Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 5

0

پراسرار کتاب از رمشا افتخار – قسط نمبر 5

–**–**–

یہ کتاب تو ہماری جان لے سکتی ہے۔بس آمنہ مل جاۓپھر ہم سب یہاں سے چلے جاۓ گے۔
ہادی ہم کہیں بھی نہیں جا سکتے ہانیہ نے روتے ہوۓ کہا اگر ہم نے آج بھی یہ پہیلی حل نہ کی تو ہم میں سے پھر کوئی ایک غائب ہو جاۓ گا ۔سارہ صوفے پر بیٹھ جاتی ہے۔ہادی اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے ۔اور ہانیہ باہر جا کر نیم کے درخت کے ساۓ میں بیٹھ کر رونا شروع کر دیتی ہے۔خود کو کوستی ہے کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے آمنہ منع بھی کر رہی تھی لیکن میں نے یہ سب شروع کیا اور اس کی سزا آمنہ کو ملی اچانک سورج بادلوں سے باہر نکلتا ہے اس کی روشنی اندھیرے کو دور کر دیتی ہے اتنے میں دوپہر کے بارہ بج جاتے ہے اور الارم بجنا شروع ہو جاتا ہے اچانک ہانیہ کے دماغ میں روشنی کودتی ہے اور وہ اندر بھاگی جاتی ہے اور زور سے چلانا شروع کرتی ہے مجھے پہیلی کا جواب مل گیا
کیا جواب ہے سارہ نے بے صبری سے پوچھا۔
یہ دروازے روشنی چاہتے ہے یہ چابیوں سے نہیں کھولے گے
ہادی اندر سے ٹارچ لائٹ لاتا ہے اور تالوں پر روشنی ڈالتا ہے لیکن و پھر بھی نہیں کھلتے۔ہادی کی نظر چھت پر جاتی ہے تو وہاں مختلف رنگوں کے ساتھ فانوس لگے ہوتے ہیں ہادی ان رنگوں کے نام منہ میں بار بار دہراتا ہے یہ سب رنگ قوس قزح میں ہوتے ہیں لیکن ان کی ترتیب غلط ہوتی ہے
ہادی ایک سیڑھی لے کر آتا ہے۔اور سب فانوس کی ترتیب بدل دیتا ہے اور قوس قزح کے رنگوں کے مطابق سیٹ کرتا ہے سب سے پہلے red پھر, orange ,yellow ,green ,blue indigo اور آخر میں voilet فانوس لگاتا ہے لیکن تب بھی دروازے نہیں کھلتے ۔ ہانیہ شیشے کی طرف دیکھتی ہے اور شیشے کو ترچھا کرتی ہے تو فانوس کی روشنیاں شیشے سے ٹکڑاتی ہے تو اس سے روشنی کی لہر باہر آتی ہے اور روشنی کی وہ لہر پہلے دروازے پر پڑتی ہے پھر دوسرے تیسرے چوتھے اور پانچویں دروازے پر پڑتی ہے اور کلک کی آواز سے سارے دروازے کھل جاتے ہیں ان تینوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا وہ لوگ پہلے کمرے کا دروازہ کھولتے ہے تو وہ اسلحے سے بھرا ہوتا ہےوہاں توپیں رائفلیں اور بڑی مقدار میں گولیاں پڑی ہوتی ہے ۔
دوسرے کمرے میں مجسمے ہی مجسمے پڑے ہوتے ہیں تیسرا کمرا انسانی ڈھانچوں سے بھرا ہوتا ہے اور انہیں ڈھانچوں میں سے ایک ڈھانچے کے پاس آمنہ بے ہوش پڑی ہوتی ہے دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے ڈھانچے نے اسے اپنی بانہوں میں لیا ہوں ۔وہ اسے اٹھا کر کمرے میں لاتے ہیں ہانیہ اس پر پانی کے چھینٹے ڈالتی ہے وہ ہڑ بڑا کر اٹھتی ہے کیا مصیبت ہے سونے دو مجھے ۔پانی کیوں ڈال رہے ہوں ۔سارہ اور ہانیہ آگے ہو کر آمنہ کے گلے لگ کے رونا شروع ہو جاتے ہیں
آمنہ ان کے رونے کی وجہ سے پریشان ہو جاتی ہے اور ہادی کر طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے
تو ہادی اس کوبتاتا ہے کہ ان دونوں نے ایک برا خواب دیکھا ۔جس میں تم کسی مردے کی بانہوں میں ہوتی ہوں آمنہ اس بات پر دل کھول کر ہنستی ہے بیوقوف ہوں کیا تم دنوں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔اور پہیلی حل ہو گئی
یس ہم نے حل کر دی اور آج کوئی پہیلی نہیں ہے
پھر آج ہم سب بہت مزے کرے گے ۔
آمنہ فریش ہونے چلی جاتی ہے اور وہ تینوں باہر آجاتے ہیں
سارہ شکر ادا کرتی ہے کہ آمنہ کو کچھ بھی یاد نہیں ۔ہانیہ جو بھی ہوا اچھا ہو ا ورنہ اسے سھنبالنا مشکل ہو جاتا ۔
وہ سب کھا نا کھاتے ہے اور سو جاتے ہے ۔
رات 11:30 پہ ہانیہ کی آنکھ کھلتی ہے تو اسے باہر سے آواز آتی ہے وہ اٹھ کر باہر جاتی ہے تو دیکھتی ہے ہادی آتش دان کے قریب بیٹھا کھانا کھا رہا ہوتا ہے ہانیہ اس کے قریب کرسی پر بیٹھ جاتی ہے
لگتا ہے بھوکڑ کو بھوک لگی ہے جو اتنی رات کو اٹھ کر کھا رہا ہے
بس اور کیا کرو یار میرا تم لڑکیوں کی طرح فاقے کر کر کے مرنے کا ارادہ نہیں ہے ۔
ہانیہ اس بات پت مسکرا دیتی ہے ۔اور ہادی سے شکریہ کہتی ہے ہادی اگر تم نہ ہوتے تو معلوم نہیں آج ہم تینوں کے ساتھ کیا ہوتا۔
شکریہ کی ضرورت نہیں میں نے تم لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے ۔جسے میں ہر حال اور ہر قیمت پر پورا کرو گا
ہانیہ خاموش ہو جاتی ہے
ہادی گلہ کھنکھار کر ہانیہ کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔
ہانیہ دل میں کہتی ہے اللہ خیر کریں
“میں ماضی میں اگر کوئی چیز ٹھیک کر تا تو میں تمہیں چھوڑ کر کبھی امریکہ نہ جاتا تم بہت چھوٹی تھی جب میں گیا میں تمہیں یاد نہیں رہا ۔لیکن میں تمہیں بھول نہ سکا ۔تم مجھے ہمیشہ کسی fairy land کىprincess لگتى هوں جس کا prince میں خود کو سمجھتا ہوں ۔ہانیہ اسے ٹوکنے کے لیے لب کھولتی ہے لیکن ہادی اسے یہ کہہ کر روک دیتا ہے کہ پہلے میری بات پوری ہونے دوں۔پھر تمہیں جو جواب دینا ہوا دے لینا۔
“محبت بہت میٹھا اور سادہ سا لفظ ہے۔میں ساری زندگی اس کی تلاش میں رہا لیکن جب میں تم سے ملا تو مجھے لگا میری تلاش پوری ہو گئی ہے تم میری رات کا آخری خیال اور صبح کی پہلی سوچ ہوں۔تم میری خوشی ,میرا دل اور میری دنیا ہوں ۔تم میرے لیے سب کچھ ہوں تم میری جنت ہوں اور میں اس جنت میں ہمیشہ کے لیے شامل ہونا چاہتا ہوں ۔اس دنیا کے لیے تم صرف ایک لڑکی ہو لیکن میرے لیے پوری دنیا ہوں۔جب میں تمھاری آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے روح کا آئینہ نظر آتا ہے تم میری امید اور میرا خواب ہوں “
وہ یہ کہہ کر ہانیہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہے ہانیہ اس سے نظریں چرا لیتی ہے اور کہتی ہے
“میں اچھی لڑکی ہوں لیکن فرشتہ نہیں ہوں
میں گناہ کرتی ہوں لیکن شیطان نہیں ہوں
میں اس بڑی دنیا میں سچ میں ایک چھوٹی سی لڑکی ہوں لیکن میری بہت سی خواہشات ہے میں انہیں پورا کرنا چاہتی ہوں “
اتنے میں الارم بجنا شروع ہو جاتا ہے آمنہ اور سارہ بھی آجاتی ہے انہیں دیکھ کر ہانیہ چپ ہو جاتی ہے
ہادی کتاب کھولتا ہے اور پہیلی نمبر پانچ پڑتا ہے
“چھوٹے چھوٹے ٹکڑےمل کر ہی بڑی تصویر بناتے ہیں “
اور اس صفحے پر پہیلی کے نیچے ایک مستطیل شکل کا خاکہ بنا ہوتا ہے آمنہ بمشکل آنکھیں کھول کر کہتی ہے ہم اسے صبح حل کریں گے تینوں ملکر کہتے ہے نہیں پہلے پہیلی حل کرنی ہے۔
تینوں نے ملکر کہا نہیں پہلے پہیلی حل کرنی ہے۔
پہلے تو ہم اٹھ کر پہیلی حل کرتے تھے آمنہ نے حیرانگی سے کہا۔
لیکن آج سے ہم پہلے پہیلی حل کریں گے پھر بعد میں مزے کریں گے ۔
سارہ نے پہیلی پر انگلی پھیرتے ہوے کہا پہیلی کا اشارہ اس گھر میں لگی پینٹنگز کی طرف ہے ۔
ہادی نے ہاتھ جھاڑتے ہوۓکہا پھر دیر کس بات کی لگ جاؤ سب پینٹنگز اکٹھا کرنے پر۔
وہ چاروں کام پر لگ جاتے ہیں اور دو گھنٹے میں گھر کے کونے کھدروں سےپینٹنگز اکٹھا کر کے لاتے ہیں ٹوٹل سولہ پینٹنگز ہوتی ہے۔
ان میں سے چار چار پینٹنگز رنگ کے لحاظ ڈے ایک جیسی
ہوتی ہے۔ہانیہ زمین پر بیٹھ کر ایک جیسی رنگ کی پینٹنگز کو آپس میں ملاتی ہے تو “ق” کی شکل بنتی ہے۔آمنہ اگلی چا پینٹنگز کو اکٹھا کرتی ہے تو “ب” کی شکل بنتی ہے
اگلی چار کو اکٹھی کرنے سے “و” کی شکل بنتی ہے
ہادی آخری چار کو اکٹھا کرتا ہے تو “ر”کی شکل بنتی ہے
تمام حروف تہجی کو اکٹھا کرنے سے لفظ “قبور”بنتا ے۔
قبور کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔
قبور عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب “تہہ خانہ ” ہے ہادی نے ان سب کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوۓ کہا۔
تمہیں یہ کیسے پتہ سارہ نے حیرانگی سے پوچھا ۔
کیونکہ مجھے عربی زبان آتی ہے ۔چلو اب سب کام پہ لگ جاؤ ۔وہ چاروں کسی دیمک کی طرح گھر کی چار دیواری اور زمین چیک کرتے ہے لیکن انہیں کہیں بھی تہہ خانہ نہیں ملتا۔صبح کے سات بج جاتے ہیں وہ سب تھک ہار کر صوفوں پر بیٹھ جاتے ۔ہادی صوفے پر بیٹھا کم اور لیٹا زیادہ ہوتا ہے اور اپنا دایاں پاؤں زمین پر مارتا ہےتو اسے عجیب سی آواز آتی ہے وہ اپنا پاؤں زور زور سے زمین پر مارتا ہے تو آواز اور تیز سے آتی ہے وہ سب اٹھتے ہیں اور صوفے سائیڈ پر کرتے ہیں اور قالین اٹھاتے ہیں تو نیچے دروازہ نظر آتا ہے۔
اسے کہتے ہیں “بغل میں چھورا شہر میں ڈھنڈورا” سارہ نے جل کر کہا۔
ہادی دروازہ اوپر کو اٹھاتا ہے اور وہ سب سیڑھیاں پار کر کے نیچے چلے جاتے ہیں ۔توکمرے کے درمیان میں ایک میز پڑاہوتا ہے اور اسکے اوپر چھوٹا سا صندوق تھا ۔ہادی اگے بڑھ کر صندوق کھولتا ہے تو اس میں سونے کی بنی ہوئی گڑیا اور گڈا ہوتا ہے زبردست ان چاروں کے منہ سے اکٹھا نکلتا ہے ہادی گڑیا اٹھاتا اور ہانیہ گڈا اور اوپر آکر وہ دونو اسے کتاب کے بنے ہوۓ مستطیل میں لگاتے ہے تو وہ اس میں سما جاتے ہیں اور پہیلی حل ہو جاتی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 29

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: