Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Last Episode 6

0

پراسرار کتاب از رمشا افتخار – آخری قسط نمبر 6

–**–**–

تو وہ اس میں سما جاتے ہیں اور پہیلی حل ہو جاتی ہے
آمنہ خوشی سے تالیاں بجاتی ہے پہیلی آٹھ بجےحل یوگئی اب ہم باقی سارا دن مزا کریں گے سارہ کچن میں ناشتہ بنا کے لاتی ہے ناشتے کےبعد ہادی کمرے میں چلا جاتا ہےاور سر درد کا بہانہ کرتا ہے وہ تینوں بھی اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے پورا دن بے رونق گزر جاتا ہے رات کے بار ہ بجے الارم پر وہ باہر آتے ہیں
ہانیہ کتاب پکڑتی ہے صفحہ نمبر آٹھ پر پہیلی نمبر چھ پڑتی ہے
“میں اسے جانتی ہوں اور تمہیں اسے تلاشنا پڑتا ہے “
اور اس پہیلی کے نیچے ایک لائن لگی ہوتی ہے اور اس کے سامنے بریکٹ میں تین بار لکھا ہوتا ہے۔
سارہ اندر سے پین لے کر آتی ہے
اور اس لائن پر pizza لکھتی ہے لیکن وہ مٹ جاتا ہے وہ سب بہت ہنستے ہیں آمنہ اس سے پین لے کر basement لکھتی ہے لیکن وہ بھی مٹ جاتا ہے ہانیہ mystery لکھتی ہے لیکن وہ بھی مٹ جاتا ہے
ہادی اس سے پین لے کراردو میں “راز” لکھتا ہے لیکن وہ بھی مٹ جاتا ہے لیکن اس بار ایک تبدیلی آتی ہے تین بار کی جگہ دو بار لکھا رہ جاتا ہے
ایک چانس ضائع ہو گیا مطلب یہاں اردو میں جواب لکھنا ہے وہ سب لائبریری جاتے ہیں مختلف کتابوں کے نام دیکھتے ہیں کتابیں کھولتے ہیں انھیں کھنگالتے ہیں کہشاید جواب مل جاۓ لیکن سب محنت ناکارہ جاتی ہے۔
اچانک سارہ بولتی ہے دوستوں کتابیں “سچ ” بولتی ہے جو ہمیں تلاشنا پڑتا ہے
ہادی کپکپاتے ہاتھوں سے کتاب پر “سچ” لکھتا ہے لیکن وہ بھی مٹ جاتا ہے ۔اب صرف ایک باری رہ جاتی ہے وہ سب آرام سے بیٹھ جاتے ہیں ہانیہ کچن میں جاکر ان کے لیے کھانے کے لیے کچھ لاتی ہیں وہ سب چپ کر کے کھانا کھا لیتے ہیں اسی طرح دوپہر اور شام گزر جاتی ہیں رات بھی اپنے اختتام کی طرف بڑھ وہی ہوتی ہے بارہ بجنے میں ایک منٹ رہ جاتا ہے ہادی پھر کتاب کھولتا ہے اور پین پکڑتا ہے وہ تینوں اس کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے ہادی کتاب پر “تاریخ ” (history) لکھتاہے اور صفحہ چمکتا ہے پہیلی حل ہو جاتی ہے اور الارم بجتا ہے
ہادی صفحہ نمبر نو کھولتا ہے اور پہیلی نمبر سات پڑھتا ہے
“اس ایک مساوات میں تم زندگی کی ہر مشکلات کو حل کر سکتے یوں ہر اندر آنے والے راستے میں ایک باہر جانے والا دروازہ بھی ہوتا ہے”
وہ سب آخری پہیلی دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں ہانیہ اس کا مطلب ہے یہاں باہر جانے کا ایک اور دروازہ بھی ہے ۔ہادی چھ گھنٹے آرام کرتے ہے پھر اٹھ کر ا پہیلی پر کام کر گے وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلا جاتا ہے ۔سارہ ہانیہ سے کہتی ہے میں دو دن سے دیکھ رہی ہوں کہ ہادی نہ تم سے بات کر رہا ہے نہ تیری طرف دیکھ رہا ہے بلکہ تمھاری ہر بات کو نظر انداز کر رہا ہے کیا تم نے اسے کچھ کہا ہے ۔
ہانیہ نہ میں سر ہلاتی ہے نہیں میں نے تو کچھ نہیں کہا۔
آمنہ یہی تو مئسلہ ہےاس نے کچھ نہیں کہا ۔کیا مطلب تمھاری بات کا آمنہ
میری بات کا یہ مطلب ہے کہ ہادی نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا اپنا دل۔دماغ۔گردہ اور پھیپھڑہ اس کے سامنے کھول کے رکھ دیا لیکن اس شہزادی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
اتنی بڑی بات ہوں گئی تم نے آمنہ کوبتا دیا لیکن مجھے نہیں بتایا سارہ نے دکھی لہجے میں کہا
نہیں سارہ ایسی بات نہیں ہے میں نے نہیں بتایا معلوم نہیں آمنہ کو کہا سے معلوم چل گیا
ہانیہ بی بی مجھے کسی نے بتایا نہیں بلکہ میں نے تو خود live دیکھا ہے
مطلب تم چھپ چھپ کہ ہماری باتیں سن رہی تھی
بلکل بھی نہیں میں تو کھڑی ہو کر سن رہی تھی تم لوگوں نے خود میری طرف نہیں دیکھا
سارہ اسے چپ کرواتی ہے اور ہانیہ سے پوچھتی ہے تم نے منع کیوں کیا۔
ہانیہ کچھ بولتی اس سے پہلے آمنہ پھر بول پڑی اس بیچاری کو تو ہاں ناں کرنے کا موقع نہ ملا اور اوراس سے پہلے گھنٹا بجنا شروع ہو جاتا ہے
اچھا یہ بات ہے چلو ہانیہ اٹھ کر جاؤ اور اسے بتا دوں کہ تم بھی اس سے پیار کرتی ہوں ۔
ہانیہ میں کیوں کہو ۔اس گدھے۔بیوقوف۔احمق اور عقل سے پیدل انسان کو نظر نہیں آتا کے میری آنکھوں میں اس کے لیے پیار ہے
واہ کیا بات ہے تمہیں آنکھوں میں پیار نظر آنا شروع ہو گیا پہلے تو تمہیں آنکھیں نظر آتی تھیں سارہ نے جل کر کہا
آمنہ مردوں کو محبت سیدھے سیدھے لفظوں میں سمجھ آتی ہے اس کا ایک ہی حل ہے تم اسے جا کر اپنے دل کا حال بتا دوں
ایسے بتا دو میں کونسا مری جا ری ہوں
اگر ہادی نے کسی اور لڑکی سے شادی کر لی تو
مجھ میں کیا کمی ہے جو وہ کسی اور لڑ کی سے شادی کریں گا
سارہ اور آمنہ اسے بہت سارے منصوبے بتاتی ہے ان دونو ں کے مطابق اگر وہ ان منصوبوں پر عمل کریں گی تو اس کا محبوب اس کے قدموں میں ہوگا
ہانیہ کے پاس ان پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔
صبح چھ بجے وہ سب ناشتے کی میز پر ہوتے ہیں ہادی ناشتہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے سارہ اسے بتاتی ہے یہ سب چیز یں ہانیہ نے اڈ کے لیے بنائی ہے بریڈ ۔جیم۔جوس اور ابلے ہوۓ انڈے ۔ہادی کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہوتا ہے کہ ان ریڈی میڈ چیزوں میں سے ہانیہ نے کیا بنایا ہے لیکن وہ کچھ نہیں کہتا اور چپ چاپ ناشتہ کرتا ہے سارہ اس سے پوچھتی ہے کہ ناشتہ کیسے لگا
اچھا ہے
سارہ یہ الفاظ سن کر ہانیہ کی طرف ایسے دیکھتی ہے جیسے بہت بڑا قلعہ فتح کر لیا ہے ۔
ہادی ناشتے ہے بعد سب کی توجہ پہیلی کی جانب مبذول کرواتا ہے اب ہمیں پہیلی پر کام شروع کونا چاہئیے اس ہم اس گھر کے ایک ایک کمرے ۔دیوار اور فرش کع چیک کریں گے کہیں نہ کہیں باہر جانے کاراستہ ضرور ہو گا۔
ہانیہ ہم پہلے ہی سب کچھ چیک کر چکے ہے ہادی
تو اس بار آنکھیں کھول کر چیک کرنا ہادی پتھر مار انداز میں جواب دیتا ہے
سارہ بات سھنبالتے ہوۓ کہتی ہے ہم دو گروپوں میں کام کریں گے میں اور آمنہ تم اور ہادی
آمنہ اور سارہ گراؤنڈ فلور پر ہی رہتے ہیں
ہادی اور ہانیہ پہلے فلور پر آتے ہیں
ہادی مجسمے کے پاس زمین اور دیوار ٹٹول رہا ہوتا ہے جبکہ ہانیہ اسے دیکھ رہی ہوتی ہے ۔
ہادی اس کی طرف دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے تمھاری طبعیت تو ٹھیک ہے
ہانیہ اسے کہتی ہے ہادی تم بہت زیادہ اچھے اور مخلص ہوں تم وعدہ پورا کرنے والے ہوں ۔
ہانیہ تمہیں نہیں لگتا ہمیں پہیلی کا جواب ڈھونڈ کر یہاں سے جانا چاہئیے
ہانیہ کو ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے زوردار تھپڑ مارا ہوں لیکن وہ چپ رہتی ہے دوپہر بارہ بجے کا الارم بج جاتا ہے لیکن انہیں کچھ نہیں ملتا وہ دونوں نیچے آتے ہیں سارہ اور آمنہ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن وہ بھی نہ میں سر ہلاتی ہے۔
ٹھیک ہے ایک گھنٹہ آرام کوتے ہیں پھر سیکنڈ فلور پر جاۓ گے وہ یہ سب کہہ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے
وہ دونوں ہانیہ سے پوچھتی ہے کہ کیا ہوا۔ ہانیہ انہیں ساری بات بتاتی ہے
سارہ ہاۓ اللہ اس نے ایسا کہا دفع کرو اسے مٹی ڈالو میں تو کہتی ہوں بھول جاؤ اسے تمہیں کوئی اور لڑ کا مل جاۓ گا
آمنہ اسے ٹوکتی ہے کوئی اور لڑکا ہادی جیسا نہیں ہوگا ویسے بھی اتنا نخرہ دکھانا اس کا حق بنتا ہے اس نے کونسا کم تنگ کیا
ٹھیک ہے آخری بار کوشش کرتے ہیں مان گیا تو ٹھیک ورنہ جہنم میں جاۓ۔
ہانیہ اس بات پر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہے
وہ سب جب ایک گھنٹے کے بعد اکٹھے ہوتے ہیں تو ہادی اپنی نظریں ہانیہ پر سے ہٹا نہیں پاتا۔
وہ سچ میں Repunzel لگ رہی ہوتی ہے اس نے جامنی رنگ کا فراک پہنا ہوتا ہے ویسے ہی بالوں کو چٹیا کی ہوتی ہے اس کر بڑی بڑی بھوری آنکھیں چمک رہی ہوتی ہے ہادی اس پر سے مشکل سے نظر ہٹاتا ہے اور وہ سب اوپر چلے جاتے ہیں۔لیکن انہیں کوئی راستہ نہیں ملتا۔
وہ چاروں سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔
آمنہ آج اتوار ہے سب ہمارا انتظار کر رہےہو گے کیا ہم ہمیشہ کےلیے یہاں قید ہو جائے گے ۔
بلکہ نہیں آمنہ “مشکلات کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم رک جائے بلکہ یہ تو ہماری گائیڈلائنز ہوتی ہے۔یہی مشکلات ہمیں سیدھے راستے تک لے جاتی ہے ۔یہی مشکلات ہمیں ہماری قابلیت پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے ۔ہمیں کبھی نہیں ہار ماننی چاہئیے ہمیں کبھی اپنی مشکلات کو اجازت نہیں دینی چاہئیے کہ وہ ہم پر غالب آ جاۓ۔ہر بار ہارنے کے بعد ایک بار پھر جیتنے کے عزم سے کھڑے ہونا چاہئیے ۔تمہیں معلوم ہے کہ ایک مجسمہ ہمیں زندگی کی سب سے بڑی بات بتاتا ہے کہ زندگی میں کچھ بھی ہوجاۓ ہمیں پر سکون رہنا چاہئیے”
ہادی اسے سمجھاتا ہے
وہ چاروں پھر ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھتے ہیں اور نیچے چلے جاتے ہیں آمنہ ایک دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر کہتی ہے کھل جا سم سم کھل جا سم سم ۔ہانیہ اور سارہ اس حرکت پر بہت ہنستی ہے لیکن ہادی نہیں ہنستا وہ کتاب اٹھاتا ہے اور سیڑھیوں کی طرف بھاگتا ہے وہ سب بھی اس کے پیچھے جاتی ہیں۔ہادی لائبریری میں جاتا ہے اور کتاب کو اس کی جگہ واپس رکھتا ہے لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ہادی ہانیہ کی طرف گھوم کر پرپوز کرنے کے سٹائل میں زمین پر بیٹھ جاتا ہے اور اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہتا ہے “کیا تم پر اسرار راستوں پر میری ہمسفر بنوں گی”
ہانیہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آتی ہے اور وہ اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے ہادی زمین پر سے اٹھ جاتا ہےوہ دونوں اس کتاب کو اکٹھے پکڑ کر اس کی جگہ واپس رکھ دیتے ہیں تو کتاب میں سے روشنی نکل کر ان کے چہروں پر پڑتی ہے اوربک ریک کے حصے آپس میں جڑ جاتے ہیں اور ریک اپنی جگہ گھومنا شروع کر دیتا ہے اور اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ جاتا ہے وہ لوگ سیڑھیوں سے نیچے آتے ہیں تو ایک سرنگ آتی ہے سرنگ کے اختتام پر ایک دروازہ ہوتا ہے اس دروازے پر دو ہاتھ بنے ہوتے ہیں ہادی اور ہانیہ اپنا اپنا دایاں ہاتھ وہاں لگاتے ہیں تو دروازہ کھل جاتا ہے ۔اس کےساتھ ہی باہر والا دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے وہ سب اوپر جاتے ہیں تو بک ریک اپنی جگہ واپس آ جاتا ہے وہ لوگ باہر کے دروازے کے پاس جاتے ہیں تو وہ کھلا ہوتا ہے اتنے میں ایک آدمی وہاں آتا ہے اور ان سے کہتا ہے
صاحب آپ لوگوں نے تو دس دن پہلے آنا تھا آپ لوگ آج آۓ ہیں میں روزانہ آ کر دیکھتا تھا دروازہ بند ہوتا تھا آج کھلا نظر آیا تو اندر چلا آیا۔
وہ چاروں اس کی بات پر اسرار سا مسکراتے ہیں

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: