Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 5

0
پرسرار چیخیں ​از ابن صفی – قسط نمبر 5

–**–**–

“میں سمجھا نہیں!” نواب ہاشم نے کہا۔

“میرے آدمی آپ دونوں کی نگرانی کرتے ہیں! اگر آپ میں سے کوئی کسی دوسری جگہ چلا گیا تو مجھے نگرانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑے گا۔”

فیاض نے عمران کو گھور کر دیکھوا! غالبا وہ سوچ رہا تھا کہ عمران کو نگرانی کے متعلق کچھ نہ کہنا چاہیئے تھا!۔۔۔ ساجد اور نواب ہاشم حیرت سے منہ کھولے ہوئے عمران کی طرف دیکھ رہے تھے۔

“بس اب آپ لوگ تشریف لے جایئے!” عمران نے ان سے کہا۔”جس نے بھی حویلی کی سکونت ترک کی اس کے ہتھکڑیاں لگ جائیں گی!”

“آپ نہ جانے کیسی باتیں کر رہے ہیں؟” ساجد بولا۔

“چپڑاسی!” عمران نے میز پر رکھی ہوئی گھنٹی پر ہاتھ مارتے ہوئے صدا لگائی!۔۔۔ انداز بالکل بھیک مانگنے کا سا تھا۔۔۔!

“اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھی بات ہے!” نواب ہاشم اٹھتا ہوا بولا!”میں حویلی سے نہیں ہٹوں گا۔ لیکن میری زندگی کی حفاظت کی ذمہ داری آپ پر ہوگی!”

“فکر نہ کیجئے! قبر تک کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہوں!” عمران نے سنجیدگی سے کہا! وہ دونوں چلے گئے اور فیاض عمران کو گھورتا رہا۔۔۔

“تم بالکل گدھے ہو!” اس نے کہا!

“نہیں! میں دوسری برانچ کا آدمی ہوں!۔۔۔ میرے یہاں سپرنٹنڈنٹ نہیں ہوتے!”

“تم نے انہیں نگرانی کے متعلق کیوں بتایا! اب وہ ہوشیار ہو جائیں گے۔ احمق بننے کے چکر میں بعض اوقات سچ مچ حماقت کربیٹھتے ہو!”

“آہ کپتان فیاض! اسی لئے جوانی دوانی مشہور ہے!” عمران نے کہا!۔۔۔ اور داہنی ایڑی پر گھوم کر کمرے سے نکل گیا!۔۔۔ رات تاریک تھی!۔۔۔ عمران عالمگیری سرائے کے علاقے میں چوروں کی طرح چل رہا تھا۔ اس کے ایک ماتحت نے جس کو لڑکی کے مکان کی نگرانی کے لئے مقرر کیاگیا تھا۔ اطلاع دی تھی کہ آج دن میں کچھ مشتبہ آدمی مکان کے آس پاس دکھائی دیئے تھے!۔۔۔ عمران نے اپنی کار سڑک پر ہی چھوڑ دی تھی اور پیدل ہی پیلے مکان کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ گلی کے موڑ پر اسے ایک تاریک سا انسانی سایہ دکھائی دیا!

عمران رک گیا! اس نے محسوس کیا کہ وہ سایہ چھپنے کی کوشش کر رہا تھا!۔

“ہدہد!” ۔۔۔ عمران نے آہستہ سے کہا!۔۔۔

“جج جناب والا!” دوسری طرف سے آواز آئی!۔۔۔ عمران نے اپنے اس ماتحت کا نام ہدہد رکھا تھا!۔۔۔ یہ گفتگو کرتے وقت تھوڑا سا ہکلاتا تھا اور اس کی شکل دیکھتے ہی نہ جانے کیوں لفظ “ہدہد” کا تصور ذہن میں پیدا ہوتا تھا۔ پہلے پہل جب عمران نے اسے ہدہد کہا۔ تو اس کے چہرے پر ناخوشگوار قسم کے آثار پیدا ہوئے تھے اور اس نے اسے بتایا تھا کہ وہ ایک نجیب الطرفین قسم کا خاندانی آدمی ہے۔۔۔ اور اپنی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔ اس پر عمران نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس محکمہ میں حقیقتا اسی قسم کے نام ہونے چاہئیں۔ بہرحال وہ بڑی مشکل سے اس بات پر راضی ہوا تھا کہ اسے ہدہد پکارا جائے۔۔۔ اس میں ایک خاص بات اور بھی تھی! جو اس کے حلئے کے اعتبار سے ضرورت سے زیادہ مضحکہ خیز تھی۔ بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ دوران گفتگو بہت ہی ادق قسم کے الفاظ استعمال کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس پر سے ہکلاہٹ کی مصیبت! بس ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے اس پر ہسٹیریا کا دورہ پڑ گیا ہو۔

“کیا خبر ہے؟” عمران نے اس سے پوچھا! وہ اس کے قریب آگیا تھا!۔

“ابھی تک تو کچھ بھی ظہور میں نہیں آیا۔”۔۔۔ ہدہد بولا۔

“مگر میں نے ظہور کو کب بلایا تھا؟” عمران نے متحیرانہ لہجے میں پوچھا! پتہ نہیں اس کے سننے میں فرق آیا تھا یا وہ جان بوجھ کر گھس رہا تھا!

“جج۔۔۔ جناب والا۔۔۔ میرا مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ جج۔۔۔ جج۔۔۔ حالات میں ککوئی تغیر واقعی نہیں ہوا۔۔۔ یا یوں سمجھئے کہ۔۔۔ تب تا این دددم۔۔۔ جج جوں کا تت توں۔۔۔!”

“میرے ساتھ آؤ”

“بب بسرو چچ چشم!” دونوں آگے بڑھ گئے!۔۔۔ بستی پر سناٹا طاری تھا۔ کبھی کبھی آس پاس کے گھروں سے بچوں کے رونے آوازیں آتیں اور پھر فضا پر سکوت مسلط ہو جاتا! اس بستی کے کتے بھی

شائد افیونی تھے۔ عمران کو اس بات پر بڑی حیرت تھی کہ ابھی تک کسی طرف سے بھی کتوں کی آوازیں نہیں آئی تھیں۔ پہلے اس کا خیال تھا کہ اس وقت کتوں کی وجہ سے بستی میں قدم رکھنا بھی دشوار ہو جائے گا! وہ تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ اچانک عمران کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گرتے گرتے بچا اور وہ چیز یقینا ایسی تھی جو دباؤ پڑنے پر دب بھی سکتی تھی عمران نے بڑی پھرتی سے زمین پر بیٹھ کر اسے ٹٹولا۔۔۔ وہ کسی کتے کی لاش تھی۔

“کک۔۔۔ کیا۔۔۔ ظہور پذیر ہوا۔ جناب؟” ہدہد نے پوچھا!

“ظہور نہیں پذیر ہوا ہے آگے بڑھو!” مکان کے قریب پہنچ کر وہ دونوں ایک دیوار سے لگ کر کھڑے ہوگئے۔ گہری تاریکی ہونے کی بنا پر انہیں قریب سے بھی دیکھ لئے جانے کا امکان نہیں تھا!۔

“سس، سس!” ہدہد آہستہ سے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ عمران نے اس کا شانہ دبا دیا!۔۔۔ اسے تھوڑے ہی فاصلے پرکوئی متحرک شئے دکھائی دی تھی۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی چوپایہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اسی طرف آرہا ہو۔۔۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔ ان چوپایوں میں اضافہ ہوگیا!۔۔۔ ایک دو تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔!” عمران کا داہنا ہاتھ کوٹ کی جیب میں تھا۔۔۔ اور مٹھی میں ریوالور کا دستہ جکڑا ہوا تھا!۔۔۔ دیوار کے قریب پہنچتے ہی چوپائے سیدھے کھڑے ہوگئے!۔۔۔ عمران پہلے ہی سمجھ گیا تھا! وہ پانچ آدمی تھے لیکن تاریکی کی وجہ سے پہنچانے نہیں جاسکتے تھے! عمران نے اس خیال سے ہدہد کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا کہ کہیں وہ بوکھلا کر کوئی حماقت نہ کر بیٹھے۔

“ارر۔۔۔ ہش!” ہدہد اس کا ہاتھ جھٹک کر اچھل پڑا پانچواں آدمی بھی بالکل اسی کے انداز میں اچھل کر بھاگا! عمران نے ان پر جست لگائی اور ایک کو جا لیا!

“خبردار! ٹھہرو۔ ورنہ گولی مار دوں گا!” اس نے دوسروں کو للکارا۔ لیکن اس للکار کا کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔ وہ تاریکی میں گم ہو چکے تھے۔ عمران کی گرفت میں آیا ہوا آدمی بھی نکل بھاگنے کے لئے جدوجہد کر رہا تھا!

“او ہدہد کے بچے!” عمران نے ہانک لگائی۔

“دد۔۔۔ دیکھئے جناب!” ہدہد نے کہا، جو قریب ہی کھڑا کانپ رہا تھا۔

“مم۔۔۔ میں۔۔ خخ۔۔۔ خاندانی آدمی ہوں۔۔۔ پہلے ہدہد پھر ہدہد کا بچہ۔۔۔ واہ۔۔۔ جناب۔۔۔ مم ۔۔۔”

“شٹ اپ۔۔۔ ٹارچ جلاؤ۔”

“وہ تو۔۔۔ کک۔۔۔ کہیں۔۔۔ گر گئی!” اس دوران میں عمران نے اپنے شکار کے چہرے پر دو چار گھونسے رسید کئے اور وہ سیدھا ہو گیا!۔۔۔

“چلو!۔۔۔ ادھر۔۔۔!” اس نے پھر ہدہد کو مخاطب کیا!”اس کے گلے سے ٹائی کھول لو۔۔۔!”

ہدہد بوکھلاہٹ میں عمران کی گردن ٹٹولنے لگا۔۔۔

“ابے۔۔۔ یہ میں ہوں!”

“جی۔۔۔! کیا۔ ابے۔۔۔! ببعید از شرافت۔۔۔ میں کوئی کنجڑا قصائی نہیں ہوں!۔۔۔ مم۔۔۔ ممجھے۔۔۔ اسی وقت۔۔۔ مم۔۔۔ ملازمت سے سبکدوش کرادیجئے۔۔۔ جج۔۔۔ جی ہاں!”

“چلو! ورنہ گردن مروڑ دوں گا!”

“حد ہو گئی جناب!۔۔۔”

اتنے میں عمران نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ پیر سست پڑ گئے ہیں! اس پر سچ مچ غشی کی سی کیفیت طاری ہو گئی تھی! عمران نے اس کے گلے سے ٹائی کھول کر اس کے ہاتھ باندھ دیئے! پھر اٹھ کر ہدہد کی گردن دبوچتا ہوا بولا!

“ملازمت سے سبکدوش ہونا چاہتے ہو۔”

“جج جی۔۔۔ ہاں!” ہدہد کے لہجے میں جھلاہٹ تھی لیکن اس نے اپنی گردن چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔

“ٹارچ تلاش کرو!” عمران اسے دھکا دیتے ہوئے بولا اور ٹارچ جلد ہی مل گئی۔ وہ وہیں پڑی ہوئی تھی، جہاں ہدہد اچھلا تھا!۔۔۔

عمران نے بیہوش آدمی کے چہرے پر روشنی ڈالی۔ یہ ایک نوجوان اور توانا آدمی تھا! لیکن چہرے کی بناوٹ کے اعتبار سے اچھے اطوار کا نہیں معلوم ہوتا تھا! اس کے جسم پر سیاہ سوٹ تھا!

)۱۰(​

تقریبا ایک گھنٹے بعد عمران کوتوالی میں اسی آدمی سے پوچھ گچھ کر رہا تھا!

“تم وہاں کس لئے آئے تھے؟”

“مجھے اس کا علم نہیں!”

“تم نہیں بتاؤ گے؟”

“دیکھئے جناب! میں کچھ نہیں چھپا رہا ہوں! خدا کی قسم مجھے علم نہیں! اور پھر ہم چاروں کو تو باہر کھڑا رہنا تھا!۔۔۔ اکیلا وہی اندر آجاتا!”

“کون”

“صفدر خان”

“یہ کون ہے؟”

“آپ یقین نہ کریں گے کہ ہم اس کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے ویسے وہ خود کو ایک علاقے کا جاگیردار بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم لوگوں کی مدد سے اپنے ایک حریف کے خلاف مقدمہ بنا رہا ہے۔۔۔ آج سے کچھ عرصہ پیشتر ہم اس مکان سے ایک جنازہ لائے تھے اور آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ چادر کے نیچے لاش کی بجائے تین بالٹیاں اور ایک دیگچی تھی!۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ مصنوعی جنازہ۔۔۔!”

“واہ!” عمران بے اختیار ہنس پڑا!

“میں کچھ نہیں چھپاؤں گا جناب!۔۔۔ اس نے ان کاموں کے لئے ہمیں چار ہزار روپے دیئے تھے۔۔۔ اور ہاں یہ تو بھول ہی گیا!۔۔۔ وہ ہمیں ایک امریکن کے بنگلے پر بھیجا کرتا تھا!۔۔۔ وہ بات بھی عجیب تھی!۔۔۔۔ ہمارا کام صرف یہ تھا کہ ہم وہاں تھوڑی سی اچھل کود مچا کر واپس آ جایا کریں! لیکن اس نے آج تک اس کا مقصد نہیں بتایا!۔۔۔”

“صفدر خان کا حلیہ کیا ہے؟۔۔۔”

“چہرے پر گھنی داڑھی!۔۔۔ شلوار قمیض پہنتا ہے! ناک چپٹی سی!۔۔۔ آنکھوں میں کیچڑ”

“سیاہ چشمہ نہیں لگاتا؟” عمران نے پوچھا!۔۔۔

“جی نہیں!۔۔۔ چشمہ لگائے ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔”

“اچھا اپنے بقیہ تین ساتھیوں کے نام اور پتے بتاؤ!”

“میں کسی کے نام اور پتے سے واقف نہیں ہوں! جب وہ ہمیں ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے تب ہی ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں! ورنہ پھر آپس میں کبھی ملنے کا اتفاق نہیں ہوتا!”

“ہوں! وہ تمہیں کس طرح بلاتا ہے؟۔۔۔”

“فون پر!۔۔۔ شاید ہم چاروں کو ہی یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں رہتا ہے!”

“تمہیں ان تینوں آدمیوں کے فون نمبر معلوم ہیں؟”

“جی نہیں!۔۔۔ ہم میں کبھی گفتگو نہیں ہوئی!۔۔۔ ہم چاروں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں! ویسے صورت آشنا ضرور ہیں!” عمران نے لکھتے لکھتے نوٹ بک بند کر دی!۔۔۔ ملزم حوالات میں بھیج دیا گیا!۔۔۔

شام ہی سے آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا!۔۔۔ اس لئے سورج کے غروب ہوتے ہی تاریکی پھیل گئی۔۔۔ اور گیارہ بجے تک یہ عالم ہو گیا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔ بادل جم کر رہ گئے تھے! حبس کی وجہ سے لوگوں کا دم نکل رہا تھا! لیکن بارش۔۔۔ بارش کے امکانات نہیں تھے۔

نواب ہاشم کا بھتیجا ساجد مضطربانہ انداز میں ٹہل رہا تھا۔ ابھی ابھی کچھ پولیس والے یہاں سے اٹھ

کر گئے تھے۔ ان میں ایک آدمی محکمہ سراغرسانی کا بھی تھا۔ ساجد کو حیرت تھی کہ آخر ابھی تک اس شخص کو حراست میں کیوں نہیں لیا گیا جو نواب ہاشم ہونے کا دعوٰی کرتا ہے!۔۔۔ اگر وہ سچ مچ نواب ہاشم ہی ہے تو پولیس کو اسے حراست میں لے کر اس لاش کے متعلق استفسار کرنا چاہیے تھا، جو دس سال قبل حویلی میں پائی گئی تھی!۔۔۔

وہ ٹہلتا اور سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا رہا! لیکن اب خود اس کی شخصیت بھی پولیس کے شبے سے بالاتر نہیں تھی۔ نواب ہاشم نے کیپٹن فیاض کے آفس میں بیٹھ کر کھلم کھلا اسے مجرم گردانا تھا۔ کہا تھا ممکن ہے ساجد ہی نے میرے دوست سجاد کو میرے دھوکے میں قتل کر دیا ہو۔

ساجد نے ختم ہوتے ہوئے سگریٹ سے دوسرا سلگایا اور ٹہلتا رہا! دو، دو بجلی کے پنکھے چل رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ پسینے میں نہایا ہوا تھا پھر کیا ہوگا۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا۔۔۔ اگر جرم اس کے خلاف ثابت ہو گیا تو کیا ہوگا اس نے اس شخص کو کوٹھی میں جگہ دے کر سخت غلطی کی ہے۔۔۔ اور اب نہ جانے کیوں محکمہ سراغرسانی والے اس بات پر مصر ہیں کہ اسے کوٹھی میں ٹھہرنے دیا جائے؟ کیا وہ خود کہیں چلا جائے۔۔۔ مگر اس سے کیا ہوگا۔۔۔ اس طرح اس کی گردن اور زیادہ پھنس جائے گی!”

ساجد تھک کر بیٹھ گیا!۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے بعض اوقات تو اس کا دل چاہتا تھا کہ سچ مچ ایک قتل کا الزام اپنے سر پر لے لے! اس پراسرار آدمی کا گلا گھونٹ دے، جو اس کی جان و مال کا خواہاں ہے۔۔۔ سگرٹ پھینک کر وہ جوتوں سمیت صوفے پر دراز ہو گیا۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں!۔۔۔ یونہی۔۔۔! نیند ایسے میں کہاں؟ آنکھیں بند کرکے وہ اپنے تھکے ہوئے ذہن کو تھوڑا سا سکون دینا چاہتا تھا!۔ اچانک اس نے ایک عجیب قسم کا شور سنا!۔۔۔ اور بوکھلا کر برآمدے میں نکل آیا۔۔۔ لیکن اتنی دیر میں پھر پہلے ہی کی طرح سناٹا چھا چکا تھا!۔۔۔ البتہ اس کے دو تین کتے ضرور بہت ہی ڈھیلی ڈھالی آوازوں میں بھونک رہے تھے! ساجد سمجھ ہی نہ سکا کہ وہ کس قسم کا شور تھا!۔

ساجد کا دل بہت شدت سے دھڑک رہا تھا! وہ چند لمحے برآمدے میں بے حس و حرکت کھڑا اندھیرے میں آنکھیں پھاڑتا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہ اس کا واہمہ نہ رہا ہو! پریشان دماغ اکثر غنودگی کے عالم میں اس طرح کے دھوکے دیتا ہے! پھر وہ واپسی کے لئے مڑ رہی رہا تھا کہ سارا پائیں باغ اسی قسم کے شور سے گونج اٹھا۔ بالکل ایسا معلوم ہوا جیسے بیک وقت ہزاروں آدمی چیخ کر خاموش ہو گئے ہوں! کتوں نے پھر بھونکنا شروع کردیا! اور اب ساجد کئی بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں بھی سن رہا تھا۔

دو نوکر بھاگتے ہوئے اس کے قریب آئے وہ بری طرح ہانپ رہے تھے۔

“حضور!۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟” ایک نے ہانپتے ہوئے پوچھا!۔۔۔

“میں کیا بتاؤں؟۔۔۔ اندر سے ٹارچیں لاؤ۔ تینوں رائفلیں نکال لاؤ۔۔۔ جلدی کرو!۔۔۔ سارے نوکروں کو اکٹھا کرو۔۔۔ جاؤ!”

اتنے میں ساجد کو نواب ہاشم دکھائی دیا جو سب خوابی کے لبادے میں ملبوس اور ہاتھ میں رائفل لئے برآمدے میں داخل ہو رہا تھا!

“ساجد!” اس نے کہا “کیا تم اب میرے خلاف کوئی نئی حرکت کرنیوالے ہو؟”

“یہی میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں! دوست!” ساجد بھنویں تان کر آنکھیں سکوڑتا ہوا بولا۔ “تم اگر میرے چچا بھی ہو تو اس قسم کی حرکتیں کرکے مجھے سے کوٹھی خالی نہیں کراسکتے!۔۔۔

میں بزدل نہیں ہوں جب تک میرے اسٹاک میں میگزین باقی رہے گا کوئی مجھے ہاتھ نہ لگا سکے گا۔۔۔ سمجھے!”

“میں سب سمجھتا ہوں!” نواب ہاشم نے کہا “اگر تم ہزاروں آدمی بھی بلالو تب بھی میں حویلی سے نہ نکلوں گا! محکمہ سراغرسانی والے ہر وقت حویلی کی نگرانی کرتے ہیں۔ اگر میرا بال بھی بیکا ہوا تو تم جہنم میں پہنچ جاؤ گے۔”

“چوری اور سینہ زوری!” ساجد تلخ انداز میں مسکرایا۔

اتنے میں سارے نوکر اکٹھے ہوگئے! یہ تعداد میں آٹھ تھے۔ ان میں تین ایسے تھے! جو ساجد کو شکار پر لے جانے کے لئے رکھے گئے تھے اور خود بھی اچھے نشانہ باز تھے۔

“میں تمہیں حکم دیتا ہوں!” ساجد نے انہیں مخاطب کرکے کہا!”جہاں بھی کوئی اجنبی آدمی نظر آئے بیدریغ گولی مار دینا! پھر میں سمجھ لوں گا!”

شکاری ٹارچیں اور رائفلیں لے کر پائیں باغ میں اتر گئے۔

“دو ایک کتے بھی ساتھ لے لو! میں اس وقت تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔ میرا یہاں موجود رہنا ضروری ہے۔”اور پھر وہ نواب ہاشم کو گھورنے لگا!۔۔۔

“تم اس طرح مجھے مطمئن نہیں کرسکے!” نواب ہاشم بولا۔

“اوہ۔ تم جہنم میں جاؤ۔” ساجد دانت پیستے ہوئے بولا۔ “مجھے تم کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اگر پولیس والے تمہیں یہاں نہ رکھنا چاہتے تو میرے نوکروں کے ہاتھ تمہاری گردن میں ہوتے اور تم پھاٹک کے باہر نظر آتے!”

“اوہ! ساجد! کیا تمہارا خون سفید ہو گیا ہے؟” نواب ہاشم کا لہجہ دردناک تھا!

اچانک وہ شور پھر سنائی دیا۔ لیکن ایک لمحے سے زیادہ جاری نہ رہا!۔۔۔ کتے پھر بھونکنے لگے! اور پھر وہی بھاگتے قدموں کی آوازیں!

ساجد کے سارے نوکر بے تحاشہ بھاگتے ہوئے اوپر چڑھ آئے دو ایک تو سیڑھیوں پر ہی ڈھیر ہو گئے۔

“حضور! کوئی۔۔۔ نہیں۔۔۔ کوئی بھی نہیں! صرف آوازیں۔۔۔ میرے خدا۔۔۔ آوازیں آسمان سے آتی ہیں! چاروں طرف سے!”

“یہ کیا بکواس ہے؟” ساجد جھلا کر چیخا! “چلو میں چلتا ہوں! ڈرپوک کہیں کے۔۔۔ لیکن اگر پیچھے سے میری کھوپڑی پر گولی پڑے تو میری موت کا ذمہ دار یہ شخص ہوگا!” ساجد نے نواب ہاشم کی طرف ہاتھ جھٹک کر کہا۔ “یہ شخص ہوگا میری موت کا ذمہ دار۔ تم لوگ اسے یاد رکھنا۔ اب آؤ میرے ساتھ!۔۔۔ میں دیکھوں گا۔”

)۱۲(​

عمران اپنے آفس میں کاہلوں کی طرح بیٹھا دونوں ٹانگیں ہلا رہا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں اور دانتوں کے نیچے چونگم تھا۔ پھر اس نے آنکھیں بند کئے ہوئے ہدہد کو آواز دی۔

“جج۔۔۔ جناب والا!” ہدہد نے اس کے قریب پہنچ کر کہا!

“بیٹھ جاؤ!” عمران بولا۔

ہدہد میز سے کافی فاصلے پر ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

“پچھلی رات کی رپورٹ سناؤ؟”

“رر۔۔۔ رات بھر ہنگامہ آرائی رہی۔۔ قدرے۔۔۔ قق۔۔۔ قلیل وقفے سے وہ لوگ آسمان بالائے سر اٹھاتے رہے۔۔۔ اور سگان رو سیاہ کی بف بف سے۔۔۔ مم میرا دد۔۔۔ دماغ۔۔۔ پراگندگی اور انتشار کی آماجگاہ بنا رہا۔!”

“ہدہد۔۔۔ مائی ڈیئر! آدمیوں کی زبان بولا کرو۔”

“میں ہمیشہ۔۔۔ شش۔۔۔ شرفا کی زبان بولتا ہوں!”

“مجھے شرفا کی نہیں آدمیوں کی زبان چاہیے۔”

“یہ بات! میرے۔۔۔ فف۔۔۔ فہم و ادراک سے۔۔۔ بب۔۔۔ بالاتر ہے!”

“اچھا تم دفع ہو جاؤ اور شمشاد کو بھیج دو۔”

لفظ “دفع” پر ہدہد کا چہرہ بگڑ گیا۔ مگر وہ کچھ نہ بولا۔ چپ چاپ اٹھ کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد شمشاد داخل ہوا۔۔۔

“بیٹھ جاؤ!” عمران نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

شمشاد بیٹھ گیا! یہ بھی صورت سے احمق ہی معلوم ہوتا تھا!۔۔۔

“چلو! مجھے کل رات کی رپورٹ چاہئے!”

“کل رات!” شمشاد ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔ “انہوں نے بہت شور مچایا! اس طرح چیختے تھے کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی! اور حضور تقریبا چھ بجے نواب ساجد کی رنڈی آئی تھی!۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ نائکہ نہیں تھی!۔۔۔ اس کا قد پانچ فٹ سے زیادہ نہیں ہے۔۔۔ دھانی ساڑھی میں تھی! پیروں میں یونانی طرز کے سینڈل تھے۔۔۔ آنکھیں کافی بڑی۔۔۔ چہرہ بیضوی! کھڑا کھڑا ناک نقشہ!۔۔۔”

“اور اوندھی اوندھی تمہاری کھوپڑی!” عمران جھلا کر بولا۔ “یہ بتاؤ رات کوئی پھاٹک کے باہر بھی آیا یا نہیں!” “جی نہیں! رنڈی کی واپسی کے بعد کوئی بھی باہر نہیں نکلا!”

“پھر وہی رنڈی! گٹ آؤٹ!” عمران میز پر گھونسہ مار کر گرجا!

شمشاد چپ چاپ اٹھ کر چلا گیا!

عمران نے فون کا ریسیور اٹھایا۔

“ہیلو سوپر فیاض! میں عمران ہوں!”

“اوہ۔۔۔ عمران۔۔۔ آؤ میرے یار۔۔۔ ایک نیا لطیفہ! ان کم بختوں نے سچ مچ ہی ناک میں دم کر دیا ہے! سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں!”

“میں ابھی آیا!” عمران اٹھتا ہوا بولا۔!

فیاض اپنے کمرے میں تنہا تھا۔ لیکن انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ ابھی ابھی کوئی یہاں سے اٹھ کر گیا ہے!۔۔۔

“کیوں؟ کیا تمہارے آدمیوں نے کوئی خاص اطلاع نہیں دی؟” فیاض نے پوچھا۔

“دے رہا تھا کم بخت، لیکن میں نے بیچ ہی میں روک دیا!”

“یعنی؟”

“نواب ساجد کی رنڈی آئی تھی! قد پانچ فٹ لمبا۔ ناک نقشہ دھانی ساڑھی وغیرہ!”

“تم ان کم بختوں کی بھی مٹی پلید کر رہے ہو!”

“خیر ٹالو۔۔۔!” عمران سنجیدگی سے بولا۔ “تمہارا لطیفہ کیا ہے؟”

“ابھی وہ دونوں آئے تھے! انہوں نے ایک نئی کہانی سنائی! اور دونوں ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے تھے!۔۔۔ کسی قسم کی پراسرار آوازیں قریب قریب رات بھر حویلی کے کمپاؤنڈ میں سنی گئیں! ان کا کہنا ہے کہ وہ آوازیں آسمان سے آتی معلوم ہو رہی تھیں! ہزاروں آدمیوں کے بیک وقت چیخنے کی آوازیں!”

“ہاں! میرے آدمیوں نے اس کی اطلاع دی ہے!” عمران سرہلا کر بولا۔

“اب وہ دونوں ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہیں!۔۔۔ آخر وہ آوازیں کیسی ہوسکتی ہیں؟”

“پتہ نہیں یار! اس قسم کی آوازیں تو ہم پہلے بھی سن چکے ہیں! وہ خوفناک عمارت والا کیس تو تمہیں یاد ہوگا؟”

“اچھی طرح یاد ہے!” فیاض سر ہلا کر بولا “مگر وہ تو ایک آدمی ہی کا کارنامہ ثابت ہوا تھا!”

“اور تم اسے کسی آدمی کی حرکت نہیں سمھتے؟” عمران نے پوچھا!

“آوازیں آسمان سے آتی ہیں برخوردار!”

“تو پھر وہ دونوں ایک دوسرے کو الزام کس بات کا دیتے ہیں؟”

“ان کا خیال ہے کہ ان میں سے کوئی ایک اس کا ذمہ دار ہے!”

“اور تم ہو کہ اسے انسانی کارنامہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہو!”

“تم میرا مطلب نہیں سمجھے! آخر ان میں سے کس کی حرکت ہوسکتی ہے!”

“اب تم نے دوسری سمت چھلانگ لگائی! یار فیاض یہ محکمہ تہمارے لئے قطعی مناسب نہیں تھا!”

“بکواس مت کرو! آج کل تم بہت مغرور ہو گئے ہو!” فیاض نے تلخی سے کہا! “دیکھوں گا اس کیس میں!”

“ضرور دیکھنا!” عمران نے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔

)۱۳(​

نواب ساجد بوکھلا کر پھر برآمدے میں نکل آیا اس نے موجودہ الجھنوں سے نجات پانے کے لئے دو تین پیگ وہسکی کے پی لئے تھے اور اب اس کا دماغ چوتھے آسمان پر تھا۔ اس نے پائیں باغ میں پھیلے ہوئے اندھیرے میں نظریں گاڑ دیں!

“یہ تو یقینا واہمہ ہی تھا!” وہ آہستہ سے بڑبڑایا!

لیکن دوسرے ہی لمحے اسے ایک تیز قسم کی سرگوشی سنائی دی۔۔۔ دلاور علی۔۔ دلاور علی۔۔۔

بالکل ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے باہر پھیلی ہوئی تاریکی بول پڑی ہو! ایسی تیز قسم کی سرگوشی تھی کہ اسے دو ایک فرلانگ کی دوری سے بھی سنا جاسکتا تھا!

ساجد کا نشہ ہرن ہو گیا! سرگوشیاں آہستہ آہستہ پہلے سے بھی زیادہ تیز ہوتی جا رہی تھیں!

“دلاور علی۔۔۔ دلاور علی!”

اور پھر وہ سرگوشیاں ہلکی سی بھرائی ہوئی آواز میں تبدیل ہو گئیں!

“دلاور علی۔۔۔ دلاور علی۔۔۔!” آواز کسی ایسے آدمی کی محسوس ہو رہی تھی جو روتا رہا ہو! آواز بتدریج بڑھتے بڑھتے انتہا کو پہنچ گئی، یعنی دلاور علی کو پکارنے والا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔ رونے کی آواز برابر جاری رہی اور پھر اچانک ساجد نے فائروں کی آوازیں سنیں! پے در پے فائر۔۔۔!

رونے کی آواز بند ہوگئی۔

“ایک ایک کو چن چن کر ماروں گا!” نواب ہاشم باغ کے کسی تاریک گوشے میں چیخ رہا تھا۔ “مجھے کوئی خوفزدہ نہیں کرسکتا۔۔۔!”

دو فائر پھر ہوئے۔۔۔!

“دلاور علی!” پھر وہی پراسرار سرگوشی سنائی دی!

“دلاور علی کے بچے سامنے آؤ!” یہ نواب ہاشم کی چنگھاڑ تھی!

تین چار فائر پھر ہوئے۔!

اتنے میں کوئی باہر سے پھاٹک ہلانے لگا۔۔۔ فائر بھی بند ہوگئے اور وہ پراسرار سرگوشی بھی پھر سنائی نہیں دی!۔۔۔ پھاٹک بڑی شدت سے ہلایا جا رہا تھا!

“پھاٹک کھولو!۔۔۔ پولیس!” باہر سے آواز آئی!”یہاں کیا ہو رہا ہے؟”

)۱۴(​

کیپٹن فیاض کے آفس میں نواب ہاشم ہاشم اور نواب ساجد بیٹھے ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔ عمران ٹہل رہا تھا اور کیپٹن فیاض کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے کچھ سوچ رہا تھا! ساجد اور نواب ہاشم کے انداز سے ایسا ظاہر ہو رہا تھا جیسے کچھ دیر قبل دونوں میں جھڑپ ہوچکی ہو!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: