوئی چیزوں کو دیکھ کر کوئی الجھن نہیں ہوتی تھی۔ اس نے اپنے بہن بھائیوں اور والدین سے بھی گفتگو بہت مختصر کر دی تھی۔ وہ فون پر بولتے رہتے، وہ دوسری طرف کچھ بھی کہے بغیر خاموشی سے سنتا رہتا یا ہوں ہاں میں جواب دے دیتا۔ اس کے پاس انہیں بتانے کے لئے، ان کے ساتھ شئیر کرنے کے لئے یک دم سب کچھ ختم ہو گیا تھا اور اسے ان میں سے ایک بات کی بھی وجہ معلوم نہیں تھی۔
اور اسے یہ بات بھی معلوم تھی کہ اس کی ان تمام کیفیات اور حالت کا تعلق امامہ ہاشم سے ہے۔ نہ وہ اس کی زندگی میں آتی نہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا۔ پہلے وہ اسے ناپسند کرتا تھا اب اسے امامہ سے نفرت ہونے لگی تھی۔ پچھتاوے کا جو ہلکا سا احساس کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہا تھا وہ غائب ہو گیا تھا۔
“اس کے ساتھ جو ہوا، ٹھیک ہوا۔ میں نے اس کے ساتھ جو کیا، ٹھیک کیا۔ اس کے ساتھ اس سے زیادہ برا ہونا چاہئیے تھا۔”
وہ خود بخود ہی اپنے آپ سے کہتا رہتا۔ اسے امامہ ہاشم کی زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ، ہر حرف، ہر جملے سے نفرت تھی۔ اسے اس کی باتیں یاد آتیں اور اس کی نیند غائب ہو جاتی۔ ایک عجیب سی وحشت اسے گھیر لیتی۔ اس نے اس رات جن باتوں کا مذاق اڑایا تھا، وہ اب ہر وقت اس کے کانوں میں گونجنے لگی تھیں۔
“کیا میں پاگل ہو رہا ہوں، کیا میں اپنے ہوش و حواس آہستہ آہستہ کھوتا جا رہا ہوں، کیا میں شیزوفرینیا کا شکار ہوں۔” بعض دفعہ اسے بیٹھے بٹھائےخوف محسوس ہونے لگتا۔
ہر چیز کی بے معنویت بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر چیز کی بے مقصدیت اور عیاں ہو رہی تھی۔ وہ کہاں تھا، کیا تھا، کیو ں تھا، کہاں کھڑا تھا، کیوں کھڑا تھا؟ اسے ہر وقت یہ سوالات تنگ کرنے لگے۔ کیا ہو گا اگر میں Yale سے ایک ایم بی اے کی ڈگری لے لوں گا۔ بہت اچھی جاب مل جائے گی، کوئی فیکڑی شروع کو لوں گا پھر۔۔۔۔۔ کیا یہ وہ کام تھا جس کے لئے مجھے زمین پر اتارا گیا۔۔۔۔۔+150 آئی کیو لیول کے ساتھ۔۔۔۔۔ کہ میں چند اور ڈگریاں لوں، شاندار سا بزنس کروں، شادی کروں، بچے پیدا کروں، عیش کروں پھر مر جاؤں، بس۔۔۔۔۔
اس نے زندگی میں چار دفعہ صرف اپنے تجسس کے لئے موت کے تجربے سے گزرنے کی کوشش کی تھی مگر اب شدید ڈیپریشن کے عالم میں بھی وہ خود کشی کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ چوبیس گھنٹے موت کے بارے میں سوچنے کے باوجود بھی وہ اسے چھونا نہیں چاہتا تھا۔
لیکن اگر اس سے کوئی یہ پوچھ لیتا کہ کیا وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ ہاں میں جواب دینے میں بھی تامل کرتا۔ وہ زندہ رہنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ زندگی کے مفہوم کو نہیں جانتا تھا۔
وہ مرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ موت کے مفہوم سے بھی واقف نہیں تھا۔
وہ کسی خلا میں معلق تھا، کسی درمیان والی جگہ میں، کسی بیچ والی کیفیت میں۔ زندہ رہتے ہوئے مردہ، مردہ ہوتے ہوئے زندہ۔۔۔۔۔ وہ سرشاری کی انتہا پر پہنچ رہا تھا لمحہ بہ لمحہ۔ +150 آئی کیو لیول رکھنے والا وہ شخص جو اپنے سامنے کہی اور سنی جانے والی کوئی بھی چیز نہیں بھلا سکتا تھا۔ سگریٹ کا دھواں اڑاتے، بئیر کے گھونٹ لیتے، نائٹ کلب میں رقص کرتے، مہنگے ریسٹورنٹ میں ڈنر کرتے، اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ وقت گزارتے، وہ صرف ایک بات سوچتا رہتا۔
“کیا زندگی کا مقصد یہی ہے؟”
“عیش اور آسائش۔۔۔۔۔؟ شاندار لباس، بہترین خوراک، اعلیٰ ترین سہولتیں۔ ساٹھ ستر سال کی ایک زندگی اور پھر؟”
اس کے بعد اس پھر کا کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ مگر اس”پھر” کی وجہ سے اس کی زندگی کے معمولات بگڑ گئے تھے۔ وہ رفتہ رفتہ بے خوابی کا شکار ہو رہا تھا اور یہ ان ہی دنوں تھا کہ اس نے اچانک مذہب میں دلچسپی لینا شروع کی۔ ڈیپریشن سے نجات کے لئے وہ بہت سے لوگوں کو یہی کام کرتے دیکھتا تھا۔ اس نے بھی یہی کام شروع کر دیا۔ اس نے اسلام کے بارے میں کچھ کتابیں پڑھنے کی کوشش کی۔ تمام کتابیں اس کے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ کوئی لفظ، کوئی بات اسے اپنی طرف نہیں کھینچ رہی تھی۔ وہ خود پر جبر کر کے چند صفحات پڑھتا اور ان کتابوں کو رکھ دیتا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد پھر اٹھاتا پھر رکھ دیتا۔
“نہیں، شاید مجھے عملی طور پر عبادت شروع کرنی چاہئیے۔ اس سے ہو سکتا ہے کہ مجھے کچھ فائدہ ہو۔”
وہ اپنے آپ کو خود ہی سمجھاتا اور ایک دن جب وہ سعد کے پاس تھا تو اس نے یہی کیا۔
“میں بھی چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔” اس نے سعد کو باہر نکلتے دیکھ کر کہا۔
“مگر میں تو عشاء کی نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔” سعد نے اسے یادہانی کروائی۔
“میں جانتا ہوں۔” اس نے اپنے جاگرز کے تسمے کستے ہوئے کہا۔
“میرے ساتھ مسجد چلو گے؟” وہ حیران ہوا۔
“ہاں۔” وہ کھڑا ہو گیا۔
“نماز پڑھنے کے لئے؟”
“ہاں!” سالار نے کہا۔” اس طرح دیکھنے کی کیا ضرورت ہے، میں کافر تو نہیں ہوں۔”
“کافر تو نہیں ہو مگر۔۔۔۔۔ چلو خیر، پڑھ لینا آج۔” سعد نے کچھ کہتے کہتے بات بدل دی۔
“میں تو تمہیں پہلے ہی کتنی بار ساتھ چلنے کے لئے کہہ چکا ہوں۔”
سالار نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے چلتے ہوئے اس کے ساتھ باہر آ گیا۔
“اب اگر آج مسجد جا ہی رہے ہو تو پھر جاتے رہنا۔ یہ نہ ہو کہ بس آج پہلا اور آخری وزٹ ہی ہو۔” سعد نے عمارت سے باہر نکلتے ہوئے اس سے کہا۔ باہر اس وقت برف باری ہو رہی تھی۔ مسجد، رہائش کی عمارت سے کچھ فاصلے پر تھی۔ وہ ایک مصری خاندان کا گھر تھا جس کا نچلا حصہ مسجد کے طور پر ان لوگوں نے استعمال کے لئے دیا ہوا تھا جبکہ اوپر والے حصے میں وہ لوگ خود رہتے تھے۔ بعض دفعہ وہاں نمازیوں کی تعداد دس پندرہ کے درمیان ہی رہتی تھی۔
سعد مسجد تک پہنچنے تک سالار کو ان تفصیلات سے آگار کرتا رہا۔ سالار خاموشی اور کچھ لاتعلقی کے عالم میں سڑک پر احتیاط سے پھسلتی گاڑیوں اور ہر طرف موجود برف کے ڈھیر پر نظریں دوڑاتا اس کے ساتھ چلتا رہا۔
پانچ سات منٹ چلتے رہنے کے بعد ایک موڑ مڑ کر سعد ایک گھر کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ دروازہ بند تھا مگر لاک نہیں تھا اور سعد نے دروازے پر دستک دی تھی نہ ہی کسی سے اجازت مانگی تھی۔ بڑے مانوس سے انداز میں اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا اور پھر اندر داخل ہو گیا۔ سالار نے اس کی پیروی کی۔
“تم وضو کر لو۔” سعد نے اچانک اسے مخاطب کیا اور پھر اسے ساتھ لے کر ایک دروازہ کھول کر ایک باتھ روم میں داخل ہو گیا۔
سعد کی زیر نگرانی جب تک وہ وضو کے آخری حصے تک پہنچتا، ٹھنڈا پانی گرم میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اپنے بالوں کا مسح کرتے کرتے وہ ایک بار پھر ٹھٹکا۔ سعد سمجھا اسے صحیح طریقہ نہیں پتا، اس نے ایک بار پھر اسے ہدایت دی۔ وہ خالی الذہنی کے عالم میں اپنے ہاتھوں کو ایک بار پھر حرکت دینے لگا۔
گدی تک ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کا ہاتھ گردن میں موجود زنجیر سے ٹکرایا تھا۔ اس کی نظر بے اختیار سامنے آئینے میں گئی۔ وہ ایک بار پھر کہیں اور پہنچ چکا تھا۔ سعد نے اس سے کچھ کہا تھا۔ اس بار اس نے نہیں سنا۔
کمرے میں موجود دس افراد دو صفوں میں کھڑے ہو رہے تھے۔ وہ سعد کے ساتھ پچھلی صف میں کھڑا ہو گیا۔ امام صاحب نے امامت شروع کر دی، سب کے ساتھ اس نے بھی نیت کی۔
“نماز سے واقعی سکون ملتا ہے؟” اس نے کوئی دو ہفتے پہلے ایک لڑکے کو نامز کے مسئلے پر سعد کے ساتھ بحث میں الجھا پایا تھا۔
“مجھے تو ملتا ہے۔” سعد نے کہا۔
“میں تمہاری بات نہیں کر رہا، میں سب کی بات کر رہا ہوں، سب کو ملتا ہے؟” اس لڑکے نے کہا تھا۔”یہ منحصر ہے کہ سب کتنا انوالو ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔”
سالار بڑے اکتائے ہوئے انداز میں ان کی بحث کسی مداخلت یا تبصرے کے بغیر سنتا رہا تھا۔ اس وقت وہ لاشعوری طور پر نماز میں انہماک پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“سکون؟ میں واقعی دیکھنا چاہتا ہوں کہ نماز سے سکون کیسے ملتا ہے۔” اس نے رکوع میں جاتے ہوئے اپنے دل میں سوچا پھر اس نے پہلا سجدہ کیا۔ اس کے اضطراب اور بے چینی میں یک بہ یک اضافہ ہو گیا۔ جن الفاظ کو وہ امام صاحب کی زبان سے سن رہا تھا، وہ بہت نامانوس لگ رہے تھے، جو لوگ اس کے اردگرد کھڑے تھے وہ اسے ناآشنا لگ رہے تھے، جس ماحول میں وہ موجود تھا وہ اسے غیر فطری لگ رہا تھا اور جو کچھ وہ کر رہا تھا وہ اسے منافقت محسوس ہو رہی تھی۔
ہر سجدے کے ساتھ اس کے دل و دماغ کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے پہلی چار رکعتیں بمشکل ختم کیں۔ سلام پھیرنے کے دوران اس نے اپنے دائیں جانب والے ادھیڑ عمر شخص کے گالوں پر آنسو دیکھے، اس کا دل وہاں سے بھاگ جانے کو چاہا۔ وہ جی کڑا کر کے ایک بار پھر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ایک بار پھر نماز میں پوری طرح منہمک ہونے کی کوشش کی۔
“اس بار میں پڑھی جانے والی آیات کے ہر لفظ پر غور کروں گا۔ شاید اس طرح۔۔۔۔۔” اس کی سوچ کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ نیت کی جا رہی تھی۔ اس کا دل مزید اچاٹ ہو گیا۔ سر کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے آیات کے مفہوم پر غور کرنے کی کوشش کی۔
“الحمدللہ رب العالمین۔” سورۃ فاتحہ کی تلاوت شروع ہوئی۔
“الرحمنٰ الرحیم۔” اس نے توجہ مزکور رکھنے کی پوری کوشش کی۔
“مالک یوم الدین۔” توجہ بھٹکی۔
“ایاک نعبد و ایاک نستعین۔” اسے سورۃ فاتحہ کا ترجمہ آتا تھا۔ اس نے چند دن پہلے ہی پڑھا تھا۔
“اھدنا الصراط المستقیم۔”(سیدھا راستہ) اس نے ذہن میں دہرایا۔
” لصراط المستقیم۔۔۔۔۔ سیدھا راستہ؟” اس کا دل چاہا وہاں سے بھاگ جائے۔ اس نے وہاں نماز جا ری رکھنے کی ایک آخری کوشش کی۔
“صراط الذین انعمت۔” اس کا ذہن ایک بار پھر پیچھے گیا۔
“علیہم غیر المغضوب علیہم و الضالین۔” اس نے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ کھولے، وہ آخری صف میں کھڑا تھا، بہت آہستگی سے چند قدم پیچھے گیا اور صف سے نکل گیا۔
“یہ کام میں نہیں کر سکتا، میں نماز نہیں پڑھ سکتا۔” اس نے جیسے اعتراف کیا۔ بہت خاموشی کے ساتھ وہ پیچھے ہوتا گیا۔ باقی لوگ اب رکوع میں جا رہے تھے، وہ مڑ کر دبے قدموں مگر تیز رفتاری سے باہر نکل گیا۔
مسجد سے نکلتے ہوئے اس کے جاگرز اس کے ہاتھ میں تھے۔ غائب دماغی کے عالم میں وہ باہر سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر چند لمحے اِدھر اُدھر دیکھتا رہا۔ اس کے بعد وہ سیڑھیاں اتر گیا۔ پاؤں میں جرابیں اور ہاتھ میں جاگرز پکڑے وہ خالی الذہنی کے عالم میں عمارت کی عقبی دیوار کی طرف آ گیا۔ وہاں بھی ایک دروازہ اور کچھ سیڑھیاں نظر آ رہی تھیں مگر وہ سیڑھیاں برف سے اٹی ہوئی تھیں۔ دروازے پر موجود لائٹ بھی روشن نہیں تھی۔ اس نے جھک کر سب سے اوپر والی سیڑھی کو اپنے جاگرز کے ساتھ صاف کیا اور برف صاف کرنے کے بعد وہاں بیٹھ گیا۔ کچھ دیر پہلے ہونے والی برف باری اب ختم ہو چکی تھی۔ اس نے سیڑھی پر بیٹھ کر اپنے جاگرز پہن لئے۔ تسمے کسنے کے بعد وہ ایک بار پھر سیدھا ہو کر دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس کے دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں تھے۔ جیکٹ سے ساتھ لگے ہوئے hoed کو وہ سر پر چڑھا چکا تھا۔ سامنے سڑک پر اِکا دُکا گاڑیوں کی آمدورفت جا ری تھی۔
وہ سیڑھیوں پر اپنی ٹانگیں پھیلائے اپنی پشت دروازے سے ٹکائے ان اِکا دُکا گاڑیوں اور فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں کو دیکھنے لگا۔ وہاں اس سرد اور کہر آلود رات میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے وہ کچھ دیر پہلے مسجد کے گرم کمرے میں زیادہ سکون محسوس کر رہا تھا یا کم از کم بہتر ضرور محسوس کر رہا تھا۔
اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر لائیٹر نکال لیا اور اسے جلا کر اپنے پیروں کے قریب سیڑھیوں پر پڑی برف کو پگھلانے لگا، کچھ دیر تک وہ اسی سرگرمی میں مشغول رہا پھر جیسے اس نے اکتا کر لائیٹر دوبارہ جیب میں ڈال لیا۔ جس وقت وہ سیدھا ہوا اس نے اپنے بالکل سامنے ایک عورت کو کھڑا پایا۔ وہ یقیناً اس وقت وہاں آ کر کھڑی ہوئی تھی جس وقت وہ سیڑھیوں پر جھکا اپنے دونوں پاؤں کے درمیان موجود برف کو لائیٹر سے پگھلا رہا تھا۔ وہ نیم تاریکی میں بھی اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھ سکتا تھا۔ وہ منی اسکرٹ اور ایک مختصر بلاؤز میں ملبوس تھی۔ اس نے فرکوٹ پہنا ہوا تھا مگر وہ فرکوٹ آگے سے دانستہ طور پر کھلا چھوڑا گیا تھا۔
وہ فرکوٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے سالار کے بالکل سامنے بڑے سٹائل سے کھڑی تھی۔ سالار نے سر سے لے کر پاؤں تک اسے دیکھا۔ اس کی لمبی ٹانگیں اس سردی میں بھی برہنہ تھیں۔ اس کے عقب میں موجود دوکانوں کی روشنیوں کے بیک گراونڈ میں اس کی ٹانگیں یک دم بہت نمایاں ہو رہی تھیں اور اس کی ٹانگیں بہت خوبصورت تھیں۔ کچھ دیر تک وہ ان سے نظریں نہیں ہٹا سکا۔ اس عورت کے پیروں میں بوٹ نماہائی ہیل کے جوتے تھے۔ سالار حیران تھا وہ برف کے اس ڈھیر پر ان جوتوں کے ساتھ کس طرح چلتی ہو گی۔”۔I charge 50 for one hour”
اس عورت نے بڑے دوستانہ انداز میں کہا۔ سالار نے اس کی ٹانگوں سے نظریں ہٹا کر اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس کی نظریں ایک بار پھر اس کی ٹانگوں پر گئیں۔ کئی سالوں میں پہلی بار اسے کسی پر ترس آیا۔ کیا مجبوری تھی کہ وہ اس برف باری میں بھی اس طرح برہنہ پھرنے پر مجبور تھی، جبکہ وہ اس موٹی جینز میں بھی سردی کو اپنی ہڈیوں میں گھستے محسوس کر رہا تھا۔”Ok 40 dollars۔”
اس خاموش دیکھ کر اس عورت کو اندیشہ ہوا کہ شاید وہ قیمت اس کے لئے قابلِ قبول نہیں تھی، اس لئے اس نے فوراً اس میں کمی کر دی۔ سالار جانتا تھا چالیس ڈالرز بھی زیادہ تھے۔ وہ سڑک پر بیس ڈالرز میں بھی ایک گھنٹہ کے لئے کسی لڑکی کو حاصل کر سکتا تھا وہ پینتیس چالیس سال کی تھی اور بات کرتے ہوئے محتاط نظروں سے سڑک پر اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ سالار جانتا تھا یہ احتیاط کسی پولیس کا یا پولیس والے کے لئے تھی۔
“Ok 30…. No more bargaining۔”
“Take it or leave it”
سالار کی خاموشی نے اس کی قیمت کو کچھ اور کم کیا۔ سالار نے اس بار کچھ بھی کہے بغیر اپنی جیکٹ کی اندر کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہاں موجود چند کرنسی نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دئیے۔ اس کے پاس اس وقت والٹ نہیں تھا۔ اس عورت نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پھر ان نوٹو ں کو اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا۔ وہ پہلا گاہک تھا، جو اسے ایڈوانس پے منٹ کر رہا تھا اور وہ بھی پچاس ڈالرز، جبکہ وہ اپنی قیمت کم کر چکی تھی۔
“تم میرے ساتھ چلو گے، یا میں تمہارے ساتھ۔” وہ ا ب بڑی بے تکلفی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔
“نہ میں تمہارے ساتھ چلوں گا، نہ تم میرے ساتھ۔ بس تم یہاں سے جاؤ۔” سالار نے ایک بار پھر سڑک کے دوسری طرف موجود دکانوں پر نظریں جماتے ہوئے کہا۔
وہ عورت بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی۔
“واقعی؟”
“ہاں۔”سالار نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
“تو پھر تم نے یہ کیوں دئیے ہیں؟” اس عورت نے اپنے ہاتھ میں پکڑے نوٹوں کی طرف اشارہ کیا۔
“تاکہ تم میرے سامنے سے ہٹ جاؤ، میں سڑک کے اس پار دکانیں دیکھنا چاہتا ہوں اور تم اس میں رکاوٹ بن گئی ہو۔” اس نے سرد مہری سے کہا۔
عورت بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنسی۔” تم اچھا مذاق کر لیتے ہو، کیا میں واقعی چلی جاؤں؟’
“ہاں۔”
وہ عورت کچھ دیر اسے دیکھتی رہی۔” اوکے، تھینک یو ہنی۔” سالار نے اسے مڑ کر سڑک پار کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ لاشعوری طور پر اسے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ سڑک پار کر کے ایک دوسرے کونے کی طرف جا رہی تھی، وہاں ایک اور آدمی کھڑا تھا۔
سالار نے دوبارہ نظریں ان دوکانوں پر جما لیں، برف باری ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی۔ وہ پھر بھی اطمینان سے وہیں بیٹھا رہا۔ برف اب اس کے اوپر بھی گر رہی تھی۔
وہ رات کے ڈھائی بجے تک وہیں بیٹھا رہا جب سڑک کے پار دوکانوں کے اندر کی لائیٹس اس نے یک بعد دیگرے بند ہوتے دیکھیں تو وہ اپنی جیکٹ اور جینز سے برف جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر وقفے وقفے سے وہ اپنی ٹانگیں ہلا نہ رہا ہوتا تو اس وقت تک وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کے باوجود کھڑا ہو کر قدم اٹھانے میں اسے کچھ دقت ہوئی۔ چند منٹ وہیں کھڑا اپنے پیروں کو جھٹکتا رہا اور پھر اسی طرح جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر واپس اپارٹمنٹ کی طرف جانے لگا۔ وہ جانتا تھا سعد نے اسے مسجد سے نکل کر بہت ڈھونڈا ہو گا اور اس کے بعد وہ واپس چلا گیا ہو گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“کہاں چلے گئے تھے تم؟”سعد اسے دیکھتے ہی چلایا۔ وہ کچھ کہے بغیر اندر چلا آیا۔
“میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔” سعد دروازہ بند کر کے اس کے پیچھے آ گیا۔ سالار اپنی جیکٹ اتار رہا تھا۔
“کہیں نہیں گیا تھا۔” اس نے جیکٹ لٹکاتے ہوئے کہا۔
“تمہیں پتا ہے کہ میں نے تمہیں کتنا تلاش کیا ہے، کہاں کہاں فون کئے ہیں اور اب تو میں اتنا پریشان ہو چکا تھا کہ پولیس کو فون کرنے والا تھا۔۔۔۔۔ تم آخر اس طرح نماز چھوڑ کر گئے کہاں تھے؟”
سالار کچھ کہے بغیر اپنے جاگرز اتارنے لگا۔
“میں نے تمہیں بتایا ہے، کہیں نہیں۔”
“تو پھر اب تک کہاں تھے؟” سعد اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
“وہیں تھا، مسجد کے پچھلے حصے میں فٹ پاتھ پر۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
“واٹ! اتنے گھنٹے تم وہاں فٹ پاتھ پر برف میں بیٹھے رہے ہو۔” سعد دم بخود رہ گیا۔
“ہاں!”
“کوئی تک بنتی ہے اس حرکت کی۔” وہ جھلایا۔
“نہیں ، کوئی تک نہیں بنتی۔” سالار نے اسی طرح سیدھا بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا۔
“کچھ کھایا ہے؟”
“نہیں۔”
“تو کھانا کھا لو۔”
“نہیں، بھوک نہیں ہے۔” وہ اب چھت پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ سعد اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“تمہارے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ بتا سکتے ہو مجھے۔” سالار نے گردن کو ہلکی سی حرکت سے کر اسے دیکھا۔
“کوئی مسئلہ نہیں ہے۔” بے تاثر لہجے میں کہا گیا۔” میں سمجھا، تم اپنے اپارٹمنٹ چلے گئے ہو، مگر وہاں بار بار رنگ کرنے پر بھی تم نہ ملے۔” سعد بڑبڑا رہا تھا۔ سالار کی نظریں چھت پر ہی تھیں۔
“اس سے بہتر تھا کہ میں تمہیں اپنے ساتھ نماز پڑھنے لے کر ہی نہ جاتا۔ آئندہ میرے ساتھ مت جانا تم۔” سعد نے ناراضی سے کہا۔ وہ اب اس کے بیڈ سے اٹھ گیا تھا۔ کچھ دیر تک وہ اپنے کام نبٹاتا رہا پھر وہ نائٹ بلب آن کر کے اپنے بیڈ پر لیٹ گیا۔ اس نے ابھی آنکھیں بند کی تھیں، جب اس نے سالار کی آواز سنی۔
“سعد!”
“ہاں!” اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“یہ “صراطِ مستقیم ” کیا ہوتا ہے؟”
سادہ لہجے میں پوچھے گئے سوال نے سعد کو حیران کر دیا۔ اس نے گردن موڑ کر بائیں جانب بیڈ پر سیدھا لیٹے ہوئے سالار کو دیکھا۔
“صراطِ مستقیم۔۔۔۔۔ سیدھے راستے کو کہتے ہیں۔”
“جانتا ہوں مگر سیدھا راستہ کیا ہوتا ہے؟” اگلا سوال آیا۔
سعد نے اس کی طرف کروٹ لے لی۔” سیدھا راستہ۔۔۔۔۔ مطلب نیکی کا راستہ۔۔۔۔۔”
“نیکی کیا ہوتی ہے؟” لہجہ ابھی بھی بے تاثر تھا۔
“اچھے کام کو نیکی کہتے ہیں۔”
“اچھا کام۔۔۔۔۔ کوئی ایسا کام جو کسی دوسرے کے لئے کیا گیا ہو۔ کسی کی مدد کی گئی ہو، کسی پر مہربانی کی گئی ہو، وہ اچھا کام ہوتا ہے اور ہر اچھا کام نیکی ہوتی ہے۔”
“ابھی کچھ گھنٹے پہلے میں نے فٹ پاتھ پر ایکhooker کو پچاس ڈالر دئیے، جبکہ وہ صرف تیس ڈالر مانگ رہی تھی۔ اس کا مطلب ہے یہ نیکی ہوئی؟’
سعد کا دل چاہا وہ ایک گھونسا اس کے منہ پر کھینچ مارے، وہ عجیب آدمی تھا۔
“بکواس بند کرو اور سو جاؤ، مجھے بھی سونے دو۔” اس نے کمبل لپیٹ لیا۔
سالار کو حیرت ہوئی، وہ کس بات پر حیران ہوا تھا۔”تو یہ نیکی نہیں ہوئی؟”
“میں نے تم سے کہا ہے، اپنا منہ بند کرو اور سو جاؤ۔” سعد ایک بار پھر دھاڑا۔
“اتنا ناراض ہونے کی ضرورت تو نہیں ہے، میں نے تم سے ایک بہت معمولی سا سوال کیا ہے۔” سالار نے بڑے تحمل سے کہا۔
سعد یک دم کچھ مشتعل ہوتے ہوئے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس نے لیمپ آن کر دیا۔
“تمہارے جیسے آدمی کو میں کیا صراطِ مستقیم سمجھاؤں۔ کیا تم پاگل ہو یا جاہل ہو۔۔۔۔۔ یا غیر مسلم ہو۔۔۔۔۔ کیا ہو۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہو تمہیں خود پتا ہونا چاہئیے کہ صراطِ مستقیم کیا ہوتا ہے مگر تم جیسا آدمی جو مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے نماز درمیان میں چھوڑ کر چلا آتا ہے، وہ کیسے جان سکتا ہے یہ۔”
“میں نماز اس لئے چھوڑ کر چلا آیا کیونکہ تم کہتے ہو اس میں سکون ملے گا، مجھے سکون نہیں ملا، میں چھوڑ آیا۔” اس کے پرسکون انداز میں کہے ہوئے جملے نے سعد کو مزید مشتعل کر دیا۔
“تمہیں نماز میں اس لئے سکون نہیں ملا، کیونکہ مسجد تمہاری جگہ نہیں ہے، تمہارے لئے سکون کی جگہیں سینما، تھیٹر، بار اور کلب ہیں۔ مسجد تمہارے لئے نہیں ہے۔ تمہیں نماز میں سکون کہاں سے مل جاتا۔۔۔۔۔ اور تم چاہتے ہو میں تمہیں بتاؤں صراطِ مستقیم کیا ہوتا ہے۔”
وہ بیڈ پر سیدھا لیٹا پلکیں جھپکائے بغیر سعد کو دیکھتا رہا۔
“تمہارے جیسا شخص جو نماز سے بھاگ جاتا ہے، شراب پیتا ہے اور زنا کرتا ہے۔ وہ صراط ِ مستقیم کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے نہ اس پر آ سکتا ہے۔”
“تمہارا مطلب ہے جو شراب پیتے ہیں اور زنا کرتے ہیں مگر نماز سے بھاگتے نہیں، نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، وہ صراطِ مستقیم کا مطلب سمجھتے ہیں اور صراطِ مستقیم پر ہیں۔”
سعد کچھ بول نہیں سکا۔ مدھم آواز اور بے تاثر لہجے میں کئے گئے ایک ہی سوال نے اسے خاموش کر دیا تھا۔ سالار اب بھی اسی طرح اسے دیکھ رہا تھا۔
“تم ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے سالار!” اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔ سالار کے کانوں میں ایک جھماکے کے ساتھ ایک دوسری آواز گونج اٹھی تھی۔
“ہاں، میں واقعی نہیں سمجھ سکتا۔ لائٹ آف کر دو، مجھے نیند آ رہی ہے۔” اس نے مزید کچھ کہے بغیر آنکھیں بند کر لیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: