Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 2

0
پرسرار چیخیں ​از ابن صفی – قسط نمبر 2

–**–**–

“ارے وہ ہے کہاں؟ میں بھی تو دیکھوں۔” عمران بولا۔

“ٹھہرو۔۔۔ دکھاتا ہوں۔۔۔” یک بیک موڈی کا موڈ بگڑ گیا۔۔۔ اس کا اوپری ہونٹ بھینچ گیا تھا اور آنکھوں سے خون سا ٹپکتا ہوا معلوم ہو رہا تھا!۔۔۔ عمران نے اس کے جذباتی تغیر کو حیرت سے دیکھا۔ لیکن بولا کچھ نہیں۔۔۔ موڈی جھٹکے کے ساتھ اٹھا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا! عمران چپ چاپ بیٹھا رہا۔ دفعتا اس نے دوسرے کمرے میں شور و غل کی آوازیں سنیں اور ساتھ ہی نوکر بھاگتا ہوا کمرے میں آیا!۔۔۔

“صاحب” اس نے ہانپتے ہوئے عمران سے کہا۔ “موڈی صاحب کو بچائیے۔”

“کیا ہوا؟” عمران اچھل کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ نوکر نے کمرے کے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور خود بھی بھاگتا ہوا اسی کمرے میں چلا گیا! عمران جھپٹ کر کمرے میں پہنچا!۔۔۔ موڈی عجیب حال میں نظر آیا! دو تین نوکر اس کی کمر سے لپٹے ہوئے تھے اور وہ ایک سیاہ رنگ کے ڈبے سے سر پھوڑ رہا تھا!۔

“ہٹ جاؤ۔۔۔ ہٹ جاؤ!” وہ حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا تھا اور ساتھ ہی ڈبے سے اپنے سر پر ضربیں لگاتا جا رہا تھا!۔

عمران نے بدقت تمام وہ ڈبہ اس کے ہاتھ سے چھینا۔۔۔ اور نوکروں نے کسی نہ کسی طرح اسے دھکیل کر ایک صوفے میں ڈال دیا۔ عمران نے ڈبے کو ہاتھوں میں تول کر دیکھا اور پھر اس کی نظر ان چجواہرات پر جم گئی، جو ڈبے کے چاروں طرف جڑے ہوئے تھے!۔

“یہی ہے!” موڈی صوفے سے اٹھ کر دھاڑا۔۔۔”یہی ہے!”

“ہوش میں آجاؤ بیٹا۔ ورنہ ٹھنڈے پانی کی بالٹی میں غوطہ دوں گا!” عمران بولا۔

“میں بالکل ہوش میں ہوں” موڈی نے حلق پھاڑ کر کہا۔ “جب سے میں نے اس کی قیمت ادا کی ہے۔۔۔ چین سے رات بھر سوتا ہوں۔ سمجھے تم۔۔۔ یا ابھی اور حلق پھاڑوں؟”

“اب تم سوجاؤ!” عمران نے کہا۔ “پھر کبھی بات کریں گے۔۔۔!”

“کیا۔۔۔ ارے کیا! اب تم بھی کام نہ آؤ گے؟”

“تو پھر تم ہوش کی باتیں کرو!”

“ارے بابا۔” موڈی پیشانی پر ہاتھ مار کر بولا۔ “اس کے خریدنے کے بعد سے اب تک ایک بھی پراسرار آدمی دکھائی نہیں دیا۔ کسی نے بھی اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔”

“ہام۔۔۔” عمران ایک طویل سانس لیتا ہوا بولا۔ ” تو یہ کہو۔۔۔ میں سمجھ گیا۔

“سمجھ گئے نا!”

“ہاں۔۔۔ اور اگر تمہاری اسرار پرستی کا یہی عالم رہا تو تم یہاں سے کنگال ہو کر جاؤ گے۔۔۔ ارے مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں تم کچھ دنوں بعد گنڈے اور تعویزوں کے چکر میں نہ پڑ جاؤ!”

“یہ کیا چیزیں ہیں؟”

“کچھ نہیں!۔۔۔ اس لڑکی کا پتہ معلوم ہے؟”

“وہ عالمگیری سرائے میں رہتی ہے۔”

“عالمگیری سرائے بہت بڑا علاقہ ہے۔۔۔!” عمران بولا۔

“لیکن یہ بتاؤ کہ اب میں کیا کروں؟۔۔۔ مجھے پچیس ہزار روپوں کی پروا نہیں ہے! میں تو ہائے۔۔۔ میں اسے دھوکے باز کس طرح سمجھوں! وہ تو مجھے ایک ایسی عورت معلوم ہوتی ہے، جو کہ ہزاروں سالوں سے زندہ ہو۔۔۔ تم نے رائیڈرز ہیگرڈ کا ناول “شی” پڑھا ہے؟”

“او موڈی کے بچے تیرا دماغ خراب ہو جائے گا۔” عمران اسے گھونسہ دکھا کر بولا۔۔۔!

“نہیں! میں تم سے زیادہ ہوشمند ہوں۔” موڈی ہاتھ جھٹک کر بولا!

“کیا تم نے اس کے جواہرات کہیں پرکھوائے ہیں؟”

“پرکھوائے ہیں!۔۔۔ مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے دھوکا دیا گیا۔۔۔! ہائے مصیبت تو یہ ہے کہ میں اسے دھوکا باز کیسے سمجھوں؟۔۔۔ نہیں وہ شہزادی ہے۔”

“ابے چپ! ڈفر کہیں کے۔۔۔! کیا تم نے اس سے دوبارہ ملنے کی کوشش بھی کی؟”

“نہیں! میری ہمت نہیں پڑی!” عمران اسے ترحم آمیز نظروں سے دیکھ کر رہ گیا۔

“ان پتھروں کا تخمینہ کیا ہے؟” اس نے موڈی سے پوچھا۔

پتھر نہیں بلکہ۔۔۔ پتھروں کی نقل کہو۔” موڈی بولا۔ “ان سب کا تخمینہ ڈیڑھ سو سے زائد نہیں ہے!”

“او موڈی خدا تم پر رحم کرے!” عمران نے کہا اور موڈی اپنے سر پر ہاتھوں سے صلیب کی شکل بنانے لگا! تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ پھر عمران نے کہا “لڑکی کا مکمل پتہ ہے تمہارے پاس!”

“ہے۔۔۔ لیکن کیا کرو گے۔۔۔؟”

“کچھ بھی نہیں! طاہر ہے کہ وہ اب وہاں نہ ہوگی یا ممکن ہے پہلے بھی نہ رہی ہو۔”

“ہائے! تو تم بھی یہی ثابت کر رہے ہو کہ وہ دھوکے باز ہے!۔۔۔”

“اب تم بکواس نہ کرو! ورنہ گولی ماردوں گا!”

“گولی ماردو! مگر میں یہ یقین نہیں کروں گا کہ وہ دھوکہ باز ہے! وہ بہار کی ہواؤں کی طرح ہولے ہولے چلیتی ہے!۔۔ اس کے رخساروں سے صبح طلوع ہوتی ہے!۔۔۔ اس کے گیسوؤں میں شامیں انگڑائی لیتی ہیں!”

“اور میرا چانٹا تمہاری آنکھوں میں دنیا تاریک کردے گا۔ میں کہتا ہوں مجھے اس کا پتہ چاہئے اور کچھ نہیں۔۔۔!”

“سرائے عالمگیری کے علاقے میں۔۔۔ صرف اتنا ہی اور اس کے آگے میں کچھ نہیں جانتا!”

لیکن عمران موڈی کو گھور کر بولا! “تم نے مجھے کیوں بلایا تھا! جب کہ تمہیں ہاتھ سے گئی رقم کا افسوس بھی نہیں ہے!۔”

“پیارے عمران! میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم ثابت کردو کہ وہ دھوکے باز نہیں ہے!۔۔۔ تم چونکہ سرکاری آدمی ہو! اس لئے میں تمہاری بات قطعی تسلیم کرلوں گا! ویسے اگر کوئی دوسرا کہے تو ممکن ہےمجھے یقین نہ آئے!”

“اچھا بیٹا!” عمران نے سر ہلا کر کہا۔ “میں کوشش کروں گا کہ محکمہ سراغرسانی میں شعبہ عشق و عاشقی بھی کھلوا دوں اور پھر تم یہ ساری باتیں فون پر بھی تو کہہ سکتے تھے۔”

“آہ! میں تمہیں کیسے سمجھاؤں! فون پر آپریٹر بھی سنتے ہیں! میں نہیں چاہتا کہ کوئی شہزادی دردانہ کو دھوکہ باز سمجھے۔۔۔ آہ۔۔۔ شہزادی۔۔۔!”

“شہزادی کے بھتیجے میں چلا۔۔۔ آئندہ اگر میرا وقت برباد کیا تو میں تمہیں برباد کردوں گا! اچھا۔۔۔ میں اس سنگار دان کو اپنے ساتھ لئے جا رہا ہوں!”

“ہرگز نہیں!” موڈی نے عمران کا ہاتھ پکڑ لیا، “میں مرتے دم تک اس کی حفاظت کروں گا! خواہ شہزادی کے دشمن کوہ قاف تک میرا پیچھا کریں!”

“تمہارا مرض لاعلاج ہے” عمران نے مایوسی سے سرہلا کر کہا اور سنگاردان کو میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔ موڈی حلق پھاڑ پھاڑ کر اسے پکار رہا تھا!۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد عمران کی ٹو سیٹر ہاشم کی حویلی کے سامنے رکی!۔۔۔ عمارت قدیم وضع کی تھی۔ لیکن پائیں باغ جدید ترین طرز کا تھا اور اس کے گرد گھری ہوئی قد آدم دیوار بھی بعد کا اضافہ معلوم ہوتی تھی! عمران نے گاڑی باہر ہی چھوڑ دی اور خود پائیں باغ میں پھاٹک سے گزرتا ہوا داخل ہوا۔ پاٹھک سے ایک روش سیدھی حویلی کے برآمدے کی طرف چلی گئی تھی! جیسے ہی سرخ رنگ کی بجری جوتوں کے نیچے کڑکڑائی نہ جانے کدھر سے ایک بڑا سا کتا آکر عمران کے سامنے کھڑا ہوگیا!۔

“میں جانتا ہوں!” عمران آہستہ سے بڑبڑایا “بھلا اپ کے بغیر ریاست مکمل ہو سکتی ہے! براہ کرم راستے سے ہٹ جائیے!۔۔۔”

کتا بھی بڑا عجیب تھا! نہ تو اس نے اپنے منہ سے آواز نکالی اور نہ آگے ہی بڑھا۔ دوسرے ہی لمحے عمران نے کسی کی آواز سنی جو شاید اس کتے ہی کو ریگی۔۔۔ ریگی کہہ کر پکار رہا تھا۔ آواز نزدیک آتی گئی اور پھر مالتی کی جھاڑیوں سے ایک آدمی نکل کر عمران کی طرف بڑھا! یہ ادھیڑ عمر کا ایک مضبوط جسم والا آدمی تھا! آنکھوں سے عجیب قسم کی وحشت ظاہر ہوتی تھی۔ چہرہ گول اور ڈاڑھی مونچھوں سے بے نیاز! سر کے بال کھچڑی تھے۔ ہونٹ کافی پتلے اور جبڑے بھاری تھے۔ اس نے شارک اسکن کی پتلون اور سفید سلک کی قمیض پہن رکھی تھی!”

“فرمائیے!” اس نے عمران کو گھور کر دیکھا۔

“میں نواب صاحب سے ملنا چاہتا ہوں!”

“کیوں ملنا چاہتے ہیں؟”

“ان سے کھادوں کی مختلف اقسام کے متعلق تبادلہ خیال کروں گا۔”

“کھادوں کی اقسام!” اس نے حیرت سے دہرایا! پھر بولا۔ “آپ آخر ہیں کون؟”

“میں ایک پریس رپورٹر ہوں۔”

“پھر وہی پریس رپورٹر!” وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ پھر بلند آواز میں بولا۔ “دیکھئے مسٹر میرے پاس وقت نہیں ہے۔”

“مگر میرے پاس کافی وقت ہے! عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ “میں دراصل آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ دس سال قبل وہ لاش کس کی تھی؟ کیا آپ اس پر روشنی ڈال سکیں گے؟”

“بس خدا کے لئے جائیے!” وہ بیزار سے بولا۔ “میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا! اگر مجھے پہلے سے اس عجیب و غریب واقعہ کا علم ہوتا تو شاید میں یہاں آنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرتا!”

“مجھے سخت حیرت ہے!” عمران نے کہا “آخر آپ نے کس رفتار سے اپنی روانگی شروع کی تھی کہ آپ کو اپنے قتل کی اطلاع نہ مل سکی!۔۔۔”

“دیکھو! صاحبزادے میں بہت پریشان ہوں! تم کبھی فرصت کے وقت آنا!” نواب ہاشم نے کہا۔

“اچھا یہی بتا دیجئے کہ آپ ایسے حالات میں کیا محسوس کر رہے ہیں!”

“میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ پاگل ہو گیا ہوں!۔۔۔ پولیس میری زندگی میں بھی مجھے مردہ تصور کرتی ہے!۔۔۔ میرا بھتیجا میری املاک پر قابض ہے!۔۔۔ میں مہمان خانے میں مقیم ہوں!۔۔۔ میرا بھتیجا کہتاہے کہ آپ میرے چچا کے ہمشکل ضرور ہیں۔۔۔ لیکن چچا صاحب کا انتقال ہو چیکا ہے۔ عدالت نے اسے تسلیم کر لیا ہے لہٰذا آپ کسی قسم کا دھوکہ نہیں دے سکتے!”

“واقعی یہ ایک بہت بڑی ٹریجڈی ہے!” عمران نے مغموم لہجے میں کہا!

“ہے نا!” نواب ہاشم بولا۔ “اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مجھے نواب ہاشم تسلیم کرتے ہیں!”

“قطعی جناب! سو فیصدی! آج کل ہر بات ممکن ہے! میں اپنے اخبار کے ذریعے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ یہ واقعی بعید از قیاس نہیں!”

“شکریہ! شکریہ! میرے ساتھ آئیے۔ میں آپ سے گفتگو کروں گا!” نواب ہاشم ایک طرف بڑھتا ہوا بولا۔ عمران اس کے ساتھ ہو لیا۔۔۔ دونوں ایک کمرے میں آئے۔۔۔

“مگر حیرت ہے کہ آپ کے بھتیجے نے آپ کو یہاں کیوں قیام کرنے دیا؟” عمران بیٹھتا ہوا بولا “ایسی صورت میں تو اسے آپ سے دور ہی رہنا چاہیئے تھا!”

“میں خود بھی حیران ہوں!” نواب ہاشم نے کہا۔ “میرے ساتھ اس کا رویہ برا نہیں۔۔۔ وہ کہتا ہے چونکہ آپ میرے چچا سے بڑی حد تک مشابہت رکھتے ہیں اس لئے مجھے آپ سے محبت معلوم ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو زندگی بھر میرے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ آپ کی خدمت کرتا رہوں گا۔ لیکن یہ کبھی نہ کہیئے گا کہ آپ ہی نواب ہاشم ہیں۔”

“بڑی عجیب بات ہے!” عمران سرہلا کر رہ گیا! کچھ دیر خاموشی رہی پھر نواب ہاشم نے کہا۔ “بھلا آپ کس طرح ثابت کیجئے گا کہ میں ہی نواب ہاشم ہوں؟”

“ہر طرح کوشش کروں گا جناب!” عمران نے کہا۔ چند لمحے خاموش رہا پھر رازدارانہ لہجے میں بولا۔ “یہاں اس شہر میں آپ کی دوچار پرانی محبوبائیں تو ہوں گی ہی!”

“کیوں! اس سے کیا غرض؟” نواب ہاشم اسے تیز نظروں سے گھورنے لگا!

“اوہو! بس آپ دیکھتے جائیے! ذرا مجھے ان کے پتے تو بتائیے گا! سب معاملہ آن واحد میں فٹ کرلوں گا۔ جی ہاں!”

“آخر مجھے بھی تو کچھ معلوم ہو!۔۔۔”

“ٹھہرئیے! ذرا ایک سوال کا جواب دیجئے۔ کیا آپ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ آپ کو نواب ہاشم ثابت کر دیا جائے؟”

“آپ میرا وقت برباد کر رہے ہیں!” دفعتا نواب ہاشم جھنجھلا گیا!

“میں یہ کہنا چاہتا ہوں نواب صاحب کہ اگر آپ کو نواب ہاشم ثابت کر دیاگیا تو پولیس بری طرح آپ کے پیچھے پڑ جائے گی۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ شاید آپ پولیس کے چکر میں پڑ ہی گئے ہوں۔ ظاہر ہے کہ پولیس اس آدمی کے متعلق آپ کو ضرور پریشان کرے گی، جس کی لاش نے آپ کے نام سے شہرت پائی تھی!”

“میرے خدا! میں کیا کروں۔۔۔ کاش مجھے ان واقعات کا پہلے سے علم ہوتا۔۔۔ میں ہرگز واپس نہ آتا!”

“لیکن اب آپ کہیں جا بھی نہیں سکتے!”۔۔۔ عمران نے کہا!

“میں خود بھی یہی محسوس کرتا ہوں!” نواب ہاشم نے مضطربانہ انداز میں کہا۔

“آخر آپ اتنے پراسرار طریقے پر غائب کیوں ہو گئے تھے؟” عمران نے پوچھا!

“ختم کرو میاں، جو کچھ ہوگیا۔ دیکھ لیا جائیگا۔ میں پرانی باتیں کرید کر عوام کے لئے گفتگو کا موضوع بننا پسند نہیں کروں گا اور پھر میں تم سے ایسی باتیں کیا کروں صاحبزادے۔”

“نہ کیجئے! لیکن میں جانتا ہوں کہ عنقریب آپ کسی بڑی مصیبت کا شکار ہو جائیں گے۔” عمران اٹھتا ہوا بولا۔

“ذرا ٹھہرئیے گا!” ۔۔۔ نواب ہاشم بھی اٹھتا ہوا بولا۔ “آپ میرے متعلق کیا لکھیں گے؟”

“یہ کہ آپ نواب ہاشم نہیں ہیں!” عمران نے رک کر کہا۔ لیکن مڑے بغیر جواب دیا!۔

“میں تمہارے اخبار پر مقدمہ چلا دوں گا!”

“ہاں یہ بھی اسی صورت میں ہوگا! جب آپ کو عدالت نواب ہاشم تسلیم کرلے!” عمران نے پرسکون لہجے میں کہا۔

“تم ایسا نہیں کرسکتے!” نواب ہاشم چیخ کر بولا!

“مجھے کوئی نہیں روک سکتا!” عمران بھی اسی انداز میں چیخا۔

“میں تمہیں گولی مار دوں گا!” نواب ہاشم کے چیخنے کا انداز بدستور باقی رہا۔

“دیکھوں تو کہاں ہے آپ کی بندوق؟” عمران پلٹ پڑا۔ “منہ پر گولی مارنے کے لئے!” عمران بھٹیارنیوں کے سے انداز میں ہاتھ ہلا کر نواب ہاشم سے لڑنے لگا! سب کچھ ہوگیا! بس ہاتھا پائی کی نوبت نہیں آئی! باہر کئی نوکر اکٹھے ہو گئے تھے! پھر ایک خوشرو اور قوی ہیکل آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی عمر زیادہ سے زیادہ تیس سال رہی ہوگی! انداز سے کافی پھرتیلا آدمی معلوم ہوتا تھا!

“کیا بات ہے” اس نے گرجدار آواز میں پوچھا؟

“یہ۔۔۔ یہ” نواب ہاشم عمران کی طرف اشارہ کرکے بولا۔ “کسی اخبار کا رپورٹر ہے۔”

“ہوگا! لیکن غل مچانے کی کیا ضرورت ہے!”

“یہ میرے خلاف اپنے اخبار میں مضمون لکھنے کی دھمکی دیتا ہے!”

“کیوں جناب! کیا معاملہ ہے؟”۔۔۔ وہ عمران کی طرف مڑا۔

“آپ شاید نواب ساجد ہیں!۔۔۔”

“جی ہاں! لیکن آپ خوامخواہ۔۔۔!”

“ذرا ٹھہریئے!” عمران ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “میں دراصل آپ سے ملنا چاہتا تھا اور درمیان میں یہ حضرت آکودے۔ کہتے ہیں کہ میں نواب ہاشم ہوں!”

“کیوں جناب!” وہ نواب ہاشم کی طرف مڑا۔ “میں نے آپ کو منع کیا تھا نا کہ فضول باتیں نہ کیجئے گا!”

“ارے او ساجد! تجھ سے خدا سمجھے، میں تیرا چچا ہوں!”

“اگر آپ میرے چچا ہیں تو میں آپ کو یہی مشورہ دوں گا کہ یہاں سے چپ چاپ چلے جائیے! ورنہ پولیس آپ کو بہت پریشان کرے گی!” پھر اس نے عمران کی طرف دیکھ کر کہا۔ “کیوں جناب؟”

“قطعی قطعی!” عمران سر ہلا کر بولا۔ “بلکہ بالکل جناب!”

“اچھا جناب! آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے!”

“آہا۔۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں آپ سے کتوں کے متعلق تبادلہ خیال کرنا چاہتا تھا!”

نواب ساجد عمران کو گھورنے لگا۔۔۔ وہ کتوں کا شوقین تھا اور شہر بھر میں اس سے زیادہ کتے اور کسی کے پاس نہیں تھے!۔۔۔
آپ کی صورت سے تو نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کو کتوں سے دلچسپی ہو” نواب ساجد تھوڑی دیر بعد بولا۔

“اس میں شبہ نہیں کہ ابھی میری صورت آدمیوں جیسی ہے۔۔۔ لیکن میں کتوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔۔۔!”

“کیا جانتے ہیں!”

“یہی کہ بعض اوقات کتے بلا وجہ بھی بھونکنے لگتے ہیں!۔۔۔”

“ہوں! تو آپ سی آئی ڈی کے آدمی ہیں۔” نواب ساجد عمران کو گھورنے لگا۔

“میں اے سے لے کر زیڈ تک کا آدمی ہوں۔ آپ اس کی پروا نہ کیجئے لیکن میں آپ سے کتوں کے متعلق تبادلہ خیال ضرور کروں گا!۔۔۔”

“کیجئے جناب!” نواب ساجد کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا۔ “آپ یہی بتا دیجئے کہ شکاری کتے کتنی قسم کے ہوتے ہیں! اس سے میں آپ کے متعلق اندازہ لگا لوں گا۔”

“کتے کی ہرقسم میں شکار کی لت پائی جاتی ہے۔”

“شکاری سے میری مراد ہے اسپورٹنگ پریڈس!”

“تو یوں کہیئے نا!۔۔۔” عمران سر ہلا کر بولا۔ “اچھا گنئے انگلیوں پر!۔۔۔ ہیسنچی، بورزوتی، ڈیکشنڈ، گرے ہاؤنڈ، افغان ہاؤنڈ، آئرش الف ہاؤنڈ، ہیگل، فش ایئپٹر، ہیر بیئر۔۔۔ فوکس ہاؤنڈ، اوٹر ہاؤنڈ، بلڈ ہاؤنڈ، ڈئیر ہاؤنڈ، الک ہاؤنڈ، بیسٹ ہاؤنڈ، سلوکی اور خدا آپ کو جیتا رکھے۔۔۔ وہپسٹ۔۔۔ ہاں اب کہیے تو یہ بھی بتاؤں کہ کون کس قسم کا ہوتا ہے۔۔۔ ان کی عادات و خصائل سیاسی اور سماجی رحجانات پر بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔۔۔!”

“نہیں بس!۔۔۔ آپ کو یقینا کتوں سے دلچسپی ہے!۔۔۔ ہاں آپ کتوں سے متعلق کس موضوع پر گفتگو کریں گے؟”

“میں دراصل کتوں کی گمشدہ نسلوں کے متعلق ریسرچ کر رہا ہوں!” عمران بولا!

“گمشدہ نسلیں۔۔۔؟”

“جی ہاں! بھلا آپ اپنے یہاں کے کتوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟”

“دیسی کتے!” نواب ساجد نے نفرت سے منہ سکوڑ کر کہا!

“جی ہاں، دیسی کتے!۔۔۔ آج بھی ان پر ولایتی کتے مسلط ہیں! یہ بڑے شرم کی بات ہے!۔۔۔ آپ ولایتی کتوں کو سینے سے لگاتے ہیں اور دیسی کتے قعر مذلت میں پڑے ہوئے ہیں۔”

“اوہو!۔۔۔ کیا آپ دیسی نسل کے کتوں کے لیڈر ہیں؟” نواب ساجد ہنسنے لگا۔

“چلئے یہی سمجھ لیجئے! ہاں تو میں کہہ رہا تھا۔۔۔”

“ٹھہریئے! میں دیسی کتوں کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔” نواب ساجد اٹھتا ہوا بولا۔ “میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی کچھ نہ کچھ مصروفیت ضرور ہوگی۔” وہ عمران اور نواب ہاشم کو کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا۔

چند لمحے خاموشی رہی! نواب ہاشم عمران کو عجیب نظروں سے گھور رہاتھا۔ اس نے تھوڑی دیر بعد کہا “آخر تم ہو کیا بلا!”

“میں علی عمران! ایم۔ ایس سی۔ ڈی۔ ایس۔ سی ہوں!۔۔۔ آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی فرام سنٹرل انٹیلی جیجن بیورو۔ اب گفتگو کیجئے مجھ سے!”

“اوہ تب تو میرا بھتیجا بڑا چالاک معلوم ہوتا ہے!” نواب ہاشم ہنستا ہوا بولا۔ “ٹھہریئے! میں اسے بلاتا ہوں!۔۔۔”

“ٹھہریئے! مجھے جو کچھ معلوم کرنا تھا کرچکا!”

“یار تم اس قابل ہو کہ تمہیں مصاحب بنایا جائے!۔۔۔”

“اس سے زیادہ قابل ہوں نواب صاحب! میں دعوٰی سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ہی نواب ہاشم ہیں۔”

“پھر قلابازی کھائی”۔۔۔ نواب ہاشم نے قہقہہ لگایا۔۔۔ پھر سنجیدہ ہو کر بولا۔ “اب جاؤ! ورنہ میں پولیس کو فون کردوں گا!”

“مشورے کا شکریہ!” عمران چپ چاپ اٹھا اور باہر نکل گیا!۔۔۔ روش طے کرتے وقت اتفاقا اس کی نظر مالتی کی بے ترتیب جھاڑیوں کی طرف اٹھ گئی اور اس نے محسوس کیا کہ وہاں کوئی چھپا ہوا ہے!۔۔۔ دوسرے ہی لمحے اس نے اپنی رفتار تیز کردی! باہر نکل کر کار میں بیٹھا اور ایک طرف چل پڑا ڈیش بورڈ پر لگے ہوئے عقب نما آئینے میں ایک کار دکھائی دے رہی تھی جس کا رخ اسی کی طرف تھا!۔۔۔ اور کار حویلی ہی سے نکلی تھی۔”

عمران نے یونہی بلا وجہ اپنی کار ایک سڑک پر موڑ دی!۔۔۔ کچھ دور چلنے کے بعد عقب نما آئینے کا زاویہ بدلنے پر معلوم ہوا کہ اب بھی وہی کار اس کی کار کا تعاقب کر رہی ہے۔۔۔ عمران تھوڑی دیر ادھر ادھر چکراتا رہا اور پھر اس نے کار شہر کی ایک بہت زیادہ بھری پری سڑک پر ڈال موڑ دی۔ دوسری کار اب بھی تعاقب کر رہی تھی۔ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ کار قریب آگئی۔ ساتھ ہی چوراہے کے سپاہی نے ٹریفک روکنے کا اشارہ کیا!۔۔۔ کاروں کی قطار رک گئی۔ تعاقب کرنے والی کار عمران کی کار کے پیچھے ہی تھی!۔۔۔ عمران نے مڑ کر دیکھا! دوسری کار میں اسٹیرنگ کےپیچھے نواب ہاشم کا بھتیجا ساجد بیٹھا ہوا تھا۔!

عمران کے کار آگے بڑھائی۔۔۔ ایک چوراہے پر اسے پھر رکنا پڑا۔ پچھلی کار بدستور موجود تھی! اس بار عمران نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا ساجد نے ہاتھ ہلا کر اسے کچھ اشارہ کیا! سگنل ملتے ہی پھر عمران کی کار چل پڑی!۔۔۔ اس بار وہ زیادہ جلدی میں نہیں معلوم ہوا تھا۔۔۔!

تھوڑی دور چلنے کے بعد اس نے کار فٹ پاتھ سے لگا کر کھڑی کردی! سامنے ایک ریستوران تھا۔۔۔ عمران اس کے دروازے کے قریب کھڑا ہو کر نواب ساجد کو کار سے اترتے دیکھتا رہا! وہ تیر کی طرح عمران ہی کی طرف آیا!

” آپ سنتے ہی نہیں!” اس نے مسکرا کر کہا “چیختے چیختے حلق میں خراشیں پڑ گئیں!”

“معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دیسی کتوں کی حالت زار پر سنجیدگی سے غور کیا ہے!”

“چلئے! اندر گفتگو کریں گے!”

“لیکن موضوع گفتگو صرف دیسی کتے ہوں گے”۔ عمران نے ریستوران میں داخل ہوتے ہوئے کہا!۔

وہ دونوں ایک خالی کیبن میں بیٹھ گئے! عمران نے بیرے کو بلا کر چائے کے لئے کہا۔

“میں نے چھپ کر آپ دونوں کی گفتگو سنی تھی!” ساجد بولا۔

“میں جانتا ہوں!” عمران نے خشک لہجے میں کہا!

“تو آپ واقعی سی آئی ڈی کے آدمی ہیں!”

عمران جیب سے ملاقاتی کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔ “اگر وہ واقعی نواب ہاشم ہیں تو آپ کو ایک بہت بڑی جائیداد سے ہاتھ دھونے پڑیں گے!”

“کیا محض مشابہت کی بنا پر۔۔۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔” ساجد نے کہا۔

“دس برس پہلے جب نواب ہاشم کی لاش ملی تھی تو کوٹھی میں کون کون تھا؟”

“صرف مرحوم چند نوکروں کے ساتھ رہتے تھے۔”

“آپ کہاں تھے؟”

“میں اس وقت زیر تعلیم تھا اور قیام میسور کالج کے ایک ہوسٹل میں تھا۔”

“کفالت کون کرتا تھا آپ کی؟”

“چچا جان مرحوم! آہ مجھے ان سے بے حد محبت تھی اور جب میں نے اس آدمی میں ان کی مشابہت پائی تو میرے دیدہ و دل فرش راہ ہو گئے۔۔۔ اگر وہ یہ کہنا چھوڑ دے کہ وہ نواب ہاشم ہے تو میں ساری زندگی اس کی کفالت کرتا رہوں گا!”

“کیا آپ بتا سکیں گے کہ نواب ہاشم کا قتل کیوں ہوا تھا؟”

“میں اسے قتل تسلیم کرنے کے لئے آج بھی تیار نہیں!” ساجد کچھ سوچتا ہوا بولا “دو سو فیصدی خود کشی تھی۔”

“آخر کیوں؟”

“حالات۔۔۔ مسٹر عمران۔۔۔ بندوق قریب ہی پائی گئی تھی اور چہرے پر باردو کی کھرنڈ ملی تھی! قتل کا معاملہ ہوتا تو باتیں نہ ہوتیں۔ قاتل ذرا فاصلے سے بھی نشانہ لے سکتا تھا! میرا خیال ہے کہ انہوں نے بندوق کا دہانہ چہرے کے قریب رکھ کر پیر کے انگوٹھے سے ٹریگر دبا دیا ہوگا۔”

“بہت بہت شکریہ!” عمران سنجیدگی سے بولا۔ “آپ نے معاملہ بالکل صاف کردیا!۔۔۔ لیکن اب خودکشی کے اسباب تلاش کرنے پڑیں گے؟” اتنے میں چائے آگئی اور عمران کو خاموش ہونا پڑا۔۔۔ جب ویٹر چلا گیا تو اس نے کہا۔

“کیا آپ خود کشی کے اسباب پر روشنی ڈال سکیں گے!”

“اوہ۔۔۔ وہ شاید کچھ عشق و عاشقی کا سلسلہ تھا!” نواب ساجد جھینپے ہوئے انداز سے بولا۔

“خوب” عمران کچھ سوچنے لگا! پھر کچھ دیر بعد بولا۔ “کیا ان کی محبوبہ کا پتہ مل سکے گا!”

“مجھے علم نہیں”

“جس رات یہ حادثہ ہوا تھا۔ آپ کہاں تھے؟”

“ہوسٹل میں!”

“اچھا! اب اگر یہ ثابت ہوگیا کہ نواب ہاشم یہی صاحب ہیں تو آپ کیا کریں گے۔۔۔؟”

“میں پاگل ہو جاؤں گا!” نواب ساجد جھلا کر بولا۔

“بہت مناسب ہے!” عمران نے سنجیدگی سے گردن ہلائی۔ “وہ اس وقت پرلے سرے کا احمق معلوم ہو رہا تھا۔”

جی!” ساجد اور زیادہ جھلا گیا!

“میں نے عرض کیا کہ اب آپ پاگل ہو کر پاگل خانے تشریف لے جائیے اور دس سال بعد پھر واپس آئیے۔ اس وقت تک نواب ہاشم کا انتقال ہو چکا ہوگا!”

“آپ میرا مضحکہ اڑا رہے ہیں!” نواب ساجد بھنا کر کھڑا ہو گیا۔

“جی نہیں! بلکہ آپ دونوں چچا بھتیجے قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں!”

“پھر آپ نے چچا کا حوالہ دیا۔”

“بیٹھئے جناب!” عمران نے آہستہ سے کہا “اب یہ بتائیے۔۔۔ کہ اصل واقعہ کیا ہے؟”

“میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا!”

“اچھا خیر! جانے دیجئے! اب ہم کتوں کے متعلق گفتگو کریں گے!”

ساجدبیٹھ گیا لیکن اس کے انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کسی ذہنی الجھن میں مبتلا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: