Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 18

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 18

–**–**–

“ڈاکٹر سبط علی صاحب کے پاس جتنے لوگ بھی آتے ہیں وہ کسی نہ کسی حوالے سے کمیونٹی ورک سے وابستہ ہیں۔کچھ پہلے ہی اس کام میں انوالو ہوتے ہیں اور جو پہلے نہیں ہوتے وہ بعد میں ہو جاتے ہیں۔”
ڈاکٹر سبط علی سے پہل ملاقات کے بعد فرقان نے اسے بتایا۔
“ان کے پاس آنے والے زیادہ تر لوگ بہت کوالیفائیڈ ہیں۔بڑے بڑے اداروں سے وابستہ ہیں۔میں بھی اتفاقاً ہی ان کے پاس جانا شروع ہوا۔لندن میں ایک بار ان کا لیکچر سننے کا اتفاق ہوا پھر پاکستان آنے پر ایک دوست کے توسط سے ان سے ملنے کا موقع ملا اور اس کے بعد سے میں ان کے پاس جا رہا ہوں اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے بارے میں میرے نظریات پہلے کی نسبت اب بہت صاف اور واضح ہیں۔ذہنی طور پر بھی میں پہلے کی نسبت اب زیادہ مضبوط ہو گیا ہوں تم اس پروجیکٹ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔اس پروجیکٹ میں میری بہت زیادہ مدد ڈاکٹر سبط علی کے پاس آنے والے لوگوں نے بھی کی۔بہت ساری سہولیات انہی لوگوں نے فراہم کیں اور میں یہاں اس قسم کے پروجیکٹ پر کام کرنے والا واحد نہیں ہوں اور ہم ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔اس مدد کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ، مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ہم اس ملک کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔”
سالار نے اس کے آخری جملے پر عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا۔”یہ اتنا آسان تو نہیں ہے۔”
“ہاں ہم جانتے ہیں یہ آسان کام نہیں ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں یہ سب ہماری زندگیوں میں نہیں ہو گا مگر ہم وہ بنیاد ضرور فراہم کر دینا چاہتے ہیں ، جن پر ہمارے بچے اور ان کے بعد والی نسل تعمیر کرتی رہے۔وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہ مارتی رہے۔کم از کم مرتے ہوئے ہم لوگوں کو یہ احساس تو نہیں ہو گا کہ ہم لوگوں نے تماشائیوں جیسی زندگی گزار دی۔دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح ہم بھی صرف تنقید کرتے رہے۔خرابیوں پر انگلیاں اٹھاتے رہے۔اسلام کو صرف مسجد کی حدود تک ہی محدود کر کے بیٹھے رہے۔اپنے اور دوسروں کی زندگیوں میں ہم نے کوئی تبدیلی لانے کی کوشش نہیں کی۔”
وہ حیرانی سے فرقان کا چہرہ دیکھتا رہا تھا۔امامہ ہاشم ، جلال انصر ، سعد کے بعد وہ ایک اور مسلمان کو دیکھ رہا تھا۔ایک اور پریکٹیکل مسلمان کو ، وہ مسلمانوں کی ایک اور قسم سے آگاہ ہو رہا تھا۔وہ مسلمان جو دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے ، جو دونوں انتہاؤں کے بیچ کے راستے کو پہنچانتے تھے اور ان پر چلنے کا طریقہ جانتے تھے وہ بُری طرح اُلجھا۔
“تم نے میری آفر کے بارے میں کیا سوچا ہے؟”اس نے فرقان سے کہا۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا میں تم سے کیا چاہتا ہوں۔تمہاری ضرورت ہے اس ملک کو۔یہاں کے لوگوں کو ، یہاں کے اداروں کو ، تمہیں یہاں آ کر کام کرنا چاہئیے۔”
سالار اس بات پر ہلکے سے ہنسا “تم کبھی اس ٹاپک کو نہیں چھوڑ سکتے۔اچھا میں اس پر سوچوں گا۔پھر تم میری آفر کے بارے میں کیا کہو گے؟”
“میرے گاؤں کے قریب ہی ایک اور گاؤں ہے۔۔۔۔۔اسی حالت میں جس حالت میں دس پندرہ سال پہلے میرا گاؤں تھا۔مین آج کل کوشش کر رہا تھا کہ کوئی وہاں پر اسکول بنا دے۔پرائمری اسکول تو گورنمنٹ کا وہاں ہے مگر آگے کچھ نہیں ہے۔اگر تم وہاں اسکول شروع کرو تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔میں اور میری فیملی تمہاری غیر موجودگی میں اسے دیکھیں گے۔ہم اسے قائم کرنے میں بھی تمہاری مدد کریں گے مگر پھر تمہیں خود ہی اسے چلانا ہو گا۔صرف روپیہ فراہم کر دینا کافی نہیں ہو گا۔”فرقان نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا۔
“کل چل سکتے ہو ، میرے ساتھ وہاں؟”سالار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“تمہاری تو فلائیٹ ہے کل صبح۔”
“نہیں میں دو دن بعد چلا جاؤں گا۔ایک بار میں چلا گیا تو فوری طور پر میرے لیے واپس آنا ممکن نہیں رہے گا اور میں جانے سے پہلے یہ کام شروع کر دینا چاہتا ہوں۔”
اس نے فرقان سے کہا۔فرقان نے سر ہلا دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اس رات کی فلائیٹ سے اسلام آباد گئے اور پھر رات کو ہی فرقان کے گاؤں چلے گئے۔رات وہاں قیام کرنے کے بعد صبح فجر کے وقت فرقان کے ساتھ وہ اس گاؤں میں گیا۔دوپہر بارہ بجے تک وہ اس گاؤں کے لوگوں سے ملتے اور وہاں پھرتے رہے۔وہاں موجود پرائمری اسکول کو دیکھ کر سالار کو یقین نہیں آیا تھا۔وہ اپنی حالت سے کچھ بھی لگتا تھا مگر اسکول نہیں۔فرقان کو اس کی طرح کوئی شاک نہیں لگا تھا ، وہ وہاں کے حالات سے پہلے ہی بہت اچھی طرح باخبر تھا۔وہ سال میں تین چار مرتبہ مختلف دیہات میں میڈیکل کیمپس لگوایا کرتا تھا اور وہ دیہات کی زندگی اور وہاں کی حالت سے سالار کی نسبت بہت اچھی طرح واقف تھا۔فرقان کو شام کی فلائٹ سے لاہور جانا تھا۔وہ لوگ دو بجے کے قریب وہاں سے اسلام آباد جانے کے لیے روانہ ہو گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسکول کے اس پروجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے سکندر عثمان سے اس کی بات ہوئی تھی۔اس نے مختصر الفاظ میں انہیں اس پروجیکٹ کے بارے میں بتایا تھا۔وہ کسی مداخلت کے بغیر اس کی بات سنتے رہے پھر انہوں نے بڑی سنجیدگی سے اس سے کہا۔
“یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہو تم؟’
“پاپا! میں اس کام کی ضرورت محسوس کرتا ہوں لوگوں کو۔۔۔۔۔۔”انہوں نے سالار کی بات کاٹ دی۔
“میں اسکول کی بات نہیں کر رہا۔”
“پھر آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟”وہ حیران ہوا۔
“میں تمہارے لائف اسٹائل کی بات کر رہا ہوں۔”
“میرے لائف اسٹائل کو کیا ہوا؟’وہ چونکا۔سکندر عثمان اسے دیکھتے رہے۔
“تم نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بارے میں ہمیں اس وقت بتایا جب تم حفظ کر چکے تھے ، اوکے فائن ، میں نے کچھ نہیں کہا۔تم حج پر جانا چاہتے تھے میرے اس سلسلے میں کچھ تحفظات تھے مگر میں نے تمہیں نہیں روکا۔تم نے ہر طرح کی سوشل لائف ختم کر دی۔میں نے اعتراض نہیں کیا۔تم مذہب میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لینے لگے ، نماز شروع کر دی وہ بھی مسجد میں۔میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہا۔تم نے بزنس کرنے کی بجائے جاب کرنا چاہی وہ بھی یہاں نہیں امریکہ میں۔میں نے تمہیں کرنے دی۔اب تم ایک اسکول کھولنا چاہ رہے ہو۔اب ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اس تمام معاملے پر کچھ سنجیدگی سے بات کر لیں۔”سکندر عثمان بےحد سنجیدہ تھے۔
“تمہیں اندازہ ہے کہ تمہارا یہ لائف اسٹائل تمہیں ہمارے سوشل سرکل کے لئے ناقابلِ قبول بنا دے گا۔پہلے تم ایک انتہا پر تھے اب تم دوسری انتہا پر ہو۔پچیس ، چھبیس سال کی عمر میں جن کاموں میں تم اپنے آپ کو انوالو کر رہے ہو وہ غیر ضروری ہیں۔تمہیں اپنے کیرئیر پر دھیان دینا چاہئیے اور اپنے لائف اسٹائل میں تبدیلی لانا چاہئیے۔
ہم جس کلاس سے تعلق رکھتے ہیں وہاں مذہب سے ایسی وابستگی بہت سے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔”وہ سر جھکائے ان کی باتیں سن رہا تھا۔
“اور صرف تمہارے لئے ہی نہیں ، ہمارے لئے بھی بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔تم خود سوچو تم لوگوں کو کیا امپریشن دینے کی کوشش کر رہے ہو۔کل کو ہم یا تم خود جب اپنی کلاس کی کسی اچھی فیملی کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہو گے تو تمہاری یہ مذہبی وابستگی تمہارے لئے کتنے مسائل پیدا کرے گی تمہیں اندازہ ہے۔کوئی بھی فیملی سکندر عثمان کا نام دیکھ کر یا تمہاری کوالیفیکیشنز دیکھ کر اپنی بیٹی کی شادی تم سے نہیں کر دے گی۔اوپر سے تم نے اس عمر میں سوشل ورک شروع کرنے کی ٹھان لی ہے جب تمہاری عمر کے لوگ اپنے کیرئیر کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں تم یونیسیف میں بہت سوشل ورک کرتے رہے ہو اتنا کافی ہے۔ضروری نہیں ہے کہ تم یہ سب کچھ اپنی پرسنل لائف میں بھی شروع کر دو۔جو پیسہ تم اس اسکول پر اور لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئے ضائع کرو گے اسے تم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرو۔انہیں آسائشیں دینے کے لیے ، ایک آرام دہ لائف اسٹائل دینے کے لئے۔اپنے آپ پر خرچ کرو ، تین سو سال کی زندگی نہیں ہے تمہاری ، پھر اتنی سی عمر میں بڑھاپے کو کیوں سوار کر لیا ہے تم نے اپنے اعصاب پر۔ایک حادثہ ہوا ، بُرا ہوا۔تم نے سبق سیکھا۔بہت اچھا کیا۔بس اتنا کافی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اس عمر میں تسبیح پکڑ لو۔”وہ رُکے۔”کیا میری بات کو سمجھ رہے ہو؟”انہوں نے پوچھا۔
“پاپا! میں نے تسبیح نہیں پکڑی ہے۔”سالار نے ان کے سوال کا جواب دینے کی بجائے کہا۔
“آپ نے زندگی میں توازن رکھنے کی بات کی میں وہ توازن ہی رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔میں اپنے کیرئیر میں کہاں پر کھڑا ہوں آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔میری کارکردگی سے آپ واقف ہیں۔”
“میں واقف ہوں اور اسی لئے تم سے کہہ رہا ہوں کہ اگر تم اس طرح کی سرگرمیوں میں خود کو انوالو نہ کرو تو تم بہت آگے جا سکتے ہو۔”سکندر نے کہا۔
“میں کہیں نہیں جا سکتا۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں یہ سب کچھ چھوڑ دوں تو کیرئیر کی کسی ماؤنٹ ایوریسٹ تک پہنچ جاؤں گا ، تو ایسا نہیں ہے۔”اس نے توقف سے کیا۔
“تم اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچو۔اپنی شادی کے بارے میں ، ایسی اپروچ رکھنے پر تم کو کہاں قبول کیا جائے گا۔”
“میں نے سوچا ہے پاپا! میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔”
سکندر ہنسے۔
“بچکانہ سوچ ہے۔ہر ایک یہی کہتا ہے۔تمہیں تو اپنا “ایڈونچر” یاد رکھنا چاہئیے۔”
ان کا اشارہ کس طرف تھا وہ جانتا تھا وہ بہت دیر کچھ نہیں کہہ سکا۔یہ بھی نہیں کہ وہ اس ایڈونچر کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“مجھے یاد ہے۔”بہت دیر بعد اس نے مدھم آواز میں کہا۔
“میں آپ کے سوشل سرکل میں بہت پہلے ہی مس فٹ ہو چکا ہوں اور میں یہاں جگہ بنانے کی کوشش نہیں کروں گا۔مجھے اس سوشل سرکل میں کوئی نیا تعلق یا رشتہ بھی قائم نہیں کرنا۔
مجھے پروا نہیں کہ لوگ ، میرے بہن بھائی ، میرا مذاق اڑائیں گے یا مجھ پر ہنسیں گے۔میں اس سب کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں۔جہاں تک سوال اس پروجیکٹ کا ہے۔پاپا مجھے اسے شروع کرنے دیں۔میرے پاس بہت پیسہ ہے۔اس پروجیکٹ کو شروع کرنے کے بعد بھی مجھے فٹ پاتھ پر رہنا نہیں پڑے گا۔کچھ لوگوں کو جسم کی بیماری ہوتی ہے ، کچھ کو روح کی۔جسم کی بیماری کے لئے لوگ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔روح کی بیماری کے لئے لوگ وہی کرتے ہیں جو میں کر رہا ہوں۔جو میں کرنا چاہتا ہوں۔میں اس پیسے سے سب کچھ خرید سکتا ہوں صرف سکون نہیں خرید سکتا۔زندگی میں پہلی بار میں سکون حاصل کرنے کے لئے اس پیسے کو انویسٹ کر رہا ہوں۔ہو سکتا ہے مجھے سکون مل جائے۔”سکندر عثمان کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے کیا کہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
واپس واشنگٹن پہنچ کر وہ ایک بار پھر پہلے کی طرح مصروف ہو گیا تھا مگر اس بار فرق یہ تھا کہ وہ مسلسل پاکستان میں فرقان اور ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ رابطے میں تھا۔فرقان اسے اسکول کے بارے میں ہونے والی تفصیلات سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔
یونیسیف میں اس طرح کا کام اس کی جاب کا حصہ تھا۔اسے اس کام کے لئے بہت اچھا معاوضہ دیا جاتا تھا مگر پاکستان کے اس گاؤں میں اس طرح کے کام کا آغاز اور وہ بھی اپنے وسائل سے۔چند سال پہلے کے سالار سکندر کو جاننے والے کبھی بھی اس بات یقین نہیں کرتے۔خود اسے بھی یقین نہیں آتا تھا کہ وہ کبھی اس طرح کا کام کرنے کا سوچ سکتا تھا مگر یہ صرف اس پروجیکٹ کے لئے اپنے اکاؤنٹ سے پیسہ نکالتے ہوئے اسے اندازہ ہوا تھا کہ اس کے لئے یہ پروجیکٹ کم از کم مالی لحاظ سے مشکل نہیں تھا۔
پچھلے تین سال میں اس کے اخراجات میں بہت کمی آ گئی تھی۔بہت ساری وہ چیزیں اس کی زندگی سے نکل گئی تھیں جن پر وہ اندھا دھند پیسہ خرچ کرتا تھا۔وہ اپنے بینک اکاؤنٹ میں رقم جان کر حیران ہو گیا تھا۔وہ ایسا شخص نہیں تھا جس سے پیسہ جمع کرنے کی توقع کی جا سکتی۔ایم فل کے لیے اس کے پاس اسکالرشپ تھا اسے کم از کم اس کے لئے اپنے پاس سے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا۔اس دن اپنے اپارٹمنٹ میں چلتے پھرتے اس نے پہلی بار وہاں موجود تمام چیزوں کو غور سے دیکھا تھا۔اس کے اپارٹمنٹ میں کہیں بھی کوئی بھی مہنگی چیز نہیں تھی بلکہ سامان بھی بہت محدود تھا۔اس کا کچن بھی کھانے پینے کی چیزوں سے تقریباً خالی تھا۔کافی ، چائے ، دودھ اور اسی طرح کی چند دوسری چیزیں۔اس کا اپنے اپارٹمنٹ میں بہت کم وقت گزرتا تھا جو وقت گزرتا تھا وہ سونے میں گزرتا۔
یونیسیف میں اپنی جاب پر جاتے ہوئے بھی اس کے پاس پہلے سے موجود کپڑوں اور دوسری اشیاء کا اتنا انبار موجود تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی لاپرواہی برتتا رہا۔اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے آخری بار اس طرح کی کوئی چیز کب خریدی تھی۔اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور یونیورسٹی میں اپنے کچھ کلاس فیلوز کے علاوہ وہ نیویارک میں کسی کو نہیں جانتا تھا یا پھر دانستہ طور پر اس نے خود کو ایک محدود سرکل میں رکھا تھا اور لوگوں کے ساتھ بھی اس کی دوستی بہت رسمی قسم کی تھی۔
واحد چیز جس پر وہ خرچ کرتا رہتا تھا ، وہ کتابیں تھیں۔اس لائف اسٹائل کے ساتھ اگر اس کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم جمع ہو گئی تھی تو یہ کوئی خلافِ توقع بات نہیں تھی۔آفس ، یونیورسٹی ، فلیٹ۔۔۔۔۔۔اس کی زندگی کے معمولات میں چوتھی چیز کوئی نہیں تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایم فل کے دوران سالار نے یونیسیف چھوڑ کر یونیسکو جوائن کر لیا۔
ایم فل کرنے کے بعد سالار کی پوسٹنگ پیرس میں ہو گئی۔اس سے پہلے وہ ایک فیلڈ آفس میں کام کر رہا تھا مگر اب اسے یونیسکو کے ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔وہ گزشتہ سالوں میں وقتاً فوقتاً چھوٹے موٹے پراجیکٹس کے سلسلے میں پیرس جاتا رہا تھا مگر اس بار وہ پہلی دفعہ لمبے عرصے کے لئے وہاں جا رہا تھا۔ایک آشنا دنیا سے نا آشنا دنیا میں ، اس دنیا میں جہاں وہ زبان تک سے واقف نہیں تھا۔نیویارک میں اس کے بہت سے دوست تھے ، یہاں پر ایسا کوئی بھی نہیں تھا جسے وہ بہت اچھی طرح جانتا ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یونیسیف میں کئے جانے والے ان تھک کام کی طرح وہ یہاں آ کر ایک بار پھر اسی طرح کام کرنے لگا تھا مگر اسلام آباد کے نواحی علاقے میں شروع کیا جانے والا وہ اسکول یہاں بھی اس کے ذہن سے محو نہیں ہوا تھا۔بعض دفعہ اسے حیرت ہوتی کہ اپنی جاب میں تعلیم سے اتنا گہرا تعلق ہونے کے باوجود آخر اسے کبھی فرقان کی طرح وہ اسکول کھولنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔اگر اس اسکول کے بارے میں وہ کئی سال پہلے سوچ لیتا تو شاید آج یہ اسکول بہت مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہوتا۔
“مجھے پاکستان سے زیادہ محبت نہیں ہے ، نہ ہی اس کے لیے میں کوئی گہری انسیت رکھتا ہوں۔”اس نے شروع کی ملاقات میں ایک بار فرقان سے کہا تھا۔
“کیوں؟”فرقان نے پوچھا تھا۔
“کیوں کا جواب تو میں نہیں دے سکتا ، بس پاکستان کے لئے کوئی خاص احساسات میرے دل میں نہیں ہیں۔”اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا۔
“یہ جاننے کے باوجود کہ یہ تمہارا ملک ہے؟”
“ہاں ، یہ جاننے کے باوجود۔”
“امریکہ کے لیے خاص احساسات ہیں ، امریکہ سے محبت ہے؟”فرقان نے پوچھا۔
“نہیں ، اس کے لیے بھی میرے دل میں کچھ نہیں ہے۔”اس نے اطمینان سے کہا۔
فرقان نے اس بار حیرانی سے اسے دیکھا۔”دراصل میں وطنیت پر یقین نہیں رکھتا۔”اس نے فرقان کو حیران دیکھ کر وضاحت کی۔
“یا پھر مجھے ان جگہوں کے لیے محبت پیدا کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے ، جہاں میں رہتا ہوں۔میں کل کسی تیسرے ملک میں رہنے لگوں گا تو امریکہ کو بھی یاد نہیں کروں گا۔”
“تم بڑے عجیب آدمی ہو سالار!”فرقان نے بےاختیار کہا۔”کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنے ملک کے لیے یا اس جگہ کے لیے کوئی خاص احساسات ہی نہ رکھے جہاں وہ رہتا ہے۔”
فرقان کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا تھا مگر اس نے کچھ غلط نہیں کہا تھا۔پیرس آنے کے بعد اسے نیویارک کی کوئی چیز یاد نہیں آئی تھی۔نیو ہیون سے نیویارک آتے ہوئے بھی اسے وہاں ایڈجسٹمنٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔وہ ہر پانی کی مچھلی تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ان دنوں یونائیٹڈ نیشنز کے زیرِ اہتمام ہونے والی کسی ریجنل کانفرنس کے سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا۔وہ پرل کانٹی نینٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔اسے وہاں ایک بزنس مینجمنٹ کے ادارے میں کچھ لیکچرز دینے تھے اور فرقان کے ساتھ اپنے اسکول کے سلسلے میں کچھ امور کو بھی طے کرنا تھا۔
وہ لاہور میں اس کے قیام کا تیسرا دن تھا۔اس نے رات کا کھانا کچھ جلدی کھا لیا اور اس کے بعد وہ کسی ضروری کام سے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔شام کے ساڑھے سات ہو رہے تھے۔مال روڈ پر جاتے ہوئے اچانک اس کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ڈرائیور گاڑی سے اتر کر ٹائر کو دیکھنے لگا۔چند منٹوں کے بعد اس نے سالار کی کھڑکی کے پاس آ کر کہا۔
“سر! گاڑی میں دوسرا ٹائر موجود نہیں ہے۔میں آپ کے لئے کوئی ٹیکسی لاتا ہوں ، آپ اس پر چلے جائیں۔”سالار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
“نہیں ، میں خود ٹیکسی روک لیتا ہوں۔”وہ کہتا ہوا اُتر گیا۔کچھ دور ایک پارکنگ میں کچھ ٹیکسیاں نظر آ رہی تھیں۔سالار کا رُخ اسی طرف تھا جب ایک کار نے یک دم اس کے پاس آ کر بریک لگائی۔گاڑی سامنے سے آئی تھی اور اس کے رُکنے پر سالار نے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے اس میں بیٹھے شخص کو ایک نظر میں ہی پہچان لیا۔
وہ عاکف تھا۔وہ اب گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے اُتر رہا تھا۔لاہور میں کچھ سال پہلے اس کی سرگرمیوں کا وہ ایک مرکزی کردار تھا۔عاکف اور اکمل۔وہ ان ہی دونوں کے ساتھ اپنا زیادہ وقت گزارا کرتا تھا اور اس سے سالار کی دوبارہ ملاقات کئی سالوں کے بعد ہو رہی تھی۔وہ ان سب کو چھوڑ چکا تھا۔پاکستان یا لاہور آنے پر بھی اس نے کبھی ان کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ان لوگوں نے پچھلے کئی سالوں میں باربار اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان کی ان کوششوں کے باوجود سالار ان سے بچنے کی کوششوں میں کامیاب رہا تھا۔
اور اب اتنے سالوں کے بعد وہ یک دم اس طرح اچانک اس کے سامنے آ گیا تھا۔سالار کے اعصاب یک دم تن گئے تھے۔عاکف بڑے جوش و خروش کے عالم میں اس کی طرف بڑھا۔
“سالار! مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ تم ہو۔۔۔۔۔کہاں غائب تھے اتنے سالوں سے؟تم تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئے تھے۔کہاں تھے یار ! اور اب یہاں کیا کر رہے ہو۔حلیہ ہی بدل لیا ہے ، کہاں گئے وہ بال ، لاہور میں کب آئے ہو ، آنے کی اطلاع کیوں نہیں دی۔؟”
اس نے یکے بعد دیگرے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔اس نے سالار کے انداز میں جھلکنے والی سرد مہری پر غور نہیں کیا تھا۔سالار کے جواب دینے سے پہلے ہی عاکف نے دوبارہ پوچھا۔
“یہاں مال پر کیا کر رہے ہو؟”
“گاڑی خراب ہو گئی تھی ، میں ٹیکسی کی طرف جا رہا تھا۔”سالار نے کہا۔
“”کہاں جا رہے ہو ، میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔”عاکف نے بےتکلفی سے کہا۔
“نہیں ، میں چلا جاتا ہوں۔ٹیکسی پاس ہی ہے۔”سالار نے تیزی سے کہا۔
عاکف نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔
“چلو اندر بیٹھو۔”اس نے بازو پکڑ کر کھینچ لیا۔سالار سٹپٹایا لیکن اس کی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔اس کا موڈ بہت خراب ہونے لگا تھا۔
“تم تو اسٹیٹس پڑھنے چلے گئے تھے اور پھر مجھے پتا چلا کہ تم نے وہاں جاب کر لی ہے پھر اچانک پاکستان کیسے؟”عاکف نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا۔”کیا چھٹیاں گزارنے آئے ہو؟”
“ہاں!”سالار نے مختصراً کہا ، وہ اس طرح سے جان چھڑا سکتا تھا۔
“کیا کر رہے ہو ج کل؟’عاکف نے گاڑی چلاتے ہوئے پوچھا۔
“یونائیٹڈ نیشنز کی ایک ایجنسی میں کام کر رہا ہوں۔”
“یہاں لاہور میں کہاں ٹھہرے ہو؟”
“پی سی میں۔”
“ارے پی سی میں کیوں ٹھہرے ہو ، میرے پاس آتے یا مجھے فون کرتے۔کب آئے یہاں؟”عاکف نے کہا۔
“کل”۔
“بس تو پھر تم میرے ساتھ ، میرے گھر رہو گے۔ضرورت نہیں ہے ہوٹل میں رہنے کی۔”
“نہیں ، میں کل صبح اسلام آباد واپس جا رہا ہوں۔”سالار نے روانی سے جھوٹ بولا۔وہ عاکف سے ہر قیمت پر جان چھڑا لینا چاہتا تھا۔اسے اس سے الجھن ہو رہی تھی یا پھر یہ شاید اس کے ساتھ گزارا جانے والا ماضی تھا جو اسے تکلیف میں مبتلا کر رہا تھا۔
“اگر کل اسلام آباد واپس جا رہے ہو تو پھر آج میرے ساتھ رہو۔کھانا کھاؤ میرے ساتھ گھر چل کر۔”عاکف نے آفر کی۔
“کھانا میں دس منٹ پہلے ہی کھا کر نکلا ہوں۔”
“پھر بھی میرے ساتھ گھر چلو۔تمہیں اپنی بیوی سے ملواؤں گا۔”
“شادی ہو گئی تمہاری؟”
“ہاں ، تین سال ہوئے۔”عاکف نے کہا۔پھر پوچھا۔
“اور تم۔۔۔۔۔تم نے شادی کر لی؟”
“نہیں۔”
“کیوں؟”
“بس کچھ مصروفیت تھی اس لیے۔”سالار نے کہا۔
“گڈ! ابھی آزاد ہی پھر رہے ہو۔”عاکف نے ایک گہرا سانس لیا۔”خوش قسمت ہو۔”سالار نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔عاکف نے اس سے بات کرتے ہوئے گلو کمپارٹمنٹ کھول کر اندر سے ایک کیسٹ نکالنی چاہی۔اس کا دھیان ذرا بھٹکا اور کیسٹ نکالتے نکالتے گلوکمپارٹمنٹ سے بہت سی چیزیں سالار کی گود اور نیچے اس کے پیروں میں گر پڑیں۔
“too bad ” عاکف نے بےاختیار کہا۔سالار جھک کر چیزیں اٹھانے لگا۔عاکف نے گاڑی کے اندر کی لائٹ جلا دی۔وہ ان چیزوں کو سمیٹ کر گلو کمپارٹمنٹ میں رکھنے لگا تھا جب وہ ٹھٹک گیا کسی نے اس کے جسم میں جیسے کرنٹ سا دوڑا دیا۔گلوکمپارٹمنٹ کے ایک کونے میں ایر رنگز پڑے تھے۔سالار کے ہاتھوں میں بےاختیار لرزش آ گئی۔بایاں ہاتھ بڑھا کر اس نے ان ایر رنگز کو باہر نکال لیا۔وہ اب اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر گاڑی کے اندر جلتی روشنی میں چمک رہے تھے۔وہ بےیقینی کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا۔
بہت سال پہلے اس نے ان ایر رنگز کو کسی کے کانوں میں دیکھا تھا۔ایک بار۔۔۔۔۔دو بار۔۔۔۔۔۔تین بار۔۔۔۔۔چوتھی بار وہ انہیں اب دیکھ رہا تھا۔اسے کوئی شبہ نہیں تھا۔وہ امامہ ہاشم کے ایر رنگز تھے۔وہ آنکھیں بند کر کے کاغذ پر ان کا ڈیزائن اُتار سکتا تھا۔ہر پیچ و خم کو۔۔۔۔۔عاکف نے اس کی ہتھیلی سے وہ ایررنگز اُٹھا لئے۔کسی نے جیسے سالار کا سکتہ توڑ دیا تھا۔عاکف ان ایررنگز کو ایک بار پھر گلوکمپارٹمنٹ میں رکھ رہا تھا۔
“یہ ایررنگز۔۔۔۔۔”وہ اٹکتے ہوئے بولا۔”یہ تمہاری بیوی کے ہیں؟”سالار نے اپنے سوال کو مکمل کیا۔
“بیوی کے؟”عاکف ہنسا۔”کم آن یار ! بیوی کے ہوتے تو میں یہاں رکھتا۔”سالار پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتا رہا۔
“پھر؟”اس نے سرسراتی ہوئی آواز میں کہا۔
“یار ہے ایک گرل فرینڈ میری ، پچھلی رات میرے ساتھ تھی۔یہ ایررنگز میرے بیڈروم میں چھوڑ گئی۔کچھ ایمرجنسی میں ہی جانا پڑا اسے کیونکہ روہا واپس آ گئی تھی۔میں نے یہ ایررنگز لا کر گاڑی میں رکھ دئیے کیونکہ آج میرا اس کی طرف جانے کا ارادہ ہے۔”عاکف بڑی بےتکلفی سے اسے بتا رہا تھا۔
“گرل فرینڈ؟”سالار کے حلق میں جیسے پھندا لگا۔
“ہاں ، گرل فرینڈ۔ریڈ لائٹ ایریا کی ہی ایک لڑکی ہے۔اب ادھر ڈیفنس میں شفٹ ہو گئی ہے۔”
“کیا۔۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا؟”امامہ ریڈ لائٹ ایریا کی لڑکی تو کبھی نہیں ہو سکتی۔یقیناً مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔اس نے عاکف کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
“صنوبر۔”عاکف نے اس کا نام بتایا۔سالار نے چہرہ موڑ کر ہاتھ میں پکڑی چیزیں گلوکمپارٹمنٹ میں رکھ کر اسے بند کر دیا۔اسے واقعی غلط فہمی ہوئی تھی۔عاکف گاڑی کی لائٹ آف کر چکا تھا۔سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر سالار نے گہرا سانس لیا۔
“مگر یہ اس کا اصلی نام نہیں ہے۔”عاکف نے بات جاری رکھی۔”اصلی نام اس کا امامہ ہے۔”سالار کے کانوں میں کوئی دھماکہ ہوا تھا یا پھر یہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو کسی نے اس کے کانوں میں انڈیل دیا تھا۔
عاکف اب اسٹیرنگ پر تھوڑا آگے جھکے ہونٹوں میں دبا سگریٹ لائٹر سے جلا رہا تھا۔
“تم نے۔۔۔۔۔تم نے۔۔۔۔۔کیا کہا؟”سالار کی آواز میں لرزش تھی۔
“کیا کہا؟”عاکف نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اسے دیکھا۔
“نام بتا رہے تھے تم اس کا؟”
“ہاں ، امامہ ۔۔۔۔۔تم جانتے ہو اسے؟”عاکف نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ سالار کو دیکھا۔
کھڑکی کا شیشہ اب اس نے کھول دیا تھا۔سالار یک ٹک اسے دیکھتا رہا یوں جیسے وہ عاکف کو پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ایررنگز اب اس کی مٹھی کی گرفت میں تھے۔
“میں کیا پوچھ رہا ہوں یار! تم جانتے ہو اسے؟”
عاکف نے ہونٹوں سے سگریٹ انگلیوں میں منتقل کرتے ہوئے کہا۔
“میں۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔”سالار نے کچھ بولنے کی کوشش کی۔اپنی آواز اسے کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔ریڈ لائٹ ایریا وہ آخری جگہ تھی جہاں اس نے کبھی امامہ کے ہونے کا تصور کیا تھا۔
گاڑی کے اندر چلنے والی روشنی میں عاکف نے بہت غور سے دیکھا۔اس کے ذرد پڑتے ہوئے چہرے کو ، اس کے ہاتھ کی بند مٹھی کو ، اس کے کپکپاتے ہونٹوں کو ، اس کے بےربط ، بے معنی لفظوں کو۔عاکف مسکرا دیا۔اس نے اس کے کندھے پر تسلی آمیز انداز میں تھپکی دی۔
“ڈونٹ وری یار! کیوں گھبرا رہے ہو ، وہ صرف گرل فرینڈ ہے میری۔اگر تمہارے اور اس کے درمیان بھی کچھ ہے تو کوئی بات نہیں ، ہم تو پہلے بھی بہت کچھ شئیر کیا کرتے تھے ، یاد ہے تمہیں۔”عاکف نے قہقہہ لگایا پھر اس نے بارود میں تیلی پھینکی۔
“یہ تو پھر لڑکی ہے۔”
مال روڈ پر کتنا رش تھا۔عاکف کتنی رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔ان دو سوالوں کے ساتھ ساتھ سالار نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اسٹیرنگ پر موجود شخص پر جھپٹنے کی صورت میں خود اس کے ساتھ کیا ہو سکتا تھا۔اس نے پلک جھپکتے میں عاکف کو گلے سے پکڑ لیا۔عاکف کا پاؤں بےاختیار بریک پر آیا۔گاڑی ایک جھٹکے سے رُکی۔وہ دونوں پوری قوت سے ڈیش بورڈ سے ٹکرائے۔سالار نے اس کے کالر کو نہیں چھوڑا۔عاکف حواس باختگی کی حالت میں چلایا۔
“کیا کر رہے ہو تم؟”اس نے سالار کے ہاتھوں سے اپنا گلا چھڑانے کی کوشش میں اسے دور ہٹانے کی کوشش کی۔”پاگل ہو گئے ہو؟”
“How dare you talk like that?”
سالار جواباً غرایا۔اس کے ہاتھ ایک بار پھر عاکف کی گردن پر تھے۔عاکف کا سانس رُکنے لگا۔اس نے کچھ غصے اور کچھ حواس باختگی کے عالم میں سالار کے منہ پر مکا مارا۔سالار بےاختیار جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹا۔اس کے دونوں ہاتھ اب اپنے منہ پر تھے۔عاکف کی گاڑی کے پیچھے موجود گاڑیاں ہارن پر ہارن دے رہی تھیں۔وہ سڑک کے وسط میں کھڑے تھے اور یہ ان دونوں کی خوش قسمتی تھی کہ اس طرح اچانک گاڑی رُکنے پر پیچھے آنے والی گاڑی ان سے نہیں ٹکرائی۔
سالار دونوں ہاتھوں سے اپنا جبڑا پکڑے ہوئے اپنی سیٹ پر دہرا ہوا تھا۔عاکف نے اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھتے ہوئے گاڑی کو کچھ آگے ایک سنسان ذیلی سڑک پر موڑتے ہی ایک طرف روک لیا۔سالار تب تک سیدھا ہو چکا تھا اور اپنے ہاتھ کی ہتھیلی سے ہونٹوں اور جبڑے کو دبائے ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہا تھا۔چند پہلے کا اشتعال اب غائب ہو چکا تھا۔
عاکف نے گاڑی روکی۔سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس کی طرف مڑا اور کہا۔”کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔میرے گلے کیوں پڑ رہے تھے ، میں نے کیا کیا ہے؟”
بلند آواز میں بات کرتے کرتے اس نے ڈیش بورڈ سے ٹشو باکس اٹھا کر سالار کی طرف بڑھایا۔اس نے سالار کی شرٹ پر خون کے چند قطرے دیکھ لیے تھے۔سالار نے یکے بعد دیگرے دو ٹشو نکال لیے اور ہونٹ کے اس کونے کو صاف کرنے لگا جہاں سے خون رس رہا تھا۔
“گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ابھی۔”عاکف نے کہا۔سالار کو ہاتھ صاف کرتے ہوئے دوبارہ ایررنگز کا خیال آیا۔اس نے یک دم جھک کر پائیدان میں ایررنگز ڈھونڈنا شروع کر دیا۔
“فٹ پاتھ پر گاڑی چڑھ جاتی یا۔۔۔۔۔”عاکف بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیا ڈھونڈ رہے ہو؟”
“وہ ایررنگز۔”سالار نے مختصراً کہا۔
عاکف بےاختیار جھلایا۔
“کیا پرابلم ہے سالار! میری گرل فرینڈ ہے ، اس کے ایررنگز ہیں ، میرا پرابلم ہے یہ ایررنگز یا اس کا پرابلم ہے تمہارا نہیں۔”سالار یک دم رُک گیا۔اسے اپنی نامعقول حرکت کا احساس ہوا۔وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ٹشو کو کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوئے اسے دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
عاکف ماتھے پر بل لیے اس کو دیکھ رہا تھا۔
“تمہارا اور صنوبر کا کوئی۔۔۔۔۔”عاکف بات کرتے کرتے محتاط انداز میں رُک گیا۔وہ اندازہ نہیں کر پا رہا کہ پچھلی بار اس کے جملے میں ایسا کون سا لفظ تھا جس نے اسے مشتعل کیا تھا۔وہ دوبارہ غلطی دُہرانا نہیں چاہتا تھا۔
“آئی ایم سوری۔”سالار نے اُس کے رُکنے پر کہا۔
“اوکے فائن۔”عاکف کچھ مطمئن ہوا۔”تم اور صنوبر۔۔۔۔۔”وہ پھر رُک گیا۔
“تم نے کہا تھا اس کا نام امامہ ہے۔۔”سالار نے گردن موڑ کر اس کا چہرہ دیکھا۔عاکف کو بےاختیار اس کی آنکھوں سے خوف آیا۔وہ کسی نارمل انسان کی آنکھیں نہیں تھیں۔وحشت۔۔۔۔۔بےچارگی۔۔۔۔۔خوف ۔۔۔۔۔وہ ہر تاثر لیے ہوئے تھیں۔
“ہاں ، اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا۔شروع میں ، ایک بار اپنے بارے میں بتا رہی تھی ، تب اس نے مجھے بتایا۔”
“اس کا حلیہ بتا سکتے ہو مجھے؟”سالار نے موہوم سی اُمید کے ساتھ کہا۔
“ہاں ، کیوں نہیں۔”عاکف گڑبڑایا۔”بہت خوبصورت ہے۔fair………Tall “عاکف اب اٹکنے لگا۔”کالی آنکھیں ہیں ، بال بھی پہلے کالے تھے اب ڈائی کیے ہوئے ہیں اس نے اور کیا بتاؤں۔”وہ زچ ہوا۔
سالار نے آنکھیں بند کر کے ونڈ اسکرین کی طرف چہرہ کر لیا۔گھٹن کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
“امامہ ہاشم ہے اس کا نام؟”وہ ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔
“پتا نہیں ، باپ کا نام تو نہیں بتایا اس نے۔نہ ہی میں نے پوچھا۔”عاکف نے کہا۔
“امامہ ہاشم ہی ہے وہ۔”وہ بڑبڑایا۔اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔”یہ سب میری وجہ سے ہوا۔۔۔۔۔سب۔۔۔۔۔میں ذمہ دار ہوں اس سب کچھ کا۔”
“کس چیز کے ذمہ دار ہو تم؟”عاکف کو تجسس ہوا۔سالار خاموشی سے ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتا رہا۔عاکف جواب کا انتظار کرتا رہا۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد سالار نے گردن موڑ کر اس سے کہا۔
“میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ابھی اور اسی وقت۔”
عاکف کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر وہ ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر ایک کال ملانے لگا۔کچھ دیر تک وہ کوشش کرتا رہا پھر اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“اس کا موبائل آف ہے۔پتا نہیں وہ گھر پر ملے یا نہ ملے کیونکہ اب رات ہو رہی ہے اور وہ۔۔۔۔۔۔”عاکف چپ ہو کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔”لیکن میں تمہیں لے جاتا ہوں اس کے گھر۔”
آدھہ گھنٹہ کے بعد وہ دونوں ڈیفنس کے ایک بنگلے کے باہر کھڑے تھے۔وہاں پہنچنے تک ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی۔عاکف اب اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے سالار کو لفٹ دی تھی۔
چند بار ہارن دینے پر اندر سے ایک آدمی باہر نکل آیا ، وہ چوکیدار تھا۔
“صنوبر گھر پر ہے؟”عاکف نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
“نہیں ، بی بی صاحبہ تو نہیں ہیں۔”
“وہ کہاں ہیں؟”
“مجھے پتا نہیں۔”عاکف نے سالار کو دیکھا اور پھر گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
“تم بیٹھو ، میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔”عاکف اس آدمی کے ساتھ اندر چلا گیا۔اس کی واپسی دس منٹ بعد ہوئی۔
“تم کو اس سے بات کرنی ہے؟”اس نے اندر بیٹھتے ہی پوچھا۔
“مجھے اس سے ملنا ہے۔”عاکف دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
سفر پھر اسی خاموشی سے طے ہونے لگا۔نو بج رہے تھے جب وہ ریڈلائٹ ایریا میں پہنچے تھے۔سالار کے لیے وہ جگہ نئی نہیں تھی۔صرف اس تکلیف کا احساس نیا تھا جو اسے اس بار ہو رہا تھا۔
“آج یہاں ہی ہے وہ۔۔۔۔۔۔کسی آدمی نے یہاں کی کچھ لڑکیوں کو بک کروایا ہے کسی فنکشن کے لیے۔وہ بھی ان ہی کے ساتھ جا رہی ہے۔”
عاکف نے گاڑی سے اُترتے ہوئے کہا۔
“تم بھی تو اُترو ، بہت اندر جانا ہے۔اب صنوبر کو تو میں تم سے ملانے کے لئے یہاں نہیں لا سکتا۔”سالار باہر نکل آیا۔
وہ عاکف کے ساتھ ایک بار پھر ان گلیوں میں جانے لگا۔اسے اچھی طرح یاد تھا وہ اس طرح کی جگہ میں آخری بار وہاں کب آیا تھا ، وہان کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔انسانی گوشت کی تجارت تب بھی اسی “ڈھکے چھپے” انداز میں ہو رہی تھی۔
اسے بہت اچھی طرح یاد تھا وہ پہلی بار اٹھارہ سال کی عمر میں وہاں آیا تھا پھر وہ کئی بار وہاں آتا رہا تھا ، کئی بار۔بعض دفعہ رقص دیکھنے ، بعض دفعہ کسی مشہور ایکٹریس کی کسی محفل میں شرکت کے لیے۔بعض دفعہ ان گلیوں کے دروازوں ، کھڑکیوں ، چوباروں سے لٹکتی جھانکتی نیم برہنہ عورتوں کو دیکھنے۔( اسے عجیب سی خوشی ملتی تھی ان گلیوں سے گزرتے ہوئے۔وہ وہاں کھڑی کسی بھی عمر کی کسی بھی شکل کی کو چند گھنٹوں کے لیے خرید سکتا تھا۔والٹ سے نکلنے والے چند نوٹ وہاں کھڑی کسی بھی لڑکی کو سر سے پیر تک اس کا کر دیتے۔دنیا پیروں کے نیچے اور کائنات مٹھی میں ہونا اور کسے کہتے تھے ، اسے سرشاری کا احساس ہوتا )۔اور بعض دفعہ وہاں رات گزارنے کے لئے ، ان عورتوں کے ساتھ جن سے وہ نفرت کرتا تھا چند روپوں کی خاطر جسم فروخت کرنے والیوں کے لئے وہ اس کے علاوہ کیا جذبات رکھ سکتا تھا اور نفرت کے باوجود وہ انہیں خریدتا تھا کیونکہ وہ خرید سکتا تھا۔اتھارہ انیس سال کی عمر میں اسے یقین تھا ان عورتوں میں کبھی کوئی ایسی عورت نہیں ہو سکتی تھی جس سے اس کا کوئی تعلق ہوتا ، خونی رشتہ ہوتا یا محبت ہوتی۔
اس کی ماں اور بہن ایلیٹ کلاس کی فرد تھیں۔اس کی بیوی کو بھی اسی کلاس کے کسی گھر سے آنا تھا۔اس کی بیٹی بھی اسی کلاس سے ہوتی۔ریڈ لائٹ ایریا کی عورتیں۔۔۔۔۔۔انہیں اسی کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔اسے یقین تھا اکڑی گردن ، اٹھی ہوئی ٹھوڑی اور تنے ہوئے ابروؤں کے ساتھ وہ اس مخلوق سے جتنی نفرت کرتا ، کم تھی۔جتنی تذلیل کرتا ناکافی تھی۔
اور اب۔۔۔۔۔اب قسمت نے کیا کیا تھا۔سات پردوں میں رہنے والی اس عورت کو جس کے جسم پر وہ کسی کی انگلی کے لمس تک کو برداشت نہیں کر سکتا تھا ، اسے اس بازار میں پھینک دیا گیا تھا۔اس سے چند قدم آگے وہ شخص چل رہا تھا جو اس کا گاہک تھا اور سالار سکندر زبان کھولنے کے قابل تک نہیں تھا۔آواز بلند نہیں کر سکتا تھا۔شکوہ نہیں کر سکتا تھا۔وہ کسی سے کیا کہتا۔کیا وہ اللہ سے کہہ سکتا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔آخر اس نے ایسا کیا کیا تھا؟اس نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔اس کی کپکپاہٹ کو کیسے روکتا۔ان گلیوں میں آنے والا کوئی شخص کبھی دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے اپنے گھر ، اپنے خاندان کی عورت کبھی اس بازار میں نہیں آئے گی۔کسی دوسرے مرد کی جیب میں پڑے ہوئے نوٹوں کے عوض نہیں بک سکے گی۔ماں نہیں؟۔۔۔۔۔بہن؟۔۔۔۔۔یا بیوی؟۔۔۔۔۔بیٹی؟۔۔۔۔۔پوتی؟۔۔۔۔۔نواسی؟۔۔۔۔۔آنے والی نسلوں میں سے کوئی۔
سالار سکندر کی زبان حلق سے کھینچ لی گئی تھی۔امامہ ہاشم اس کی بیوی تھی اس کی منکوحہ۔ایلیٹ کلاس کی وہ عورت جس کا اس بازار سے کبھی واسطہ نہیں پڑتا۔سالار سکندر نے ایک بار پھر خود کو مارگلہ کی پہاڑیوں پر رات کی تاریکی میں درخت کے ساتھ بندھا پایا۔۔۔۔۔ بےبسی کی انتہا تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار سکندر کی زبان حلق سے کھینچ لی گئی تھی۔امامہ ہاشم اس کی بیوی تھی اس کی منکوحہ۔ایلیٹ کلاس کی وہ عورت جس کا اس بازار سے کبھی واسطہ نہیں پڑتا۔سالار سکندر نے ایک بار پھر خود کو مارگلہ کی پہاڑیوں پر رات کی تاریکی میں درخت کے ساتھ بندھا پایا۔۔۔۔۔ بےبسی کی انتہا تھی۔
“صاحب! میرے ساتھ چلو ، ہر عمر کی لڑکی ہے میرے پاس۔اس علاقے کی سب سے اچھی لڑکیاں ، قیمت بھی زیادہ نہیں ہے۔”اس کے ساتھ ایک آدمی چلنے لگا۔
“میں اس لئے یہاں نہیں آیا ہوں۔”سالار نے مدھم آواز میں اس پر نظر ڈالے بغیر کہا۔
“کوئی ڈرنک چاہئیے ، کوئی ڈرگ میں سب کچھ سپلائی کر سکتا ہوں۔”
عاکف نے یک دم قدم روک کر قدرے اکھڑے ہوئے انداز میں اس آدمی سے کہا۔”تمہیں ایک بار کہا ہے نا کہ ضرورت نہیں پھر پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔”
اس آدمی کے قدم تھم گئے۔سالار خاموشی سے چلتا رہا۔اس کا ذہن کسی آندھی کی زد میں آیا ہوا تھا۔امامہ ہاشم وہاں ، کب ، کیوں ، کیسے آ گئی تھی۔ماضی ایک فلم کی طرح اس کی نظروں کے سامنے آیا تھا۔
“پلیز ، تم ایک بار۔۔۔۔۔ایک بار اس کو جا کر میرے بارے میں سب کچھ بتاؤ ، اس سے کہو مجھ سے شادی کر لے۔اس سے کہو ، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ، صرف ایک نام ہے۔اس کو تم حضرت محمد ﷺ کا واسطہ دو گے تو وہ انکار نہیں کرے گا۔وہ اتنی محبت کرتا ہے ان ﷺ سے۔”اس نے بہت سال پہلے اپنے بیڈ پر نیم دراز چپس کھاتے ہوئے موبائل فون پر بڑے اطمینان کے ساتھ اس کو بلکتے سنا تھا۔
“بائے دا وے تم امامہ کے کیا لگتے ہو؟”
“میں۔۔۔۔۔؟میں اور امامہ بہت گہرے اور پرانے فرینڈز ہیں۔”جلال انصر کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔سالار نے عجیب سی سرشاری محسوس کی۔جلال اس وقت امامہ اور اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہو گا۔وہ اچھی طرح اندازہ کر سکتا تھا۔
“اس سے جا کر صاف صاف کہہ دو کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گا۔”
وہ جلال انصر کا یہ پیغام سنتے ہوئے امامہ ہاشم کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا۔اس نے چیونگم کے ببل بناتے ہوئے امامہ کو موبائل پر خبر دی تھی۔
“تم نے مجھ پر اتنے احسان کیے ہیں ، ایک احسان اور کرو۔مجھے طلاق دے دو۔”وہ فون پر گڑگڑائی تھی۔
“نہیں ، میں تم پر احسان کرتے کرتے تھک گیا ہوں ، اب اور احسان نہیں کر سکتا اور یہ والا احسان ۔۔۔۔۔یہ تو ناممکن ہے۔”اس نے جواباً کہا تھا۔
“تم طلاق چاہتی ہو ، کورٹ میں جا کر لے لو مگر میں تو تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔”
سالار کے حلق میں پھندے لگنے لگے۔
“ہاں ، میں نے یہ سب کچھ کیا تھا لیکن میں نے ، جلال انصر کی غلط فہمی کو دور کر دیا تھا۔میں نے اسے سب کچھ بتا دیا تھا ، کچھ بھی نہیں چھپایا۔میں نے صرف ایک مذاق کیا تھا ، ایک پریکٹیکل جوک۔میں یہ تو نہیں چاہتا تھا کہ امامہ کے ساتھ یہ سب کچھ ہو۔”وہ جیسے کسی عدالت میں آن کھڑا ہوا تھا۔
“ٹھیک ہے میں نے اس کے ساتھ زیادتی کی اسے طلاق نہیں دے کر۔۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔میں نے پھر بھی یہ خواہش تو نہیں کی تھی کہ وہ یہاں آ پھنسے۔میں نے۔۔۔۔۔میں نے اسے گھر چھوڑنے سے روکا تھا ، میں نے مذاق میں ہی سہی مگر اسے مدد کی آفر بھی کی تھی۔میں تو اسے یہاں لے کر نہیں آیا تھا۔کوئی مجھے تو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتا اس سب کا۔”
وہ بےربط جملوں میں وضاحتیں دے رہا تھا۔اس کے سر میں سنسناہٹ ہونے لگی تھی۔درد کی ایک تیز مگر مانوس سی لہر میگرین (آدھے سر کا درد ) کا ایک اور اٹیک۔وہ چلتے چلتے رُکا ، ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے بےاختیار اس نے اپنی کنپٹی کو مسلا ، درد کی لہر گزر گئی تھی۔آنکھیں کھول کر اس نے گلی کے پیچ و خم کو دیکھا۔وہ اندھی گلی تھی ، کم از کم اس کے لئے اور امامہ ہاشم کے لئے۔اس نے قدم آگے بڑھائے۔عاکف ایک چوبارے نما گھر کے سامنے رُک گیا تھا۔اس نے مڑ کر سالار کو دیکھا۔
“یہی گھر ہے۔”سالار کا چہرہ کچھ اور زرد پڑ گیا۔قیامت اب اور کتنی دور رہ گئی تھی۔
“اوپر کی منزل پر جانا ہے ، صنوبر اوپر ہی ہو گی۔”عاکف کہتے ہوئے ایک طرف موجود تنگ اور تاریک سی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔سالار کو پہلی سیڑھی پر ہی ٹھوکر لگی۔وہ بےاختیار جھکا ، عاکف نے مڑکر اسے دیکھا اور رُک گیا۔
“احتیاط سے آؤ ، سیڑھیوں کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔اوپر سے یہ لوگ بلب لگوانے کے بھی روادار نہیں۔”سالار سیدھا ہو گیا۔اس نے عاکف کا سہارا لے کر اوپر والی سیڑھی پر قدم رکھا۔سیڑھیاں بل کھا کر گولائی کی صورت میں اوپر جا رہی تھیں اور اتنی تنگ تھیں کہ صرف ایک وقت میں ایک ہی آدمی گزر سکتا تھا۔ان کی سیمنٹ بھی اکھڑی ہوئی تھی۔وہ بوٹ پہننے کے باوجود ان کی خستہ حالت کو جانچ سکتا تھا جس دیوار کا سہارا لے کر وہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔اس دیوار کی سیمنٹ بھی اکھڑی ہوئی تھی۔سالار اندھوں کی طرح دیوار ٹٹولتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
پہلی منزل کے ایک دروازے کے کھلے ہوئے پٹ سے آنے والی روشنی نے سالار کی رہنمائی کی تھی۔عاکف وہاں کہیں نہیں تھا۔یقیناً وہ دروازہ پار کر کے آگے چلا گیا تھا۔سالار چند لمحوں کے لیے وہاں رُکا پھر اس نے دہلیز کے پار قدم رکھا۔وہ اب ایک چوبارے میں تھا۔ایک طرف بہت سے کمروں کے دروازے تھے۔دوسری طرف نیچے گلی نظر آ رہی تھی۔برآمدے نما لمبا چوبارہ بالکل خالی تھا۔تمام کمروں کے دروازے اسے وہاں کھڑے بند ہی لگ رہے تھے۔عاکف کہاں گیا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔اس نے بہت محتاط انداز میں اپنے قدم آگے بڑھائے۔یوں جیسے وہ کسی بھوت بنگلے میں آ گیا تھا۔ابھی کوئی دروازہ کھلتااور امامہ ہاشم اس کے سامنے آکر کھڑی ہوجاتی۔
“میرے خدا۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ میں اس کا سامنا یہاں کیسے کروں گا۔” اس کا دل ڈوبا۔
وہ ان بند دروازوں پر نظر ڈالتے ہوئے چلتا جارہا تھا۔ جب اس برآمدے کے آخری سرے پر ایک دروازے میں سے عاکف نکلا۔
“تم یہاں رہ گئے ہو۔” وہ وہیں سے بلند آواز میں بولا۔”یہاں آؤ۔”
سالار کے قدموں کی رفتار تیز ہوگئی ۔ سالار دروازے تک پہنچنے سے پہلے چند لمحے کے لئے رُک گیا۔ وہ اپنے دل کی دھڑکن کی آواز باہر تک سن رہا تھا پھر آنکھیں بند کئے سرد ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے وہ کمرے میں داخل ہوگیا۔ وہاں عاکف ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک لڑکی اپنے بالوں پر برش کرتے ہوئے عاکف سے باتیں کر رہی تھی۔
“یہ امامہ نہیں ہے۔” بے اختیار سالار کے منہ سے نکلا۔
“ہاں یہ امامہ نہیں ہے۔ وہ اندر ہے ، آؤ۔”عاکف نے اٹھتے ہوئے ایک اور کمرے کا دروازہ کھولا۔ سالار ہموار قدموں سے اس کے پیچھے گیا۔ عاکف اگلے کمرے کو بھی پار کرگیا اور ایک اور دروازہ کھول کر ایک دوسرے کمرے میں داخل ہوگیا۔
“ہیلو صنوبر!”سالار نے دور سے عاکف کو کہتے ہوئے سنا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ ایک لمحے کے لئے اس کا جی چاہا وہ وہاں سے بھاگ جائے۔۔۔۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔۔۔ سرپٹ۔۔۔۔۔ ادھر اُدھر دیکھے بغیر۔۔۔۔۔ اس گھر سے۔۔۔۔۔ اس علاقے سے۔۔۔۔۔ اس شہرسے۔۔۔۔۔ اس ملک سے۔۔۔۔۔ دوبارہ کبھی وہاں کا رخ تک نہ کرے۔۔۔۔۔ اس نے گردن موڑ کر اپنے عقب میں موجود دروازے کو دیکھا۔
“آؤ سالار! عاکف نے اسے مخاطب کیا۔ وہ اب گردن موڑ ے اندر کسی لڑکی سے مصروف گفتگو تھا ۔ سالار نے تھوک نگلا۔ اس کا حلق کانٹوں کا جنگل بن گیا تھا۔وہ آگے بڑھا۔ عاکف نے اپنی پشت پر اس کے قدموں کی آواز سنی تو دروازے سے ہٹ گیا۔ سالار دروازے میں تھا۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑی تھی۔
“یہ ہے صنوبر۔” عاکف نے تعارف کروایا۔ سالار اس سے نظریں نہیں ہٹا سکا۔ وہ بھی اس پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔
“امامہ؟” وہ بے حس و حرکت اسے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔
“ہاں امامہ! عاکف نے تصدیق کی۔
سالار گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑا۔ عاکف گھبرا گیا۔
“کیا ہوا، کیا ہوا؟” وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑتے ہوئے سجدے میں تھا۔ وہ ایک طوائف کے کوٹھے پر سجدے میں گرنے والا پہلا مرد تھا۔
عاکف پنجوں کے بل بیٹھا اسے کندھے سے پکڑے ہلا رہا تھا۔ سالار سجدے میں بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
“پانی۔۔۔۔۔ پانی لاؤں؟”صنوبر گھبراتے ہوئے تیزی سے بیڈ کے سرہانے پڑے جگ اور گلاس کی طرف گئی اور گلاس میں لے کر سالار کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
“سالار صاحب! آپ پانی پئیں۔”
سالار ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ یوں جیسے اسے کرنٹ لگا ہو۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ کچھ کہے بغیر اس نے اپنی جینز کی جیب سے والٹ نکالا اور پاگلوں کی طرح اس میں سے کرنسی نوٹ نکال کر صنوبر کے سامنے رکھتا گیا اس نے والٹ چند سیکنڈ میں خالی کردیا تھا۔ اس میں کریڈٹ کارڈ ز کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ پھر وہ کچھ کہے بغیر اٹھ کھڑا ہوا اور الٹے قدموں دروازے کی دہلیز سے ٹھوکر کھاتا ہوا باہر نکل گیا۔ عاکف ہکا بکا اس کے پیچھے آیا۔
“سالار۔۔۔۔۔سالار۔۔۔۔۔! کیا ہوا ہے؟ کہاں جارہے ہو؟”
اس نے سالار کو کندھے سے پکڑکر روکنے کی کوشش کی ۔ سالار وحشت زدہ اس سے اپنے آپ کو چھڑانے لگا۔
“چھوڑو مجھے ۔ ہاتھ نہ لگاؤ۔ مجھے جانے دو۔”
وہ بلند آواز میں روتے ہوئے ہذیانی انداز میں چلا یا۔
“امامہ سے ملنا تھا تمہیں۔” عاکف نے اسے یاد دلایا۔
“یہ اما مہ نہیں ہے۔ یہ نہیں ہے امامہ ہاشم۔۔۔۔۔”
“تو ٹھیک ہے۔ مگر میرے ساتھ جانا ہے تمہیں۔”
“میں چلا جاؤں گا۔ میں چلا جاؤں گا۔ مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔” وہ اُلٹے قدموں اپنا کندھا چھڑاکر بھاگتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ عاکف زیرلب کچھ بڑبڑایا۔ اس کا موڈ آف ہوگیا تھا مڑ کر وہ صنوبر کے کمرے میں گھس گیا جو ابھی بھی حیرانی سے نوٹوں کے ڈھیر کو دیکھ رہی تھی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سیڑھیاں اب بھی اسی طرح تاریک تھیں مگر اس بار وہ جس ذہنی حالت میں تھا اسے کسی دیوار، کسی سہارے ، کسی روشنی کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اندھا دھند تاریک سیڑھیوں سے نیچے بھاگا اور بری طرح گرا۔ اگر سیڑھیاں سیدھی ہوتیں تو وہ سیدھا نیچے جاکر گرتا مگر سیڑھیوں کی گولائی نے اسے بچالیا تھا۔ وہ اندھیرے میں ایک بار پھر اُٹھا۔ گھٹنوں اور ٹخنوں میں اٹھنے والی ٹیسوں سے بے پروا اس نے دوبارہ اسی طرح بھاگتے ہوئے سیڑھیاں اترنے کی کوشش کی۔ چند سیڑھیاں اُترنے کے بعد لگائی جانے والی چھلانگ نے اسے پھر زمین بوس کیا تھا۔ اس بار اس کا سر بھی دیوار سے ٹکرایا۔ وہ خوش قسمت تھا کہ اس کی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ شاید سیڑھیوں سے گرنے کے بعد نیچے والی سیڑھیوں پر آگیا تھا۔ سامنے گلی کی روشنی نظر آرہی تھی۔ وہ سیڑھیو ں سے نکل آیا مگر آگے نہیں جاسکا۔ چند قدم آگے چل کر اس گھر کے باہر تھڑے پر بیٹھ گیا۔ اسے متلی محسوس ہورہی تھی۔ سر کو تھامتے ہوئے بے اختیار اسے ابکائی آئی وہ تھڑے پر بیٹھے بیٹھے جھک گیا تھا ، وہ ابکائیاں کرتے ہوئے بھی اسی طرح سے رورہا تھا۔ گلی میں سے گزرنے والے لوگوں کے لئے یہ سین نیا نہیں تھا۔یہاں بہت سے شرابی اور نشئی ضرورت سے زیادہ نشہ استعمال کرنے کے بعد یہی سب کچھ کیا کرتے تھے۔صرف سالار کا لباس اور حلیہ تھا جوا سے کچھ مہذب دکھا رہا تھا اور اس کے آنسو اور واویلا۔ کسی طوائف کی بے وفائی کا نتیجہ تھا شاید۔ طوائف کا کوٹھا ہر کسی کو راس نہیں آتا۔ گزرنے والے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے گزر رہے تھے۔ کوئی اس کے پاس نہیں آیا تھا۔ اس بازار میں حال احوال جاننے کا رواج نہیں تھا۔
عاکف نیچے نہیں آیاتھا۔ آتا تو شاید سالار کے پاس رُک جاتا۔ امامہ ہاشم وہاں نہیں تھی۔ صنوبر امامہ ہاشم نہیں تھی۔ کتنا بڑا بوجھ اس کے کندھوں سے اٹھالیا گیا تھا۔ کیسی اذیت سے اسے بچالیا گیا تھا۔ تکلیف دے کر اسے آگہی نہیں دی گئی۔صرف تکلیف کا احساس دے کر اسے آگہی سے شناسا کردیا گیا تھا۔اسے وہاں نہ دیکھ کر وہ اس حالت میں جاپہنچا تھا۔ وہ اسے وہاں دیکھ لیتا تو اس پر کیا گزرتی۔ اسے اللہ سے خوف آرہا تھا بے پناہ خوف۔ وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کرسکتا تھا۔ وہ کس قدر مہربان تھا ۔ کیا نہیں کرتا تھا۔ انسان کو انسان رکھنا اسے آتا تھا۔ کبھی غضب سے ، کبھی احسان سے۔ وہ اسے اس کے دائرے میں ہی رکھتا تھا۔
اسے کبھی اپنی زندگی کے اس سیاہ باب پر اتنا چھتاوا اتنی نفرت نہیں ہوئی جتنی اس وقت ہورہی تھی۔۔۔۔۔
“کیوں؟کیوں۔۔۔۔۔؟ کیوں آتا تھا میں یہاں پر۔۔۔۔۔؟ کیوں خریدتا تھا میں ان عورتوں کو۔۔۔۔۔؟ کیوں گناہ کا احساس میرے اندر نہیں جاگتا تھا؟” وہ چبوترے پر بیٹھا دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے بلک رہا تھا۔
“اور اب ۔۔۔۔۔ اب جب میں یہ سب کچھ چھوڑ چکا ہوں تو اب۔۔۔۔۔ اب کیوں۔۔۔۔۔ یہ تکلیف۔۔۔۔۔ یہ چبھن ہورہی ہے مجھے۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔ جانتا ہوں مجھے اپنے ہر عمل کے لئے جواب دہ ہونا ہے مگر یہ حساب یہاں۔۔۔۔۔ اس طرح نہ لے۔۔۔۔۔ جس عورت سے میں محبت کرتا ہوں اسے کبھی بازار میں نہ پھینک۔”
وہ روتے ہوئے رکا، کون سا انکشاف کہاں ہورہا تھا۔
“محبت؟” وہ گلی سے گزرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے بڑبڑایا۔
“کیا میں۔۔۔۔۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں؟” کوئی لہر اس کے سر سے پیروں تک گزری تھی۔
“کیا یہ تکلیف صرف اس لئے ہورہی ہے مجھے کہ میں اس سے۔۔۔۔۔” اس کے چہرے پر سائے لہرائے تھے۔” کیا وہ میرا پچھتاوا نہیں ہے۔ کچھ اور ہے۔۔۔۔۔؟
اسے لگا وہ وہاں سے کبھی اٹھ نہیں پائے گا۔
“تو یہ پچھتاوا نہیں محبت ہے، جس کے پیچھے میں بھاگتا پھر رہا ہوں۔” اسے اپناجسم ریت کا بنا ہوا لگا۔
“امامہ پھانس نہیں ہے روگ ہے؟۔ آنسو اب بھی اس کی گالوں پر بہ رہے تھے۔”
“اور اس بازار میں اس عورت کی تلاش میں اٹھتے میرے قدموں میں لرزش اس لئے تھی کیونکہ میں نے اسے اپنے دل کے بہت اندر کہیں بہت اونچی جگہ رکھا تھا۔ وہاں جہاں خود میں بھی اس کو محسوس نہیں کرپارہا تھا۔ چیک میٹ۔”
“150 پلس آئی کیو لیول کا وہ مرد منہ کے بل زمین پر گرایا گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ کون سازخم تھا جو وہاں بیٹھا ہرا ہورہا تھا۔ کون سی تکلیف تھی جو سانس لینے نہیں دے رہی تھی۔ آئینے نے اسے کہاں بر ہنہ کیا تھا۔ اسے کیا یاد تھا؟ کیا لیا تھا؟ وہ اٹھ کر وہاں سے چلنے لگا۔ اسی طرح بلک بلک کر روتے ہوئے ۔ اسے خود پر قابو نہیں تھا۔ اسے پاس سے گزرنے والوں کی نظروں کی بھی پروا نہیں تھی۔ اسے اپنے وجود سے کبھی زندگی میں اتنی نفرت محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اس وقت ہورہی تھی۔ وہ ریڈ لائٹ ایریا اس کی زندگی کا سب سے سیاہ باب تھا۔ ایسا سیاہ باب جسے وہ کھرچ کر اپنی زندگی سے علیحدہ نہیں کر پایا تھا۔ وہ ایک بار پھر اس کی زندگی میں آکھڑا ہوگیا تھا۔ کئی سال پہلے وہاں گزاری گئی راتیں اب بلاؤں کی طرح اسے گھیرے ہوئے تھیں اور وہ ان سے فرار حاصل نہیں کر پارہا تھا اور اب جس خوف نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا وہ تو۔۔۔۔۔
“اگر ۔۔۔۔۔اگر۔۔۔۔۔امامہ اس بازار میں آگئی ہوتی تو۔۔۔۔۔؟ صنوبر، امامہ ہاشم نہیں تھی مگر کوئی اور۔۔۔۔۔” اس کے سر میں درد کی ایک لہر اٹھی۔ میگرین اب شدت اختیار کرتا جارہا تھا۔ اس کا ذہن بیٹھ گیا تھا۔ گاڑیوں کے ہارن اور لائٹس نے اس کے درد کو اور بڑھا دیا تھا پھر اس کا ذہن کسی تاریکی میں اتر گیا تھا۔
کسی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا پھر کچھ کہا۔۔۔۔۔ ایک دوسری آواز نے جواباً کچھ کہا۔ سالار سکندر کے حواس آہستہ آہستہ کام کرنے لگے تھے۔ مضمحل تھکن زدہ۔۔۔۔۔ مگر آوازوں کو شناخت کرتا ہوا ذہن۔
بہت آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھولیں۔ اسے حیرانی نہیں ہوئی۔ اسے یہیں ہونا چاہیئے تھا۔ وہ ہاسپٹل یا کسی کلینک کے ایک کمرے میں ایک بیڈ پر تھا۔ بے حد نرم اور آرام دہ بیڈ، اس سے کچھ فاصلے پر فرقان کسی دوسرے ڈاکٹر کے ساتھ ہلکی آواز میں باتیں کر رہا تھا۔ سالار نے ایک گہراسانس لیا۔ فرقان اور دوسرے ڈاکٹر نے گردن موڑ کر باتیں کرتے اسے دیکھا پھر دونوں اس کی طرف چلے آئے۔
سالار نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں ۔آنکھیں کھلا رکھنا اسے مشکل لگ رہا تھا۔ فرقان نے پاس آکر نرمی سے اس کے سینے کو تھپتھپایا۔
“کیسے ہو اب سالار؟”
سالا نے آنکھیں کھول دیں۔ اس نے مسکرا نے کی کوشش نہیں کی۔ صرف چند لمحے خالی الذہنی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا۔
“فائن۔۔۔۔۔”اس نے کہا۔
دوسرا ڈاکٹر اس کی نبض دیکھنے میں مصروف تھا۔
سالار نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں۔ فرقان اور دوسرا ڈاکٹر آپس میں ایک بار پھر گفتگو میں مصروف تھے۔ اسے اس گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسے کسی بھی چیز میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ باقی سب کچھ ویسا ہی تھا۔ احسا س جرم ، پچھتاوا۔ عاکف ، صنوبر۔۔۔۔۔امامہ۔۔۔۔۔ریڈ لائٹ ایریا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ اس کا دل چاہا کاش وہ ابھی ہوش میں نہ آتا۔
تو سالار صاحب۔۔۔۔۔! اب کچھ تفصیلاً گفتگو ہوجائے آپ کے ساتھ۔” اس نے فرقان کی آواز پر آنکھیں کھول دیں۔ وہ اس کے بیڈ کے بالکل قریب ایک اسٹول پر بیٹھا ہوا تھا۔ دوسرا ڈاکٹر باہر جا چکا تھا۔ سالار نے اپنی ٹانگوں کو سمیٹنے کی کوشش کی۔ اس کے منہ سے کراہ نکلی۔ اس کے ٹخنے اور گھٹنوں میں شدید ہورہا تھا۔ اس کی ٹانگوں پر کمبل تھا وہ انہیں نہیں دیکھ سکتا مگر اس کو اندازہ تھا کہ اس کے ٹخنے اور گھٹنے پر کچھ لپٹا ہوا تھا۔ وہ اپنے کپڑوں میں بھی نہیں تھا بلکہ مریضوں کے لئے مخصوص لباس میں تھا۔
“کیا ہوا ہے؟” سالار نے بے اختیار کراہ کر ٹانگ سیدھی کرتے ہوئے کہا۔
“sprained ankleدونوں گھٹنوں اور calfپر کچھ خراشیں اور سوجن مگر خوشی قسمتی سے کوئی فریکچر نہیں۔ بازوں اور کہنیوں پر بھی کچھBruises خوش قسمتی سے پھر کوئی فریکچر نہیں ۔ سر کے بائیں پچھلے حصے میں چھوٹا ساکٹ تھوڑی سی بلیڈنگ ، مگر سی ٹی اسکین کے مطابق کوئی سیریس انجری نہیں۔ سینے پر بھی رگڑ کی وجہ سے معمولی خراشیں مگر جہاں تک تمہارے سوال کا تعلق ہے کہ کیا ہوا ہے؟ تو یہ تم بتاو کہ کیا ہوا ہے؟”
فرقان کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح بات کرتے کرتے بولا۔ سالار چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔
“میں پہلے سمجھتا رہا کہ میگرین کا اٹیک اتنا شدید تھا کہ تم بے ہوش ہوگئے مگر بعد میں تمہارا چیک اپ کرنے پر مجھے اندازہ ہوا کہ ایسا نہیں تھا۔ کیا کسی نے حملہ کیا تھا تم پر؟” وہ اب سنجیدہ تھا۔ سالار نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سر کو جھٹکا۔
“تم مجھ تک کیسے پہنچے بلکہ میں یہاں کیسے پہنچا؟”
“میں تمہارے موبائل پر تمہیں کال کر رہا تھا اور تمہارے بجائے کسی آدمی نے وہ کال ریسیو کی ، وہ اس وقت فٹ پاتھ پر تمہارے قریب تھا۔ تمہیں ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے مجھے تمہاری حالت کے بارے میں بتایا۔اچھا آدمی تھا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ تمہیں کسی ٹیکسی میں قریبی ہاسپٹل لے جائے۔ وہ لے گیا پھر میں وہاں پہنچ گیا اور تمہیں یہاں لے آیا۔”
“ابھی کیا وقت ہے؟”
“صبح کے چھے بج رہے ہیں۔ سمیر نے تمہیں رات کو پین کلر ز دیئے اسی لئے تم ابھی تک سو رہے تھے۔”
فرقان کو بات کرتے کرتے ہوئے احساس ہوا کہ وہ دلچسپی نہیں لے رہا۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سی سرد مہری محسوس ہوئی تھی۔ یوں جیسے فرقان اسے کسی تیسرے شخص کی حالت کے بارے میں بتارہا تھا۔
“تم مجھے۔۔۔۔۔ دوبارہ۔۔۔۔۔”سالار نے اسے خاموش ہوتے ہوئے دیکھ کر کہنا شروع کیا۔ پھر قدرے الجھن آمیز انداز میں رکا۔ آنکھیں بند کیں جیسے ذہن پر زور دے رہا ہو۔
“ہاں ۔۔۔۔۔کوئی ٹرینکولائز دے دو۔ میں بہت لمبی نیند سونا چاہتا ہوں۔”
“سوجانا۔۔۔۔۔مگر یہ تو بتاؤ۔۔۔۔۔ہوا کیا تھا؟”
“کچھ نہیں۔” سالار نے بیزری سے کہا۔
“میگرین ۔۔۔۔۔ اور میں فٹ پاتھ پر گر پڑا، گرنے سے چوٹیں لگ گئیں۔”
فرقان نے اسے غور سے دیکھا۔
“کچھ کھالو۔۔۔۔۔”
سالار نے اس کی بات کاٹی۔” نہیں۔۔۔۔۔ بھوک ۔۔۔۔۔ نہیں ہے۔ تم بس مجھے کچھ دو۔۔۔۔۔ ٹیبلٹ ، انجکشن ، کچھ بھی ، میں بہت تھکا ہوا ہوں۔”
“اسلام آباد تمہارے گھر والوں ۔۔۔۔۔”
سالار نے اسے بات مکمل کرنے نہیں دی۔
“نہیں، اطلاع مت کرنا۔ میں جب سو کر اٹھوں گا تو اسلام آباد چلا جاؤں گا۔”
“اس حالت میں؟”
“تم نے کہا ہے میں ٹھیک ہوں۔”
“ٹھیک ہو مگر اتنے بھی ٹھیک نہیں ہو۔ دو چار دن آرام کرو۔ یہیں رہو لاہور میں ، پھر چلے جانا۔”
“اچھا پھر تم پا پا کو یا ممی کو اطلاع مت دینا۔”
فرقان نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھا۔ اس کے ماتھے پر چند بل آگئے۔” اچھا۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ کچھ۔۔۔۔۔؟”
“ٹرینکولائز۔۔۔۔۔”
فرقان اسے سوچتے ہوئے دیکھنے لگا۔
“میں رہوں تمہارے پاس۔۔۔۔۔؟”
“فائدہ۔۔۔۔۔؟ میں تو ابھی سو جاؤں گا۔ تم جاؤ۔ جب میں اٹھوں گا تو تمہیں کال کروں گا۔”
اس نے بازو کے ساتھ اپنی آنکھیں ڈھانپ لیں۔ اس کے انداز میں موجود روکھے پن اور سرد مہری نے فرقان کو کچھ اور پریشان کیا۔ اس کا رویہ بہت ابنارمل تھا۔
“میں سمیر سے بات کرتا ہوں، مگر ٹرینکولائز چاہیئے تو پہلے تو تمہیں کچھ کھا نا ہوگا۔” فرقان نے اٹھتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا۔ سالار نے آنکھوں سے باز و نہیں ہٹایا۔
دوبارہ اس کی آنکھ جس وقت کھلی اس وقت شام ہورہی تھی۔ کمرہ خالی تھا۔ اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ جسمانی طور پر صبح سے زیادہ تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ اپنی ٹانگوں سے کمبل پرے ہٹا کر اس نے لیٹے لیٹے بائیں ٹخنے اور گھٹنوں میں اٹھتی ہوئی ٹیسوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹانگوں کو سکیڑ لیا۔ اسے اپنے اندر ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی تھی۔ اتنی گھٹن جیسے کسی نے اس کے سینے کو جکڑ لیا ہو۔ وہ اسی طرح لیٹے لیٹے چھت کو گھور تا رہا پھر جیسے اسے کوئی خیال آیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ہوٹل آکر اپنا سامان پیک کر رہا تھا جب فرقان نے دروازے پر دستک دی۔ سالار نے دروازہ کھول دیا۔ فرقان کو دیکھ کر وہ حیران ہوا۔ اسے اندا زہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اس کے پیچھے آجائے گا۔
“عجیب انسان ہو تم سالار۔۔۔۔۔” فرقان اسے دیکھتے ہی ناراضی سے بولنے لگا۔
“یوں کسی کو بتائے بغیر سمیر کے کلینک سے چلے آئے، مجھے پریشان کر دیا۔ اوپر سے موبائل کوبھی آف کر رکھا ہے۔”
سالار نے کچھ نہیں کہا۔ وہ لنگڑاتا ہو ایک بار پھر اپنے بیگ کے پاس آگیا۔ جس میں وہ اپنی چیزیں پیک کر رہا تھا۔
“تم جارہے ہو؟” فرقان بیگ دیکھ کر چونکا۔
“ہاں۔۔۔۔۔!”سالار نے یک لفظی جواب دیا
“کہاں۔۔۔۔۔؟” سالار نے بیگ کی زپ بند کردی اور بیڈ پر بیٹھ گیا
“اسلام آباد؟” فرقان اس کے سامنے صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔
“نہیں ۔” سالار نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“پھر ۔۔۔۔۔؟”
کراچی جارہا ہوں۔”
“کس لئے؟” فرقان نے حیرانی سے پوچھا۔
“فلائٹ ہے میری۔”
“پیرس کی؟”
“ہاں۔۔۔۔۔!”
“چار دن بعد ہے تمہاری فلائٹ ، ابھی جاکر کیا کروگے؟” فرقان اسے دیکھنے لگا۔ سمیر کا اندازہ ٹھیک تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بے حد عجیب تھے۔
“کام ہے مجھے وہاں۔”
“کیا کام ہے؟”
وہ جواب دینے کے بجائے بیڈ پر بیٹھا پلکیں جھپکائے بغیر چپ چاپ اسے دیکھتا رہا ۔فرقان سا ئیکالوجسٹ نہیں تھا۔ پھر بھی سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی آنکھوں کو پڑھنے میں اسے کوئی مشکل نہیں ہوئی ۔ سالار کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف سرد مہری تھی۔ یوں جیسے وہ کسی کو جانتا ہی نہ ہو۔ اسے اور اپنے آپ کو بھی۔ وہ ڈپریس تھا۔ فرقان کو کوئی شبہ نہیں تھا مگر اس کا ڈپریشن اسے کہاں لے جا رہا تھا۔ فرقان یہ جاننے سے قاصر تھا۔
“تمہیں آخر کیا پریشانی ہے سالار؟” وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
“سالار نے توقف کیا۔ پھر کندھے جھٹکے۔
“کوئی پریشانی نہیں ہے۔”
“تو پھر۔۔۔۔۔” سالار نے فرقان کی بات کاٹ دی۔
“تم جانتے ہو مجھے میگرین ہے۔ کبھی کبھار اس طرح ہوجاتا ہے مجھے۔”
“میں ڈاکٹر ہوں سالار!” فرقان نے سنجیدگی سے کہا۔” میگرین کوکوئی مجھ سے زیادہ بہتر نہیں جانتا۔ یہ سب کچھ میگرین کی وجہ سے نہیں تھا۔”
“تو تم بتاؤ اور کیا وجہ ہوسکتی ہے؟” سالار نے اُلٹاا س سے سوال کیا۔
“کسی لڑکی کا پرابلم ہے؟” سالار پلکیں جھپک نہیں سکا ۔ فرقان کہاں جا پہنچا تھا۔
“ہاں ۔۔۔۔۔” وہ نہیں جانتا اس نے “نہیں” کیوں نہیں کہا تھا۔
“کسی میں انوالو ہو تم؟” فرقان کو اپنے اندازے کے صحیح ہونے پر جیسے یقین نہیں آیا۔
“ہاں۔۔۔۔۔”
فرقان بہت دیر چپ بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ یوں جیسے اپنی بے یقینی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہو۔
“کس کے ساتھ انوالو ہو؟”
“تم اسے نہیں جانتے۔”
“شادی نہیں ہو سکی تمہاری اس کے ساتھ؟” سالار اسے دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔
“ہوگئی تھی۔” اس کے لہجے میں آنچ تھی۔
“شادی ہوگئی تھی؟” فرقان کو پھر یقین نہیں آیا۔
“ہاں۔۔۔۔۔”
پھر۔۔۔۔۔ طلاق ہوگئی؟” اس نے پوچھا۔
“نہیں۔”
“تو۔۔۔۔۔؟” سالار کے پاس آگے بتانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔
“تو بس۔۔۔۔۔”
“بس کیا۔۔۔۔۔؟ سالار اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی دائیں ہاتھ میں موجود دل کی لکیرپر پھیرتا رہا۔
“کیا نام ہے اس کا؟” فرقان نے مدھم آواز میں اس سے پوچھا۔ وہ ایک بار پھر اس طرح لکیر کو چھوتے ہوئے بہت دیر تک خاموش رہا ۔ بہت دیر۔۔۔۔۔ پھر اس نے کہا۔
“امامہ ہاشم۔۔۔۔۔” فرقان نے بے اختیار سانس لیا۔ اسے اب سمجھ میں آیا کہ وہ اس کی چھوٹی بیٹی کو ڈھیروں کے حساب سے تحفے کیوں دیا کرتا تھا۔ پچھلے کچھ عرصے میں جب سے سا لار سے اس کی شناسائی ہوئی تھی اور سالار کا اس کے گھر آنا جانا شروع ہوا تھا سالار اور امامہ کی بہت دوستی ہوگئی تھی۔ وہ پاکستان سے جانے کے بعد بھی اسے وہاں سے کچھ نہ کچھ بجھواتا رہتا تھا مگر فرقان کو اکثر صرف ایک بات پر حیرانی ہوئی تھی۔ وہ کبھی امامہ کا نام نہیں لیتا تھا اور وہ خود اس سے بات کرتا تو اسے نام کے بغیر مخاطب کرتا رہتا۔ فرقان کو چند ایک بار یہ بات محسوس ہوئی تھی مگر اس نے اسے نظر انداز کردیا تھا لیکن اب امامہ ہاشم کا نام سن کر وہ جان گیا تھا کہ وہ کیوں اس کا نام نہیں لیتا تھا۔
وہ اب رُک رُک کر بے ربط جملوں میں مدھم آواز میں اسے اپنے اور امامہ کے بارے میں بتارہا تھا۔ فرقان دم سادھے سن رہا تھا۔ جب وہ سب کچھ بتانے کے بعد خاموش ہوا تو دیر تک فرقان بھی کچھ بول نہیں سکا۔ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ تسلی دے یا پھر کچھ اور کہے۔۔۔۔۔ کوئی نصیحت۔۔۔۔۔
“تم اسے بھول جاؤ۔” اس نے بالآخر کہا۔” سوچ لو کہ وہ جہاں بھی ہے خوش ہے اور محفوظ ہے۔ ضروری نہیں اس کے ساتھ کوئی سانحہ ہی ہوا ہو۔ ہوسکتا ہے وہ بالکل محفوظ ہو۔ فرقان کہہ رہا تھا۔” تم نے اس کی مدد کی ، جس حد تک تم کر سکتے تھے۔ پچھتاؤں سے اپنے آپ کو نکال لو۔ اللہ مدد کرتا ۔ تمہارے بعد ہوسکتا اسے تم سے بہتر کوئی اور مل گیا ہو۔ تم کیوں اس طرح کے وہم لئے بیٹھے ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ جلال سے اس کی شادی نہ ہونے کی وجہ تم تھے۔ جو کچھ تم نے مجھے جلال کے بارے میں بتایا ہے۔ میرا ندازہ یہی ہے کہ وہ کسی صورت میں امامہ سے شادی نہ کرتا، چاہے تم بیچ میں آتے نہ آتے۔ کوشش کرتے نہ کرتے۔ جہاں تک امامہ کو طلاق نہ دینے کا سوال ہے اسے چاہیئے تھا وہ تم سے دوبارہ رابطہ کرتی۔ وہ ایسا کرتی تو یقیناً تم اسے طلاق دے دیتے۔ اگر اس معاملے میں تم سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو اللہ تمہیں معاف کردے گا کیونکہ تم پچھتارہے ہو۔ تم اللہ سے معافی بھی مانگتے آرہے ہو۔ یہ کافی ہے مگر اس طرح ڈپریشن کا شکار ہونے سے کیا ہوگا۔ سالار کی خاموشی سے اسے امید بندھی کہ شاید اس کی کوشش رنگ لارہی تھی مگر ایک لمبی تقریر کے بعد جب وہ خاموش ہوا تو سالار اٹھ کر اپنا بریف کیس کھولنے لگا۔
“کیا کر رہے ہو؟” فرقان نے پوچھا۔
“میری فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے۔” وہ اب اپنے بریف کیس میں سے کچھ پیپر نکال رہا تھا۔ فرقان کی سمجھ نہیں آیا وہ اس سے کیا کہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: