Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 8

0
پیرِکاملﷺ از عمیرہ احمد – قسط نمبر 8

–**–**–

اگلی بار جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک پرائیویٹ کلینک میں موجود تھا۔ آنکھیں کھول کر اس نے ایک بار پھر اپنے اردگرد دیکھنے کی کوشش کی۔ کمرے میں اس وقت ایک نرس موجود تھی جو اس کے پاس کھڑی ڈرپ کو صحیح کرنے میں مصروف تھی۔ سالار نے اسے مسکراتے دیکھا تھا وہ اس سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر اس کا ذہن ایک بار پھر تاریکی میں ڈوب گیا۔
دوسری بار اسے کب ہوش آیا، اسے اندازہ نہیں ہوا مگر دوسری بار آنکھیں کھولنے پر اس نے اس کمرے میں کچھ شناسا چہرے دیکھے تھے۔ اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ممی اس کی طرف بڑھ آئی تھیں۔
“کیسا محسوس کر رہے ہو تم؟” انہوں نے اس پر جھکتے ہوئے بے تابی سے کہا۔
“جسٹ فائن۔” سالار نے دور کھڑے سکندر عثمان کو دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔ اس سے پہلے کہ اس کی ممی کچھ اور کہتیں کمرے میں موجود ایک ڈاکٹر آگے آ گیا تھا۔ وہ اس کی نبض چیک کرنے لگا تھا۔
ڈاکٹر نے انجکشن لگانے کے بعد ایک بار پھر اسے ڈرپ لگائی۔ سالار نے کچھ بیزاری کے ساتھ یہ کاروائیاں دیکھیں۔ ڈرپ لگانے کے بعد وہ سکندر عثمان اور اس کی بیوی سے باتیں کرنے لگا۔ سالار اس گفتگو کے دوران چھت کو گھورتا رہا پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹر کمرے سے نکل گیا۔
کمرے میں اب بالکل خاموشی تھی۔ سکندر عثمان اور اس کی بیگم اپنا سر پکڑے بیٹھے تھے۔ ان کی تمام کوششوں اور احتیاط کے باوجود یہ سالار سکندر کی خود کشی کی چوتھی کوشش تھی اور اس بار وہ واقعی مرتے مرتے بچا تھا۔ ڈاکٹرزکے مطابق اگر چند منٹو ں کی تاخیر ہوجاتی تو وہ اسے نہیں بچا سکتے تھے۔
سکندر اور ان کی بیوی کو ملازم نے رات کے دو بجے سالار کی خودکشی کی اس کوشش کے بارے میں بتایا تھا اور وہ دونوں میاں بیوی پوری رات سو نہیں سکے تھے۔ سکندر عثمان نے صبح فلائٹ ملنے تک تقریباً ڈیڑھ سو سگریٹ پھونک ڈالے تھے، مگر اس کے باوجود ان کی بے چینی اور اضطراب میں کمی نہیں ہو پار رہی تھی۔
“میری سمجھ میں نہیں آتا یہ آخر اس طرح کی حرکتیں کیوں کرتا ہے۔ آخر اس پر ہماری نصیحتوں اور ہمارے سمجھانے کا اثر کیوں نہیں ہوا۔” سکندر عثما ن نے دوران سفر کہا۔”میرا تو دماغ پھٹنے لگتا ہے جب میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں۔ کیا نہیں کیا میں نے اس کے لئے۔ ہر سہولت، بہترین تعلیم حتیٰ کہ بڑے سے بڑے سائیکاٹرسٹ کو دکھا چکا ہوں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔۔۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے جو مجھے یہ سزا مل رہی ہے۔ جاننے والوں کے درمیان مذاق بن گیا ہوں میں اس کی وجہ سے۔” سکندر عثمان بہت پریشان تھے۔” ہر وقت میرا دم حلق میں اٹکا رہتا ہے کہ پتا نہیں وہ کس وقت کیا کر گزرے۔ اتنی احتیاط برتنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک بار ہم غافل ہوئے اور وہ پھر وہی حرکت کر گزرا ہے۔” طیبہ نے اپنی آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کو ٹشو کے ساتھ صاف کیا۔ وہ دونوں اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے کراچی سے اسلام آباد آئے تھے مگر سالار کے سامنے آ کر دونوں کو چپ لگ گئی تھی۔ ان دونوں ہی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس حالت میں اس سے کیا کہیں۔
سالار کو ان کی دلی اور ذہنی کیفیات کا اچھی طرح اندازہ تھا اور ان کی خاموشی کو وہ غنیمت جان رہا تھا۔ انہوں نے اس دن اس سے کچھ نہیں کہا تھا۔ اگلے دن بھی وہ دونوں خاموش ہی رہے تھے۔
مگر تیسرے دن ان دونوں نے اپنی خاموشی توڑ دی تھی۔
“مجھے صرف یہ بتاؤ کہ آخر تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟”سکندر نے اس رات بڑی تحمل مزاجی سے اس کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا تھا۔” آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے۔ میں نے اسی وعدے پر تمہیں اسپورٹس کار بھی لے کر دی تھی۔ ہر بات مان رہے ہیں ہم لوگ تمہاری، پھر بھی تمہیں قطعاً احساس نہیں ہے ہم لوگوں کا، نہ خاندان کی عزت کا۔” سالار اسی طرح چپ بیٹھا رہا۔
“کسی اور کا نہیں تو تم ہم دونوں کا ہی خیال کرو۔ تمہاری وجہ سے ہماری راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔” طیبہ نے کہا۔” “تمہیں کوئی پریشانی، کوئی پرابلم ہے، تو ہم سے ڈسکس کرو، ہم سے کہو۔۔۔۔۔ مگر اس طرح مرنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر تم ان کوششوں میں کامیاب ہو جاتے تو ہمارا کیا ہوتا۔” سالار خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔ ان کی باتوں میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ خود کشی کی ہر کوشش کے بعد وہ ان سے اسی طرح کی باتیں سنتا تھا۔
“کچھ بولو، چپ کیوں ہو؟ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے تمہیں؟” طیبہ نے جھنجھلا کر کہا۔ وہ انہیں دیکھنے لگا۔” ماں باپ کو اس طرح ذلیل کر کے بڑی خوشی ملتی ہے تمہیں۔”
“اس قدر شاندار مستقبل ہے تمہارا اور تم اپنی احمقانہ حرکتوں سے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ لوگ ترستے ہیں اس طرح کے اکیڈمک ریکارڈ کے لئے۔” سکندر عثمان نے اسے اس کا اکیڈمک ریکارڈ یاد دلانے کی کوشش کی۔سالار نے بے اختیار ایک جماہی لی۔ وہ جانتا تھا اب وہ اس کے بچپن سے لے کر اس کی اب تک کی کامیابیوں کو دہرانا شروع کریں گے۔ ایسا ہی ہوا تھا۔ اگلے پندرہ منٹ اس موضوع پر بولنے کے بعد انہوں نے تھک کر پوچھا۔
“آخر تم کچھ بول کیوں نہیں رہے ، بولو”
“میں کیا بولوں، سب کچھ تو آپ دونوں نے کہہ دیا۔” سالارنے کچھ اکتائے ہوئے انداز میں کہا۔” میری زندگی میرا پرسنل معاملہ ہے پھر بھی میں نے آپ کو بتایا ہے کہ دراصل میں مرنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔” سکندر نے اس کی بات کاٹی۔
“تم جو بھی کر رہے تھے، وہ مت کرو، ہم پر کچھ رحم کھاؤ۔” سالار نے ناراضی سے باپ کو دیکھا۔
“تم آخر یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ تم آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے۔ فضول میں بحث کیوں کرتے جا رہے ہو؟” اس بار طیبہ نے اس سے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے، نہیں کروں گا، ایسی کوئی بھی حرکت۔” سالار نے بے زاری سے جیسے ان دونوں سے جان چھڑانے کے لئے کہا۔ سکندر نے ایک گہری سانس لی۔ وہ اس کے وعدے پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ نہ وہ۔۔۔۔۔ نہ ان کی بیوی۔۔۔۔۔ مگر ایسے وعدے لینے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ بچپن سے اپنے اس بیٹے پر فخر کرتے آ رہے تھے، مگر پچھلے کچھ سالوں سے ان کا وہ فخر ختم ہو گیا تھا۔ جتنا پریشان انہیں سالار نے کیا تھا اتنا ان کے باقی بچوں نے مل کے بھی نہیں کیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“اب کیسا ہے تمہارا دوست؟ گئے تھے تم اس کی خیریت دریافت کرنے؟” امامہ وسیم کے ساتھ مارکیٹ جا رہی تھی کہ اچانک اسے سالار کا خیال آیا۔
“پہلے سے تو حالت کافی بہتر ہے اس کی۔ شاید کل پرسوں تک ڈسچارج ہو جائے۔” وسیم نے اسے سالار کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔” تم چلو گی واپسی پر اس کو دیکھنے؟” وسیم کو اچانک خیال آیا۔
“میں؟” امامہ حیران ہوئی۔” میں کیا کروں گی جا کر۔۔۔۔۔”
“خیریت دریافت کرنا اور کیا کرنا ہے تمہیں۔” وسیم نے سنجیدگی سے کہا۔
“اچھا۔” امامہ نے کچھ تامل سے کہا۔
“چلو ٹھیک ہے، چلیں گے۔ حالانکہ اس طرح کے مریض کی عیادت کرنا فضول ہے۔” اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“ایسے مجھے توقع تھی کہ ا س کے پیرنٹس ہمارے گھر آئیں گے، شکریہ وغیرہ ادا کرنے کہ ہم نے ان کے بیٹے کی جان بچا لی۔ کس قدر بروقت مدد کی تھی ہم نے، مگر انہوں نے تو بھولے سے ہمارے گھر کا رخ نہیں کیا۔” امامہ نے تبصرہ کیا۔
“تم ان بیچاروں کی کنڈیشن کا اندازہ ہی نہیں کر سکتیں۔ کس منہ سے وہ شکریہ ادا کرنے آئیں اور پھر اگر کوئی یہ پوچھ بیٹھے کہ آپ کے بیٹے نے ایسی حرکت کیوں کی تو وہ دونوں کیا جواب دیں گے۔۔۔۔۔ وہ بیچارے عجیب مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔”
وسیم نے قدرے افسوس کرنے والے انداز میں کہا۔” ویسے اس کے پیرنٹس نے میرا بہت شکریہ ادا کیا ہے اور امی اور بابا پرسوں جب اس کی خیریت دریافت کرنے گئے تھے تو انہوں نے وہاں بھی ان دونوں کا بہت شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ تو امی اور بابا کی سمجھداری تھی کہ انہوں نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا سالار کے بارے میں، ورنہ تو ادھر بھی خاصی خفت کا سامنا کرنا پڑتا انہیں۔” وسیم نے گاڑی موڑتے ہوئے کہا۔
“مگر آخر تمہارے اس دوست کا مسئلہ کیا ہے، کیوں بیٹھے بٹھائے اس طرح کی احمقانہ حرکتیں کرنے لگتا ہے؟” امامہ نے پوچھا۔
“تم مجھ سے اس طرح پوچھ رہی ہو جیسے وہ مجھے سب کچھ بتا کر یہ سب کچھ کرتا ہو گا۔ مجھے کیاپتا وہ کس لئے یہ سب کرتا ہے یا کیوں کرتا ہے۔”
“تمہارا اتنا گہرا دوست ہے، تم پوچھتے کیوں نہیں اس سے؟”
“اتنا گہرا بھی نہیں ہے کہ ایسی باتوں کے بارے میں بھی مجھے بتانے لگے اور ویسے بھی میں کیوں کریدوں، ہو گا اس کا کوئی مسئلہ۔”
“تو پھر بہتر نہیں ہے کہ تم ایسے دستوں سے کچھ فاصلے پر رہو، ایسے لوگوں سے دوستی اچھی نہیں ہوتی۔ اگر کل کو تم نے بھی اس طرح کی حرکتیں شروع کر دیں تو۔۔۔۔۔؟”
“ویسے تم نے اس دن جو حرکت کی تھی وہ اگر اسے یاد رہی تو ہماری دوستی میں خود ہی خاصا فرق آ جائے گا۔” وسیم نے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
“میں نہیں سمجھتی کہ ا سے وہ تھپڑ یاد ہو گا۔ وہ صحیح طور پر ہوش میں تو نہیں تھا۔ تم سے ذکر کیا اس نے اس بارے میں؟” امامہ نے پوچھا۔
“نہیں مجھ سے کہا تو نہیں مگر ہو سکتا ہے کہ اسے یاد ہو۔ تم نے اچھا نہیں کیا تھا۔”
“اس نے حرکت ہی ایسی کی تھی۔ ایک تو اپنا ہاتھ کھینچ رہا تھا دوسرے گالیاں دے رہا تھا اوپر سے میرا دوپٹہ بھی کھینچ لیا۔”
“اس نے دوپٹہ نہیں کھینچا تھا، اس کا ہاتھ لگا تھا۔” وسیم نے سالار کا دفاع کرتے ہوئے کہا۔
“جو بھی تھا، اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا تھا مگر بعد میں مجھے بھی افسوس ہوا تھا اور میں نے تو اللہ کا بہت شکر ادا کیا کہ وہ بچ گیا۔ اگر کہیں وہ مر جاتا تو مجھے تو بہت ہی پچھتاوا ہوتا اپنے اس تھپڑ کا۔” امامہ نے قدرے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
“چلو تم آج جا رہی ہو تو معذرت کر لینا۔” وسیم نے مشورہ دیا۔
“کیوں ایکسکیوز کروں، ہو سکتا ہے اسے کچھ یاد ہی نہ ہو پھر میں خواہ مخواہ گڑے مردے اکھاڑوں۔ اسے یاد دلاؤں کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیاتھا۔” امامہ نے فوراً کہا۔
“اور فرض کرو اسے سب کچھ یاد ہوا تو۔۔۔۔۔؟”
“تو۔۔۔۔۔ تو کیا ہو گا۔۔۔۔۔ وہ کون سا ہمارا رشتہ دار ہے کہ اس سے تعلقات خراب ہو جائیں گے یا میل جول میں فرق پڑے گا۔” امامہ نے لاپرواہی سے کہا۔
شاپنگ کرنے کے بعد سالار اسے کلینک لے آیا جہاں سالار زیر علاج تھا۔
وہ دونوں جس وقت اس کمرے میں داخل ہوئے اس وقت وہ سوپ پینے میں مصروف تھا۔
سالار نے وسیم کے ساتھ آنے والی لڑکی کو دیکھا اور فوراً پہچان لیا تھا۔ اگرچہ اس رات اس حالت میں وہ اسے شناخت نہیں کر سکا مگر اس وقت اسے دیکھتے ہی وہ اسے پہچان گیا تھا۔ اپنی ممی سے یہ بات وہ پہلے ہی جان چکا تھا کہ وسیم کی بہن نے اسے فرسٹ ایڈ دی تھی مگر اسے وہ فرسٹ ایڈ یاد نہیں تھی، بس وہ زناٹے دار تھپڑ یاد تھا جو اس رات اسے پڑا تھا۔ اس لئے امامہ کو دیکھتے ہی وہ سوپ پیتے پیتے رک گیا۔
اس کی چبھتی ہوئی نظروں سے امامہ کو اندازہ ہو گیا کہ اسے یقیناً اس رات ہونے والے واقعات کسی نہ کسی حد تک یاد تھے۔
رسمی علیک سلیک کے بعد اس کی ممی امامہ کا شکریہ ادا کرنے لگیں، جبکہ سالار نے سوپ پیتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ وسیم سے اس کی دوستی کو کئی سال گزر چکے تھے اور اس نے وسیم کے گھر میں امامہ کو بھی کئی بار دیکھا تھا مگر اس نے پہلے کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ اس دن پہلی بار وہ اس پر قدرے تنقیدی انداز میں غور کر رہا تھا۔ اس کے دل میں امامہ کے لئے تشکر یا احسان مندی کے لئے کوئی جذبات نہیں تھے۔ اس کی وجہ سے اس کے سارے پلان کا بیڑہ غرق ہو گیا تھا۔
امامہ اس کی ممی سے گفتگو میں مصروف تھی مگر وہ وقتاً فوقتاً اپنے اوپر پڑنے والی اس کی نظروں سے بھی واقف تھی۔ زندگی میں پہلی بار اسے کسی کی نظریں اتنی بری لگی تھیں۔
ایک لمحے کے لئے اس کا دل چاہا وہ اٹھ کر وہاں سے بھاگ جائے۔سالار کے بارے میں اس کی رائے اور بھی خراب ہو گئی تھی۔ وہ اپنے اس تھپڑ کے لئے معذرت کے ارادے سے وہاں آئی تھی مگر اس وقت اس کا دل چاہا اسے دو چار اور تھپڑ لگا دے۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد فوراً ہی وہ واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور واپس جاتے ہوئے اس نے سالار کے ساتھ علیک سلیک کا تکلف بھی نہیں کیا تھا۔ وہ صرف اس کی ممی کے ساتھ دعا سلام کے بعد سالار کی طرف دیکھے بغیر باہر نکل آئی تھی اور باہر آ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
“اس طرح کے دوست بنائے ہوئے ہیں تم نے؟” اس نے باہر نکلتے ہی وسیم سے کہا جس نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
“کیوں ، اب کیا ہوا ہے؟”
“اسے دیکھنے تک کی تمیز نہیں ہے۔ اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ میں اس کے دوست کی بہن ہوں اور اس کے دوست کے ساتھ اس کے کمرے میں موجود ہوں۔”
وسیم اس کی بات پر کچھ خفیف سا ہو گیا۔
“یہ آدمی اس قابل نہیں کہ اس کی عیادت کے لئے جایا جائے اور تم اس کے ساتھ میل جول بند کرو۔”
“اچھا ٹھیک ہے میں محتاط رہوں گا۔ اب تم بار بار اس بات کو نہ دہراؤ۔” وسیم نے موضوع گفتگو بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ امامہ دانستہ طور پر خاموش ہو گئی مگر سالار اس کے ناپسندیدہ افراد کی لسٹ میں شامل ہو چکا تھا۔
یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ وہ ان دنوں کچھ چھیاں گزارنے اسلام آباد آئی ہوئی تھی ورنہ شاید سالار سے اس کا اتنا قریبی اور اتنا ناپسندیدہ تعارف اور تعلق کبھی پیدا نہ ہوتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے پہلی بار جلال انصر کو تب قریب سے دیکھا جب ایک دن وہ چاروں کالج کے لان میں بیٹھی گفتگو میں مصروف تھیں، وہ وہاں کسی کام سے آیا تھا۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد وہ زینب کے ساتھ چند قدم دور جا کھڑا ہوا تھا۔ امامہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکی۔ ایک عجیب سی مسرت اور سر خوشی کا احساس اسے گھیرے میں لے رہا تھا۔
وہ چند منٹ زینب سے بات کرنے کے بعد وہیں سے چلا گیا۔ امامہ اس کی پشت پر نظریں جمائے اس وقت تک اسی دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔ اس کے اردگرد بیٹھی اس کی فرینڈز کیا باتیں کر رہی تھیں، اسے اس وقت اس کا کوئی احساس نہیں تھا جب وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوا تو یکدم جیسے دوبارہ اپنے ماحول میں واپس آ گئی۔
جلال انصر سے اس کی دوسری ملاقات زینب کے گھر پر ہوئی تھی۔ اس دن وہ کالج سے واپسی پر زینب کے ساتھ اس کے گھر آئی تھی۔ زینب کچھ دنوں سے ان سب کو اپنے ہاں آنے کے لئے کہہ رہی تھی۔ باقی سب نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیا تھا، مگر امامہ اس دن اس کے ساتھ اس کے گھر چلی آئی تھی۔ اس کے گھر آ کر اسے عجیب سے سکون کا احساس ہوا تھا۔ شاید اس احساس کی وجہ جلال انصر سے اس گھر کی نسبت تھی۔
وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی اور زینب چائے تیار کرنے کے لئے کچن میں گئی تھی۔ جب جلال ڈرائینگ روم میں داخل ہوا۔ امامہ کو وہاں دیکھ کر کچھ چونک گیا۔ شاید اسے امامہ کو وہاں دیکھنے کی توقع نہیں تھی۔
“السلام علیکم! کیا حال ہے آپ کا؟” جلال نے شاید اس طرح بے دھڑک اندر داخل ہونے پر اپنی جھینپ مٹانے کے لئےکہا۔ امامہ نے رنگ بدلتے چہرے کے ساتھ اس کا جواب دیا۔
“زینب کے ساتھ آئی ہیں آپ؟” اس نے پوچھا۔
“جی۔”
“زینب کہاں ہے۔ میں دراصل اس کو ڈھونڈتے ہوئے یہاں آ گیا۔ مجھے پتا نہیں تھا کہ اس کی کوئی دوست یہاں موجود ہے۔” کچھ معذرت خواہانہ انداز میں کہتے ہوئے وہ پلٹ گیا۔
“آپ بہت اچھی نعت پڑھتے ہیں۔” امامہ نے بے ساختہ کہا۔ وہ ٹھٹک گیا۔
“شکریہ۔” وہ کچھ حیران نظر آیا۔” آپ نے کہاں سنی ہے؟”
“ایک دن میں نے زینب کو فون کیا تھا جب تک فون ہولڈ رہا مجھے آپ کی آواز آتی رہی، پھر زینب سے آپ کے بارے میں پتا چلا۔ میں اس نعتیہ مقابلے میں بھی گئی تھی جہاں آپ نےوہ نعت پڑھی تھی۔”
وہ بے اختیار کہتی چلی گئی۔ جلال انصر کی سمجھ میں نہیں آیا وہ حیران ہو یا خوش۔
“بہت اچھی تو نہیں، بس پڑھ لیتا ہوں۔ اللہ کا کرم ہے۔” اس نے حیرت کے اس جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے سفید چادر میں لپٹی اس دبلی پتلی دراز قامت لڑکی کو دیکھا جس کی گہری سیاہ آنکھیں کوئی بہت عجیب سا تاثر لئے ہوئے تھیں۔ اپنی آواز کی تعریف وہ بہت سوں سے سن چکا تھا مگر اس وقت اس لڑکی کی تعریف اس کے لئے قدرے غیر معمولی تھی اور جس انداز میں اس نے یہ کہا تھا وہ اس سے بھی زیادہ عجیب۔
وہ پلٹ کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا۔ وہ ویسے بھی لڑکیوں سے گفتگو میں مہارت نہیں رکھتا تھا اور پھر ایک ایسی لڑکی سے گفتگو جس سے وہ صرف چہرے کی حد تک واقف تھا۔
امامہ ایک عجیب سی مسرت کے عالم میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نے جلال انصر سے بات کی تھی۔ اپنے سامنے۔۔۔۔۔ خود سے اتنے قریب۔۔۔۔۔ وہ ڈرائنگ روم کے دروازے سے کچھ آگے کارپٹ پر اس جگہ کو دیکھتی رہی جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑا تھا۔ تصور کی آنکھ سے وہ اسے ابھی بھی وہیں دیکھ رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ان کی اگلی ملاقات ہاسپٹل میں ہوئی۔ پچھلی دفعہ اگر امامہ دانستہ طور پر زینب کے گھر گئی تھی تو اس بار یہ ایک اتفاق تھا۔ امامہ، رابعہ کے ساتھ وہاں آئی تھی جسے وہاں اپنی کسی دوست سے ملنا تھا۔ ہاسپٹل کے ایک کوریڈور میں فائنل سٹوڈنٹس کے ایک گروپ میں اس نے جلال انصر کو دیکھا۔ اس کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔ کوریڈور میں اتنا رش تھا کہ وہ اس کے پاس نہیں جا سکتی تھی اور اس وقت پہلی بار امامہ کو احسا س ہوا کہ اسے سامنے دیکھ کر اس کے لئے رک جانا کتنا مشکل کام تھا۔ رابعہ کی دوست کے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی اس کا دھیان مکمل طور پر باہر ہی تھا۔
ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ رابعہ کے ساتھ اس کی دوست کے کمرے سے باہر آئی تھی۔ اب وہاں فائنل ائیر کے اسٹوڈنٹس کا وہ گروپ نہیں تھا۔ امامہ کو بے اختیار مایوسی ہوئی۔ رابعہ اس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے باہر نکل رہی تھی جب سیڑھیوں پر ان دونوں کا آمنا سامنا جلال سے ہو گیا۔ امامہ کے جسم سے جیسے ایک کرنٹ سا گزر گیا تھا۔
“السلام علیکم۔ جلال بھائی! کیسے ہیں آپ؟” رابعہ نے پہل کی تھی۔
“اللہ کا شکر ہے۔”
اس نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
“آپ لوگ یہاں کیسے آ گئے؟” اس بار جلال نے امامہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“میں اپنی ایک فرینڈ سے ملنے آئی تھی اور امامہ میرے ساتھ آئی تھی۔” رابعہ مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی جبکہ امامہ خاموشی سے اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔
دستگیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
اس کی آواز سنتے ہوئے وہ ایک بار پھر ٹرانس میں آ رہی تھی۔ اس نے بہت کم لوگوں کو اتنے شستہ لہجے میں اردو بولتے ہوئے سنا تھا، جس لہجے میں وہ بات کر رہا تھا۔ پتا نہیں کیوں ہر بار اس کی آواز سنتے ہی اس کے کانوں میں اس کی پڑھی ہوئی وہ نعت گونجنے لگتی تھی۔ اسے عجیب سا رشک آ رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے۔
جلال نے رابعہ سے بات کرتے ہوئے شاید اس کی محویت کو محسوس کیا تھا، اسی لئے بات کرتے کرتے اس نے امامہ کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ امامہ نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں۔ بے اختیار اس کا دل چاہا تھا وہ اس شخص کے اور قریب چلی جائے۔ جلال سے نظریں ہٹا کر اردگرد گزرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے اس نے تین بار لاحول پڑھی۔”شاید اس وقت شیطان میرے دل میں آ کر مجھے اس کی طرف راغب کر رہا ہے۔” اس نے سوچا مگر لاحول پڑھنے کے بعد بھی اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اب بھی جلال کے لئے ویسی ہی کشش محسوس کر رہی تھی۔
اسجد سے اتنے سالوں کی منگنی کے بعد بھی کبھی اس نے اپنے آپ کو اس کے لئے اس طرح بےاختیار ہوتے نہیں دیکھا تھا جس طرح وہ اس وقت ہو رہی تھی۔ وہاں کھڑے اسے پہلی بار جلال سے بہت زیادہ خوف آیا۔ میں کیا کروں گی اگر میرا دل اس آدمی کو دیکھ کر اسی طرح بے اختیار ہوتا رہا، آخر اسے دیکھ کر مجھے۔۔۔۔۔ اس نے جیسے بے بسی کے عالم میں سوچا۔ میں اتنی کمزور تو کبھی بھی نہیں تھی کہ اس جیسے آدمی کو دیکھ کر اس طرح۔۔۔۔۔ اس نے اپنے وجود کو موم کا پایا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“بھائی! آپ فارغ ہیں؟” اس رات زینب دروازے پر دستک دے کر جلال کے کمرے میں داخل ہوئی۔
“ہاں ، آ جاؤ۔” اس نے اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے گردن موڑ کر زینب کو دیکھا۔
“آپ سے ایک کام ہے۔” زینب اس کے پاس آتے ہوئے بولی۔
“کیا کام ہے؟”
“آپ ایک کیسٹ میں اپنی آواز میں کچھ نعتیں ریکارڈ کر دیں۔” زینب نے کہا۔ جلا ل نے حیرت سے اس کی فرمائش سنی۔
“کس لئے؟”
“وہ میری دوست ہے امامہ اس کو آپ کی آواز بہت پسند ہے اس لئے۔۔۔۔۔ اس نے مجھ سے فرمائش کی اور میں نے ہامی بھر لی۔” زینب نے تفصیل بتائی۔
جلال اس فرمائش پر مسکرایا۔ امامہ سے کچھ دن پہلی ہونے والی ملاقات اسے یاد آ گئی۔
“یہ وہی لڑکی ہے جو اس دن یہاں آئی تھی؟” جلال نے سرسری انداز میں پوچھا۔
“ہاں وہی لڑکی ہے، اسلام آباد سے یہاں آئی ہے۔”
“اسلام آباد سے؟ ہاسٹل میں رہ رہی ہے؟” جلال نے کچھ دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
“جی ہاسٹل میں رہ رہی ہے، کافی اچھا خاندان ہے اس کا، بہت بڑے انڈسٹریلسٹ ہیں اس کے فادر۔۔۔۔۔ مگر امامہ سے مل کے ذرا محسوس نہیں ہوتا۔” زینب نے بے اختیار امامہ کی تعریف کی۔
“کافی مذہبی لگتی ہے۔ میں نے اسے ایک دو بار تمہارے ساتھ کالج میں بھی دیکھا ہے۔ کالج میں بھی چادر اوڑھی ہوتی ہے اس نے۔ یہاں کالج کی”آب و ہوا” کا ابھی تک اثر نہیں ہوا اس پر۔” جلال نے کہا۔
“بھائی! اس کی فیملی بھی خاصی مذہبی ہے کیونکہ وہ جب سے یہاں آئی ہے اسی طرح ہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کافی کنزرویٹو لوگ ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کی فیملی خاصی تعلیم یافتہ ہے۔ نہ صرف بھائی بلکہ بہنیں بھی۔ یہ گھر میں سب سے چھوٹی ہے۔” زینب نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔” تو پھر آپ کب ریکارڈ کر کے دیں گے؟” زینب نے پوچھا۔
“تم کل لے لینا۔ میں ریکارڈ کر دوں گا۔” جلال نے کہا۔ وہ سر ہلاتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ جال کچھ دیر کسی سوچ میں ڈوبا رہا پھر دوبارہ اس کتاب کی طرف متوجہ ہو گیا جسے وہ پڑھ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ان کی اگلی ملاقات لائبریری میں ہوئی تھی۔ اس بار امامہ اسے وہاں موجود دیکھ کر بے اختیار اس کی طرف چلی گئی تھی۔ رسمی علیک سلیک کے بعد امامہ نے کہا۔
“میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔”
جلال نے حیرانی سے اسے دیکھا۔” کس لئے؟”
“اس کیسٹ کے لئے، جو آپ نے ریکارڈ کر کے بھجوائی تھی۔” جلال مسکرایا۔
“نہیں ، اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کبھی کوئی مجھ سے ایسی فرمائش کر سکتا ہے۔”
“آپ بہت خوش قسمت ہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں۔۔۔۔۔ کس حوالے سے؟” جلال نے ایک بار پھر حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ہر حوالے سے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس سب کچھ ہے۔”
“آپ کے پاس بھی تو بہت کچھ ہے۔”
وہ جلال کی بات پر عجیب سے انداز میں مسکرائی۔ جلال کو شبہ ہوا کہ اس کی آنکھوں میں کچھ نمی نمودار ہوئی تھی مگر وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ اب نظریں جھکائے ہوئے تھی۔
“پہلے کچھ بھی نہیں تھا، اب واقعی سب کچھ ہے۔” جلال نے مدھم آواز میں اسے کہتے سنا وہ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
“آپ اتنی محبت سے رسوال ﷺ کا نام لیتے ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔۔” اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ جلال خاموشی سے اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کرتا رہا۔
“مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔” چند لمحے بعد وہ آہستہ سے بولی۔
“سب لوگوں کو تو اس طرح کی محبت نہیں ہوتی جیسی محبت آپ کو حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ ہو بھی جائے تو ہر کوئی اس طرح اس محبت کا اظہار نہیں کر سکتا کہ دوسرے بھی رسول ﷺ کی محبت میں گرفتار ہونے لگیں۔ محمد ﷺ کو بھی آپ سے بڑی محبت ہو گی۔” اس نے نظریں اٹھائیں ۔ اس کی آنکھوں میں کوئی نمی نہیں تھی۔
“شاید مجھے وہم ہوا تھا۔” جلال نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا۔
“یہ میں نہیں جانتا، اگر ایسا ہو تو میں واقعی بہت خوش قسمت انسان ہوں۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ مجھے واقعی حضور اکرم ﷺ سے بڑی محبت ہے۔ مجھ جیسے لوگوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ ہر ایک کو اللہ اس محبت سے نہیں نوازتا۔”
وہ بڑی رسانیت سے کہہ رہا تھا۔ امامہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکی۔ اسے کبھی کسی شخص کے سامنے اس طرح کا احساس کمتری نہیں ہوا تھا، جس طرح کا احساس کمتری وہ جلال انصر کے سامنے محسوس کرتی تھی۔
“شاید میں بھی نعت پڑھ لوں۔ شاید میں بھی بہت اچھی طرح اسے پڑھ لوں مگر میں۔۔۔۔۔ میں جلال انصر کبھی نہیں ہو سکتی۔ کبھی بن ہی نہیں سکتی۔ کبھی میری آواز سن کر کسی کا وہ حال نہیں ہو سکتا جو جلال انصر کی آواز سن کر ہوتا ہے۔” وہ لائبریری سے نکلتے ہوئے مسلسل مایوسی کے عالم میں سوچ رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جلال انصر سے ہونے والی چند ملاقاتوں کے بعد امامہ نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ دوبارہ کبھی اس کا سامنا نہ کرے، نہ اس کے بارے میں سوچے، نہ زینب کے گھر جائے۔ حتیٰ کہ اس نے زینب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی اپنی طرف سے بہت محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی ہر حفاظتی تدبیر برے طریقے سے ناکام ہوتی گئی۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ امامہ کی بے بسی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور پھر اس نے گھٹنے ٹیک دئیے تھے۔
“اس آدمی میں کوئی چیز ایسی ہے، جس کے سامنے میری ہر مزاحمت دم توڑ جاتی ہے۔” اور شاید اس کا یہ اعتراف ہی تھا جس نے اسے ایک بار پھر جلال کی طرف متوجہ کر دیا تھا۔ پہلے اس کے لئے اس کی بے اختیاری لاشعوری تھی پھر اس نے شعوری طور پر جلال کو اسجد کی جگہ دے دی۔
“آخر کیا برائی ہے اگر میں اس شخص کا ساتھ چاہوں جس کی آواز مجھے بار بار اپنے پیغمبر ﷺ کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتی رہی۔ میں کیوں اس شخص کے حصول کی خواہش نہ کروں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے مجھ سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے۔ کیا مضائقہ ہے اگر میں اس شخص کو اپنا مقدر بنائے جانے کی دعا کروں، جس کے لئے میں انس رکھتی ہوں اور جس کے کردار سے میں واقف ہوں۔ کیا برا ہے اگر میں یہ چاہوں کہ میں جلال انصر کے نام سے شناخت پاؤں۔ اس واحد آدمی کے نام سے جسے سنتے، جیسے دیکھتے مجھے اس پر رشک آتا ہے۔” اس کے پاس ہر دلیل، ہر توجیہہ موجود تھی۔
بہت غیر محسوس طور پر وہ ہر اس جگہ جانے لگی جہاں جلال کے پائے جانے کا امکان ہوتا اور وہ اکثر وہاں پایا جاتا۔ وہ زینب کو اس وقت فون کرتی، جب جلال گھر پر ہوتا کیونکہ گھر پر ہوتے ہوئے فون ہمیشہ وہی ریسیو کرتا۔ دونوں کے درمیان چھوٹی موٹی گفتگو رفتہ رفتہ طویل ہونے لگی پھر وہ ملنے لگے۔
جویریہ ، رابعہ یا زینب تینوں کو امامہ اور جلال کے ان بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں پتا نہیں تھا۔ جلال اب ہاؤس جاب کر رہا تھا اور امامہ اکثر اس کے ہاسپٹل جانے لگی۔ باقاعدہ اظہار محبت نہ کرنے کے باوجود وہ دونوں اپنے لئے ایک دوسرے کے جذبات کے واقف تھے۔ جلال جانتا تھا کہ امامہ اسے پسند کرتی تھی اور یہ پسندیدگی عام نوعیت کی نہیں تھی۔ خود امامہ بھی یہ جان چکی تھی کہ جلال اس کے لئے کچھ خاص قسم کے جذبات محسوس کرنے لگا ہے۔
جلال اس قدر مذہبی تھا کہ اس نے کبھی اس کا بات کا تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جائے گا، نہ صرف یہ کہ وہ محبت کرے گا بلکہ اس طرح اس سے ملا کرے گا۔۔۔۔۔ مگر یہ سب کچھ بہت غیر محسوس انداز میں ہوتا گیا۔ اس نے کبھی زینب سے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس کے اور امامہ کے درمیان کسی خاص نوعیت کا تعلق ہے۔ اگر وہ یہ انکشاف کر دیتا تو زینب اسے یقیناً امامہ کی اسجد کے ساتھ طے شدہ نسبت سے آگاہ کر دیتی۔ بہت شروع میں ہی وہ امامہ کی ایسی کسی نسبت کے بارے میں جان لیتا تو وہ امامہ کے بارے میں بہت محتاط ہو جاتا پھر کم از کم امامہ کے لئے اس حد تک انوالو ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس حد تک وہ ہو چکا تھا۔
ان کے درمیان ہونے والی ایسی ہی ایک ملاقات میں امامہ نے اسے پرپوز کیا تھا۔ اسے امامہ کی جرات پر کچھ حیرانی ہوئی تھی کیونکہ کم از کم وہ خود بہت چاہنے کے باوجود ابھی یہ بات نہیں کہہ سکا تھا۔
“آپ کا ہاؤس جاب کچھ عرصے میں مکمل ہو جائے گا، اس کے بعد آپ کیا کریں گے؟” امامہ نے اس دن اس سے پوچھا تھا۔
“اس کے بعد میں سپیشلائزیشن کے لئے باہر جاؤں گا۔” جلال نے بڑی سہولت سے کہا۔
“اس کے بعد؟”
“اس کے بعد واپس آؤں گا اور اپنا ہاسپٹل بناؤں گا۔”
“آپ نے اپنی شادی کے بارے میں سوچا ہے؟” اس نے اگلا سوال کیا تھا۔ جلال نے حیران مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا تھا۔
“امامہ! شادی کے بارے میں ہر ایک ہی سوچتا ہے۔”
“آپ کس سے کریں گے؟”
“یہ طے کرنا ابھی باقی ہے۔”
امامہ چند لمحے خاموش رہی۔” مجھ سے شادی کریں گے؟”
جلال دم بخود اسے دیکھنے لگا۔ اسے امامہ سے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔” آپ کو میری بات بری لگی ہے؟”
امامہ نے اسے گم صم دیکھ کر پوچھا۔ وہ یک دم جیسے ہوش میں آ گیا۔
“نہیں، ایسا نہیں ہے۔” اس نے بے اختیار کہا۔” یہ سوال مجھے تم سے کرنا چاہئیے تھا۔ تم مجھ سے شادی کروگی؟”
“ہاں ۔” امامہ نے بڑی سہولت سے کہا۔
“اور آپ؟”
“میں۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ ہاں ، آف کورس۔ تمہارے علاوہ میں اور کس سے شادی کر سکتا ہوں۔” اس نے اپنے جملے پر امامہ کے چہرے پر ایک چمک آتے دیکھی۔
“میں ہاؤس جاب ختم ہونے کے بعد اپنے ماں باپ کو تمہارے ہاں بھجواؤں گا۔”
وہ اس بار جواب میں کچھ کہنے کے بجائے چپ سی ہو گئی۔”جلال! کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں آپ سے اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی کر لوں؟”
جلال اس کی بات پر ہکا بکا رہ گیا۔” کیا مطلب؟”
“ہو سکتا ہے میرے پیرنٹس اس شادی پر تیار نہ ہوں۔”
“کیا تم نے اپنے پیرنٹس سے بات کی ہے؟”
“نہیں۔”
“تو پھر تم یہ بات کیسے کہہ سکتی ہو؟”
“کیونکہ میں اپنے پیرنٹس کو اچھی طرح جانتی ہوں۔” اس نے رسانیت سے کہا۔
جلال یک دم کچھ پریشان نظر آنے لگا۔” امامہ! میں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ تمہارے پیرنٹس کو ہم دونوں کی شادی پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا۔”
“مگر ایسا ہو سکتا ہے۔ آپ مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ اس صورت میں مجھ سے شادی کر لیں گے؟”
جلال کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ امامہ اضطراب کے عالم میں اسے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد جلال نے اپنی خاموشی کو توڑا۔
“ہاں، میں تب بھی تم ہی سے شادی کروں گا۔ میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں اب کسی دوسری لڑکی سے شادی کر سکوں گا۔ میں کوشش کروں گا کہ تمہارے پیرنٹس اس شادی پر رضامند ہو جائیں لیکن اگر وہ نہیں ہوتے تو پھر ہمیں ان کی مرضی کے بغیر شادی کرنی ہو گی۔”
“کیا آپ کے پیرنٹس اس شادی پر رضامند ہو جائیں گے؟”
“ہاں ، میں انہیں منا لوں گا۔ وہ میری بات نہیں ٹالتے۔” جلال نے فخریہ انداز سے کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ہیلو کی آواز پر پلٹی۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پر سالار کھڑا تھا۔ وہ اپنے اسی بے ڈھنگے حلیے میں تھا۔ ٹی شرٹ کے سارے بٹن کھلے ہوئے تھے اور وہ خود جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کس طرح کے ردِ عمل کا اظہار کرے۔
سالار کے ساتھ تیمور بھی تھا۔
“آؤ۔ اس لڑکی سے ملواتا ہوں تمہیں۔” سالار نے امامہ کو کتابوں کی دوکان پر دیکھا تو قریب چلا آیا۔
تیمور نے گردن موڑ کر دیکھا اور حیرانی سے کہا۔” اس چادر والی سے؟”
“ہاں۔” سالار نے قدم بڑھائے۔
“یہ کون ہے؟” تیمور نے پوچھا۔
“یہ وسیم کی بہن ہے۔” سالار نے کہا۔
“وسیم کی؟ مگر تم اس سے کیوں مل رہے ہو؟ وسیم اور اس کی فیملی تو خاصی کنزرویٹو ہے۔ اس سے مل کر کیا کرو گے؟” تیمور نے امامہ پر دور سے ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
“پہلی بار نہیں مل رہا ہوں، پہلے بھی مل چکا ہوں۔ بات کرنے میں کیا حرج ہے؟” سالار نے اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
امامہ نے میگزین ہاتھ میں پکڑے پکڑے ایک نظر سالار کو اور ایک نظر اس کے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھا جو تقریباً سالار جیسے حیلے میں ہی تھا۔
“ہاؤ آر یو؟” سالار نے اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کہا۔
“فائن۔” امامہ نے میگزین بند کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
“یہ تیمور ہے، وسیم سے اس کی بھی خاصی دوستی ہے۔” سالار نے تعارف کرایا۔
امامہ نے ایک نظر تیمور کو دیکھا پھر ہاتھ کے اشارے سے شاپنگ سنٹر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔” وسیم وہاں ہے۔”
سالار نے گردن موڑ کر اس طرف دیکھا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا اور پھر کہا۔
“مگر ہم وسیم سے ملنے تو نہیں آئے۔”
“تو؟” امامہ نے سنجیدگی سے کہا۔
“آپ سے بات کرنے آئے ہیں۔”
“مگر میں تو آپ کو نہیں جانتی، پھر آپ مجھ سے کیا بات کرنے آئے ہیں؟”
امامہ نے سردمہری سے کہا۔ اسے سالار کی آنکھوں سے وحشت ہونے لگی تھی۔ کاش یہ کسی سے نظریں جھکا کر بات کرنا سیکھ لیتا، خاص طور پر کسی لڑکی سے۔ اس نے میگزین دوبارہ کھول لیا۔
“آپ مجھے نہیں جانتیں؟” سالار مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسا۔” آپ کے گھر کے ساتھ ہی میرا گھر ہے۔”
“یقیناً ہے مگر میں آپ کو”ذاتی” طور پر نہیں جانتی۔” اس نے اسی رکھائی سے میگزین پر نظریں جمائے ہوئے کہا۔
“چند ماہ پہلے آپ نے ایک رات میری جان بچائی تھی۔” سالار نے مذاق اڑانے والے انداز میں اسے یاد دلایا۔
“میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض تھا۔ میرے سامنے کوئی بھی مر رہا ہوتا، میں یہی کرتی۔ اب مجھے ایکسکیوز کریں، میں کچھ مصروف ہوں۔”
سالار اس کے کہنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوا۔ تیمور نے اس کے بازو کو ہولے سے کھینچ کر چلنے کا اشارہ کیا۔ شاید اسے وسیم کے حوالے سے امامہ کا لحاظ تھا مگر سالار نے اپنا بازو چھڑا لیا۔
“میں اس رات آپ کی مدد کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ حالانکہ آپ نے مجھے پروفیشنل طریقے سے ٹریٹمنٹ نہیں دیا تھا۔”
اس بار سالار نے سنجیدگی سے کہا۔ امامہ نے اس کی بات پر میگزین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
“آپ کا اشارہ اگر اس تھپڑ کی طرف ہے تو ہاں وہ بالکل پروفیشنل نہیں تھا اور میں اس کے لئے معذرت کرتی ہوں۔”
“میں نے اسے مائنڈ نہیں کیا۔ میرا اشارہ اس طرف نہیں تھا۔” سالار نے لاپرواہی سے کہا۔
“مجھے توقع تھی کہ آپ اس تھپڑ کو مائنڈ نہیں کریں گے۔”(کیونکہ اسی کے مستحق تھے اور ایک نہیں دس) اس نے جملے کا آدھا حصہ ضبط کر لیا۔
“ویسے آپ کا اشارہ کس طرف تھا؟”
“بے حد تھرڈ کلاس طریقے سے بینڈیج کی تھی آپ نے میری اور آپ کو پراپر طریقے سے بلڈ پریشر تک چیک کرنا نہیں آتا۔” سالار نے لاپرواہی سے کہتے ہوئے چیونگم کی ایک اسٹک اپنے منہ میں ڈالی۔ امامہ کے کان کی لوئیں سرخ ہو گئیں۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی۔
“افسوس ناک بات ہے کہ ایک ڈاکٹر کو ایسے معمولی کام نہ آتے ہوں، جو کسی بھی عام آدمی کو آتے ہیں۔”
اس بار اس کا انداز پھر مذاق اڑانے والا تھا۔
“میں ڈاکٹر نہیں ہوں، میڈیکل کے ابتدائی سالوں میں ہوں، پہلی بات اور جہاں تک unprofessional ہونے کا تعلق ہے تو اگلی بار سہی، آپ نے تو ابھی اس طرح کی کئی کوششیں کرنی ہیں۔ میں آہستہ آہستہ آ پ پر پریکٹس کر کے اپنا ہاتھ صاف کر لوں گی۔”
ایک لمحہ کے لئے وہ کچھ نہیں بول سکا پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔ یوں جیسے وہ اس کی بات پر محظوظ ہوا تھا مگر شرمندہ نہیں اور اس نے اس کا اظہار بھی کر دیا۔
“اگر آپ مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش۔۔۔۔۔”
“کوشش کر رہی ہیں تو آپ اس میں ناکام ہوں گی۔ میں جانتی ہوں، آپ شرمندہ نہیں ہوتے، یہ صفت صرف انسانوں میں ہوتی ہے۔” امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
“آپ کے خیال میں، میں کیا ہو؟” سالار نے اسی انداز میں کہا۔
“پتا نہیں، ایک vet اس بارے میں آپ کو زیادہ بہتر گائیڈ کر سکے گا۔” وہ اس بار اس کی بات پر ہنسا۔
“دو پیروں پر چلنے والے جانور کو ہر میڈیکل ڈکشنری انسان کہتی ہے اور میں دو پیروں پر چلتا ہوں۔”
“ریچھ سے لے کر کتے تک ہر چار پیروں والا جانور دو پیروں پر چل سکتا ہے۔ اگر اسے ضرورت پڑے یا اس کا دل چاہے تو۔”
“مگر میرے چار پیر نہیں اور میں صرف ضرورت کے وقت نہیں، ہر وقت ہی دو پیروں پر چلتا ہوں۔” سالار نے عجیب سے انداز میں اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کے چار پیر نہیں ہیں، اسی لئے میں نے آپ کو vet سے ملنے کو کہا ہے۔ وہ آپ کو آپ کی خصوصیات کے بارے میں صحیح بتا سکے گا۔”
امامہ نے سرد آواز میں کہا۔ وہ اسے زچ کرنے میں واقعی کامیاب ہو چکا تھا۔
“ویسے جتنی اچھی طرح سے آپ جانوروں کے بارے میں جانتی ہیں، آپ ایک بہت اچھی vet ثابت ہو سکتی ہیں۔ آپ کے علم سے خاصا متاثر ہوا ہوں میں۔”امامہ کے چہرے کی سرخی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔”اگر آپ میری vet بن جاتی ہیں تو میں آپ کے بتائے ہوئے مشورے کے مطابق آپ ہی کے پاس آیا کروں گا تاکہ آپ میرے بارے میں ریسرچ کر کے مجھے بتا سکیں۔”
سالار نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ وہ اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکی، صرف اسے دیکھ کر رہ گئی۔ وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی منہ پھٹ تھا اور ایسے شخص کے ساتھ لمبی گفتگو کرنا آ بیل مجھے مار کہ مترادف تھا اور وہ یہ حماقت کر چکی تھی۔
“ویسے آپ کیا فیس چارج کریں گی؟” وہ بڑی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
“یہ وسیم آپ کو بتا دے گا۔” امامہ نے اس بار اسے دھمکانے کی کوشش کی۔
“چلیں ٹھیک ہے، یہ میں وسیم سے پوچھ لوں گا۔ اس طرح تو خاصی آسانی ہو جائے گی۔”
وہ اس کی دھمکی کو سمجھنے کے باوجود مرعوب نہیں ہوا اور اس نے امامہ کو یہ جتا بھی دیا۔ تیمور نے ایک بار پھر اس کا بازو پکڑ لیا۔
“آؤ سالار! چلتے ہیں، مجھے ایک ضروری کام یاد آ رہا ہے۔” اس نے عجلت کے عالم میں سالار کو اپنے ساتھ تقریباً گھسیٹنے کی کوشش کی مگر سالار نے توجہ نہیں دی۔
“چلتے ہیں یار! اس طرح کھینچو تو مت۔”وہ اس سے کہتے ہوئے ایک بار پھر امامہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔
“بہرحال یہ سب مذاق تھا، میں واقعی آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا۔ آپ نے اور وسیم نے کافی مدد کی میری، گڈ بائے۔”
وہ کہتے ہوئے واپس مڑ گیا۔ امامہ نے بے اختیار ایک سکون کا سانس لیا۔ وہ شخص واقعی کریک تھا۔ اسے حیرت ہو رہی تھی کہ وسیم جیسا شخص کیسے اس آدمی کے ساتھ دوستی رکھ سکتا ہے۔
وہ ایک بار پھر میگزین کے ورق الٹنے لگی۔” سالار آیا تھا تمہارے پاس؟” وسیم نے اس کے پاس آ کر پوچھا۔ دور سے سالار اور تیمور کو دیکھ لیا تھا۔
“ہاں۔” امامہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک بار پھر میگزین دیکھنے لگی۔
“کیا کہہ رہا تھا؟” وسیم نے کچھ تجسس سے پوچھا۔
“مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تم نے اس جیسے شخص کے ساتھ دوستی کیسے کر لی ہے۔ میں نے زندگی میں اس سے زیادہ بے ہودہ اور بدتمیز لڑکا نہیں دیکھا۔” امامہ نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔”میرا شکریہ ادا کر رہا تھا اور ساتھ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مجھے بینڈیج تک ٹھیک سے کرنی نہیں آتی، نہ میں بلڈ پریشر چیک کر سکتی ہوں۔”
وسیم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔” اس کو دفع کرو، یہ عقل سے پیدل ہے۔”
“میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ میں اسے دو ہاتھ اور لگاؤں، اس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ منہ اٹھا کر اپنے دوست کو لے کر پہنچ گیا ہے یہاں۔ بھئی! کس نے کہا ہے تم سے شکریہ ادا کرنے کو اور مجھے تو وہ دوسرا لڑکا بھی خاصا برا لگا اور وہ کہہ رہا تھا کہ تمہاری اس کے ساتھ بھی دوستی ہے۔” امامہ کو اچانک یاد آیا۔
“دوستی تو نہیں، بس جان پہچان ہے۔” وسیم نے وضاحت پیش کی۔” تمہیں ایسے لڑکوں کے ساتھ جان پہچان رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ حلیہ دیکھا تھا تم نے ان دونوں کا۔ نہ انہیں بات کرنے کی تمیز تھی، نہ لباس پہننے کا سلیقہ اور منہ اٹھا کر شکریہ ادا کرنے آ گئے ہیں۔ بہرحال تم اس سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لو۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اس طرح کے لڑکوں سے جان پہچان کی بھی تمہیں۔”
امامہ نے میگزین رکھتے ہوئے ایک بار پھر اسے تنبیہ کی اور پھر باہر جانے کے لئے قدم بڑھا دئیے۔ وسیم بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔
“مگر میں ایک بات پر حیران ہوں یہ جس حالت میں تھا اسے کیسے یاد ہے کہ میں نے اس کی بینڈیج اچھی نہیں کی تھی یا بلڈپریشر لینے میں مجھے دقت ہو رہی تھی۔” امامہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“میں یہ سمجھ رہی تھی کہ یہ ایسے ہی ہاتھ پاؤں جھٹک رہا ہے۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ اپنے اردگرد ہونے والی چیزوں کو بھی observe کر رہا ہے۔”
“ایسے بینڈیج واقعی خراب کی تھی تم نے اور اگر میں تمہاری مدد نہ کرتا تو بلڈپریشر کی ریڈنگ لینا بھی تمہیں لینا نہیں آتی۔ کم از کم اس بارے میں وہ جو بھی کہہ رہا تھا ٹھیک کہہ رہا تھا۔” وسیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہاں، مجھے پتا ہے۔” امامہ نے اعتراف کرنے والے انداز میں کہا۔”مگر میں اس وقت بہت نروس تھی۔ میں پہلی بار اس طرح کی صورت حال کا شکار ہوئی تھی پھر اس کے ہاتھ سے نکلنے والا خون مجھے اور خوف زدہ کر رہا تھا اور اوپر سے اس کا رویہ۔۔۔۔۔ کسی خود کشی کرنے والے انسان کو اس طرح کی حرکتیں کرتے نہیں دیکھا تھا میں نے۔”
“اور تم ڈاکٹر بننے جا رہی ہو، وہ بھی ایک قابل اور نامور ڈاکٹر، ناقابل یقین۔” وسیم نے تبصرہ کیا۔
“اب کم از کم تم اس طرح کی باتیں نہ کرو۔” امامہ نے احتجاج کیا۔” میں نے اس لئے تمہیں یہ سب نہیں بتایا کہ تم مذاق اڑاؤ۔” وہ لوگ پارکنگ ایریا میں پہنچ گئے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ دنوں سے وہ جلال اور زینب کے رویے میں عجیب سی تبدیلی دیکھ رہی تھی۔ وہ دونوں اس سے بہت اکھڑے اکھڑے رہنے لگے تھے۔ ایک عجیب سا تناؤ تھا، جو وہ اپنے اور ان کے درمیان محسوس کر رہی تھی۔
اس نے ایک دو بار جلال کو ہاسپٹل فون کیا، مگر ہر بار اسے یہی جواب ملتا کہ وہ مصروف ہے۔ وہ زینب کو اگر کالج سے لینے بھی آتا تو پہلے کی طرح اس سے نہیں ملتا تھا اور اگر ملتا بھی تو صرف رسمی سی علیک سلیک کے بعد واپس چلا جاتا۔ وہ شروع میں اس تبدیلی کو اپنا وہم سمجھتی رہی مگر پھر زیادہ پریشان ہونے پر وہ ایک دن جلال کے ہاسپٹل چلی آئی۔
جلال کا رویہ بے حد سرد تھا۔ امامہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ تک نہیں آئی۔
“کافی دن ہو گئے تھے ہمیں ملے ہوئے، اس لئے میں خود چلی آ ئی۔” امامہ نے اپنے سارے اندیشوں کو جھٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“میری تو شفٹ شروع ہو رہی ہے۔”
امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔”زینب بتا رہی تھی کہ اس وقت آپ کی شفٹ ختم ہوتی ہے، میں اسی لئے اس وقت آئی ہوں۔”
وہ ایک لمحہ کے لئے خاموش رہا پھر اس نے کہا۔” ہاں صحیح ہے، مگر آج میری کوئی اور مصروفیت ہے۔”
وہ اس کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔”جلال! آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں؟” ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے کہا۔
“نہیں ، میں کسی سے ناراض نہیں ہوں۔” جلال نے اسی رکھائی سے کہا۔
“کیا آپ دس منٹ باہر آ کر میری بات سن سکتے ہیں؟”
جلال کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اس نے اپنا اوور آل اپنے بازو پر ڈال لیا اور کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر نکل آیا۔
باہر جاتے ہی جلال نے اپنی رسٹ واچ پر ایک نظر ڈوڑائی۔ یہ شاید اس کے لئے بات شروع کرنے کا اشارہ تھا۔”آپ میرے ساتھ اس طرح مس بی ہیو کیوں کر رہے ہیں؟”
“کیا مس بی ہیو کر رہا ہوں؟” جلال نے اکھڑ انداز میں کہا۔
“آپ بہت دنوں سے مجھے اگنور کر رہے ہیں۔”
“ہاں، کر رہا ہوں۔”
امامہ کو توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی صفائی سے اس بات کا اعتراف کر لے گا۔
“کیونکہ میں تم سے ملنا نہیں چاہتا۔” وہ کچھ لمحوں کے لئے کچھ نہیں بول سکی۔”کیوں؟”
“یہ بتانا ضروری نہیں۔” اس نے اسی طرح اکھڑ انداز میں کہا۔
“میں جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کا رویہ یک دم کیوں تبدیل ہو گیا ہے۔ کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی اس کی۔” امامہ نے کہا۔
“ہاں وجہ ہے مگر میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح تم بہت سی باتیں مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھتیں۔”
“میں؟” وہ اس کا منہ دیکھنے لگی۔”میں نے کون سی باتیں آپ کو نہیں بتائیں؟”
“یہ کہ تم مسلمان نہیں ہو۔”جلال نے بڑے تلخ لہجے میں کہا۔ امامہ سانس تک نہیں لے سکی۔
“کیا تم نے یہ بات مجھ سے چھپائی نہیں؟”
“جلال! میں بتانا چاہتی تھی۔” امامہ نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
“چاہتی تھی۔۔۔۔۔ مگر تم نے بتایا تو نہیں۔۔۔۔۔ دھوکا دینے کی کوشش کی تم نے۔”
“جلال! میں نے آپ کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔” امامہ نے جیسے احتجاج کیا۔” میں آپ کو کیوں دھوکا دوں گی؟”
“مگر تم نے کیا یہی ہے۔” جلال نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
“جلال میں۔۔۔۔۔” جلال نے اس کی بات کاٹ دی۔
“تم نے جان بوجھ کر مجھے ٹریپ کیا۔” امامہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“ٹریپ کیا؟” اس نے زیرلب جلال کے لفظوں کو دہرایا۔
“تم جانتی تھیں کہ میں اپنے پیغمبر ﷺ سے عشق کرتا ہوں۔”
وہ شکست خوردہ انداز میں اسے دیکھتی رہی۔
“شادی تو دور کی بات ہے۔ اب جب میں تمہارے بارے میں سب کچھ جان گیا ہوں تو میں تم سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ تم دوبارہ مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا۔” جلال نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
“جلال! میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔”امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
“اوہ کم آن۔” جلال نے تحقیر آمیز انداز میں اپنا ہاتھ جھٹکا۔” یہاں کھڑے کھڑے تم نے میرے لئے اسلام قبول کر لیا۔” اس بار وہ مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسا۔
“جلال! میں آپ کے لئے مسلم نہیں ہوئی۔ آپ میرے لئے ایک ذریعہ ضرور بنے ہیں، مجھے کئی ماہ ہو گئے ہیں اسلام قبول کیے اور اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو میں آپ کو ثبوت دے سکتی ہوں۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔”
اس بار جلال کچھ الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
“میں مانتی ہوں میں نے آپ کی طرف پیش قدمی خود کی۔ آپ کے بقول میں نے آپ کو ٹریپ کیا۔ میں نے ٹریپ نہیں کیا۔ میں صرف بے بس تھی۔ آپ کے معاملے میں مجھے خود پر قابو نہیں رہتا تھا۔ آپ کی آواز کی وجہ سے، آپ جانتے ہیں میں نے آپ کو بتایا تھا میں نے پہلی بار آپ کو نعت پڑھتے سنا تو میں نے کیا محسوس کیا تھا۔ آپ کو اگر میرے بارے میں پہلے ہی یہ سب کچھ پتا چل جاتا تو آپ میرے ساتھ یہی سلوک کرتے جو اب کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے صرف اس بات کا اندیشہ تھا جس کی وجہ سے میں نے آپ سے بہت کچھ چھپائے رکھا۔ بعض باتوں میں انسان کو اپنے اوپر اختیار نہیں ہوتا۔ مجھے بھی آپ کے معاملے میں خود پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔”
اس نے رنجیدگی سے کہا۔
“تمہارے گھر والوں کو اس بات کا پتا ہے؟”
“نہیں، میں انہیں نہیں بتا سکتی۔ میری منگنی ہو چکی ہے۔ میں نے آپ کو اس بارے میں بھی نہیں بتایا۔۔۔۔۔” وہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔”مگر میں وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں آ پ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں صرف اپنی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہوں۔ تب میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاؤں گی اور پھر میں آپ سے شادی کروں گی۔”
“چار پانچ سال بعد جب میں ڈاکٹر بن جاؤں گی تو شاید میرے پیرنٹس آپ سے میری شادی پر اس طرح اعتراض نہ کریں جس طرح وہ اب کریں گے۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہو کہ وہ میری تعلیم ختم کروا کر میری شادی اسجد سے کر دیں گے تو شاید میں انہیں ابھی اس بات کے بارے میں بتا دیتی کہ میں اسلام قبول کر چکی ہوں مگر میں ابھی پوری طرح ان پر ڈپینڈنٹ ہوں۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ آپ وہ واحد راستہ تھے جو مجھے نظر آیا۔ مجھے واقعی آپ سے محبت ہے پھر میں آپ کو شادی کی پیشکش نہ کرتی تو اور کیا کرتی۔ آپ اس صورت حال کا اندازہ نہیں کر سکتے جس کا سامنا میں کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ میری جگہ پر ہوتے تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ میں جھوٹ بولنے کے لئے کتنی مجبور ہو گئی تھی۔”
جلال کچھ کہے بغیر پاس موجود لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا وہ اب پریشان نظر آرہا تھا۔ امامہ نے اپنی آنکھیں پونچھ لیں۔
“کیا آپ کے دل میں میرے لئے کچھ بھی نہیں ہے؟ صرف اس لئے میرے ساتھ انوالو ہیں، کیونکہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں؟”
جلال نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے کہا۔
“امامہ ! بیٹھ جاؤ۔۔ پورا پینڈورا باکس کھل گیا ہے میرے سامنے۔۔۔۔ اگر میں تمہاری صورت حال کا اندازہ نہیں کر سکتا تو تم بھی میری پوزیشن کو نہیں سمجھ سکتی۔”
امامہ اس سے کچھ فاصلے پر رکھی بینچ پر بیٹھ گئی۔
“میرے والدین کبھی غیر مسلم لڑکی سے میری شادی نہیں کریں گے۔ قطع نظر اس کے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں یا نہیں۔”
“جلال! میں غیر مسلم نہیں ہوں۔”
“تم اب نہیں ہو مگر پہلے تو تھیں اور پھر تمہارا خاندان۔۔۔۔۔”
“میں ان دونوں چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتی۔” امامہ نے بے بسی سے کہا۔
جلال نے جواب میں کچھ نہیں کہا کچھ دیر وہ دونوں خاموش رہے۔
“کیا آپ اپنے پیرنٹس کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی نہیں کر سکتے؟” کچھ دیر بعد امامہ نے کہا۔
“یہ بہت بڑا قدم ہو گا۔” جلال نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔” اور بالفرض میں یہ کام کرنے کا سوچ لوں تو بھی نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرح میں بھی اپنے پیرنٹس پر ڈیپنڈنٹ ہوں۔” جلال نے اپنی مجبوری بتائی۔
“مگر آپ ہاؤس جاب کر رہے ہیں اور چند سالوں میں اسٹیبلش ہو جائیں گے۔” امامہ نے کہا۔
“میں ہاؤس جاب کے بعد اسپیشلائزیشن کے لئے باہر جانا چاہتا ہوں اور یہ میرے پیرنٹس کی مالی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسپیشلائزیشن کے بعد ہی میں واپس آ کر اپنی پریکٹس اسٹیبلش کر سکتا ہوں تین چار سال اپنی اسٹڈیز ختم کرنے میں بھی لگ جائیں گے۔”
جلال نے اسے یاد دلایا۔
“پھر؟” امامہ نے اسے مایوسی سے دیکھا۔
“پھر یہ کہ مجھے سوچنے کا وقت دو۔ شاید میں کوئی رستہ نکال سکوں، میں تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتا مگر میں اپنا کیرئیر بھی خراب نہیں کر سکتا۔ میرا پرابلم صرف یہ ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے ماں باپ کا ہے اور وہ اپنی ساری جمع پونجی مجھ پر خرچ کر رہے ہیں یہ سوچ کر کہ میں کل کو ان کے لئے کچھ کروں گا۔”
وہ بات کرتے کرتے رکا۔”کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمہارے والدین اپنی مرضی سے تمہاری شادی مجھ سے کر دیں۔ اس صورت میں کم از کم میرے والدین کو یہ اعتراض تو نہیں ہو گا کہ تم نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف انہیں بتائے بغیر مجھ سے شادی کی؟”
وہ جلال کا چہرہ دیکھنے لگی۔” میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتی۔ وہ میری بات مانیں گے یا نہیں۔ میں۔۔۔۔۔” امامہ نے کچھ مایوسی کے عالم میں بات ادھوری چھوڑ دی۔ جلال بات مکمل ہونے کا انتظار کرتا رہا۔
“میری فیملی میں آج تک کسی لڑکی نے اپنی مرضی سے باہر کسی لڑکے سے شادی نہیں کی۔ اس لئے میں یہ نہیں بتا سکتی کہ ان کا ردِعمل کیا ہو گا مگر میں یہ ضرور بتا سکتی ہوں کہ ان کا ردِعمل بہت برا ہو گا۔ بہت برا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن مجھے یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ میں اتنا بڑا قدم اٹھاؤں۔ آپ کو اندازہ ہونا چاہئیے کہ میرے بابا کو کتنی شرمندگی اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صرف میرے لئے تو وہ سب کچھ نہیں بدل دیں گے۔”
“اگر مجھے اپنی فیملی سے مدد کی توقع ہوتی تو میں گھر سے باہر سہاروں کی تلاش میں ہوتی نہ ہی آپ سے اس طرح مدد مانگ رہی ہوتی۔”
دھیمے لہجے میں اپنے آواز کی لرزش پر قابو پاتے ہوئے اس نے جلال سے کہا۔
“امامہ! میں تمہاری مدد کروں گا۔۔۔۔۔ میرے پیرنٹس میری بات نہیں ٹالیں گے۔ سمجھانے میں کچھ وقت لگے گا مگر میں تمہاری مدد کروں گا۔ میں انہیں منا لوں گا۔ تم ٹھیک کہتی ہو کہ مجھے تمہاری مدد کرنی چاہئیے۔”
وہ پرسوچ مگر الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہہ رہا تھا۔ امامہ کو عجیب سی ڈھارس ہوئی۔ اسے جلال سے یہی توقع تھی۔
امامہ نے سوچا۔” میرا انتخاب غلط نہیں ہے۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: