Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 4

0
پرسرار چیخیں ​از ابن صفی – قسط نمبر 4

–**–**–

“تم میری بات کا جواب دو!”

“بستر پر پھیلا ہوا خون مرنے والے کا نہیں تھا!” فیاض ہنس پڑا پھر اس نے سنجیدگی سے کہا!”اب تم ایک ذمہ دار آدمی ہو۔ لونڈا پن ترک کردو۔”

“فیاض صاحب! میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ موت اس کمرے میں واقع ہی نہیں ہوئی تھی! میرا خیال ہے کہ اسے کسی دوسری جگہ پر گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ پھر چہرے پر فائر کرکے شکل بگاڑ دی گئی۔”

“مجرم چونکہ فائر ہی کو موت کی وجہ قرار دینا چاہتا تھا اس لئے اس نے لاش کو بستر پر دال دیا اور بستر کو کسی چیز کے خون سے ترکردینے کے بعد اپنی راہ لی۔۔۔ اگر یہ بات نہیں تو پھر تم ہی بتاؤ کہ کمرے میں کسی قسم کے جدوجہد کے آثار کیوں نہیں پائے گئے تھے!”

“جدوجہد! کمال کرتے ہو!۔۔۔ ارے برخوردار سوتے میں اس پر گولی چلائی گئی تھی!”

“تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج سے دس سال پہلے تمہارا محکمہ کسی یتیم خانےکا دفتر تھا!”

“کیوں؟”

“اس لئے کپتان صاحب! کہ فائل میں لگی ہوئی رپورٹ قطعی نامکمل ہے!”

“کیوں نامکمل ہے؟”

“یار تم بھی کسی یتیم خانے کے متولی یا مینیجر ہو!۔۔۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری کرسی پر تمہارا چپراسی تم سے زیادہ اچھا معلوم ہو!”

“کچھ بکو گے بھی؟” فیاض جھلا گیا۔

“یہ تم بھی مانتے ہو کہ فائر ہت قریب سے کیا گیا تھا! یعنی بہت ممکن ہے کہ نال سے چہرے کا فاصلہ ایک بالشت سے بھی کم رہا ہو!”

“گھسی ہوئی بات ہے۔”

“اچھا تو فیاض صاحب بستر میں کوئی چھرہ وغیرہ کیوں نہیں پیوست ہوا تھا؟ یا بستر پر بھی بارود کے اثرات کیوں نہیں ملے؟”

“ضرور ملے ہوں گے۔”

“مگر میرے سرکار! رپورٹ میں اس کا تذکرہ نہیں ہے!۔۔۔ یہ واقعہ صرف دس سال پہلے کا ہے۔ سو برس پہلے کا نہیں جسے تم آدمی کی کم علمی ثابت کرکے ٹال جاؤ۔۔۔ میرا دعوٰی ہے کہ تفتیش کرنے والے کو چہرے کے آس پاس بارود کے نشانات ملے ہی نہ ہوں گے ورنہ وہ ضرور تذکرہ کرتا۔۔۔ اور پھر لاؤ مجھے وہ فائیل دو جس میں خون کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ ہو!”

“اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی تھی کہ خون کی ٹائپ کا پتہ لگایا جاتا! وہ مرنے والے ہی کا خون تھا! ہم سب اس پر متفق ہو گئے تھے۔”

“جب لوگوں کی ہمت جواب دینے لگتی ہے تو وہ اسی طرح متفق ہو جاتے ہیں! تم لوگ ہمیشہ پیچدگیوں سے گھبراتے ہو! پیچیدہ معاملات کو بھی اس طرح کھینچ تان کر سیدھا کر لیتے ہو کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے! پوسٹ مارٹم کی رپورٹ صاف کہہ رہی ہے کہ موت اچانک قلب کی حرکت بند ہوجانے کی وجہ سے واقع ہوئی ہے اور تم لوگ فائر کی لکیر پیٹتے ہو۔۔۔”

“ہاں قطعی درست ہے!” فیاض سرہلا کر بولا۔”وہ سو رہا تھا کہ اچانک کان کے قریب ایک دھماکہ ہوا اور اس کا ہارٹ فیل ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے تڑپنے کی بھی مہلت نہیں ملی اس لئے بستر بھی شکن آلود نہیں تھا۔۔۔ وہ جیسے لیٹا ہوا تھا ویسے ہی ٹھنڈا ہوگیا!”

“میرا اعتراض اب بھی باقی ہے! آخر بستر پر چھرے کیوں نہیں لگے۔۔۔ کیا ہوگئے؟۔۔۔ کیا اس وقت بندوق کا بھی ہارٹ فیل ہو گیا تھا؟”

“جہنم میں جائے!” فیاض اکتائے ہوئے انداز میں بولا۔ “کیس تمہارے پاس ہے۔۔۔ جا کر جھک مارو!۔۔۔ مگر ہاں تم اس لڑکی کا تذکرہ کر رہے تھے، وہ کیس واقعی دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔۔۔ اچھا پھر جب وہ بیہوش ہو گئی تو تم نے کیا کیا؟”

“صبر کیااور کافی دیر تک سر پیٹتا رہا۔” عمران جیب میں ہاتھ ڈال کر چیونگم کا پیکٹ تلاش کرنے لگا!

“آگ کیسے لگی تھی؟”

“یقینا دیا سلائی یا سگار لائیٹر سے ہی لگی ہوگی!”

“تم عجیب آدمی ہو!” فیاض نے جھلا کر کہا۔ عمران کچھ نہ بولا! چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا “لڑکی میرے لئے ایک نئی الجھن پیدا کر رہی ہے!”

“اوہ تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ واقعی معصوم ہے؟”

“ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہا بھی پورے واقعات بھی نہیں معلوم ہو سکے اور لڑکی ہسپتال میں ہے۔۔۔ میں اسی وقت وہیں جا رہا ہوں!”

)۷(​

موڈی نے سنٹرل ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں ایک کمرہ حاصل کر لیا تھا!۔۔۔ لڑکی وہیں تھی اور پچھلی رات موڈی بھی وہیں رہا تھا اور اس کے خواب بدستور اس پر مسلط رہے تھے! لڑکی نے اسے یقین دلانا چاہا تھا کہ اس نے سنگار دان کے جواہرات کو اصلی ہی سمجھ کر اس کے ہاتھ فروخت کیا تھا! لیکن موڈی نے اسے یہ کہہ کر گفتگو کرنے سے روک دیا تھا کہ زیادہ بولنے سے اس کے اعصاب پر برا اثر پڑے گا!

اس وقت بھی وہ اس کے پلنگ کے قریب مؤدب بیٹھا فرش کی طرف دیکھ رہا تھا!

“موڈی صاحب! اب میں بالکل ٹھیک ہوں!” لڑکی نے کہا!۔

“میں آسمانوں کا مشکور ہوں! ان اونچے پہاڑوں۔۔۔ اور ہزار سال سے بہنے والے دریاؤں کا مشکور ہوں! جنہوں نے قدیم شہنشاہوں کی عظمت و شان دیکھی ہے! شہزادی صاحبہ! صحت مبارک ہو۔”

“میرا مضحکہ نہ اڑایئے! میں بہت شرمندہ ہوں۔ اگر وہ جواہرات نقلی ہیں تو جس طرح بھی ممکن ہوگا میں آپ کے روپے واپس کرنے کی کوشش کروں گی۔ میں والد صاحب کا کتب خانہ فروخت کردوں گی۔۔۔ وہ پچیس ہزار کی مالیت کا ضرور ہوگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار ایک صاحب نے ایک قلمی نسخہ ڈھائی ہزار میں خریدنے کی پیش کش کی تھی لیکن والد صاحب نے انکار کر دیا تھا۔۔۔ اور آپ براہ کرم مجھے شہزادی صاحبہ نہ کہا کریں۔ میں شہزادی نہیں ہوں۔ آپ کو بتا چکی ہوں کہ میں نے ایک شخص کے کہنے پر خود کو شاہی خاندان سے ظاہر کیا تھا!”

“آپ شہزادی ہیں! میرے اعتماد کا خون نہ کیجئے۔۔۔ یہی کہتی رہیں کہ آپ شہزادی ہیں۔ مجھے حکم دیجئے کہ میں ایسے لاکھوں پچیس ہزار روپے آپ کے قدموں میں ڈال دوں! مجھے اپنے سینکڑوں سال پرانے اپنے آباؤ اجداد کے غلاموں ہی میں سمجھئے جنہوں نے ان کے لئے اپنا خون بہایا تھا۔”

لڑکی حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی! کیونکہ موڈی کے لہجے میں بڑا خلوص تھا!

“کیا عمران صاحب آپ کے دوست ہیں؟”

“جی ہاں!۔۔۔ وہ میرا دوست ہے۔ آپ بالکل فکر مت کریں! میں آپ کے گرد رپوں کی دیوار کھڑی کردوں گا اور پھر مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں پولیس آپ کا کچھ نہ کرسکے گی!”

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔۔۔ اور دوسرے ہی لمحے میں عمران کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اس وقت بھی حسب دستور اس کے چہرے پر حماقت برس رہی تھی اور انداز ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کسی غلط جگہ پر آگیا ہو اور معافی مانگ کر الٹے پاؤں واپس جائے گا!

“کیا آپ کی طبیعت اب ٹھیک ہے؟”

“جی ہاں! اب میں اچھی ہوں!”

“مگر تم کوئی الجھن پیدا کرنے والی بات نہیں کرو گے! سمجھے۔” موڈی نے عمران سے کہا۔

“سمجھ گیا!” عمران نے جلدی جلدی پلکیں جھپکائیں اور لڑکی سے بولا! “ذرا اپنے والد کے دوست کا حلیہ تو بتایئے!”

“حلیہ! سوائے اس کے اور کچھ نہیں بتا سکتی کہ ان کے چہرے پر گھنی داڑھی ہے اور آنکھوں میں کسی قسم کی تکلیف کی وجہ سے سیاہ شیشوں کی عینک کا استعمال کرتے ہیں۔”

Read More:  Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 15

“ہام” عمران نے اپنے شانوں کو جنبش دی۔ لیکن اس کے انداز سے یہ معلوم کرنا دشوار تھا کہ لڑکی کے الفاظ سے اس پر کیا اثر پڑا ہے! اس نے دوسرے ہی لمحے میں پوچھا! “جب آپ کے والد کا انتقال ہوا تو آپ کہاں تھیں۔۔۔؟”

“میں یہاں موجود نہیں تھی! واپسی پر مجھے یہ خبر ملی تو میں اپنے اوسان بجا نہ رکھ سکی! تجہیز و تکفین اسی آدمی نے کی تھی جو اب تک خود کو ان کا دوست ظاہر کرتا رہا ہے۔”

“ٹھیک ہے!۔۔۔ لیکن کیا آپ کے پڑوسیوں نے اس سلسلے میں آپ کو کوئی عجیب بات نہیں بتائی؟”

“عجیب بات! میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی!”

“غسل کہاں دیا گیا تھا میت کو؟”

“اوہ۔۔۔ ہاں!۔۔۔ والد صاحب کے چند احباب جنازہ گھر سے لے گئے تھے اور غالبا کسی دوست ہی کے یہاں غسل اور تکفین کا انتظام ہوا تھا!”

“بہرحال کوئی پڑوسی مرنے والے کی شکل بھی نہیں دیکھ سکا تھا!”

“آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟” لڑکی سنبھل کر بیٹھ گئی۔ گفتگو اردو میں ہو رہی تھی!۔۔۔ موڈی نے کچھ بولنا چاہا۔ لیکن عمران نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

“اچھا ہاں!”۔۔۔ عمران نے لڑکی کے سوال کا جواب دیئے بغیر پوچھا۔

“آپ نے دس سال قبل کے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا تھا!”

“کیا والد صاحب کی گمشدگی کا؟” لڑکی نے انگریزی میں کہا۔۔۔ شاید وہ موڈی کو بھی اپنے حالات سے آگاہ کردینا چاہتی تھی! عمران نے اثبات میں سرہلایا لڑکی چند لمحے خاموش رہ کر بولی!” ڈیڈی بڑے پراسرار آدمی تھے میں آج تک یہ نہ سمجھ سکی کہ وہ کون تھے اور کیا تھے؟ جب میں دس سال کی تھی تو وہ اچانک غائب ہوگئے۔۔۔ میں تنہا رہ گئی۔ والدہ اسی وقت انتقال کرگئی تھیں جب میں پیدا ہوئی تھی!۔۔۔ آپ خود سوچئے! میری کیا کیفیت ہوئی ہوگی۔۔۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ والد صاحب کا کوئی عزیز بھی ہے یا نہیں کہ میں اسی سے رجوع کرتی۔ انہوں نے کبھی اپنے کسی عزیز کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ بہرحال بڑی پریشانی تھی!۔۔۔ پڑوس میں عیسائیوں کا ایک غریب خاندان آباد تھا۔ اس نے میری بہت مدد کی! مجھے ایک مشن سکول میں داخل کرادیا اور ہر طرح میری دیکھ بھال کرتا رہا! میں مسز ہارڈی کو کبھی نہیں بھولوں گی! وہ عظیم عورت! جن نے میری خبرگیری ماؤں کی طرح کی۔ میرے اخراجات بھی اٹھائے اور مجھے کبھی اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ میں عیسائی مذہب اختیار کرلوں!”۔۔۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہی پھر بولی! “چار سال تک والد صاحب کی کوئی خبر نہ ملی۔ پھر اچانک ایک دن وہ آگئے۔ ہفتوں روتے رہے۔۔۔ لیکن مجھے کچھ نہیں بتایا کہ وہ اتنے دنوں تک کہاں رہے؟۔۔۔ لیکن اتنا ضرور کہا کہ اب وہ کہیں نہیں جائیں گے۔”

“وہ پھر کہیں نہیں گئے؟” عمران نے پوچھا!

“نہیں! پھر وہ گھر سے باہر بھی شاذونادر ہی نکلتے تھے۔ گمشدگی سے پہلے وہ تصویروں کے بلاک بنانے کا کام کرتے تھے۔ واپسی پر یہ کام بھی ترک کردیا تھا! لیکن مجھے آج تک نہ معلوم ہوسکا کہ بسر اوقات کا ذریعہ کیا تھا؟ بظاہر وہ کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ لیکن کبھی تنگدستی نہیں ہوئی۔

“اور غالبا وہ سنگاردان بھی وہ اپنے ساتھ ہی لائے ہوں گے؟” عمران نے پوچھا۔

“نہیں! میں بچپن سے ہی اسے دیکھتی آئی ہوں!۔۔”

“اچھا! تو پھر وہ پراسرار آدمی اس کی تاک میں کب سے لگے تھے؟”

“والد صاحب کے انتقال کے بعد ہی سے! اس سے پہلے کسی نے ادھر کا رخ بھی نہیں کیا تھا۔”

عمران چند لمحے کچھ سوچتا رہا۔ پھر پوچھا! “پچھلے چھ برس کے عرصے میں ان سے کون کون ملتا رہا ہے؟”

“کوئی نہیں! حتٰی کہ پاس پڑوس والے بھی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔”

“آخر کیوں؟ کیا وہ بہت چڑچڑے تھے؟”

“ہرگز نہیں! بہت ہی بااخلاق اور ملنسار تھے۔ انہوں نے کبھی کسی سے تیز لہجے میں گفتگو نہیں کی۔ میرا خیال ہے کہ لوگ انہیں محض اس لئے برا کہتے ہیں کہ وہ مجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔”

“لیکن ان کے مرتے ہی اتنے بہت سے دوست کہاں سے پیدا ہو گئے۔” عمران نے پوچھا!۔

“مجھے خود بھی حیرت ہے! پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ وہ پانچ تھے! لیکن ان میں سے ایک ہی آدمی اب تک میرے سامنے آیا ہے۔۔۔ وہی جس نے سنگاردان کے متعلق مشورہ دیا تھا!”

“اور پھر اس کے بعد سے نہیں دکھائی دیا؟”

“نہیں وہ اس کے بعد بھی ملتا رہا ہے۔ اس وقت تک جب تک کہ میں نے سنگار دان فروخت نہیں کردیا!”

“تمہارے والد نے کبھی اپنے دوست کا تذکرہ بھی نہیں کیا؟”

“صرف ایک دوست کا!۔۔۔ وہی جس کے پاس میں ان کی موت سے چند روز قبل گئی تھی!”

“اس کا نام اور پتہ؟” عمران جیب سے ڈائری نکالتا ہوا بولا۔

“حکیم معین الدین۔۔۔ 48 فرید آباد۔۔۔ دلاور پور۔”

“آپ ان کے پاس کیوں گئی تھیں؟”

“والد صاحب نے بھیجا تھا!” لڑکی نے کہا۔ “والد صاحب عرصہ سے درد گردہ کے مریض تھے۔ اس دوران میں تکلیف کچھ زیادہ بڑھ گئی۔ علاج ہوتا رہا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ آخر کار انہوں نے مجھے معین الدین صاحب کا پتہ بتا کر کہا کہ میں ان کے پاس جاؤں۔۔۔ شاید ان کے پاس اس مرض کا کوئی مجرب نسخہ تھا! میں دلاور پور گئی! لیکن دوا تیار نہیں تھی! اس لئے وہاں مجھے چار دن تک قیام کرنا پڑا۔۔۔ میں نے والد صاحب کو بذریعہ تار مطلع کردیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے بھی بذریعہ تار ہی مجھے مطلع کیا کہ میں دوا لئے بغیر واپس نہ آؤں۔ خواہ دس دن لگ جائیں!”

“کیا وہ حکیم صاحب اب بھی وہاں مل سکیں گے؟” عمران نے پوچھا!

“کیوں نہیں! یقینا ملیں گے۔”

“لیکن اگر نہ ملے تب؟”

“بھلا میں اس کے متعلق کیا کہہ سکتی ہوں!” لڑکی مضطربانہ انداز میں اپنی پیشانی رگڑتی ہوئی بولی۔ “میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔”

“بس عمران ختم کرو!” موڈی ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “میں معاملات کی تہہ کو پہنچ گیا ہوں۔”

“کیا سمجھے ہیں آپ؟” لڑکی نے چونک کر پوچھا!

“آپ کے والد زندہ ہیں!” موڈی ٹھہرٹھہر کر بولا۔ “میں سمجھ گیا۔”

“شٹ اپ!” عمران اسے گھور کر بولا۔ “شاید تمہارا نشہ اکھڑ رہ اہے۔ جاؤ ایک آدھ پگ مار آؤ۔۔۔!”

“نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔”موڈی نے جمائی لے کر رکہا! عمران نے لڑکی سے کہا۔”کیا آپ مجھے اپنے والد کی کوئی تصویردے سکیں گی؟”

“افسوس! کہ نہیں! جن چیزوں میں پراسرار طریقے سے آگ لگ گئی تھی! ان میں غالبا ان کے البم بھی تھے۔ یا ممکن ہے البم نہ رہے ہوں! مجھے توکچھ ہوش نہیں!۔۔۔ ہو سکتا ہے تلاش کرنے پر کوئی تصویر ہی مل جائے!۔۔۔ مگر یہ تو بتایئے کہ مجھے یہاں کب تک رہنا ہوگا! میں اب بالکل اچھی طرح ہوں!۔۔۔”

“یہاں آپ زیادہ محفوظ ہیں!”عمران سرہلا کر بولا۔ “جب تک کہ میں نہ کہوں آپ یہاں سے نہیں جائیں گی۔۔۔ میں نے اس کا انتظام کرلیا ہے کہ آپ یہاں طویل مدت تک قیام کرسکیں!۔۔۔”

“آخر کیوں؟”

“ضرور نہیں کہ آپ کو بھی بتایا جائے!”

“عمران میں تمہاری گردن اڑادوں گا!”موڈی اسے گھونسہ دکھا کر بولا۔ “تم شہزادی صاحبہ کی توہین کر رہے ہو!”

“اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اٹھو! اور میرے ساتھ چلو!”

“میں یہیں رہوں گا۔”

“شٹ اپ۔۔۔ کھڑے ہو جاؤ!۔۔۔ اٹھو!”

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 4

)۸(​

عمران کے ساتھ موڈی اپنے بنگلے پر واپس آگیا اور آتے ہی اس بری طرح شراب پر گرا کہ خدا کی پناہ!۔۔۔ اس نے پچھلی رات سے ایک قطرہ بھی نہیں پیا تھا۔ دو تین پیکگ متواتر پی لینے کے بعد وہ عمران کی طرف مڑا!۔۔۔

“تم کیا سمجھتے ہو مجھے! میں جانتا ہوں۔۔۔ معاملات کی تہہ میں پہنچ چکا ہوں اس کا باپ زندہ ہے اور وہ انتہائی پراسرار آدمی معلوم ہوتا ہے!”

“بکواس بند کرو، جو میں کہہ رہا ہوں اسے سنو!”

“میں کچھ نہیں سنوں گا! میری ایک تھیوری ہے!” عمران خاموش ہوگیا! موڈی بڑبڑاتا رہا۔”میں شرلاک ہومز ہوں!۔۔۔”

“او۔۔۔ موڈی۔۔۔ شرلاک ہومز کے بچے!” عمران اسے گھورتا ہوا بولا۔

“نہیں ڈاکٹر واٹسن تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے!” موڈی بڑبڑاتا ہوا اٹھ کر ٹہلنے لگا! اتنے میں نوکر پائپ لے آیا!۔۔۔ معران صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر سوچنے لگا تھا۔ موڈی پائپ سلگا کر اپنی گردن اکڑاتا ہوا اس کی طرف مڑا۔۔۔

“وہ کسی شاہی خزانے کے وجود سے واقف ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کے پاس نقشہ بھی موجود ہے!”

عمران بدستور آنکھیں بند کئے پڑا رہا! موڈی چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا “آج سے دس سال قبل یقینا چند خطرناک آدمیوں نے اس کا پیچھا کیا ہوگا۔۔۔ بس وہ غائب ہو گیا!۔۔۔ چار سال بعد پھر واپس آیا! چھ سال تک سکون سے رہا اور اس کے بعد پھر! وہ یا کچھ دوسرے لوگ اس کے پیچھے پڑ گئے!۔۔۔ اس بار اس نے اپنی موت کا ڈرامہ کھیلا!۔۔۔ کیا سمجھے!۔۔۔ ہاہا!۔۔۔ کچھ نہیں سمجھے!۔۔۔ تم لوگ دماغ کی بجائے معدہ استعمال کرتے ہو اور اب اس سنگاردان کی داستان سنو!۔۔۔ وہ غالبا اسی شاہی خزانے سے تعلق رکھتاہے، خود اس کے باپ نے دشمنوں پر یہ ظاہر کرنے کے لئے۔۔۔ اوہ کیا ظاہر کرنے کے لئے۔۔۔ ہائیں۔۔۔ کیا ظاہر کرنے کے لئے!”

موڈی نے اپنی پیشانی پر گھونسہ مار لیا۔۔۔ چند لمحے خاموش رہا۔۔۔ پھر عمران کو جھنجھوڑ کر بولا۔ “میں ابھی کیا کہہ رہا تھا۔” عمران نے چونک کر آنکھیں کھول دیں!۔۔۔”کیا ہے؟” اس نے جھلائے ہوئے لہجے میں پوچھا!

“میں کیا کہہ رہا تھا؟” موڈی نے پھر اپنے سر پر دو چار گھونسے جمائے!

“تم!” عمران کھڑا ہو کر اسے چند لمحے گھورتا رہا پھر گریبان پکڑ کر ایک صوفے میں دھکیلتا ہوا بولا “جہنم میں جاؤ!” دوسرے ہی لمحے وہ باہرجاچکا تھا۔!

)۹(​

نواب ہاشم کو دوبارہ منظر عام پر آئے ہوئے تقریبا ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔۔ اور اس حیرت انگیز واپسی کی شہرت نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک میں ہوچکی تھی!۔۔۔ وہ اپنی نوعیت کا ایک ہی ہنگامہ تھا!۔۔۔ محکمہ سراغرسانی والوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس سلسلے میں کیا کریں! فی الحال ان کے سامنے صرف ایک ہی سوال تھا وہ یہ کہ اگر نواب ہاشم یہی شخص ہے تو پھر وہ آدمی کون تھا جس کی لاش دس سال قبل نواب ہاشم کی خواب گاہ سے برآمد ہوئی تھی! کیپٹن فیاض عمران کو آج کل بہت زیادہ مصروف دیکھ رہا تھا۔ لیکن عمران سے کسی بات کا اگلوا لینا آسان کام نہیں تھا۔ وہ ہر سوال کا جواب ضرور دیتا تھا۔ لیکن وہ جوابات کچھ اس قسم کے ہوتے تھے کہ سوال کرنے والا اپنا سرپیٹ لینے کا ارادہ توکرتا تھا۔ مگر اسے عملی جامہ پہنا کر مسخرہ نہیں کہلانا چاہتا تھا۔!

فیاض نے لاکھ کوشش کی لیکن عمران سے کچھ نہ معلوم کرسکا۔ البتہ اسے ایسے اشعار ضرور سننے پڑے جن کے پہلے مصرعے عموما مرزا غالب کے ہوتے تھے اور دوسرے ڈاکٹر اقبال رح کے! مثلا۔۔۔

“ہے دل شوریدہ غالب طلسم پیچ و تاب

وہ صبا رفتار شاہی اصطبل کی آبرو!”

عمران اس طرح کے جوڑ پیوند لگانے کا ماہر تھا۔۔۔ بہرحال فیاض اس سے کچھ معلوم نہ کرسکا!۔۔۔ آج اس نے نواب ہاشم اور اس کے بھتیجے نواب ساجد کو اپنے آفس میں طلب کیا تھا!۔۔۔ دونوں آئے تھے! لیکن ان کے چہروں پر ایک دوسرے کے خلاف بیزاری کے آثآر تھے!۔

“دیکھئے جناب!”فیاض نے نواب ہاشم کو مخاطب کیا۔”اب ایک ہی صورت رہ گئی ہے!”

“وہ کیا؟۔۔۔ دیکھئے جناب! جو بھی صورت ہو! میں جلد سے جلد اس کا تصفیہ چاہتا ہوں!” نواب ہاشم نے کہا۔

“صورت یہ ہے کہ میں آپ کو جیل بھجوا دوں!۔۔۔”

“اچھا!”۔۔۔ نواب ہاشم کی بھنویں تن گئیں!۔۔۔ اتنے میں عمران کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اس کے بال پریشان تھے اور لباس ملگجا سا!۔۔۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ کسی لمبے سفر کے بعد یہاں پہنچا ہو!۔۔۔

وہ ان دونوں چچا بھتیجے کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور فیاض کو آنکھ مار کر سرکھجانے لگا!۔۔۔

“مجھے جیل بھجوانا اتنا آسان کام نہ ہوگا مسٹر فیاض! آخر آپ مجھے کس بنا پر جیل بھجوائیں گے؟” نواب ہاشم نے کہا اور بدستور فیاض کی آنکھوں میں دیکھتا رہا!۔

“دو وجوہات ہیں! ان میں سے جو بھی آپ پسند کریں!” فیاض نے کہا!”اگر مرنے والا واقعی نواب ہاشم تھا تو آپ دھوکے باز ہیں اور اگر نواب ہاشم نہیں تو آپ اس کے قاتل ہیں!”

“کیوں؟ میں کیسے قاتل ہوں؟”

“جس رات آپ اپنی روانگی ظاہر کرتے ہیں اسی رات کی صبح کو آپ کی خوابگاہ سے ایک لاش برآمد ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں آپ چھپ کر کیوں گئے تھے؟”

“شاید مجھے اب وہ بات دہرانی پڑے گی!” نواب ہاشم نے جھینپے ہوئے انداز میں مسکرا کر رکہا۔

“دہرایئے جناب!” عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا “آپ کے معاملے نے تو میری عقل دوہری کر دی ہے!”

نواب ہاشم چونک کر مڑا۔۔۔ شاید اسے عمران کی موجودگی کا علم نہیں ہوا تھا!

“اوہ۔۔۔ آپ۔۔۔ تو کیا آپ یہیں سے تعلق رکھتے ہیں؟”

“آپ کچھ بتانے جا رہے تھے!” فیاض نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔

“جی ہاں!۔۔۔ اب وہ بات بتانی ہی پڑے گی!۔۔۔ آج سوچتا ہوں کہ وہ واقعہ کتنا معمولی تھا! لیکن اس وقت گویا مجھ پر جنون سوار تھا! اگر میں نے وہ چوٹ سہہ لی ہوتی اور لوگوں کے ہنسنے کی پروا نہ کی ہوتی تو آج اس حالت کو نہ پہنچتا! خیر سنیئے جناب!۔۔۔ مگر نہیں پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیجئے!”

“دیکھئے بات کو خوامخواہ طوالت مت دیجئے! ہم لوگ بیکار آدمی نہیں!” فیاض نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا!

“نہیں میں اختصار سے کام لوں گا! اچھا صاف صاف سنیئے! مجھے ایک عورت سے عشق تھا۔ بظاہر وہ بھی مجھے چاہتی تھی! اسی شہر کا ایک دوسرا رئیس بھی اس کے چکر میں تھا! لہٰذا ہم دونوں کی کشمکش نے اس واقعے کو پورے شہر میں مشہور کردیا۔ عورت بظاہر میری ہی طرف زیادہ جھک رہی تھی! یہ بات بھی عام طور پر لوگوں کو معلوم تھی! لیکن اسی دوران میں نہ جانے کیا ہوا کہ وہ کم بخت ایک تانگے والے کے ساتھ فرار ہو گئی۔ ذرا سوچئے! اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ کی احساسات کیا ہوتے! کیا آپ یہ نہ چاہتے کہ اب شناساوں سے نظریں چار نہ ہوں تو اچھا ہے! شرمندگی سے بچنے کے لئے میں نے کسی کو کچھ بتائے بغیر یہاں سے چلا جاؤں۔ جس رات میں نے یہاں سے چلے جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ اسی شام کو باہر سے میرا دوست آگیا!۔۔۔ وہ میرا جگری دوست تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دن اس کی آمد بھی بہت گراں گزری!” نواب ہاشم نے رک کر سگریٹ سلگائی اور دو تین کش لے کر بولا۔ “اسے واقعات کا علم نہیں تھا!۔۔۔ میں نے تہیہ کرلیا کہ قبل اس کے کہ اسے کچھ معلوم ہو! میں یہاں سے چلا جاؤں! چنانچہ میں نے یہی کیا! اسے سوتا چھوڑ کر میں یہاں سے چلا گیا!”

Read More:  Mera Sham Slona Shah Piya Novel By Bella Subhan – Episode 1

“تو پھر وہ آپ کے دوست کی لاش تھی؟” فیاض نے آگے کی طرف جھک کر پوچھا!۔

“یقینا اس کی رہی ہوگی!۔۔۔ اب دیکھئے میں آپ کو بتاؤں! ابھی میں نے اپنے جس حریف یا رقیب کا تذکرہ کیا تھا۔ یہ حرکت اس کی بھی ہوسکتی ہے! ظاہر ہے کہ اسے اس واقعہ کے سلسلے میں کافی خفت اٹھانی پڑی ہوگی اور اس نے یہی سوچا ہوگا کہ میں نے اسے زک دینے کے لئے عورت کو تانگے والے کےساتھ نکلوا دیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے مجھ سے انتقام کی ٹھانی ہو اور میرے دھوکے میں میرے دوست سجاد کو قتل کردیا ہو! مگر پھر سوچتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوسکتا!”

“آخر آپ کا حریف تھا کون؟ اس کا نام بتایئے؟” فیاض نے کہا!

“مرزا نصیر”

“اوہ وہ پہلی کوٹھی والے؟” عمران نے کہا!۔

“جی ہاں وہی!” نواب ہاشم بولا۔

“بڑا افسوس ہوا سن کر!” عمران نے مغموم آواز میں کہا “وہ تو پچھلے سال مر گئے! اب میں کس کے ہتھکڑیاں لگاؤں۔۔۔ کیا ان کے لڑکے سے کام چل جائے گا؟”

فیاض نے عمران کو گھور کر دیکھا! لیکن عمران نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور سرہلاتا ہوا فرش کی طرف دیکھنے لگا!

“مگر مجھے یقین نہیں کہ مرزانصیر نے ایسا کیا ہو!” نواب ہاشم بولا۔ “اگر وہ ایسا کرتا تو بھلا لاش کو ناقابل شناخت بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر فرض کیجئے اس نے دھوکے میں بھی مارا ہوتا تو شکل کبھی نہ بگاڑتا! اب آپ خود سوچئے! کہ وہ کون ہو سکتا ہے؟”

“بھتیجے کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے چچا!” عمران بڑبڑایا۔

“کیا مطلب؟” ساجد اچھل کر کھڑا ہوگیا!۔

“واقعی آپ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے!” نواب ہاشم نے عمران کی طرف دیکھ کر کہا!۔

“پہنچ گیا نا!۔۔۔ ہاہا!” عمران نے احمقانہ انداز میں قہقہہ لگایا!۔

“بہت ہوچکا!” ساجد نواب ہاشم کو گھونسہ دکھا کر بولا “تمہاری چار سو بیسی ہرگز نہیں چلے گی!”

“گرم نہ ہو بیٹے!” نواب ہاشم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ “دولت بیٹے کے ہاتھوں باپ کو قتل کرا سکتی ہے تم تو بھتیجے ہو اور پھر تمہارے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ تمہارے باپ نے اپنی جائیداد پہلے ہی بیچ کھائی تھی! میں کنوارا تھا۔ ظاہر ہے کہ میرے وارث تم ہی قرار پاتے۔۔۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں!”

“بکواس ہے۔۔۔ سو فیصدی بکواس تم نواب ہاشم نہیں ہو! تمہارے کاغذات جعلی ہیں!”

“اور میری شکل بھی شاید جعلی ہے! اتنی جعلی ہے کہ تم نے مجھے حویلی میں قیام کرنے کی اجازت دے دی!”

“تم مجھ پر کسی کا قتل نہیں ثابت کرسکتے!” ساجد نے میز پر گھونسہ مار کر کہا!

“دیکھئے مسٹر!” فیاض نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔ “یہ آپ کی حویلی نہیں میرا دفتر ہے ذرا ہاتھ پ

یر قابو میں رکھئے۔!”

“اوہ۔۔ معاف کیجئے گا!” ساجد نے کہا۔ پھر نواب ہاشم سے بولا!”میں عدالت میں دیکھوں گا تمہاری چرب زبانی!”

“ہاں تو کپتان صاحب میں یہ کہہ رہا تھا!” نواب ہاشم نے لاپروائی سے کہنا شروع کیا۔ “میرے بھتیجے نے دیکھا۔ موقع اچھا ہے! اگر ہاشم آج کل ہی میں قتل کر دیا جائے تو آئی گئی مرزا نصیر کے سر جائے گی!۔۔۔ یہ اسی رات کو حویلی میں چوروں کی طرح داخل ہوا اور میرے دھوکے میں سجاد کو قتل کردیا! اب مجھے یقین ہے کہ اسے اپنی غلطی کا احساس فورا ہی ہو گیا ہوگا اسی لئے تو اس نے لاش کو ناقابل شناخت بنا دیا تھا!۔۔۔ پہلے اس نے مجھے تلاش کیا ہوگا۔ جب میں نہ ملا ہوں گا تو اس نے مقتول کا چہرہ بگاڑ دیا ہوگا!۔۔۔ اور پھر جناب یہ توبتایئے کہ لاش کی شناخت کس نے کی تھی؟۔۔۔”

“انہی حضرت نے!” فیاض نے ساجد کی طرف دیکھ کر کہا!۔۔۔

“اب آپ خود سوچئے! یہ میرا بھتیجا ہے! لاش کا چہرہ بگڑ چکا تھا!۔ آخر اس نے کس بنا پر اسے میری لاش قرار دیا تھا؟ کیا اس لئے کہ مقتول کے جسم پر میرا لباس تھا۔۔۔؟”

فیاض کچھ نہ بولا۔ اس کی نظریں ساجد۔۔۔ کے چہرے پر جمی ہوئی تھی! لیکن اس کے برخلاف عمران نواب ہاشم کو گھور رہا تھا!۔۔۔

“جواب دیجئے کپتان صاحب!” نواب ہاشم نے پھر فیاض کو مخاطب کیا۔

“کیوں جناب! آپ نے کس بنا پر اسے نواب ہاشم کی لاش قرار دیا تھا؟” فیاض نے ساجد سے پوچھا۔

“ہاتھوں اور پیروں کی بنا پر!” ساجد اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتا ہوا بولا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے!

“ہاں ہاں! کیوں نہیں! چہرہ تو پہلے ہی بگاڑ دیا تھا!۔۔۔ اور اسی لئے بگاڑا تھا کہ تمہاری شناخت پولیس کے لئے حرف آخر ہو!۔۔۔ظاہر ہے کہ اس کچی شناخت کے معاملے میں پولیس صرف تمہارے ہی بیان سے مطمئن ہو سکتی تھی۔ کیونکہ تم میرے ہی گھر کے ہی ایک فرد تھے!” ساجد کچھ نہ بولا۔ وہ اس اندازمیں نواب ہاشم کو گھور رہا تھا جیسے موقع ملتے ہی اس کا گلا دبوچ لے گا!

“ہاں مسٹر ساجد! آپ اپنی صفائی میں کیا کہتے ہیں؟” فیاض نے سخت لہجے میں کہا۔

“اب میں ہر بات کا جواب اپنے وکیل کی موجودگی ہی میں دے سکوں گا۔” ساجد بولا۔

“یہی چاہئے برخوردار!” نواب ہاشم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

“میں تم سے گفتگو نہیں کر رہا اور ہاں اب تم میری حویلی میں نہیں آؤ گے! سمجھے! اگر تم نے ادھر کا رخ بھی کیا تو نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہوگے!”

“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا!” عمران بول پڑا۔۔۔ “آپ دونوں سمجھوتہ کیوں نہیں کر لیتے! چین سے مل جل کر اسی کوٹھی میں رہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ نہ میرے کوئی بھتیجا ہے اور نہ چچا۔۔۔ ورنہ میں دنیا کو دکھا دیتا کہ چچا اور بھتیجا کس طرح ایک جان دو قابل۔۔۔ نہیں باقل۔۔۔ ہائیں۔۔۔ بک رہا ہوں میں سوپر فیاض۔۔۔ کیا محاورہ ہے وہ۔۔۔ ایک جان۔۔۔ دو قابل۔۔۔ چہ چہ چہ۔۔۔ آہاں۔۔۔ قالب قالب ایک جان دو قالب۔۔۔ واہ بھئی۔۔۔ ہینھ!”

“بھلا ان کے آپس کے سمجھوتے سے کیا بنے گا!۔۔۔ وہ لاش تو بہرحال درمیان میں حائل رہے گی!” فیاض بولا!۔

“ارے یار چھوڑو بھی!” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ “یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک مردہ آدمی کے لئے چچا بھتیجوں میں ناچاقی ہو جائے! بھلا وہ لاش ان کے کس کام آئے گی؟”

“اچھا آپ یہاں سے تشریف لے جایئے!” فیاض نے منہ بگاڑ کر انتہائی خشک لہجے میں کہا! لیکن عمران پر اس کا ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ اس نے مسکرا کر رکہا۔۔

“میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ اس قتل کا تعلق مرزا نصیر سے تھا!۔۔۔ کیوں فیاض صاحب! جو بات نواب ہاشم اپنے بھتیجے کے متعلق سوچ رہے ہیں۔ کیا وہی مرزا نصیر کے ذہن میں نہ آئی ہوگی؟”

“کون سی بات؟”

“یہی کہ لاش کا چہرہ بگاڑ دینے سے خیال ساجد کی طرف جائے گا!”

“یہ بات کہی ہے آپ نے!” ساجد اچھل پڑا اور پھر فیاض سے بولا۔”اب اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟”

“اوہ! ختم بھی کیجئے!” عمران ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “بس جایئے! لیکن آپ دونوں حویلی میں ہی رہیں گے! مقصد اور کچھ نہیں!۔۔۔ بس اتنا ہی کافی ہے کہ میرے آدمیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: