Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 21

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 21

–**–**–

نوشین تو گاؤں گئی ہوئی ہے۔” فرقان نے اسے بتایا۔
“مگر کوئی مسئلہ نہیں، میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔ انہیں اپنے فلیٹ پر لے جاؤں گا۔ وہ کون سی کوئی نوجوان خاتون ہیں کہ مسئلہ ہو جائے گا۔ تم ضرورت سے کچھ زیادہ ہی محتاط ہو رہے ہو۔”
“نہیں، میں ان کے آرام کے حوالے سے کہہ رہا تھا۔ آکورڈ نہ لگے انہیں۔” سالار نے کہا۔
“نہیں لگتا یار! پوچھ لینا تم ان سے، ورنہ پھر کسی ساتھ والے فلیٹ میں ٹھہرا دیں گے، عالم صاحب کی فیملی کے ساتھ۔”
“اچھا، تم آؤ پھر دیکھتے ہیں۔”
سالار نے موبائل بند کرتے ہوئے کہا۔
“کوئی بات نہیں بیٹا! میں تمہارے پاس ہی رہ لوں گی، تم میرے بیٹے کے برابر ہو مجھے اعتماد ہے تم پر۔”
سعیدہ اماں نے مطمئن لہجے میں کہا۔
سالار نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔
اس نے راستے میں رک کر ایک ریسٹورنٹ سے کھانا لیا۔ بھوک سے اس کا برا حال ہو رہا تھا اور یک دم اسے احساس ہوا کہ سعیدہ اماں بھی دوپہر سے اس کے ساتھ کچھ کھائے پئیے بغیر ہی پھر رہی ہیں۔ اسے ندامت کا احساس ہوا۔ اپنے فلیٹ کی طرف جاتے ہوئے اس نے راستے میں ایک جگہ رک کر سعیدہ اماں کے ساتھ سیب کا تازہ جوس پیا۔ وہ زندگی میں پہلی بار کسی بوڑھے شخص کے ساتھ اتنا وقت گزار رہا تھا اور اسے احساس ہو رہا تھا کہ یہ کام آسان نہیں تھا۔
فلیٹ میں پہنچ کر وہ ابھی سعیدہ اماں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا جب فرقان آ گیا۔
اس نے سعیدہ اماں سے خود ہی اپنا تعارف کرایا اور پھر کھانا کھانے لگا۔ چند منٹوں میں ہی وہ سعیدہ اماں کے ساتھ اتنی بے تکلفی کے ساتھ ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کر رہا تھا کہ سالار کو رشک آنے لگا۔ اس نے فرقان سے اچھی گفتگو کرنے والا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کے گفتگو کے انداز میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور تھا کہ دوسرا اپنا دل اس کے سامنے کھول کر رکھ دینے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ اتنے سالوں سے دوستی کے باوجود وہ فرقان کی طرح گفتگو کرنا نہیں سیکھ سکا تھا۔
دس منٹ بعد وہ وہاں خاموشی سے کھانا کھانے والے ایک سامع کی حیثیت اختیار کر چکا تھا جبکہ فرقان اور سعیدہ اماں مسلسل گفتگو میں مصروف تھے۔ سعیدہ اماں یہ جان کر کہ فرقان ڈاکٹر ہے، اس سے طبی مشورے لینے میں مصروف تھیں۔ کھانے کے خاتمے تک وہ فرقان کو مجبور کر چکی تھیں کہ وہ اپنا میڈیکل باکس لا کر ان کا چیک اپ کرے۔
فرقان نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ اونکولوجسٹ تھا۔ وہ بڑی تحمل مزاجی سے اپنا بیگ لے آیا۔ اس نے سعیدہ اماں کا بلڈ پریشر چیک کیا پھر اسٹیتھو سکوپ سے ان کے دل کی رفتار کو ماپا اور آخر میں نبض چیک کرنے کے بعد انہیں یہ یقین دلایا کہ وہ بے حد تندرست حالت میں ہیں اور بلڈ پریشر یا دل کی کوئی بیماری انہیں نہیں ہے۔
سعیدہ اماں ایک دم بے حد ہشاش بشاش نظر آنے لگیں۔ سالار ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سنتے ہوئے کچن میں برتن دھوتا رہا۔ وہ دونوں لاونج کے صوفوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔
پھر اسی دوران اس نے فون کی گھنٹی سنی۔ فرقان نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف ڈاکٹر سبط علی تھے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے کہا۔
“سالار نے پولیس اسٹیشن پر کسی سعیدہ نام کی خاتون کے بارے میں اطلاع دی تھی۔”
فرقان حیران ہوا۔
“جی وہ یہیں ہیں، ہمارے پاس۔”
“اللہ کا شکر ہے۔” ڈاکٹر سبط علی نے بے اختیار کہا۔
“ہاں، وہ میری عزیزہ ہیں، ہم انہیں تلاش کر رہے تھے چند گھنٹوں سے۔ پولیس سے رابطہ کیا تو سالار کا نام اور نمبر دے دیا انہوں نے۔”
فرقان نے انہیں سعیدہ اماں کے بارے میں بتایا اور پھر سعیدہ اماں کی بات فون پر ان سے کرائی۔ سالار بھی باہر لاؤنج میں آ گیا۔
سعیدہ اماں فون پر گفتگو میں مصروف تھیں۔
“ڈاکٹر صاحب کی عزیزہ ہیں یہ۔”
فرقان نے دھیمی آواز میں اس کے قریب آ کر کہا۔
“ڈاکٹر سبط علی صاحب کی؟” سالار حیران ہوا۔
“ہاں، ان ہی کی۔”
سالار نے بے اختیار اطمینان بھرا سانس لیا۔
“بھائی صاحب کہہ رہے ہیں تم سے بات کرانے کو۔”
سعیدہ اماں نے فرقان سے کہا۔
فرقان تیزی سے ان کی طرف بڑھا اور ریسیور لے کر کاغذ پر کچھ نوٹ کرنے لگا۔ ڈاکٹر سبط علی اسے ایڈریس لکھوا رہے تھے۔
سعیدہ اماں نے قدرے حیرانی سے لاؤنج کے دروازے میں کھڑے سالار کو دیکھا۔
“تم کیا کر رہے ہو؟” ان کی نظریں سالار کے ایپرن پر جمی تھیں۔
وہ کچھ شرمندہ ہو گیا۔
“میں ۔۔۔۔۔ برتن دھو رہا تھا۔”
سالار واپس کچن میں آیا اور اس نے ایپرن اتار دیا۔ ویسے بھی برتن وہ تقریباً دھو چکا تھا۔
“سالار! آؤ پھر انہیں چھوڑ آتے ہیں۔”
اسے اپنے عقب میں فرقان کی آواز آئی۔
“یہ کام بعد میں کر لینا۔”
“تم گاڑی کی چابی لو، میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں۔” سالار نے کہا۔
اگلے دس منٹ میں وہ نیچے سالار کی گاڑی میں تھے۔ فرقان اگلی سیٹ پر تھا اور اس کے باوجود پچھلی سیٹ پر بیٹھی سعیدہ اماں سے گفتگو میں مصروف تھا۔ ساتھ ساتھ وہ سالار کو راستے کے بارے میں ہدایات بھی دیتا جا رہا تھا۔
بہت تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ بیس منٹ میں مطلوبہ محلے اور گلی میں تھے۔ بڑی گلی میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد وہ دونوں انہیں اندر گلی میں ان کے گھر تک چھوڑنے گئے۔ سعیدہ اماں کو اب رہنمائی کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اپنی گلی کو پہچانتی تھیں۔
وہ فخریہ انداز میں کچھ جتاتے ہوئے سالار کو بتاتی گئیں۔
“حلوائی کی دوکان۔۔۔۔۔ گٹر کے سیمنٹ والے ڈھکن۔۔۔۔۔ پرویز صاحب کا گھر۔۔۔۔۔”
“جی!” سالار مسکراتے ہوئے سر ہلاتا رہا۔
اس نے ان کو یہ نہیں بتایا کہ ان کی بتائی ہوئی ساری نشانیاں صحیح تھیں۔ صرف وہ اسے ایک غلط علاقے میں لے گئی تھیں۔
“آمنہ بیچاری پریشان ہو رہی ہو گی۔” انہوں نے سرخ اینٹ کی بنی ہوئی ایک حویلی نما دو منزلہ مکان کے سامنے رکتے ہوئے275 دفعہ کہا۔
فرقان نے آگے بڑھ کر بیل بجائی۔ سالار قدرے ستائشی انداز میں حویلی پر نظریں دوڑاتا رہا۔ وہ یقیناً کافی پرانی حویلی تھی مگر مسلسل دیکھ بھال کی وجہ سے وہ اس گلی میں سب سے باوقار لگ رہی تھی۔
“تم لوگوں کو اب میں نے چائے پئیے بغیر نہیں جانے دینا۔” سعیدہ اماں نے کہا۔
“میری وجہ سے تم لوگوں کو بہت پریشانی ہوئی۔ خاص طور پر سالار کو۔ بچہ مجھے سارا دن لیے پھرتا رہا۔” سعیدہ اماں نے سالار کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“کوئی بات نہیں، سعیدہ اماں! چائے ہم پھر کبھی پئیں گے، آج ہمیں دیر ہو رہی ہے۔”
“ہاں سعیدہ اماں! آج چائے نہیں پئیں گے۔ کبھی آ کر آپ کے پاس کھانا کھائیں گے۔”
فرقان نے بھی جلدی سے کہا۔
“دیکھ لینا، ایسا نہ ہو کہ یاد ہی نہ رہے تمہیں۔”
“لیں، بھلا کھانا کیسے بھولیں گے ہم۔ وہ جو آپ پالک گوشت کی ترکیب بتا رہی تھیں، وہی بنا کر کھلائیے گا۔”
فرقان نے کہا۔ اندر سے قدموں کی آواز آ رہی تھی۔ سعیدہ اماں کی بیٹی دروازہ کھولنے آ رہی تھی اور اس نے دروازے سے کچھ فاصلے پر ہی سعیدہ اماں اور فرقان کی آوازیں سن لی تھیں، اس لئے اس نے کچھ بھی پوچھے بغیر دروازے کا بولٹ اندر سے اتارتے ہوئے دروازہ تھوڑا سا کھول دیا۔
“اچھا سعیدہ اماں! خدا حافظ۔” فرقان نے سعیدہ اماں کو دروازے کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ سالار اس سے پہلے ہی پلٹ چکا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گاڑی میں بیٹھ کر اسے سٹارٹ کرتے ہوئے سالار نے فرقان سے کہا۔
“تمہاری سب سے ناپسندیدہ ڈش، پالک گوشت ہے اور تم ان سے کیا کہہ رہے تھے؟”
فرقان نے قہقہہ لگایا۔”کہنے میں کیا حرج ہے، ویسے ہو سکتا ہے وہ واقعی میں اتنا اچھا پکائیں کہ میں کھانے پر مجبور ہو جاؤں۔”
“تم جاؤ گے ان کے گھر؟”
سالار گاڑی مین روڈ پر لاتے ہوئے حیران ہوا۔
“بالکل جاؤں گا، وعدہ کیا ہے میں نے اور تم نے۔”
“میں تو نہیں جاؤں گا۔” سالار نے انکار کیا۔
“جان نہ پہچان، منہ اٹھا کر ان کے گھر کھانا کھانے پہنچ جاؤں۔”
“ڈاکٹر سبط علی صاحب کی فرسٹ کزن ہیں وہ اور مجھ سے زیادہ تو تمہاری جان پہچان ہے ان کے ساتھ۔” فرقان نے کہا۔
“وہ اور معاملہ تھا، انہیں مدد کی ضرورت تھی، میں نے کر دی اور بس اتنا کافی ہے۔ ان کے بیٹے یہاں ہوتے تو اور بات تھی لیکن اس طرح اکیلی عورتوں کے گھر تو میں کبھی نہیں جاؤں گا۔” سالار سنجیدہ تھا۔
“میں کون سا اکیلا جانے والا ہوں یار! بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جاؤں گا۔ جانتا ہوں میرا اکیلا ان کے ہاں جانا مناسب نہیں ہے۔ نوشین بھی ان سے مل کر خوش ہو گی۔”
“ہاں،بھابھی کے ساتھ چلے جانا، کوئی حرج نہیں۔” سالار مطمئن ہوا۔
“میں جاؤں۔۔۔۔۔؟ تم کو بھی تو ساتھ چلنا ہے، انہوں نے تمہیں بھی دعوت دی ہے۔”
“میں تو نہیں جاؤں گا، میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ تم ہو آنا، کافی ہے۔” سالار نے لاپرواہی سے کہا۔
“تم ان کے خاص مہمان ہو، تمہارے بغیر تو سب کچھ پھیکا رہے گا۔”
سالار کو اس کا لہجہ کچھ عجیب سا لگا۔ اس نے گردن موڑ کر فرقان کو دیکھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
“کیا مطلب؟”
“میرا خیال ہے انہیں تم داماد کے طور پر پسند آ گئے ہو۔”
“فضول باتیں مت کرو۔” سالار نے اسے ناراضگی سے دیکھا۔
“اچھا۔۔۔۔۔ دیکھ لینا، پروپوزل آئے گا تمہارا اس گھر سے۔ سعیدہ اماں کو تم ہر طرح سے اچھے لگے ہو۔ ہر بات پوچھی ہے انہوں نے مجھ سے تمہارے بارے میں۔ یہ بھی کہ تمہارا شادی کا کوئی ارادہ ہے کہ نہیں اور ہے تو کب تک کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نے کہا کہ جیسے ہی کوئی اچھا پروپوزل ملا وہ فوراً کر لے گا پھر وہ اپنی بیٹی کے بارے میں بتانے لگیں۔ اب جتنی تعریفیں وہ اپنی بیٹی کی کر رہی تھیں اگر ہم اس میں سے پچاس فیصد بھی سچ سمجھ لیں تو بھی وہ لڑکی۔۔۔۔۔ کیا نام لے رہی تھیں۔۔۔۔۔ ہاں آمنہ۔۔۔۔۔ تمہارے لئے بہترین ہو گی۔”
“شرم آنی چاہئیے تمہیں ڈاکٹر سبط علی صاحب کی رشتہ دار ہیں وہ اور تم ان کے بارے میں فضول باتیں کر رہے ہو۔” سالار نے اسے جھڑکا۔
فرقان سنجیدہ ہو گیا۔
“میں کوئی غلط بات نہیں کر رہا ہوں، تمہارے لئے تو یہ اعزاز کی بات ہونی چاہئیے کہ تمہاری شادی ڈاکٹر سبط علی صاحب کے خاندان میں ہو۔۔۔۔۔”
“جسٹ اسٹاپ اٹ فرقان! یہ مسئلہ کافی ڈسکس ہو گیا، اب ختم کرو۔” سالار نے سختی سے کہا۔
“چلو ٹھیک ہے، ختم کرتے ہیں پھر کبھی بات کریں گے۔”
فرقان نے اطمینا ن سے کہا۔ سالار نے گردن موڑ کر چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا۔
“ڈرائیونگ کر رہے ہو، سڑک پر دھیان رکھو۔” فرقان نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔ سالار کچھ ناراضی کے عالم میں سڑک کی طرف متوجہ ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سعیدہ اماں کے ساتھ ان کا رابطہ وہیں ختم نہیں ہوا۔
کچھ دنوں کے بعد وہ ایک شام ڈاکٹر سبط علی کے ہاں تھے جب انہوں نے اپنے لیکچر کے بعد ان دونوں کو روک لیا۔
“سعیدہ آپا آپ لوگوں سے ملنا چاہتی ہیں، مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ میں آپ لوگوں کے ہاں انہیں لے جاؤں، میں نےا ن کو بتایا کہ شام کو وہ لوگ میری طرف آئیں گے، آپ یہیں مل لیں۔ آپ لوگوں نے شاید کوئی وعدہ کیا تھا ان کے ہاں جانے کا، مگر گئے نہیں۔”
فرقان نے معنی خیز نظروں سے سالار کو دیکھا۔ وہ نظریں چرا گیا۔
“نہیں، ہم لوگ سوچ رہے تھے مگر کچھ مصروفیت تھی اس لئے نہیں جا پائے۔” فرقان نے جواباً کہا۔
وہ دونوں ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ ان کے ڈرائینگ روم میں چلے آئے جہاں کچھ دیر بعد سعیدہ اماں بھی آ گئیں اور آتے ہی ان کی شکایات اور ناراضی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ فرقان انہیں مطمئن کرنے میں مصروف رہا جبکہ سالار خاموشی سے بیٹھا رہا۔
اگلے ویک اینڈ پر فرقان نے سالار کو سعیدہ اماں کی طرف جانے کے پروگرام کے بارے میں بتایا۔ سالار کو اسلام آباد اور پھر وہاں سے گاؤ ں جانا تھا۔ اس لئے اس نے اپنی مصروفیت بتا کر سعیدہ اماں سے معذرت کر لی۔
ویک اینڈ گزارنے کے بعد لاہور واپسی پر فرقان نے اسے سعیدہ اماں کے ہاں گزارے جانے والے وقت کے بارے میں بتایا۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں گیا تھا۔
“سالار! میں سعیدہ اماں کی بیٹی سے بھی ملا تھا۔”
فرقان نے بات کرتے ہوئے اچانک کہا۔
“بہت اچھی لڑکی ہے، سعیدہ اماں کے برعکس خاصی خاموش طبع لڑکی ہے۔ بالکل تمہاری طرح، تم دونوں کی بڑی اچھی گزرے گی۔ نوشین کو بھی بہت اچھی لگی ہے۔”
“فرقان! تم صرف دعوت تک ہی رہو تو بہتر ہے۔” سالار نے اسے ٹوکا۔
“میں بہت سیریس ہوں سالار!” فرقان نے کہا۔
“میں بھی سیریس ہوں۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔” تمہیں پتا ہے فرقان! تم جتنا شادی پر اصرار کرتے ہو، میرا شادی سے اتنا ہی دل اٹھتا جاتا ہے اور یہ سب تمہاری ان باتوں کی وجہ سے ہے۔”
سالار نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“میری باتوں کی وجہ سے نہیں۔ تم صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ تم امامہ کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔”
فرقان یک دم سنجیدہ ہو گیا۔
“اوکے۔۔۔۔۔ صاف صاف کہہ دیتا ہوں ، میں امامہ کی وجہ سے شادی کرنا نہیں چاہتا پھر۔۔۔۔۔؟”
سالار نے سرد مہری سے کہا۔
“یہ ایک بچگانہ سوچ ہے۔” فرقان اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا۔
“اوکے ، فائن۔ بچگانہ سوچ ہے پھر؟” سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا۔
Then you should get rid of it (تب تمہیں اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئیے) ۔ فرقان نے نرمی سے کہا۔
I don’t want to get rid of it…. So? (میں اس سے چھٹکارا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔ پھر؟)۔
سالار نے ترکی بہ ترکی کہا۔ فرقان کچھ دیر لاجواب ہو کر اسے دیکھتا رہا۔
“میرے سامنے دوبارہ تم سعیدہ اماں کی بیٹی کی بات مت کرنا اور اگر تم سے وہ اس بارے میں بات کریں بھی تو تم صاف صاف کہہ دینا کہ مجھے شادی نہیں کرنی، میں شادی شدہ ہوں۔”
“اوکے، نہیں کروں گا اس بارے میں تم سے بات۔ غصے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
فرقان نے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے صلح جوئی سے کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں اس لئے تمہیں بلوایا ہے۔” سکندر نے مسکراتے ہوئے سالار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ طیبہ کے ساتھ اس وقت لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے اور سالار ان کے فون کرنے پر اس ویک اینڈ اسلام آباد آیا ہوا تھا۔
سکندر عثمان نے قدرے ستائشی نظروں سے اپنے تیسرے بیٹے کو دیکھا۔ وہ کچھ دیر پہلے ان کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد اب کپڑے تبدیل کر کے ان کے پاس آیا تھا۔ سفید شلوار قمیض اور گھر میں پہنی جانے والی سیاہ چپل میں وہ اپنے عام سے حلیے کے باوجود بہت باوقار لگ رہا تھا۔ شاید یہ اس کے چہرے کی سنجیدگی تھی یا پھر شاید وہ آج پہلی بار کئی سالوں کے بعد اسے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے اور اعتراف کر رہے تھے کہ اس کی شخصیت میں بہت وقار اور ٹھہراؤ آ گیا ہے۔
انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سالار کی وجہ سے انہیں اپنے سوشل سرکل میں اہمیت اور عزت ملے گی۔ وہ جانتے تھے بہت جگہوں پر اب ان کا تعارف سالار سکندر کے حوالے سے ہوتا تھا اور انہیں اس پر خوشگوارحیرت ہوتی تھی۔ اس نے اپنی پوری ٹین ایج میں انہیں بری طرح خوار اور پریشان کیا تھا اور ایک وقت تھا، جب انہیں اپنے اس بیٹے کا مستقبل سب سے تاریک لگتا تھا۔ اپنی تمام غیرمعمولی صلاحیتوں اور قابلیت کے باوجود مگر ان کے اندازے اور خدشات صحیح ثابت نہیں ہوئے تھے۔
طیبہ نے خشک میوے کی پلیٹ سالار کی طرف بڑھائی۔
سالار نے چند کاجو اٹھا لئے۔
“میں تمہاری شادی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔”
کاجو منہ میں ڈالتے ہوئے وہ ایک دم رک گیا۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ سکندر عثمان اور طیبہ بہت خوشگوار موڈ میں تھے۔
“اب تمہیں شادی کر ہی لینی چاہئیے سالار!”
سکندر نے کہا۔ سالار نے غیر محسوس انداز میں ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاجو دوبارہ خشک میوے کی پلیٹ میں رکھ دئیے۔
“میں اور طیبہ تو حیران ہو رہے تھے کہ اتنے رشتے تو تمہارے بھائیوں میں سے کسی کے نہیں آئے جتنے تمہارے لئے آ رہے ہیں۔”
سکندر نے بڑے شگفتہ انداز میں کہا۔
“میں نے سوچا، کچھ بات وات کریں تم سے۔”
وہ چپ چاپ انہیں دیکھتا رہا۔
“زاہد ہمدانی صاحب کو جانتے ہو؟” عثمان سکندر نے ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کے ہیڈ کا نام لیا۔
“جی۔۔۔۔۔ ان کی بیٹی میری کولیگ ہے۔”
“رمشہ نام ہے شاید؟”
“جی۔”
“کیسی لڑکی ہے؟”
وہ سکندر عثمان کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔ ان کا سوال بہت “واضح” تھا۔
“اچھی ہے۔” اس نے چند لمحوں کے بعد کہا۔
“تمہیں پسند ہے؟”
“کس لحاظ سے؟”
“میں رمشہ کے پروپوزل کی بات کر رہا ہوں۔” سکندر عثمان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
“زاہد پچھلے کئی ہفتے سے مجھ سے اس سلسلے میں بات کر رہا ہے۔ اپنی وائف کے ساتھ ایک دو بار وہ ہماری طرف آیا بھی ہے۔ ہم لوگ بھی ان کی طرف گئے ہیں۔ پچھلے ویک اینڈ پر رمشہ سے بھی ملے ہیں۔ مجھے اور طیبہ کو تو بہت اچھی لگی ہے۔ بہت well behaved ہے اور تمہارے ساتھ بھی اس کی اچھی خاصی دوستی ہے۔ ان لوگوں کی خواہش ہے بلکہ اصرار ہے کہ تمہارے ذریعے دونوں فیملیز میں کوئی رشتہ داری بن جائے۔”
“پاپا میری رمشہ کے ساتھ کوئی دوستی نہیں ہے۔” سالار نے مدھم اور ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔
“وہ میری کولیگ ہے، جان پہچان ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت اچھی لڑکی ہے مگر میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔”
“تم کہیں اور انٹرسٹڈ ہو؟”
سکندر نے اس سے پوچھا۔ وہ خاموش رہا۔ سکندر اور طیبہ کے درمیان نظروں کا تبادلہ ہوا۔
“اگر تمہاری کہیں اور دلچسپی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں بلکہ ہمیں خوشی ہو گی وہاں تمہاری شادی کی بات کرتے ہوئے اور یقیناً ہم تم پر بھی کوئی دباؤ نہیں دالیں گے اس سلسلے میں۔”
سکندر نے نرمی سے کہا۔
“میں بہت عرصہ پہلے شادی کر چکا ہوں۔”
ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے مدھم لہجے میں کہا۔ سکندر کو کوئی دشواری نہیں ہوئی یہ سمجھنے میں کہ اس کا اشارہ کس طرف تھا۔ ان کے چہرے پر یک دم سنجیدگی آ گئی۔
“امامہ کی بات کر رہے ہو؟”
وہ خاموش رہا۔ سکندر بہت دیر تک بے یقینی سے اسے دیکھتے رہے۔
“اتنے عرصے سے اس لئے شادی نہیں کر رہے؟”
سکندر کو جیسے ایک شاک لگا تھا۔ ان کا خیال تھا وہ اسے بھلا چکا تھا۔ آخر یہ آٹھ سال پرانی بات تھی۔
“اب تک تو وہ شادی کر چکی ہو گی، اپنی زندگی آرام سے گزار رہی ہو گی۔ تمہاری اور اس کی شادی تو کب کی ختم ہو چکی۔”
سکندر نے اس سے کہا۔
“نہیں پایا! اس کے ساتھ میری شادی ختم نہیں ہوئی۔” اس نے پہلی بار سر اٹھا کر کہا۔
“تم نے اسے نکاح نامے میں طلاق کا اختیار دیا تھا اور۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے تم اسے ڈھونڈنا چاہتے تھے تاکہ طلاق دے سکو۔”
سکندر نے جیسے اسے یاد کرایا۔
“میں نے اسے ڈھوندا تھا مگر وہ مجھے نہیں ملی اور وہ یہ بات نہیں جانتی کہ اس کے پاس طلاق کا ختیار ہے۔ وہ جہا ں بھی ہو گی ابھی تک میری ہی بیوی ہو گی۔”
“سالار! آٹھ سال گزر چکے ہیں۔ ایک دو سال کی بات تو نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ جان گئی ہو کہ طلاق کا اختیار اس کے پاس ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اب بھی تمہاری بیوی ہی ہو۔”
سکندر نے قدرے مضطرب ہو کر کہا۔
“میرے علاوہ تو کوئی دوسرا اسے یہ نہیں بتا سکتا تھا اور میں نے اسے اس حق کے بارے میں نہیں بتایا اور جب تک وہ میرے نکاح میں ہے مجھے کہیں اور شادی نہیں کرنی۔”
“تمہارا کانٹیکٹ ہے اس کے ساتھ؟” سکندر نے بہت مدھم آواز میں کہا۔
“نہیں۔”
“آٹھ سال سے اس سے تمہارا رابطہ نہیں ہوا۔ اگر ساری عمر نہ ہوا تب تم کیا کرو گے؟”
وہ خاموش رہا اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
سکندر عثمان کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرتے رہے۔
“تم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم اس لڑکی کے ساتھ ایموشنلی انوالوڈ ہو۔ تم نے تو مجھے یہی بتایا تھا کہ تم نے صرف وقتی طور پر اس کی مدد کی تھی وہ کسی اور لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی ۔ وغیرہ وغیرہ۔”
سالار اس بار بھی خاموش رہا۔
سکندر عثمان چپ چاپ اسے دیکھتے رہے۔ وہ اپنے اس تیسرے بیٹے کو کبھی نہیں جان سکے تھے۔ اس کے دل میں کیا تھا وہ اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے تھے۔ جس لڑکی کے لئے وہ آٹھ سال ضائع کر چکا تھا اور باقی کی زندگی ضائع کرنے کے لئے تیار تھا، اس کے ساتھ اس کے جذباتی تعلق کی شدت کیسی ہو سکتی تھی یہ اب شاید اسے لفظوں میں بیان کرنے کی ضروت نہیں تھی۔ کمرے میں خاموشی کا ایک لمبا وقفہ آیا پھر سکندر عثمان اٹھ کر اپنے ڈریسنگ روم میں چلے گئے۔ ان کی واپسی چند منٹوں کے بعد ہوئی۔ صوفہ پر بیٹھنے کے بعد انہوں نے سالار کی طرف ایک لفافہ بڑھا دیا۔ اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے وہ لفافہ پکڑ لیا۔
“امامہ نے مجھ سے رابطہ کیا تھا۔”
وہ سانس نہیں لے سکا۔ سکندر عثمان ایک بار پھر صوفے پر بیٹھ چکے تھے۔
“یہ پانچ چھ سال پہلے کی بات ہے وہ تم سے بات کرنا چاہتی تھی۔ فون ناصرہ نے اٹھایا تھا اور اس نے امامہ کی آواز پہچان لی تھی۔ تب تم پاکستان میں تھے۔ ناصرہ نے تمہارےبجائے مجھ سے اس کی بات کرائی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے اس کی بات کراؤں۔ میں نے اس سے کہا کہ تم مر چکے ہو۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ تم سے رابطہ کرے اور جس مصیبت سے ہم چھٹکارا پا چکے ہیں اس میں دوبارہ پڑیں۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میری بات پر یقین کر لے گی کیونکہ تم کئی بار خود کشی کی کوشش کر چکے تھے۔ وہ وسیم کی بہن تھی تمہارے بارے میں یہ سب جانتی ہو گی۔ کم از کم ایک ایسی کوشش کی تو وہ خود گواہ تھی۔ میں اسے نکاح نامے میں موجود طلاق کے اختیار کے بارے میں نہیں بتا سکا نہ ہی اس طلاق نامے کے بارے میں جو میں نے تمہاری طرف سے تیار کرایا تھا۔ تمہیں جب میں نے امریکہ بھجوایا تھا تو تم سے ایک سادہ کاغذ پر سائن لیے تھے، میں چاہتا تھا کہ مجھے ضرورت پڑے تو میں خود ہی طلاق نامہ تیار کرا لوں۔ یہ قانونی یا جائز تھا کہ نہیں ا س کا پتا نہیں مگر میں نے اسے تیار کرا لیا تھا اور میں امامہ کو اس کے بارے میں بتانا چاہتا تھا اور اسے تمام پیپرز بھی دینا چاہتا تھا مگر اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے نمبر ٹریس آؤٹ کرایا وہ کسی پی سی او کا تھا۔ اس کے کچھ دنوں بعد بیس ہزار کے کچھ ٹریولرز چیک مجھے اس نے ڈاک کے ذریعے بھجوائے اس کے ساتھ ایک خط بھی تھا۔ شاید تم نے اسے کچھ رقم دی تھی۔ اس نے وہ واپس کی تھی۔ میں نے تمہیں اس لئے نہیں بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم دوبارہ اس معاملے میں انوالو ہو۔ میں امامہ کی فیملی سے خوفزدہ تھا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ وہ تب بھی تمہاری تاک میں ہوں گے اور میں چاہتا تھا تم اپنا کیرئیر بناتے رہو۔”
وہ لفافہ ہاتھ میں پکڑے رنگ بدلتے ہوئے چہرے کے ساتھ سکندر عثمان کو دیکھتا رہا، کسی نے بہت آہستگی کے ساتھ اس کے وجود سے جان نکال لی تھی۔ اس نے لفافے کو ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ طیبہ اور سکندر اس کے ہاتھ کی کپکپاہٹ کو دیکھ سکیں۔۔۔۔۔ وہ دیکھ چکے تھے مگر اس کے حواس چند لمحوں کے لئے بالکل کام کرنا چھوڑ گئے تھے۔ اپنے سامنے پڑی ٹیبل پر رکھے اس لفافے پر ہاتھ رکھے وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اسے ٹیبل پر رکھے رکھے اس نے اس کے اندر موجود کاغذ کو نکال لیا۔
ڈئیر انکل سکندر!
مجھے آپ کے بیٹے کی موت کے بارے میں جان کر بہت افسوس ہوا۔ میری وجہ سے آپ لوگوں کو چند سال بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ مجھے سالار کو کچھ رقم ادا کرنی تھی۔ وہ میں آپ کو بھجوا رہی ہوں۔
خدا حافظ
امامہ ہاشم
سالار کو لگا وہ واقعی مر گیا ہے۔ سفید چہرے کے ساتھ اس نے کاغذ کے اس ٹکڑے کو دوبارہ لفافے میں ڈال دیا۔ کچھ بھی کہے بغیر اس نے لفافہ تھاما اور اٹھ کھڑا ہوا۔ سکندر اور طیبہ دم بخود اسے دیکھ رہے تھے جب وہ سکندر کے پاس سے گزرنے لگا تو وہ اٹھ کھڑے ہو گئے۔
“سالار۔۔۔۔۔!”
وہ رک گیا۔ سکندر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
“جو کچھ بھی ہوا۔۔۔۔۔ نادانستگی میں ہوا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ تم۔۔۔۔۔ اگر تم نے کبھی مجھے امامہ کے بارے میں اپنی فیلنگز بتائی ہوتیں تو میں کبھی یہ سب نہ کرتا۔ میں اس سارے معاملے کو کسی اور طرح ہینڈل کرتا یا پھر اس کے ساتھ تمہارا رابطہ کرا دیتا۔ میرے بارے میں اپنے دل میں کوئی شکایت یا گلہ مت رکھنا۔”
سالار نے سر نہیں اٹھایا۔ ان سے نظر نہیں ملائی مگر سر کو ہلکی سی جنبش دی۔ اسے ان سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔ سکندر نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹا لیا۔
وہ تیزی سے کمرے سے نکل گیا، سکندر چاہتے تھے وہ وہاں سے چلا جائے۔ انہوں نے اس کے ہونٹوں کو کسی بچے کی طرح کپکپاتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ بار بار انہیں بھینچ کر خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔ چند منٹ اور وہاں رہتا تو شاید پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا۔ سکندر اپنے پچھتاوے میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
طیبہ نے اس ساری گفتگو میں کوئی مداخلت نہیں کی، مگر سالار کے باہر جانے کے بعد انہوں نے سکندر کی دل جوئی کرنے کی کوشش کی۔
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے جو کچھ کیا اس کی بہتری کے لئے کیا۔ وہ سمجھ جائے گا۔”
وہ سکندر کے چہرے سے ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا سکتی تھیں۔ سکندر ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے کمرے میں چکر لگا رہے تھے۔
“یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ مجھے سالار سے پوچھے بغیر یا اس کو بتائے بغیر یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ مجھے امامہ سے اس طرح کا جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔”
وہ بات ا دھوری چھوڑ کر تاسف امیز انداز میں ایک ہاتھ کو مٹھی کی صورت میں بھینچے ہوئے کھڑکی میں جا کر کھڑے ہو گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گاڑی بہت محتاط انداز میں سڑک پر پھسل رہی تھی۔ سالار کئی سال بعد پہلی بار اس سڑک پر رات کے اس پہر گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ رات اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چل رہی تھی۔ اسے لگا آٹھ سال اڑ کر غائب ہو گئے تھے۔ سب کچھ وہی تھا۔ وہیں تھا۔
کوئی بڑی آہستگی سے اس کے برابر میں آ بیٹھا۔ اس نے اپنے آپ کو فریب کی گرفت میں آنے دیا۔ گردن موڑ کر برابر والی سیٹ کو نہیں دیکھا۔ الوژن کو حقیقت بننے دیا۔ جانتے بوجھتے کھلی آنکھوں کے ساتھ۔ کوئی اب سسکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔
ڈئیر انکل سکندر!
مجھے آپ کے بیٹے کی موت کے بارے میں جان کر بہت افسوس ہوا۔ میری وجہ سے آپ لوگوں کو چند سال بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ مجھے سالار کو کچھ رقم ادا کرنی تھی۔ وہ میں آپ کو بھجوا رہی ہوں۔
خدا حافظ
امامہ ہاشم
ایک بار پھر اس خط کی تحریر اس کے ذہن میں گونجنے لگی تھی۔
وہ سکندر عثمان کے پاس سے آ کر بہت دیر تک خط لئے اپنے کمرے میں بیٹھا رہا۔
اس نے امامہ کو کوئی رقم نہیں دی تھی مگر وہ جانتا تھا اس نے اس کا کون سا قرض لوٹایا تھا۔ موبائل فون کی قیمت، اور اس کے بلز، وہ خالی الذہنی کے عالم میں اپنے بیڈ پر بیٹھے نیم تاریک کمرے کی کھڑکیوں سے باہر اس کے گھر کی عمارت کو دیکھتا رہا۔ ساری دنیا یک دم جیسے ہر زندہ شے سے خالی ہو گئی تھی۔
اس نے خط پر تاریخ پڑھی، وہ امامہ کے گھر سے جانے کے تقریباً ڈھائی سال بعد بھیجا گیا تھا۔
ڈھائی سال بعد اگر وہ بیس ہزار روپے اسے بھجوا رہی تھی تو اس کا مطلب تھا وہ خیریت سے تھی۔ کم از کم اس کے امامہ کے بارے میں بدترین اندیشے درست ثابت نہیں ہوئے تھے۔ اسے خوشی تھی لیکن اگر اس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ سالار مر چکا تھا تو پھر وہ اس کی زندگی سے بھی نکل چکا گیا تھا اور اس کا کیا مطلب تھا وہ یہ بھی جانتا تھا۔
کئی گھنٹے وہ اسی طرح وہیں بیٹھا رہا پھر پتا نہیں اس کے دل میں کیا آیا، اپنا بیگ پیک کر کے وہ گھر سے نکل آیا۔
اور اب وہ اس سڑک پر تھا۔ اسی دھند میں، اسی موسم میں، سب کچھ جیسے دھواں بن رہا تھا یا پھر دھند۔ چند گھنٹوں کے بعد وہ اسی ہوٹل نما سروس سٹیشن کے پاس جا پہنچا۔ اس نے گاڑی روک لی۔ دھند میں ملفوف وہ عمارت اب بالکل بدل چکی تھی۔ گاڑی کو موڑ کر وہ سڑک سے اتار کر اندر لے آیا۔ پھر دروازہ کھول کر نیچے اتر آیا، آٹھ سال پہلے کی طرح آج بھی وہاں خاموشی کا راج تھا۔ صرف لائٹس کی تعداد پہلے سے زیادہ تھی۔ اس نے ہارن نہیں دیا، اس لئے اندر سے کوئی نہیں نکلا۔ برآمدے میں اب وہ پانی کا ڈرم نہیں تھا۔ وہ برآمدے سے گزر تے ہوئے اندر جانے لگا، تب ہی اندر سے ایک شخص نکل آیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ برآمدے سے گزر تے ہوئے اندر جانے لگا، تب ہی اندر سے ایک شخص نکل آیا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا سالار نے اس سے کہا۔
“میں چائے پینا چاہتا ہوں۔”
اس نے جماہی لی اور واپس مڑ گیا۔
“آ جائیں۔۔۔۔۔”
سالار اندر چلا گیا۔ یہ وہی کمرہ تھا مگر اندر سے کچھ بدل چکا تھا۔ پہلے کی نسبت میزوں اور کرسیوں کی تعداد زیادہ تھی اور کمرے کی حالت بھی بہت بہتر ہو چکی تھی۔
“چائے لیں گے یا ساتھ کچھ اور بھی؟” اس آدمی نے مڑ کر اچانک پوچھا۔
“صرف چائے۔”
سالار ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
آدمی کاؤنٹر کے عقب میں اب اسٹوو جلانے میں مصروف ہو چکا تھا۔
“آپ کہاں سے آئے ہیں؟” اس نے چائے کے لئے کیتلی اوپر رکھتے ہوئے سالار سے پوچھا۔
جواب نہیں آیا۔
اس شخص نے گردن موڑ کر دیکھا۔ چائے پینے کے لئے آنے والا وہ شخص کمرے کے ایک کونے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بالکل پتھر کے کسی مجسمے کی طرح بے حس و حرکت۔
وہ نماز پڑھ کر اس کے بالمقابل میز کے دوسری جانب کرسی پر آ بیٹھی تھی۔ کچھ کہے بغیر اس نے میز پر پڑا چائے کا کپ اٹھایا اور اسے پینے لگی۔ لڑکا تب تک برگر لے آیا تھا اور اب ٹیبل پر برگر رکھ رہا تھا۔ سالار تیکھی نظروں کے ساتھ برگر کی پلیٹ کو دیکھ رہا تھا، جو اس کے سامنے رکھی جا رہی تھی۔ جب لڑکے نے پلیٹ رکھ دی تو سالار نے کانٹے کے ساتھ برگر کا اوپر والا حصہ اٹھایا اور تنقیدی نظروں سے فلنگ کا جائزہ لیا پھر چھری اٹھا کر اس نے لڑکے سے کہا جو اب امامہ کے برگر کی پلیٹ اس کے سامنے رکھ چکا تھا۔
“یہ شامی کباب ہے؟”
وہ filling کی اوپر والی تہہ کو الگ کر رہا تھا۔
“یہ آملیٹ ہے؟” اس نے نیچے موجود آملیٹ کو چھری کی مدد سے تھوڑا اونچا کیا۔
“اور یہ کیچپ، تو چکن کہاں ہے؟ میں نے تمہیں چکن برگر لانے کو کہا تھا نا؟”
اس نے اکھڑ لہجے میں لڑکے سے کہا۔
امامہ تب تک خاموشی سے برگر اٹھا کر کھانے میں مصروف ہو چکی تھی۔
“یہ چکن برگر ہے۔” لڑکے نے قدرے گڑبڑا کر کہا۔
“کیسے چکن برگر ہے؟ اس میں کہیں چکن نہیں ہے۔” سالار نے چیلنج کیا۔
“ہم اسے ہی چکن برگر کہتے ہیں۔” وہ لڑکا اب نروس ہو رہا تھا۔
“اور جو سادہ برگر ہے اس میں کیا ڈالتے ہو؟”
“اس میں بس شامی کباب ہوتا ہے۔ انڈہ نہیں ہوتا۔”
“اور انڈہ ڈال کر سادہ برگر چکن برگر بن جاتا ہے، چونکہ انڈے سے مرغی نکلتی ہے اور مرغی کے گوشت کو چکن کہتے ہیں اس لئے directlyنہیں تو indirectly یہ چکن برگر بنتا ہے۔”
سالار نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ وہ لڑکا کھسیانے انداز میں ہنسا۔ امامہ ان دونوں کی گفتگو پر توجہ دئیے بغیر ہاتھ میں پکڑا برگر کھانے میں مصروف تھی۔
“ٹھیک ہے جاؤ۔” سالار نے کہا۔
لڑکے نے یقیناً سکون کا سانس لیا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔ چھری اور کانٹے کو رکھ کر سالار نے بائیں ہاتھ سے برگر کو اٹھا لیا۔ برگر کھاتے ہوئے امامہ نے پہلی بار پلیٹ سے سالار کے ہونٹوں تک بائیں ہاتھ میں برگر کے سفر کو تعجب آمیز نظروں سے دیکھا اور یہ تعجب ایک لمحے میں غائب ہو گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر برگر کھانے میں مصروف تھی۔سالار نے اپنے برگر کو دانتوں سے کاٹا ایک لمحہ کے لئے منہ چلایا اور پھر برگر کو اپنی پلیٹ میں اچھال دیا۔
“فضول برگر ہے۔ تم کس طرح کھا رہی ہو؟” سالار نے لقمے کو بمشکل حلق سے نگلتے ہوئے کہا۔
“اتنا برا نہیں ہے جتنا تمہیں لگ رہا ہے۔” امامہ نے بے تاثر انداز میں کہا۔
“ہر چیز میں تمہارا اسٹینڈرڈ بڑا لو ہے امامہ! وہ چاہے برگر ہو یا شوہر۔”
برگر کھاتے ہوئے امامہ کا ہاتھ رک گیا۔ سالار نے اس کے سفید چہرے کو ایک پل میں سرخ ہوتے دیکھا۔ سالار کے چہرے پر ایک تپا دینے والی مسکراہٹ آئی۔
“میں جلال انصر کی بات کر رہا ہوں۔” اس نے جیسے امامہ کو یاد دلایا۔
“تم ٹھیک کہتے ہو۔” امامہ نے پرسکون لہجے میں کہا۔
“میرا اسٹینڈرڈ واقعی بہت لو ہے۔” وہ ایک بار پھر برگر کھانے لگی۔
“میں نے سوچا تم برگر میرے منہ پر دے مارو گی۔” سالار نے دبی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“میں رزق جیسی نعمت کو کیوں ضائع کروں گی۔”
“یہ اتنا برا برگر نعمت ہے؟” اس نے تضحیک آمیز انداز میں کہا۔
“اور کون کون سی نعمتیں ہیں اس وقت تمہارے پاس۔۔۔۔۔”
“انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا۔ یہ میری زبان پر ذائقہ چکھنے کی جو حس ہے یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ میں اگر کوئی چیز کھاتی ہوں تو اس میں اس کا ذائقہ محسوس کر سکتی ہوں۔ بہت سے لوگ اس نعمت سے بھی محروم ہوتے ہیں۔”
“اور ان لوگوں میں ٹاپ آف دی لسٹ سالار سکندر کا نام ہو گا، ہے نا؟”
اس نے امامہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تیز آواز میں اس کی بات کاٹی۔
“سالار سکندر کم از کم اس طرح کی چیزیں کھا کر انجوائے نہیں کر سکتا۔”
اس شخص نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھ دیا۔ سالار یک دم چونک گیا۔ سامنے والی کرسی اب خالی تھی۔
“ساتھ میں کچھ اور چاہئیے؟” آدمی نے کھڑے کھڑے پھر پوچھا۔
“نہیں، بس چائے کافی ہے۔” سالار نے چائے کا کپ اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔
“آپ اسلام آباد سے آئے ہیں؟” اس نے پوچھا۔
“ہاں۔۔۔۔۔”
“لاہور جا رہے ہیں؟” اس نے ایک اور سوال کیا۔
اس بار سالار نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔ وہ اب چائے کا گھونٹ لے رہا تھا۔ اس آدمی کو شبہ ہوا اس نے چائے پینے والے شخص کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی دیکھی ہے۔
“میں کچھ دیر یہاں اکیلا بیٹھنا چاہتا ہوں۔” اس نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے سر اٹھائے بغیر کہا۔
وہ شخص کچھ تعجب سے اسے دیکھتا ہوا واپس کچن میں چلا گیا اور ثانوی نوعیت کے کاموں میں مصروف گاہے بگاہے دور سے سالار پر نظریں دوڑاتا رہا۔
پورے پندرہ منٹ بعد اس نے سالار کو ٹیبل چھوڑ کر کمرے سے نکلتے دیکھا۔ وہ آدمی بڑی تیز رفتاری کے ساتھ کچن سے کمرے میں واپس آیا مگر اس سے پہلے کہ وہ سالار کے پیچھے باہر جاتا، میز پر خالی کپ کے نیچے پڑے ایک نوٹ نے اسے روک لیا۔ وہ بھونچکا سا اس نوٹ کو دیکھتا رہا، پھر اس نے آگے بڑھ کر اس نوٹ کو پکڑا اور تیزی سے کمرے سے باہر آ گیا۔ سالار کی گاڑی اس وقت ریورس ہوتے ہوئے مین روڈ پر جا رہی تھی۔ اس آدمی نے حیرانی سے اس دور جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھا پھر ہاتھ میں پکڑے اس ہزار روپے کے نوٹ کو برآمدے میں لگی ٹیوب لائٹ کی روشنی میں دیکھا۔
“نوٹ اصلی ہے مگر آدمی بے وقوف۔۔۔۔۔”
اس نے اپنی خوشی پر قابو پاتے ہوئے زیر لب تبصرہ کیا اور نوت کو جیب میں ڈال لیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سکندر عثمان صبح ناشتے کی میز پر آئے تو بھی ان کے ذہن میں سب سے پہلے سالار کا ہی خیال آیا تھا۔
“سالار کہاں ہے؟ اسے بلاؤ۔”
انہوں نے ملازم سے کہا۔” سالارصاحب تو رات کو ہی چلے گئے تھے۔”
سکندر اور طیبہ نے بے اختیار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا۔
“کہاں چلے گئے۔۔۔۔۔؟ گاؤں؟”
“نہیں ، واپس لاہور چلے گئے۔ انہوں نے سالار کا نمبرڈائل کیا۔ موبائل آف تھا۔ انہوں نے اس کے فلیٹ کا نمبر ڈائل کیا۔
وہاں جوابی مشین لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے پیغام ریکارڈ کرائے بغیر فون بند کر دیا۔ کچھ پریشان سے وہ دوبارہ ناشتے کی میز پر آبیٹھے۔
“فون پر کانٹیکٹ نہیں ہوا؟” طیبہ نے پوچھا۔
“نہیں موبائل آف ہے۔ اس کے فلیٹ پر آنسر فون لگا ہوا ہے۔ پتا نہیں کیوں چلا گیا؟”
“آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔۔ ناشتہ کریں۔” طیبہ نے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔
“تم کرو۔۔۔۔۔ میرا موڈ نہیں ہے۔”
وہ اٹھ کر باہر نکل گئے۔ طیبہ بےا ختیار سانس لے کر رہ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار نے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا، باہر فرقان تھا۔ وہ پلٹ کر اندر آ گیا۔
“تم کب آئے؟” فرقان نے قدرے حیرانی سے اس کے پیچھے اندر آتے ہوئے کہا۔
“آج صبح۔۔۔۔۔” سالار نے صوفے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
“کیوں۔۔۔۔۔” تمہیں گاؤں جانا تھا؟” فرقان نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں تو پارکنگ میں تمہاری گاڑی دیکھ کر آ گیا۔ بندہ آتا ہے تو بتا ہی دیتا ہے۔”
سالار جواب میں کچھ کہے بغیر صوفے پر بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا؟” فرقان نے پہلی بار اس کے چہرے کو دیکھا اور تشویش میں مبتلا ہوا۔
“کیا ہوا؟” سالار نے جواباً کہا۔
“میں تم سے پوچھ رہا ہوں، تمہیں کیا ہوا ہے؟” فرقان نے اس کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“کچھ نہیں۔”
“گھر میں سب خیریت ہے؟”
“ہاں۔۔۔۔۔”
“تو پھر تم۔۔۔۔۔سر میں درد ہے؟ میگرین؟”
فرقان اب اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔” سالار نے مسکرانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کا فائدہ بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کو مسلا۔
“تو پھر ہوا کیا ہے تمہیں؟ آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں۔”
“میں رات سویا نہیں، ڈرائیو کرتا رہا ہوں۔”
سالار نے بڑے عام سے انداز میں کہا۔
“تو اب سو جاتے۔ یہاں آ کر فلیٹ پر، صبح سے کیا کر رہے ہو؟” فرقان نے کہا۔
“کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔”
“سوئے کیوں نہیں۔۔۔۔۔؟”
“نیند نہیں آ رہی۔۔۔۔۔”
“تم تو سلپنگ پلز لے کر سو جاتے ہو، پھر نیند نہ آنا کیا معنی رکھتا ہے؟”
فرقان کو تعجب ہوا۔
“بس آج نہیں لینا چاہتا تھا میں۔ یا یہ سمجھ لو کہ آج میں سونا نہیں چاہتا تھا۔”
“کھانا کھایا ہے؟”
“نہیں، بھوک نہیں لگی۔۔۔۔۔”
“دو بج رہے ہیں۔” فرقان نے جیسے اسے جتایا۔
“میں کھانا بھجواتا ہوں کھا لو۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر سو جاؤ پھر رات کو نکلتے ہیں آؤٹنگ کے لئے۔”
“نہیں، کھانا مت بھجوانا۔ میں سونے جا رہا ہوں۔ شام کو اٹھوں گا تو باہر جا کر کہیں کھاؤں گا۔”
سالار کہتے ہوئے صوفہ پر لیٹ گیا اور اپنا بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔ فرقان کچھ دیر بیٹھا اسے دیکھتا رہا ، پھرا ٹھ کر باہر چلا گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟”
رمشہ نے سالار کے کمرے میں آتے ہوئے کہا۔ اس نے ریسیپشن کی طرف جاتے ہوئے سالار کے کمرے کی کھڑکیوں کے چند کھلے ہوئے بلائنڈز میں اسے اندر دیکھا تھا۔ کوریڈور میں سے جانے کی بجائے وہ رک گئی۔ سالار ٹیبل پر اپنی کہنیاں ٹکائے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے ہوئے تھا۔ رمشہ جانتی تھی کہ اسے کبھی کبھار میگرین کا درد ہوتا تھا۔ وہ ریسیپشن کی طرف جانے کی بجائے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آ گئی۔
سالار اسے دیکھ کر سیدھا ہو گیا۔ وہ اب ٹیبل پر کھلی ایک فائل کو دیکھ رہا تھا۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟” رمشہ نے فکر مندی سے پوچھا۔
“ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔”
اس نے رمشہ کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ رمشہ واپس جانے کی بجائے آگے بڑھ آئی۔
“نہیں تم ٹھیک نہیں لگ رہے۔” اس نے سالار کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“تم پلیز اس فائل کو لے جاؤ۔۔۔۔۔ اسے دیکھ لو۔۔۔۔۔ میں دیکھ نہیں پا رہا۔۔۔۔۔”
سالار نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے فائل بند کر کے ٹیبل پر اس کی طرف کھسکا دی۔
“میں دیکھ لیتی ہوں، تمہاری طبیعت زیادہ خراب ہے تو گھر چلے جاؤ۔”
رمشہ نے تشویش بھرے انداز میں کہا۔
“ہاں، بہتر ہے۔ میں گھر چلا جاؤں۔” اس نے اپنا بریف کیس نکال کر اسے کھولا اور اپنی چیزیں اندر رکھنا شروع کر دیں۔ رمشہ بغور اس کا جائزہ لیتی رہی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ گیارہ بجے آفس سے واپس گھر آ گیا تھا۔ یہ چوتھا دن تھا جب وہ مسلسل اسی حالت میں تھا۔ یک دم، ہر چیز میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔
بینک میں اپنی جاب
لمز (LUMS) کے لیکچرز
ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ نشست۔۔۔۔۔
فرقان کی کمپنی
گاؤں کا اسکول۔
مستقبل کے منصوبے اور پلاننگ
اسے کوئی چیز بھی اپنی طرف کھینچ نہیں پا رہی تھی۔
وہ جس امکان کے پیچھے کئی سال پہلے سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آ گیا تھا وہ” امکان” ختم ہو گیا تھا۔ اور اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ختم ہونے سے اس کے لئے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ وہ مسلسل اپنے آپ کو اس حالت سے باہر لانے کے لئے جدوجہد کر رہا تھا اور وہ ناکام ہو رہا تھا۔
محض یہ تصور کہ وہ کسی اور شخص کی بیوی بن کر کسی اور کے گھر میں رہ رہی ہو گی۔ سالار سکندر کے لئے اتنا ہی جان لیوا تھا جتنا ماضی کا یہ اندیشہ کہ وہ غلط ہاتھوں میں نہ چلی گئی ہو اور اس ذہنی حالت میں اس نے عمرہ پر جانے کا فیصلہ کیا تھا وہ واحد جگہ تھی جو اس کی زندگی میں اچانک آ جانے والی اس بے معنویت کو ختم کر سکتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ احرام باندھے خانہ کعبہ کے صحن میں کھڑا تھا۔ خانہ کعبہ میں کوئی نہیں تھا۔ دور دور تک کسی وجود کا نشان نہیں تھا۔ رات کے پچھلے پہر آسمان پر چاند اور ستاروں کی روشنی نے صحن کے ماربل سے منعکس ہو کر وہاں کی ہر چیز کو ایک عجیب سی دودھیا روشنی میں نہلا دیا تھا۔ چاند اور ستاروں کے علاوہ وہاں اور کوئی روشنی نہیں تھی۔
خانہ کعبہ کے غلاف پر لکھی ہوئی آیات، سیاہ غلاف پر عجیب طرح سے روشن تھے۔ ہر طرف گہرا سکوت تھا اور اس گہرے سکوت کو صرف ایک آواز توڑ رہی تھی۔ اس کی آواز۔۔۔۔۔ اس کی اپنی آواز۔۔۔۔۔ وہ مقام ملتزم کے پاس کھڑا تھا۔ اس کی نظریں خانہ کعبہ کے دروازے پر تھیں اور وہ سر اٹھائے بلند آواز سے کہنے لگا۔
“لبيك اللهم لبيك٭ لبيك لا شريك لك لبيك٭ إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك٭”
(حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک حمد وثنا تیرے لئے ہے، نعمت تیری ہے، بادشاہی تیری ہے کوئی تیرا شریک نہیں)۔
پوری وقت سے گونجتی ہوئی اس کی آواز خانہ کعبہ کے سکوت کو توڑ رہی تھی، اس کی آواز خلا کی وسعتوں تک جاری تھی۔
“لبیک الھم لبیک۔۔۔۔۔”
ننگے پاؤں، نیم برہنہ وہاں کھڑا وہ اپنی آواز پہچان رہا تھا۔
“لبیک لا شریک لک لبیک۔۔۔۔۔ وہ صرف اس کی آواز تھی۔ ٭ إن الحمد والنعمة لك والملك ۔”
اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اس کی ٹھوڑی سے نیچے اس کے پیروں کی انگلیوں پر گر رہے تھے۔
“لا شریک لک۔۔۔۔۔”
اس کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔
“لبیک الھم لبیک۔۔۔۔۔”
اس نے خانہ کعبہ کے غلاف پر کندہ آیات کو یک دم بہت روشن دیکھا۔ اتنا روشن کہ وہ جگمگانے لگی تھیں۔ آسمان پر ستاروں کی روشنی بھی اچانک بڑھ گئی۔ وہ ان آیات کو دیکھ رہا تھا۔ مبہوت سحر زدہ، کسی معمول کی طرح، زبان پر ایک ہی جملہ لئے۔۔۔۔۔ اس نے خانہ کعبہ کے دروازے کو بہت آہستہ ہستہ کھلتے دیکھا۔
“لبیک الھم لبیک۔۔۔۔۔”
اس کی آواز اور بلند ہو گئی۔ ایک درد کی طرح، ایک سانس، ایک لے۔
“لبیک لا شریک لک لبیک۔۔۔۔۔”
اس وقت پہلی بار اس نے اپنی آواز میں کسی اور آواز کو مدغم ہوتے محسوس کیا۔
“إن الحمد والنعمة۔۔۔۔۔”
اس کی آؤاز کی طرح وہ آواز بلند نہیں تھی۔ کسی سرگوشی کی طرح تھی۔ کسی گونج کی طرح، مگر وہ پہچان سکتا تھا وہ اس کی آواز کی گونج نہیں تھی۔ وہ کوئی اور آواز تھی۔
“لک و الملک۔۔۔۔”
اس نے پہلی بار خانہ کعبہ میں اپنے علاوہ کسی اور کی موجودگی کو محسوس کیا۔
“لا شریک لک۔۔۔۔۔”
خانہ کعبہ کا دروازہ کھل رہا تھا۔
“لبیک الھم لبیک۔۔۔۔”
وہ اس نسوانی آواز کو پہچانتا تھا۔
“لبیک لا شریک لک۔”
وہ اس کے ساتھ وہی الفاظ دہرا رہی تھی۔
“لبیک إن الحمد والنعمة۔”
آواز دائیں طرف نہیں تھی بائیں طرف تھی۔ کہاں۔۔۔۔۔ اس کی پشت پر۔ چند قدم کے فاصلے پر۔
“لک و الملک لا شریک لک۔”
اس نے جھک کر اپنے پاؤں پر گرنے والے آنسوؤں کو دیکھا اس کے پاؤں بھیگ چکے تھے۔
اس نے سر اٹھا کر خانہ کعبہ کے دروازے کو دیکھا۔ دروازہ کھل چکا تھا۔ اندر روشنی تھی۔ دودھیا روشنی۔ اتنی روشنی کہ اس نے بے اختیار گھٹنے ٹیک دئیے۔ وہ اب سجدہ کر رہا تھا، روشنی کم ہو رہی تھی۔ اس نے سجدے سے سر اٹھایا، روشنی اور کم ہو رہی تھی۔
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ خانہ کعبہ کا دروازہ اب بند ہو رہا تھا۔ روشنی اور کم ہوتی جا رہی تھی اور تب اس نے ایک بار پھر سرگوشی کی صورت میں وہی نسوانی آواز سنی۔
اس بار اس نے مڑ کر دیکھا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار کی آنکھ کھل گئی۔ وہ حرم شریف کے ایک برآمدے کے ستون سے سر ٹکائے ہوئے تھا۔ وہ کچھ دیر سستانے کے لئے وہاں بیٹھا تھا مگر نیند نے عجیب انداز میں اس پر غلبہ پایا۔
وہ امامہ تھی۔ بے شک امامہ تھی۔ سفید احرام میں اس کے پیچھے کھڑی۔ اس نے اس کی صرف ایک جھلک دیکھی تھی مگر ایک جھلک بھی اسے یقین دلانے کے لئے کافی تھی کہ وہ امامہ کے علاوہ اور کوئی نہیں تھی۔ خالہ الذہنی کے عالم میں لوگوں کو ادھر سے ادھرجاتے دیکھ کر بے اختیار دل بھر آیا۔
آٹھ سال سے زیادہ ہو گیا تھا اسے اس عورت کو دیکھے جسے اس نے آج وہاں حرم شریف میں دیکھا تھا کسی زخم کو پھر ادھیڑا گیا تھا۔ اس نے گلاسز اتار دئیے اور دونوں ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ لیا۔
آنکھوں سے ابلتے گرم پانی کو رگڑتے، آنکھوں کو مسلتے اسے خیال آیا۔ یہ حرم شریف تھا۔ یہاں اسے کسی سے آنسو چھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں سب آنسو بہانے کے لئے ہی آتے تھے۔ اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹا لئیے۔ اس پر رقت طاری ہو رہی تھی۔ وہ سر جھکائے بہت دیر وہاں بیٹھا روتا رہا۔
پھر اسے یاد آیا، وہ ہر سال وہاں عمرہ کرنے کے لئے آیا کرتا تھا۔ وہ امامہ ہاشم کی طرف سے بھی عمرہ کیا کرتا تھا۔
وہ اس کی عافیت اور لمبی زندگی کے لئے بھی دعا مانگا کرتا تھا۔
وہ امامہ ہاشم کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی دعا مانگا کرتا تھا۔
اس نے وہاں حرم شریف میں اتنے سالوں میں اپنے اور امامہ کے لئے ہر دعا مانگ چھوڑی تھی۔ جہاں بھر کی دعائیں۔ مگر اس نے وہاں حرم شریف میں امامہ کو کبھی اپنے لئے نہیں مانگا تھا۔ عجیب بات تھی مگر اس نے وہاں امامہ کے حصول کے لئے کبھی دعا نہیں کی تھی۔ اس کے آنسو یک دم تھم گئے۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
وضو کے بعدا س نے عمرے کے لئے احرام باندھا۔ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے اس بار اتفاقاً اسے مقام ملتزم کے پاس جگہ مل گئی۔ وہاں ، جہاں اس نے اپنے آپ کو خواب میں کھڑے دیکھا تھا۔
اپنے ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے اس نے دعا کرنا شروع کی۔
“یہاں کھڑے ہو کر تجھ سے انبیاء دعا مانگا کرتے تھے۔ ان کی دعاؤں میں اور میری دعا میں بہت فرق ہے۔”
وہ گڑگڑا رہا تھا۔
“میں نبی ہوتا تو نبیوں جیسی دعا کرتا مگر میں تو عام بشر ہوں اور گناہ گار بشر۔ میری خواہشات، میری آرزوئیں سب عام ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر کبھی کوئی کسی عورت کے لئے نہیں رویا ہو گا۔ میری ذلت اور پستی کی اس سے زیادہ انتہا کیا ہو گی کہ میں یہاں کھڑا ۔۔۔۔۔ حرم پاک میں کھڑا۔۔۔۔۔ ایک عورت کے لئے گڑگڑا رہا ہوں مگر مجھے نہ اپنے دل پر اختیار ہے نہ اپنے آنسوؤں پر۔
یہ میں نہیں تھا جس نے اس عورت کو اپنے دل میں جگہ دی، یہ تو نے کیا۔ کیوں میرے دل میں اس عورت کے لئے اتنی محبت ڈال دی کہ میں تیرے سامنے کھڑا بھی اس کو یاد کر رہا ہوں؟ کیوں مجھے اس قدر بے بس کر دیا کہ مجھے اپنے وجود پر بھی کوئی اختیار نہیں رہا؟ میں وہ بشر ہوں جسے تو نے ان تمام کمزوریوں کے ساتھ بنایا۔ میں وہ بشر ہوں جسے تیرے سوا کوئی راستہ دکھانے والا نہیں، اور وہ عورت ، وہ عورت میری زندگی کے ہر راستے پر کھڑی ہے۔ مجھے کہیں جانے کہیں پہنچنے نہیں دے رہی یا تو اس کی محبت کو اس طرح میرے دل سے نکال دے کہ مجھے کبھی اس کا خیال تک نہ آئے یا پھر اسے مجھے دے دے۔ وہ نہیں ملے گی تو میں ساری زندگی اس کے لئے ہی روتا رہوں گا۔ وہ مل جائے گی تو تیرے علاوہ میں کسی کے لئے آنسو نہیں بہا سکوں گا۔ میرے آنسوؤں کو خالص ہونے دے۔
میں یہاں کھڑا تجھ سے پاک عورتوں میں سے ایک کو مانگتا ہوں۔
میں امامہ ہاشم کو مانگتا ہوں۔
میں اپنی نسل کے لئے اس عورت کو مانگتا ہوں، جس نے آپ کے پیغمبرﷺ کی محبت میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ جس نے ان کے لئے اپنی زندگی کی تمام آسائشات کو چھوڑ دیا۔
اگر میں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی نیکی کی ہے، تو مجھے اس کے عوض امامہ ہاشم دے دے۔ تو چاہے تو یہ اب بھی ہو سکتا ہے۔ اب بھی ممکن ہے۔
مجھے اس آزمائش سے نکال دے۔ میری زندگی کو آسان کر دے۔
آٹھ سال سے میں جس تکلیف میں ہوں مجھے اس سے رہائی دے دے۔
سالار سکندر پر ایک بار پھر رحم کر، وہی جو تیری صفات میں افضل ترین ہے۔
وہ سر جھکائے وہاں بلک رہا تھا۔ اسی جگہ پر جہاں اس نے خود کو خواب میں دیکھا تھا مگر اس بار اس کی پشت پر امامہ ہاشم نہیں تھی۔
بہت دیر تک گڑگڑانے کے بعد وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا۔ آسمان پر ستاروں کی روشنی اب بھی مدھم تھی۔ خانہ کعبہ روشنیوں سے اب بھی بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ لوگوں کا ہجوم رات کے اس پہر بھی اسی طرح تھا۔ خواب کی طرح خانہ کعبہ کا دروازہ بھی نہیں کھلا تھا۔ اس کے باوجود وہاں سے ہٹتے ہوئے سالار سکندر کو اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا تھا۔
وہ اس کیفیت سے باہر آ رہا تھا جس میں وہ پچھلے ایک ماہ سے تھا۔ ایک عجیب سا قرار تھا جو اس دعا کے بعد اسے ملا تھا اور وہ اسی قرار اور طمانیت کو لیے ہوئے ایک ہفتے کے بعد پاکستان لوٹ آیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میں اگلے سال پی ایچ ڈی کے لئے امریکہ جا رہا ہوں۔”
فرقان نے بے اختیار چونک کر سالار کو دیکھا۔
“کیا مطلب۔۔۔۔۔” سالار حیرانی سے مسکرایا۔
“کیا مطلب کا کیا مطلب؟ میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہوں۔”
“یوں اچانک۔۔۔۔۔؟”
“اچانک تو نہیں۔ پی ایچ ڈی کرنی تو تھی مجھے۔ بہتر ہے ابھی کر لوں۔” سالار اطمینان سے بتا رہا تھا۔
وہ دونوں فرقان کے گاؤں سے واپس آ رہے تھے۔ فرقان ڈرائیو کر رہا تھا جب سالار نے اچانک اسے اپنی پی ایچ ڈی کے ارادے کے بارے میں بتایا۔
“میں نے بینک کو بتا دیا ہے، میں نے ریزائن کرنے کا سوچا ہے۔ لیکن وہ مجھے چھٹی دینا چاہ رہے ہیں۔ ابھی میں نے سوچا نہیں کہ ان کی اس آفر کو قبول کر لوں یا ریزائن کر دوں۔”
“تم ساری پلاننگ کیے بیٹھے ہو۔”
“ہاں یار۔۔۔۔۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔۔۔۔۔ میں واقعی اگلے سال پی ایچ ڈی کے لئے جا رہا ہوں۔”
“چند ماہ پہلے تک تو تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔”
“ارادے کا کیا ہے، وہ تو ایک دن میں بن جاتا ہے۔”
سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے کھڑکی کے شیشے سے باہر نظر آنے والے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں ویسے بھی بینکنگ سے متعلق ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں لیکن یہاں میں پچھلے کچھ سالوں میں اتنا مصروف رہا ہوں کہ اس پر کام نہیں کر سکا۔ میں چاہتا ہوں پی ایچ ڈی کےدوران میں یہ کتاب لکھ کر شائع بھی کرا لوں۔ میرے پاس کچھ فرصت ہو گی تو میں یہ کام آسانی سے کر لوں گا۔”
فرقان کچھ دیر خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا پھر اس نے کہا۔
“اور اسکول۔۔۔۔۔؟ اس کا کیا ہو گا؟”
“اس کا کچھ نہیں ہو گا۔ یہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ اس کا انفراسٹرکچر بھی بہتر ہوتا جائے گا۔ بورڈ آف گورنرز ہے، وہ لوگ آتے جاتے رہیں گے۔ تم ہو۔۔۔۔۔ میں نے پاپا سے بھی بات کی ہے وہ بھی آیا کریں گے یہاں پر۔۔۔۔۔ میرے نہ ہونے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ سکول بہت پہلے سالار سکندر کی تھمائی ہوئی لاٹھیاں چھوڑ چکا ہے۔ آئندہ بھی اسے ان کی ضرورت نہیں پڑے گی مگر میں مکمل طور پر اس سے قطع تعلق نہیں کر رہا ہوں۔ میں اس کو دیکھتا رہوں گا۔ کبھی میری مدد کی ضرورت پڑی تو آ جایا کروں گا۔ پہلے بھی تو ایسا ہی کیا کرتا تھا۔”
وہ اب تھرمس میں سے چائے کپ میں ڈال رہا تھا۔
“پی ایچ ڈی کے بعد کیا کرو گے؟” فرقان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“واپس آؤں گا۔ پہلے کی طرح یہیں پر کام کروں گا۔ ہمیشہ کے لئے نہیں جا رہا ہوں۔”
سالار نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے کو تھپکا۔
“کیا چند سال بعد نہیں جا سکتے تم؟”
“نہیں، جو کام آج ہونا چاہئیے اس آج ہی ہونا چاہئیے۔ میرا موڈ ہے پڑھنے کا۔ چند سال بعد شاید خواہش نہ رہے۔”
سالار نے چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے کہا وہ اب بائیں ہاتھ سے ریڈیو کو ٹیون کرنے میں مصروف تھا۔
“روٹری (Rotary) کلب والے اگلے ویک اینڈ پر ایک فنکشن کر رہے ہیں، میرے پاس انویٹیشن آیا ہے۔ چلو گے؟”
اس نے ریڈیو کو ٹیون کرتے ہوئے فرقان سے پوچھا۔
“کیوں نہیں چلوں گا۔ ان کے پروگرام دلچسپ ہوتے ہیں۔”
فرقان نے جواباً کہا۔ گفتگو کا موضوع بدل چکا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس دن اتوار تھا۔ سالار صبح دیر سے اٹھا۔
اخبار لے کر سرخیوں پر نظر دوڑاتے ہوئے وہ کچن میں ناشتہ تیار کرنے لگا۔ اس نے صرف منہ ہاتھ دھویا تھا۔ شیو نہیں کی۔ نائٹ ڈریس کے اوپر ہی اس نے ایک ڈھیلا ڈھالا سویٹر پہن لیا اس نے کتیلی میں چائے کا پانی ابھی رکھا ہی تھا جب ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔ وہ اخبار ہاتھ میں پکڑے کچن سے باہر آ گیا، دروازہ کھولنے پر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: