Purisrar Jal Devi Novel by Armani – Last Episode 4

0
پراسرار جل دیوی از آرمانی -آخری قسط نمبر 4

–**–**–

زارا کبھی خود کو دیکھ رہی تھی اور وہ کبھی ہیلٹر کو دیکھ رہی تھی میں کوئی شہزادی نہیں ہوں اور ناہی مجھے ان کاموں میں پڑنا ہے مجھے بس اپنے ساتھیوں کی تلاش ہے اور میں نے اپنے گھر جانا ہے یہ میری جگہ نہیں ہے” زارا نے ہیلٹر سے کہا۔ ”ابھی بیٹا تم آرام کرو میں سمجھ سکتا ہوں ابھی یہ سب جان کر تم کافی پریشان اور حیران ہو مگر جب تمہیں اندازہ ہوگا کہ تمہاری کیا زمہ دایاں ہیں تم کو لوٹ کر آنا ہوگا” ہیلٹر نے کہا اور زارا زور زور سے رونے لگ گئی۔ ” مجھے صرف اپنے گھر جانا ہے اپنے دوستوں کے پاس اگر آپ کچھ کر سکتے ہیں تو میرے لئے آپ یہ کردیں، میں آپ کے پاؤں پکڑتی ہوں آپ کے آگے ہاتھ جوڑ رہی ہوں مجھے بس اپنے گھر جانا ہے” زارا نے ہیلٹر سے روتے ہوئے کہا۔ ہیلٹر زارا کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا وہ اچانک کھڑا ہوگیا اس نے اپنے دونوں ہاتھ باندھ لئے اور کچھ پڑھنا شروع کیا اور اچانک ایک تیز روشنی نموراد ہوئی اور زارا کو اپنے میں سمو لیا اور زارا غائب ہوگئی۔ وہ روشنی اڑتی اڑتی غائب ہوگئی اورپھر روشنی بہت زیادہ تیز ہوگئی اور ایسا لگ رہاتھا کہ جیسے جب کچھ بدل گیا ہو۔ زارا کو ہوش آرہاتھا وہ اٹھ گئی اور اپنے اردگرد دیکھنے لگ گئی اور وہ دیکھ کر حیران تھی کہ وہ اسی جنگل میں تھی جہاں سے وہ اس جگہ چلی گئی تھی جہاں وہ ملکہ کی باتیں ہورہی تھی۔ زارا ہمت کرکے کھڑی ہوگئی اس نے اپنے کپڑے جھاڑے اور اردگرد دیکھنے لگ گئی۔ زارا کی سہیلی نے زارا کو دیکھا تو اس کے پاس آگئی۔ ” زارا تم کہاں تھی ہم کب سے تمہیں تلاش کر رہے ہیں شام ہونے کو ہے ہم سب اب گھر جانے کی تیاری کر رہے ہیں جلدی کرو ہمیں اب گھر جانے کے لئے نکلنا ہوگا۔ زارا حیران تھی کہ یہ سب اس نے ساتھ کیا ہورہا ہے وہ ہکی بکی رہ گئی تھی کہ وہ تو یہاں سے پتا نہیں کہاں چلی گئی تھی اور اب وہ یہاں واپس جنگل میں کیسے آگئی ہے۔ وہ اسی سوچوں میں تھی کہ زارا کو اس کی سہیلی اپنے ساتھ لے گئی۔ وقت بھی تو کسی کے لئے رکتا تو نہیں ہے نا۔ سب بس میں روانہ تھے اور اپنے اپنے گھروں کی طرف جارہے تھے مگر زارا کا دھیان کہیں اور تھا وہ سوچ رہی تھی کہ یہ خواب تھا یہ حقیقت؟ اور یہ سب اسی کے ساتھ کیوں ہورہاہے۔
وقت تیزی کے ساتھ گزر رہاتھا اور اس واقعہ کو آج 1 سال گزر گیا تھا اور زارا آج بھی سوچھتی تھی کہ وہ سب کیا تھا حقیقت یا ایک خواب مگر اس کو علم نہیں تھا کہ اب آگے اسکے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ رات کے ایک پہر زارا سو رہی تھی کہ ایک بھیانک اور بڑا سا سانپ رینگتا رینگتا زارا نے کمرے میں کھڑکی کے راستے سے داخل ہوگیا اور سیدھا زارا کے پاؤں والی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا اور حیرانگی کی بات یہ تھی کہ اتنا خطرناک سانپ جیسے ادب کے ساتھ ہاتھ جوڑے زارا کے پاؤں کی طرف تھا۔ زارا آرام سے سکون کی نیند سو رہی تھی اور سانپ اسی طرح پوری رات زارا کے سامنے اس کی حفاظت میں معمور رہا۔ صبح ہوئی تو زارا کو جاگ آگئی تو اس سانپ کو دیکھ کر اچانک ڈر گئی اور وہ سانپ انسانی راپ میں آگیا اور زارا یہ دیکھ کر ڈھنگ رہ گئی کہ یہ آرحام تھا۔ ” تم اور یہاں اور تم سانپ ہو کیا؟” زارا نے آرحام سے کہا۔ ”ہاں ہم سب ناگ ہیں اور ہم کئی ہزار سالوں سے چھپ چھپ کر اپنی زندگی گزار رہیں ہیں ہم نے اپنا راز سب سے ُچھپا رکھا ہے مگر آپ تو ہماری ملکہ ہیں تو آپ کی حفاظت کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے” آرحام نے زارا سے کہا۔ ”اچھا تم اپنی دور آؤہو کچھ کھاؤ گے کیا؟ اور یہ بتاؤ آج اپنی دیر بعد کیسے آنا ہوا اور باقی سب کیسے ہیں؟ ” زارا نے آرحام سے پوچھا۔ ” ہم پر ٹاگوڑ کی فوج نے حملہ کرکے ہمارے کئی ساتھیوں کو مارڈالا ہے اور ہیلٹر اور ہمارے قبیلے کے کئی بندے اسی کی قید میں ہیں۔ ٹاگوڑ کو آپ کے یہاں ہونے کی خبر مل گئی ہے اب وہ آپ پر یہاں بھی حملہ کر سکتا ہے اسی لئے میں یہاں آیا ہوں تاکہ آپ کو آگاہ بھی کرسکوں اور اپ کی حفاظت کا انتظام بھی دیکھ سکوں” آرحام نے زارا سے کہا۔
زارا آرحام کی باتیں بہت غور سے سن رہی تھی کہ اچانک وہ زارا کے قریب آیا اور سانپ کا روپ دھاڑ کر زارا کی گردن کو دس لیا۔ زارا کو اس قدر تکلیف ہوئی کہ اس نے زور دار چینخ ماردی اور وہ تڑپنے لگ گئی اور وہ سانپ اپنے اصل روپ میں آگیا یہ تاگوڑ ہی تھا جو سانپ کا روپ بدل کر آیاتھا اور اس نے زارا کو دس لیا تھا کہ اب زارا مرجائے گی۔ زارا کو دسنے کے بعد تاگوڑ زور زور سے ہنسنے لگ گیا اور زارا زہر سے ترپنے لگ گئی۔ ”دیکھا میرے ملکہ تمہیں آج تمہارے باپ کے پاس میں پہنچا رہاہوں اب جاؤ اپنے باپ کے پاس تم۔ کہا تھا نا کہ مجھ سے نا الجھو۔ میرے ساتھ جو بھی الجھے گا اس کا یہی حال ہوگا” ٹاگوڑ زارا کے پاس آکر کہہ رہاتھا۔ ٹاگوڑ وہاں سے واپس مڑا اور چلنے لگا کہ اسے کسی کی آہٹ کی آواز سنائی دی کہ جیسے کوئی بہت تیزی سے بھاگا ہو۔ ٹاگوڑ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زارا وہاں نہیں تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا ٹاگوڑ نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو زارا سامنے کھڑی تھی لمبا قد لال سرخ آنکھیں ایک طاقتور دیوی کی طرح زارا لگ رہی تھی زارا نے ایک زور دار طمانچہ ٹاگوڑ کو مارا اور ٹاگوڑ زور دار جھٹکے سےبہت دور جاکر گر گیا۔ زارا جلدی سے اس کے پاس گئی اور اس کو گلے سے اٹھا لیا۔ ٹاگوڑ نے اپنا گلہ زارا سے چھروایا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔ اچانک زارا کے کمرے میں ایک سفید سے روشنی نمودار ہوئی اور اس میں سے ہیلٹر باہر نکل آیا۔ ہیلٹر کو دیکھ کر زارا بہت خوش ہوئی۔ ”کیسی ہو میرے بیٹی میری ملکہ؟” ہیلٹر نے زاراسے پوچھا۔ ”میں بالکل ٹھیک ہوں سچ کہوں تو آپ کو بہت مس کیا میں نے” زارا نے مسکراتے ہوئے ہیلٹر سے کہا۔ ”ہاں اس کا مطلب ہے تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا اب مقصد کیا ہے؟” ہیلٹر نے زارا سے پوچھا۔ ”ہاں میں سمجھ گئی ہوں کہ میرا مقصد کیا ہے اور میں کون ہوں میں ایک جل دیوی ہوں میرے ماں ملکہ ہیں اور میرے بابا بادشاہ تھے جس کو ٹاگوڑ نے مارڈالا ہے اب میرا مقصد اپنی ماں اور اپنے بہن بھائیوں کو ٹاگوڑ کے َظلم سے بچانا ہے اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤگی۔ اور آپ سب بھی تو میرے ساتھ ہیں” زارا نے ہیلٹر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ”اچھا اب جلدی کرو ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ابھی بہت زیادہ تیاریاں کرنی ہیں ” ہیلٹر نے زارا سے کہا۔ ہیلٹر اس روشنی میں زارا کے ساتھ داخل ہوگیا اور دونوں دوسری طرف سے باہر نکل آئِے۔ یہ جگہ پہلی والی جگہ سے بہت مختلف تھی یہاں آگے کچھ سپاہی تھے جن کے ہاتھ میں جدید اسلحہ تھا زارا دیکھ کر حیران تھی کہ یہ سب آج کل کی آرمی جیسے تھے۔ اور ایک بات بھی تھی جو بھی یہاں تھا اس کا لباس بھی آج کی ہی طرز کاتھا۔ ”آپ یہ بتائیں کہ اتنی جلدی یہ ترقی کیسے ہوگئی” زارا نے حیرانگی کے ساتھ ہیلٹر سے پوچھا۔ ” بیٹا یہ جادوئی نگر ہے یہاں وقت کس طرح سے سفر طے کرتا ہے اس کا کوئی اندارہ نہیں ہے اب یہاں کا وقت آپ کی دنیا کے برابر ہے یا زیادہ اس کا زرا بھی اندازہ نہیں ہے” ہیلٹر نے زارا کو مخاطب کر کے کہا۔ ہیلٹر اور زارا چلے جارہے تھے زارا پرسکون لگ رہی تھی کہ جیسے اس کو پتہ ہو کہ اس کی منزل کیا ہے اور آگے اس نے کیا کرنا ہے اور آگے کون کون سی منزلیں ہیں کہ جس کو اس نے تہہ کرنا ہے۔
(ختم شد)
اسی سیریر کا اگلا سیزن اگر آپ پڑھنا چاہتے ہیں تو فیڈ بیک لازمی دیں۔ امید ہے کہ آپ کو پرسرار جل دیوی کا یہ حصہ بہت پسند آیا ہوگا۔ آپ سب کی محبتوں کا بہت شکریہ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: