Purisrar Jal Devi Novel by Armani – Episode 1

0
پراسرار جل دیوی از آرمانی – قسط نمبر 1

–**–**–

زارا ہاتھ میں کیمرہ تھامے اس گھنے جنگل میں بہت سارے خوبصورت نظاروں کو ریکارڈ کرنے میں مصروف تھی۔ آج اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی اس رات کے واقعہ کے بعد تو جیسے زارا کی ہنسی کہیں غائب ہی ہو گئی تھی, زارا اردگرد کے نظاروں کیمرے میں محفوظ کرنے میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے کیمرے میں کالا رنگ کا ایک پردہ نظر آیا۔ زارا اچانک ڈر کر سہم گئی اس نے پھر کیمرے کو غور سے دیکھا اور ادرگرد دیکھا مگر اسے کچھ بھی نظر نہی آیا۔ وہ پھر کیمرے میں دیکھنے لگ گئی اور پھر سے مصروف ہو گئی۔ ” زارا تم یہاں ہو جلدی آؤ ہمیں نا ایک صندوق ملا ہے جو کہ بہت پرانا لگ رہا ہے اور اس میں کچھ کاغذ کے نسخے ہیں اور بھی بہت کچھ ہے یہ سب ہمیں اس درخت کے نیچے ملا ہے دراصل ہمیں محسوس ہوا کہ درخت کے پاس جو مٹی ہے وہ ابھری ہوئی ہے اور اس میں کچھ دبا ہوا ہے۔ چلو اب آجاؤ اور دیکھو کیا ہے۔” مناہل نے پاس آکر زارا کو ہلاتے ہوئے کہا۔ ”دیکھو مناہل تمہیں پتہ ہے نا میں اب پرانی چیزوں سے دور رہتی ہوں خاص کر اس واقعہ کے بعد تو میں بہت احتیاط کرتی ہوں وہ تو آج رافیع نے ضد کی کہ آپی آؤ سینترا کے مندر والے جنگل چلتے ہیں ورنہ میرا کوئی بھی ارادہ نہیں تھا۔ ” زارا نے مناہل کو کہا اور پھر اپنے کیمرے کو دیکھنے لگ گئی۔ مناہل وہاں سے چلی گئی اور سیدھا اس جگہ آگئی جہاں درخت کے پاس اسے وہ صندوق ملا تھا۔ رافیع نے ہاتھ میں وہ صندوق اٹھایا ہوا تھا اور اس کو بہت غور سے دیکھے جا رہا تھا۔ صندوق پر بہت سے نشانات تھے اور بہت سے ڈیزائن بنے ہوئے تھے اور مراد ان تمام کاغذ کے ٹکروں کو میگنیفائی گلاس سے دیکھ رہا تھا۔ ” یہ کاغذ بہت نایاب معلوم ہوتے ہیں ان کے بارے میں زارا کو علم ہوگا کہ یہ کیا ہے اس کا کام جو یہی ہے اتنی پڑھائی کرنے کا کچھ تو فائدہ لینا چائیے نا” مراد نے رافیع سے کہا۔ ادھر زارا اپنے کیمرے میں مناظر کو محفوظ کر رہی تھی کہ اچانک کیمرے میں زارا کو ایک بھیانک اور خوفناک چہرہ نظر آیا۔ کالے رنگ کا چہرہ، جڑیاں بہت زیادہ تھی آنکھیں خون کی طرح لال تھی اور ساتھ کالے رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی یہ ایک عورت تھی اس کو دیکھتے ہی زارا کے ہاتھ کانپ گئے اس نے فورا کیمرہ دور کیا اور اردگرد دیکھنے لگ گئ مگر اس کو کچھ بھی نظر نہی آیا اس نے سوچھا اس کا وہم ہوگا۔ اس نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی پیا اور ایک جگہ پاس ہی ٹہنی تھی زارا اس پر بیٹھ گئی اور گہری سوچھوں میں وہ کھو گئی وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہی بھیانک عورت پھر اس کے سامنے آگئ۔ اس بار زارا نے زور دار چینخ ماری اور وہ بے ہوش ہو گئی۔ وقت گزر رہا تھا اور شام ہوگئ تھی اور زارا وہیں بے ہوش رہی۔ کافی ٹائم کے بعد زارا کو ہلکا ہلکا ہوش آرہا تھا وہ حرکت کرنے لگ گئی تھی اچانک زارا کو پورا ہوش آگیا وہ بھوکلاہٹ کے ساتھ اچانک کھڑی ہوگئ اور اس نے اپنے کپڑے جھاڑے اور وہاں سے آگے چلی گئ۔ ”رافیع، مناہل، مراد سب کہاں ہو” زارا زور زور سے پکار رہی تھی مگر اس کو کسی نے جواب نہیں دیا۔ زارا کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بھاگی چلی جا رہی تھی۔ جب وہ درخت کے پاس پہنچی تو سہم گئی کیونکہ اس درخت سے خون جاری تھا اس قدر خون نکل رہا تھا کہ جیسے ندی ہو خون کی۔ اس درخت کے درمیان ایک بھیانک چہرہ بھی بنا ہوا تھا۔ زارا نے ایک اور زور دار چینخ ماری اور وہ وہاں سے بھاگ گئی آنکھوں میں آنسو تھے رات ہونے والی تھی اور وہ سوچ رہی تھی کہ سارے کہاں چلے گئے ہیں یا ان کو کچھ ہو گیا ہے۔اور وہ خون کس کا تھا دل میں کئی سوالات اور خوف تھے۔ وہ بھاگی چلی جا رہی تھی کہ راستے میں پتھر سے ایک ٹھوکر لگی اور وہ منہ کے بل گر گئ۔ وہ ڈری ہوئی تھی کہ اس کو احساس ہوا کہ جیسے کوئی تیزی سے اس کے پیچے آرہا ہے اور جیسے جیسے اس کی آواز پاس آرہی تھی زارا کا دل اور کانپنے لگ گیا تھا۔ وہ ابھی سوچ رہی تھی کہ کسی نے اس کے کندھے کو پکر لیا۔
زارا کا اچانک سانس اٹک سا گیا تھا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے خود کو سمبھالا اور کھڑی ہوگئی زارا نے اپنے کپڑے جھاڑے اور اپنا بیگ ُاٹھایا اور ہمت کر کے وہاں سے نکل پڑی اس میں شاید اب ایک خاص ہمت سی آ گئی تھی اس نے خود کو سنبھالا اور چل پڑی۔ وہ چلی ہی جا رہی تھی کہ اچانک اس کو کسی کی آواز آئی اس نے غور سے سنا تو جیسے اس کو کوئی بلا رہا ہے۔ ”زارا زارا کہاں ہو تم چلو آ جاؤ یہاں” یہ آواز جانی پہچانی تھی ہاں یہ آواز رافیع کی تھی۔ یہ آواز سن کر زارا کی جان میں جان آ گئی وہ اس طرف بھاگی اور رافیع کو دیکھتے ہی زارا نے اس کو گلے سے لگا لیا اور خوب رونا شروع کردیا۔ ”ارے میری پیاری آپی کیا ہوگیا آپکو ہم کب سے آپ کو تلاش کر رہے تھے آپ کہاں پر تھی ہم کب سے آپ کی تلاش کر رہے تھے” رافیع نے زارا کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔ زارا لگاتار روتے جارہی تھی اور اچانک زارا کو ایک زور دار جھٹکا لگا اور وہ دور جا کر گر گئی اس کا سر ایک درخت پر جا کر لگا وہ شدید زخمی ہو گئی تھی۔ ” ہممممم آج تم مجھ سے نہیں بچ سکتی ہو کہا تھا نا کہ تم سب کو ماردوں گی۔ ہمممم تم کیا سمجھی تھی کہ تم کو آسانی سے میں چھوڑ دوں گی آج تم کو مجھ سے کوئی نہیں بچائے گا۔ ہمممم” اچانک وہی بھیانک عورت سامنے آگئی اس نے رافیع کا روپ لیا ہوا تھا۔ زارا کے سر سے لگاتار خون بہ رہا تھا اور زارا نے اپنے ہاتھ کو سر پر رکھ لیا۔ وہ بھیانک عورت اچانک زارا کے پاس آئی اور اس کو گردن سے اٹھا لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے دانت بہت بڑے اور نوکیلے ہو گئے جیسے وہ آج زارا کو کھا ہی جائے گی۔ زارا کا دم گھٹ رہا تھا اس کی حالت کافی بگڑ رہی تھی وہ اس عورت نما چڑیل سے اپنا گلہ بچا رہی تھی مگر اس کی ہر حرکت ناکام ثابت ہو رہی تھی بالآخر اس کی آنکھیں بند ہونا شروع ہو رہی تھی اور اس کی آنکھیں بند ہوگئ۔ رات کا وقت ہو چکا تھا یہ جنگل بہت سنسان تھا اور زارا کے ساتھ جو واقعہ دو سال پہلے پیش آیا تھا اس واقعہ نے اب تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ مگر قسمت کو آج کچھ اور ہی منظور تھا آج زارا کی قسمت مہربان تھی۔ اچانک سینترا کے مندر سے ایک سفید رنگ کی روشنی نمودار ہوگئی اور سیدھا اس بھیانک عورت کے اوپر پڑی اور اس چڑیل نے زوردار چینخ ماری اور زارا کو چھوڑ دیا زارا زمین پر گر پڑی۔ وہ بھیانک عورت اچانک وہاں سے غائب ہو گئی۔ اور زارا وہیں زمین پر بے ہوش رہی۔ پوری رات زارا اسی طرح بے ہوش رہی۔ وقت گزرتا رہا اب پتہ نہیں زارا کی قسمت میں کیا تھا آخر وہ عورت کون تھی وہ زارا کو نقصان کیوں پہنچانا چاہتی تھی اور اس کے ساتھی کہاں گئے اور وہ درخت سے خون بہنا یہ تمام پہیلیاں زارا کی زندگی کا اب حصہ تھی۔ صبح ہو گئی تھی۔ زارا کو آہستہ آہستہ ہوش آرہا تھا اس نے اپنے اوپر کچھ محسوس کیا زارا نے اوپر ایک چادر تھی زارا نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا وہاں پٹی بندھی ہوئی تھی۔ زارا نے خود کو سنمبھالا اور اٹھ گئی۔ وہ ایک جھونپڑی میں تھی ارد گرد بہت سارا سامان تھا جیسے یہاں کوئی رہائش کیے ہوئے ہے۔ وہ ایک نفیس سے بستر کے اوپر لیٹی ہوئی تھی۔ اچانک اس جھونپڑی میں ایک آدمی داخل ہوتا ہے اس نے سادہ سے کپڑے پہنے ہوتے ہیں سر پر رومال باندھا ہوتا ہے چہرے پر ہلکی ہلکی ڈارھی ہے۔ ”بیٹا آپ اب ٹھیک ہو” ہیلٹر نے زارا سے پوچھا۔ ” جی میں ٹھیک ہو مگر آپ کون ہیں اور میں یہاں کیا کر رہی ہوں” زارا نے ہیلٹر سے پوچھا۔ ” بیٹا آپ مجھے ندی کے کنارے ملی ہو آپ زخمی حالت میں تھی آپ بے ہوش تھی آج آپ کو چار دن کے بعد ہوش آیا ہے” ہیلٹر نے زارا سے کہا۔ ” کیا۔۔۔ میں چار دن تک بے ہوش رہی ہوں” زارا یہ کہتے ہی زور زور سے رونے لگ گئی۔ ” بیٹا آپ رو مت مجھے بتاؤ کہ ہوا کیا تھا اور آپ یہاں کیسے آپ کو علم ہے نا یہ جنگل کیسا ہے یہاں بندہ آ تو جاتا ہے مگر یہاں سے نکلنا آسان نہی ہے۔ یہ عجیب ہوگا سننے میں مگر یہاں سخت جادوئی حملے اور جنات کا بسیرا ہے۔ یہاں آپ کا ہونا ٹھیک نہیں ہے لیکن آپ فکر نا کرو آپ کو آپ کے گھر پہنچادوگا میں” ہیلٹر نے زارا سے کہا۔ ” مگر اب آگے کیا ہوگا میرے ساتھی مجھے نہیں مل رہے ہیں کہیں اور میرے پیچھے ایک چڑیل نما عورت پڑی ہوئی ہے۔ اور وہ ایک درخت ہے اس کے اندر سے خون بھی نکل رہا تھا آخر یہ سب میرے ساتھ کیا ہورہا ہے میں پاگل ہو جاؤں گی یا میں مر جاؤں گی۔ مجھے میرے ساتھیوں کی تلاش کرنی ہے ابھی۔ مجھے ابھی جانا ہوگا یہاں سے” زارا نے ہیلٹر سے کہا اور بستر سے اٹھ گئی۔ ” بیٹا ابھی آپ آرام کرو اور باہر نا نکلنا ابھی۔ میں آپ کی مدد کروں گا مگر ابھی وقت نہیں ہے آپ کو سمجھانے کے لئے۔ ابھی آپ آرام کرو میں آپ کے لئے کھانے کو کچھ لے کر آتا ہوں۔
ہیلٹر زارا کو کہہ کر جھونپڑی سے باہر چلا گیا اور زارا کو تھوڑی سی راحت محسوس ہوئی کہ اب وہ اکیلی نہیں تھی ہیلٹر ایک اچھا انسان معلوم ہو رہاتھا اور دل ہی دل میں زارا کو اطمینان تھا کہ وہ جلد اپنے تمام ساتھیوں سے مل سکے گی۔ زارا کو نیند بھی بہت آرہی تھی مگر وہ سہمی ہوئی تھی اس کو نیند نہیں آ رہی تھی اسے بار بار وہ واقعہ یاد آرہا تھا جس کو سوچ کر بھی اس کی روح کانپ جاتی تھی ہوا یہ تھا کہ آج سے ٹھیک دو سال پہلے زارا ایک خاص مقصد کے لئے ایک مندر میں گئی تھی اور وہاں بھی اسی طرح کے عجیب و غریب واقعات اس کے سامنے آئے تھے زارا ایک آرکیالوگسٹ تھی اسے پرانے سامان اور پرانی تحزیب پر ریسرچ کرنے کا بہت شوق تھا اور وہاں اس کی ملاقات ایک ایسے شاہکار سے ہوئی جس کا زارا کو تصور بھی نہیں تھا وہاں اس کی ملاقات جل دیوی سے ہوئی۔ جل دیوی ایک بہت ہی خوبصورت پری تھی وہ اتنی خوبصورت تھی کہ اس کو جو بھی دیکھے بس دیکھتا ہی رہے۔ زارا جل دیوی کو دیکھتی ہی رہ گئی۔ جل دیوی نے اس کو بتایا کہ وہ ایک وادی کی شہزادی ہے اور وہ وہ اپنی وادی سے اپنی جان پچا کر یہاں محفوظ ہے اس نے زارا سے کہا کہ تم مجھے کیسے دیکھ سکتی ہو مجھے تو آج تک کوئی انسان نہیں دیکھ سکا ہے یہاں تک صرف تم ہو جو آگئی ہو اور دیکھو مجھ سے باتیں بھی کر رہی ہو مگر ہاں تمہیں اب یہاں سے جانا ہوگا کیونکہ میرے پیچھے کئی بری طاقتیں پڑی ہوئی ہیں تم تو انسان ہو تم اپنی جان بھی خطرے میں ڈال لوگی اب تم یہاں سے جاؤ۔ زارا یہ سب کچھ سن رہی تھی اور جل دیوی کی آنکھوں سے آنسووں کو بھی دیکھ رہی تھی جو نکلتے ہی موتی بن رہے تھے۔ ” میں اگر آپ کے کچھ کام آ سکوں تو مجھے بہت خوشی ہوگی” زارا نے جل دیوی کو کہا۔ ” نہیں تم انسان ہو میرے کسی بھی کام نہیں آ سکتی ہو اب تم جاؤ یہاں سے ورنہ زرینہ تم کو دیکھ لے گی وہ ایک ُبری چریل ہے وہ مجھے کھانا چاہتی ہے مجھے جان سے مارنا چاہتی ہے میں تو اس سے بچ جاتی ہوں مگر تم اس سے بچ نہی سکو گی” جل دیوی نے زارا کو کہا اور غائب ہوگئی۔ زارا یہ سب بستر پر لیٹی ہوئی سوچ رہی تھی اور پریشان تھی اور ساتھ ہی سہمی ہوئی تھی۔ زارا کو کسی کی جھونپڑی تک آنے کی آواز آرہی تھی وہ اور ڈر گئی۔ زارا سہمی سہمی جھونپڑی کی طرف دیکھ رہی تھی اور ایک لڑکی جھونپڑی کے اندد داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں کھانا تھا وہ زارا کے لئے کھانا لے کر آئی تھی۔ ” آپ یہ کھانا کھا لیں انکل ہیلٹر نے بتایا کہ آپ ان کو زخمی حالت میں ندی کے پاس ملی تھی اب آپ کی طبیعت کیسی ہے” راسیمہ نے زارا کو کہا اور کھانا زارا کے سامنے رکھ دیا۔ ” جی میں پہلے سے اچھی ہوں کیا آپ سب اس جگہ رہتے ہو” زارا نے راسیمہ سے پوچھا۔ ” جی ہم سب یہاں کئی سالوں سے رہ رہے ہیں دراصل ہم مددگار ہیں یعنی یہاں پر جو مشکل میں ہو ہم ان سب کی مدد کرتے ہیں یہ ہمارے آباؤاجداد کا کام تھا جو آج تک ہم کئی صدیوں سے کر رہے ہیں۔ ہیلٹر ہم سب میں سے سب سے زیادہ طاقتور اور ہوشیار ہیں وہ جادوئی طاقتوں اور بُری قوتوں سے لڑتے رہتے ہیں تو ان کے ہوتے آپ پریشان نا ہوں جلد ہی آپ اپنے گھر ہونگی” راسیمہ نے زارا سے کہا۔ زارا نے لمبی آہ بڑی اور وہ کھانا کھانے لگ گئی زارا کو ویسے بھی بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی تو اس نے کھانا کھانا شروع کردیا۔ راسیمہ تھوڑا سا مسکرائی اور پاس ہی بیٹھ گئی اور زارا کو دیکھے جا رہی تھی۔ زارا پیٹ بھر کر کھانا کھانے میں مصروف تھی اور ہیلٹر رات کے اس پہر جنگل میں چلتا جا رہا تھا۔ ہیلٹر بہت احتیاط اور دھیان سے چلے جا رہا تھا اچانک ہیلٹر کو دھاڑنے کی آواز سنائی دی یہ ایک شیر کی آواز تھی اور ہیلٹر کو لگاتار دھاڑنے کی آواز آرہی تھی ہیلٹر نے میان سے اپنی تلوار نکال لی اور وہ بہت دھیان سے تلوار اٹھائے شیر کے آنے کا انتظار کر رہاتھا۔ شیر اچانک ہیلٹر کے سامنے آگیا مگر یہ کوئی معمولی شیر نہیں لگ رہا تھا اس کا قد بہت بڑا تھا اور اس نے جسم پر بال بھی بہت زیادہ تھے اور اس کے پنجے اور ناخن بھی بہت زیادہ تھے اور اس کے تیز اور نوکیلے دانت دیکھ کر ایک عجیب سا خوف محسوس ہو رہا تھا۔ ” اچھا تو تم ہو راکوس” ہیلٹر نے شیر کو کہا۔ ” ہاں میں ہی ہوں آج تم کو مارڈالوں گا میں۔ آج تم مجھ سے نہیں بچ سکتے ہو” راکوس نے ہیلٹر کو کہا اور اس پر چلانگ لگا دی۔ ہیلٹر نے تھورا سا پیچھے ہٹ کر خود کو بچایا اور تلوار سے ایک زبردست وار کر دیا۔ اس وار سے راکوس زخمی ہوگیا۔ اور وہ انسانی روپ میں آ گیا۔ انسانی روپ میں آتے ہی اس نے اپنے ہاتھ گمائے اور وہ غائب ہو گیا۔ ” راکوس آج پھر مجھ سے بچ گیا” ہیلٹر نے میان میں تلوار کرتے ہوئے کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: