Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 3

0

پراسرار کتاب از رمشا افتخار – قسط نمبر 3

–**–**–

ہانیہ شیشے کو ہاتھ لگا کر اندر داخل ہوتی ہے۔تو باقی سب بھی اس کے پیچھے چلے آتے ہیں۔سارہ چھت کی طرف دیکھا تو وہاں مختلف رنگوں کے چھوٹے چھوٹے فانوس لگے ہوتے ہیں سارہ جھرجھری لیتے ہو ۓ کہتی یے یہ سب کتنا خوفناک ہے۔ہانیہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہے یار “اگر پراسرار چیزیں دیکھنی ہے تو پراسرار راستوں پر چلنا پڑتا ہے”
ان سب کمروں پر تالے لگے ہوۓ ہیں ہانیہ جاو چابیاں لے کر آؤ۔ہانیہ ہادی کے کہنے پر چابیاں لینے چلی جاتی ہے۔لیکن آمنہ اسے چابیاں لانے سے منع کر دیتی کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ “صدیوں سے بند پڑے دروازے نہیں کھولنے چایئے کیونکہ وہ پراسرار ہو جاتے ہیں” سارہ ہنستے ہوۓکہتی ہے آمنہ بی بی یہ کس فلم کا ڈائیلاگ ہے وہ بھی بتا رو۔آمنہ غصے سے جواب دیتی ہے یار ہر وقت مذاق اچھا نہیں ہوتا۔ہادی انہیں چپ کرواتا ہے اور ہانیہ کو آنکھوں سے اشارہ کرتا ہے کہ ہم بعد میں دیکھ لے گے۔وہ سب واپسی ٹی وی لاؤنج میں واپس آ جاتے ہیں۔
صوفوں کے دونوں اطراف سے سیڑھیاں اوپر کو جاتی ہے۔صوفے کے دائیں طرف سیدھ میں ایک آتش دان بناہوتا ہے اور پاس ہی ایک پیانو پڑا ہوتا ہے۔دائیں طرف کی سیڑھیوں کے پاس ایک پرانے طرز کا ٹیلیفون پڑا ہوتا ہے۔اور بائیں طرف کی سیڑھیوں کے پاس ایک نقلی گلاب کا گملہ پڑا ہوتا ہے۔وہ سب اوپر چلے جاتے ہیں ۔
پہلی منزل کے درمیان میں ایک مجسمہ پڑا ہوتا ہے جو انتہائی خوفناک لگتا ہے یہاں بھی دائیں اور بائیں دونوں اطراف تنگ گلیاں ہوتی ہے لیکن یہاں دونوں اطراف چار,چار کمرے ہوتے ہیں لیکن سب کمرے کھلے ہوتے ہیں۔
مجسمے کے دونوں اطراف سے سیڑھیاں اوپر جا رہی ہوتی ہے ۔وہ چاروں بھاگتے ہوے اوپر کی طرف جاتے ہیں۔دوسری منزل کے درمیان میں ایک بڑا وال کلاک لگا ہوتا ہے جو انسانی قد سے بھی بڑا ہوتا یے۔باقی کمروں کی تعداد ہر چیز ایک جیسی تھی۔
وہ سب ٹی وی لاؤنج میں واپس آتے ہیں اور صوفوں پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔سارہ ٹیلیفون کو گھوماتی ہے اور کہتی ہے اس ٹیلیفون کی سمجھ نہیں آرہی اس بیچارے کا یہاں کیا کام جب کے یہاں سگنل بھی نہیں آتے ۔ہادی قہقہ لگا کر جواب دیتا ہے تمھارے کھیلنے کے لیے رکھا ہو گا ۔
سارہ منہ بسورتے ہوۓہانیہ سے پوچھتی ہے کہاں ہے تمھارے پاپا کا نوکر مجھے بہت لگی ہے ۔یارمجھے نہیں پتہ سگنل آتے ہوتے تو پاپا کو کال کر ک پوچھ لیتی۔لیکن اب کھانا کون بناۓ گا۔
سارہ منہ بسورتے ہوۓہانیہ سے پوچھتی ہے کہاں ہے تمھارے پاپا کا نوکر مجھے بہت لگی ہے ۔یارمجھے نہیں پتہ سگنل آتے ہوتے تو پاپا کو کال کر ک پوچھ لیتی۔لیکن اب کھانا کون بناۓ گا۔ہادی اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کرتا یے اور خوشی سے کہتا ہے تم تینوں کھانا بناؤ گی۔اپنے لیے جو مرضی بنا لینا لیکن میرے لیے بریانی ,چکن کڑاہی اور میٹھے میں کھیر بنا دینا۔ہانیہ اس کی طرف پیار سے دیکھتے ہوۓ کہتی ہے بس اتنی سی فرمائش کچن میں جاتی ہے میری جوتی ۔ہانیہ میڈم جب تمہاری جوتی کچن میں جاۓ گی تم خودبخود کچن میں پہنچ جاؤ گی۔
آٹھ بج جاتے ہے لیکن ان تینوں میں سے کوئی بھی کچن میں جانے کے لیے رضامند نہیں ہوتا لیکن وہ اس بھوک کا کیا کرتی جو انہیں زوروشور سے لگی ہوئی تھیں۔آخر کار وہ کچن میں چلی جا تی ہے۔
تھوڑی دیر بعد آمنہ ہادی کو ڈائننگ ٹیبل پر آنے کو کہتی ہے ہادی جب وہاں جاتا یے تو ان تینوں کے چہرے پر اتنی بڑی بڑی مسکان ہوتی ہے جیسے انہوں نے کوئی آسکر جیت لیا ہوں۔ہادی ٹیبل کی طرف دیکھتا ہے تو وہاں fries اور coke پڑی ہوتی ہے۔ہادی غصے سے ان تینوں کی طرف دیکھتا ہے زبان تم تینوں کی قینچی کی طرح چلتی ہے کچھ بنانا آتا یے نہیں۔ہانیہ سے اپنی بے عزتی ہضم نہیں ہوتی اور جھٹ سے جواب دیتی ہے تمہاری کونسا کم چلتی ہے جا کر بنا لو اپنے ہاتوں سے۔ہادی غصے سے کچن کی طرف چلا جاتا ہے۔جب کے وہ تینوں آرام سے ٹیبل پر بیٹھ کر fries سے انصاف کرتی ہیں۔
ہادی ایک گھنٹے میں زبردست بریانی تیار کر کے لاتا ہے جس کی خوشبو ماحول میں رچ بس جاتی ہے۔ہادی میز پر بیٹھ جاتا ہے اور انہیں بھی کھانے کی دعوت دیتا ہے۔سارہ اور آمنہ اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بریانی پر ٹوٹ پڑتی ہے۔لیکن ہانیہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتی۔اور اسکی بےوفا دوستیں بریانی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملارہی ہوتی ہے۔وہ میز سے اٹھ کر چلی جاتی ہے۔لیکن ان تینوں نے نہ اسے روکا اور نہ کھا نے کی دعوت دی۔ہانیہ بربڑاتی ہوئی اپنے بستر میں لیٹ جاتی ہے۔ایک دن نہیں کھاؤ گی تو کونسا مر جاؤگی میں بدتمیزو نے روکا تک نہیں کتنی اچھی خوشبو آ رہی تھیں۔
اتنے میں اس کی بے وفا دوستیں کمرے میں آتی ے اور اسے کہتی ہے تم نے بہت زبردست بریانی مس کر دی ہانیہ انہیں لائٹ بند کرنے کا کہتی ہے اور وہ سب سو جاتی ہے ۔
رات کے دو بجے ہادی کو باہر سے آوازیں آتی ہیں وہ کچن میں جا کر دیکھتا ہے تو ہانیہ شیلف پر بیٹھی بلی کی طرح بریانی کھا رہی ہوتی ہے۔وہ چپ چاپ واپس آپنے کمرے میں چلا جاتا ہے ۔
وہ سب صبح تقریبا 11بجے اٹھتے ہیں ۔ہادی سب کے لیے ناشتہ بناتا ہے۔کھانے کے دوران سارہ انھیں کہتی ہیں اب یہاں ہم 9دن کیا کریں گے نہ سگنل ہے نہ ٹی وی ہے ۔
نہ بندہ ہے نہ بندے کی ذات ہے۔
اچھا اب بس کرو رونا تمہیں پہلے ہی معلوم تھا یہاں ایساکچھ نہیں ہے۔
فرینڈز ایسا کرتے ہیں ناشتہ کرنے کے بعد لائبریری چلتے ہیں میں نے کل اوپر کے کمرے میں دیکھی تھیں۔
ہانیہ بی بی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اگر یہاں آ کر بھی کتابیں پڑھنی ہیں تو میں گھر ہی رہتی ۔سارہ نے تپ کر جواب دیا۔سب اس کے تپنے پر بہت ہنسے۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ سب لائبریری چلے گے۔کتابوں کی دنیا میری سب سے پسندیدہ جگہ ہے ہانیہ نے ریکس پر ہاتھ پھیرتے ہوۓکہا “لائبریری ایک ایسی جگہ ہے جہاں خیالات پیدا ہوتے ہیں ۔انسان تاریخ جسے آگاہ ہوتا ہے۔عروج پر جاتا ہے۔زوال سے ملتا ہے۔اتنا خھزانہ جزیروں پر بھی نہیں ہوتاجتنا کتابوں سے انسان حاصل کرتا ہے۔جتنی خوشی کتابیں پڑھنے میں ملتی ہیں اس جیسی خوشی کہیں اور نہیں ملتی۔اگر آپ کے پاس لائبریری ہے تو آپ کے پاس دنیا کی ہر چیز ہے”
وہ چاروں ریکس سے کتابیں نکالتے ہیں کبھی ایک ریکس سے دوسرے ریکس کی طرف جاتے ہیں۔کتابیں بہت پرانی تھیں اور ان کی جلدیں بھی بہت موٹی تھیں۔
“اکثر کھلی کتابوں میں بھی بند دروازے ہوتے ہیں۔بظاہر کتاب کھلی ہوتی ہے لیکن اپنے اسرار ظاہر نہیں ہونے دیتی”
ہادی نے جب چوتھے ریکس سے کتاب باہر نکالی تو اسے کتاب کے پیچھے سے puzzle کے چھ ٹکڑے ملے۔وہ بچوں والا jigsaw puzzle تھا جسے ان چاروں نے بہت آسانی سے جوڑ لیا۔puzzle کے ٹکڑوں نے جڑنے کے بعد کتاب کی شکل اختیار کر لی۔ہادی اس puzzle کو اٹھا کر واپس اسی ریک پر جاتا ہے تو اسے واپس وہاں چپکا دیتا ہے جہاں اس کی جگہ بنی ہوتی ہے۔جیسے ہی وہ puzzle وہاں چپکاتا ہے۔تو کتاب کا ریک ایک دروازے کی طرح کھل گیا۔اس کے کےاندر ایک کتاب ہوتی ہے جس کی چمک ان چاروں کے چہروں پر پڑتی ہے۔ہادی اور ہانیہ نے جیسے ہی اس کتاب کو اٹھایا تو اس کی چمک ختم ہو گئی۔
اس کتاب کا رنگ سنہرا ہوتا ہے۔جس پر بڑے بڑے حروف میں “پراسرار کتاب” لکھا ہوتا ہے۔
وہ کتاب کو لےکر ٹی وی لائونج میں آجاتے ہیں۔ہادی جب اس کتاب کا پہلا صفحہ کھولتا ہے تو اس پر لکھا ہوتا ہے۔
“یاد رکھو اگر تم مجھ سے بھاگے تو میں تمھارے پیچھے آؤ گی اگر ایک بار مجھے شروع کیا تو ختم بھی کرنا ہو گا۔”
وہ اگلا صفحہ کھولنے لگتا ہے تو آمنہ اسے روک دیتی ہے یار دفع کرو جس کا پہلا صفحہ اتنا بھیانک یے اگلے معلوم نہیں کیسے ہو گے
آمنہ چپ کر جاؤ یہ صرف ایک کتاب ہے ہانیہ نے اسے پیار سے کہاں۔
لیکن سارہ تپ کے بولی یار پہلے یہاں کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اگر اس کتاب کے ذریعے ایک تفریح مل رہی ہے تو کیوں روک رہی ہوں۔
ہادی نے فٹافٹ اگلا صفحہ کھولا تو ان سب کو باہر کےدروازے کی بند ہونے جی آواز آئی وہ سب باہر بھاگے لیکن تب تک دروازہ بند ہو گیا ہادی اسے کھولنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
میں نےتم لوگوں کو کہا تھا مت کھولو یہ کتاب لیکن تم لوگوں نے میری نہیں مانی۔اب تم لوگ کر لو تفریح اور مزے۔
کیا ہو گیا ہے آمنہ دروازہ ویسے ہی بند ہو گیا ہے تمہیں کیا لگتا ہے یہ کتاب کی وجہ سے ہوا ہے۔
ہادی نے ان کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ اگلا صفحہ کھولا جس پر لکھا ہوا تھا۔
“اس کتاب میں سات پہیلیاں ہیں جنھیں تم حل کیے بغیر یہاں سے باہر نہیں جا سکتے۔ہر پہیلی چوبیس گھنٹے میں حل کرنی ہو گی ورنہ انجام کے ذمہ دار تم لوگ خود ہو گے”
تم لوگ جو مرضی کرو میں اس کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہتی مجھے واپس جانا ہے آمنہ بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی تھیں
ہانیہ اسے سمجھاتی ہے کہ ہم یہاں 10دن کے لیے آۓ ہیں ۔ہم 10 دن کے بعد ضرور واپس جائیں گے اپنے حوصلے بلند رکھو اور “ایک پر اسرار مہم پر جانے کے لیے تیار ہو جاؤ اور زندگی سے لطف اٹھاؤ” ہم تینوں تمہیں ہر مصیبت سے بچا لے گے ۔آمنہ کچھ پر سکون ہوئی
تو ہادی نے اگلا صفحہ کھولا لیکن وہاں کچھ بھی لکھا نہیں ہوتا۔آمنہ کی خوشی سے باچھیں کھل جاتی ہے۔لیکن باقی تینوں کے چہرے لٹک جاتے ہیں۔
آمنہ بی بی اب تو تم خوش ہو گئی ہو کھیل شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گیا۔ہادی کتاب بند کر کے صوفے پر پھینگ دیتا ہے اور کچن میں کھانا بنانے جے لیے چلا جاتا ہے کیونکہ اسے ان تین نکمیوں سے کوئی امید نہ تھی۔
تھوڑی دیر بعد ہانیہ کچن میں آتی ہے
ہادی اسے بیٹھنے کی دعوت دیتا ہے
ہانیہ وہی کرسی پر بیٹھ جاتی ہے۔
ہانیہ مجھے غور سے کھانا بناتے ہوۓ دیکھو۔
ہانیہ حیرانگی سے میں تمہیں کس خوشی میں دیکھو وہ بھی غور سے۔
اس خوش میں تا کہ تمہیں آدھی رات کچن میں بلی کی طرح چوری چھپے آ کر کھانا نہ پڑےبلکہ اپنے ہاتھوں سے بنا کر خود کھاؤ۔
تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے رات میں بریانی کھائی تھی۔
مس ہانیہ میں نے تو بریانی کا نام نہیں لیا۔
تم بہت برے ہو ہادی وہ پاؤں پٹختی باہر چلی جاتی ہے۔
وہ رات کو چپ چاپ ان سب کے ساتھ ہی کھانا کھاتی ہےکوئی نخرہ نہیں دیکھاتی ۔ہادی اسے دیکھ کر بار بار مسکراتا ہے لیکن ہو کھانے کے ساتھ پورا انصاف کرتی ہے ۔
رات میں ہادی پیانو بجا بجا کر اور اس کے اوپر بے سرا گانا گا کر ان کا سر کھا جاتا۔
بے تحاشا enjoyکرنے کے بعد وہ سب 11 بجے سو گۓ
لیکن جیسے ہی رات کے بارہ بجتے ہے گھر کا الارم پورے زوروشور سے بجتا ہے۔وہ سب ڈر کے مارے اپنے کمروں سے باہر آجاتے ہیں لیکن سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے ۔ہادی باہر کے دروازے تک جاتا ہے لیکن وہ ابھی تک بند ہوتا ہے ۔لیکن الارم ابھی تک بج رہا ہوتا ہے
ہانیہ چینختی ہوئی ایک طرف اشارہ کرتی ہے تو باقی سب بھی اس طرف دیکھتے ہیں
صوفے پر پڑی کتاب چمک رہی ہوتی ہے۔ہادی آگے بڑھ کر کتاب اٹھاتا ہے اور صفحہ نمبر تین کھولتا ہے تو وہاں پہیلی نمبر ایک لکھی ہوتی ہے۔ہادی وہی صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھتا ہے اور اونچی آواز میں پہیلی پڑھتا ہے
“ہر کتاب خونی ہوتی ہے۔ہر کتاب پیاسی ہوتی ہے۔ہر کتاب کو سیراب کرنا پڑتا ہے ۔کبھی لفظوں سے’کبھی روح سے’کبھی آنسوؤں سے اور کبھی کبھی خون سے”۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: