Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 3

0
پرسرار چیخیں ​از ابن صفی – قسط نمبر 3

–**–**–

“میں اس کتے ریگی کے متعلق پوچھنا چاہوں گا!”

“یہ اسی شخص کا ہے!” نواب ساجد نے کہا۔

“بھلا کس نسل کا ہوگا؟”

“دوغلا ہیگل ہے!۔۔۔”انتہائی کاہل اور کام چور کتا ہے! اگر یہ اصیل ہوتا تو کیا کہنا تھا! واہ واہ!”

“کیا پہلے بھی کبھی نواب ہاشم نے کتے پالے تھے؟”

“نہیں انہیں کتوں سے ہمیشہ نفرت رہی ہے!”

“آپ اسے حویلی سے نکال کیوں نہیں دیتے؟” ساجد کچھ نہ بولا۔ عمران اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا! کچھ دیر بعد اس نے کہا!”آپ جانتے ہیں! وہ کیا کر رہا ہے؟”

“میں کچھ نہیں جانتا! لیکن وہ مجھے بڑا پراسرار آدمی معلوم ہوتا ہے۔”

“وہ یہاں آنے کے بعد سب سے پہلے میرے محکمے کے سپرنٹنڈنٹ سے ملا تھا اور اس نے اسے اپنے کاغذات دکھائے تھے!”

“کیسے کاغذات؟”

“دو سال تک وہ اتحادیوں کے ساتھ نازیوں سے لڑتا رہا تھا! وہ یعنی نواب ہاشم ولد نواب قاسم عہدہ میجر کا تھا!۔۔۔ بھلا ان کاغذات کو کون جھٹلا سکتا ہے!۔۔۔ آج وہ بین الاقوامی حیثیت رکھتے ہیں۔”

“میرے خدا۔۔۔” ساجد حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا! چند لمحے خاموش رہا۔ پھر ہذیانی انداز میں جلدی جلدی بولنے لگا! “ناممکن۔۔۔ غلط ہے۔۔۔ بکواس ہے۔۔۔ وہ کوئی فراڈ ہے۔۔۔ میں اسے آج ہی دھکے دلوا کر حویلی سے نکلوا دوں گا!”

“مگر اس سے کیا ہوگا؟۔۔۔ اس کا دعوٰی بدستور باقی رہے گا؟”

“پھر بتایئے میں کیا کروں؟” ساجد بے بسی سے بولا۔ “میں نے اسے حویلی میں ٹھہرنے کی اجازت دے کر سخت غلطی کی۔”

“اگر یہ غلطی نہ کرتے تو اس سے کیا فرق پڑتا؟”

“پھر میں کیا کروں؟”

“پتہ لگائیے کہ نواب ہاشم کا قتل کن حالات میں ہوا تھا۔”

“میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ وہ کسی عورت کا چکر تھا!۔۔۔”

“کون تھی۔۔۔ کہاں تھی۔۔۔؟”

“میں تفصیل نہیں جانتا۔ چچا جان نے شادی نہیں کی تھی۔۔۔ البتہ ان کی شناسا بہتیری عورتیں تھیں! اس زمانے میں کسی عورت کا بڑا شہرہ تھا، جو عالمگیری سرائے میں کہیں رہتی تھی! چچا جان اس سلسلے میں کسی کے ساتھ جھگڑا بھی کر بیٹھے تھے!۔۔۔ بہرحال یہ اڑتی اڑتی خبر تھی! میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ حقیقت ہی تھی۔۔۔”

“عالمگیری سرائے!” عمران کچھ سوچتا ہوا بڑبڑایا “لیکن محض اتنی سی بات پر تو کوئی سراغ نہیں مل سکتا!”

“دیکھئے ایک بات اور ہے!” ساجد نے کہا!۔۔۔ “مگر آپ میرا مضحکہ اڑائیں گے۔”

“کیا یہ کوئی پردار چیز ہے؟” عمران نے پوچھا۔

“کیا چیز؟” ساجد اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔

“یہی مضحکہ!”

“نہیں تو۔۔۔” ساجد کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا!

“بھلا پھر کیسے اڑے گا؟” عمران سر جھکا کر تشویش آمیز انداز میں بڑبڑایا! پھر سر اٹھا کر آہستہ سے بولا!۔

“آپ جو کہنا چاہتے ہیں بے تکلف ہو کر کہیئے۔ ہم لوگوں کو مضحکہ اڑانے کی تنخواہ نہیں ملتی۔”

“دیکھئے! بات ذرا بے تکی سی ہے! اس لئے۔۔۔ لیکن سوچتا ہوں کہ کہیں وہ حقیقت ہی نہ ہو!”

“اگر حقیقت نہ ہو۔ تب بھی سننے کے لئے تیار ہوں!” عمران اکتا کر بولا!

“میں عالمگیری سرائے کی ایک ایسی لڑکی کو جانتا ہوں، جو چچا مرحوم سے کافی مشابہت رکھتی ہے!”

“بھلا یہ کیا بات ہوئی!”

“ہوسکتا ہے کہ وہ چچا جان کی کوئی ناجائز اولاد ہو!”

“کیا عمر ہوگی۔۔۔!”

“بیس سے زیادہ نہیں۔”

“تو وہ اس زمانے میں دس سال کی رہی ہوگی! مگر کسی ایسی عورت کے لئے جو دس سال کی لڑکی بھی رکھتی ہو قتل وغیرہ نہیں ہوسکتے۔۔۔ کیا خیال ہے آپ کا؟”

“میں کب کہتا ہوں کہ اسی عورت کے لئے دو قتل ہو گئے ہوں گے!” ساجد نے کہا۔ “ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی اور عورت ہو۔۔۔ اور میں اس کے متعلق بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا!۔۔۔ دیکھئے یہ میرا ذاتی خیال تھا۔۔۔ ورنہ محض مشابہت اسے چچا جان کی اولاد نہیں ثابت کرسکتی!”

“تو آپ کو تو اس لڑکی سے خاص طور پر بڑی دلچسپی ہوگی!”

“بس اسی حد تک کہ اسے دیکھنے کو دل چاہتا ہے! لیکن نہ تو میں نے آج تک اس سے گفتگو کی اور نہ وہ مجھے جانتی ہے لیکن میں آپ کو اس کے گھر کا پتہ بتا سکتا ہوں!”

“بہرحال!” عمران مسکرا کر بولا! “آپ اس کا تعاقب کرتے رہتے ہیں”

“میں کیابتاؤں جناب! اسے دیکھ کر دل بے اختیار اس کی طرف کھینچتا ہے۔”

“اگر واقعی دل کھنچتا ہے تو مجھے اس کا پتہ ضرور بتایئے!۔۔۔”

“عالمگیری سرائے میں ادھورے مینار کے قریب زرد رنگ کا ایک چھوٹا سا مکان ہے۔۔۔!”

عمران نے چائے کی پیالی رکھ دی! اس کے چہرے پر تحیر کے آثار تھے! کیونکہ یہ وہی پتہ تھا جو اسے کچھ دیر قبل موڈی نے بتایا تھا!۔۔۔

“آپ کو یقین ہے کہ وہ لڑکی اسی مکان میں رہتی ہے!” اس نے ساجد سے پوچھا۔

“اوہ میں نے سینکڑوں بار اسے وہاں جاتے دیکھا ہے!” ساجد بولا۔

“اچھا مسٹر! میں کوشش کروں گا کہ۔۔۔” عمران جملہ ادھوراہی چھوڑ کر اٹھ گیا اس دوران میں اس نے چائے کا بل ادا کردیا تھا!

“اگر کبھی میں آپ سے ملنا چاہوں تو کہاں مل سکتا ہوں؟” ساجد نے پوچھا۔

“میرے کارڈ پر میرا پتہ اور ٹیلیفون نمبر موجود ہیں!” عمران نے کہا اور ریسٹوران سے باہر نکل گیا!۔۔۔ لیکن اب اس کا رخ اپنی کارکی بجائے ایک دوا فروش کی دکان کی طرف تھا۔ وہاں اس نے کالرا مکسچر کی ایک بوتل خریدی۔۔۔ دوا فروش شاید اس کا شناسا ہی نہیں بلکہ اسے اچھی طرح جانتا تھا! کیونکہ عمران نے اس سے انجکشن لگانے کی سرنج عاریتا مانگی تو اس نے انکار نہیں کیا!۔۔۔پھر اس نے کسی دوا کے دو ایمپل بھی خریدے!
تھوڑی دیر بعد عمران کی کار عالمگیری سرائے کی طرف جا رہی تھی۔ ادھورے مینار کے قریب پہنچ کر عمران رک گیا!۔۔۔ یہاں چاروں طرف زیادہ تر کھنڈر نظر آرہے تھے۔ لہٰذا ایک چھوٹے سے پیلے رنگ کے مکان کی تلاش میں دشواری نہیں ہوئی!۔۔۔ قرب و جوار میں قریب قریب سب ہی بہت پرانی عمارتیں تھیں!۔۔۔ جو ویران بھی تھیں اور آباد بھی تھیں! جو حصے منہدم ہو گئے تھے بیکار پڑے تھے اور جن کی چھتیں اور دیواریں قائم تھیں ان میں لوگ رہتے تھے!۔

عمران پیلے رنگ کی عمارت کے سامنے رک گیا! کار اس نے وہاں سے کافی فاصلے پر چھوڑ دی تھی! دروازے پر دستک دینے کے بعد اسے تھوڑی دیر تک انتظار کرنا پڑا۔۔۔ دروازہ کھلا اور اسے ایک حسین سا چہرہ دکھائی دیا۔ یہ ایک نوجوان لڑکی تھی جس کی آنکھوں سے نہ صرف خوف جھانک رہا تھا بلکہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ کچھ دیر قبل روتی رہی ہو۔!

“میں ڈاکٹر ہوں” عمران نے آہستہ سے کہا۔ “ہیضے کا ٹیکہ لگاؤں گا۔”

لڑکی پورا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔

“آپ میونسپلٹی کے ڈاکٹر ہیں!” اس نے پوچھا لیکن عمران اس کے لہجے میں ہلکی سی لہر محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا!۔۔۔

“جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھیں!” عمران بولا۔۔۔ وہ کچھ دیر پہلے اس آدمی کو دیکھ چکا تھا جسے نواب ہاشم ہونے کا دعوٰی تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ حقیقتا دونوں میں تھوڑی بہت مشابہت ضرور ہے!

“میں نہیں سمجھ سکی!” لڑکی نے آہستہ سے کہا۔ “میں بیس سال سے اس مکان میں ہوں! لیکن میں نے بچپن سے لے کر شاید ہی کسی سرکاری ڈاکٹر کی۔۔۔ آمد کے متعلق سنا ہو!”

“آنا تو چاہئے ڈاکٹروں کو۔۔۔”عمران مسکرا کر بولا۔۔۔ “اب اگر کوئی نہ آئے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ میں ابھی دراصل حال ہی میں یہاں آیا ہوں۔”

“کیا آپ تھوڑی دیر تشریف رکھیں گے؟” لڑکی بولی!

“کیوں؟”

“بات یہ ہے کہ میں اپنے عزیز کو بھی ٹیکہ لگوانا چاہتی ہوں!”

“اوہ! آپ فکر نہ کیجئے! میں ایک ہفتہ کے اندر اندر یہاں سب کے ٹیکہ لگا دوں گا!”

“نہیں اگر آج ہی لگا دیں تو بڑی عنایت ہوگی! وہ بڑے وہمی آدمی ہیں۔ آج کل ہیضے کی فصل بھی ہے، بہت پریشان رہتے ہیں!”

“تو آپ مجھے ان کا پتہ بتا دیجئے!”

“یہیں لاتی ہوں!” لڑکی نے کہا اور تیزی سے ایک گلی میں گھس گئی۔ عمران احمقوں کی طرح کھڑا رہ گیا! پانچ منٹ گزر گئے لیکن لڑکی نہ آئی عمران نے پھر دروازے کی کنڈی کھٹکھٹائی، اسے توقع تھی کہ گھر کے اندر لڑکی کے علاوہ بھی کوئی اور ہوگا۔ لیکن بار بار دستک دینے کے باوجود بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔۔۔ پانچ منٹ اور گزر گئے اور اب عمران کو یہ سوچنا پڑا کہ کہیں لڑکی جل دے کر تو نہیں نکل گئی! موڈی کے بتائے ہوئے حلیے پر وہ سو فیصدی پوری تھی!۔۔۔ عمران نے سوچا کہ اگر واقعی وہ جل دے گئی ہے تو اس سے زیادہ شاطر لڑکی شاید ہی کوئی ہو! اچانک اسے بھاری قدموں کی آوازیں سنائی دیں جو رفتہ رفتہ قریب آرہی تھیں! پھر ایک گلی سے تین باوردی پولیس والے برآمد ہوئے۔ جن میں ایک سب انسپکٹر تھا اور دو کانسٹیبل! لڑکی ان کے ساتھ تھی۔۔۔!

وہ قریب آگئے اور لڑکی نے عمران کی طرف دیکھ کر کہا! “ذرا ان سے پوچھئے۔ یہ کہاں سے آئے ہیں؟”

سب انسپکٹر نے عمران کو تیز نظروں سے دیکھا! شاید اسے نہیں پہچانتا تھا!”

“آپ کہاں کے ڈاکٹر ہیں؟” اس نے عمران سے پوچھا!

“ڈاکٹر؟” عمران نے حیرت سے کہا۔ “کون کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں؟”

“دیکھا آپ نے!” لڑکی نے سب انسپکٹر کو مخاطب کیا! اس کے لہجے میں مسرت آمیز کپکپاہٹ تھی!

“تو آپ نے خود کو ڈاکٹر کیوں ظاہر کیا تھا؟” سب انسپکٹر گرم ہوگیا۔

“کبھی نہیں!” عمران لڑکی کی طرف اشارہ کرکے بولا۔ “میں نے تو ان سے صدرالدین اللہ والے کا پتہ پوچھا تھا انہوں نے کہا کہ ٹھہریئے میں بلائے لاتی ہوں! مگر آپ میاں صدرالدین اللہ والے تو نہیں معلوم ہوتے!”

“یہ جھوٹ ہے سراسر جھوٹ ہے!” لڑکی جھلا کر چیخ اٹھی!

“ارے توبہ ہے!” عمران اپنا منہ پیٹنے لگا۔”آپ مجھے جھوٹا کہتی ہیں!”

“نہیں مسٹر! اس سے کام نہیں چلے گا!” سب انسپکٹر بھنویں چڑھا کر بولا!

“تو پھر جس طرح آپ کہیے کام چلایا جائے!” عمران نے بے بسی کے اظہار کے لئے اپنے سر کو خفیف سی جنبشی دی!۔

“آپ کو میرے ساتھ تھانے تک چلنا پڑے گا!” سب انسپکٹر پوری طرح غصے میں بھر گیا تھا!

“ذرا ایک منٹ کے لئے ادھر آیئے!” عمران نے کہا۔ پھر وہ اسے گلی کے سرے تک لایا جہاں سے لڑکی اور کانسٹیبل کافی فاصلے پر تھے لیکن طرفین ایک دوسرے کو بآسانی دیکھ سکتے تھے۔ عمران نے جیب سے اپنا کارڈ نکال کر سب انسپکٹر کی طرف بڑھا دیا۔ کارڈ پر نظر پڑتے ہی پہلے تو اس نے عمران کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ پھر یک بیک تین قدم پیچھے ہٹ کر اسے سلیوٹ کیا! لڑکی اور دونوں کانسٹیبلوں نے اس کی اس حرکت کو بڑی حیرت سے دیکھا! ادھر سب انسپکٹر ہکلا رہا تھا۔ “معاف۔۔۔ کیجئے گا! میں آپ کو پہچانتا نہیں تھا مگر حضور والا یہ لڑکی بہت پریشان ہے!”

“کیوں؟”

“کہتی ہے کہ کسی نے گھر سے اس کے پچیس ہزار روپے اڑا لئے ہیں اور یہ بھی کہتی ہے کہ کچھ نامعلوم آدمی عرصے سے اس کا تعاقب کرتے رہے ہیں!”

“ہوں!۔۔۔ گھر میں اور کون ہے؟”

“کوئی نہیں تنہا رہتی ہے! ایک ماہ گزرا اس کے باپ کا انتقال ہوگیا!”

“آپ نے پوچھا نہیں کہ روپے کہاں سے آئے تھے! بظاہر حالت ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ گھر میں نقد پچیس ہزار روپے رکھنےکی بساط ہو!”

“جی ہاں! میں سمجھتا ہوں! لیکن لڑکی شریف معلوم ہوتی ہے!”

“شریف معلوم ہوتی ہے!” عمران نے حیرت سے دہرایا۔ پھر ذرا تلخ لہجے میں بولا “براہ کرم! محکمے کو بنئے کی دکان نہ بنائیے۔۔۔ شرافت وغیرہ بھی وہاں دیکھی جاتی ہے جہاں ادھار کا لین دین ہوتا ہے! بس اب تشریف لےجائیے! مگر نہیں ٹھہرئیے!”

“کیا آپ نے باقاعدہ طور پر چوری کی رپورٹ درج کردی ہے؟”

سب انسپکٹر بغلیں جھانکنے لگا۔

“جی بات دراصل یہ ہے کہ۔۔۔!”

“لڑکی حسین بھی ہے۔۔۔ اور جوان بھی۔” عمران نے جملہ پورا کردیا!”جب رپورٹ نہیں درج کی ہے تو اس کے ساتھ بھاگے آنے کی کیا ضرورت تھی!”

“جی دراصل۔۔۔”

“چلے جاؤ!” عمران نے گرج کر کہا۔

سب انسپکٹر تھوک نگل کر رہ گیا۔ عمران کی گرج لڑکی اور کانسٹیبلوں نے بھی سنی تھی۔ سب انسپکٹر چپ چاپ گلی میں داخل ہوگیا! کانسٹیبلوں نے دیکھا تو وہ بھی کھسک گئے۔ لڑکی جہاں تھی وہیں کھڑی رہی! عمران اس کے قریب پہنچا۔!

“تمہارا نام دردانہ ہے؟”

“جی ہاں!”

“تم نے مسٹر والٹر موڈی کے ہاتھ کوئی سنگار دان فروخت کیا تھا؟”

“جی ہاں!” لڑکی نے کہا! اس کے انداز میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہیں تھی!

“وہ تمہارا ہی تھا؟”

“میں آخر یہ سب کیوں بتاؤں؟”

“اس لئے کہ محکمہ سراغرسانی کا ایک آفیسر تم سے سوالات کر رہا ہے۔”

لڑکی چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر بولی!”جی ہاں وہ میرا ہی تھا۔ والدہ کو ورثے میں ملا تھا۔ چند پراسرار آدمی اسے میرے پاس سے نکال لے جانا چاہتے تھے! اس لئے میں نے مسٹر موڈی کے ہاتھ فروخت کردیا!”

“پچیس ہزار میں؟”

“جی ہاں!۔۔۔ اور پھر میں نے وہ پچیس ہزار بھی کھو دیئے!” لڑکی کے لہجے میں بڑا درد تھا۔

“کس طرح۔”

“چور لے گئے! میرا خیال ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جو عرصہ تک اس سنگار دان کے چکر میں رہے ہیں! انہوں نے مسٹر موڈی کا بھی پیچھا کیا تھا مگر وہاں دال نہیں گلی!”

“اب اچھی طرح گل گئی ہے!” عمران سر ہلا کر بولا!

“میں نہیں سمجھی!”

“حوالات ایسی جگہ ہے جہاں کھٹمل اور مچھر سب کچھ سمجھا دیتے ہیں!”

“لیکن حوالات سے مجھے کیا غرض؟”

“دیکھو لڑکی! بننے سے کام نہیں چلے گا۔ چپ چاپ اپنے ساتھیوں کے پتے بتادو! تمہیں تو خیر یہ کہہ کر بھی بچایا جا سکتا ہے کہ تم محض آلہ کار تھیں۔ معاملے کی اہمیت سے واقف نہیں تھیں!”

“میں کچھ نہیں سمجھی جناب!”

“تم نے جس سنگار دان کے پچیس ہزار وصول کئے ہیں! وہ ڈیڑھ سو میں بھی مہنگا ہے!”

“آپ کو دھوکہ ہوا ہوگا!” لڑکی نے مسکرا کر کہا! “اس میں ہزاروں روپے کے جواہرات جڑے ہوئے ہیں!”

“نقل۔۔۔ امیٹیشن!”

“ناممکن! میں نہیں مان سکتی۔”

عمران چند لمحے اسے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر بولا!”نواب ہاشم کو جانتی ہو؟”

“میں نہیں جانتی!”

“نواب ساجد کو۔”

“آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟ بھلا نوابوں کو کیوں جاننے لگی! کیا آپ مجھے آوارہ سمجھتے ہیں؟”

“نہیں کوئی بات نہیں!۔۔۔ ہاں ہم اس سنگار دان کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔”

“آخر آپ کو یہ شبہ کیسے ہوا کہ وہ جواہرات نقلی ہیں؟”

“بیکار باتوں میں نہ الجھو! ساتھیوں کے نام بتادو!”

“میرے خدا!” لڑکی دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر دیوار کا سہارا لیتی ہوئی بولی۔

“کس مصیبت میں پھنس گئی!”

“میں سچ کہتا ہوں کہ وہ کم از کم تمہارے لئے مصیبت نہ ہوگی! ہاں شاباش بتا دو ساتھیوں کے نام!”

“خدا کی قسم میرا کوئی ساتھی نہیں! میں بالکل بے سہارا ہوں!”

“اچھا لڑکی!” عمران طویل سانس لے کر بولا!”تم کسی شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہو!”

“میں نہیں جانتی!۔۔۔ بہرحال مجھ سے یہی۔۔۔!”

“یہی کہا گیا تھا۔۔۔ ہے نا شاباش!” عمران جلدی سے بولا۔ “کس نے کہا تھا؟”

“میرے ایک ہمدرد نے!”

“آہا۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ میں اسی ہمدرد کا پتہ چاہتا ہوں۔”

“پتہ مجھے نہیں معلوم!”

“لڑکی میرا وقت برباد نہ کرو!”

“خدا کی قسم! میں ان کا پتہ نہیں جانتی! والد صاحب کے انتقال کے بعد انہوں نے میری بہت مدد کی ہے! غالبا وہ والد صاحب کے گہرے دوستوں میں سے ہیں!”

“اور تم ان کا پتہ نہیں جانتیں! تعجب ہے!”

“نہیں تعجب نہ کیجئے! والد صاحب کے انتقال کے بعد مجھے علم ہوا کہ وہ ان کے دوست تھے!”

“والد کا انتقال کب ہوا!”

“ایک مہینہ پہلے کی بات ہے۔ میں یہاں موجود بھی نہیں تھی! ایک ضروری کام کے سلسلے میں باہر گئی ہوئی تھی۔ والد صاحب اسی دوران میں سخت بیمار پڑ گئے! ہوسکتا ہے کہ انہوں نے خود ہی اپنے دوست کو تیمارداری کے لئے بلایا ہو! بہرحال جب میں واپس آئی تو وہ دو دن قبل ہی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور پھر میں نے ان کی قبر دیکھی۔۔۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ ان کی تجہیز و تکفین بڑی شان سے ہوئی تھی! سنگار دان کے وجود سے میں پہلے بھی واقف تھی اور اسے بہت زیادہ قیمتی سمجھتی تھی! کیونکہ والد صاحب کی زندگی میں ہی بعض پراسرار آدمیوں نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی!۔۔۔”

“تمہارے والد کے دوست نے تمہیں کیا مشورہ دیا تھا!”

“یہی کہ میں اس سنگار دان کو کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دوں!” میں نے کہا کہ آپ ہی اپنے پاس رکھ لیجئے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں بھی خطرے میں پڑ جاؤں گا۔ ہاں اگر کوئی غیرملکی۔۔۔ یعنی انگریز یا امریکن تمہاری مدد کرسکے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔ انہوں نے مجھے موڈی صاحب کو دکھایا جو اکثر ادھر سے گزرتے رہتے ہیں!”

“موڈی ادھر سے گزرتا رہتا ہے!”

“جی ہاں! اکثر۔۔۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے! ہاں تو ایک شام والد صاحب کے دوست بھی یہاں موجود تھے! اتفاقا موڈی صاحب کی کار ادھر سے گزری اور انہوں نےمجھ سے کہا کہ میں سنگار دان کو ساتھ لے کر ان کی کار میں بیٹھ جاؤں۔ کار کی رفتار دھیمی تھی! میں بیٹھ گئی اور جو کچھ مجھے کرنا تھا وہ انہوں نے مجھے پہلے ہی سمجھا دیا تھا!”

“یہی کہ میں شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور وہ سب کچھ جو آپ کو موڈی صاحب سے معلوم ہوا ہے، میں کہاں تک بتاؤں! میرا سر چکرا رہا ہے۔۔۔!”

“تو تم شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتیں!”

“مجھے علم نہیں ہے کہ میں کس خاندان سے تعلق رکھتی ہوں! والد صاحب نے مجھے کبھی نہیں بتایا!۔۔۔ وہ ایک بہت بڑے عالم تھے۔ ہمارے یہاں کتابوں کے ڈھیر کے ڈھیر آپ کو ملیں گے۔”

“اچھا وہ کرتے کیا تھے؟”

“تصویروں کے بلاک بنایا کرتے تھے! اس سے خاصی آمدنی ہو جاتی تھی! لیکن پچھلے چھ سال سے جب وہ چار سال کی روپوشی کے بعد واپس آئے تو کچھ بھی نہیں کرتے تھے!”

“میں سمجھا نہیں!”

“آپ بڑی دیر سے کھڑے ہیں۔ اندر تشریف لے چلئے!” لڑکی نے کہا! “اگر واقعی سنگار دان کے جواہرات نقلی ہیں تب تو مجھے خودکشی ہی کرنی پڑے گے! کیونکہ موڈی صاحب کے روپے بھی چوری ہو گئے۔”

وہ دونوں اندر آئے جس کمرے میں لڑکی اسے لائی، اس میں چاروں طرف کتابوں سے بھری الماریاں رکھی ہوئی تھیں!

“یہ ایک بڑی لمبی داستان ہے جناب!”۔۔۔ لڑکی نے بات شروع ہی کی تھی کہ کسی نے باہر سے دروازے پر دستک دی!

“ذرا ایک منٹ ٹھہریئے گا!” لڑکی نے کہا اور اٹھ کر چلی گئی! عمران گہری نظروں سے کمرے کا جائزہ لینے لگا!۔۔۔ اچانک اسے ایک آواز سنائی دی اور وہ بے اختیار چونک پڑا۔ کیونکہ وہ موڈی کی آواز تھی اور پھر دوسرے ہی لمحے میں وہ لڑکی موڈی کو ساتھ لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔

“عمران!” موڈی دروازے پر ہی ٹھٹھک کر رہ گیا۔

“آؤ۔۔ آؤ۔۔۔” عمران مسکرا کرو بولا!

“یہ تم نے کیا کیا۔۔۔ تم نے شہزادی صاحبہ کو کچھ بتایا تو نہیں؟”

“شٹ اپ ادھر آؤ اور خاموش بیٹھو۔”

“نہیں! میں اسے پسند نہیں کرتا!۔۔۔ مجھے اپنے رپوں کی پروا نہیں۔۔۔ تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔ شہزادی صاحبہ نے جو کچھ بھی کیا اچھا کیا! مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔”

“شہزادے کے بچے! اگر بکواس کرو گے تو تمہیں بھی بند کرادوں گا!” عمران نے کہا اور وہ یک بیک ناک سکوڑ کر رہ گیا۔۔۔

“کہیں کپڑے جل رہے ہیں کیا؟”۔۔۔ اس نے لڑکی کی طرف دیکھ کر رکہا!

“میں بھی کچھ اسی قسم کی بو محسوس کر رہی ہوں۔”موڈی نے پھر بوکاس شروع کردی۔

عمران اس کی طرف دھیان دیئے بغیر کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔ اچانک ہوا کے جھونکے کے ساتھ کثیف دھوئیں کا ایک بڑا سا مرغولہ کمرے میں گھس آیا۔۔۔ اور تینوں بوکھلا کراٹھ کھڑے ہوگئے! عمران کھڑکی کی طرف جھپٹا!۔۔۔ ایک کمرے میں دھوئیں کے بادل امنڈ رہے تھے۔

“آگ!” لڑکی بے تحاشا چیخی اور پھر باہر نکل کر اس کمرے کی طرف دوڑی! عمران اور موڈی۔۔۔ ہاں ہاں کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے! لیکن وہ کمرے میں پہنچ چکی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں بھی بے تحاشا اندر گھسے!۔۔۔ کمرے کے وسط میں کپڑوں اور کاغذات کا ایک بہت بڑا ڈھیر جل رہ اتھا! ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ ساری چیزیں ایک جگہ اکٹھا کرکے ان میں دیدہ دانستہ آگ لگائی گئی ہو!

لڑکی اس طرح سینے پر دونوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی جیسے قدیم آتش کدوں کی کوئی پجارن ہو!۔۔۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور ہونٹ کپکپا رہے تھے! یکا یک وہ چکرا کر گری اور بیہوش ہوگئی۔

)۶(​

عمران کمرے میں ٹہل رہا تھا اور کیپٹن فیاض اسے اس طرح گھور رہا تھا جیسے کچا ہی چبا جائے گا۔

“دیکھو فیاض!” عمران ٹہلتے ٹہلتے رک کر بولا!”یہ کیس بہت زیادہ الجھا ہوا ہے۔ نواب ہاشم کی موت خواہ قتل سے ہوئی ہو یا خودکشی دونوں ہی صورتیں مضحکہ خیز ہیں! آخر قاتل نے چہرے پر کیوں فائر کیا۔ اس کے لئے تو سینہ یا پیشانی ہی زیادہ مناسب ہوتی ہیں!موت قریب قریب فورا ہی واقع ہو جاتی ہے۔۔۔ میں نے فائل کا اچھی طرح مطالعہ کیا ہے! مقتول کے چہرے کے علاوہ جسم کے کسی دوسرے حصے پر خراش تک نہیں ملی تھی اور لاش کہاں تھی؟ بستر پر!۔۔۔ مرنے والا چت پڑا ہوا تھا۔۔۔ فیاض میں کہتا ہوں کہ تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ بستر پر پھیلا ہوا خون مرنے والے کا ہی تھا!”

“میرے دماغ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ تمہاری بکواس سن سکوں! ابھی تم ایک ایسی لڑکی کی کہانی سنا رہے تھے جس نے موڈی کے ہاتھ سنگاردان فروخت کیا تھا!۔۔۔ اب نواب ہاشم کے قتل پر آکودے!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: