Purisrar Jal Devi Novel by Armani – Episode 2

0
پراسرار جل دیوی از آرمانی – قسط نمبر 2

–**–**–

ہیلٹر میان میں تلوار ڈالنے کے بعد آگے کی طرف چلتا جا رہاتھا، ہیلٹر ایک بہادر آدمی تھا اور وہ کئی طرح کی مشکلوں کا سامنا کر چکا تھا اس جنگل کے کئی خوفناک راز ہیں جن کی تلاش ہیلٹر کرتا رہتا تھا اور آج وہ زارا کے بارے میں سوچ رہاتھا کہ کتنی پیاری بچی پتا نہیں کس مشکل میں پھنس چکی ہے۔ ادھر رات کا پہر تھا اور دور سے کسی گھوڑے کی آنے کی آواز آرہی تھی، گھوڑے کی تاپ کی آواز بہت قریب سے آنے لگ گئی تھی، گھوڑا سیدھا اس طرف ج ریا تھا جہاں ہیلٹر تھا۔ گھوڑا سیدھا ہیلٹر کی طرف آرہا تھا ہیلٹر گھوڑے کو دیکھ کر چوکنا ہوگیا اس نے اپنے کندھے کے ساتھ لگی ہوئی بندوق ہاتھ میں پکڑ لی۔ وہ گھوڑا ہیلٹر کے پاس آکر رک گیا گھوڑے کے اوپر کوئی سوار تھا جس نے نقاب لیا ہوا تھا۔ ”کون ہو تم اپنی پہچان کرواؤ ورنہ مارے جاؤ گے” ہیلٹر نے اس سوار کو کہا۔ ” ہیلٹر چچا میں ہوں آرحام کیا آپ مجھے مار ڈالے گے، چچا میں تو ابھی مرنے کے ارادے نہیں رکھتا ہوں” آرحام نے ہیلٹر کو گھوڑے سے اترتے ہوئے کہا۔ ” ہاہا بیٹا کبھی نا تم میرے ہاتھوں سے مارے جاؤ گے۔ ہیلٹر نے آرحام کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ ”اچھا چچا وہ لڑکی ملی کیا جس نے بارے میں بابا فردوس نے بتایا تھا” آرحام نے ہیلٹر سے پوچھا۔ ” ہاں بیٹا ایک لڑکی تو مجھے ندی کے پاس ملی ہے مگر پتہ نہیں یہ وہ ہے بھی یا نہیں؟” ہیلٹر نے سر جکاتے ہوئے آرحام سے کہا۔ ” چچا کب ہم سب ان تمام مشکلوں سے آزاد ہونگے کب تک یوں ہی بچ بچ کر سہم سہم کر رہنا ہوگا ہمیں؟ ” آرحام نے مایوسی کی سی کیفیت میں ہیلٹر سے کہا۔ ” اچھا میری بات سنو اس لڑکی کے ساتھی غائب ہیں تمہیں ان کی کوئی خبر ملی ہے” ہیلٹر نے آرحام سے پوچھا۔ ” ہاں مجھے راکوز نے بتایا تھا کہ جنگل سے کچھ لوگوں کو ٹاگوڑ نے اپنے قلعے میں قید کر دیا ہے اب تو یہ بھی خبر نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں کیونکہ وہ تو درندہ قوم ہے وہ کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑتی ہے میں جل دیوی کی بیٹی کی تلاش ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے” آرحام نے ہیلٹر سے کہا۔ ” ہاں تم صحیح کہتے ہو آرحام ہمیں جل دیوی کی بیٹی مل جائے تو ہم آگے اپنے لوگوں کو اور سب کو اس ٹاگوڑ کی قید سے نکال سکتے ہیں۔ چلو آؤ میرے ساتھ رات بہت ہوگئی ہے اب کچھ آرام کر لیا جائے” ہیلٹر نے آرحام سے کہا اور دونوں وہاں سے چلے گئے۔ ایک خوبصورت وادی میں پھول ہی پھول ہیں اور وہاں زارا چلی جارہی تھی سفید اور تیز روشنی ہر طرف تھی۔ ”بیٹا میرے پاس آؤ۔ کہاں جا رہی ہو ڈرو مت میرے پاس آؤ” ایک جوبصورت عورت زارا کو اپنے پاس بلا رہی تھی۔ زارا اس کے پاس چلی جارہی تھی اچانک زارا کو جاگ آگئی۔ زارا کے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا وہ اس خواب سے کافی ڈر گئی تھی۔ زارا بستر سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے تمام ساتھیوں کو یاد کرنے لگ گئی اور اسکی آنکھوں میں نمی آگئی۔ ”کاش ہم یہاں آئے ہی نا ہوِتے” زارا نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ زارا نے اٹھ کر اپن بیگ تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اس کو کوئی بھی بیگ نہیں ملا اس نے جب اردگرد کے سامان کو دیکھا تو وہ بہت پرانا سامان تھا جیسے ہزاروں سال پہلے ہوتا تھا اس نے حیرانگی کے ساتھ کھانے کے برتن بھی دیکھے وہ بھی آج کے وقت کے برتن نہیں تھے اردگرد کی لکڑی دیکھی ہر ایک چیز کو غور سے دیکھا اور حیرانگی کے ساتھ بےسد ہوکر نیچھے زمین پر بیٹھ گئی۔ ” اے میرے خدایا یہ ممکن نہیں ہوسکتا ہے کہ میں کئی ہزار سال پہلے کے وقت میں آ گئی ہوں یہ سارا سامان تو 4000 سال پرانا ہے اور لگ بلکل نیا لگ رہا ہے” زارا نے اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ زارا ایک آرکیالوجسٹ تھی اس کو ان تمام سامان کی پہچان تھی۔ اسے اب کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہاتھا کہ آخر اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔
زارا بہت پریشان تھی کہ وہ اپنے گھر کیسے جا پائے گی۔ زارا مایوسی کی حالت میں اپنا منہ بازو میں ُچھپا لیا۔ ہیلٹر اور آرحام اپنے خیمے میں آرام کر رہے تھے۔ رات کا تاریکی تھی اور ادرگرد ایک عجیب سی فضاتھی۔ اس گھنے جنگل میں آخر کی کیا چھپا ہوا تھا اور زارا 4000 سال پہلے کے وقت میں یہاں کیسے آگئی تھی۔ ان تمام سوالوں کے جوابات جاننے کے لئے زارا لگی ہوئی تھی۔ جہاں سب سو رہے تھے وہاں کوئی تھا جو اب تک سویا نہیں تھا یہ فاران تھا جوکہ ایک بوڑھا آدمی تھا اور آگ کا پجاری تھا آج بھی وہ آگ جلا کر عمل کر رہا تھا اس نے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھی اور وہ اپنا عمل کرنے میں لگا ہوا تھا کہ اچانک آگ میں سے ایک بھیانک سا چہرہ نمودار ہوا۔ ”فاران تم جانتے ہونا کہ آگے کیا کرنا ہے مجھے وہ لڑکی لازمی چاہییے اگر تم اپنے مقصد میں جلدی کامیاب نا ہوئے تو میں تمہاری جان لے لوں گا” ٹاگوڑ نے غصے سے فاران کو کہا اور اس کا چہرہ آگ سے غائب ہوگیا۔ فاران پھر سے آگ کو دیکھ کر عمل کرنے میں مصروف ہوگیا۔ عمل کرتے کرتے آگ میں سے ایک خوفناک قسم کا دیو نکل آیا۔ ” کیا حکم ہے میرے مالک؟” دیو نے فاران سے پوچھا۔ ”مجھے وہ لڑکی چاہییے آج ہی جاؤ اور اس کو میرے پاس لے کر آؤ مجھے اپنے آقا کو بھی خوش کرنا ہے” فاران نے اس دیو کو کہا اور دیو وہاں سے آگ بن کر اڑ گیا۔ ہیلٹر سو رہا تھا اور وہ اچانک اٹھ گیا اس نے تلوار کو اپنی میان سے نکال لیا اور وہ اپنے خیمے سے باہر آگیا۔ ”آج کچھ ہونے والا ہے، مجھے محسوس ہورہا ہے کہ آج کچھ بہت بُرا ہونے والا ہے” ہیلٹر نے اپنی تلوار اپنے ہاتھ میں اُٹھاتے ہوئے کہا۔ وہ آگ نما دیو ہوا میں اُڑتا چلا جا رہاتھا اور وہ سیدھا زارا کے خیمے میں چلا گیا زارا بستر میں سو رہی تھی دیو زارا کے پاس کھڑا ہوگیا۔ دیو بہت ہی بھیانک تھا اور اس کی آنکھیں بھی بہت بڑی بڑی اور ڈراؤنی تھی اس نے اپنے ہاتھ زارا کی طرف کئے اچانک اس کے ہاتھوں میں تیر لگ گیا۔ تیر لگتے ہی اس دیو نے زور دار چینخ ماردی آرحام نے اس دیو پر تیر چلایا تھا۔ اس دیو کی آواز سن کر زارا ڈر کے مارے اچانک اٹھ گئی تھی۔ دیو بہت غصے میں آگیا تھا اس نے اپنے منہ سے آگ نکالی اور اس کو آرحام کی طرف کردی۔ آرحام نے آگ سے خود سے بچایا اور میان سے تلوار نکال لی اور تلوار سے اس دیو پر وار کرنا شروع کیا مگر وہ دیو بہت زیادہ طاقتور تھا اور آرحام اس دیو کے سامنے کمزور تھا وہ بہت کوشش کر رہاتھا کہ وہ اس دیو کو قابو کرسکے مگر اس کی ہر ایک چال ناکام ہورہی تھی۔ دیو نے آرحام کی گردن کو اچانک ہی دپوچ لیا اور آرحام کو ہوا میں اٹھا لیا۔اس دیو کے جلتے ہوئے ہاتھوں سے آرحام کا گلہ بھی جل رہاتھا۔ آرحام کی سانسیں پھولنے لگ گئی تھی اور اچانک ایک تلوار سیدھا اس دیو کے ہاتھوں پر پڑی اور اس دیو کا ہاتھ کٹ کر اس سے الگ ہوگیا اور آرحام زمین پر گرگیا۔ سامنے ہیلٹر کھڑا تھا جس نے اپنی تلوار سے اس دیو پر حملہ کیاتھا۔ ہیلٹر کو دیکھ کر وہ دیو وہاں سے غائب ہوگیا۔ زارا یہ سب معملات دیکھتے ہی بے ہوش ہوگئی تھی۔ ہیلٹر نے آرحام کو سہارا دیتے ہوئے اُٹھایا۔ ” آج تو حد ہی ہوگئی ہے اب حملے ہونے لگ گئے ہیں بہت دیر تک ان کو ہم روک نہیں سکتے ہیں۔ کچھ تو ایسا کرنا ہوگا جس کے کہ۔ہم سب محفوظ رہ سکے اور اس لڑکی کے بارے میں بھی ہم کچھ نہیں جانتے ہیں پتا نہیں یہ کون ہے کہاں سے آئی ہے بظاہر تو یہ عجیب سی لگتی ہے اس کے کپڑے ہم سے الگ ہے اور پتا نہیں اس کے پاس کیا کیا ہے” ہیلٹر نے آرحام سے کہا۔
ہیلٹر زارا کو غور سے دیکھ رہاتھا اس کے زہن میں کئ طرح کے خیالات آ رہے تھے کہ یہ وہی لڑکی ہے یا ان سب لوگوں کا اس کے حوالے سے ایک وہم ہے، وہ بہت ہی بہادر انسان تھا مگر آج وہ کافی پریشان لگ رہا تھا کہ آخر یہ سارا معاملہ اور ماجرہ کیا ہے۔ ”جاؤ راحیمہ کو بُلا کر لاؤ وہ اس لڑکی کو ہوش میں لے کر آئے اور آج تو ہم بچ گئے مگر ٹاگوڑ کے وار اب رکنے والے نہیں ہیں ہمیں جلد ہی کوئی اور منصوبہ سوچھنا پڑے گا” ہیلٹر نے آرحام سے کہا اور خیمے سے باہر آگیا ہلکی ہلکی صبح کی روشنی نمودار ہورہی تھی صبح کے وقت ویسے بھی ان تمام بُری طاقتوں کی طاقت اس وقت کافی کمزور ہوجاتی ہے۔ ہیلٹر نے ایک سیٹھی ماری اور اس کا گھوڑا بھاگتا ہوا اس کے پاس آگیا۔ ہیلٹر اس گھوڑے پر بیٹھ گیا اس نے اپنا ہیٹ سر پر پہنا اور گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ ” یہ دیکھو آپ کی دوست تو بہت نازک معلوم ہوتی ہے ڈر کر بےہوش ہوگئی ہے اب آپ ہی اس کو ہوش میں لے کر آؤگی” آرحام نے راحیمہ کو خیمے کے اندد آتے لاتے ہوئے کہا۔ راحیمہ زارا کو اٹھانے لگ گئی مگر وہ بہت بری طرح سے بے ہوش ہوگئی تھی راحیمہ نے اس پر پانی کے چھینٹے پھینکی اور یوں زارا کو ہوش آگیا۔ زارا نے اٹھتے ہی اپنا سر پکڑ لیا تھا اسے سر میں کافی درد ہو رہی تھی۔ ” بہن تم ٹھیک ہو اور تم پریشان نا ہو جب تک ہییلٹر ہے نا تم نے فکر نہیں کرنی ہے، آگے سب اچھا ہوجائے گا” راحیمہ نے زارا کو ہمت دیتے ہوئے کہا۔ اچانک زارا کی کیفیت بدلنا شروع ہوگئی اس کے منہ سے عجیب سی آوازیں آنا لگ گئی تھی اس کی آنکھیں ایک دام لال ہونا شروع ہوگئی اس کے چہرے اور باقی جسم کا رنگ بھی تبدیل یو گیا۔ راحیمہ یہ سب دیکھ کر بہت زیادہ ڈر گئی اس نے آج تک ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔ زارا کا قد بھی لمبا ہوگیا تھا یہ جیسے کوئی دیو لگ رہی تھی زارا نے اچانک خود کو دیکھا اور اس نے خود پر قابو پالیا اور وہ اپنی اصل حالت میں آگئی۔ ”آپ ڈرو نہیں میرے ساتھ ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے اور یہ دو سال سے ایسا میرے ساتھ ہورہا ہے جب سے میں اس پری سے ملی ہوں اس کے بعد ایسا ہے میں آپ کو یہ کسی کوبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ہوں مگر مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ایسا میرے ساتھ ہوتا کیوں ہے؟” زارا نے راحیمہ سے کہا۔ ” یہ تم ابھی کیا بن گئی تھی میں نے آج تک آپ جیسا طاقتور دیو نما لڑکی نہیں دیکھی ہے” راحیمہ نے حیرانگی سے زارا کو کہا۔ ” میں کوئی دیو نہیں ہوں بس آپ کو کہا نا یہ میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے اس کا مجھے زرا سا بھی اندازہ نہیں ہے” زارا نے راحیمہ سے کہا۔ ”اچھا آپ اب آرام کریں آپ کے مسئلے کا حل بھی جلد ہی نکل جائے گا” راحیمہ نے زارا سے کہا اور وہ خیمے سے باہر چلی گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: