Purisrar Jal Devi Novel by Armani – Episode 3

0
پراسرار جل دیوی از آرمانی – قسط نمبر 3

–**–**–

راحیمہ خیمے سے باہر نکل کر سیدھا جنگل کی طرف چلی گئی راحیمہ اردگرد بہت دھیان سے اور احتیاط سے دیکھ رہی تھی۔ جیسے وہ کسی سے کچھ چھپا رہی ہو اور اسے ڈر تھا کہ اسے کوئی یہاں دیکھ نا لے۔ وہ اپنے آپ کو بچاتے بچاتے ایک جگہ پر چلی گئی یہ ایک غار تھی جس میں بہت زیادہ اندھیرا تھا راحیمہ اس غار میں داخل ہوگئی اور اس نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا اور غار میں روشنی ہوگئی۔ راحیمہ سیدھا چلی جا رہی تھی اور جاتے جاتے سامنے غار ختم ہوگئی وہ غار سے باہر نکل آئی۔غار سے باہر نکل کر ایک الگ ہی دنیا نظر آ رہی تھی یہ ایک پراسرار جگہ لگ رہی تھی یہاں لال رنگ کی روشنی نمودار تھی اور اردگرد کئی طرح کے خوفناک سپاہی نظر آرہے تھے جوکہ حیوان تھے وہ انسانوں کے عجیب روپ میں حیوان تھے۔ یہ ٹاگوڑ کا علاقہ تھا اور یہ سارے اسی کے سپاہی تھے۔ راحیمہ آخر اس جگہ کیسے آگئی اور راحیمہ تو ہیلٹر کی بتیجھی تھی تو پھر اس کو ٹاگوڑ کے علاقے کا کیسے علم تھا یہ بھی کسی راز سے کم نہیں تھا۔ راحیمہ کو دیکھ کر سپاہیوں نے اسے اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ راحیمہ سپاہیوں کو غور سے دیکھ کر اس علاقے میں داخل ہوگئی اور وہ اردگرد غور غور سے دیکھ رہی تھی۔ یہ بہت عجیب بات تھی کہ ان سپاہیوں نے راحیمہ کو آسانی سے اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ راحیمہ سیدھا چلی جارہی تھی۔ ٹاگوڑ کے سپاہیوں نے بہت سارے انسانوں کو زنجیروں میں جھکڑا ہوتا تھا اور وہ ان غلاموں کو چمڑے کے ہنٹر سے مار بھی رہےتھے۔ راحیمہ بس سیدھا ہی چلی جارہی تھی اور چلتے چلتے وہ ایک بہت ہی بڑے قلعے میں داخل ہوگئی۔ وہ چلتے چلتے سیدھا ٹاگوڑ کے تخت کے پاس چلی گئی۔ ”ٹاگوڑ مجھے وہ لڑکی مل گئی ہے وہ ہیلٹر کے پاس ہے میں ابھی ہی اس کو دیکھ کر آرہی ہوں وہ بہت زیادہ طاقتور ہے میں نے اس کا دیو کا روپ دیکھا ہے جاؤ اور آج ہی اس کا کام تمام کردو،میں نہیں چاہتی کہ یہ لڑکی کسی بھی قسم کی میرے لئے رکاوٹ بنے میں اپنے مقصد کے آرے کسی کو بھی نہیں آنے دوں گی تم سمجھ رہے ہونا آج ہی اس کا کام تمام کردو میں آریہ کی اولاد سے نہیں ڈرتی ہوں اور نا چاہتی ہوں کہ وہ میرے راستے میں حائل ہو” راحیمہ نے ٹاگوڑ سے کہا۔ ” ہاں ملکہ حُسن آپ فکر نا کریں آج ہی اس لڑکی کو مارڈالوں گا میں وہ آج میرے وار سے نہیں بچ سکتی ہے آج ہیلٹر کا بھی ساتھ ہی میں کام تمام کروادوں گا اس سے بھی مجھے بہت بدلے لینے ہیں” ٹاگوڑ نے راحیمہ سے کہا اور وہ اپنے تخت سے غصہ میں اٹھ گیا۔ راحیمہ نے اپنا چہرہ چُھپایا اور اس قلعے سے باہر آگئی اور سیدھا جنگل کی طرف چلی گئی اور اردگرد خود کو بچاتے بچاتے نظروں سے اوجل ہو کر اپنے خیمے کے اندر چلی گئی۔
زارا اپنے بستر پر سو رہی تھی کہ اچانک ہی ایک ہلکی سی روشنی اس کے خیمے میں داخل ہوئی اور اس کے اردگرد گھومنے لگ گئی جیسے اس کی حفاظت کررہی ہو وہ روشنی اچانک ایک آدمی کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ ” میری پیاری بیٹی تم جانتی ہونا کہ ہم تم سے کتنا پیار کرتے ہیں تم وادی جبرت کی ایک دن ملکہ بنو گی۔ وادی جبرت تمہارا انتظار کر رہاہے وہاں تمہاری ماں اور تمہارے بھائی بہن کو قیدی بناکر رکھا ہوا ہے میری بیٹی خود کو پہچانو کہ تم کون ہو اور بدلہ لو میری موت کا۔ میری پیاری بیٹی ہم سب کو تمہارا انتظار ہے” بادشاہ الویز زارا کے سر پر پیار کرتے ہوئے غائب ہوگیا۔ ”بابا” زارا اونچی آواز میں بولتی ہوئی نیند سے بیدار ہوگئی۔ ”یہ کیسا خواب دیکھا ہے میں نے، مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی ہی میرے پاس کوئی موجود تھا آخر یہ مجھے ہو کیا رہا ہے میں تو پاگل ہورہی ہوں پتہ نہیں میں کون ہوں؟ میں کہاں کی رہنے والی ہوں؟ آخر میں کیا ہوں مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں ہے” زارا نے جود سے کہا اور اپنے خیمے سے باہر آگئی رات ہوچکی تھی آسمان پر تارے ایک دلکش نظارہ بیان کر رہے تھے اور اچانک اس کی نظر ارحام پر پڑتی ہے جو کہ اپنی تلوار بازی کے جوہر دکھا رہا تھا وہ رات کے اس پہر اکیلا ہی تلوار بازی کر رہا تھا زارا لگاتار اس کو بغیر پلک جھپکائے دیکھ رہی تھی زارا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جیسے وہ آرحام کو پہلی نظر میں ہی دل دے بیٹھی ہو آرحام کو آج زارا نے بہت غور سے آج ہی دیکھا تھا اسے آرحام دل ہی دل میں بھاہ گیا تھا۔ آرحام اپنی تلوار بازی کی پریکٹس کرنے میں مصروف تھا اور زارا اس کی طرف جیسے کھچی چلی جارہی ہو وہ چلتے چلتے آرحام کے پاس جارہی تھی آج تاروں کی روشنی بھی عجیب تھی آج اندھیرا کم تھا اور راشنی زیادہ تھی۔ “ارے آپ یہاں اس وقت کیا کررہی ہیں آپ کو آرام کرنا چاہییے ابھی” آرحام نے اچانک زارا کو پاس آتے ہوئے کہا۔ ”نہیں میں ٹھیک ہوں آپ یہاں کیا کررہے ہیں اس وقت” زارا نے مسکراتے ہوئے آرحام سے پوچھا۔ ”میں اکثر رات کو یہاں آتا ہوں اور اکیلے میں کچھ وقت گزار لیتا ہوں یہ نیلا آسمان دیکھتا ہوں اور ان تاروں کو دیکھتا ہوں اور یاد کرتا ہوں اپنا بچپن جب میرے ماں باپ مجھے گھمانے لے کر جایا کرتے تھے” آرحام نے لمبی سانس بھڑتے ہوئے زارا سے کہا۔ ”اب آپ کے والدین کہاں ہیں” زارا نے آرحام سے پوچھا۔ ” ان کو ماردیا گیا تھا جب میں چھوٹا تھا اور ہیلٹر چچا نے میری جاب بچائی اور تب سے میں ان کے پاس ہوں” آرحام نے زارا سے کہا۔ ” زارا نے آرحام کو گلے سے لگا لیا۔ ” او سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہییے تھا” زارا نے آرحام سے اچانک دور ہوتے ہوئے کہا۔ ” جی کوئی بات نہیں مجھے اچھا لگا کہ آپ نے سہارا دیا دراصل میں بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں تو یہاں آجاتا ہوں، اب رات بہت ہوگئی ہے آپ کو آرام کرنا چاہیے” آرحام نے نطریں بچاتے ہوئے زارا سے کہا۔ ”نہیں مجھے یہاں کچھ اچھا لگ رہا ہے آپ کا ساتھ اچھا لگ رہا ہے ورنہ یہ سارے معاملات دیکھ کر میں کافی پریشان تھی، میرا بس چلتا تو میں مر ہی جاتی۔ ” زارا نے آرحام سے کہا اور آرحام نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ” نہیں ایسا نہیں کہتے ہیں آپ بہت اچھی ہو آپ کا دل بہت صاف ہے آپ بے فکر رہیں میں ہوں جو آپ کو ایک بھی آنچ آنے نہیں دے گا اور ہیلٹر چچا بھی ہے جو ہر مشکل میں مددگار ہوتے ہیں” آرحام نے زارا کے منہ سے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہا۔ ” زارا نے ہلکی سی مسکراہٹ لبوں میں چُھپاتے ہوئے آرحام کو دلکش نگاہوں سے دیکھا۔ ” آپ کا بہت شکریہ اب میں ہممم چلتی ہوں رات بہت ہو چکی ہے” زارا نے اپنے دل کو سمبھالتے ہوئے کہا اور وہ اپنے خیمے کی طرف چلی گئی اور سیدھا آکر اپنے بستر پر لیٹ گئی وہ اب صرف آرحام کا سوچ رہی تھی۔ ”ارے زارا آج تمہیں آخر کیا ہوگیا تھا آج تم کیوں آرحام کی طرف کچھی چلی جارہی تھی آخر اس میں ایسا کیا تھا جو تم خود کو آج بے چھین سی کر رہی ہو” زارا نے خود سے کہا اور وہ مسکراتے ہوئے آرحام کے خیالوں میں ڈھوبتے ہوئے سوگئی۔
رات گزر چکی تھی اور صبح کا سورج نمودار ہوچکاتھا ہر طرف سکون ہی سکون تھا یہاں سب سکون سے سو رہے تھے اور وہاں ٹاگوڑ کے محل میں ایک شور برپاہ تھا ٹاگوڑ ہر حال میں زارا کومارڈالنا چاہتا تھا اوراس مقصد کے لئے وہ اپنی فوج کو تیار کر رہاتھا وہ جانتا تھا کہ زارا ایک دیوی ہے اور اس میں بہت زیادہ طاقت ہے اس کو قابو میں کرنے کے لئے ایک فوج درکار ہوگی اور ہیلٹر کو بھی قابو کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ”میرے پیارے ساتھیوں آج ہر حالت میں زارا کو مار ڈالنا ہے ورنہ ہم کبھی بھی آزاد نہیں ہوسکتے ہیں اور نا ہی اپنی اصل انسانی صورت میں آسکتے ہیں وہ زارا ہماری دشمن ہے وہ ہیلٹر ہمارا دشمن ہے آج کچھ بھی ہو جائے ہم نے ہار نہیں ماننی ہے اگر آج ہم کامیاب نا ہوئے تو اگلا موقع ہم کو پتہ نہیں پھر کب ملے گا تو ساتھیوں آج اسی وقت روانہ ہوجاؤ اور کامیاب ہوکر لوٹو سب” ٹاگوڑ نے سب کوپرجوش طریقے سے ہاتھ میں تلوار کو اٹھاتے ہوئے کہا۔ ٹاگوڑ کے سب سپاہی کوچ کرنے کو تیار تھے ٹاگوڑ من ہی من بہت سے منصوبے بنارہاتھا اس کے دماغ میں کچھ تو چل رہا تھا کیونکہ اس نے چہرے کی مسکراہٹ بہت کچھ بیان کر رہی تھی۔ ہیلٹر خیمے سے باہر آگیاتھا اور وہ تلاب سے اپنے ہاتھ منہ پانی سے صاف کر رہاتھا۔ ہیلٹر نے اپنے ہاتھ منہ دھونے کے بعد ایک کپڑے سے صاف کیے اور ہاتھ میں کلہارا لے کر جنگل کی طرف چلا گیا اور ایک درخت کو کاٹنے میں مصروف ہوگیا زارا بھی اپنے خیمے سے باہر آگئی تھی وہ ہیلٹر کو درخت کاٹتے ہوئے دیکھ کر اس کے پاس چلی گئی۔ ” آپ کا مجھ پر بہت احسان ہے کہ آپ نے میرے مدد کی میری جان بچائی ہے” زارا نے ہیلٹر سے کہا۔ ” نہیں میری بیٹی اس میں احسان کی کوئی بات نہیں ہے یہ تو ہم سب کا فرض ہے کہ ہم لوگوں کے کام آتے ہیں” ہیلٹر نے زارا کو کہا۔ ”سچ میں آپ بہت بہادر انسان ہیں” زارا نے ہیلٹر سے کہا اور اچانک اس جنگل کی فضاء پر ایک عجیب سی تاریکی چھانے لگ گئی لال رنگ جگہ جگہ سے نمودار ہورہاتھا ہیلٹر یہ سب دیکھ کر گہری سوچ میں پڑھ گیا۔ ” بیٹی تم اندد جاؤ اور باہر نا نکلنا یوں لگتا ہے کہ جیسے آج بہت غلط ہونے جارہا ہے” ہیلٹر نے زارا سے کہا۔ ہیلٹر نے زارا کو اندد جانے کا اشارہ کیا اور اپنی تلوار کو میاں سے نکال لیا اور اپنے گھوڑے کو سیٹھی ماری اور گھوڑے پر سوار ہوکر پاس والے گاؤں میں چلا گیا اور وہاں کے ساتھیوں کو اکھٹا کیا کہ سب جنگ کے لئے تیار ہوجائیں کیونکہ اس کو اندازہ تھا کہ ٹاگوڑ اب جنگ کرنے کو تیار ہے۔ سارے ساتھی اپنے اپنے گھوڑوں پر ہیلٹر کے پیچھے اس جنگل میں آگئے۔ اور وہاں ٹاگوڑ کے سارے سپاہی اس جنگل کے اندد آنے کو تیار تھے اور آہستہ آہستہ جنگل کی طرف آرہے تھے اور یہاں ہیلٹر کے سارے سپاہی جنگ کرنے کو تیار تھے ہیلٹر کا مقصد صرف فاتح بننا تھا۔ ہیلٹر نے آرحام اور تمام ساتھیوں کو ہمت دی اور ان کے ارادوں کو مزید مظبوط بنایا اور اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ٹاگوڑ کی حیوان فوج اس جنگل میں داخل ہوگئی اور آنے ہی ان لوگوں پر حملہ کردیا حملہ بہت ہی زبردست تھا ایک جگہ بڑے بڑے قدجسامت والے جنونی حیوان تھے اور ایک جگہ یہ انسان تھے جن نے حوصلے مظبوط تھے مگر یہ انسان تھے نا ان حیوانوں سے جیتنا ان سب کے لئے آسان نہیں تھا۔ زارا بھی اپنے خیمے سے باہر یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی اور خوب سہمی ہوئی تھی ”او خدایا یہ کیا ہے کون ہیں یہ حیوان” زارا نے خود سے کہا۔ وہاں زارا کی نظر آرحام پر پڑی وہ بہت ہی بہادری کے ساتھ ان حیوانوں سے لڑ رہاتھا وہ اس طرح سے لڑ رہاتھا جیسے اس کو کسی بھی چیز کا زرا سا بھی خوف نا ہو۔ زارا یہ سب دیکھ کر آرحام کی بہاددی دیکھ کر اس کے دل کے اور بھی قریب ہوتی جارہی تھی۔ آرحام ایک حیوان سے لڑرہاتھا کہ اس حیوان نے اپنا ڈھال آرحام کو بہت زور سے مارا کہ اس سے آرحام دور جاکر گرا اور آرحام کے سر سے خون بھی بہنے لگ گیاتھا۔ یہ دیکھتے ہی زارا کو بہت زیادہ غصہ آیا اتنا غصہ آیا کہ اس کا روپ بدلنے لگ گیا زارا نے وہیں سےتیزی سے بھاگنا شروع کردیا اور سیدھا اس حیوان کے پاس گئی اور ایک زار دار آواز میں دھاڑی اور وہ حیوان سہم گیا زارا کا قد کافی لمبا ہوچکاتھا اور وہ اتنی طاقتور تھی کہ ٹاگوڑ کا ایک ایک سپاہی اس کے آگے کمزور نظر آرہاتھا۔ زارا نے ایک زور دارطریقے سے اس حیوان پر وار کیا تو وہ مر گیا وہیں۔ زارا نے پھرآس پاس جو سپاہی تھے ان پر وار شروع کیے اور ان میں سے جو بھی ہاتھ لگا سب کو ایک ہی وار میں ہلاک کردیا۔
زارا نے وہاں موجود ٹاگوڑ کے جتنے ساتھی تھے سب پر باری باری بہت سخت وار کیے اور جس پر بھی وار کیا اس کو مارڈالا۔ ہیلٹر آرحام اور اس کے ساتھی بھی بہادری کے ساتھ ٹاگوڑ کے سپاہییوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے اور بہت ہی شاندار انداز میں آج سب کو فتح مل جانی تھی۔ آخر کار ٹاگوڑ کی فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا اور سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ ٹاگوڑ نے ساتھی اپنی جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے کیونکہ وہ زارا کی طاقت کے آگے کمزور تھے۔ جب ٹاگوڑ کی فوج ہار گئی تو زارا انسانی روپ میں آگئی اور آج ہیلٹر آرحام اور اس کے ساتھی صرف زارا کو دیکھ رہے تھے کہ زارا کون ہے آخر ؟ آج تک کسی نے بھی ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا اور سب کے سب بس حیرانگی کے ساتھ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ زارا انسانی روپ میں آنے کے بعد سب سے نظریں بچاتے بچاتے اپنے خیمے میں چلی گئی۔ ”یہی ہے وہ جل دیوی کی بیٹی جو سنا تھا وہ سب سچ ہی تھا آج جل دیوی کی طاقت بھی دیکھ لی ہے آپ سب نے دیکھا نا کہ یہ جل دیوی کتنی طاقتور ہے اور آج اسی کی وجہ سے ہم سب بھی محفوظ ہیں” ہیلٹر نےاپنے تمام ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”ہاں ہیلٹر تم سچ کہتے تھے کہ ایک دن جل دیوی آئے گی اور ہم سب لوگوں کو ٹاگوڑ کے ظلم سے بچائے گی” داویز نے ہیلٹر کو کہا۔ زارا اپنے خیمے میں موجود تھی اور بہت گہری سوچوں میں تھی وہ باربار خود کو دیکھ رہی تھی کہ آج اسے کیا ہوگیاتھا اور وہ خود پر حیران بھی تھی کہ اس نے کیسے آج سب کو شکست دے دی۔ زارا بہت زیادہ حیران تھی کہ وہ کوئی عام انسان نہیں ہے اچانک اس کا روپ کیسے بدل جاتا ہے وہ کیسے عام انسان نے دیو نما بن جاتی ہے اس نے زہین میں کئی سوالات تھے کہ جن کا جواب زارا نے حاصل کرناتھا۔ ابھی زارا سوچ ہی رہی تھی کہ ہیلٹر اس خیمے میں داخل ہوا اور زارا نے پاس آکر بیٹھ گیا۔ ”میں جانتا ہوں کہ آپ کیا جاننا چاہیتی ہو اور آج میں تمہیں سب کچھ بتادیتا ہوں۔ ”دراصل تم کوئی عام لڑکی نہیں ہو تم جل دیوی کی بیٹی ہو جوکہ ایک ملکہ ہیں اور آپ نے والد بادشاہ تھے سب کچھ بادشاہ کے مرجانے کے بعد شروع ہوا۔ بادشاہ کے مرجانے کے بعد ٹاگوڑ نے ہر ایک چیز پر قبضہ کرلیا اور ٹاگوڑ ملکہ کا سگا بھائی ہے اور وہ بھی ایک دیو ہے۔ تم کو پتا ہے تم کتنی خاص ہو ایک تم ہی ہو جو ٹاگوڑ کے ظلم سے ہن سب کو بچاسکتی ہو۔ تمہارے باپ کو مارنے والا یہی تھا اور تمہاری ماں اور بہن بھائیوں کو اس نے ہی قید کردیا تاکہ کوئی بھی اس کے خلاف کچھ بھی بول نا سکے۔ تم بہت خاص ہو اسی لئے ملکہ کے حکم سے آپ کو ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنے کے لئے آپ کو اس جگہ سے بہت دور بھیج دیاگیا تاکہ آپ کی جان بچ جائے اور جب آپ قابل ہوجاؤ تو ہم سب کی رہنمائی کرسکو اور دیکھو آج وہ وقت آگیاہے تم آگئی ہو اب۔ اب ہم سب تمہارے ہی حکم کے منتظر ہیں ہماری تو آج سے آپ ہی ملکہ ہو” ہیلٹر نے زارا کو سب کچھ بتادیا۔ ”میں کوئی ملکہ نہیں ہوں اور نا ہی میں کسی کی کوئی بھی رہنائی کرسکتی ہوں میں ایک عام سی انسان ہوں اور میں کسی کی بھی کوئی مدد نہیں کرسکتی ہوں آپ سب کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں کچھ بھی نہیں ہوں” زارا نے اداسی سے ہیلٹر کو کہا۔ ”نہیں میری بیٹی ابھی تم کو تخت پر بھی بیٹھنا ہے اور جو میں کہہ رہاہوں سب کچھ سچ ہے اور تم ہی ہم سب کی ملکہ ہو تم اپنے زمہ داری کو قبول کرلو آج دیکھا نا کیسے تم نے سب کو ہارا ڈالا اور سب کو بھگابھی دیا ہے” ہیلٹر نے زارا کو کہا۔ ” پتا نہی مجھے کیا ہوگیا تھا مجھے خود بھی علم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے میں تو بس اپنے ساتھیوں کی تلاش میں ہوں اور مجھے گھر جانا ہے بس” زارا نے ہیلٹر سے کہا۔ ”آپ فکر نا کریں آپ کے تمام ساتھیوں کو ہم تلاش کرلیں گے ان کو زرا سی بھی آنچ نہیں آئے گی آپ کے سارے ساتھی بھی ٹاگوڑ کی قید میں ہیں جس کی فوج سے آج آپ نے مقابلہ کیا ہے آپ کو اپنے ساتھیوں کی جان بچانے کے لئے ہی ٹاگوڑ سے لڑنا ہوگا اور ہم سب آپ کے حکم کے منتظر رہے گے آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہوگا” ہیلٹر نے زارا سے کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: