Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 2

0

پراسرار کتاب از رمشا افتخار – قسط نمبر 2

–**–**–

لیکن اب اس کا کوئی خریدار نہیں مل رہا ۔
انکل میں اس حویلی میں کچھ دنوں کے لیے جانا چاہتا ہوں ۔ویسے بھی مجھے ایسی جگہیں بہت پسند ہے ۔ہانیہ جھٹ سے کہتی ہے میں بھی جانا چاہتی ہوں ۔
یونس انہیں جانے کی رضامندی دے دیتا ہے ۔
ہادی ہانیہ سے کہتا ہے صبح کا لج جا کر دوستوں کے ساتھ مل کر جانے کا منصوبہ بناتے ہیں سب اکٹھے چلے گئے تو مزہ آئے گا ۔
ہانیہ کیا ہادی تمہارے کالج میں پڑھتا ہے ؟
جی پاپا
تم نے مجھے کبھی بتایا نہیں ۔پاپا مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ آپ کے دوست کا بیٹا ہے ۔
اچھا مجھے لگا تمہیں ہادی یاد ہوگا کیونکہ وہ صندوق تم نے اب تک سنبھال کر رکھا ہے ۔
ہادی یہ سن کر ہانیہ کو آنکھ مارتا ہے ۔ہانیہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہے ۔
ہادی کے چہرے پر مسکراہٹ ابھرتی ہے ۔
ہانیہ اپنا چہرہ جھکا لیتی ہے ۔کچھ دیر کے بعد وہ لوگ چلے جاتے ہیں ۔
ہانیہ اپنے کمرے میں آتی ہے اس کا دل کرتا ہے وہ صندوق پھینک دیں لیکن وہ ایسا کر نہیں پاتی۔
اگلے دن وہ چاروں کینٹین میں بیٹھے ہوتے ہیں آمنہ اور سارہ بھی ان کے ساتھ جانے کے لیے رضامند ہو جاتی ہے ۔یار میں تو سوچ رہی ہوں کتنا مزہ آئے گا ۔ہانیہ وہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہوں سارہ لیکن ہادی اور اس کے دوستوں کی ہمارے ساتھ جانے کی کیا تک بنتی ۔
تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے ہانیہ “ہادی منہ بنا کر پوچھتا ہے ۔
وہی مطلب ہے جو تم سمجھے ہو۔
تم دونوں تو چونچ لڑانا بند کر سارہ غصے سے کہتی ہے ۔وہ دونوں چپ کر جاتے ہیں ۔
ہادی کا ہمارے ساتھ جانا ٹھیک رہے گا اس طرح ہم محفوظ رہے گے ۔آمنہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے پھر سب کچھ فائنل ہو گیا ہم جمعہ کو صبح 9 بجے نکلے گے 10 دن کا ٹرپ ہو گا میں تم دونوں کو ہانیہ کی طرف سے ہی پک کر لو گا تم سب اپنا سامان تیار کر لینا۔ہادی اپنی بات کہہ کر چلا جاتا ہے ۔
ہادی ابھی گھر پہنچتا ہی ہے کہ اسے ارباز کی کال آ جاتی ہے
وہ کال اٹھاتا ہے اور سلام دعا کے بعد ارباز کو کہتا ہے کہ ایک پراسرار مہم پر جانے کے لیے تیار ہو جا۔
سچ بتاؤ ہادی
اور تمہیں کیا لگتا ہے میں مذاق کر رہا ہوں ۔
اچھا تو کب جانا ہے؟
جمعہ کو صبح 9 بجے
اوہ نہیں یار اس دن تو کام کے سلسلے میں “میں نے آؤٹ آف کنٹری جانا ہے مجھے وہاں ایک مہینہ لگ جانا ہے ۔
چلو پھر ارباز صاحب تم بہت کچھ مس کرنے والے ہوں زندگی بھر افسوس میں رہو گے ۔
ارباز اسے کہتا ہے تم ہو آؤ پھر دیکھتے ہیں تمہیں افسوس ہوتا ہے یا مجھے ۔پھر ہادی کال کاٹ دیتا ہے ۔
جمعے کو سب ہانیہ کے گھر آ جاتے ہیں ۔یونس اور فاروق بچوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہاں شرارتیں نہیں کرنی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے ۔
یونس انہیں بتاتا ہے کہ وہاں انہوں نے ایک نوکر کا انتظام بھی کر دیا ہے ۔اور ہانیہ کو چابیاں پکڑاتے ہوئے کہتے ہیں وہاں کچھ کمرے بند ہیں یہ ان کی چابیاں ہے ۔اور سب سے اہم بات وہاں سگنلز کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہماری بات نہیں ہو پائے گی ۔اس لیے دس دن کے بعد آپ سب خودبخود واپس آ جائے گا ۔۔وہ سب خدا حافظ کہہ کر گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ہادی ڈرائیونگ سیٹ پر اور ہانیہ فرسٹ سیٹ پر بیٹھ جاتی ہیں ۔جبکہ آمنہ اور سارہ بیک سیٹ پر بیٹھتی ہے ۔گاڑی منزل کی طرف چل پڑتی ہے
ہادی تمہارے دوست کہاں ہیں؟
کبھی تم اپنی آنکھوں کا بھی استعمال کر لیا کرو ۔یہ جو بیک سیٹ پر دو نمونے بیٹھے ہیں تمہیں کیا بھوت نظر آرہے ہے ۔
ہانیہ بیک سیٹ کی طرف دیکھتی ہے تو آمنہ اور سارہ اسے دیکھ کر ہادی کے انداز میں ہاتھ ہلاتی ہیں ۔
اچھا تو تم دونوں نے اپنی پراسرار کتاب از رمشا افتخار
قسط نمبر چھ
ارباز اسے کہتا ہے تم ہو آؤ پھر دیکھتے ہیں تمہیں افسوس ہوتا ہے یا مجھے ۔پھر ہادی کال کاٹ دیتا ہے ۔
جمعے کو سب ہانیہ کے گھر آ جاتے ہیں ۔یونس اور فاروق بچوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہاں شرارتیں نہیں کرنی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے ۔
یونس انہیں بتاتا ہے کہ وہاں انہوں نے ایک نوکر کا انتظام بھی کر دیا ہے ۔اور ہانیہ کو چابیاں پکڑاتے ہوئے کہتے ہیں وہاں کچھ کمرے بند ہیں یہ ان کی چابیاں ہے ۔اور سب سے اہم بات وہاں سگنلز کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہماری بات نہیں ہو پائے گی ۔اس لیے دس دن کے بعد آپ سب خودبخود واپس آ جائے گا ۔۔وہ سب خدا حافظ کہہ کر گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ہادی ڈرائیونگ سیٹ پر اور ہانیہ فرسٹ سیٹ پر بیٹھ جاتی ہیں ۔جبکہ آمنہ اور سارہ بیک سیٹ پر بیٹھتی ہے ۔گاڑی منزل کی طرف چل پڑتی ہے
ہادی تمہارے دوست کہاں ہیں؟
کبھی تم اپنی آنکھوں کا بھی استعمال کر لیا کرو ۔یہ جو بیک سیٹ پر دو نمونے بیٹھے ہیں تمہیں کیا بھوت نظر آرہے ہے ۔
ہانیہ بیک سیٹ کی طرف دیکھتی ہے تو آمنہ اور سارہ اسے دیکھ کر ہادی کے انداز میں ہاتھ ہلاتی ہیں ۔
اچھا تو تم دونوں نے اپنی وفاداریاں بدل لیں۔
سارہ جھٹ سے جواب دیتی ہے نہیں تو ہم نے بس دوستوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے ۔
سفر کا آغاز
سفر کی دھول
سفر کی شام
سفر کا کھیل
سفر کا انجام
اور
سفر کے آثار کبھی ختم نہیں ہوتے۔
اسی نوک جھونک اور تکرار میں ہادی سے گاڑی بے قابو ہو جاتی ہے اور ایک درخت سے ٹکراتے ٹکراتے بچ جاتی ہے ۔سب بد حواس ہو جاتے ہیں ۔آمنہ بہت زیادہ خوفزدہ ہو جاتی ہے اور واپس جانے کی ضد کرتی ہے ۔
ہانیہ اسے سمجھاتی ہے کہ سب ٹھیک ہے تم گھبراؤ مت۔
لیکن آمنہ ایک ہی رٹ لگائے رکھتی ہے کہ مجھے واپس جانا ہے مجھے لگ رہا کچھ غلط ہونے والا ہے ۔
سارہ جھنجھلاتے ہوئے کہتی ہے وہ تو تمہیں ہر وقت لگتا ہے ۔
آمنہ تمہیں مجھ پر یقین ہے یا نہیں ۔ہادی مجھے تم پر پورا یقین ہے ۔
میں تم تینوں کی حفاظت ہر حال میں کروں گا یہ کہہ کر ہادی نے ایک بار پھر گاڑی چلانا شروع کر دی ۔
آمنہ انہیں بتاتی ہے کہ اسے شروع سے ہی سفر سے ڈر لگتا ہے ۔
آمنہ تم کس دنیا کی مخلوق ہوں ہادی اسٹیرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتا ہے “تمہیں معلوم ہے سفر کرنے سے ہی دنیا کے راز باہر آتے ہیں ۔سال تو گزر جاتے ہیں لیکن لمحات یاد رہ جاتے ہیں ۔”
ہانیہ میرے خیال سے “ہم جہاں تک سفر کر سکتے ہیں ہمیں وہاں تک سفر کرنا چاہیے ہم جتنی دور جا سکتے ہیں ہمیں اتنی دور جانا چاہیے ۔کیونکہ زندگی ایک جگہ ٹھہرنے کا نام نہیں ہے ۔”
سارہ کہتی ہے میں تم دونوں سے راضی ہو ” سفر ہمیں بہت سے اسباق سکھاتا ہے ہر سفر کی ایک پراسرار منزل ہوتی ہے جسے مسافر بھی نہیں جانتا ہوتا “
تو آمنہ بی بی اپنا کلیجہ بڑا کرو اور نہ ختم ہونے والے سفر پر چلو ۔
ہانیہ سارہ کو ٹوکتی ہے کہ آمنہ کو مت ڈرائو ۔
اس کے بعد گاڑی میں خاموشی چھا جاتی ہے ۔وہ لوگ دوپہر کے ایک بجے آخر کار اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔
حویلی کے باہر ایک بورڈ لگا ہوتا ہے جس پر Par-Excellence Mansion لکھا ہوا ہے ۔ یہ ایک لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “عالیشان حویلی “۔
وہاں اس حویلی کے علاوہ اور کوئی گھر نظر نہیں آتا ۔وہ سارا علاقہ غیر گنجان آباد ہوتا ہے ۔پتھریلا سا علاقہ ہوتا ہے ۔وہاں کی ہوا بھی غیر مانوس تھی۔عجیب طرح کی خاموشی ہر جگہ چھائ ہوتی ہے ۔
ہانیہ اپنے بیگ میں سے چابیوں کا گچھا نکال کر ہادی کو پکڑاتی ہے ۔
ہادی ایک چابی کی مدد سے حویلی کا دروازہ کھولتا ہے ۔
ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﭘﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﺎﺭﻭﮞ
ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﻮﺍﺭﮮ ﭘﺮ
ﭘﮍتى هے ﺟﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ
ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ
ﮐﺎﻓﯽ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﮨﮯ ﻓﻮﺍﺭﮮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻧﯿﻢ ﮐﺎ
ﺩﺭﺧﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺷﺎﺧﯿﮟ
ﺯﻣﯿﻦ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ
ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻓﻮﺍﺭﮦ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﮔﻼ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ صوفے
ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺻﻮﻓﻮﮞ ﭘﺮ
ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﺎﺩﯼ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ
ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﺎﺩﯼ ﺑﺎﮨﺮ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ
ﻻﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ
ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﺎﺩﯼ ﺍﺗﻨﮯ
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﺁﮔﯿﺎ
ﺁﻣﻨﮧ ﺗﻢ ﻟﮍﮐﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﺭﺍ
ﺁﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ
ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﺎﺩﯼ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮﺍﺏ
ﻣﯿﻨڈﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﭨرا رهى
ﮨﯿﮟ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺮﯾﮏ
ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ
ﮨﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﮨﻨﺴﯽ ﻧﻮﻥ ﺳﭩﺎﭖ ﭼﻠﺘﯽ
ﮨﮯ ﭼﻠﻮ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻤﺮﻭﮞ ﮐﻮ
ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﭨﮫ
ﮐﺮ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺗﻨﮓ ﺳﯽ ﮔﻠﯽ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﺎﺭ ﭘﯿﻨﭩﻨگز ﻟﮕﯽ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭ
ﮐﻤﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ
ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ هادى ﭘﮩﻠﮯ
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﮐﭽﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ڈﺍﺋﻨﻨﮓ ﭨﯿﺒﻞ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻭ ﮐﻤﺮﮮ ﺑﯿڈ ﺭﻭﻣﺰ ﭘﺮ
ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﺎﺩﯼ ﺳﺎﻣﺎﻥ
ﮐﻤﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ
ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺩﯼ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﻣﻨﮧ
ﮨﺎﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ
ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻓﺮﯾﺶ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ
ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﺎ
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﻓﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ ﻭﮦ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻠﮑﺎ
ﭘﮭﻠﮑﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻓﺮﯾﺞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ نکالتے ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﮐﺮ ﺳﻮ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﭼﮫ ﺑﺠﮯ ﺳﺐ
ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ
ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ
ﺻﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟﺳﺎﺭﺍ
ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎنےﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ
ﺳﺐ ﭼﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ
ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ
ﺗﻨﮓ ﮔﻠﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ
ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ
ﮨﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﺎﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﮨﯿﮟ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺸﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ
ﮨﺎﻧﯿﮧ ﺍﺱ ﺷﯿﺸىے ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ
ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﺐ
ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: