Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 1

0
پرسرار چیخیں ​از ابن صفی – قسط نمبر 1

–**–**–

موڈی ایک رومان زدہ نوجوان امریکن تھا۔ مشرق کو بیسویں صدی کے سائنسی دور میں بھی پراسرار سمجھتا تھا۔۔۔ اس نے بچپن سے اب تک خواب ہی دیکھے تھے۔۔۔ دھندلے اور پراسرار خواب۔ جن میں آدمی کا وجود بیک وقت متعدد ہستیاں رکھتا ہے۔۔۔!

بہرحال اس کی سریت پسندی ہی اسے مشرق میں لائی تھی۔۔۔ اس کا باپ امریکہ کا ایک مشہور کروڑ پتی تھا۔۔۔ موڈی بظاہر مشرق میں اسکی تجارت کا نگران بن کر آیا تھا۔۔۔ لیکن مقصد دراصل اپنی سریت پسندی کی تسکینی تھا۔۔۔!

وہ شراب کے نشے میں شہر کے گلی کوچوں میں اپنی کار دوڑاتا پھرتا۔۔۔ ایسے حصوں میں کم از کم ایک با رضرور گزرتا تھا جہاں قدیم اور ٹوٹی پھوٹی عمارتیں ہوتی تھیں۔۔۔ شام کا وقت اس کے لئے بہت موزوں ہوتا تھا۔۔۔ سورج کی آخری شعاعیں صدہاسال پرانی عمارتوں کی شکستہ دیواروں پر پڑ کر عجیب سا ماحول پیدا کرتی تھیں۔۔ ۔ اور موڈی کو اپنی روح ان ہی سال خوردہ دیواروں کے گرد منڈلاتی ہوئی محسوس ہوتی۔۔۔

آج بھی وہ عالمگیری سرائے کے علاقے میں اپنی کار دوڑاتا پھررہا تھا۔۔۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔۔۔ دھندلکے کی چادر آہستہ آہستہ فضا پر مسلط ہوتی جا رہی تھی۔

موڈی کی کار ایک سنسان اور پتلی سی گلی سے گزر رہی تھی۔ رفتار اتنی دھیمی تھی کہ ایک بچہ بھی دروازہ کھول کر اندر آسکتا تھا۔

موڈی اپنے خیالوں میں ڈوبا ہوا ہولے ہولے کچھ گنگنا رہا تھا۔۔۔ اچانک کسی نے کار کا پچھلا دروازہ زور سے سو کیا۔۔۔ آواز کے ساتھ ہی موڈی چونک کر مڑا۔ لیکن اندھیرا ہونے کی بنا پر کچھ دکھائی نہ دیا۔ دوسرے ہی لمحے میں موڈی نے اندر روشنی کردی اور پھر اس کے ہاتھ اسٹیرنگ پر کانپ کر رہ گئے۔

“بجھا دو!۔۔۔ خدا کے لئے۔۔۔ بجھا دو!” اس نے ایک کپکپاتی ہوئی آواز سنی۔

موڈی نے غیر ارادی طور پر سوئچ آف کردیا۔۔۔ اندر پھر اندھیرا تھا۔

“مجھے بچاؤ!” پچھلی نشست پر بیٹھی ہوئی لڑکی نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔ لہجہ مشرقی مگر زبان انگریزی تھی۔

“اچھا۔۔۔ اچھا!” موڈی نے بوکھلا کر سرہلاتے ہوئے کہا اور کار فراٹے بھرنے لگی۔۔۔!

کافی دور نکل آنے کے بعد نشے کے باوجود بھی موڈی کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔۔۔ وہ سوچنے لگا کہ آخر وہ اسے کس طرح بچائے گا۔۔۔ کس چیز سے بچائے گا؟

“میں تمہیں کس طرح بچاؤں؟” اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔

“مجھے کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دیجئے۔۔۔ میں خطرے میں ہوں۔”

“کوتوالی۔۔۔!” موڈی نے پوچھا۔

“نہیں نہیں!” لڑکی کے لہجے میں خوف تھا۔

“کیوں! اگر تم خطرے میں ہو۔۔۔ تو اس سے بہتر جگہ اور کیا ہوسکتی ہے۔”

“آپ سمجھتے ہیں! اس میں عزت کا بھی تو سوال ہے!”

“میں تمہاری بات سمجھ ہی نہیں سکتا۔۔۔ بہرحال جہاں کہو اتار دوں!”

“میرے خدا۔۔۔ میں کیا کروں!” لڑکی نے شاید خود سے کہا۔ اس کی آواز میں بڑی کشش تھی۔ خوابناک سی آواز تھی۔ اتنی ہی دیر میں موڈی کو اس آواز میں قدیم اسرار کی جھلک محسوس ہونے لگی تھی۔

“کیا تمہارا اپنا گھر نہیں!” موڈی نے پوچھا۔

“ہے تو۔۔۔ لیکن اس وقت گھر کا رخ کرنا موت کو دعوت دینا ہوگا۔”

“تم بڑی عجیب باتیں کر رہی ہو!”

“مجھے بچائیے۔ میں آپ پر اعتماد کرسکتی ہوں کیونکہ آپ ایک غیر ملکی ہیں۔”

“بات کیا ہے۔۔۔!”

“ایسی نہیں جس پر آپ آسانی سے یقین کر لیں۔”

“پھر بتاؤ۔۔۔ میں کیا کروں۔” موڈی نے بے بسی سے کہا۔

“مجھے اپنے گھر لے چلئے۔۔۔ لیکن اگر وہاں کتے نہ ہوں۔ مجھے کتوں سے بڑا خوف معلوم ہوتا ہے۔”

“گھر لے چلوں!” موڈی تھوک نگل کر رہ گیا۔ اچانک اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے خوابوں میں سے ایک نے عملی جامہ پہن لیا ہو۔ وہ تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ پھر بولا۔ “کتے ہیں تو مگر خطرناک نہیں۔” موڈی نے کار اپنے بنگلے کی طرف موڑدی۔

“لیکن خطرہ کس قسم کا ہے!” اس نے لڑکی سے پوچھا۔

“اطمینان سے بتانے کی بات ہے۔” لڑکی بولی۔ “اگر میں یہیں بتانا۔۔۔ شروع کردوں تو آپ ہنسی میں اڑا دیں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ کار سے اتر جانے کو کہیں۔”

موڈی خاموش ہوگیا۔ اس نے اس لڑکی کی صرف ایک جھلک دیکھی تھی اور سر سے پیر تک لرز کر رہ گیا تھا۔۔۔ اس نے مشرق قدیم کے متعلق بہت کچھ پڑھا تھا۔۔۔ بچپن ہی سے پڑھتا آیا تھا۔۔۔ اس لٹریچر کی پراسرار مشرقی حسینائیں اس کے خوابوں میں بس گئی تھیں!۔۔۔ بار بار اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اندر روشنی کرکے اسے ایک بار پھر دیکھے۔۔۔ کتنا پراسرار چہرہ تھا کیسی خوابناک آنکھیں۔۔۔ اسے اس کے گرد روشنی کا ایک دائرہ سا نظر آیا تھا۔ پتہ نہیں یہ اس کا واہمہ تھا یا حقیقت تھی اس نے سوئچ آن کرنا چاہا لیکن ہمت نہ پڑی۔ لڑکی بھی خاموش ہو گئی تھی لیکن اس کی آواز اب بھی موڈی کے ذہن میں گونج رہی تھی۔

بنگلہ آگیا اور کار کمپاؤنڈ کے پھاٹک میں موڑ دی گئی۔۔۔ موڈی کار کو گیراج کی طرف لے جانے کی بجائے سیدھا پورچ کی طرف لیتا چلا گیا اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس کے سامنے اس کے خوابوں کی تعبیر کھڑی تھی۔ ایک نوجوان مشرقی لڑکی جس کے خدوخال موڈی کو بڑے کلاسیکل قسم کے معلوم ہو رہے تھے۔۔۔ وہ مشرقی ہی لباس میں تھی لیکن لباس سے خوشحال نہیں معلوم ہوتی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چرمی سوٹ کیس تھا۔

“بب ۔۔۔ بیٹھو!” موڈی نے ہکلا کر صوفے کی طرف اشارہ کیا!

لڑکی بیٹھ گئی۔ موڈی اس انتظار میں تھا کہ لڑکی خود ہی گفتگو کرے گی لیکن وہ خاموش بیٹھی فرش کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے وہ یہاں آنے کا مقصد ہی بھول گئی ہو۔۔۔ موڈی کچھ دیر تک انتظار کرتا رہا لیکن جب اس کی خاموشی کا وقفہ بڑھتا ہی گیا تو اس نے کہا۔

“مجھے اب کیا کرنا چاہیئے۔” لڑکی چونک پری اور اس طرح چونکی جیسے اسے موڈی کی موجودگی کا احساس ہی نہ رہا ہو۔

“اوہ۔۔۔” اس نے ہونٹوں پر زبان پھیر کرکہا۔

“میری وجہ سے آپ کوبڑی تکلیف ہوئی۔”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں!” موڈی بولا!”کچھ پئیں گیآپ؟”

“جی نہیں شکریہ!” لڑکی نے سوٹ کیس کو فرش پر رکھتے ہوئے کہا۔ وہ پھر خاموش ہو گئی۔۔۔ اب موڈی کو الجھن ہونے لگی۔۔۔ آخر اس نے اسے اصل موضوع کی طرف لانے کے لئے کہا۔ “میں ہر طرح آپ کی مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔”

“میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں آپ سے کیا کہوں اور کس طرح گفتگو شروع کروں۔” لڑکی بولی!

“آپ کچھ کہئے بھی تو۔” موڈی نے جھنجھلا کر کہا۔ دراصل اس کا نشہ اکھڑ رہا تھا۔ ایسی حالت میں وہ ہمیشہ کچھ چڑ چڑا سا نظر آنے لگتا تھا۔

“ذرا۔۔۔ ایک منٹ ٹھہریئے۔” لڑکی سوٹ کیس کو فرش سے اٹھا کر صوفے پر رکھتی ہوئی بولی۔ “میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ مجھے یہاں تک لائے۔ اب میں آپ سے ایک درخواست اور کروں گی۔”

“کہیئے۔۔۔ کہیئے!” موڈی سیگرٹ سلگاتا ہوا بولا۔

“میں کچھ دنوں کے لئے اپنی ایک چیز آپ کے پاس امانتا رکھوانا چاہتی ہون۔” لڑکی نے کہا اور سوٹ کیس کھول کر اس میں سے آبنوس کی ایک چھوٹی سی صندوقچی نکالی۔۔۔ اور پھر جیسے ہی موڈی کی نظر اس صندوقچی پر پڑی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔ کیونکہ اس صندوقچی میں جواہرات جڑے ہوئے تھے!

“یہ ہمارے ملک کی ایک قدیم ملکہ کا سنگاردان ہے۔” لڑکی اسے موڈی کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی۔ “آپ اسے کچھ دنوں کے لئے اپنے پاس رکھئے۔”

“کیوں۔۔۔ وجہ؟”

“بات یہ ہے کہ میں ایک بے سہارا لڑکی ہوں۔ کچھ لوگ اس کی تاک میں ہیں۔ آج بھی انہوں نے اسے اڑانا چاہا تھا۔۔۔ لیکن میں کسی طرح بچا لائی۔ گھر میں تنہا رہتی ہوں۔۔۔؟”

“مگر یہ آپ کو ملا کہاں سے؟”

Read More:  Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 13

“کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں کہیں سے چرا لائی ہوں۔”

“اوہو! یہ مطلب نہیں!”موڈی جلدی سے بولا۔”بات یہ ہے کہ۔۔۔!”

“بب ۔۔۔ بیٹھو!” موڈی نے ہکلا کر صوفے کی طرف اشارہ کیا!

لڑکی بیٹھ گئی۔ موڈی اس انتظار میں تھا کہ لڑکی خود ہی گفتگو کرے گی لیکن وہ خاموش بیٹھی فرش کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے وہ یہاں آنے کا مقصد ہی بھول گئی ہو۔۔۔ موڈی کچھ دیر تک انتظار کرتا رہا لیکن جب اس کی خاموشی کا وقفہ بڑھتا ہی گیا تو اس نے کہا۔

“مجھے اب کیا کرنا چاہیئے۔” لڑکی چونک پری اور اس طرح چونکی جیسے اسے موڈی کی موجودگی کا احساس ہی نہ رہا ہو۔

“اوہ۔۔۔” اس نے ہونٹوں پر زبان پھیر کرکہا۔

“میری وجہ سے آپ کوبڑی تکلیف ہوئی۔”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں!” موڈی بولا!”کچھ پئیں گیآپ؟”

“جی نہیں شکریہ!” لڑکی نے سوٹ کیس کو فرش پر رکھتے ہوئے کہا۔ وہ پھر خاموش ہو گئی۔۔۔ اب موڈی کو الجھن ہونے لگی۔۔۔ آخر اس نے اسے اصل موضوع کی طرف لانے کے لئے کہا۔ “میں ہر طرح آپ کی مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔”

“میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں آپ سے کیا کہوں اور کس طرح گفتگو شروع کروں۔” لڑکی بولی!

“آپ کچھ کہئے بھی تو۔” موڈی نے جھنجھلا کر کہا۔ دراصل اس کا نشہ اکھڑ رہا تھا۔ ایسی حالت میں وہ ہمیشہ کچھ چڑ چڑا سا نظر آنے لگتا تھا۔

“ذرا۔۔۔ ایک منٹ ٹھہریئے۔” لڑکی سوٹ کیس کو فرش سے اٹھا کر صوفے پر رکھتی ہوئی بولی۔ “میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ مجھے یہاں تک لائے۔ اب میں آپ سے ایک درخواست اور کروں گی۔”

“کہیئے۔۔۔ کہیئے!” موڈی سیگرٹ سلگاتا ہوا بولا۔

“میں کچھ دنوں کے لئے اپنی ایک چیز آپ کے پاس امانتا رکھوانا چاہتی ہون۔” لڑکی نے کہا اور سوٹ کیس کھول کر اس میں سے آبنوس کی ایک چھوٹی سی صندوقچی نکالی۔۔۔ اور پھر جیسے ہی موڈی کی نظر اس صندوقچی پر پڑی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔ کیونکہ اس صندوقچی میں جواہرات جڑے ہوئے تھے!

“یہ ہمارے ملک کی ایک قدیم ملکہ کا سنگاردان ہے۔” لڑکی اسے موڈی کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی۔ “آپ اسے کچھ دنوں کے لئے اپنے پاس رکھئے۔”

“کیوں۔۔۔ وجہ؟”

“بات یہ ہے کہ میں ایک بے سہارا لڑکی ہوں۔ کچھ لوگ اس کی تاک میں ہیں۔ آج بھی انہوں نے اسے اڑانا چاہا تھا۔۔۔ لیکن میں کسی طرح بچا لائی۔ گھر میں تنہا رہتی ہوں۔۔۔؟”

“مگر یہ آپ کو ملا کہاں سے؟”

“کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں کہیں سے چرا لائی ہوں۔”

“اوہو! یہ مطلب نہیں!”موڈی جلدی سے بولا۔”بات یہ ہے کہ۔۔۔!”

میری ظاہری حالت ایسی ہے کہ میں اس کی مالک نہیں ہوسکتی۔” لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دکھائی دی۔

“آپ میرا مطلب نہیں سمجھیں۔”

“دیکھئے میں آپ کو بتاتی ہوں۔” لڑکی نے ایک طویل سانس لے کر کہا۔

“میں دراصل یہاں کے ایک قدیم شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہوں یہ سنگار دان مجھ تک وراثت میں پہنچا ہے۔۔۔ اب میں اس خاندان کی آخری فرد ہوں۔”

“سچ مچ!” موڈی بے چینی سے پہلو بدلتا ہوا بولا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید عنقریب اسے اپنے خوابوں کی تعبیر مل جائے گی۔

“ہاں تو آپ یہ خیال دل سے نکال دیجئے کہ میں اسے کہیں سے چرا کر لائی ہوں۔”

“دیکھئے آپ زیادتی کر رہی ہیں!” موڈی نے ملتجانہ انداز میں کہا۔

“میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں اس کی حفاظت کروں گا۔ شہزادی صاحبہ!”

“بہت بہت شکریہ۔۔۔ لیکن اب میں آپ کو ایک خطرے سے آگاہ کردوں! ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اسے حاصل کرنے کے سلسلہ میں آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔”

“ناممکن!” موڈی اکڑ کر بولا۔ “میں اڑتے پرندوں پر نشانہ لگا سکتا ہوں۔ یہاں کس کی مجال ہے کہ میری کمپاؤنڈ میں قدم رکھ سکے۔”

“ایک بار پھر سوچ لیجئے!” لڑکی نے اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھ کر کہا۔

“میں نے سوچ لیا! میں آپ کی مدد کروں گا۔ ابھی آپ کہہ رہی تھیں کہ آپ تنہا رہتی ہیں!”

“جی ہاں۔۔۔”

“لیکن آپ اسے واپس کب لیں گی۔”

“جب بھی حالات سازگار ہوگئے۔ اسی لئے میں آپ سے کہہ رہی تھی کہ مدد کرنے سے پہلے حالات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔”

“پروا نہ کیجئے! میں اب کچھ نہ پوچھوں گا۔ جو آپ کا دل چاہے کیجئے۔”

“اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ اسے کچھ دنوں کے لئے اپنے پاس رکھ لیں۔”

“میں تیار ہوں۔ لیکن کیا آپ کبھی کبھی ملتی رہا کریں گی۔”

“یہ سب حالات پر منحصر ہے۔”

“لیکن اب آپ کی واپسی کس طرح ہوگی؟ کیا باہر وہ لوگ آپ کی تاک میں نہ ہوں گے۔”

“ہوا کریں لیکن اب وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے!”

“کیوں۔ کیا ابھی کچھ دیر قبل آپ ان سے خائف نہیں تھیں؟”

“ضرور تھی لیکن اب وہ چیز میرے پاس نہیں ہوگی جس کی وجہ سے میں خائف رہتی تھی۔”

“ممکن ہے وہ آپ کو قابو میں کرنے کے بعد آپ پر جبر کریں۔”

“میرا دل کافی مضبوط ہے۔”

“آپ پولیس کو کیوں نہیں مطلع کرتیں۔”

“اوہ اس طرح بھی ایک خاندانی چیز کے ضائع ہوجانے کا امکان باقی رہ جاتا ہے۔ حکومت ایسی صورت میں یہ ضرور چاہے گی کہ اسے آثار قدیمہ کے کسی شعبے میں رکھ لیا جائے۔”

“ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے۔” موڈی نے سر ہلا کر کہا۔

“نہ میں پولیس کو اطلاع دے سکتی ہیں اور نہ فی الحال اپنے پاس رکھ سکتی ہوں۔۔۔ اف میرے خدا میں کیا کروں۔ یہ دونوں ہی صورتیں مجھے پولیس کی نظر میں مشتبہ بنا دیں گی۔ اس لئے خاموشی ہی بہتر پالیسی ہوگی۔”

“آپ ٹھیک کہتی ہیں شہزادی صاحبہ۔ میں اس کی پوری پوری حفاظت کروں گا۔”

“بہت بہت شکریہ!”

“کیا میں آپ کا نام اور پتہ پوچھنے کی جرات کرسکتا ہوں۔”

“نام۔۔۔ میرا نام دردانہ ہے۔۔۔ اور پتہ۔۔۔ نہیں پتہ نہ پوچھئے۔۔۔ آپ نہیں سمجھ سکتے کہ میں کن پریشانیوں میں مبتلا ہوں۔۔۔ میں آپ سے ملتی رہوں گی۔”

“بہت اچھا! میں آپ کو مجبور نہیں کروں گا۔ کیا آپ رات کا کھانامیرے ساتھ پسند کریں گی۔”

“نہیں شکریہ!” لڑکی اٹھتی ہوئی بولی۔ “آپ ذرا تکلیف کرکے مجھے پھاٹک تک چھوڑ آئیے۔” موڈی چاہتا تھا کہ وہ ابھی کچھ دیر اور رکے۔۔۔ لیکن دوبارہ کہنے کی ہمت نہ پڑی۔۔۔ نہ جانے کیوں اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ لڑکی شہزادیوں کے سے انداز میں اس سے تحمکانہ لہجے میں گفتگو کرے اور وہ ایک غلام کی طرح سر جھکائے کھڑا سنتا رہے۔

وہ اس کے ساتھ پھاٹک تک آیا۔۔۔ اور اس وقت تک کھڑا سے جاتے دیکھتا رہا جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔ موڈی نے اسے کہا بھی تھا کہ وہ جہاں کہے اسے کار پر پہنچایا جائے لیکن لڑکی نے اسے منظور نہیں کیا تھا۔

موڈی اس کے جانے کے بعد کافی دیر تک کھڑا اندھیرے میں گھورتا رہا پھر واپس چلا آیا۔ سب سے پہلے اس نے وہسکی کے دو تین پگ پئے اور پھر سنگار دان کو ڈرائنگ روم سے اٹھا کر اپنے سونے کے کمرے میں لایا۔ اس پر جڑے ہوئے جواہرات بجلی کی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔۔۔ موڈی نے اسے کھولنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ وہ پھر اپنے پراسرار خوابوں میں کھو گیاتھا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اب سے پانچ سو سال قبل کی دنیا میں سانس لے رہا ہو اور اس کی حیثیت کسی شہزادی کے باڈی گارڈ کی سی ہو! وہ اس کے دشمنوں سے جنگ لڑ رہا ہو۔۔۔ نشے میں تو تھا ہی اس نے سچ مچ خیالی شہزادی کے خیالی دشمنوں سے جنگ شروع کردی۔ اس کا پہلا گھونسہ دیوار پر پڑا، دوسرا میز پر اور تیسرا غالبا اس کے سر پر۔۔۔ وہ غل غپاڑہ مچا کہ سارے نوکر اکٹھا ہوگئے۔

عمران اپنے آفس میں بیٹھا ایک فائیل کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ عمران اور آفس۔۔۔ بات حیرت انگیز ضرور ہے۔ مگر وہ بیچارہ زبردستی کی اس پکڑ دھکڑ کو کیا کرتا جو سرکاری طور پر اس کے لئے کی گئی تھی۔۔۔ لی یوکا کی گرفتاری کے بعد سے وہ کسی طرح بھی خود کو نہ چھپا سکا تھا۔ پھر ویران عمارت والا کیس بھی منظر عام پر آگیا تھا۔ یہ دونوں ہی کیس ایسے اہم تھے کہ انہیں نپٹانے والے کی شخصیت پردہ راز میں رہ ہی نہیں سکتی تھی! عمران کے والد جو محکمہ سراغرسانی کے ڈائریکٹر جنرل تھے خبط الحواس بیٹے کی ان صلاحیتوں پر بمشکل یقین کرسکے۔ وہ تو اسے گاؤدی، احمق اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے تھے۔

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 9

آنریبل وزیر داخلہ نے عمران کو مدعو کرکے بہ نفس نفیس محکمہ سراغرسانی میں ایک اچھے عہدی کی پیش کش کی اور عمران سے انکار کرتے نہ بن پڑا۔۔۔ لیکن اس نے بھی اپنی شرائط پیش کیں، جو منظور کر لی گئیں۔۔۔ اس کی سب سے پہلی تجویز تو یہ تھی کہ وہ اپنے طور پر جرائم کی تفتیش کرے گا۔ اس کا ایک الگ سیکشن ہوگا اور اس کا تعلق براہ راست ڈائریکٹر جنرل سے ہوگا اور وہ ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ اور کسی کو جوابدہ نہیں ہوگا اور وہ اپنے سیکشن کے آدمیوں کا انتخاب خود کرے گا۔ ضرور نہیں کہ وہ اس کے لئے نئی بھرتیوں کی فرمائش کرے۔ جب بھی اسے محکمے ہی کا کوئی ایسا آدمی ملے گا، جو اس کے کام کا ہو وہ اسے اپنے سیکشن میں لینے کی سفارش ضرور کرے گا۔ اس کے سیکشن کے عملے کی تعداد دس سے زیادہ نہیں ہوگی۔”

شرائط منظور ہوجانے کے بعد عمران نے اپنی خدمات پیش کردیں لیکن رحمان صاحب کو اس وقت بڑی شرمندگی ہوئی جب انہوں نے سنا کہ عمران اپنے عملے کے لئے انتہائی ناکارہ اور اونگھتے ہوئے سے آدمیوں کو منتخب کر رہا ہے۔۔۔ اس نے ابھی تک چار آدمی منتخب کیے تھے اور یہ چاروں بالکل ہی ناکارہ تصور کیے جاتے تھے۔ کوئی بھی انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھنا پسند نہیں کرتا تھا، اور ان بیچاروں کی زندگی تبادلوں کی نذر ہو کر رہ گئی تھی! ان کی شخصیتیں صفر کے برابر تھیں! دبلے پتلے جھینگر جیسے؟ کاہل، نکمے اور کام چور۔۔۔انہیں بات کرنے کا بھی سلیقہ نہیں تھا۔۔۔ عمران جانتا تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ آخر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔۔۔ رحمان صاحب نے اسے آفس میں بلا کر اچھی طرح خبر لی۔

“میرا بس چلے تو میں تمہیں دھکے دلوا کر یہاں سے نکلوا دوں۔” انہوں نے کہا۔

“میں اس جملے کی سرکاری طور پر وضاحت چاہتا ہوں!” عمران نے نہایت ادب سے کہا۔ اس پر رحمان صاحب اور زیادہ جھلا گئے۔ لیکن پھر انہیں فورا خیال آگیا کہ وہ اس وقت اپنے بیٹے سے نہیں بلکہ اپنے ایک ماتحت آفیسر سے مخاطب ہیں۔

“تم نے ایسے نکمے آدمیوں کا انتخاب کیوں کیا ہے؟” انہوں نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔

“محض اس لئے کہ میں اس محکمے میں کسی کو بھی نکما نہیں دیکھ سکتا۔” عمران کا جواب تھا۔ رحمان صاحب دانت پیس کر رہ گئے۔ لیکن کچھ بولے نہیں۔ عمران کا جواب ایسا نہیں تھا جس پر مزید کچھ کہا جاسکتا! بہرحال انہیں خاموش ہوجانا پڑا۔۔۔ کیونکہ عمران نے اپنے معاملات براہ راست وزارت داخلہ سے طے کئے تھے۔ کچھ لوگ عمران کی ان حرکتوں کو حیرت سے دیکھتے اور کچھ اس کا مضحکہ اڑاتے! لیکن عمران ان سب سے بے پروا اپنے طور پر اپنے سیکشن کے انتطامات مکمل کر رہا تھا۔

اس وقت بھی اس کے سامنے ایک فائیل رکھا ہوا تھا! اس میں چند ایسے کیسوں کے کاغذات تھے جن میں محکمے کو کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اس فائیل کو دیکھنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ایک بہت پرانے کیس میں دوبارہ جان پیدا ہو چلی تھی۔ یہ کیس دس سال پرانا اور نامکمل تھا۔ محکمہ سراغرسانی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ دس سال پہلے تو وہ اتنا عجیب واقعہ نہیں تھا۔ مگر اب۔۔۔ اب تو اس نے ایک حیرت انگیز شکل اختیار کر لی تھی کہ سارا شہر سناٹے میں آگیا تھا۔ کیس کی نوعیت عجیب تھی۔۔۔ اب سے دس سال پیشتر شہر کے مشہور رئیس نواب ہاشم کو کسی نے اس کی خوابگاہ میں قتل کردیا تھا۔۔۔ مگر پھر اچانک دس سال بعد نواب ہاشم دوبارہ گوشت پوست کی شکل میں دکھائی دیا۔۔۔ وہ کسی طویل سفر سے واپس آیا تھا۔

عمران نے فائیل بندکرکے میز کے ایک گوشے پر رکھ دیا اور جیب سے چیونگم کا پیکٹ نکال کر اس کا کاغذ پھاڑنے لگا! اتنے میں سپرنٹنڈنٹ فیاض کے اردلی نے آکر کہا۔۔۔

“صاحب نے سلام بولا ہے۔”

“وعلیکم السلام” عمران نے کہا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بندکرلیں۔ اردلی بوکھلا کر رہ گیا۔۔۔ وہ انگریزوں کے وقت کا آدمی تھا۔۔۔ اور۔۔۔۔ “سلام” کا مقصد اس دور میں بلاوے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا تھا جب کسی انگریز آفیسر کو اپنے ماتحت آفیسر کو بلوانا ہوتا تو وہ اپنے اردلیوں سے اسی طرح سلام بھجوایا کرتا تھا۔۔۔ لیکن آج فیاض کے اردلی کو عمران کے “وعلیکم السلام” نے بوکھلا دیا۔۔۔۔ وہ چند لمحے عمران کی میز کے قریب کھڑا بغلیں جھانکتا رہا۔ پھر الٹے پاؤں واپس چلا گیا۔۔۔ خود اس کی ہمت تو نہیں پڑی کہ وہ کیپٹن فیاض تک عمران کا “وعلیکم السلام” پہنچاتا۔ لیکن اس نے اس کا تذکرہ فیاض کے پرسنل اسسٹنٹ سے کردیا۔ یہ پرسنل اسسٹنٹ ایک لڑکی تھی۔ وہ کافی دیر تک ہنستی رہی پھر اس نے سلام کا جواب فیاض تک پہنچا دیا۔۔۔ فیاض بھنا گیا۔۔۔ وہ عمران کا دوست ضرور تھا۔ لیکن جب سے عمران اس محکمے میں آیا تھا اسے اپنا ماتحت سمجھنے لگا تھا۔ اس بار اس نے اردلی کو بلا کر کہا “جا کر کہو! صاحب بلا رہے ہیں۔”

اردلی چلا گیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد عمران کمرے میں داخل ہوا۔

“بیٹھ جاؤ!” فیاض نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ عمران بیٹھ گیا۔ فیاض چند لمحے اسے گھورتا رہا پھر بولا “دوستی اپنی جگہ۔۔۔ لیکن آفس میں تمہیں حفظ مراتب کا خیال رکھنا ہی پڑے گا۔”

“میں سمجھا نہیں! تم کیا کہہ رہے ہو۔”

“میں تمہارا آفیسر ہوں۔”

“اخاہ۔” عمران برا سا منہ بنا کر بولا۔ یہ تم سے کس گدھے نے کہہ دیا ہے کہ تم میرے آفیسر ہو! دیکھو میاں فیاض! میرا اپنا الگ ڈیپارٹمنٹ ہے اور میں اس کا اکلوتا انچارج ہوں۔۔۔ اور میں براہ راست ڈائریکٹر جنرل صاحب کو جواب دہ ہوں! سمجھے!”

“سمجھا۔” فیاض طویل سانس لے کر بولا اور کچھ نرم پڑ گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس اپنی تقری کا “معجزہ” یاد آگیا ہو۔ وہ پہلے صرف انسپکٹر تھا۔ لیکن پانچ سال کے اندر حیرت انگیز طور پر سپرنٹنڈنٹ ہو گیا تھا۔۔۔ اس کا دل ہی جانتا تھا کہ اس ترقی کے لئے عمران نے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔”

“دیکھو میرا مطلب یہ تھا کہ تم آفس میں بھی اپنے الو پن سے باز نہیں آتے۔”

“یہ کہاں لکھا ہے کہ اس آفس میں الوؤں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔!”

“او بابا ختم بھی کرو۔۔۔ میں تم سے ایک اہم مسئلہ پر گفتگو کرنا چاہتا تھا!”

“میرا خیال ہے کہ میرا الو پن بھی نہایت اہم ہے۔۔۔ کیونکہ اسی الو پن کی وجہ سے میں یہاں تک پہنچا ہوں۔ ویسے میں جانتا ہوں کہ تم نواب ہاشم کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہو!”

“تم نے پورا کیس سمجھ لیا۔”

“سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ نہیں سمجھ سکا کہ آخر اسے قتل کیوں قرار دیا گیا۔ ہزار حالات ایسے تھے کہ اسے خودکشی بھی سمجھا جا سکتا تھا۔”

“مثلا۔۔۔!” فیاض نے اسے معنی خیز نظروں سے دیکھ کرپوچھا۔

مثلا یہ کہ فائر اس کے چہرے پر کیا گیا تھا۔ بندوق بارہ بورکی تھی اور کارتوس ایس جی کے۔ چہرے کے پرخچے اڑ گئے تھے شکل اس طرح بگڑ گئی تھی کہ شناخت مشکل تھی۔۔۔ وہ صرف اپنے لباس اور چند دوسری نشانیوں کی بنا پر پہچانا گیا تھا! بندوق اس کے قریب ہی پڑی ہوئی ملی تھی اور اس کا ثبوت بھی موجود ہے کہ گولی بہت ہی قریب سے چلائی گئی تھی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کہتی ہے کہ بندوق کے دہانے کا فاصلہ چہرے سے ایک بالشت سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔۔۔”

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 15

“گولی مارو یار۔” فیاض میز پر ہاتھ مار کر بولا۔”وہ کم بخت تو زندہ بیٹھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بعض وجوہ کی بنا پر کسی کو کچھ بتائے بغیر گھر سے چلا گیا تھا۔ اتنے دنوں تک جنوبی براعظموں کی سیاحت کرتا رہا اور اب واپس آیاہے۔۔۔ اس کی خوابگاہ میں کس کی لاش پائی گئی۔۔۔؟ نواب ہاشم اس سے لاعلم ہے۔”

“ذرا ٹھہرو!” عمران ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جس رات لاش پائی گئی تھی اس دن وہ اپنے گھر ہی میں رہا ہوگا۔”

“ظاہر ہے۔”

“تو پھر اسی رات کو۔۔۔ گھر سے روانہ ہوا۔۔۔ اور رات کو ایک ایسے آدمی کو اس کی خوابگاہ میں حادثہ پیش آیا جو اسی کے سلیپنگ سوت میں ملبوس تھا۔”

“بات تو یہی ہے۔” فیاض نے سیگرٹ سلگاتے ہوئے کہا۔

عمران چند لمحے کچھ سوچتا رہا۔ پھر بولا۔ “اب وہ اس لاش کے متعلق کیا کہتا ہے۔”

“اس کا جواب صاف ہے۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ بھلا میں کیا بتا سکتا ہوں۔ گھر والوں کی غلطی ہے۔ انہوں نے لاش اچھی طرح شناخت نہیں کی تھی!”

“لیکن کسی کو کچھ بتائے بغیر اس طرح غائب ہوجانے کا کیا مقصد تھا۔”

“عشق!” فیاض ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔

“اوہ تب تو میں کچھ بھی نہیں کرسکتا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ “مثل مشہور ہے کہ عشق کے آگے بھوت بھی بھاگتا ہے۔”

“سنجیدگی عمران سنجیدگی!”

“میں بالکل سنجیدہ ہوں! اگر وہ اس طرح گھر سے نہ بھاگتا تو اسے سچ مچ کسی سے عشق ہو جاتا۔”

“بکواس مت کرو۔۔۔ عشق میں ناکام رہنے پر وہ دل شکستہ ہو گیا تھا۔ اس لئے اسے یہاں سے چلا جانا پڑا۔۔۔”

“خدا سے ڈرو فیاض وہ جنگ کا زمانہ تھا اور اس زمانے کا رواج یہ تھا کہ لوگ عشق میں ناکام ہونے پر فوج میں بھرتی ہو جایا کرتے تھے۔ ایسے حالات میں ساحی کا دستور نہیں تھا۔”

“میرا دماغ خراب مت کرو!” فیاض جھنجھلا کر بولا۔ “جاؤ یہاں سے۔” عمران چپ چاپ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کے کمرے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بج رہی تھی۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔

“ہیلو۔۔۔ ہاں عمران کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔۔۔ کون۔۔۔! موڈی کیا بات ہے آخر کچھ بتاؤ بھی تو۔۔۔ ارے بس یار کان نہ کھاؤ۔۔۔ اچھا میں ابھی آرہا ہوں۔”

ریسیور رکھ کر وہ دروازے کی طرف مڑا۔ جہاں اس کا ایک مریل سا ماتحت کھڑا اسے گھور رہا تھا۔۔۔ اس کے چہرے کی رنگت زرد تھی۔ گال پچکے ہوئے اور بال پریشان تھے۔

“ہوں۔۔۔ کیا خبر ہے۔” عمران نے اس سے پوچھا۔

“جناب! میں نے کچھ معلومات فراہم کی ہیں۔”

“شاباش۔ دیکھا تم نے۔ پہلے تم کہا کرتے تھے کہ معلومات تم سے دور بھاگتی ہیں مگر اب۔۔۔ اب تم اچھے خاصے جا رہے ہو۔ عنقریب سارجنٹ ہو جاؤ گے۔۔۔ لیکن میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ دوسروں کو الو بنانے کا سائنٹیفک طریقہ یہ ہے کہ خود الو بن جاؤ سمجھے!”

“جی جناب! میں بالکل سمجھ گیا۔۔۔ خیر رپورٹ سنئے! نواب ہاشم حویلی سے باہر نہیں نکلتا! آج ایک سرخ رنگ کی کار حویلی میں دو بار آئی تھی۔۔۔ حویلی کی کمپاؤنڈ میں ایک لڑکا تقریبا آدھے گھنٹے تک منہ سے طبلہ بجا بجا کر فلمی گیت گاتا رہا۔ پھر گیارہ بجے ایک نہایت شوخ اور الہڑ قسم کی مہترانی حویلی میں داخل ہوئی اور اس کے بائیں گال پر سیاہ رنگ کا ابھرا ہوا سا تل تھا۔۔۔ چہرہ بیضوی! آنکھیں شربتی قد ساڑھے چار اور پانچ کے درمیان میں۔۔۔”

“ہائیں۔۔۔ واقعی تم ترقی کر رہے ہو۔” عمران مسرت بھرے لہجے میں چیخا۔ “شاباش۔۔۔ ہر چیز کو بہت غور سے دیکھو۔۔۔ کار جو دوبار آئی تھی اس کا نمبر کیا تھا۔۔۔”

“اس پر تو میں نے دھیان نہیں دیا جناب۔”

“فکر نہ کرو۔۔۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ اچھا اب جاؤ چار بجے شام پھر وہیں تمہاری ڈیوٹی ہے۔۔۔!”

عمران نے باہر آکر سائبان کے نیچے سے اپنی سیاہ ٹوسیٹر نکالی اور موڈی کے بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا۔ موڈی اس کے گہرے دوستوں میں سے تھا، عمران جب وہاں پہنچا تو موڈی شراب پی رہا تھا۔۔۔ وہ تقریبا ہروقت نشے میں رہتا تھا۔ عمران کو دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھا اور لکھنوی انداز میں اسے سلام کرتا ہوا پیچھے کی طرف کھسکنے لگا! وہ مشرقی طرز معاشرت کا دلدادہ تھا اور مشرقیوں کے ساتھ عموما انہیں کا انداز اختیار کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا!

موڈی نے اپنی داستان شروع کردی تھی! عمران بغور سن رہا تھا۔

“تو وہ سنگار دان میرے پاس چھوڑ کر چلی گئی!” موڈی نے بیان جاری رکھا اور اسی رات کو کچھ نامعلوم افراد نے میرے بنگلے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

“کیا تم جاگ رہے تھے؟” عمران نے پوچھا۔

“میں رات بھر جاگتا رہا تھا۔ میں نے انہیں دیکھا، دو تین فائر کیے۔۔۔ اور وہ ڈر کر بھاگ گئے، لیکن دوسرے ہی دن سے یہاں اجنبیوں کا تار بندھ گیا ایسی ایسی شکلیں دکھائی دیں کہ میں حیران رہ گیا۔ ان میں سے کوئی نوکری کے لئے آیا تھا۔ کوئی امریکی طرز حیات کے متعلق معلومات چاہتا تھا کوئی محض اس لئے آیا تھا کہ مجھ سے دوستی کرنا چاہتا تھا!۔۔۔ تقریبا دس پندرہ آدمی اسی طرح مجھ تک پہنچے۔ اس سے پہلے یہاں کوئی نہیں آتا تھا۔۔۔ پھر شام کو ایک عجیب و غریب آدمی آیا۔ اس کے چہرے پر سیاہ رنگ کی گھنی داڑھی تھی اور آنکھوں پر تاریک شیشے کی عینک۔۔۔ اس نے کہا کہ وہ میرے بنگلے کا مالک ہے۔ واضح رہے کہ میں نے یہ بنگلہ ایک ایجنسی کی معرفت کرایہ پر حاصل کیا ہے اور اس عجیب نووارد نے مجھ سے کہا کہ اسے ایجنسی والوں پر اعتماد نہیں ہے! میں ذرا بنگلے کی اندرونی حالت دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔! تم خود سوچو عمران ڈیئر، میں الو تو تھا نہیں کہ اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دیتا اور پھر ایسے حالات میں۔۔۔ لو میری جان! تم بھی پیو۔۔۔”

“نہیں شکریہ!۔۔۔ ہاں! پھرکیا ہوا؟”

“تم جانتے ہو کہ میں خود بڑا پراسرار آدمی ہوں۔” موڈی نے موڈ میں آکر کہا “مجھے کوئی کیا دھوکا دے گا۔۔۔ میں نے اسے ٹہلا دیا!” موڈی نے دوسرا گلاس لبریز کرکے ہونٹوں سے لگالیا!۔۔۔

“لڑکی پھر آئی تھی؟” عمران نے پوچھا۔

“ہائے یہی تو داستان کا بڑا پردرد حصہ ہے! میرے دوست!” موڈی ایک سانس میں گلاس خالی کرکے اسے میز پر پٹختا ہوا بولا۔ “وہ آئی تھی۔۔۔ آج سے دس دن پہلے کا واقعہ ہے۔ آئی اور کہنے لگی کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں؟ ایسی چیز کو اپنے پاس کیسے رکھوں، میں ایک بے سہارا لڑکی ہوں، میری گردن ضرور کٹ جائے گی!۔۔۔ میں نے کہا کہ وہ اسے کسی معقول آدمی کے ہاتھ فروخت کیوں نہیں کردیتی! اس طرح اس کی مالی حالت بھی درست ہو جائے گی!۔۔۔ تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد وہ راضی ہوگئی، میں نے اسے پچیس ہزار کا آفر دیا!۔۔۔ اس پر وہ کہنے لگی کہ نہیں یہ بہت زیادہ ہے۔ اس کی دانست میں اس کی قیمت زیادہ نہیں تھی! میں نے سوچا کتنی بھولی ہے!۔۔۔ ہائے عمران پیارے وہ اب بھی! ہائے۔۔۔ میں نے اسے زبردستی پچیس ہزار کے نوٹ گن دیئے۔۔۔! اس دوران میں ہر رات مجھے ریوالور لے کر اس سنگار دان کی حفاظت کے لئے جانگا پڑتا تھا۔۔۔!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: