Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 1

0

پراسرار کتاب از رمشا افتخار – قسط نمبر 1

–**–**–

وہ خود کو شیشے میں سر تا پاؤں قابل ستائش نظروں سے دیکھ رہی ہے ۔وہ حد سے زیادہ خود پسند ہے ۔اس کے براؤن گھنگھریالے بال جو کمر تک آتے ہیں ۔جھیل جیسی بڑی بڑی سنہری آنکھیں، تیکھا ناک اور چھوٹے چھوٹے گلابی ہونٹ اگر وہ خود کو شہزادی سمجھتی ہے تو غلط نہیں سمجھتی۔اتنے میں اس کے باپ یونس کی آواز آتی ہے ۔ہانیہ بس کرو خود کو شیشے میں دیکھنا تم کسی ملک کی شہزادی نہیں ہو ۔ہانیہ اس بات پر مسکراتی ہے اور خود کو شیشے میں آخری بار دیکھتی ہے ۔گلابی رنگ کی فراک اور سفید چوڑی دار پاجامے میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہوتی ہے ۔اس کے گلے میں گلابی رنگ کا پرس نما شکل کا پینڈنٹ ہے جس پر تین سفید ہیرے جڑے ہوتے ہیں جو اس کی رونق کو دوبالا کرتے ہیں ۔
ہارن کی آواز پر وہ باہر جاتی ہے اور کار کا فرنٹ ڈور کھول کر سیٹ پر بیٹھ گئی ۔یونس اس سے پڑھائی کے بارے میں پوچھتا ہے بابا زبردست ۔یونس ہانیہ کو بزنس پڑھانا چاہتا تھا۔لیکن ہانیہ کو آرٹ میں زیادہ دلچسپی تھی اس لیے یونس نے اسے آرٹ میں داخلہ دلوا دیا آخر ہانیہ ہیں تو اس کی کل جائیداد ہے وہ اس کی کوئی خواہش رد نہیں کر سکتا ۔اتنے میں ہانیہ کا کالج آ جاتا ہے ۔ہانیہ یونس کو اللہ حافظ کہتی ہے اور کالج میں داخل ہو جاتی ہے ۔
ہانیہ کو دیکھ کر ہادی دور سے ہاتھ ہلاتا ہے ۔جیسے وہ اس کی بہت اچھی دوست ہو۔ہانیہ خود اعتمادی سے چلتے ہوئے اس کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے ابھی تمہیں کالج جوائن کیے ہوئے دو مہینے نہیں ہو ئے اور تم نے اپنا گھٹیا پن دکھانا بھی شروع کر دیا ۔ہادی کو یہ الفاظ بہت برے لگتے ہیں ۔
ہادی نے اس کی بات ضبط سےبرداشت کی ۔ہانیہ یہ گھٹیا پن نہیں ہے یہ میں آپ کو عزت دے رہا ہوں ۔
اوہ اچھا اگر ایسی بات ہے تو مجھے دیکھ کر تمہیں ایک ہاتھ نہیں بلکہ دونوں ہاتھ ہلانے چاہیے ۔
آپ مذاق اچھا کرتی ہے ۔
میں مذاق نہیں کر رہی میں بھی بس آپ کو عزت دے رہی ہوں ۔
اتنے میں سارہ اور آمنہ ان کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے کہ کلاس سٹارٹ ہو گئی ہے ۔
وہ چاروں کلاس کی طرف چل پڑتے ہیں ۔
ہانیہ یا تو تم ہادی سے جھگڑنا چھوڑ دو یا اس کے لیے اتنا تیار ہو کر آنا چھوڑ دو آمنہ معصوم سی شکل بنا کر کہتی ہے ۔
آمنہ میں تمہارا خون نہ پی لوں ۔
وہ چاروں کلاس میں تیسری لائن میں بیٹھتے ہیں ۔ سب سے پہلی کرسی پر ہادی بیٹھتا ہے پھر آمنہ پھر ہانیہ اور آخری کرسی پر سارہ بیٹھتی ہے ۔
کلاس میں سر آفاق روسٹرم پر کھڑے ہو کر آرٹ کی موجودہ صورتحال پر لمبی چوڑی روشنی ڈال رہے ہوتے ہیں ۔جب آمنہ کہنی مار کر ہانیہ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے یار ہادی کی طرف دیکھو وہ تمہیں کیسے دیکھ رہا ہے ۔آمنہ کی اس بات پر سارہ بھی چوکس ہو جاتی ہے ۔ہانیہ اس کی بات سن کر ہادی کی طرف دیکھتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ۔ہانیہ کا یہ جواب سن کر سارہ اس کے سر پر تھپڑ رسید کرتی ہے بیوقوف آمنہ کے کہنے کا مطلب ہے کہ وہ تمہیں کتنے پیار سے دیکھ رہا ہے ۔
ہانیہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہتی ہے کہ پیار تو مجھے نظر نہیں آ رہا ۔
یار اگر تجھے پیار نظر نہیں آ رہا اس کا چہرہ تو نظر آ رہا ہے نہ ۔دیکھو تو سہی کتنا ہینڈسم ہے بھورے بھورے بال جو ہر وقت ماتھے پر بکھرے رہتے ہیں ۔ سرمئی آنکھیں جن میں پورا جہاں سمایا ہوا ہے ۔قد کا ٹھ بھی اچھا ہے ۔اتنا سمارٹ انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔اور سب سے بڑی بات اس کے دائیں ہاتھ پر جو چاند کا برتھ مارک ہے ۔وہ کتنا زبردست ہے ۔
سارہ میں تمہاری آخری بات سے اتفاق کرتی ہوں ۔اگر وہ مجھے اپنا دایاں ہاتھ کاٹ کر دیں تو میں یقین کر لو کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے ۔سارہ اس پر جل بھن کر کہتی ہے اور خود لولا لنگڑا ہو جائے ۔
ہانیہ اس بات پر ہنس دیتی ہے ۔
اتنے میں سر آفاق کی نظر ہانیہ پر پڑتی ہے اور وہ ہانیہ کو روسٹرم پر آ کر آرٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کو کہتے ہیں ۔ہانیہ سر سے excuse کرتی ہے ۔لیکن سر نے جیسے سنا ہی نہ ہو ۔
اور اسے دوبارہ روسٹرم پر آنے کو کہتے ہیں ۔وہ مجبورا روسٹرم کی طرف جاتی ہے ۔ہانیہ ہمیشہ ناپ تول کے بولتی ہے نہ کم نہ زیادہ ۔پوائنٹ ٹو پوائنٹ بات کرتی ہے ۔ہادی، آمنہ اور سارہ اس کے لیے پریشان ہوتے ہیں ۔ہانیہ روسٹرم پر جاتی ہے اور کہتی ہے ۔
“آرٹ ایک ہنر ہے،فن ہے، کاریگری ہے ۔آرٹ خود میں ایک دنیا ہے جو ہر بار کچھ نیا دکھاتا ہے ۔سچا آرٹ اور سائنس ملکر پراسرار چیزیں بناتے ہیں ۔پراسرار چیزیں ہمیشہ دلکش ہوتی ہے۔اور انسانی نفسیات ہمیشہ ان کی تلاش میں رہتی ہے ۔میری زندگی بہت بے رونق اور سادہ ہے ۔میں ہر وقت کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔میں پراسرار راستے ڈھونڈنا چاہتی ہوں اور ان راستوں پر چلنا چاہتی ہوں ۔یہ سب آرٹ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔اس لیے میں آرٹ کی دنیا میں داخل ہو گئی ۔اور میں امید کرتی ہوں کہ یہ آرٹ مجھے بلندیوں تک پہنچائے گا ۔”
اس کے ساتھ ہی کلاس میں تالیوں کی آواز گونجتی ہے اور لیکچر بھی ختم ہو جاتا ہے ۔سر آفاق ہانیہ کو well done کہہ کر چلے جاتے ہیں ۔
ہادی ہانیہ کے پاس آتا ہے تم نے تو کمال کر دیا، مجھے حیران کر دیا اور پریشان کر دیا ۔
ہانیہ آئی برو اٹھا کر کہتی ہے “شکر کرو میں نے تمہیں پاگل نہیں کر دیا “ہادی اس بات پر مسکرا دیتا ہے ۔آمنہ اور سارہ کے کان کھینچ کر ہانیہ گھر آتی ہے ۔خانساماں کو کھانا لانے کا کہہ کر وہ کمرے میں چلی گئی ۔کمرے میں جا کر وہ ایک دراز کھولتی ہے اور اس میں سے ہاتھ کے برابر ایک صندوق باہر نکالتی ہے ۔اس صندوق میں ایک گڈا ہوتا ہے جس نے گڑیا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوتا ہے ۔اور گڈے کے ہاتھ پر چاند بنا ہوتا ہے ۔اسے یہ صندوق چار سال کی عمر میں پاپا کے ایک دوست کے بیٹے نے دیا تھا ۔لیکن ہانیہ کو ایسا کچھ یاد نہیں کیونکہ تب وہ بہت چھوٹی تھی ۔لیکن اسے یہ صندوق بہت پسند تھا ۔وہ اسے بند کر کے واپس رکھ دیتی ہے ۔
اور treasure island movie لگا کر دیکھنا شروع کر دیتی ہے ۔اتنے میں شہناز کھانا لے کر کمرے میں داخل ہوتی ہے ۔ہانیہ انہیں دیکھ کر مسکراتی ہے ماما آپ کو زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔اس میں زحمت کیسی بیٹا وہ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر ہانیہ کے منہ میں ڈالتی ہے ۔
شہناز اسے ڈانٹتے ہوئے کہتی ہے ہانیہ بس کرو اس دنیا سے باہر نکل آو ہر وقت خزانوں اور عجیب و غریب چیزوں کے بارے میں سوچنا اور دیکھنا اچھا نہیں ہوتا۔
“کبھی کبھی پراسرار چیزیں انسان کو اندھیروں میں لے جاتی ہے جہاں وہ اکیلا رہ جاتا ہے “
ماما ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ان چیزوں میں میری جان ہے
شہناز اس کے ماتھے پر پیار کرتی ہے اور باہر چلی جاتی ہے ۔ہانیہ فلم دیکھتے ہوئے سو جاتی ہے ۔رات کھانے کی میز پر یونس شہناز سے کہتا ہے کل رات ڈنر پر میرے خاص مہمان آ رہے ہیں ۔تو ڈنر پر خصوصی بندوبست کیا جائے ۔
ویسے پاپا آ کون رہا ہے؟
ہانیہ جس نے آپ کو وہ باکس گفٹ دیا تھا وہ اور اس کے پاپا آ رہے ہیں ۔
ہانیہ یہ سن کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوتی ہے ۔
اگلے دن وہ تینوں مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں ۔
جب ہادی کار میں سے باہر نکلتا ہے تو اسے دیکھ کر ہانیہ کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں ۔
یونس آگے بڑھ کر اپنے دوست فاروق کو گلے لگاتا ہے ۔پھر وہ ہادی کے گلے لگتا ہے برخوردار تم تو بہت بڑے اور ہینڈسم ہو گئے ہوں ۔
انکل اس کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں تھی ہادی مسکرا کر جواب دیتا ہے ۔سب اس کے جواب پر ہنستے ہیں ۔
فاروق آگے بڑھ کر ہانیہ کے سر پر پیار دیتا ہے یونس تمہاری بیٹی کونسا کسی شہزادی سے کم ہے ۔شہناز کہتی ہے بھائی صاحب باقی باتیں اندر جا کر کرتے ہیں ۔وہ سب اندر چلے جاتے ہیں ۔لیکن ہانیہ اور ہادی باہر ہی کھڑے رہتے ہیں ۔ہادی ہانیہ کے گرد گول دائرے میں چلتا ہے جیسے اس سے سارے حساب برابر کرنے ہو۔ہانیہ نے جامنی رنگ کا گھیر دار فراک پہنا ہوتا ہے جو اس کے پاؤں کو چھو رہا ہوتا ہے ۔اور اس کے سنہرے بال کھلے ہوتے ہیں ۔
ہانیہ آج تم بہت پیاری لگ رہی ہوں ۔تم ہمیشہ مجھے فیری ٹیل کی Repunzel لگتی ہو وہ اس کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کر کے اندر چلا جاتا ہے ۔ہانیہ اپنی سانس بحال کر کے اس کے پیچھے ہی اندر چلی جاتی ہے ۔
کھانے کی میز پر ہنسنے اور قہقہوں کی آوازیں گونجتی ہے ۔باتوں ہی باتوں میں فاروق یونس سے پوچھتا ہے کہ تم جو حویلی بیچنا چاہتے تھے تم نے بیچ دی کیا ۔
نہیں یار اس کا کوئی خریدار نہیں مل رہا معلوم نہیں کس بیوقوف نے افواہ پھیلا دیں ہیں کہ وہ حویلی پراسرار ہے ۔
پراسرار لفظ پر ہانیہ کے دونوں کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ پوچھتی ہیں پاپا یہ حویلی کہاں ہیں؟
یونس بتاتا ہے کہ لطیف آباد ایک غیر گنجان علاقہ ہے وہاں تمہارے آباواجداد کی ایک بہت بڑی حویلی ہے ۔میں اس کی مرمت پر بہت پیسہ خرچ کر چکا ہوں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: