Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Last Episode 6

0
پرسرار چیخیں ​از ابن صفی -آخری قسط نمبر 6

–**–**–

“سوال تو یہ ہے نواب ہاشم صاحب!” عمران ٹہلتے ٹہلتے رک کر بولا!

“آخر آپ نے میونسپل حدود کے اندر فائر کیوں کئے؟”

“میں اپنے ہوش میں نہیں تھا!”

“کیا میں بیہوشی کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟”

“میرے خدا۔۔۔ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں عمران صاحب! اگر آپ میری جگہ پر ہوتے تو کیا کرتے؟”

“ڈر کے مارے کہیں دبک رہتا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔

“خیر میں اتنا بزدل نہیں ہوں!”

“لیکن آپ ہوا سے لڑ رہے تھے نواب صاحب!”

“ایک منٹ” دفعتا نواب ساجد ہاتھ اٹھا کر بولا! “کیا اپ نے اس بے ایمان کو نواب ہاشم تسلیم کرلیا ہے؟”

“چچ چچ۔۔۔ ساجد صاحب! اپنے چچا کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال نہ کیجئے!” عمران نے کہا!

“سازش! خدا کی قسم سازش!” نواب ساجد مضطربانہ انداز میں بڑبڑا کر رہ گیا!

“لیکن آج میں نے سازش کا خاتمہ کردینے کا تہیہ کر لیا ہے!” عمران مسکرا کر بولا! نواب ہاشم اور ساجد دونوں عمران کو گھورنے لگے۔

“ذرا ایک بار پھر اپنے فرار کا وقوعہ دہرائیے!” عمران نے ہاشم سے کہا۔

“کہاں تک دہراؤں۔” نواب ہاشم بیزاری سے بولا “خیر۔۔۔ کہاں سے شروع کروں؟”

“جہاں سے آپ کا دوست سجاد اس واقعہ میں شریک ہوتا ہے۔”

“ہاں سجاد!” نواب ہاشم نے دردناک آواز میں کہا اور ایک ٹھنڈی سانس لیکر رہ گیا۔

“میں آپ کے بیان کا منتظر ہوں۔” عمران نے اسے خاموش دیکھ کر ٹوکا۔۔۔!

نواب ہاشم کی پیشانی پر سلوٹیں ابھر آئیں! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ کوئی بھولی بسری بات یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو!

“ہاں ٹھیک ہے!” وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ “سجاد اسی شام کو آیا تھا!” پھر اس نے عمران کو مخاطب کرکے بلند آواز میں بولنا شروع کیا!”جس رات مجھے فرار ہونا تھا! اسی رات کو سجاد وارد ہوا۔ اسے واقعات کا علم نہیں تھا۔ میں نے اس پر اپنا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور پھر رات کو اسے سوتا چھوڑ کر چپ چاپ گھر سے نکل گیا!”

“لیکن اگر مقتول سجاد ہی تھا تو اس کے جسم پر آپ کا سلیپنگ سوٹ کس طرح ملا تھا۔” عمران نے پوچھا۔

“اوہو! عمران صاحب! سیدھی سی بات ہے! قاتل نے اپنی غلطی معلوم کرلینے کے بعد اسے نواب ہاشم بنا دیا!”

“لیکن آپ کے رقیب کو کیا پڑی تھی کہ غلطی معلوم ہو جانے پر وہ سجاد کو نواب ہاشم بنانے کی کوشش کرتا!”

“کچھ نہیں۔” نواب ہاشم جلدی سے بولا۔ “اس کے متعلق سوچنا ہی فضول ہے۔ آپ یہ دیکھئے کہ اسے میری لاش ثابت ہونے پر کسی قسم کا فائدہ تو نہیں پہنچتا!”

“اوہ! تو تم مجھے قاتل ثابت کرنا چاہتے ہو!” ساجد نے میز پر گھونسہ مار کر کہا!

“ٹھہریئے جناب! آپ دخل اندازی نہیں کریں گے!” عمران ساجد کو گھور کر بولا۔ ساجد ہونٹوں میں کچھ بڑبڑاتا ہوا خاموش ہوگیا۔

“ہاں نواب صاحب!” عمران نے نواب ہاشم سے کہا۔ “یہ سجاد کس قسم کا آدمی تھا کہاں رہتا تھا؟”

“ایک سیلانی او رشاعر قسم کا آدمی تھا! مستقل کوئی ٹھکانہ نہ رکھتا تھا۔۔۔ آج یہاں کل وہاں۔۔۔ آدمی پڑھا لکھا اور بذلہ سنج تھا۔ اس لئے روسا کے درمیان اس کی خاصی آؤ بھگت ہوتی تھی۔”

“اس کے پسماندگان کے متعلق بھی کچھ بتا سکیں گے؟”

“مشکل ہے کیونکہ اس نے کبھی اپنے کسی عزیز کا تذکرہ نہیں کیا۔”

“مگر جناب! کیا محض ساجد کی شناخت کی بنا پر وہ آپ کی لاش قرار دی گئی ہوگی؟”

“نوکروں نے بھی اسے شناخت کیا تھا۔” ساجد بول پڑا۔ “وہ نوکر جنہوں نے سالہا سال سے چچا مرحوم کے ساتھ رہ کر انہیں دیکھا تھا۔”

“کہاں ہیں وہ نوکر؟” نواب ہاشم گرجنے لگا!”کیا ان میں سے ایک کو بھی تم نے برقرار رکھا ہے؟”

پھر اس نے عمران سے کہا۔ “جب میرے بھتیجے نے ہی اسے میری لاش قرار دیا تو نوکروں کو کیا پڑی تھی کہ وہ اس کے خلاف کہہ کر خود کو پولیس کا تختہ مشق بناتے اور پھر اگر تم سچے تھے تو تم نے ان نوکروں کو کیوں الگ کردیا!ان میں سے کم از کم ایک یا دو کو تو اس وقت تک رہنا ہی چاہیے تھا! ایک ہی گھر میں نوکروں کی عمریں گذر جاتی ہیں؟”

“بات تو پکی ہے!”عمران سر ہلا کر بولا۔

“تو تم نہ صرف یہ کہ میری جائیداد ہتھیانا چاہتے ہو۔ بلکہ مجھے پھانسی بھی دلواؤ گے!” ساجد نے زہر خند کے ساتھ کہا۔

“کیا یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں ساجد صاحب؟” عمران نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا!۔

“آپ کی تو کوئی بات ہی میری سمجھ میں نہیں آتی۔ ساجد بولا۔ “کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ مجھے بچا رہے ہیں۔ کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھ میں اور پھانسی کے تختے میں زیادہ فاصلہ نہیں ہے!”

قبل اس کے کہ عمران جواب دیتا! نواب ہاشم بول پڑا!۔ “سنو ساجد! یہاں رشوت نہیں چل سکتی! یہاں سب بڑے لوگ ہیں! یہاں انصاف ہوتا ہے!”

“آپ غلط کہہ رہے ہیں نواب صاحب!” عمران نے سنجیدگی سے کہا!” یہاں اناف نہیں ہوتا! انصاف عدالت میں ہوتا ہے۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم کسی ایک کی گردن پھانسی کے لئے پیش کردیں اور اس کا فیصلہ میں ابھی کئے دیتا ہوں کہ کس کی گردن پھانسی کے لئے زیادہ مناسب رہے گی۔”

فیاض خاموش بیٹھا تھا۔ اس نے اس دوران ایک بار بھی بولنے کی کوشش نہیں کی تھی! ویسے اسے یقین تھا کہ فیصلہ کن لمحات جلد ہی آنے والے ہیں۔

عمران نے آگے بڑھ کر میز پر رکھی ہوئی گھنٹی بجائی اور دوسرے ہی لمحے اردلی چق ہٹا کر اندر داخل ہوا۔۔۔!

“اسے یہاں لاؤ! سمجھے” عمران نے اردلی سے کہا۔

“جی حضور!” اردلی نے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔

نہ جانے کیوں کمرے کی فضا پر قبرستان کی سی خاموشی مسلط ہوگئی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہاں کوئی جنازہ رکھا ہوا ہو۔

نواب ہاشم اور ساجد دونوں کے چہرے اترے ہوئے تھے! عمران سینے پر دونوں ہاتھ باندھے اس طرح کھڑا فرش کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے قالین پر بنی ہوئی تصویریں اس سلسلے میں اس کی کوئی مدد کرنے والی ہیں!

Read More:  Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 2

دفعتا برآمدے میں قدموں کی آہٹ ہوئی اور دوسرے ہی لمحہ میں دروازہ کھول کر دردانہ اندر داخل ہوئی۔ اردلی اس کے پیچھے چق اٹھائے کھڑا تھا۔

ساجد کا منہ حیرت سے کھلا اور پھر بند ہوگیا! لیکن نواب ہاشم کے رویے میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس نے لڑکی پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور پھر عمران کی طرف دیکھنے لگا۔

دردانہ دروازے ہی میں ٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔ اسکی نظر نواب ہاشم کے چہرے پر تھی اور آنکھیں پھیل گئی تھیں۔ اس پر بالکل سکتے کی سی کیفیت طاری تھی!

“ابا جان!” اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور اگر عمران آگے بڑھ کر اسے سنبھال نہ لیتا تو اس کا گرجانا یقینی تھا! اس پر غشی طاری ہو گئی تھی!

عمران نے اسے ایک کرسی پر ڈال دیا!

“میں اس کا مطلب نہیں سمجھا۔” نواب ہاشم عمران کو خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔

“اس نے مجھے ابا جان نہیں کہا تھا؟” عمران نے لاپروائی سے کہا!

“بہت خوب! میں سمجھ گیا، اب مجھے کسی نئے جال میں پھانسنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ساجد میں تم سے سمجھ لوں گا!” نواب ہاشم ساجد کو گھونسہ دکھا کر بولا۔

“خاموش رہو۔” فیاض بگڑ گیا!”تم میرے آفس میں کسی کو دھمکی نہیں دے سکتے۔”

“ہاں! اور آپ کی آنکھوں کے سامنے مجھے جال میں پھانسا جا رہا ہے! مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔۔۔ خیر مجھے پروا نہیں دیکھتا ہوں، مجھے کون پھانستا ہے! دنیا جانتی ہے کہ میں نے شادی نہیں کی تھی اور نہ دس سال میں کوئی لڑکی اس عمر کو پہنچ سکتی ہے!۔۔۔ ایک نہیں ہزار ایسی لڑکیاں لاؤ، جو مجھے ابا جان کہہ کر مخاطب کریں۔۔۔ ہونہہ!”

“مگر کپتان صاحب!” ساجد نے فیاض کو مخاطب کیا۔”ذرا دیکھئے دونوں میں کتنی مشابہت ہے؟”

سچ مچ فیاض کبھی بیہوش لڑکی کی طرف دیکھتا اور کبھی نواب ہاشم کو، دردانہ کو اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔

“او۔۔۔ساجد تجھ سے خدا سمجھے!” نواب ہاشم دانت پیس کر بولا۔

“تو کیا اس لڑکی کو ساجد نے پیدا کیا ہے؟” ساجد نے مسکرا کر کہا۔

“نواب ہاشم!” عمران بھاری بھرکم آواز میں بولا۔ “میں تصدیق کرتا ہوں کہ تم نواب ہاشم ہو اور تمہاری زندگی میں ساجد تمہاری جائیداد کے مالک نہیں ہوسکتے!”

“لڑکے تم مجھے پاگل بنا دو گے۔” نواب ہاشم بے ساختہ ہنس پڑا۔

“آپ شاید نشے میں ہیں؟” ساجد بھنا کر بولا۔

“نہیں ساجد صاحب! میں نشے میں نہیں ہوں! بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں! نواب ہاشم کے پھانسی پا جانے کے بعد ہی آپ ان کے حقیقی وارث ہوسکیں گے!”

“کپتان صاحب!” نواب ہاشم بگڑ کر کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ “یہ آپکا دفتر ہے یا بھنگڑ خانہ۔۔۔!”

“اگر یہ بات میں نے کہی ہوتی تو تم مجھے گولی مار دیتے!” عمران نے مسکرا کر فیاض سے کہا!

“آخر تم کرنا کیا چاہتے ہو؟” فیاض ہتھے سے اکھڑ گیا۔

“نواب صاحب! تشریف رکھیئے! ابھی تک میں مذاق کر رہا تھا یہ حقیقت ہے کہ آپ بہت ستم رسیدہ ہیں! لیکن اس کا کیا جائے نواب صاحب کہ حکیم معین الدین آپ کے حملے کے باوجود بھی ابھی تک زندہ ہے! اخبارات میں اس کی موت کی خبر میں نے ہی شائع کرائی تھی!”

“کیا بکواس ہے!” نواب ہاشم حلق پھاڑ کر چیخا! “میں جا رہا ہوں!”

“نہیں سرکار!” عرمان جیب سے ریوالور نکال کر اس کا رخ نواب ہاشم کی طرف کرتا ہوا بولا۔ “آپ جائیں گے نہیں بلکہ لیجائے جائیں گے تشریف رکھیئے! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پچھلی رات دلاور علی کا نام سن کر آپ پاگلوں کی طرح فائر کیوں کر رہے تھے؟”

“ہٹ جاؤ سامنے سے!” نواب ہاشم نے پاگلوں کی طرح کہا اور دروازے کی طرف جھپٹا! لیکن دوسرے ہی لمحے عمران کی لات چل گئی۔۔۔ نواب ہاشم منہ کے بل فرش پر گر پڑا اور عمران نے بڑی بیدردی سے اس کی پشت پر اپنا داہنا پیر رکھ دیا!۔

دردانہ جو ہوش میں آچکی تھی، چیختی ہوئی عمران کی طرف دوڑی!

“یہ آپ کیا کر رہے ہیں! میرا دل گواہی دیتا تھا کہ ابا جان زندہ ہیں!”

“یہ تمہارے ابا جان نہیں ہیں!” عمران نے کہا جو نواب ہاشم کو پیر کے نیچے دبائے رکھنے کے لئے پوری قوت صرف کر رہا تھا!

“ابا جان ہیں، انہوں نے صرف اپنی داڑھی صاف کردی ہے۔ خدا کے لئے ہٹ جایئے!”

“نہیں بھولی لڑکی! میں ابھی بتاتا ہوں۔”

نواب ہاشم نے پلٹ کر عمران کی ٹانگ پکڑ لی!۔۔۔ لیکن دوسرے ہی لمحے عمران کا گھنٹا اس کی گردن سے جا لگا۔۔۔ نواب ہاشم کے حلق سے آوازیں نکلنے لگیں۔

“فیاض! ہتھکڑیاں!” عمران بولا۔

فیاض میز سے اٹھا تو لیکن اس کے انداز میں ہچکچاہٹ تھی! اس نے اردلی کو ْآواز دی! اتنے میں نواب ہاشم عمران کی گرفت سے نکل گیا! عمران دوسری طرف لڑھک گیا۔ لیکن اس نے نواب ہاشم کی ٹانگ کسی طور بھی نہ چھوڑی!۔۔۔

اتنے میں نواب ہاشم کو اردلیوں نے قابو کرکے ہتھکڑیاں لگادیں!

“بھگتنا پڑے گا تم لوگوں کو!” نواب ہاشم کھڑا ہو کر ہانپتا ہوا بولا۔

“بیٹھ جاؤ!” عمران نے اسے ایک رسی میں دکھا دے دیا! پھر وہ لڑکی کی طرف متوجہ ہوا! جو قریب ہی کھڑی بری طرح کانپ رہی تھی۔!

“تمہارے باپ کا کیا نام تھا؟” عمران نے لڑکی سے پوچھا!۔

“دلاور علی!” لڑکی پھنسی ہوئی آواز میں بولی۔

“مگر یہ نواب ہاشم ہے!”

دردانہ کچھ نہ بولی! عمران نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا!

وہ اسی طرح کانپتی ہوئی بیٹھ گئی!

“نواب ہاشم!” عمران بولا “میں تم پر فریب دہی، قتل اور ایک شخص پر قاتلانہ حملے کے الزامات عائد کرتا ہوں۔”

“کرتے جاؤ! عدالت میں نپٹ لوں گا!” نواب ہاشم ڈھٹائی سے بولا۔

“تم اس لڑکی کے باپ دلاور علی کے قاتل ہو! جو تمہارا ہم شکل تھا۔۔۔ آج سے دس سال قبل تم نے اسے قتل کیا تھا! لوگوں نے اس کی لاش کو تمہاری لاش سمجھنے میں غلطی کی تھی اور یہ غلطی مشابہت کی بنا پر ہوئی تھی! تم چار سال کے لئے غائب ہو گئے چار سال بعد واپس آئے اور دلاور علی کے مکان میں مقیم ہو گئے، لڑکی مشابہت کی بنا پر دھوکہ کھا گئی۔”

Read More:  Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami - Episode 2

“الف لیلٰی کی داستان!” نواب ہاشم نے ایک ہذیانی سا قہقہہ لگایا۔۔!

“اچھا تو اب پوری داستان سنو!۔۔۔ دلاور علی تمہارے باپ کی ناجائز اولاد تھا اور تمہارا ہم شکل! اس کی ماں بچپن میں مر گئی تھی! تمہارے والد صاحب اسے بہت چاہتے تھے! لیکن تمہاری ماں کے برے برتاؤ سے بچانے کے لئے انہوں نے اسے شہر ہی سے ہٹا دیا!۔۔۔ وہ دلاور پور کے ایک بورڈنگ میں پرورش پاتا رہا!۔۔۔ وہیں پلا پڑھا اور تعلیم حاصل کی! وہ فطرتا بہت ہی نیک اور علم و فن کا دلدادہ تھا! برے ہو کر جب اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اس شہر کا کبھی رخ ہی نہیں کریگا! تمہارے باپ برابر اس کی مدد کرتے رہے۔ انہوں نے اسے کچھ خاندانی نوادرات بھی دئیے تھے! اور وہ سنگار دان ان میں سے ایک تھا! جس کی نقل تم نے تیار کرا کے موڈی کے گلے لگائی اور اس سے پچیس ہزار روپے اینٹھ لئے۔۔۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟۔ نواب ہاشم تم اسے غلط نہیں کہہ سکتے! میں نے تمہارے خلاف درجنوں شہادتیں مہیا کر رکھی ہیں!۔”

“بکے جاؤ!۔۔۔ ” نواب ہاشم برا سا منہ بنا کر بولا۔ “اس بکواس پر کون یقین کرے گا؟”

“ہاں تو فیاض صاحب!” عمران نے فیاض کو مخاطب کیا۔ “اب میں داستان کے اس حصے کی طرف آ رہا ہوں! جہاں نواب ہاشم اور دلاور علی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ یہ ٹکراؤ ایک عورت کی وجہ سے ہوا جو نواب ہاشم کی محبوبہ تھی اور یہ حقیقت ہے کہ پہلے اس کی ملاقات نواب ہاشم ہی سے ہوئی! پھر شاید وہ عورت کسی طرح دلاور پور پہنچ گئی! وہاں اس کی ملاقات دلاور علی سے ہوئی۔ جس کی صورت ہو بہو نواب ہاشم کی سی تھی! پہلے وہ اسے نواب ہاشم ہی سمجھی لہٰذا بہت بے تکلفی سے پیش آئی اور پھر کافی عرصے بعد اس کی غلط فہمی رفع ہوئی اور وہ بھی اس طرح کہ ایک موقع پر نواب ہاشم اور دلاور علی اکٹھا ہو گئے! دونوں ہم عمر تھے۔ نواب ہاشم کو دلاور علی کے متعلق علم تھا لیکن دونوں پہلی بار ملے تھے اور یہ ملاقات ہی بنائے فساد ثابت ہوئی وہ عورت دلاور علی کو بیحد پسند کرنے لگی تھی! اس کے عادات و اطوار شریفوں کے سے تھے اور ذہنی صلاحیتوں کے اعتبار سے وہ نواب ہاشم سے بہت اونچا تھا! عورت نے ایک فیصلہ کیا اور اسے عملی جامہ پہنایا! یعنی دلاور علی سے شادی کر لی!

نواب ہاشم کے سینے پرسانپ لوٹ گیا!۔۔۔ لیکن اس وقت وہ خاموش رہا۔ البتہ انتقام کی آگ اس کے سینے میں سلگتی رہی۔ ایک سال زندہ رہ کر عورت بھی چل بسی، لیکن وہ اپنی ایک نشانی چھوڑ گئی تھی!” عمران دردانہ کی طرف اشارہ کرکے خاموش ہوگیا! نواب ہاشم اس طرح مسکرا رہا تھا جیسے کوئی نادان بچہ اس کے سامنے بکواس کر رہا ہو!۔

“اب سے دس سال پہلے جب دردانہ دس برس کی ہو چکی تھی، نواب ہاشم نے ایک پلاٹ مرتب کیا! وہ ہرحال میں دلاور علی سے انتقام لینا چاہتا تھا اس نے سب سے پہلے اپنی ایک آشنا کو ایک تانگے والے کے ساتھ بھگا دیا! پھر دلاور علی کو قتل کرکے اپنی جگہ ڈالا اور خود روپوش ہوگیا۔ جنگ کا زمانہ تھا اسے فوج میں ملازمت مل گئی اور وہ سمندر پار بھیج دیا گیا! چار سال بعد اسکی واپسی ہوئی اور چونکہ وہ دلاور علی کا ہمشکل تھا اس لئے دلاور علی کا رول ادا کرنے میں اسے کوئی دشواری نہ آئی۔ لیکن کب تک ایک دن اسے عشرت کی زندگی کو خیر آباد کہہ کر اپنی حویلی میں واپس آنا ہی تھا! لیکن حویلی میں واپسی آسان نہ تھی۔ ساجد جائیداد پر قابض تھا اس کا قبضہ ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا۔ کافی رقم کی ضرورت پیش آتی۔ اس لئے نواب ہاشم نے اصلی سنگار دان کی نقل تیار کروائی اور دردانہ کو دلاور پور بھیج دیا! جب وہ وہاں سے واپس آئی تو نواب ہاشم اپنی حیثیت تبدیل کر چکا تھا اس نے لڑکی کو اس کے باپ کی موت کی اطلاع دی اور خود کو دلاور علی کا دوست ظاہر کیا! لڑکی دھوکے میں آگئی! پھر لڑکی ہی کے ذریعے موڈی کو پھانسا۔ اس نے پچیس ہزار میں نقلی سنگاردان خرید لیا۔۔۔ لڑکی رقم گھر لائی اور نواب ہاشم نے اسے اڑا لیا! اصلی سنگار دان اور وہ رقم آج بھی اس کے قبضے میں ہے!”

“ایک منٹ” فیاض ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “تمہیں ان سب باتوں کا علم کیسے ہوا؟”

“حکیم معین الدین سے جو دلاور پور کا باشندہ تھا اور اس لڑکی کا باپ اسکے گہرے دوستوں میں سے ہے! وہ دلاور علی اور اس کی زندگی کے حالات سے واقف ہے۔ میں جب دردانہ کی نشاندہی پر اس تک پہنچا تو وہ زخم کھائے ہوئے بیہوش پڑا تھا۔ اس پر کسی نے چاقو سے حملہ کیا تھا اور اپنی دانست میں مردہ تصور کرکے چھوڑ گیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زخم مہلک نہیں تھا! اس کی جان بچ گئی! لیکن میں نے احتیاطا اس کے قتل کی خبر دلاور پور کے اخبارات میں شائع کرادی تھی۔ اس سے یہ ساری حقیقت معلوم ہوئی۔۔۔!”

“میں کسی حکیم معین الدین کو نہیں جانتا۔”نواب ہاشم نے کہا! “یہ سب بکواس اور ساجد کی سازش ہے! روپے میں بڑی قوت ہوتی ہے! دنیا کے سارے آدمیوں کو پاگل نہیں بنایا جاسکتا۔ اتنی مشابہت تو ایک ماں کے پیٹ میں پیر پھیلانے والے بھائیوں میں بھی نہیں ہوتی کہ ایک بیٹی دوسرے کو اپنا باپ سمجھ لے۔۔۔ ساجد یہ اوچھے ہتھیار عدالت میں کام نہیں آئیں گے!”

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 32

“دلاور پور کے بورڈنگ سے جہاں دلاور علی نے پرورش پائی اس کی تصویریں دستیاب ہو سکتی ہیں!” عمران نے کہا۔۔۔

“وہ میری تصویریں ہوں گی!” نواب ہاشم نے کہا۔ ” جو بآسانی ساجد کے ہاتھ لگی ہوں گی اور اب انہیں اس سازش میں استعمال کر رہا ہے۔!.

“ٹھہرو! عمران!” فیاض نے کہا۔ “اگر دلاور علی کو قتل ہی کرنا مقصود تھا تو اتنا پیچیدہ راستہ کیوں اختیار کیا۔ اس سے فائدہ کیا ہوا اور اسے نہ اختیار کر کے کیا نقصان اٹھانا پڑتا؟”

“ذرا دیکھئے!” نواب ہاشم نے تمسخر آمیز لہجے میں کہا اور ہنسنے لگا!

“وہ قتل کیا جاتا!” عمران بولا۔ “اس کی تصاویر شائع ہوتیں اور شہر کے ایک بڑے آدمی سے اس کی مشابہت کی بنا پر پولیس یقینا چونکتی اور پھر جو کچھ بھی ہوتا ظاہر ہے۔”

“پھر وہی مشابہت!” نواب ہاشم برا سا منہ بنا کر بولا۔ ” آخر اس مشابہت پر کون یقین کرے گا؟۔۔۔ سازش ہے تو بہت گہری لیکن کامیاب نہیں ہوسکتی اور میں یہ جتا دینا چاہتا ہوں کہ اس فرضی دلاور علی کی جو بھی تصویر پیش کی جائے گی وہ میری ہوگی اور سو فیصدی میری ہوگی۔ ابھی اس لڑکی نے داڑھی کا حوالہ دیا تھا۔ لہٰذا میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایک زمانے میں میں نے یونہی داڑھی بھی رکھ لی تھی اور داڑھی میں اپنے کئی فوٹو بھی بنوائے تھے۔”

“تو تم مجھے شکست دینے پر تل گئے ہو! نواب ہاشم!” عمران مسکرا کر بولا۔ “میں تمہیں بتاؤں۔۔۔ اس دن دلاور علی کے مکان میں تم نے چھپ کر کاغذات کا ایک ڈھیر جلایا تھا! لیکن جس چیز کے لئے تم نے اس ڈھیر میں آگ لگائی تھی! وہ اس میں موجود نہیں تھی! تمہیں بھی یقین نہیں تھا کہ وہ چیز جل ہی گئی ہوگی! اس لئے تم اس کی تلاش میں اپنے چار آدمیوں کے ساتھ پیلے مکان میں گھسنے کی کوشش کرتے رہے ہو! لیکن وہ چیز تمہارے ہاتھ نہ لگ سکی! وہ میرے قبضے میں ہے!”

“کیا؟” نواب ہاشم مضطربانہ انداز میں بولا۔ پھر فورا ہی سنبھل کر ہنسنے لگا! ہنسنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ عمران کا مضحکہ اڑا رہا تھا۔

“تمہاری اطلاع کے لئے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ دلاور علی ایک بہت ہی مشاق قسم کا بلاک میکر تھا!” عمران نے کہا اور دفعتا نواب ہاشم کا چہرہ تاریک ہو گیا وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا!

“کیپٹن فیاض! عمران مسکرا کر بولا “یہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے!۔۔۔ دلاور علی نے وائسرائے کے ایک فرمان کا بلاک بنایا تھا جو جنگ کا پراپیگنڈہ کرنیوالے ایک سرکاری ماہنامے میں شائع کیا تھا۔۔۔ اور ساتھ ہی اس ماہنامہ کیلئے کام کرنیوالوں کے فوٹو بھی شائع ہوئے تھے۔ تمہیں اسی ماہنامے میں دلاور بلاک میکر کی تصویر بھی مل جائیگی! نواب ہاشم کو اس کی تلاش تھی! لیکن وہ میرے ہاتھ لگ گئی۔”

نواب ہاشم نے ہاتھ پیر ڈال دیئے! وہ خوفزدہ نظروں سے عمران کی طرف دیکھ رہا تھا اور ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اب جو کچھ کہنا چاہتا ہو اس کے لئے اسے الفاظ نہ مل رہے ہوں!

“اور نواب ہاشم!” عمران شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ بولا!”پچھلی رات تم نے دلاور علی کے نام پر اندھا دھند فائر کیوں کئے تھے؟”

“وہ آخر تھی کیا بلا؟” ساجد نے پوچھا۔

“وہ بلا عمران تھی” عمران نے سنجیدگی سے کہا!”میں نے تمہارے پائیں باغ میں درختوں پر مائیکرو فون کے چھوٹے چھوٹے ہارن فٹ کر رکھے تھے اور باغ کے باہر سے بھوتوں کا پروگرام نشر کر رہا تھا۔”

)۱۵(​

اس واقعہ کے تقریباً ایک ماہ بعد نواب ساجد اور دردانہ حویلی کے پائیں باغ کی ایک روش پر ٹہل رہے تھے۔

“میں پھر آپ سے کہتی ہوں کہ آپ نے مجھ سے شادی کرکے غلطی کی ہے” دردانہ بولی۔

“نہیں ڈیئر! میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایک عقل مندی کا کام کیا ہے!” ساجد نے مسکرا کر کہا!

“آپ ایک دن سوچیں گے! سوچنا ہی پڑے گا۔۔۔ کاش میری بیوی بھی نجیب الطرفین ہوتی!”

“میرے لئے یہی کافی ہے کہ تم ایک شریف اور ایماندار آدمی کی بیٹی ہو! میرے نجیب الطرفین چچا کا حال تو تم نے دیکھ ہی لیا! وہ مجھے بھی ناکردہ گناہ کی سزا میں پھانسی دلوانا چاہتا تھا۔ محض اپنی گردن بچانے کے لئے! تمہارے والد اس سے یقیناً بہتر تھے!”

“وہ تو ٹھیک ہے! لیکن نہ جانے کیوں میرا دل نواب صاحب کے لئے کڑھ رہا ہے۔”

“اوہو!” نواب ساجد نے قہقہہ لگایا۔ “تم بھی اپنے باپ ہی کی طرح سے بہت زیادہ نیک معلوم ہوتی ہو۔۔۔ مگر چچا صاحب پھانسی سے کسی طرح نہیں بچ سکتے! عمران نے انہیں چاروں طرف سے پھانس لیا ہے۔۔۔ بھئی غضب کا آدمی ہے یہ عمران بھی! ایسا الو بناتا ہے باتوں ہی باتوں میں کہ بس دیکھتے ہی رہ جائیے! آخیر وقت تک پتہ نہیں چلتا کہ نزلہ کس پر گے گا!۔۔۔ آہا۔۔۔ بیچارے موڈی کو تو ہم بھول ہی گئے۔۔۔ میں ایک بات سوچ رہا ہوں ڈیئر! اب تمہارے مشورے کی ضرورت ہے!”

“کہیئے! کیا بات ہے؟”

“موڈی کے روپے تو ہم واپس کر چکے ہیں! پھر کیوں نہ اصلی سنگار دان بھی اسے پریذنٹ کردیں! دیکھو اس کی شرافت! اگر وہ ذرا بھی سخت ہو جاتا تو تم جیل پہنچ جاتیں۔”

“آپ نے میرے دل کی بات کہہ دی! میں بھی یہی سوچ رہی تھی!”

“اچھا! تو کل ہم اسے مدعو کریں گے!”

“عمران صاحب کو بھی بلائیے گا!”

“نہیں۔۔۔ وہ تو اب مجھے پہچاننے سے ہی انکار کرتا ہے۔ کل کلب میں بڑی شرمندگی ہوئی۔ میں بہت لہک کر اس سے ملا۔ لیکن اس نے نہایت خشک لہجے میں کہا۔ معاف کیجئے گا! میں نے آپ کو پہچانا نہیں!”

دردانہ ہنسنے لگی

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: