Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 4

0

پراسرار کتاب از رمشا افتخار – قسط نمبر 4

–**–**–

ہادی کی آواز ان تینوں کو جیسے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔حوصلہ رکھو تم سب گم صم کیوں ہو گے ہوں ۔ہانیہ کو اس کی بات سن کر جیسے ہوش میں واپس آئی ۔یہ تو صرف ایک کھیل ہے ہم چوبیس گھنٹوں میں اس کا جواب ڈھونڈ لےگئے ۔آمنہ نے ڈرتے ہوئے کہا اگر ہم نہ ڈھونڈ پائے ۔آمنہ بی بی ہم ڈھونڈ لے گئے تم نحوست نہ پھیلاؤ سارہ نے غصے میں کہا ۔
مل کر ڈھونڈے گے تو جواب مل۔جائے گا ۔چلو بہادر لڑکیوں سو جاؤ صبح اٹھ کر اسے حل کریں گے۔
صبح دن کے بارہ بجے الارم پھر بجتا ہے وہ سب پھر ہڑبڑا کر کمروں سے باہر آ گئے ۔دوستوں بارہ گھنٹے گزر گئے بارہ گھنٹے رہ گئے ۔ہانیہ نے فٹافٹ سے کتاب کھولی اور پہیلی کو ایک بار پھر پڑھا
ہادی یہ دیکھو اس صفحے پر دو نشان ہے یادی نے ان نشانوں پر ہاتھ پھیرا تو ایسا محسوس ہواجیسے دو قطروں کے نشان ہے۔ہادی آمنہ کو چائے بنانےکے لے بھیج دیتا ہے ۔
پہیلی کے مطابق کتاب کو چار چیزوں سے سیراب کیا جا سکتا ہے ۔
لفظ ۔روح۔آنسو اور خون
سارہ نے جھٹ سے کہا قطروں کے حوالے سے اس پر خون اور آنسو سیٹ ہو سکتے ہیں ۔سارہ کچن سے پانی اور کیچپ کی بوتل لاتی ہے۔
ہادی قطروں کے نشان پر باری باری پانی اور کیچپ لگاتا ہے لیکن وہ خود بخود صاف ہو جاتے ہیں ۔
ہانیہ نے ہنستے ہوئے کہا یار کتاب بہت تیز یے اسے بھی معلوم ہے کہ ہم لفظی بوندا باندی کر رہے ہیں ۔
ہانیہ مجھے تو لگ رہا اس پر ااصلی آنسو کے قطرے لگنے ہے۔ہم آنسو کہاں سے لے آئے کوئی وجہ بھی تو ہو رونے کی ۔
میں ایک منٹ میں آیا ہادی یہ کہہ کر کچن میں جاتا ہے اور وہاں سے چھری اور پیاز لے کر آتا ہے اور ان کے پاس بیٹھ کر پیاز کاٹنا شروع کر دیتا ہے ۔ان چاروں کی آنکھوں سے ایسے پانی برسنا شروع ہو جاتا ہے جیسے بارش ہو رہی ہوں
وہ چاروں باری باری اپنے آنسو کتاب یر لگاتے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
ہادی تم تو پیاز کاٹنا بند کرو ۔جو حکم محترمہ مجھے تو پہلے ہی ڈر لگ رہا تھا کہیں سیلاب نہ آ جائے ۔
سب چائے پینا شروع کرتے ہیں ۔ہادی چائے پیتے پیتے رک جاتا ہے اور چھری اٹھا کر اپنے انگوٹھے پر ہلکا سا کٹ لگاتا ہے اور خون اس قطر ے پر لگاتا ہے تو وہ قطرہ چمک اٹھتا ہے ۔ہادی دوسرے قطرے پر بھی خون لگاتا ہے لیکن وہ صاف ہو جاتا ہے ۔
ﺍﺱ ﻗﻄﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﻥ ﮐﯿﻮﮞ
ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ۔ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮓ
ﺭﮨﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻗﻄﺮﮮ ﭘﺮ ﮨﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎ
ﺧﻮﻥ ﻟﮕﻨﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ
ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﺩﯾﺎ ۔
ﮨﺎﻧﯿﮧ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ
ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ۔ﺍﺳﺎ
ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﮨﺎﺩﯼ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﺮﻣﯽ
ﺳﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﭘﺮ
ﮨﻠﮑﺎ ﺳﺎ ﮐﭧ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﺮ
ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺻﻔﺤﮧ ﭼﻤﮏ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ۔ﮐﮧ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ
ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ
ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮔﻠﯽ ﭘﮩﯿﻠﯽ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﯽ ﺗﮭﯽ
۔
ﺟﺲ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺮﺍ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﺮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ
ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﺎ ڈﺭ ﺍﭘﻨﮯ
ﻋﺮﻭﺝ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ۔
ﺑﺲ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ
ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺍﻥ ﭘﮩﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﯿﮯ
ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ
ﻣﺰﺍ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮨﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻗﺎﺑﻞ
ﺩﯾﺪ ﺗﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﺰﺍ ﺁﯾﺎ ﮨﺎﺩﯼ ﺍﻭﺭ
ﺳﺎﺭﮦ ﯾﮏ ﺯﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ ۔
ﺍﺏ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺁﻣﻨﮧ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ
ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﮔﻠﯽ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ
ﺗﻢ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺮﺩﮦ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰﺍ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺗﻢ
ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﺁﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺩﻝ
ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺑﺎﻗﯽ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻥ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻠﺪﯼ
ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ
ﭘﮭﺮ ﺍﻻﺭﻡ ﺑﺠﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺑﮭﺎﮔﮯ
ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ۔
ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮨﺎﻧﯿﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮭﻮﻟﺘﯽ ﮨﮯ
ﺻﻔﺤﮧ ﻧﻤﺒﺮ ﭼﺎﺭ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﻧﻤﺒﺮ ﺩﻭ
ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺯﯼ ﻣﯿﻨڈﺋﯿﺲ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ”
ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﻮﮞ ﺍﮮ
ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ
ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﮐﭽﮫ
ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ
ﻋﺮﯾﺾ ,ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭼﭩﯿﻞ ﺭﯾﺖ ﮐﺎ
” ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﺎ ڈﺭ ﺍﺱ
ﭘﺮ ﺣﺎﻭﯼ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ﺗﻢ ﭼﭗ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ
ﺳﮑﺘﯽ ﺁﻣﻨﮧ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺍﺗﻨﯽ
ﭨﯿﻨﺸﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺍﮒ
ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺳﺎﺭﮦ ﭼﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ۔
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻢ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﮭﻨﺴﯽ ﮨﻮ۔
ﺁﻣﻨﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﻧﮧ ﺑﻮﻟﻮﮞ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ
ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎﮞ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ
۔۔۔ﮨﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎﭨﯽ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﭗ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ”
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﮨﮯ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﺳﺐ ﺳﮯ
“ﭘﺮﺍﺳﺮﺍﺭ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﻮ
ﮐﮯpuzzle ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ”
ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ۔ﺟﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ
ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ
“ﮨﮯ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮭﻮ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﮔﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﻠﮑﺮ ﻭﮦ ڈﮬﻮﻧڈﻧﮯ
ﮨﯿﮟ ۔ﮨﻢ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺣﻔﺎﻇﺖ
ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﺩﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
ﮔﮯ ﺍﺱ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﮐﺎ۔ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻤﮩﯿﮟ
ڈﮬﻮﻧڈﻧﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﮩﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﭘﯽ ﻟﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﺍﻭﺯﯼ ﻣﯿﻨڈﺋﯿﺲ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ڈﮬﻮﻧڈ ﻟﻮ
ﭘﺮconfidence ﮔﯽ۔ﺁﻣﻨﮧ ﮐﮯ
ﺳﺐ ﻋﺶ ﻋﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﭼﮑﻦ
ﭘﯿﺲ ﺳﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﺎﻧﯿﮧ
ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﮐﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﭘﮍﮬﯿﮟ
ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ۔ﺗﻢ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ
ﮨﺎﻧﯿﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ
ﭘﮩﯿﻠﯽ ﮐﮩﺎ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﮯ
ﺳﺐ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﮐﯽ ﻧﻈﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺯﯼ
ﻣﯿﻨڈﺋﯿﺲ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ۔
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺴﻤﮯ
ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺍﻭﺯﯼ
ﻣﯿﻨڈﺋﯿﺲ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﺴﻤﮯ ﮐﮯ
ﻟﻔﻆ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﻭﺭ
ﺟﺎ ﮐﮯ ﻣﺠﺴﻤﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻭﮦ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺳﺮﻣﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ
ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺗﮭﯽ ۔ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﮧ
ﺑﺎﯾﺎﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﺎ ۔ﺍﺏ ﺁﮔﺌﮯ ﮐﯿﺎ
ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺁﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ﮨﺎﻧﯿﮧ ﺍﻭﺭ
ﺳﺎﺭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻣﻼﺗﯽ
ﮨﮯ ۔ﻭﮦ ﻧﯿﭽﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺻﻮﻓﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ
ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ
ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺻﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
۔ﮨﺎﺩﯼ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ
ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍﮌﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ۔
ﺻﺒﺢ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺍﻻﺭﻡ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯽ ۔ﺍﯾﮏ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﮐﮭﺎ ﻟﯽ ﮨﮯ
ﮨﺎﻧﯿﮧ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ۔
ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ
ﻣﺠﺴﻤﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﯾﺎﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ
ﻣﺠﺴﻤﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ
ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔
ﺁﻣﻨﮧ ﺗﻢ ﺑﻠﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﻧﮓ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻓﭩﺎﻓﭧ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺠﺴﻤﮯ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﭽﮫ
ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ۔ﺳﺎﺭﮦ ﺑﯽ ﺑﯽ ﺍﺱ
ﮐﺎ ﺩﻣﺎﻍ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ
ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮔﺎ ﮨﺎﻧﯿﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺕ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ڈﺍﻟﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ
ﺳﻤﺠﮭﺎ ۔
ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ
ﯾﮧ ﺳﻮﭼﻮ ﻭﮦ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎ۔
یہ سب چھوڑو اور یہ سوچو یہ مانگ کیا رہا ہے ۔کوئی قیمتی چیز مانگ رہا ہے سونے چاندنی یا۔ہیرے کی
لیکن اتنی قیمتی چیز ہم لائے گے کہاں سے ہانیہ نے ہادی کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔
ہادی اس کی گردن کی طرف دیکھتا ہے ہانیہ جب اس کی نظریے اپنی گردن پر محسوس کرتی ہے تو جھٹ سے جواب دیتی ہے سوچنا بھی مت میں یہ پینڈنٹ اپنے گردن سے اتاروں گی۔
سمجھنے کی کوشش کرو یار اس وقت اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ہانیہ اس کی بات سمجھتے ہوئے چپ چاپ پینڈنٹ اتارتی ہے اور جب اس نے مجسمے کے ہاتھ پر رکھا مجسمہ گول گول گھومنا شروع کر دیتا ہے اور اپنی جگہ سے ہٹ جاتا ہے ۔وہاں سے ایک راستہ نظر آتا ہے اور نیچے جانے کے لیے سیڑھیاں بنی ہوتی ہے ۔ہادی موبائل کی ٹارچ آن کرتا ہے لڑکیوں میری بات غور سے سنو پہلے میں نیچے جاؤ گا جب میں آواز دو تب تم لوگ نیچے آنا ۔دھیان سے جانا نیچے ہانیہ نے ہلکی سی آواز میں کہا
ہادی نے ہاں میں سر ہلایا اور نیچے چلا گیا ۔
تقریباً پانچ منٹ بعد ہادی کی آواز آئی اور وہ سب نیچے بھاگی جاتی ہے ۔نیچے آنے پر انہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ ریگستان میں آ گئی ہوں وہاں ہر طرف ریت ہی ریت بکھری ہوئی تھی ۔
ہانیہ تھوڑا چلتی ہے تو اسے ٹھوکر لگتی ہے وہ نیچے بیٹھ کر مٹی سائیڈ پر کرتی ہے تو اس ایک تاج ملتا ہے اس تاج کو دیکھ کر ان چاروں کی آنکھيں چمک جاتی ہے ۔وہ سب بچوں کی طرح مٹی کو کبھی کہیں سے کھودتے ہیں اور کبھی کہیں اور سے۔آخرکار انتھک محنت کے بعد انہیں ایک ہیرا ,ایک میان اور کافی ساری مالائیں ملتی ہیں وہ سب یہ چیزیں لیے کر اوپر آتے ہیں وہ سب مٹی میں بری طرح لدے پھدے ہوتے ہیں ۔ہانیہ آگے بڑھ کر تاج مجسمے کے سر پر رکھتی ہے ۔سارہ اس کے گلے میں ملائیں ڈالتی ہے۔آمنہ اس کی تلوار میان میں ڈالتی ہے۔اور ہادی اس کے ہاتھ سے پینڈنٹ اٹھا کر ہیرا رکھ دیتا ہے ۔مجسمہ اپنی جگہ واپس آ جاتا ہے ۔اور راستہ بند ہو جاتا ہے ۔آمنہ کتاب کھولتی ہے صفحہ چمک اٹھتا ہے اور دوسری پہیلی بھی حل ہو گئی پہیلی نمبر دو کا صفحہ بھی سونے کا ہو جاتا ہے ۔آمنہ اور سارہ نیچے چلی جاتی ہے ۔ہادی پینڈنٹ ہانیہ کو واپس کرتا ہے ہانیہ اسے شکریہ کہتی ہے ۔
“مس ہانیہ میری ایک۔بات یاد رکھیں میرے لیے آپ اور آپ سے جوڑی ہر شے بہت اہمیت کی حامل ہے”ہادی یہ کہہ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ جاتا ہے ۔
پیر کا۔دن آخرکار پورا ہو جاتا ہے رات بارہ بجے الارم بجتا ہےلیکن وہ سب پہلے ہی جاگے بیٹھے ہوتے ہیں ۔آمنہ پہیلی آج میں پڑھوں گی مجھے کل بہت مزا آیا تھا ۔پھر الله پاک ہم پر خیر کریں سارہ ہاتھ بلند کر کہ دعا مانگتی ہے ۔آمنہ اسے نظر انداز کر کے کتاب کا۔صفحہ نمبر 5کھولتی ہے اور پہیلی نمبر تین پڑھتی ہے۔
“جہاں نظر گئی تھیں وہاں جاؤاور پانی کی آبشاریں نکالو “
اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ ہم نے فوارہ ٹھیک کرنا ہے تو وہ ہم صبح ٹھیک کر لے گئے ہادی نے اپنی عقلمندی کا۔مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
ہم نہیں صرف تم ٹھیک کرو گے
کس خوشی میں مس ہانیہ
اس خوشی میں کہ یہ کام مردوں کے کرنے والے ہیں ہمارے صبح اٹھنے سے پہلے ناشتہ بھی بنا ہو اور فوارہ بھی ٹھیک کیا ہو وہ تینوں پیر پٹختی وہاں سے چلی جاتی ہیں اور ہادی بیچارہ ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے
صبح وہ تینوں گیارہ بجے اٹھ کر باہر آتی ہے تو ٹیبل پر ناشتہ پڑا ہوتا ہے اور ہادی باہر فوارے کو صاف کر رہا ہوتا ہے ۔
ہانیہ یار تم بہت لکی ہو دیکھو تمھاری بات ہادی کے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے دیکھو کیسے کام پر لگا ہوا ہے ۔سارہ کی یہ بات سن کر ہانیہ دل ہی دل میں بہت مسکراتی ہے۔لیکن مجھے تو ہادی گدھا لگتا ہے کیا ضرورت ہے اتنی محنت کرنے کی اسے کونسا کوئی اور لڑکی نہیں ملنی آمنہ نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ۔ہانیہ نے اسے مصنوعی غصے سے گھورا تم میری دوست ہوں یا اس کی
میں دونوں کی دوست ہوں میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوتے نہیں دیکھ سکتی ۔
اتنے میں ہادی اندر آتا ہے اگر تم لوگوں کا ناشتہ ہو گیا ہوں تو باہر آ کر میری مدد کرو فوارہ کام نہیں کر رہا میں نے بہت کوشش کی ہے ۔وہ تینوں اس کے ساتھ باہر چل دیتی ہے ۔فوارہ بہت چمک رہا ہوتا ہے ۔ہانیہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتی ہے اور فوارے کی باہری سطح پر ہاتھ پھیرتی ہے ۔
شاباش ہادی ویسے تم کام بہت اچھا کرتے ہوں ۔
شکریہ شہزادی
ہانیہ کو اپنی انگلی کے نیچے کوئی نقش محسوس ہوتا ہے ۔
فوارے گلاب کی شکل کا۔ہوتا ہے ۔تین stepsپر مشتمل ہوتا ہے ۔ھادی تم نے غور کیا یہاں کہیں کہیں سوراخ ہے ۔وہ گنتے ہے تو ٹوٹل 8سوراخ ہوتے ہیں پہلے step پر تین دوسرے پر بھی تین اور آخری پر دو ہوتے ہیں ۔ہانیہ اندر جاتی ہے اور ایک ہرے رنگ کا نگینہ لاتی ہے اور ایک سوراخ کے اوپر رکھتی ہے تو وہاں فکس ہو جاتا ہے ۔دیکھو دوستوں ہمیں اس طرح کے سات نگینے اور ڈھونڈنے ہیں ۔
ہانیہ تم کتنی ذہین ہوں آمنہ اس سے بہت متاثر ہوتی ہے ۔
ہانیہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہتی ہے بس کبھی غرور نہیں کیا
اللّٰہ پوچھے تمھیں اس جھوٹ بولنے پر آمنہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
تمہیں جھوٹ بولنے پر اللّٰہ پوچھے سارہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا ۔
وہ سب کام پر لگ جاتے ہیں اور شام کے سات بجے تک سارے نگینے ڈھونڈ لیتے ہیں ۔
پہلا نگینہ انہیں فوارے کے پاس ہی پڑا ملتا ہے ۔
دوسرا نیم کے درخت کے ساتھ جڑا ہوا ملتا ہے ۔
تیسرا ایک پینٹنگ کے ساتھ لگا ملتا ہے ۔
چوتھا بلب کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ۔
پانچواں ایک دراز میں سے ملتا ہے ۔
چھٹا گلاب کے نقلی پودے سے ملتا ہے ۔
اور آخری آتش دان کی لکڑیوں میں سے ملتا ہے ۔
وہ سب نگینے باہر لاتے ہیں اور انہیں سوراخوں میں لگا دیتے ہیں ۔سارہ اب اس کو کیا تکلیف ہے جو یہ چل نہیں رہا ۔مجھے لگ رہا ہے ہم نے نگینے غلط لگائے ہے ہادی نے نگینوں کو باہر نکال کر غور سے دیکھا تو ان پر انگلش کے alphabet لکھے ہوئے تھے ۔اور ان سوراخوں پر بھی غور کرتا ہے تو f,o,u,n,t,a,i,nلکھا ہوتا ہے اور نگینوں پر بھی یہی لکھا ہوتا ہے ۔ہادیfوالا نگینہ fوالی جگہ پر لگاتا ہے اور o والی جگہ پر o والا نگینہ لگاتا ہے اسی طرح باقی سب نگینوں کو فٹ کرتا ہے جیسے ہی وہ آخری نگینہ لگاتا ہے تو پانی کی آبشاریں باہر نکلتی ہے اور ان چاروں کو بھگو دیتی ہے ۔وہ چاروں اندر بھاگے جاتے ہیں ۔آمنہ کل مٹی نے گندا کیا آج پانی نے بھگو دیا کل کہیں روشنی ہمیں روشن نا کر دیں اور اپنی بات پر خود ہی ہنس دیتی ہے ۔۔
رات کو سب مل جل کر کھانا کھاتے ہیں اور واپسی کے دن گنتے ہوئے اپنے کمروں میں جا کر سو جاتے ہیں ۔رات کے الارم سے کسی کی آنکھ نہیں کھلتی ۔سب سوئے رہ جاتے ہیں ۔ہادی کی آنکھ صبح 10بجے کھلتی ہے تو وہ اٹھ کر ہانیہ کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتا ہے ۔لڑکیوں اٹھ جاؤ صبح کے دس بج گئے ہے دس بجے کا۔سن کر وہ سب اٹھ کر فریش ہو کر باہر جاتی ہے ۔سارہ بھاگ کر کتاب اٹھاتی ہے آج میری باری پہیلی پڑھنے کی ۔کتاب کاصفحہ نمبر چھ کھول کر پہیلی نمبر چار کھولتی ہے۔
“میں برسوں سے روشنی کو ترس رہا ہوں ۔میں سانس لینا چاہتا ہوں ۔میں آزاد ہونا چاہتا ہوں ۔اور روشن ہونا چاہتا ہوں ۔”
بھلا روشنی کس جگہ نہیں جا سکتی ۔ہانیہ نے جھٹ سے جواب دیا روشنی بند دروازوں کے پیچھے نہیں جا سکتی ۔
ہادی مطلب اب ہمیں اب وہ بند دروازے کھولنے ہے ۔ناشتے کے بعد ہانیہ اپنے بیگ میں سے چابیاں نکال کر ہادی کو دیتی ہے ۔ہادی دروازہ کھولنے کوشش کرتا لیکن دروازہ نہیں کھلتا ۔ہادی تیل کی بوتل لاتا ہے اور سب تالوں کو تیل لگاتا ہے کیونکہ انہیں زنگ لگا ہوتا ہے ۔وہ سب باہر جا کر فوارے کے پاس بیٹھ جاتے ہیں ۔ہادی دوپہر کے دو بجے پھر تالے کھولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے ۔شام کے پانچ بجے پھر کوشش کرتا ہے لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا ۔وہ سب جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ہادی ہتھوڑا لے کر آتا ہے اور تالے پر ہتھوڑا مارتا ہے جتنی زور سے وہ تالے پر ضرب لگاتا ہے اسے اتنی زور سے کرنٹ پڑتا ہے اور ہادی دور جا کر گرتا ہے ۔وہ تینوں بہت گھبرا جاتی ہے ۔اور ہادی کو اٹھاتی ہے۔وقت اپنی رفتار کے ساتھ گزرتا جاتا ہے رات کے گیارہ بج جاتے ہیں وہ سب بنا کھائے پیے اپنے انجام کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔آمنہ سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیتی ہے لیکن اسے کوئی بھی چپ نہیں کرواتا کیونکہ وہ سب خود مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔آخر دن اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے ۔رات کے بارہ بج جاتے ہیں اور الارم بجنا شروع ہو جاتا ہے لیکن اس بار ایسا لگتا ہے جیسے الارم کا لہجہ بدل گیا ہو ۔الارم اتنی زور سے بجتا ہے ان سب کو لگتا ہے کہ وہ مر جائے گے ان کے کان کے پردے پھٹ جائے گے مسلسل الارم بجنے کی وجہ سے وہ سب بے ہوش ہو جاتے ہیں ۔صبح کے چھ بجے ہادی کی آنکھ کھلتی ہے۔ہر طرف مکمل خاموشی چھائی ہوتی ہے وہ ہانیہ اور سارہ کو اٹھاتا ہے ان کے لیے پانی لاتا ہے اور خود بھی پیتا ہے۔پھر تینوں کو خیال آتا ہے کہ آمنہ وہاں نہیں ہے اس خیال سے تینوں کی جان نکلنے کے قریب ہو جاتی ہے ۔وہ تینوں ادھر ادھر بھاگتے ہے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں پاگلوں کی طرح آوازیں دیتے ہیں وہ سب گھر کا کونہ کونہ دیکھتے ہیں لیکن انہیں آمنہ کہیں نہیں ملتی ۔سارہ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔آمنہ کے ساتھ کیا ہوا ہو گا ہادی کو اچانک خیال آتا ہے وہ کتاب کھولتا ہے چوتھی پہیلی کے صفحے پر ایک چیز کا اضافہ ہوا تھا اور وہ تھا آمنہ ایک دروازے کے پیچھے قید تھی ہادی کے ہاتھ سے کتاب نیچے گر جاتی ہے میں اب تک اس سب کو مذاق سمجھ رہا تھا لیکن یہ کتاب تو ہماری جان لے سکتی ہیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: