Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 24

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 24

–**–**–

سعیدہ اماں سے اس کی پہلی ملاقات ڈاکٹر سبط علی نے ملتان جانے سے پہلے لاہور میں کروائی تھی۔ سعدہ اماں کے بہت سے عزیز و اقارب ملتان میں رہتےتھے۔ ڈاکٹر سبط علی امامہ کو ان سے آگاہ کرنا چاہتے تھے، تاکہ ملتان میں قیام کے دوران کسی بھی ضرورت یا ایمرجنسی میں وہ ان کی مدد لے سکے۔
سعیدہ اماں ایک پینسٹھ ستر سالہ بے حد باتونی اور ایکٹو عورت تھیں۔ وہ لاہور کے اندرون شہر میں ایک پرانی حویلی میں تنہا رہتی تھیں۔ ان کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا جبکہ دو بیٹے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں مقیم تھے۔ وہ دونوں شادی شدہ تھے اور ان کے بے حد اصرار کے باوجود سعیدہ اماں باہر جانے پر تیار نہیں تھیں۔ ان کے دونوں بیٹے باری باری ہر سال پاکستان آیا کرتے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس چلے جاتے تھے۔ ڈاکٹر سبط علی سے ان کی قرابت داری تھی۔ وہ ان کے کزن ہوتے تھے۔
ڈاکٹر سبط علی نے امامہ کے بارے میں پہلے ہی سعیدہ اماں کو بتا دیا تھا۔ اس لئے جب وہ ان کے ساتھ ان کے گھر پہنچی تو وہ بڑی گرمجوشی سے اس سے ملی تھیں۔ انہوں نے ملتان میں موجود تقریباً اپنے ہر رشتے دار کے بارے میں تفصیلات اس کے گوش گزار کر دی تھیں اور پھر شاید اس سب کو ناکافی جانتے ہوئے انہوں نے خود ساتھ چل کر اسے ہاسٹل چھوڑ آنے کی آفر کی جسے ڈاکٹر سبط علی نے نرمی سے رد کردیا تھا۔
“نہیں آپا! آپ کو زحمت ہوگی۔” ان کے بے حد اصرار کے باوجود وہ نہیں مانے تھے۔
“بہتر تو یہ ہے بھائی صاحب کہ آپ اسے میرے بھائیوں میں سے کسی سے گھر ٹھہرا دیں۔ بچی کو گھر جیسا آرام اور ماحول ملے گا۔
انہیں اچانک ہاسٹل پر اعتراض ہونے لگا اور پھر انہوں نے ہاسٹل کی زندگی کے کئی مسائل کے بارے میں روشنی ڈالی تھی مگر ڈاکٹر سبط علی اور خود وہ بھی کسی کے گھر میں رہنا نہیں چاہتی تھی۔ ہاسٹل بہترین آپشن تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سعیدہ اماں سے اس کی دوسری ملاقات ملتان جانے کے چند ماہ بعد اس وقت ہوئی تھی جب ایک دن اچانک اسے کسی خاتون ملاقاتی کی اطلاع ہاسٹل میں دی گئی تھی۔ کچھ دیر کے لئے وہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔ وہاں اس طرح اچانک اس سے ملنے کون آسکتا تھا اور وہ بھی ایک خاتون۔۔۔۔۔ مگر سعیدہ اماں کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ وہ اس سے اسی گرمجوشی سے ملی تھیں، جس طرح لاہور میں ملی تھیں۔ وہ تقریباً دو ہفتے ملتان میں رہی تھیں اور ان دو ہفتوں میں کئی بار اس سے ملنے آئیں۔ ایک بار وہ ان کے ساتھ ہاسٹل سے ان کے بھائی کے گھر بھی گئی۔
پھر یہ جیسے ایک معمول بن گیا تھا۔ وہ چند ماہ ملتان آتیں اور اپنے قیام کے دوران باقاعدگی سے اس کے پاس آتی رہتیں۔ وہ خود جب مہینے میں ایک بار لاہور آتی تو ان سے ملنے کے لئے بھی جاتی۔ کئی بار جب اس کی چھٹیاں زیادہ ہوتیں تو وہ اسے وہاں ٹھہرنے کے لئے اصرار کرتیں۔ وہ کئی بار وہاں رہی تھی۔ سرخ اینٹوں کا بنا ہوا وہ پرانا گھر اسے اچھا لگتا تھا یا پھر یہ تنہائی کا وہ احساس تھا جو وہ ان کے ساتھ شئیر کررہی تھی۔ اس کی طرح وہ بھی تنہا تھیں۔ اگرچہ ان کی یہ تنہائی ان کے ہمہ وقت میل جول کی وجہ سے کم ہوجاتی تھی مگر اس کے باوجود امامہ ان کے احساسات کو بنا کوشش کئے سمجھ سکتی تھی۔
لاہور واپس شفٹ ہونے سے بہت عرصہ پہلے ہی انہوں نے امامہ سے یہ جان لینے کے بعد کہ وہ ایم ایس سی لاہور سے کرنا چاہ رہی ہے، اسے ساتھ رکھنے کے لئے اصرار کرنا شروع کردیا۔
اسی عرصے کے دوران ڈاکٹر سبط علی کی سب سے بڑی بیٹی ان کے پاس بچوں سمیت کچھ عرصہ کے لئے رہنے چلی آئیں۔ ان کے شوہر پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ وہ ڈاکٹر سبط علی کے بھتیجے تھے۔ جانے سے پہلے وہ اپنی فیملی کو ان کے ہاں ٹھہرا گئے۔ ڈاکٹر سبط علی کے گھر میں جگہ کی کمی نہیں تھی مگر امامہ اب ان کے گھر میں رہنا نہیں چاہ رہی تھی۔ وہ جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی کے احسانات کا بوجھ پہلے ہی اسے زیر بار کررہا تھا۔ وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ان کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کرے اور اس کے بعد اس کے جاب کرنے پر بھی وہ اسے کہیں اور رہنے نہ دیتے لیکن اگر وہ پہلے ہی علیحدہ رہائش اختیار رکھتی تو اس کے لئے ان سے اپنی بات منوانا آسان ہوتا۔ سعیدہ اماں کا گھر اسے اپنی رہائش کے لئے بہت مناسب لگا تھا۔ وہ جاب شروع کرنے پر انہیں مجبور کرکے کرائے کی مد میں کچھ نہ کچھ لینے پر مجبور کرسکتی تھی مگر ڈاکٹر سبط علی شاید یہ سب کبھی گوارا نہ کرتے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر سبط علی کے لئے اس کا فیصلہ ایک شاک کی طرح تھا۔
“کیوں آمنہ! میرے گھر پر کیوں نہیں رہ سکتیں آپ؟” انہوں نے بہت ناراضی سے اس سے کہا۔ “سعیدہ آپا کے ساتھ کیوں رہنا چاہتی ہیں؟”
“وہ بہت اصرار کررہی ہیں۔”
“میں انہیں سمجھا دوں گا۔”
“نہیں، میں خود بھی ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ میں ان کے ساتھ رہوں گی تو ان کی تنہائی دور ہوجائے گی۔”
“یہ کوئی وجہ نہیں ہے۔ آپ ان کے پاس جب چاہیں جاسکتی ہیں، مگر ساتھ رہنے کے لئے نہیں۔”
“پلیز، آپ مجھے وہاں رہنے کی اجازت دے دیں، میں وہاں زیادہ خوش رہوں گی۔ میں اب آہستہ آہستہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں۔”
ڈاکٹر سبط علی نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
پیروں پر کھڑے ہونے سے کیا مراد ہے آپ کی؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے کہا۔
“میں آپ پر بہت لمبے عرصے تک بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ پہلے ہی میں بہت سال سے آپ پر انحصار کررہی ہوں، مگر ساری زندگی تو میں آپ پر بوجھ بن کر نہیں گزار سکتی۔”
وہ بات کرتے کرتے رک گئی۔ اسے لگا اس کے آخری جملے نے ڈاکٹر سبط علی کو تکلیف دی تھی۔ اسے پچھتاوا ہوا۔
“میں نے کبھی بھی آپ کو بوجھ نہیں سمجھا آمنہ! کبھی بھی نہیں۔ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں اور میرے لئے آپ ایک بیٹی کی طرح ہیں پھر یہ بات۔۔۔۔۔ مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔”
“میں جانتی ہوں ابو! مگر میں صرف اپنی فیلنگز کی بات کررہی ہوں۔ دوسرے پر ڈیپینڈنٹ ہونا بہت تکلیف دہ بات ہے۔ میں سعیدہ اماں کے ساتھ رہ کر زیادہ پرسکو ن رہوں گی میں انہیں پے (pay) کروں گی۔ آپ کو میں کبھی پے(pay) کرنا چاہوں بھی تو نہ کرسکوں گی۔ شاید مجھے دس زندگیاں بھی ملیں تو میں آپ کے احسانات کا بدلہ نہیں اتار سکتی مگر اب بس۔۔۔۔۔ اب اور نہیں۔۔۔۔۔ میں نے زندگی کو گزارنے کے سارے طریقے ابھی سیکھنے ہیں۔ مجھے سیکھنے دیں۔”
ڈاکٹر سبط علی نے اس کے بعد اسے دوبارہ اپنے گھر میں رہنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ وہ اس کے لئے بھی ان کی احسان مند تھی۔
سعیدہ امان کے ساتھ رہنے کا تجربہ اس کے لئے ہاسٹل میں یا ڈاکٹر سبط علی کے ہاں رہنے سے بالکل مختلف تھا۔ اسے ان کے پاس ایک عجیب سی آزادی اور خوشی کا احساس ہوا تھا۔ وہ بالکل اکیلی رہتی تھیں۔ صرف ایک ملازمہ تھی جو دن کے وقت گھر کے کام کردیا کرتی تھی اور شام کو واپس چلی جایا کرتی تھی۔ وہ بے حد سوشل لائف گزارتی تھیں۔ محلے میں ان کا بہت آنا جانا تھا۔ اور نہ صرف محلے میں بلکہ اپنے رشتے داروں کے ہاں بھی اور ان کے گھر بھی اکثر کوئی نہ کوئی آتا رہتا تھا۔
انہوں نے محلے میں ہر ایک سے امامہ کا تعارف اپنی بھانجی کہہ کر کروایاتھا اور چند سالوں کے بعد یہ تعارف بھانجی سے بیٹی میں تبدیل ہوگیا تھا، اگرچہ محلے والے پچھلے تعارف سے واقف تھے، مگر اب کسی نئے ملنے والے سے جب وہ امامہ کو بیٹی کی حیثیت سے متعارف کرواتیں تو کسی کو کوئی تجسس نہیں ہوتا تھا۔ لوگ سعیدہ اماں کی عادت سے واقف تھے کہ وہ کتنا محبت بھرا دل رکھتی تھیں۔ ان کے بیٹے بھی امامہ سے واقف تھے بلکہ وہ باقاعدگی سے فون پر سعیدہ اماں سے بات کرتے ہوئے اس کا حال احوال بھی دریافت کرتے رہتے تھے۔ ان کی بیوی اور بچے بھی اس سے بات چیت کرتے رہتے تھے۔
ان کے بیٹے ہر سال پاکستان آیا کرتے تھے اور ان کے قیام کے دوران بھی امامہ کو کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا۔ جیسے وہ ان کی فیملی کا حصہ نہیں تھی، بعض دفعہ اسے یوں ہی لگتا جیسے وہ واقعی سعیدہ اماں کی بیٹی اور ان کے بیٹوں کی بہن تھی۔ ان دونوں کے بچے اسے پھپھو کہا کرتے تھے۔
پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد اس نے ڈاکٹر سبط علی کے توسط سے ایک فارماسیوٹیکل کمپنی میں جاب شروع کردی۔ اس کی جاب بہت اچھی تھی اور پہلی بار اس نے مالی طور پر خودمختاری حاصل کرلی تھی۔ یہ ویسی زندگی نہیں تھی جیسی وہ اپنے والدین کے گھر گزارتی تھی نہ ہی ویسی تھی جیسی زندگی کے وہ خواب دیکھا کرتی تھی مگر یہ ویسی بھی نہیں تھی جن خدشات کا وہ گھر سے نکلتے وقت شکار تھی۔ وہ ہر ایک کے بارے میں نہیں کہہ سکتی مگر اس کے لئے زندگی معجزات کا دوسرا نام تھی۔ سالار سکندر جیسے لڑکے سے اس طرح کی مدد، ڈاکٹر سبط علی تک رسائی۔۔۔۔۔ سعیدہ اماں جیسے خاندان سے ملنا۔ تعلیم کا مکمل کرنا اور پھر وہ جاب۔۔۔۔۔ صرف جلال انصر تھا جس کا خیال ہمیشہ اسے تکلیف میں مبتلا کردیتا تھا اور شاید اسے مل جاتا تو وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھتی۔
آٹھ سالوں نے اس میں بہت سی تبدیلیاں پیدا کردی تھیں۔ گھر سے نکلتے وقت وہ جانتی تھی کہ اب دنیا میں اس کے نخرے اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ اسے کسی سے کوئی توقعات وابستہ کرنی تھیں نہ ہی ان کے پورا نہ ہونے پر تکلیف محسوس کرنی تھی۔ اس کا رونا دھونا بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جارہا تھا۔ بیس سال کی عمر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوفزدہ اور پریشان ہونے والی امامہ ہاشم آہستہ آہستہ اپنا وجود کھوتی گئی تھی۔ نئی نمودار ہونے والی امامہ زیادہ پراعتماد اور مضبوط اعصاب رکھتی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت زیادہ محتاط بھی ہوگئی تھی۔ ہر چیز کے بارے میں، اپنی گفتگو کے بارے میں۔ اپنے طور اطوار کے بارے میں۔
ڈاکٹر سبط علی اور سعیدہ اماں دونوں کے خاندانوں نے اسے بہت محبت اور اپنائیت دی تھی لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ کوشش کرتی تھی کہ وہ کوئی ایسی بات یا حرکت نہ کرے، جو انہیں قابلِ اعتراض یا ناگوار لگے۔ ہاشم مبین کے گھر میں اسے یہ ساری احتیاطیں نہیں کرنی پڑتی تھیں مگر وہاں سے نکل کر اسے یہ سب کچھ سیکھنا پڑا تھا۔
سعیدہ اماں کی گمشدگی کے دوران وہ آفس میں تھی۔ چار بجے کے قریب جب وہ گھر آئی تو گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔ اس کے پاس اس تالے کی دوسری چابی تھی، کیونکہ اس سے پہلے بھی سعیدہ اماں کئی بار اِدھر اُدھر چلی جایا کرتی تھیں۔ اسے تشویش نہیں ہوئی۔
لیکن جب مغرب کی اذان ہونے لگی تو وہ پہلی بار فکر مند ہوئی کیونکہ وہ شام کو بتائے بغیر کبھی یوں غائب نہیں ہوئی تھیں ساتھ والوں کے ہاں پتا کرنے پر اسے پتا چلا کہ ان کا بیٹا انہیں بلال کے گھر صبح چھوڑ آیا تھا۔ سعیدہ اماں پہلے بھی اکثر وہاں آتی جاتی رہتی تھیں اس لئے امامہ ان لوگوں کو اچھی طرح جانتی تھی۔ اس نے وہاں فون کیا تو اسے پتا چلا کہ وہ دوپہر کو وہاں سے جاچکی تھیں اور تب پہلی بار اسے صحیح معنوں میں تشویش ہونے لگی۔
اس نے باری باری ہر اس جگہ پتا کیا جہاں وہ جاسکتی تھیں مگر وہ کہیں بھی نہیں ملیں اور تب اس نے ڈاکٹر سبط علی کو اطلاع دی۔ اس کی حالت تب تک بے حد خراب ہوچکی تھی۔ سعیدہ اماں کا میل جول اپنے محلے تک ہی تھا۔ وہ اندرون شہر کے علاوہ کسی جگہ کو اچھی طرح نہیں جانتی تھیں۔ انہیں کسی دوسرے جگہ جانا ہوتا تو وہ ہمسایوں کے کسی لڑکے کے ساتھ جاتیں یا پھر امامہ کے ساتھ اور یہی بات امامہ کو تشویش میں مبتلا کررہی تھی۔
دوسری طرف سالار اندرون شہر کے سوا شہر کے تمام پوش علاقوں سے واقف تھا۔ اگر اسے اندرون شہر کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات بھی ہوتیں تب بھی وہ سعیدہ اماں کے ادھورے پتے کے باجود کسی نہ کسی طرح ان کے گھر پہنچ جاتا۔
ڈاکٹر سبط علی نے رات گئے اسے سعیدہ اماں کی خیریت سے اپنے کسی جاننے والے کے پاس ہونے کی اطلاع دی اور امامہ کی جیسے جان میں جان آئی۔
مزید ایک گھنٹے بعد دروازے کی بیل بجی تھی اور اس نے تقریباً بھاگتے ہوئے جاکر دروازہ کھولا۔ دروازے کی اوٹ سے اس نے سعیدہ اماں کے پیچھے کھڑے ایک خوش شکل آدمی کو دیکھا، جس نے دروازہ کھلنے پر اسے سلام کیا اور پھر سعیدہ اماں کو خداحافظ کہتے ہوئے مڑ گیا اور اس دوسرے دراز قامت شخص کے پیچھے چلنے لگا جس کی امامہ کی طرف پشت تھی۔ امامہ نے اس پر غور نہیں کیا وہ تو بے اختیار سعیدہ اماں سے لپٹ گئی تھی۔
سعیدہ اماں اگلے کئی دن اس کے سامنے ان دونوں کا نام لیتی رہیں، سالار اور فرقان۔ امامہ کو پھر بھی شبہ نہیں ہوا کہ وہ سالار۔۔۔۔۔ سالار سکندر بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔ مردہ لوگ زندہ نہیں ہوسکتے تھے اور اسے اگر اس کی موت کا یقین نہ بھی ہوتا تب بھی سالار سکندر جیسا شخص نہ تو ڈاکٹر سبط علی کا شناسا ہوسکتا تھا نہ ہی اس میں اس طرح کی اچھائیاں ہوسکتی تھیں جن اچھائیوں کا ذکر سعیدہ اماں وقتاً فوقتاً کرتی رہتی تھیں۔
اس کے کچھ عرصے بعد اس نے جس شخص کو اس رات سعیدہ اماں کے ساتھ سیڑھیوں پر کھڑے دیکھا تھا اس شخص سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔ فرقان اپنی بیوی کے ساتھ ان کے ہاں آیا تھا۔ اسے وہ اور اس کی بیوی دونوں اچھے لگے تھے پھر وہ چند ایک بار اور ان کے گھر آئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی شناسائی میں اضافہ ہوگیا تھا۔
اسے جاب کرتے تب دوسال ہوچکے تھے۔ کچھ وقت شاید اور اسی طرح گزر جاتا۔ اگر وہ اتفاقاً ایک روز اس سڑک سے نہ گزرتی جہاں جلال کے بنائی ہوئے ہاسپٹل کے باہر اس کا نام آویزاں تھا۔ جلال انصر کا نام اس کے قدم روک دینے کے لئے کافی تھا مگر کچھ دیر تک ہاسپٹل کے باہر اس کا نام دیکھتے رہنے کے بعد اس نے طے کیا تھا کہ وہ دوبارہ اس سڑک پر کبھی نہیں آئے گی۔
جلال شادی کرچکا تھا۔ یہ وہ گھر چھوڑتے وقت ہی سالار سے جان چکی تھی اور وہ دوبارہ اس کی زندگی میں نہیں آنا چاہتی تھی مگر اس کا یہ فیصلہ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔
دو ہفتے کے بعد فارماسیوٹیکل کمپنی کے آفس میں ہی اس کی ملاقات رابعہ سے ہوئی۔ رابعہ وہاں کسی کام سے آئی تھی۔ چند لمحوں کے لئے تو اسے اپنے سامنے دیکھ کر اس کی سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ وہ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے۔ یہ مشکل رابعہ نے آسان کردی۔ وہ اس سے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ملی تھی۔
“تم یک دم کہاں غائب ہوگئی تھیں۔ کالج اور ہاسٹل میں تو ایک لمبا عرصہ طوفان مچا رہا۔”
رابعہ نے چھوٹتے ہی اس سے پوچھا۔ امامہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔
“بس میں گھر سے چلی گئی تھی۔ کیوں گئی تھی تم تو جانتی ہی ہوگی۔” امامہ نے مختصراً کہا۔
“ہاں، مجھے کچھ اندازہ تو تھا ہی مگر میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ویسے ہم لوگوں کی بڑی کم بختی آئی۔ میری، جویریہ، زینب، سب کی۔۔۔۔۔ پولیس تک نے پوچھ گچھ کی ہم سے۔ ہمیں تو کچھ پتا ہی نہیں تھا تمہارے بارے میں، مگر ہاسٹل اور کالج میں بہت ساری باتیں پھیل گئی تھیں تمہارے بارے میں۔”
رابعہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مسلسل بولے جارہی تھی۔
“تم اکیلی ہی گئی تھیں؟” اس نے بات کرتے کرتے اچانک پوچھا۔
“ہاں۔” امامہ انٹر کام پر چائے کا کہتے ہوئے بولی۔
“مگر گئی کہاں تھیں؟”
“کہیں نہیں، یہیں لاہور میں تھی۔ تم بتاؤ، تم کیا کررہی ہو آج کل اور جویریہ۔۔۔۔۔ باقی سب۔”
امامہ نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
“میں پریکٹس کررہی ہوں لاہور میں۔ جویریہ اسلام آباد میں ہوتی ہے۔ شادی ہوگئی ہے اس کی ایک ڈاکٹر سے۔ میری بھی فاروق سے ہوئی ہے۔ تمہیں تو یاد ہوگا کلاس فیلو تھا میرا۔”
امامہ مسکرائی۔ “اور زینب؟” اس کا دل بے اختیار دھڑکا تھا۔
“ہاں، زینب آج کل انگلینڈ میں ہوتی ہے۔ ریزیڈنسی کررہی ہے وہاں اپنے شوہر کے ساتھ۔ اس کے بھائی کے ہاسپٹل میں ہی فاروق پریکٹس کرتے ہیں۔”
امامہ نے بے اختیار اسے دیکھا۔ “جلال انصر کے ہاسپٹل میں؟”
“ہاں، اسی کے ہاسپٹل میں۔ وہ اسپیشلائزیشن کرکے آیا ہے کچھ عرصہ پہلے لیکن بے چارے کے ساتھ بڑی ٹریجڈی ہوئی ہے۔ چند ماہ پہلے طلاق ہوگئی ہے۔ حالانکہ اتنا اچھا بندہ ہے مگر۔”
امامہ اس کے چہرے سے نظر نہیں ہٹا سکی۔
“طلاق۔۔۔۔۔! کیوں؟”
“پتا نہیں، فارق نے پوچھا تھا اس سے۔ کہہ رہا تھا انڈراسٹینڈنگ نہیں ہوئی۔ بیوی بھی بڑی اچھی تھی اس کی۔ ڈاکٹر ہے وہ بھی لیکن پتا نہیں کیوں طلاق ہوگئی۔ ہم لوگوں کا تو خاصا آنا جانا تھا ان کے گھر میں۔ ہمیں کبھی بھی اندازہ نہیں ہوا کہ ایسا کوئی مسئلہ ہے دونوں کے درمیان۔ ایک بیٹا ہے تین سال کا ۔وہ جلال کے پاس ہی ہے۔ اس کی بیوی واپس امریکہ چلی گئی ہے۔”
رابعہ لاپروائی سے تمام تفصیلات بتا رہی تھی۔
“تم اپنے بارے میں بتاؤ یہ تو میں جان گئی ہوں کہ یہاں جاب کررہی ہو، مگر اسٹڈیز تو تم نے مکمل نہیں کی۔”
“ایم ایس سی کیا ہے کیمسٹری میں۔”
“اور شادی وغیرہ؟”
“وہ ابھی نہیں۔”
“پیرنٹس کے ساتھ تمہارا جھگڑا ختم ہوا یا نہیں؟”
امامہ نے حیرت سے اس کو دیکھا۔
“نہیں۔” پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔
وہ کچھ دیر اس کے پاس بیٹھی رہی پھر چلی گئی۔ امامہ باقی کا سارا وقت آفس میں ڈسٹرب رہی۔ اس نے جلال انصر کو کبھی بھلایا نہیں تھا۔ وہ اسے بھلا نہیں سکتی تھی۔ اس نے صرف اپنی زندگی سے اس کو الگ کردیا تھا مگر وہاں بیٹھے ہوئے اس دن اسے احساس ہوا کہ یہ بھی ایک خوش گمانی یا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ وہ جلال انصر کو اپنی زندگی سے الگ بھی نہیں کرسکتی تھی۔ وہ صرف اس کی زندگی میں داخل ہو کر اسے کسی پریشانی سے دوچار کرنا چاہتی تھی نہ ہی اس کی ازدواجی زندگی کو خراب کرنا چاہتی تھی لیکن یہ جاننے کے بعد کہ اس کی ازدواجی زندگی پہلے ہی ناکام ہوچکی ہے اور وہ ایک بار پھر اکیلا تھا۔ اسے یاد آیا آٹھ سال پہلے وہ کس طرح اس شخص کے حصول کے لئے بچوں کی طرح مچلتی رہی تھی۔ وہ اسے حاصل نہیں کرسکی تھی۔ تب بہت سی دیواریں، بہت سی رکاوٹیں تھیں جنہیں وہ پار کرسکتی تھی نہ جلال انصر کرسکتا تھا۔
مگر اب بہت وقت گزر چکا تھا۔ ان رکاوٹوں میں سے اب کچھ بھی ان دونوں کے درمیان نہیں تھا۔ اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی کہ وہ ایک شادی کرچکا تھا یا اس کا ایک بیٹا بھی تھا۔
“مجھے اس کے پاس ایک بار پھر جانا چاہیے، شاید وہ اب بھی میرے بارے میں سوچتا ہو شاید اسے اب اپنی غلطی کا احساس ہو۔” امامہ نے سوچا تھا۔
اس نے آخری بار فون پر بات کرتے ہوئے اس سے جو کچھ کہا تھا، امامہ اس کے لئے اس کو معاف کرچکی تھی۔ جلال کی جگہ جو بھی ہوتا وہ یہی کہتا۔ صرف ایک لڑکی کے لئے تو کوئی بھی اتنے رسک نہیں لیتا اور پھر اس کا کیرئیر بھی تھا جسے وہ بنانا چاہتا تھا۔ اس کے پیرنٹس کی اس سے کچھ امیدیں تھیں جنہیں وہ ختم نہیں کرسکتا تھا۔ میری طرح وہ بھی مجبور تھا۔ بہت سال پہلے کہے گئے اس کے جملوں کی بازگشت نے بھی اسے دلبرداشتہ یا اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔
“مجھے اس کے پاس جانا چاہئے۔ ہوسکتا ہے یہ موقع مجھے اللہ نے ہی دیا ہو۔ ہوسکتا ہے اللہ نے میری دعاؤں کو اب قبول کرلیا ہو۔ ہوسکتا ہے اللہ کو مجھ پر اب رحم آگیا ہو۔”
وہ باربار سوچ رہی تھی۔
“ورنہ اس طرح اچانک رابعہ میرے سامنے کیوں آجاتی۔ مجھے کیوں یہ پتا چلتا کہ اس کی بیوی سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ ہوسکتا ہے اب میں اس کے سامنے جاؤں تو۔۔۔۔۔۔” وہ فیصلہ کرچکی تھی۔ وہ جلال انصر کے پاس دوبارہ جانا چاہتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میں ڈاکٹر جلال انصر سے ملنا چاہتی ہوں۔” امامہ نے ریپشنسٹ سے کہا۔
“اپائنٹمنٹ ہے آپ کی؟ اس نے پوچھا۔
“نہیں، اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے۔”
“پھر تو وہ آپ سے نہیں مل سکیں گے۔ اپائنٹمنٹ کے بغیر وہ کسی پیشنٹ کو نہیں دیکھتے۔” اس نے بڑے پروفیشنل انداز میں کہا۔
“میں پیشنٹ نہیں ہوں۔ ان کی دوست ہوں۔” امامہ نے کاؤنٹر پر ہاتھ رکھتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔
“ڈاکٹر صاحب جانتے ہیں کہ آپ اس وقت ان سے ملنے آئیں گی؟” ریپشنسٹ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں۔” اس نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔
“ایک منٹ، میں ان سے پوچھتی ہوں۔” اس نے ریسیور اٹھاتے ہوئے کہا۔
“آپ کا نام کیا ہے؟” وہ ریپشنسٹ کا چہرہ دیکھنے لگی۔
“آپ کا نام کیا ہے؟” اس نے اپنا سوال دہرایا۔
“امامہ ہاشم۔” اسے یاد نہیں اس نے کتنے سالوں بعد اپنا نام لیا تھا۔
“سر! کوئی خاتون آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کی دوست ہیں۔ امامہ ہاشم نام ہے ان کا۔”
وہ دوسری طرف سے جلال کی گفتگو سنتی رہی۔
“اوکے سر۔” پھر اس نے ریسیور رکھ دیا۔
“آپ اندر چلی جائیں۔” ریپشنسٹ نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔
وہ سر ہلاتے ہوئے دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔ جلال انصر کا ایک مریض باہر نکل رہا تھا اور وہ خود اپنی میز کے پیچھے کھڑا تھا۔ امامہ نے اس کے چہرے پر حیرت دیکھی تھی۔ وہ اپنے دھڑکتے دل کی آواز باہر تک سن سکتی تھی۔ اس نے جلال انصر کو آٹھ سال اور کتنے ماہ کے بعد دیکھا تھا۔ امامہ نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ اسے یاد نہیں آیا۔
“What a pleasant surprise Imama” (کیسا خوشگوار سرپرائز ہے امامہ!)۔
جلال نے آگے بڑھ کر اس کی طرف آتے ہوئے کہا۔
“مجھے یقین نہیں آرہا، تم کیسی ہو؟”
“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟”
وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائے بغیر بولی۔ پچھلے آٹھ سال سے یہ چہرہ ہر وقت اس کے ساتھ رہا تھا اور یہ آواز بھی۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں، آؤ بیٹھو۔”
اس نے اپنی ٹیبل کے سامنے پڑی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ خود ٹیبل کے دوسری جانب اپنی کرسی کی طرف بڑھ گیا۔
وہ ہمیشہ سے جانتی تھی۔ وہ جلال انصر کو جب بھی دیکھے گی اس کا دل اسی طرح بے قابو ہوگا مگر اتنی خوشی ،ایسی سرشاری تھی جو وہ اپنے رگ و پے میں خون کی طرح دوڑتی محسوس کررہی تھی۔
“کیا پیو گی؟ چائے، کافی سوفٹ ڈرنک؟” وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
“جو آپ چاہیں۔”
“اوکے، کافی منگوا لیتے ہیں۔ تمہیں پسند تھی۔”
وہ انٹر کام اٹھا کر کسی کو کافی بھجوانے کی ہدایت دے رہا تھا اور وہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر داڑھی اب نہیں تھی۔ اس کا ہیر اسٹائل مکمل طور پر تبدیل ہوچکا تھا۔ اس کا وزن پہلے کی نسبت کچھ بڑھ گیا تھا۔ وہ پہلے کی نسبت بہت پر اعتماد اور بے تکلف نظر آرہا تھا۔
“تم آج کل کیا کررہی ہو؟” ریسیور رکھتے ہی اس نے امامہ سے پوچھا۔
“ایک فارماسیوٹیکل کمپنی میں کام کررہی ہوں۔”
“ایم بی بی ایس تو چھوڑ دیا تھا تم نے۔”
“ہاں، ایم ایس سی کیا ہے کیمسٹری میں۔”
“کونسی کمپنی ہے؟” امامہ نے نام بتایا۔
“وہ تو بہت اچھی کمپنی ہے۔”
وہ کچھ دیر اس کمپنی کے بارے میں تعریفی تبصرہ کرتا رہا۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
“میں اسپشلائزیشن کرکے آیا ہوں۔”
وہ اپنے بارے میں بتانے لگا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر کسی معمول کی طرح اسے دیکھتی رہی۔ بعض لوگوں کو صرف دیکھنا ہی کتنا کافی ہوتا ہے۔ اس نے اسے بات کرتے دیکھ کر سوچا تھا۔
“ایک سال ہوا ہے اس ہاسپٹل کو شروع کئے اور بہت اچھی پریکٹس چل رہی ہے میری۔”
وہ بولتا رہا۔ کافی آچکی تھی۔
“تمہیں میرا کیسے پتا چلا؟” وہ کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے بولا۔
“میں نے آپ کے ہاسپٹل کے بورڈ پر آپ کا نام پڑھا پھر رابعہ سے ملاقات ہوئی۔ آپ جانتے ہوں گے۔ زینب بھی واقف تھی اس سے۔”
“رابعہ فاروق کی بات کررہی ہو۔ بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس کا شوہر ڈاکٹر فاروق میرے ساتھ کام کرتا ہے۔” اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
“ہاں، وہی۔۔۔۔۔ پھر میں یہاں آگئی۔”
امامہ نے ابھی کافی نہیں پی تھی۔ کافی بہت گرم تھی اور بہت گرم چیزیں نہیں پیتی تھی۔ اس نے کسی زمانے میں میز کے دوسری جانب بیٹھے ہوئے شخص کو آئیڈلائز کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس میں ہر خوبی تھی، ہر وہ خوبی جو ایک مکمل مرد میں ہونی چاہیے۔ ہر وہ خوبی جو وہ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی تھی۔ ساڑھے آٹھ سال گزر گئے تھے اور امامہ کو یقین تھا کہ وہ اب بھی ویسا ہی ہے۔ چہرے سے داڑھی کے ہٹ جانے کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کو اب حضرت محمد ﷺ سے محبت نہ رہی ہو۔ اپنے ہاسپٹل کی کامیابی کے قصیدے پڑھتے ہوئے بھی امامہ اس کی اسی آواز کو اپنے کانوں میں گونجتا ہوا محسوس کررہی تھی، جس آواز نے ایک بار اس کی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ آسان کردیا تھا۔
وہ اس کے منہ سے کامیاب پریکٹس اور شہرت کا سن کر مسرور تھی۔ جلال نے زندگی میں ان ہی کامیابیوں کو سمیٹنے کے لئے ساڑھے آٹھ سال پہلے اسے چھوڑ دیا تھا مگر وہ خوش تھی۔ آج سب کچھ جلال انصر کی مٹھی میں تھا۔ کم از کم آج فیصلہ کرنے میں اسے کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
“تم نے شادی کرلی؟” بات کرتے کرتے اس نے اچانک پوچھا۔
“نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
“تو پھر تم کہاں رہتی ہو،کیا اپنے پیرنٹس کے پاس ہو؟” جلال اس بار کچھ سنجیدہ تھا۔
“نہیں۔”
“پھر؟”
“اکیلی رہتی ہوں، پیرنٹس کے پاس کیسے جاسکتی تھی۔” اس نے مدھم آواز میں کہا۔
“آپ نے شادی کرلی؟” جلال نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔
“ہاں، شادی کرلی اور علیحدگی بھی ہوگئی۔ تین سال کا ایک بیٹا ہے میرا۔ میرے پاس ہی ہوتا ہے۔” جلال نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
“آئی ایم سوری۔” امامہ نے اظہار افسوس کیا۔
“نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ اچھا ہوا یہ شادی ختم ہوگئی۔”
“It was not a marriage, it was a mess” (یہ شادی نہیں تھی، ایک بکھیڑا تھا) ۔
جلال نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔ کچھ دیر کمرے میں خاموشی رہی پھر اس خاموشی کو امامہ نے توڑا۔
“بہت سال پہلے ایک بار میں نے آپ کو پروپوز کیا تھا جلال؟”
جلال اسے دیکھنے لگا۔
“پھر میں نے آپ سے شادی کے لئے ریکوئسٹ کی تھی۔ آپ اس وقت مجھ سے شادی نہیں کرسکے۔”
“کیا میں یہ ریکویسٹ آپ سے دوبارہ کرسکتی ہوں؟”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کیا میں یہ ریکویسٹ آپ سے دوبارہ کرسکتی ہوں؟”
اس نے جلال انصر کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا۔
“اب تو حالات بدل چکے ہیں۔ آپ کسی پر ڈیپنڈنٹ نہیں ہیں۔ نہ ہی میرے پیرنٹس کے کسی ردعمل کا آپ کو اندیشہ ہوگا نہ ہی آپ کے پیرنٹس اعتراض کریں گے۔ اب تو آپ مجھ سے شادی کرسکتے ہیں۔”
وہ جلال کا جواب سننے کے لئے رکی۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ اس کی خاموشی نے امامہ کے اعصاب کو مضمحل کیا۔ شاید یہ اس لئے خاموش ہے کیونکہ اسے اپنی پہلی شادی یا بیٹے کا خیال ہوگا۔ امامہ نے سوچا۔ مجھے اسے بتانا چاہیے کہ مجھے اس کی پہلی شادی کی کوئی پروا نہیں ہے، نہ ہی اس بات پر اعتراض کہ اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔
“جلال مجھے آپ کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔”
جلال نے اس کی بات کاٹ دی۔
“امامہ! یہ ممکن نہیں ہے۔”
“کیوں ممکن نہیں ہے۔ کیا آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے؟”
“محبت کی بات نہیں ہے امامہ! اب بہت وقت گزر چکا ہے۔ ویسے بھی ایک شادی ناکام ہونے کے بعد میں فوری طور پر دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں اپنے کیرئر پر دھیان دینا چاہتا ہوں۔”
“جلال! آپ کو مجھ سے تو کوئی اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ میرے ساتھ تو آپ کی شادی ناکام نہیں ہوسکتی۔”
“پھر بھی۔۔۔۔ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔” جلال نے اس کی بات کاٹ دی۔
“میں انتظار کرسکتی ہوں۔”
جلال نے ایک گہرا سانس لیا۔
“اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے امامہ! میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تم سے شادی کرسکوں۔”
وہ دم سادھے اسے دیکھتی رہی۔
“یہ شادی میں نے اپنی مرضی سے کی تھی۔ دوبارہ میں اپنی مرضی نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری شادی میں اپنے پیرنٹس کی مرضی سے کرنا چاہتا ہوں۔”
“آپ اپنے پیرنٹس کو میرے بارے میں بتا دیں۔ شاید وہ آپ کو اجازت دے دیں۔” اس نے ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ کہا۔
“نہیں بتا سکتا۔ امامہ دیکھو! کچھ حقائق ہیں جن کا سامنا مجھے اور تمہیں بہت حقیقت پسندی سے کرنا چاہیے۔ میں اپنے لئے تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی زمانے میں، میں بھی تمہارے ساتھ انوالو تھا یا یہ کہہ لو کہ محبت کرتا تھا۔ میں آج بھی تمہارے لئے دل میں بہت خاص جذبات رکھتا ہوں اور ہمیشہ رکھوں گا مگر زندگی جذبات کے سہارے نہیں گزاری جاسکتی۔”
وہ رکا۔ امامہ کافی کے کپ سے اٹھتے دھویں کے پار اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
“تم جب سات آٹھ سال پہلے اپنا گھر چھوڑ رہی تھیں تو میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ اس طرح نہ کرو لیکن تم نے اس معاملے کو اپنی مرضی سے ہینڈل کیا۔ اپنے پیرنٹس کو مجھ سے شادی کے لئے کنوینس کرنے کے بجائے تم مجھے مجبور کرتی رہیں کہ میں تم سے چھپ کر شادی کرلوں۔ میں ایسا نہیں کرسکا اور نہ ہی یہ مناسب سمجھا۔ مذہب کی بات اپنی جگہ، مگر مذہب کے ساتھ معاشرہ بھی تو کوئی چیز ہوتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور جس کی ہمیں پرواہ کرنی چاہیے۔”
امامہ کو یقین نہیں آیا۔ وہ یہ سب اس شخص کے منہ سے سن رہی تھی جو۔۔۔۔۔۔
“تم تو چلی گئیں مگر تمہارے جانے کے بعد تمہارا اس طرح غائب ہوجانا کتنا بڑا سکینڈل ثابت ہوا اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔ تمہارے پیرنٹس نے پریس میں یہ خبر نہیں آنے دی مگر پورے میڈیکل کالج کو تمہارےاس طرح چلے جانے کا پتا تھا۔ پولیس نے تمہاری بہت ساری فرینڈز اور کلاس فیلوز سے تمہارے بارے میں انوسٹی گیشن کی۔ زینب بھی اس میں شامل تھی۔ خوش قسمتی سے ہم بچ گئے۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوگیا۔
“میں نے اتنے سال محنت کرکے اپنا مقام بنایا ہے۔ میں اتنا بہادر نہیں ہوں کہ میں تم سے شادی کرکے لوگوں کی چہ مگوئیوں کا نشانہ بنوں۔ میرا اٹھنا بیٹھنا ڈاکٹرز کی کمیونٹی میں ہے اور امامہ ہاشم کی میری بیوی کے طور پر واپسی مجھے اسکینڈلائز کردے گی۔ تم سے شادی کرکے میں لوگوں سے نظریں نہیں چرانا چاہتا۔ تم اتنے سال کہاں رہی ہو، کیسے رہی ہو، یہ بہت اہم سوالات ہیں۔ میرے پیرنٹس کو تمہاری کسی بات پر یقین نہیں آئے گاور مجھے لوگوں کی نظروں میں اپنا یہ مقام برقرار رکھنا ہے تم بہت اچھی ہو مگر لوگ سمجھتے ہیں کہ تم اچھی لڑکی نہیں ہو اور میں کسی اسکینڈلائزڈ لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا۔ میں برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی یہ کہے کہ میری بیوی کا کردار اچھا نہیں ہے۔ آئی ہوپ، تم میری پوزیشن کو سمجھ سکتی ہو۔”
کافی کے کپ سے اٹھتا دھواں ختم ہوچکا تھا مگر جلال انصر کا چہرہ ابھی کسی دھویں کے پیچھے چھپا نظر آرہا تھا یا پھر یہ اس کی آنکھوں میں اترنے والی دھند تھی جس نے جلال انصر کو غائب کردیا تھا۔
کرسی کے دونوں ہتھوں کا سہارا لیتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
“ہاں، میں سمجھ سکتی ہوں۔” اس نے اپنے آپ کو کہتے سنا۔ “خدا حافظ۔”
“آئی ایم سوری امامہ! ” جلال معذرت کررہا تھا۔ امامہ نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ جیسے نیند کی حالت میں چلتے ہوئے کمرے سے باہر آگئی۔
شام کے سات بج چکے تھے، اندھیرا چھا چکا تھا۔ سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس اور نیون سائن بورڈز روشن تھے۔ سڑک پر بہت زیادہ ٹریفک تھی۔ اس پورے روڈ پر دونوں طرف ڈاکٹرز کے کلینک تھے۔ اسے یاد تھا کسی زمانے میں اس کی بھی خواہش تھی کہ اس کا بھی ایسا ہی کلینک ہو۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ وہ بھی اپنے نام کے آگے اسی طرح کوالی فیکشنز کی ایک لمبی لسٹ دیکھنا چاہتی تھی بالکل ویسے ہی جس طرح جلال انصر کے نام کے ساتھ تھیں۔ بالکل ویسے ہی جس طرح اس روڈ پر لگے ہوئے بہت سے ڈاکٹرز کے نام کے آگے تھیں۔ یہ سب ہوسکتا تھا، یہ سب ممکن تھا، اس کے ہاتھ کی مٹھی میں تھا اگر وہ ۔۔۔۔۔ وہ بہت سال پہلے اپنے گھر سے نہ نکلی ہوتی۔
وہ بہت دیر تک جلال کے ہاسپٹل کے باہر سڑک پر کھڑی خالی الذہنی کی کیفیت میں سڑک پر دوڑتی ٹریفک کو دیکھتی رہی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ یہاں سے کہاں جائے اس نے ایک بار پھر مڑ کر ہاسپٹل کے ماتھے پر جگمگاتے الیکٹرک بورڈ پر ڈاکٹر جلال انصر کا نام دیکھا۔
“تم اچھی لڑکی ہو، مگر لوگ تمہیں اچھا نہیں سمجھتے۔”
اسے چند منٹ پہلے کہے ہوئے اس کے الفاظ یاد آئے، وہاں کھڑے اسے پہلی بار پتا چلا کہ اس نے اپنی پوری زندگی یک طرفہ محبت میں گزاری تھی۔ جلال انصر کو اس سے کبھی محبت تھی ہی نہیں ۔نہ ساڑھے آٹھ سال پہلے، نہ ہی اب۔۔۔۔۔ اس کو صرف امامہ کی ضرورت نہیں تھی، اس کے ساتھ منسلک باقی چیزوں کی بھی ضرورت تھی۔ اس کا لمبا چوڑا فیملی بیک گراؤنڈ۔۔۔۔۔۔ سوسائٹی میں اس کے خاندان کا نام اور مرتبہ۔۔۔۔۔۔ اس کے خاندان کے کانٹیکٹس۔۔۔۔۔ اس کے خاندان کی دولت۔۔۔۔۔۔ جس کے ساتھ نتھی ہوکر وہ جمپ لگا کر راتوں رات اپر کلاس میں آجاتا۔۔۔۔۔۔ا ور وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہی کہ وہ صرف اس کی محبت میں مبتلا تھا۔۔۔۔۔ اس کا خیا تھا کہ وہ ایک بار بھی اس کے کردار کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ وہ کم از کم یہ یقین ضرور رکھے گا کہ وہ غلط راستے پر نہیں چل سکتی مگر وہ پھر غلط تھی۔۔۔۔۔ اس کے نزدیک وہ اسکینڈلائزڈ لڑکی تھی جس کے دفاع میں اپنی فیملی یا دوسرے لوگوں سے کچھ کہنے کے لئے اس کے پاس کوئی لفظ نہیں تھا۔ ساڑھے آٹھ سال پہلے گھر چھوڑتے ہوئے وہ جانتی تھی کہ لوگ اس کے بارے میں بہت کچھ کہیں گے۔ وہ اپنے لئے کانٹوں بھرا راستہ، زہر اگلتی زبانیں اور طنز کرتی نظریں چن رہی تھی مگر یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان لوگوں میں جلال انصر بھی شامل ہوگا۔ زہر اگلتی باتوں میں ایک زبان اس کی بھی ہوگی۔ وہ زندگی میں کم ازکم جلال انصر کو اپنے کردار کے اچھا ہونے کے بارے میں کوئی صفائی یا وضاحت نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ اس کو کوئی صفائی دے ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کے لفظوں نے ساڑھے آٹھ سال بعد پہلی بار اسے صحیح معنوں میں حقیقت کے تپتے ہوئے صحرا میں پھینک دیا تھا۔ وہ معاشرے کے لئے outcast بن چکی تھی۔
“تو امامہ ہاشم یہ ہے تمہاری اوقات، ایک اسکینڈلائزڈ اور داغ دار لڑکی اور تم اپنے آپ کو کیا سمجھے بیٹھی تھیں۔”
وہ فٹ پاتھ پر چلنے لگی۔ ہر بورڈ، ہر نیون سائن کو پڑھتے ہوئے۔۔۔۔۔ وہاں لگے ہوئے بہت سے ڈاکٹروں کے ناموں سے وہ واقف تھی۔ ان میں سے کچھ اس کے کلاس فیلوز تھے۔ کچھ اس سے جونیئر، کچھ اس سے سینئر اور وہ خود کہاں کھڑی تھی کہیں بھی نہیں۔
“تم دیکھنا امامہ! تم کس طرح ذلیل و خوار ہوگی، تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا، کچھ بھی نہیں۔”
اس کے کانوں میں ہاشم مبین کی آواز گونجنے لگی تھی۔ اس نے اپنے گالوں پر سیال مادے کو بہتے محسوس کیا۔ آس پاس موجود روشنیاں اب اس کی آنکھوں کو اور چندھیانے لگی تھیں۔ جلال انصر برا آدمی نہیں تھا۔ بس وہ، وہ نہیں تھا جو سمجھ کر وہ اس کی طرف گئی تھی۔ کیسا دھوکا تھا جو اس نے کھایا تھا۔ جان بوجھ کر کھلی آنکھوں کے ساتھ، وہ بھی ایک مادہ پرست تھا مکمل مادہ پرست۔ صرف اس کا یہ روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا اور اس کے لئے یہ سب ناقابل یقین تھا۔ وہ برا آدمی نہیں تھا اس کی اپنی اخلاقیات تھیں اور وہ ان کے ساتھ جی رہا تھا۔ امامہ ہاشم کو آج اس نے وہ اخلاقیات بتا دی تھیں۔ اس نے ایسی تضحیک اور تحقیر آٹھ سالوں میں پہلی بار دیکھی تھی اور وہ بھی اس شخص کے ہاتھوں جسے وہ خوبیوں کا مجموعہ سمجھتی رہی تھی اور خوبیوں کے اس مجموعے کی نظروں میں وہ کیا تھی؟ گھر سے بھاگی ہوئی ایک اسکینڈلائزڈ لڑکی۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو اس کی آنکھوں سے امڈ رہا تھا اور اس میں سب کچھ بہہ رہا تھا، سب کچھ اس نے بے رحمی کے ساتھ آنکھوں کو رگڑا۔ اپنی چادر کے ساتھ گیلے چہرے کو خشک کرتے ہوئے ایک رکشے کو روک کر وہ اس میں بیٹھ گئی۔
دروازہ سعیدہ اماں نے کھولا تھا۔ وہ سرجھکائے اس طرح اندر داخل ہوئی کہ اس کے چہرے پر ان کی نظر نہ پڑی۔
“کہاں تھیں تم امامہ؟ رات ہوگئی میرا تو دل گھبرا رہا تھا۔ ساتھ والوں کے گھر جانے ہی والی تھی میں کہ کوئی تمہارے آفس جاکر تمہارا پتا کرے۔”
سعیدہ اماں دروازہ بند کرکے تشویش کے عالم میں اس کے پیچھے آئی تھیں۔
“کہیں نہیں اماں! بس آفس میں کچھ کام تھا اس لئے دیر ہوگئی۔”
اس نے ان سے چند قدم آگے چلتے ہوئے پیچھے مڑے بغیر ان سے کہا۔”پہلے تو کبھی تمہیں آفس میں دیر نہیں ہوئی۔ پھر آج کیا ہوگیا کہ رات ہوگئی۔ آخر آج کیوں اتنی دیر روکا انہوں نے تمہیں؟” سعیدہ اماں کو اب بھی تسلی نہیں ہورہی تھی۔
“اس کے بارے میں میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ آئندہ دیر نہیں ہوگی۔” وہ اسی طرح اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولی۔
“کھانا گرم کردوں یا تھوڑی دیر بعد کھاؤگی؟” انہوں نے اس کے پیچھے آتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں، میں کھانا نہیں کھاؤں گی۔ میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ میں کچھ دیر کے لئے سونا چاہتی ہوں۔”
اس نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“درد کیوں ہورہا ہے؟ کوئی دوائی دے دوں یا چائے بنا دوں۔” سعیدہ اماں کو اور تشویش لاحق ہوئی۔
“اماں! پلیز مجھے سونے دیں۔ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہوئی تو میں آپ سے کہہ دوں گی۔”
اس کے سر میں واقعی درد ہورہا تھا۔ سعیدہ اماں کو شاید اندازہ ہوگیا کہ ان کی تشویش اس وقت اسے بے آرام کررہی ہے۔
“ٹھیک ہے تم سوجاؤ۔” وہ جانے کے لئے پلٹیں۔
امامہ نے اپنے کمرے کی لائٹ آن نہیں کی، اس نے اسی طرح اندھیرے میں دروازے کو بند کیا اور اپنےبستر پر آکر لیٹ گئی۔ اپنا کمبل کھینچ کر اس نے سیدھا لیٹتے ہوئے اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔ وہ اس وقت صرف سونا چاہتی تھی۔ وہ کچھ بھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی نہ جلال انصر سے ہونے والی کچھ دیر پہلے کی گفتگو نہ ہی کچھ اور۔۔۔۔۔۔ وہ رونا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اس کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ اسے نیند کیسے آگئی یہ وہ نہیں جانتی تھی مگر وہ بہت گہری نیند سوئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اس سے تین قدم آگے کھڑا تھا۔ اتنا قریب کہ وہ ہاتھ بڑھاتی تو اس کا کندھا چھو لیتی۔ وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ وہ اس کے کندھے سے اوپر خانہ کعبہ کے کھلتے ہوئے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ نور کے اس سیلاب کو دیکھ رہی تھی جس نے وہاں موجود ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے غلاف پر تحریر آیات کو باآسانی دیکھ سکتی تھی۔ وہ آسمان پر موجود ستاروں کی روشنی کو یک دم بڑھتے محسوس کرسکتی تھی۔
ان میں سے آگے کھڑا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا۔ وہاں گونجنے والی واحد آواز اسی کی آواز تھی۔ خوش الحان آواز۔۔۔۔۔ اس نے بے اختیار اپنے آپ کو اس کے پیچھے وہی کلمات دہراتے پایا۔ اسی طرح جس طرح وہ پڑھ رہا تھا۔ مگر زیر لب پھر وہ اپنی آواز اس کی آواز میں ملانے لگی۔ اسی کی طرح زیر لب۔۔۔۔۔ پھر اس کی آواز بلند ہونے لگی پھر اس کو احساس ہوا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی آواز اس کی آواز کے ساتھ بلند نہیں کرپارہی تھی۔ اس نے کوشش ترک کردی۔ وہ اس کی آواز میں آواز ملاتی رہی۔
خانہ کعبہ کا دروازہ کھل چکا تھا۔ اس نے اس شخص کو آگے بڑھ کر دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس نے اسے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے دیکھا۔ وہ دعا کررہا تھا وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ہاتھ نیچے کر لئے۔ وہ اب نیچے بیٹھ کر زمین پر سجدہ کررہا تھا، کعبہ کے دروازے کے سامنے۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔ اب وہ کھڑا ہورہا تھا۔ وہ پلٹنے والا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی آواز شناسا تھی مگر چہرہ، چہرہ دیکھے بغیر۔۔۔۔۔۔ وہ اب مڑ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں تاریکی تھی۔ چند لمحوں کے لئے اسے لگا وہ وہیں ہو، خانہ کعبہ میں۔ پھر جیسے وہ حقیقت میں واپس آگئی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلا دی اور پھر بیڈ پر آکر دوبارہ بیٹھ گئی۔ اسے خواب پوری جزئیات سمیت یاد تھا، یوں جیسے اس نے کوئی فلم دیکھی ہو، مگر اس آدمی کا چہرہ وہ اسے نہیں دیکھ سکی تھی۔ اس کے مڑنے سے پہلے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔
“خوش الحان آواز، جلال انصر کے سوا کس کی ہوسکتی تھی۔” اس نے سوچا۔
“مگر وہ شخص دراز قد تھا۔ جلال انصر سانولا تھا، اس شخص کے احرام میں سے نکلے ہوئے کندھے اور بازوؤں کی رنگت صاف تھی اور اس کی آواز وہ شناسا تھی۔ وہ یہ پہچان نہیں پارہی تھی کہ وہ جلال کی آواز تھی یا کسی اور کی۔
خواب بہت عجیب تھا مگر اس کے سر کا درد غائب ہوچکا تھا اور وہ حیران کن طور پر پرسکون تھی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی۔ وال کلاک ایک بجا رہا تھا۔ امامہ کو یاد آیا وہ رات کو عشاء کی نماز پڑھے بغیر ہی سوگئی تھی۔ اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے نہ ہی سونے سے پہلے وضو کیا تھا۔ اس نے کپڑے تبدیل کئے اور اپنے کمرے سے باہر آگئی۔ سعیدہ اماں کے کمرے میں روشنی نہیں تھی۔ وہ سورہی تھیں۔ پورے گھر میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صحن میں بلب جل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی دھند کی موجودگی بھی بلب کی روشنی میں محسوس کی جاسکتی تھی۔ صحن کی دیواروں کے ساتھ چڑھی سبز بیلیں سرخ اینٹوں کی دیواروں کے ساتھ بالکل ساکت تھیں۔ وہ وضو کرنے کے لئے صحن کے دوسری طرف موجود باتھ روم میں جانا چاہتی تھی مگر صحن میں جانے کے بجائے وہ برآمدے کے ستون کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اپنے سوئیٹر کی آستینوں کو اوپر کرتے ہوئے اس نے اپنی شرٹ کی آستینوں کے بٹن کھولتے ہوئے انہیں اوپر فولڈ کردیا۔ چند لمحوں کے لئے اسے جھرجھری آئی۔ خنکی بہت زیادہ تھی پھر وہ ان بیلوں کو دیکھنے لگی۔ ایک بار پھر جلال انصر کے ساتھ شام کو ہونے والی ملاقات اسے یاد آرہی تھی مگر اس بار اس کی باتوں کی گونج اسے اشک بار نہیں کررہی تھی۔
دستگیری میری تنہائی کی تونے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پر جب ٹوٹتی ہیں
نور ہوجاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقش کف پا تیرا
ایک افسردہ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ گزرے ہوئے پچھلے ساڑھے آٹھ سالوں میں یہ آواز۔۔۔۔۔ اور یہ الفاظ اس کے ذہن سے کبھی معدوم نہیں ہوئے تھے اور پھر اسے کچھ دیر پہلے کے خواب میں سنائی دینے والی وہ دوسری آواز یاد آئی۔
“لبیک الھم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک لاشریک لک۔”
وہ آواز مانوس اور شناسا تھی مگر جلال انصر کی آواز کے علاوہ وہ اور کسی آواز سے واقف نہیں تھی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے خواب میں دیکھے ہوئے اس منظر کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ مقام ملتزم، خانہ کعبہ کا کھلا دروازہ غلاف کعبہ کی وہ روشن آیات۔۔۔۔۔ وہ پرسکون، ٹھنڈی معطر رات۔۔۔۔۔ خانہ کعبہ کے دروازے سے پھوٹتی وہ دھودھیا روشنی اور سجدہ کرتا تلبیہ پڑھتا وہ مرد۔۔۔۔۔ امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر تک وہ صحن میں اتری دھند میں نظریں جمائے اس آدمی کے بارے میں سوچتی رہی۔
اس آدمی کے برہنہ کندھے کی پشت پر ہلکے ہلکے بالوں کے زخم کا ایک مندمل شدہ نشان تھا۔ امامہ کو حیرت ہورہی تھی۔ خواب کی اس طرح کی جزئیات اسے پہلے کبھی یاد نہیں رہی تھیں۔ اس نے زندگی میں پہلی بار خانہ کعبہ کو خواب میں دیکھا تھا اور وہاں بیٹھے اسے خواہش ہوئی تھی کہ کاش وہ کبھی اسی طرح مسجد نبوی ﷺ میں روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑی ہو اسی طرح مسجد نبوی ﷺ خالی ہو، وہاں صرف وہ ہو، وہ اندازہ نہیں کرسکی کہ وہ کتنی دیر وہاں اسی طرح بیٹھی رہی۔ وہ اپنے گردوپیش میں تب لوٹی تھی جب سعیدہ اماں تہجد پڑھنے کے لئے وضو کرنے کی خاطر باہر صحن میں نکلی تھیں۔ امامہ کو وہاں اس وقت دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔
“تمہارے سر کا درد کیسا ہے؟” اس کے پاس کھڑے ہوکر انہوں نے پوچھا۔
“اب تو درد نہیں ہے۔” امامہ نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔
“رات کو کھانا کھائے بغیر ہی سوگئی تھیں؟” وہ اس کے پاس برآمدے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
وہ خاموش رہی۔ سعیدہ اماں ایک گرم اونی شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ امامہ نے ان کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکا دیا۔ اس کے سن چہرے کو گرم شال سے ایک عجیب سی آسودگی کا احساس ہوا۔
“اب تم شادی کرلو آمنہ!۔” سعیدہ اماں نے اس سے کہا وہ اسی طرح گرم شال میں اپنا چہرہ چھپائے رہی۔ سعیدہ اماں پہلی بار یہ بات نہیں کہہ رہی تھیں۔
“آپ کردیں۔” وہ ہمیشہ ان کی اس بات پر خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ کیوں؟ وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن آج پہلی بار وہ خاموش نہیں رہی تھی۔
“تم سچ کہہ رہی ہو؟” سعیدہ اماں اس کی بات پر حیران ہوئی تھیں۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں۔” امامہ نے سر ان کے کندھے سے اٹھا لیا۔
“تمہیں کوئی پسند ہے؟” سعیدہ اماں نے اس سے پوچھا۔ وہ سرجھکائے صحن کے فرش کو دیکھ رہی تھی۔
“کوئی مجھے پسند ہے؟” نہیں مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے۔” سعیدہ اماں کو اس کی آواز بھرائی ہوئی لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتیں اس نے ایک بار پھر ان کی شال میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔
“تمہاری شادی ہوجائے تومیں بھی انگلینڈ چلی جاؤں گی۔”
انہوں نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ وہ ان کی شال میں منہ چھپائے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
“آمنہ! آمنہ بیٹا کیا ہوا؟” انہوں نے پریشان ہوکر اس کا چہرہ اٹھانے کی کوشش کی۔
وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ وہ اسی طرح ان کے ساتھ لگ کر روتی رہی۔
“اللہ کے لئے۔۔۔۔۔ کچھ تو بتاؤ، کیوں رو رہی ہو؟” وہ دل گرفتہ ہوگئیں۔
“کچھ نہیں بس۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ سر میں درد ہورہا ہے۔” انہوں نے زبردستی اس کا گیلا چہرہ اوپر کیا تھا۔ وہ اب اپنی آستینوں سے چہرہ پونچھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے سعیدہ اماں سے آنکھیں نہیں ملائی تھیں۔ سعیدہ اماں ہکا بکا اسے باتھ روم کی طرف جاتے دیکھتی رہیں۔
سعیدہ اماں اس کی شادی کی بات کرنے والی اکیلی نہیں تھیں۔ اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر سبط علی نے ایک بار پھر اس سے شادی کا ذکر کیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تب اس نے کیوں انکار کردیا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اب آزاد تھی۔
“مجھے کچھ عرصہ جاب کرلینے دیں اس کے بعد میں شادی کرلوں گی۔” اس نے ڈاکٹر سبط علی سے کہا تھا۔ شاید یہ پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر سبط علی پر مالی طور پر ایک بوجھ بننے کا احساس تھا، جس سے وہ نجات حاصل کرنا چاہتی تھی یا پھر کہیں اس کے لاشعور میں یہ چیز تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس کی شادی پر ایک بار پھر اخراجات کرنے پڑیں گے اور وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ ان اخراجات کے لئے خود کچھ جمع کرنے کی کوشش کرلے۔ اس نے یہ بات ڈاکٹر سبط علی کو نہیں بتائی تھی مگر اس نے ان سے جاب کی اجازت لے لی تھی۔
شاید وہ کچھ عرصہ ابھی مزید جاب کرتی رہتی، مگر جلال انصر سے اس ملاقات کے بعد وہ ایک تکلیف دہ ذہنی دھچکے سے دوچار ہوئی تھی اور اس نے یکدم سعیدہ اماں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس بات کا ذکر کیا یا نہیں مگر وہ خود ان دنوں مکمل طور پر اس کے لئے رشتے کی تلاش میں سرگرداں تھیں اور اس کوشش کا نتیجہ فہد کی صورت میں نکلا تھا۔
فہد ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کررہا تھا اور اس کی شہرت بھی بہت اچھی تھی۔ فہد کے گھر والے اسے پہلی ہی بار دیکھ کر پسند کرگئے تھے اور اس کے بعد سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس رشتے کی بات کی۔
ڈاکٹر سبط علی کو کچھ تامل ہوا۔۔۔۔۔ شاید وہ اس کی شادی اب بھی اپنے جاننے والوں میں کرنا چاہتے تھے، مگر سعیدہ اماں کی فہد اور اس کے گھر والوں کی بے پناہ تعریفوں کے بعد اور فہد اور اس کے گھر والوں سے خود ملنے کے بعد انہوں نے سعیدہ اماں کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، البتہ انہوں نے فہد کے بارے میں بہت چھان بین کروائی تھی اور پھر وہ بھی مطمئن ہوگئے تھے۔
فہد کے گھر والے ایک سال کے اندر شادی کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پھر اچانک انہوں نے چند ماہ کے اندر شادی پر اصرار کرنا شروع کردیا۔ یہ صرف اتفاق ہی تھا کہ ڈاکٹر سبط علی اسی دوران اپنی کچھ مصڑوفیات کی وجہ سے انگلینڈ میں تھے جب فہد کے گھر والوں کے اصرار پر تاریخ طے کردی گئی تھی۔ سعیدہ اماں فون پر ان سے مشورہ کرتی رہی تھیں اور ڈاکٹر سبط علی نے انہیں اپنا انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ وہ فوری طور پر وہاں نہیں آسکتے تھے، البتہ انہوں نے کلثوم آنٹی کو واپس پاکستان بھجوا دیا تھا۔
اس کی شادی کی تیاری کلثوم آنٹی اور مریم نے ہی کی تھی جو راولپنڈی سے کچھ ہفتوں کے لئے اپنی سسرال لاہور آگئی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی نے اس کی شادی کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد فون پر اس سے طویل گفتگو کی تھی۔ ان کی تینوں بیٹیوں کی شادی ان کے اپنے خاندان میں ہی ہوئی تھی اور ان کے سسرال میں سے کسی نے بھی جہیز نہیں لیا تھا، مگر ڈاکٹر سبط علی نے تینوں بیٹیوں کے جہیز کے لئے مخصوص کی جانے والی رقم انہیں تحفتاً دے دی تھی۔
“ساڑھے آٹھ سال پہلے جب آپ میرے گھر آئی تھیں اور میں نے آپ کو اپنی بیٹی کہا تھا تو میں نے آپ کے لئےبھی کچھ رقم رکھی تھی۔ وہ رقم آپ کی امانت ہے۔ آپ اسے ویسے لے لیں یا پھر میں مریم اور کلثوم سے کہہ دوں گا کہ وہ آپ کے جہیز کی تیاری پر اسے خرچ کریں۔ سعیدہ آپا کی خواہش تھی کہ شادی ان کے گھر پر ہو ورنہ میں چاہتا تھا کہ یہ شادی میرے گھر پر ہو۔ آپ کے گھر پر۔۔۔۔۔” انہوں نے اس سے کہا تھا۔
“مجھے اس بات پر بہت رنج ہے کہ میں اپنی چوتھی بیٹی کی شادی میں شرکت نہیں کرسکوں گا مگر شاید اس میں ہی کوئی بہتری ہے۔ میں پھر بھی آخری وقت تک کوشش کروں گا کہ کسی طرح شادی پرآجاؤں۔”
وہ ان کی باتوں کے جواب میں بالکل خاموش رہی تھی۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا نہ ہی یہ اصرار کیا تھا کہ وہ اپنی شادی پر اپنی رقم خرچ کرے گی اور نہ ہی یہ کہ وہ شادی ان کی رقم سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس دن اس کا دل چاہا ان کا ایک اور احسان لینے کو۔ وہ اس پر اتنے احسان کرچکے تھے کہ اب اسے ان احسانوں کی عادت ہونے لگی تھی۔ اسے صرف ان سے ایک گلہ تھا وہ آخر اس کی شادی میں شرکت کیوں نہیں کررہے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فہد کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ شادی سادگی سے ہو اور اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ امامہ خود بھی شادی سادگی سے کرنا چاہتی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ فہد کے گھر والوں کا سادگی پر اصرار دراصل کچھ اور وجوہات کی بناء پر تھا۔
اس کا نکاح مہندی والی شام کو ہونا تھا، مگر اس شام کو سہ پہر کے قریب فہد کے گھر والوں کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ نکاح اگلے دن یعنی شادی والے دن ہی ہوگا۔ تب تک اسے یا سعیدہ اماں کو کوئی اندازہ نہیں ہوا تھا کہ فہد کے گھر میں کوئی مسئلہ تھا۔ مہندی کی ویسے بھی کوئی لمبی چوڑی تقریب نہیں تھی۔ صرف سعیدہ اماں کے بہت قریبی لوگ تھے یا پھر نزدیکی ہمسائے۔ نکاح کی تقریب کے لئے جس کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا وہ ان لوگوں کو سرو کردیا گیا۔
شادی کی تقریب بھی سادگی سے گھر پر ہی ہونی تھی۔ چار بجے بارات کو آنا تھا اور چھے بجے رخصتی ہونی تھی۔ لیکن بارات آنے سے ایک گھنٹہ پہلے فہد کے گھر والوں نے سعیدہ اماں کو فہد کی روپوشی کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے اس رشتے سے معذرت کرلی۔
امامہ کو چار بجے تک اس سارے معاملے کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ فہد کے گھر سے عروسی لباس پہلے بھجوادیا گیا تھا اور وہ اس وقت وہ لباس پہنے تقریباً تیار تھی جب مریم اس کے کمرے میں چلی آئی۔ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ اس نے امامہ کو کپڑے تبدیل کرنے کے لئے کہا، اس نے امامہ کو فوری طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ فہد کے گھر والے انکار کرکے جاچکے تھے۔ اس نے امامہ سے صرف یہی کہا کہ فہد کے گھر والوں نے شادی کینسل کردی ہے اس کے گھر میں کسی قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ یہ بتا کر بہت افراتفری میں کمرے سے باہر نکل گئی۔ امامہ نے کپڑے تبدیل کرلئے لیکن اس وقت اس کی چھٹی حس نے اسے اس پریشانی سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے مریم کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔
کپڑے تبدیل کرکے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی اور باہر موجود لوگوں کے تاثرات نے اس کے تمام شبہات کی تصدیق کردی تھی۔ وہ سعیدہ اماں کے کمرے میں چلی گئی۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ کلثوم آنٹی، میمونہ نورالعین آپا،۔۔۔۔۔۔ ہمسائے میں رہنے والی چند عورتیں، مریم اور سعیدہ اماں۔۔۔۔۔ مریم ،سعیدہ اماں کو پانی پلا رہی تھی۔ وہ بہت نڈھال نظر آرہی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے اس کے دل کی دھڑکن رکی۔ انہیں کیا ہوا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس پر پڑیں۔ میمونہ آپا اس کی طرف تیزی سے بڑھیں۔
“آمنہ! تم باہر جاؤ۔” انہوں نے اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
“اماں کو کیا ہوا ہے؟” وہ ان کی طرف بڑھ گئی۔ کلثوم آنٹی نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر نکالنا شروع کردیا۔ وہ سعیدہ اماں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
“انہیں کیا ہوا ہے؟” اس نے بے تابی سے مریم سے پوچھا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ سعیدہ اماں کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ امامہ کو دیکھ رہی تھیں مگر اسے یوں لگا جیسے وہ اس وقت اسے دیکھ نہیں پارہیں۔ گلاس ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے انہوں نے اسے ساتھ لگا کر رونا شروع کردیا۔
کمرہ خالی ہوچکا تھا۔ صرف ڈاکٹر سبط علی کی فیملی وہاں تھی۔
“کیا ہوا ہے اماں؟ مجھے بتائیں۔” امامہ نے انہیں نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
“فہد نے اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے جاکر کسی اور سے شادی کرلی ہے۔” مریم نے مدھم آواز میں کہا۔ “وہ لوگ کچھ دیر پہلے معذرت کرنے آئے تھے۔ وہ لوگ یہ رشتہ ختم کرگئے ہیں۔”
چند منٹ تک وہ بالکل ساکت رہی تھی۔ خون کی گردش، دل کی دھڑکن، چلتی ہوئی سانس۔۔۔۔۔۔ چند سیکنڈز سب کچھ جیسے رک گیا تھا۔
“کیا میرے ساتھ یہ بھی ہونا تھا؟” اس نے بے اختیار سوچا۔
“کوئی بات نہیں اماں! آپ کیوں رو رہی ہیں؟” اس نے بڑی سہولت سے سعیدہ اماں کے آنسو صاف کیے۔ سب کچھ ایک بار پھر بحال ہوگیا تھا سوائے اس کی رنگت کے وہ فق تھی۔
“آپ پریشان نہ ہوں۔” سعیدہ اماں کو اس کی باتوں پر اور رونا آیا۔
“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔” امامہ نے انہیں بات مکمل کرنے نہیں دی۔
“اماں! چھوڑیں ناں۔ کوئی بات نہیں، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ لیٹ جائیں، کچھ دیر آرام کرلیں۔” وہ انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
“میں تمہارے دل کی حالت کو سمجھتی ہوں۔ میں تمہارے غم کو جانتی ہوں۔ آمنہ! میری بچی مجھے معاف کردو۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔” انہیں تسلی نہیں ہوپارہی تھی۔
“مجھے کوئی غم نہیں ہے اماں! کوئی تکلیف نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے سعیدہ اماں سے کہا۔
سعیدہ اماں یکدم روتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گئیں۔
امامہ کسی سے کوئی بات کہے بغیر ایک بار پھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کے بیڈ پر تمام چیزیں اسی طرح پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے انہیں سمیٹنا شروع کردیا۔ اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس وقت وہاں بیٹھی رو رہی ہوتی مگر وہ غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔
“اگر میں جلال کے نہ ملنے پر صبر کرسکتی ہوں تو یہ تو پھر ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ میری کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی۔” اس نے اپنے عروسی لباس کو تہ کرتے ہوئے سوچا۔
“زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، یہاں بھی لوگوں کے سامنے نظریں چرا کر اور سرجھکا کر چلنا پڑے گا۔ کچھ باتیں اور بے عزتی برداشت کرنی پڑے گی تو پھر کیا ہوا۔ اس میں میرے لئے نیا کیا ہے۔”
مریم کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ چیزیں سمیٹنے لگی۔
“ابو کو فون کردیا ہے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
وہ پہلی بار کچھ جھنجھلائی۔
“کیوں خوامخواہ تم لوگ انہیں تنگ کررہے ہو۔ انہیں وہاں سکون سے رہنے دو۔”
“اتنا بڑا حادثہ ہوگیا ہے اور تم۔۔۔۔۔۔”
اس نے مریم کی بات کاٹ دی۔
“مریم میری زندگی میں اس سے بڑے حادثے ہوچکے ہیں۔ یہ کیا معنی رکھتا ہے۔ مجھے تکلیف سہنے کی عادت ہوچکی ہے۔ تم سعیدہ اماں کو تسلی دو۔ مجھے کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہو اور ابو کو بھی خوامخواہ تنگ نہ کرو۔ وہ وہاں پریشان ہوں گے۔”
مریم کو چیزیں سمیٹتے ہوئے وہ ابنارمل لگی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی۔ کلثوم آنٹی، سعیدہ اماں کے ساتھ یکدم اندر آگئیں۔ امامہ کو ان دونوں کے چہرے بہت عجیب لگے۔ کچھ دیر پہلے کے برعکس وہ دونوں بے حد خوش نظر آرہی تھیں۔ اس کے کسی سوال سے پہلے کلثوم آنٹی نے اسے سالار کے بارے میں بتانا شروع کردیا۔ وہ دم بخود ان کی باتیں سن رہی تھی ۔
“اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو تمہارا نکاح اس سے کردیا جائے؟” آنٹی نے اس سے پوچھا۔
“سبط علی اسے بہت اچھی طرح جانتے تھے، وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔” وہ اسے تسلی دینے کی کوشش کررہی تھیں۔
“اگر ابو اسے جانتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ جیسا بہتر سمجھیں کریں۔”
“اس کا ایک دوست تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہے۔” وہ اس مطالبے پر کچھ حیران ہوئی تھی مگر اس نے فرقان سے ملنے سے انکار نہیں کیا۔
“میرے دوست نے آٹھ نو سال پہلے ایک لڑکی سے نکاح کیا تھا۔ اپنی پسند سے۔”
وہ چپ چاپ فرقان کو دیکھتی رہی۔
“وہ آپ سے شادی پر تیار ہے، مگر وہ اس لڑکی کو طلاق دینا نہیں چاہتا۔ کچھ وجوہات کی بنا پر وہ لڑکی اس کے ساتھ نہیں رہی لیکن وہ اب بھی اسے اپنے گھر میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کو یہ سب بتا دوں تاکہ اگر آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہو تو اس بات کو یہیں ختم کردیں گے لیکن میں آپ سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ شاید وہ لڑکی اسے کبھی بھی نہ ملے، آٹھ نو سال سے اس کا میرے دوست کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ ایک موہوم سی امید ہے، جس پر وہ اس کا انتظار کررہا ہے۔ ڈاکٹر سبط علی صاحب آپ کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے آپ میری بہن کی طرح ہیں۔ اس وقت اس صورت حال سے نکلنے کے لئے یہی بہتر ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔ وہ لڑکی اسے کبھی بھی نہیں ملے گی کیونکہ نہ تو وہ اسے پسند کرتی تھی نہ ہی آج تک اس نے اس سے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے اور پھر اتنا لمبا عرصہ گزر چکا ہے۔”
وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
“دوسری بیوی۔۔۔۔۔ تو امامہ ہاشم یہ ہے تمہاری وہ تقدیر جو اب تک تم سے پوشیدہ تھی۔” اس نے سوچا۔
“اگر ڈاکٹر سبط علی اس شخص کے بارے میں یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس کو میرے لئے منتخب کررہے ہیں تو ہوسکتا ہے میرے لئے یہی بہتر ہو۔ میں جلال کی بھی تو دوسری بیوی بننے کے لئے تیار تھی، اس سے محبت کرنے کے باوجود۔۔۔۔۔ اور اس شخص کی بیوی بننے پر مجھے کیا اعتراض ہوگا جس سے مجھے محبت بھی نہیں ہے۔”
اسے ایک بار پھر جلال یاد آیا۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کی بیوی جب بھی آئے وہ اسے رکھ سکتے ہیں۔ میں بڑی خوشی سے ان کو یہ اجازت دیتی ہوں۔” مدھم آواز میں کسی ملال کے بغیر اس نے فرقان سے کہا۔
پندرہ منٹ بعد اسے پہلا شاک اس وقت لگا تھا جب نکاح خواں نے اس کے سامنے سالار سکندر کا نام لیا تھا۔
“سالار سکندر۔۔۔۔۔ ولد سکندر عثمان۔” اسے نکاح خواں کے منہ سے نکلنے والے لفظو ں سے جیسے کرنٹ لگا تھا۔وہ نام ایسے نہیں تھے جو ہر شخص کے ہوتے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: