Pyaar Dobara Na Ho Ga Suhaira Awais Urdu Novels

Pyaar Dobara Na Ho Ga Novel by Suhaira Awais – Last Episode 3

Pyaar Dobara Na Ho Ga Novel by Suhaira Awais
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
پیار دوباہ نہ ہوگا از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

یو نو۔۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔۔ اور پتہ ہے اس وقت سے کرتی ہوں۔۔ جب تم نے فرسٹ ٹائم۔۔اپنے اور ردا کے بارے میں سب بتا کر ، شادی سے انکار کرنے کی ریکوئسٹ کی تھی۔۔
مجھے نہیں پتہ کہ یہ کیسے ہوا!! کیوں ہوا۔۔!! لیکن ہوگیا۔۔!!
پتہ نہیں تم میں، اس وقت مجھے ایسا کیا محسوس ہوا تھا کہ میں خود کو روک نہیں پائی۔۔
اور تمہیں پتہ ہے۔۔ مجھے یقین ہے کہ تم بھی جلد ہی میرے بارے میں۔ سیم فیلینگز رکھنے لگو گے۔۔!!
اس لیے میری مانو۔۔ یہ جلنا کڑھنا چھوڑ دو۔۔ اور ہمارے رشتے کے بارے میں ، سیریس ہوکر سوچو۔۔
جو ہونا تھا ہوگیا۔۔
ماضی کو دل پر لگا کر نہیں بیٹھا کرتے۔۔
آئی ہوپ۔۔!! تم میری بات سمجھو گے۔۔!!”
انوشے نے ایک ایک بات۔۔ پورے جذب کے ساتھ۔۔ جہانگیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔۔ بغیر ہچکچائے۔۔ اور بغیر گھبرائے، کہی۔۔
جہانگیر پھٹی پھٹی آنکھیں لیے۔۔ تعجب سے ، اس کے ہر لفظ کو سنتا گیا۔۔
اسے بالکل کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ ایسا محسوس کر سکتی ہے۔۔ یا کرتی ہے۔۔!!
اور اوپر سے۔۔ سچائی میں ڈھلا ہوا۔۔ اس کا صاف، بے دھڑک اور کھرا انداز۔۔ جہانگیر کے ناقابل یقین تھا۔۔
ایسے کیسے۔۔ آسانی سے وہ اپنی محبت کا اظہار کر گئی۔۔
ابھی۔۔ انہوں نے ساتھ میں وقت ہی کتنا گزارا تھا۔۔
جو اس نے ایسے۔۔ یونہی اتنا اچانک۔۔ سب کچھ کہہ دیا۔۔
مگر اس نے ، ضرور کچھ سوچ سمجھ کر ہی اس وقت یہ بات کہی تھی۔۔
بے شک وہ بہت عقلمند، ہوشیار اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔۔
جو بر وقت ہی۔۔ اپنے اور جہانگیر کے رشتے کے درمیان، حائل ، الجھنوں کو ختم کرنا چاہتی تھی۔۔
بے شک وہ بہت عقلمند، ہوشیار اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔۔
جو بر وقت ہی۔۔ اپنے اور جہانگیر کے رشتے کے درمیان، حائل ، الجھنوں کو ختم کرنا چاہتی تھی۔۔
وہ کسی موزوں موقع کا انتظار کرنے میں اپنا وقت نہیں گنوانا چاہتی تھی۔۔
اس کے نزدیک، اظہار اور اقرار کا یہی بہترین وقت تھا۔۔
اور وہ سب کچھ جہانگیر کے بھروسے چھوڑ کر رشتہ ، بگڑتا دیکھ سکتی تھی۔۔
سو اس نے بلا جھجک اور بلا تاخیر، اپنی ساری فیلینگز، جہانگیر کے گوش گزار کر دیں،
دل پر سے پردہ ہٹا کر۔۔ جیسے ایک بوجھ ہلکا ہوا تھا۔۔
جبکہ جہانگیر، تو بے یقین سا۔۔ ابھی تک اس کا اظہار ہی ہضم نہیں کر پایا۔۔ اور نہ ہی کوئی جواب دینے کی ہمت کر سکا۔۔
بھلا کیا جواب دیتا وہ۔۔؟؟
جھڑک دیتا۔۔؟؟
لیکن کیسے۔۔؟؟
انوشے کا مضبوط لہجا تھا۔۔ کہ جس نے جہانگیر کو کوئی بھی فضول رد عمل ظاہر کرنے سے باز رکھا تھا۔۔
انوشے کے لہجے کی سچائی تھی۔۔ جس نے جہانگیر کو ، اسے اور جزبوں کو جھٹلانے سے بعض رکھا۔۔
اگرچہ ، ابھی اس نے یقین نہیں کیا تھا لیکن وہ جھٹلا بھی نہیں سکا۔
بس ابھی تک۔۔ وہ یک ٹک سا ، انوشے کو تکتا گیا۔۔
انوشے۔۔ اپنے بہتے ہوئے جذبات کی رو سے باہر نکلی تو اسے، اپنے کہے لفظوں کا احساس ہوا۔۔
“اللّٰه۔۔!! کہیں ایموشنل ہو کر کچھ زیادہ تو نہیں کہہ دیا ۔۔۔؟؟” اس نے دانتوں میں زبان دباتے ہوئے سوچا۔۔اور ساتھ ہی تھوڑی خجل سی ہوکر ، دوسری طرف منہ موڑ گئی۔۔
اس کی ہارٹ بیٹ۔۔ اب بہت تیز ہونے لگی تھی۔۔
اور اسے اچھی خاصی شرمندگی بھی ہو رہی تھی کہ کیسے منہ پھاڑ کر اتنی بڑی بڑی باتیں۔۔ یوں آرام سے کہہ دیں۔۔!! اف اللّٰه۔۔ اب یہ میرے بارے میں کیا سوچے گا۔۔!! کتنی بے شرم ہوں میں۔۔!! اللّٰه جی۔۔!! اب میں کیسے نظریں ملا پاؤں گی اس سے۔۔!!
چلو کوئی نہیں۔۔ سوچتا ہے تو سوچے۔۔!! میں نے کونسا کوئی غلط کام کیا ہے۔۔!!
انوشے نے دو منٹ میں۔۔ ندامت سے ڈھٹائی کا سفر طے کیا۔۔ اور ساری شرمندگی، بھاڑ میں بھیجتے ہوئے۔۔ بڑے اعتماد سے۔۔ سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔
یہ الگ بات ہے کہ اس کا دل ابھی تک باہر نکلنے کو ہو رہا تھا۔۔
اور جہانگیر۔۔ وہ تو لاجواب سا ہو کر۔۔ ابھی تک انوشے کے چہرے کا طواف جاری رکھے ہوئے تھا۔۔
انوشے نے اپنا رخ اس کی طرف موڑا۔۔
اور وہ اس بار بڑی عزت سے مخاطب ہوئی۔۔ “ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔!! اور کب تک رکے رہو گے۔۔؟؟ چلنا نہیں ہے کیا۔۔؟؟”
ہائے۔۔ اس کے لہجے کی مٹھاس۔۔!!
کوئی اور وقت ہوتا تو۔۔ جہانگیر غش کھا کر گر جاتا۔۔
لیکن اب۔۔ کچھ دیر۔۔ پہلے ملنے والے جھٹکے کے سامنے تو اس کا یہ لہجہ کچھ بھی نہیں تھا۔۔
بہرحال۔۔ اس نے انوشے کے پوچھنے پر ۔۔ اپنی نظریں فوراً اس کے چہرے پر سے ہٹائیں۔۔
کیوں کہ اسے خدشہ تھا۔۔ کہ انوشے کی محبت سے آباد نظریں۔۔ کہیں اسے اپنی طرف نہ مائل کر لیں۔۔
اور اسی پل۔۔ وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ نہیں لے کر جائے گا۔۔۔
ورنہ یہ عورت کسی بھی لمحے۔۔ اس کو اپنے بس میں کر لے گی۔۔!! اس کو اپنا دیوانہ بنا کر چھوڑے گی۔۔
سو اس لیے اس نے کار ریورس کی۔۔اور واپس ، اپنے گھر کی راہ لی۔۔
حالانکہ وہ تقریباً آدھے سے زیادہ سفر طے کر چکے تھے۔۔
لیکن۔۔ بس وہ یہ سب سننے کے بعد۔۔ انوشے کو جاننے کے بعد۔۔ انوشے سے ڈر چکا تھا۔۔ وہ ڈرا تھا کہہ کہیں وہ بھی۔۔ اس کے جذبوں پر ایمان نہ لے آئے ۔۔
وہ ڈرا تھا۔۔ کہ کہیں وہ اس پر یقین نہ کر بیٹھے۔۔
اور وہ ڈرا تھا کہ کہیں۔۔ وہ ردا کو بھلا کر۔۔ اس پر اپنا دل نہ ہار دے۔۔
اور اتنے خدشوں کے ہوتے ہوئے۔۔ کیسے وہ ۔۔ اسے اپنے ساتھ رکھنے کا رزک لے سکتا تھا۔۔!!
سو اس نے ، اسے واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔۔
اسے کار ، واپس موڑتا کرتا دیکھ کر۔۔ انوشے ایک دم کنفیوز ہوئی۔۔
“ارے۔۔ تم نے ریورس کیوں کر دی۔۔؟؟”
“تمہیں گھر چھوڑ کر ، اکیلے واپس جاؤں گا۔۔!!”
اس نے۔۔ سنجیدگی سے کہا۔۔
“کیوں۔۔۔؟” وہ حیران ہوئی۔۔
“سوال نہیں کرو مجھ سے..؟؟” اس نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔۔
“ڈر گئے مجھ سے۔۔؟؟” انوشے نے جانچتی نظروں سے، اس کا چہرہ ٹٹولتے ہوئے کہا۔۔
“شٹ اپ۔۔ انوشے۔۔!! ہر وقت فضول بولتی ہو۔۔!!
تھکتی نہیں ہو۔۔ بار بار الٹی سیدھی باتیں کرکے۔۔!! اب چپ ہو کر بیٹھی رہنا۔۔!! مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے۔۔!!” جہانگیر نے کتراتے ہوئے کہا۔۔
حالانکہ یہ حالت تو انوشے کی ہونی چاہیے تھی۔۔
پر وہ تھی ہی سدا کی ڈھیٹ۔۔!! وہ کب ایسے تکلفات میں پڑنے والی تھی۔۔!!
لیکن۔۔اب اسے تھوڑا افسوس ہوا تھا۔۔ کہ شاید اس نے کچھ زیادہ ہی جلدی اظہار کر دیا تھا۔۔
پر جو بھی ہو۔۔!! اب وہ جہانگیر کو ششیےمیں اتار کر آلو نہیں بنا سکتی تھی۔۔
سو۔۔ وہ اس کا لحاظ کرتے ہوئے خاموش رہی۔۔
اور گھر پہنچنے تک۔۔ کچھ نہ بولی۔۔
وہ لوگ جب گھر واپس پہنچے تو اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔
گھر کا واچ مین جاگ رہا تھا۔۔ سو اس لیے۔۔ وہ کوئی مشکل اٹھائے بغیر گھر میں داخل ہوئے۔۔
اس وقت سب سو رہے تھے۔۔ تو کسی کو ان کے آنے کا پتہ نہیں چلا۔۔
وہ دونوں اپنا اپنا سامان۔۔ کار میں چھوڑتے۔۔ خالی ہاتھ اندر گئے۔۔
جہانگیر بھی ساتھ ہی گیا تھا کیونکہ اس وقت۔۔ اس میں مزید سفر کی ہمت نہیں تھی۔۔
بہت تھک گیا تھا وہ۔۔
اس لیے اس نے سوچا کہ وہ آج رات گھر پر ہی گزار کر۔۔ صبح میں۔۔ دوبارا کراچی کے لیے نکلے گا ۔۔
اس لیے۔۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا۔۔ انوشے کے قدموں کی پیروی کرتا۔۔ اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔۔
اس لیے۔۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا۔۔ انوشے کے قدموں کی پیروی کرتا۔۔ اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔۔
انوشے نے اپنے کمرے کے آگے رک کر، اپنے پرس سے چابی نکالی اور دروازہ کھولا۔
اپنے کمرے میں پہنچتے ہی اسے ایک سکون سا ملا تھا، ظاہر ہے، آج کا دن ہی اتنا تھکا دینے والا تھا۔ خیر، اس نے اپنے اس سکون میں اضافے پلس گرمی کے خاتمے کے لیے جلدی سے اے سی آن کیا اور کمرے کی تاریکی کم کرنے کے لیے نائٹ بلب جلایا۔۔
جبکہ جہانگیر تو کمرے میں داخل ہوتے ہی، ایک لمحے کی بھی دیر کئے بغیر، اپنے بیڈ پر بالکل گرنے والے انداز دھڑام سے جا کر لیٹا، تھکن سے چور وجود، یکدم آرام محسوس کرنے لگا تھا، اس کی حالت یہ تھی کہ اس وقت وہ، اپنے ہاتھ بڑھا کر ، جوتے اتارنے کی زحمت بھی نہ کر پایا۔
وہ کسل مندی سے موندی گئی آنکھوں پر بازو رکھے، گہرے گہرے سے سانس لیتے ہوئے، اپنی تکان دور کرنے کی سعی کر رہا تھا۔ کیوں کہ اس وقت اسے صرف اور صرف آرام کی طلب تھی۔
انوشے ایک نظر، اس کے تھکے تھکے سے وجود پر ڈالتے ہوئے واشروم کی جانب گئی، ہاتھ منہ دھو کر، ذرا سا فریش ہوئی اور سونے کے لیے بیڈ پر پہنچی، وہاں دیکھا تو جہانگیر اتنی سی دیر میں سو بھی گیا تھا، انوشے کے لیے، پندرہ منٹ واقعی اتنی سی دیر تھی،
اس کی نظر، جہانگیر کےسارے وجود سے ہوتی ہوئی پیروں تک گئی، “جوتے بھی نہیں اتارے۔۔!! سست کہیں کا!!” اس نے مسکرا کر سوچا اور آگے بڑھ کر بڑے احتیاط سے جوتے اتارے، اس کی ایک طرف کو لٹکی ہوئی ٹانگ آرام سے بیڈ پر رکھا، ایک نظر اس کے نید میں کھوئے چہرے پر ڈالی اور خود اس کے برابر میں سونے کے لیے لیٹ گئی۔
اتنی تھکن اور سونے کی خواہش کے باعث بھی وہ سو نہیں پارہی تھی، اسے جہانگیر کے واپس چلے جانے کا خیال سونے نہیں دے رہا تھا، اسے بہت افسوس تھا کہ صبح وہ چلا جائے گا اور نجانے پھر کب واپس آئے گا۔۔!! وہ بے چینی سے بار بار کروٹیں بدل رہی تھی، پھر پتہ نہیں اسے کیا سوجھی کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور وضو کر کے آئی۔
اس نے جائے نماز بچھا کر اپنی آج کی ساری قضا نمازیں ادا کیں اور پھر ان کے علاؤہ میں دو رکعت نفل برائے حاجت کی نیت باندھی، نماز پڑھنے کے بعد ، اس نے بہت پر امید سے انداز میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، اور لب ہلائے بغیر، بہت شدت سے دعا کی “اللّٰه جی۔۔!! پلیز۔۔ کسی طرح سے جہانگیر کو روک لیں۔۔ دیکھیں ناں، ویسے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن میں اس فضول آدمی سے دور نہیں رہنا چاہتی۔۔ آپ پلیز ، کچھ کریں ناں، اس کو روک لیں ناں، یہ پاگل ہے، ایویں ہر بات دل پر لے لیتا ہے، اللّٰه جی پلیز۔۔ آپ کسی طرح اسے کچھ دن میرے ساتھ رہنے دیں، پھر دیکھئے گا کہ میں کیسے اس کا دماغ سیٹ کرتی ہوں، لیکن اس میں بھی آپ کو میری ہیلپ کرنا ہوگی۔۔ مجھے پتہ ہے آپ ضرور کریں گے میری ہیلپ، کیوں میں آپ کی اتنی کیوٹ سی، اتنی پیاری سی بندی ہوں، اور مجھے پتہ ہے کہ آپ اپنے پیارے بندوں گی ضرور سنتے ہیں، اس لیے آپ میری بھی سنیں گے،”
وہ یوں ہی کافی دیر ہاتھ اٹھائے، جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے، بالکل بچوں جیسے انداز میں دعائیں مانگتی رہی اور کافی دیر بعد یہ شغل ختم کرکے واپس سونے کے لیے لیٹی۔
اتنی دیر دعائیں مانگنے کے بعد اسے تھوڑی تسلی ہوئی تھی کہ جو بھی ہو ، اللّٰه تعالیٰ ضرور اسے روک لیں گے آخر اتنی دعا جو کی ہے،
××××
صبح ، انوشے کی آنکھ جہانگیر سے پہلے کھلی تھی، اس لیے وہ جلدی سے اٹھ کر فریش ہوئی اور کمرے سے باہر نکل کر کچن تک گئی، وہاں پر حسب توقع اسے اپنی ساس صاحبہ اور جیٹھانی صاحبہ دونوں ہی مل گئیں،ان دونوں کو اسے وہاں دیکھ کر کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی کچن کی کھڑکی سے، جہانگیر کی کار ، پورچ میں کھڑی دیکھ کر آپس میں حیرت کا تبادلہ کر چکی تھیں۔
انہوں نے اپنی مسکراہٹ سے اس کا خیر مقدم کیا۔ “کچھ چاہیے تھا انوشے؟؟ ناشتہ بنادوں تمہارا؟؟” بھابھی نے انڈہ پھینٹتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں بھابھی، کچھ نہیں چاہیے” انوشے نے ڈائنگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر وہاں بیٹھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
انیسہ بیگم ، ٹیبل پر کھانے کے برتن سیٹ کررہی تھیں،
انوشے کے بیٹھتے ہی وہ بھی اس کے ساتھ ، کرسی کھسکا کر بیٹھ گئیں۔
انہیں انوشے کے انداز سے محسوس ہوا تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے، “بیٹا کوئی بات کہنی ہے؟ مجھے تم تھوڑی کنفیوزڈ لگ رہی ہو۔۔!! اور ابھی کل ہی تو وہ نکما پتہ نہیں کیا کچھ بکواس کرکے تمہیں ساتھ لے کر گیا تھا اور اتنی جلدی واپس بھی لے آیا، سب خیر تو ہے ناں بیٹا!!”
“ہائے، آنٹی!! ایک ساتھ اتنے سوال!!” اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے گالوں پر رکھتے ہوئے مصنوعی حیرت سے کہا۔
“ڈرامے نہیں کرو، بات بتاؤ” انیسہ نے بھی لہجے میں مصنوعی سنجیدگی پیدا کرتے ہوئے کہا۔
“آنٹی۔۔ وہ۔۔ دراصل بات یہ ہے کہ میں اپنی مرضی سے جہانگیر کے ساتھ جانا چاہتی تھی اور یہ بات میں نے بتائی نہیں تھی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ پھر وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں لے کر جائے گا۔ اب ہوا کچھ یوں ۔۔ اسے آدھے راستے میں یہ پتہ چل گیا کہ میں اسے بےوقوف بنا کر، اپنی مرضی سے اس کے ساتھ آئی ہوں اس لیے وہ بدتمیز مجھے واپس لے آیا۔۔” انوشے نے منہ بسورتے ہوئے ساری روداد بتائی۔
فریال بھی مسکراتے ہوئے ، اس کی کہانی سے لطف اندوز ہورہی تھی، ساتھ میں اس کے گھل مل جانے والے، فرینک اور بالکل کھرے انداز سے بہت متاثر بھی ہوئی تھی۔
اس نے زندگی میں پہلی بار اتنی اچھی، اسٹریٹ فارورڈ اور پیاری سی لڑکی دیکھی تھی جو شادی کے دوسرے دن ہی اپنی پرابلم، اپنی ساس صاحبہ سے اس طرح شئیر کر رہی تھی جیسے وہ اس کی ماں ہوں۔
“ہمم۔۔ تو یہ مسئلہ ہے۔۔!!” انیسہ بیگم نے پر سوچ انداز میں کہا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتیں۔۔ انوشے پھر سے بول پڑی۔
“جی جی۔۔ بالکل یہی مسئلہ ہے۔۔ اور مسئلہ صرف اتنا سا نہیں ہے۔۔ بلکہ پورا مسئلہ تو یہ ہے کہ میں اسے واپس نہیں جانے دینا چاہتی۔۔یہ فیملی سے کٹ کر رہنے والی حرکتیں مجھے نہیں پسند!! آپ پلیز کچھ کریں ناں، اسے کسی طرح روکیں!! آپ کو پتہ ہے۔۔ وہ ناں۔۔! اٹھتے ہی جانے کی تیاری شروع کر دے گا ، پلیز کسی طرح روک لیں۔۔!!” اس نے لجاجت سے کہا۔
“بیٹا۔۔!! اب ہم لوگ کیسے روکیں اس کو ؟؟ تم نے دیکھا تھا ناں کہ کل کیا کیا تماشے کر رہا تھا وہ، اب ایسے کیسے روک لیں اس کو؟؟” انیسہ بیگم نے بے بس لہجے میں کہا۔
واقعی۔۔!! وہ بھلا کیسے اسے روک سکتی تھیں..!!

واقعی۔۔!! وہ بھلا کیسے اسے روک سکتی تھیں..!!
اتنے میں فیضان صاحب اور جہانگیر کا بھائی بھی وہاں تشریف لے آئے اور سب کو سلام کر کے ، وہیں اپنی اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے، انیسہ بیگم کی زبانی، ان دونوں نے بھی انوشے کا مسئلہ سنا، اتنے میں فریال نے بھی ناشتہ سرو کر کے ان لوگوں کو جوائن کیا۔
فیضان صاحب نے انوشے کا مسئلہ سننے کے بعد بہت پیار سے اپنا مخلصانہ مشورہ دیا ” بیٹا جانے دو اس بے وقوف ، نکمے انسان کو۔۔ کچھ دن وہاں رہے گا تو عقل ٹھکانے آ جائے گی اور پھر دوڑتا ہوا واپس آئے گا، تب تک کے لیے تھوڑا صبر کر لو۔۔!!”
اور ساتھ کی ناشتے میں مشغول ہوگئے۔
جبکہ انوشے ان کا مشورہ سن کر خوب بدمزہ ہوئی تھی، اب اس نے ایسے مشورے سننے کے لیے، اپنا مسئلہ تھوڑی شئیر کیا تھا۔۔!!
اور اوپر سے فیضان صاحب کا ، جہانگیر کو “نکما اور بےوقوف” کہنا بھی اچھا نہیں لگا، ان القابات میں تو ایسی کوئی خاص برائی نہیں بھی لیکن فیضان صاحب کا لہجہ ان القابات کو برا بنا گیا۔
“انکل۔۔!! ایسے کیسے میں ، اس کی عقل ٹھکانے لگنے کا انتظار کروں۔۔؟؟ اور دیکھیں اب آپ کا بیٹا اتنا بڑا ہوگیا ہے۔۔ اب تو اس کو نکما ، بے وقوف نہ کہیں، ویسے وہ ہے تو کچھ ایسا ہی لیکن پھر بھی آپ کو اب، اسے ایسا نہیں بولنا چاہیے۔۔!!” انوشے نے منہ بناتے ہوئے جہانگیر کے دفاع میں بات کی۔
سب کو اس کے انداز پر بھرپور ہنسی آئی،
فیضان صاحب بھی مسکرا کر بولے۔۔ “آہاں۔۔!! چلو صحیح ہے۔۔!! میری بچی کہتی ہے تو آئندہ نہیں بولوں گا۔۔”
“ویسے بیٹا ۔۔ وہ بہت ڈھیٹ ہے، ہم جو مرضی کرلیں، اگر اس نے جانا ہے تو نہیں رکے گا!!” فیضان صاحب نے کہا۔
“نہیں انکل۔۔!! ایسا بھی کوئی ڈھیٹ نہیں ہے وہ۔۔ اگر آپ چاہیں تو روک سکتے ہیں۔۔۔ دیکھیں ۔۔ آپ لوگوں نے اس کی مجھ سے زبردستی شادی کروائی ہے ناں۔۔ اسی لیے ناراض ہے، آپ اس کو پیار سے سمجھا کر منا لیں تو وہ مان جائے گا۔۔!! آپ خود دیکھیں ناں۔۔ اس نے ایک عرصہ، ردا کے ساتھ اپنا مستقبل پلین کیا ہوگا!! اور ایک دم آپ لوگوں نے اس کی مرضی کے خلاف جا کر اپنا فیصلہ اس پر مسلط کیا۔۔۔!! ایسے میں اس کا روٹھنا بالکل جائز ہے۔۔!!” انوشے نے، جہانگیر کی بھرپور سائیڈ لی۔
“توبہ لڑکی۔۔!! کیا جادو کیا ہے میرے دیور نے تم پر!! صبح سے اسی کو سپورٹ کر رہی ہو۔۔!!” فریال نے اس پر پیارا بھرا طنز کیا ، جس پر سب مسکرائے، اور انوشے نے گھوری سے نوازا۔۔
“بیٹا۔۔!! ہمیں ردا سے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی ہم اپنا فیصلہ، اپنے لاڈلے پر تھوپنا چاہتے تھے، لیکن دیکھو۔۔ ہم اس کے ماں باپ ہیں، اس کو زندگی بھر سکتی دیکھنا چاہتے ہیں۔۔ میں ردا سے خود ملی تھی ۔۔ اسے دیکھ کر کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ میرے بیٹے جیسے آدمی کا گھر بسا سکتی ہے یا اسے زندگی بھر کا سکھ دے سکتی ہے۔۔!! اس لیے ہم نے اس کے تمہیں چنا !! یقین کرو کہ ہم نے یہ سب اس کی محبت میں کیا ہے۔۔!! ” انیسہ بیگم نے صفائی دی۔
“یہی تو کہہ رہی ہوں میں۔۔!! میری پیاری آنٹی۔۔!! آپ اسے یہ ساری باتیں پیار سے سمجھائیں ناں۔۔ تھوڑا ایموشنل بلیک میلنگ کا تڑکا لگائیں، تھوڑا ڈرامہ کریں تو وہ بالکل مان جائے گا۔۔ بہت سیدھا سا ، معصوم سا بندہ ہے وہ۔۔” انوشے بار بار ، پتہ نہیں کونسے جذبات کی رو میں بہہ کر جہانگیر کی حمایتیں جاری رکھے ہوئے تھی۔۔۔
سب ہی کو بار بار اسکے انداز پر ہنسی آ رہی تھی پر موقع کے حساب سے، انہیں دانت پھاڑنا کچھ موزوں نہیں لگا اس لیے بے چارے ، ہنسی دبا کر ہی اس کی ٹرٹر سن رہے تھے۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔ وہ نکما جاگ جائے تو کچھ کرتے ہیں اس کا۔۔” فیضان صاحب نے مسکرا کر انوشے کو زچ کرنے والے انداز میں کہا۔
“انکل۔۔۔۔!! پھر سے “نکما”؟؟؟” انوشے نے خفا ہو کر کہا۔۔
“اوہو۔۔!! سوری بیٹا۔۔!! غلطی سے نکل گیا منہ سے۔۔!!” فیضان صاحب نے جھوٹ گھڑا۔
“اچھا۔۔ اٹس اوکے۔۔!! اب میں چلتی ہوں۔۔!! جہانگیر جاگے گا تو اسے آپ کے پاس بھیجوں گی۔۔!!” انوشے خوشدلی سے کہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھی۔
“ارے ناشتہ تو کرتی جاؤ۔۔” فریال نے اسے روکا۔
“نہیں بھابھی ۔۔ ابھی بھوک نہیں۔۔ تھوڑی دیر بعد کروں گی۔۔” انوشے نے سادگی سے کیا۔
“آہممم۔۔ سمجھا کرو ناں۔۔ جہانگیر کے ساتھ ناشتہ کریں گی محترمہ۔۔” جہانگیر کے بھائی نے چھیڑا۔۔
انوشے نے پورا منہ کھول کر حیرت سے دیکھا۔۔ اور شرمانے کی بجائے، دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے “ہاں جی بالکل!!” کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
وہ اپنے کمرے میں گئی تو جہانگیر کروٹیں بدل رہا تھا، گویا جاگنے والا تھا۔۔
انوشے نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔ اسے ابھی بھی ، اس کے واپس چلے جانے کی ٹینشن تھی۔۔
خیر وہ خود کو ریلیکس کرنے کے لیے۔۔ کمرے میں ہی ٹہلنے لگی۔۔ پھر کچھ سوتے ہوئے اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے گئی، اور اپنا ہلکا پھلکا سا میک اپ کیا۔۔ ذرا بالوں کو خوبصورتی سے سیٹ کیا۔۔ دوپٹہ ڈھنگ سے لیا ۔۔۔ اور ایک ستائش بھری نگاہ سے اپنا سراپا آئینے میں دیکھا۔۔
اب لگ رہی تھی وہ نئی نویلی دلہن۔۔ ورنہ تو اس نے، ایسے ہی خالی پانی سے منہ دھو کر ادھر اُدھر منڈلانا شروع کر دیا تھا۔۔
وہ تیار شیار ہوکر پلٹی تو جہانگیر آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
وہ ابھی دو منٹ پہلے ہی پوری طرح جاگا تھا۔۔ اور پورے دو منٹ سے وہ اسے مختلف پوز بنا بنا کر ، اپنا جائزہ لیتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔
اور یہ سب دیکھتے ہوئے بس ایک ہی بات اس کے ذہن میں آئی۔۔اور وہ یہ تھی کہ” کیا چیز ہے یہ لڑکی۔۔!!”
اصولاً ، انوشے کو اپنی الٹی حرکتوں کے پکڑے جانے پر سٹپٹانا یا خجل ہونا چاہیے تھا۔۔ لیکن ایسے اصولوں پر پورا اترنا۔۔ انوشے کے بس کا کام نہیں تھا۔۔
سو وہ بغیر ، کسی قسم کی خجالت کا شکار ہوئے مسکرا کر بولی۔۔ “جاگ گئے تم۔۔ چلو اب جلدی سے فریش ہو جاؤ۔۔!! میں تمہارا ناشتہ لاتی ہوں۔۔ ویسے ناشتہ یہیں کرو گے یا باہر۔۔؟؟”
انوشے نے اپنی تیز گام چلائی۔۔
اس کے پوچھنے کے ایسے انداز پر جہانگیر لٹتے لٹتے بچا تھا۔۔۔ اسے دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ وہ ایسی پرواہ کرنے والی لڑکی ہوگی۔۔ پر وہ اس کی پرواہ کر رہی تھی۔۔ اور یہی چیز جہانگیر کو انجانے میں بھا گئی۔۔
“یہیں پر لے آؤ۔۔” جہانگیر نے، انوشے کی شوخ نظروں سے اپنی نظریں چراتے ہوئے جواب دیا۔۔
اور اٹھ کر فریش ہونے چل دیا۔۔
انوشے بھی اس کی حالت کا مزہ لیتے ہوئے ، اس کے لیے ناشتہ لینے گئی۔
×××××
وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔انوشے بالکل ریلیکس ہوکر مشورے پراٹھے پر ہاتھ صاف کر رہی تھی۔۔ لیکن جہانگیر کچھ جھجھک سی محسوس کر رہا تھا۔۔ اسے، انوشے کو سامنے بیٹھا دیکھ عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔۔ یا شاید۔۔ اس کا انوشے کے لیے احساس بدل رہا تھا۔۔ شاید اس کا دل انوشے کو قبول کرنے پر اکسا رہا تھا۔
پر اس نے بروقت اپنا دل سنبھالا۔
اس نے بروقت اپنا دھیان انوشے پر سے ہٹا کر، اپنے ناشتے پر لگایا۔

اس نے بروقت اپنا دھیان انوشے پر سے ہٹا کر، اپنے ناشتے پر لگایا۔
وہ لوگ ناشتہ کر چکے تھے، انوشے برتنوں کو کچن میں رکھ کر واپس آئی تو جہانگیر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔
انوشے ، بڑے دل جلے انداز میں اس کی تیاریاں ملاحظہ کر رہی تھی۔
جہانگیر، اس کی موجودگی سے بھرپور بے پروائی برت رہا تھا اور اس کی یہ حرکت انوشے کو مزید سلگا رہی تھی۔
وہ تقریباً تیار ہوچکا تھا اور بس اب واپسی کے لیے نکلنے کی تیاری کر رہا تھا، انوشے کا صبر، اب جواب دینے لگا تھا۔ وہ خود ہی آگے بڑھ کر جہانگیر کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی ورنہ جہانگیر کا انوشے کی طرف متوجہ ہونے کا اپنا کوئی موڈ نہیں تھا۔
اس کے ایسے اچانک سامنے آنے پر جہانگیر تھوڑا سٹپٹایا، پر اس نے فوراً ہی خود پر کنٹرول کیا اور اکڑ کر، انوشے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔ “کیا مسئلہ ہے۔۔؟؟ کیوں میرے آگے آ کر کھڑی ہوگئی ہو؟؟”
اس نے بہت اکھڑے لہجے میں کہا۔
“تم سچ مچ جارہے ہو؟” اس نے جہانگیر کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا کہ شاید کہیں اسے اپنی مرضی کا جواب مل جائے، شاید وہ نفی میں سر ہلا دے۔
پر وہ تو جانے کے لیے تیار تھا، وہ کیوں نہ کہتا۔۔!!
اس لیے وہ اس کی خوش فہمیوں پر پانی پھیرتا، توقع کے عین مطابق، اس کے سوال کے جواب میں “ہاں” کہہ گیا۔
“بہت ہی بدتمیز ہو تم!! تمہیں اپنا گھر چھوڑ کر، اتنی حسین بیوی چھوڑ کر، اپنی فیملی کو چھوڑ کر، کرائے کے گھروں میں دھکے کھانے سے، اکیلے رہنے سے کیا ملے گا؟؟؟” انوشے نے غصے سے بھنویں سکیڑ کر کہا۔
“اوہ۔۔ شٹ اپ انوشے۔۔!! مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنی ٹون ذرا لو رکھا کرو۔۔ کسی کا، مجھ سے اونچی آواز میں بات کرنا مجھے پسند نہیں۔۔” جہانگیر نے جواب دینے کی بجائے ، الٹا اسے ہی ڈانٹ دیا۔
پر انوشے کو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔ وہ ایسی چھوٹی چھوٹی سی باتوں کو دل سے لگا کر فضول میں روٹھنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اسے تو اپنا جواب چاہیے تھا۔۔ وہ جہانگیر کو سوال و جواب کے چکر میں ڈالنا چاہتی تھی، تاکہ اس کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکے تاکہ اسے منا سکے۔
“اچھا ناں۔۔ نہیں کرتی اونچی آواز میں بات۔۔!! لیکن تم جواب تو دو۔۔” اس نے پیار سے کہا۔
اس کا یہ میٹھا سا انداز جہانگیر کو پگھلا رہا تھا۔۔ اس کا ایک دم سے بات مان جانا جہانگیر کو اچھا لگا تھا۔
اسے یاد آیا کہ ، اس کے اور ردا کے اتنے سالوں کے ریلیشن کے دوران، اس نے کبھی اس کی کسی بات سے ایگری نہیں کیا ، کبھی کس بات کو نہیں مانا، اور وہ کیسے پھر بھی دیوانوں کی طرح ، اس کے سب نخرے اٹھاتا تھا۔
اور ایک انوشے تھی۔۔ جو اس کے اس قدر اگنور کرنے کے باوجود بھی، ناراض ہونے کی بجائے اس کے کہے کو مان بخش رہی تھی، اس کی بات مان رہی تھی۔
“کیا جواب دوں؟؟ تم جانتی نہیں کہ میرے گھر والوں نے میرے ساتھ کیا کیا؟؟ بابا نے تو ردا سے شادی کرنے پر مجھے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی۔۔!! انہوں نے مجھ پر اپنا فیصلہ مسلط کیا۔۔!! میں نے مان لی ہے ان کی بات، میں نے کھو دیا ہے اپنی محبت کو۔۔!! اب اور کیا کروں؟ اب کیوں رہوں میں یہاں؟؟” جہانگیر نے آخر میں لہجہ ایک دم تیز کیا۔
“Calm down Jahangir!
تمہیں اپنے ماں باپ کی محبت پر شک ہے کیا؟؟
انہوں نے کچھ دیکھ بھال کر، کچھ سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ لیا ہوگا ناں۔۔!! تم خواہ مخواہ ہی اتنے بدگمان ہو۔۔!!
چلو۔۔ رہنے دو۔۔!! میں بھی کیا باتیں سمجھانے بیٹھ گئی۔۔!! جو دل میں آئے کرو۔۔!! جہاں جانا ہے جاؤ۔۔ لیکن جانے سے پہلے ایک بار اپنے بابا سے مل لینا۔۔ کوئی ضروری بات کرنا چاہتے ہیں وہ۔۔!! اب پلیز۔۔ نہ مت کہنا۔۔!! تمہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ عمر رسیدہ لوگوں کے پاس زندگی تھوڑی ہوتی ہے۔۔ کسی بھی وقت اللّٰه کو پیارے ہو سکتے ہیں۔۔ اسلیے اگنور مت کرنا۔۔” انوشے نے غمگین سی شکل بنا کر کہا۔۔
اور آخری جملے پر تو غم کو مزید شدت بخشی۔۔
جہانگیر اچھا بھلا ان سنی کرنے والا تھا لیکن اس کی “تھوڑی زندگی” والی بات سن کر ذرا متوجہ ہوا۔۔اور غصے سے انوشے پر بھڑکا۔۔ “بات کرتے وقت ناں۔۔ اپنی عقل کو تھوڑا استمعال میں لایا کرو۔۔ آئیندہ تمہارے منہ سے یہ مرنے مرانے کی باتیں نہ سنوں۔۔!!” وہ وارنگ دیتا کمرے سے نکل کر فیضان صاحب کے پاس گیا۔
اور انوشے ایک گہرا سانس چھوڑتے ہوئے وہیں بیڈ پر بیٹھی۔۔اس نے ، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں جکڑ کر ایک مٹھی سی بنائی ، اپنی آنکھیں زور سے میچیں اور پھر سے اپنی دعا شروع کی۔۔
وہ بس ایک ہی جملہ بار بار دہرا رہی تھی کہ “یا اللّٰه پلیز انکل کو مشن میں کامیاب کریں ، یا اللّٰه پلیز، اس بے وقوف کو روک لیں۔۔ یا اللّٰه پلیز۔۔!!”
×××××
جہانگیر اپنے بابا کے پاس گیا۔۔
“آپ نے بلایا تھا۔۔” اس نے روکھائی سے پوچھا۔
“ہاں بلایا تھا۔۔ بیٹھو یہاں۔۔” خلاف معمول، ان کا لہجہ بہت شیریں تھا۔
اس بات پر جہانگیر تھوڑا سرپرائز بھی ہوا۔۔ کہ وہ تو پہلے کبھی اس سے ایسے بات نہیں کرتے۔۔ اس کی حیرت بجا تھی۔۔ اگر انوشے نے خاص تلقین نہ کی ہوتی فیضان صاحب آج بھی اپنا رویہ کھردرا ہی رکھتے۔۔

اگر انوشے نے خاص تلقین نہ کی ہوتی فیضان صاحب آج بھی اپنا رویہ کھردرا ہی رکھتے۔۔
خیر وہ وہاں بیٹھ تو گیا تھا۔۔ پر اپنی ناراضگی کے پیش نظر، وہ اپنے بابا کی باتوں کو کچھ خاص توجہ سے نہیں سن رہا تھا۔
انوشے کے کہے کہ مطابق فیضان صاحب نے اسے بہت پیار سے ہر بات سمجھائی، اتنے میں انیسہ بیگم بھی وہاں آگئیں، انہوں نے بھی وہی ساری باتیں جو ہر دوسرا بندہ جہانگیر کے دماغ میں بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ پھر سے دہرائیں۔
جہانگیر پھر بھی ڈھیٹ بنا کچھ نہیں سمجھ رہا تھا، اس کی تان پہلے کی طرح اب بھی وہیں آ کر ٹوٹی تھی کہ
” کیا کروں میں ان ساری باتوں کا؟؟ کیسے مان لوں کہ آپ لوگوں نے یہ سب میری محبت میں مجبور ہوکر کیا؟؟ آپ نے مجھ سے میری محبت کو جدا کر کے، کیا بھلا کیا ہے۔۔؟؟؟”
جہانگیر نے اپنا شکوہ بیان کیا۔
فیضان صاحب کا دل کیا کہ اس کی ان بےتکی باتوں پر، پاؤں سے اپنی پشاوری چپل اتار کر، دو چار لگا ہی دیں پر کیا کرتے۔۔!! بہو کو زبان دے رکھی تھی کہ اس کے شوہر پر زبانی یا عملی ، یعنی کسی بھی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوگا۔
اس لیے، وہ برداشت کرتے ہوئے ، بڑے تحمل سے گویا ہوئے۔۔ “دیکھ بیٹا۔۔ سیدھی سی بات ہے کہ وہ لڑکی تیری قسمت میں نہیں تھی، اگر تجھے اتنی ہی محبت تھی تو مار دیتا اپنی دولت کو لات!!”
“کیسے لات مارتا؟؟ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ میں دیکھتا ہوں، اس کے گھر والے کیسے کسی فقرے سے شادی کرواتے ہیں؟؟”
“تو بس بیٹا ، اب سارا قصور ہمارا تو نہیں ہے ناں، چل مان لیا کہ ہمارا قصور ہے تو پھر بھی وہ لڑکی اگر تجھ سے سچی محبت کی دعویدار تھی تو وہ تیرا ساتھ دیتی۔۔ کہتی کہ جس حال میں رکھو گے میں رہنے کے لیے تیار ہوں، اپنے ماں باپ کو منا لوں گی۔۔ لیکن نہیں۔۔ یہاں اس نے جائیداد سے عاق ہونے کی بات سنی اور وہاں تجھے انوشے کے پیچھے لگا دیا کہ اس سے انکار کروا، اور اپنے ماں باپ کو نیچا دکھا۔۔ کہ آؤ دیکھ لو اپنی پسند کی گئی لڑکی کی حرکتیں، انکار کر کے بیٹھ گئی ہے۔۔ بتا۔۔ تو ایسی لڑکی کے پیچھے مرا جا رہا ہے جس کے آگے ہماری کوئی عزت نہیں؟؟ بس اس بات کی فکر ہے کہ دولت ہاتھ سے نہ چلی جائے۔۔”
جہانگیر اس بار لاجواب سا ہو گیا۔
حقیقت اس کے سامنے رکھی گئی، اب مشکل میں تھا کہ تسلیم کرے یا رد کردے، رد کرنے کا تو کوئی جواز نہیں بنتا تھا اس لیے کڑوے گھونٹ پیتے ہوئے ماننا پڑا، لیکن وہ ابھی بھی اپنے تیوروں میں سختی لیے ایسا تاثر دے رہا تھا کہ جیسے اسے کچھ ہضم ہی نہیں ہوا۔
اس کی یہ ڈھٹائی دیکھتے ہوئے ، اس کے اماں بابا نے آخری داؤ کھیلا۔۔ یعنی ایموشنل بلیک میلنگ شروع کی۔۔ وہی مرنے مرانے کی باتیں ، دو چار آنسو، اور ایسی دوسری، چھوٹی موٹی ٹرکس کا استعمال کرتے ہوئے، جہانگیر کو ٹریپ کرنے کی کوشش کی اور اس مرتبہ وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔
جہانگیر ، ان کی باتوں میں آنے لگا تھا۔
ان کے بار بار گھر نہ چھوڑنے کے اصرار پر اس نے کوئی خاص رد عمل نہ دیا۔۔ اب وہ اپنے تھوڑا وقت دینا چاہتا تھا، اس نے دوبارہ کوئی فیصلہ کرنے کے لیے وقت طلب کیا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
وہ کمرے میں گیا تو انوشے اپنی اسی حالت میں آنکھیں میچے ، منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہی تھی، حقیقیتاً تو وہ دعا کر رہی تھی پر جہانگیر یہ نہیں جانتا تھا۔اس لیے اس نے حیرت سے پوچھا۔۔
“یہ کیا کر رہی ہو۔۔؟؟”
اسکی آواز پر انوشے نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اور بڑی آس سے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔۔
“رہنے دو۔۔ کیا فائدہ تمہیں بتانے کا۔۔”
اس کے ایسے انداز پر جہانگیر کو تھوڑا تجسس ہوا لیکن اس نے آگے سے کچھ نہیں کہا۔
انوشے نے دل جلے انداز میں سوچا “بندہ تھوڑا انسسٹ ہی کر لیتا ہے۔۔ اب ایک دفع اور پوچھ لیتا تو کیا چلا جاتا اس کا۔۔ بدتمیز کہیں کا۔۔!!” اور ساتھ ہی میں اپنے خیال میں سوچے گئے الفاظ کو ایکسپریشنز کا روپ دے کر، جہانگیر کو گھورنے لگی۔
جہانگیر شاید وجہ سمجھ چکا تھا، اسے اس کی شکل دیکھ کر ہنسی بھی آ رہی تھی لیکن فی الوقت، وہ بڑی مہارت سے اپنی ہنسی چھپا گیا۔۔
وہ تھی ہی ایسی۔۔!! اپنے دشمنوں کو بھی بس میں کر لیتی تھی جہانگیر تو پھر اس کی چاہت تھا۔
جہانگیر اسے پھر سے نظر انداز کرتا اپنے فون پر کچھ دیکھنے لگا۔۔۔ اور دیکھتے دیکھتے ایک دم اس کے ہوش اڑے۔۔ اس نے فوراً انوشے کو پانی لانے کے بہانے سے بھگایا، اس بیٹھ کر تسلی سے اپنی میلز چیک کی تو اسے اچھا خاصہ جھٹکا لگا۔
اصل میں اسے کمپنی کی طرف سے میل موصول ہوئی تھی جس میں لکھا تھا “چار دن پہلے سینڈ کیا گیا اپوائنٹمنٹ لیٹر در حقیقت کسی اور کے نام جاری کرنا تھا اور غلطی سے آپ کے نام جاری کر کے آپ کو بھیج کیا، اس کوتاہی کے لیے معذرت خواہ ہیں۔”
وہ تو بہت حیران و پریشان سا ،اپنی فون سکرین کو دیکھتا گیا، یعنی جس جاب کی بنیاد پر اس نے اپنا گھر بار چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا وہ اسے ملی ہی نہیں، شکر تھا کہ وہ ابھی تک گیا نہیں تھا ، ورنہ تو اس نے اپنی اسی جاب کی بنیاد پر، کسی جاننے والے کے توسط سے، کرائے کا اپارٹمنٹ تک بک کروا لیا تھا اور اس نے سوچا تھا کہ وہ کبھی پلٹ کر گھر نہیں آئے گا۔
مگر اس میل نے تو اس کے سارے پلینز چوپٹ کر دیے۔۔ اس نے سوچا کہ خدا ناخواستہ ابھی اگر وہ چلا جاتا تو اس کا کیا بنتا!! کیسے سروائیو کرتا۔۔ اس کا بینک بیلنس بھی اتنا تھا کہ جاب کے بغیر بمشکل دو مہینے ہی ٹھاٹھ سے گزرنے تھے۔۔ اور اگلی نوکری اللّٰه جانے کب ملتی۔۔!!
اف۔۔!! شکر ہے تھا کہ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا تھا۔۔!! اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنا فیصلہ بدل کر سب کی بات مان لوں۔۔!! ورنہ اب وہاں جا کر میں مکھیاں ماروں گا۔۔!! اماں ابا نے بھی اتنے پیار سے سمجھایا ہے۔۔!! اب ان کی بات ایسے کیسے ٹالوں۔۔!! آخر میرے ماں باپ ہیں، میرا بھلا چاہتے ہیں۔۔ اور انوشے وہ بھی اتنا پیار کرتی ہے۔۔!! ردا کو گولی مارو۔۔!! اس سے شادی نہیں ہوئی تو ہوئی۔۔ اب کیا دل سے لگا کر بیٹھا رہوں۔۔!! ایویں۔۔!! کتنا پاگل ہوں میں۔۔!! چلو چھوڑو۔۔!! اب سب کو خوش کرتا ہوں۔۔!! کہہ دوں گا کہ آپ لوگوں کے کہنے پر رک رہا ہوں۔۔!! ہاں۔۔ اب اتنا سا ڈرامہ کرنا میرا حق ہے۔۔!! چلو جی ڈن ہوگیا۔۔!! اب میں کہیں نہیں جاتا۔۔!! بھلا کیا فائدہ گھر جیسی جنت کو چھوڑ کر جانے کا۔۔!!
ایک پیغام کیا موصول ہوا۔۔!! ایک میل کیا پڑھ لی۔۔!! جہانگیر میاں کا تو نقطۂ نظر ہی بدل گیا۔۔
لیکن یہ صرف میل کا کمال نہیں تھا۔۔ اس کی سوچ کے بدلاؤ میں سب سے بڑا ہاتھ تو برین واشنگ کا تھا۔۔ جو کہ اس کے گھر والوں نے بہت اچھے سے کی تھی۔
اب وہ بیڈ پر بیٹھا۔۔ پاؤں ہلاتا ہوا۔۔ انوشے کا انتظار کرنے لگا۔۔ “پتہ نہیں کہاں رہ گئی۔۔! پانی لینے گئی ہے یا کنوئیں سے نکالنے” جہانگیر نے سوچا۔
اس نے سوچا ہی تھا کہ انوشے گلاس لیے حاضر تھی۔۔
اس نے غٹاغٹ پانی پیا۔۔ گلاس انوشے کو تھمایا۔۔ اور اپنی شرٹ کی آستینوں کے بٹن کھول کر ، آستینیں اوپر چڑھائیں، اپنے بوٹ اور جرابیں اتاریں اور لمبا ہو کر سکون سے پھر سے لیٹ گیا۔۔
انوشے اس کی حرکات و سکنات بڑے تعجب سے ملاحظہ کر رہی تھی۔
“یہ کیا کر رہے ہو۔۔؟؟ تم نے تو ابھی ابھی نکلنا نہیں تھا۔۔؟؟ پھر لمبے ہوکر کیوں لیٹ رہے ہو۔۔؟؟” انوشے آلتی پالتی مار کر، بیڈ پر اس کی دائیں جانب بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
جہانگیر نے اس کی جانب کروٹ لی، اور اپنی کونی بیڈ پر ٹکا کر،بازو کا سہارا لیتے ہوئے، اپنا چہرہ ایک جانب سے اپنی مٹھی پر رکھا اور تھوڑا اونچا ہو کر، انوشے کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔ “تم کیا چاہتی ہو۔۔؟؟ جاؤں۔۔!!”
انوشے، اس شوخ نظروں کا مفہوم سمجھ چکی تھی۔۔ کہ وہ کہیں نہیں جانے والا تھا۔۔ اس لیے مسکرا کر تنگ کرتے ہوئے بولی۔۔ “ہممم جانا ہے تو چلے جاؤ اب جانے والوں کو کون روک سکتا ہے۔۔”
جہانگیر تلملا کر باقاعدہ اٹھا۔۔ اور اسے، اپنا تکیہ دے کر مارا، “چڑیل کہیں کی۔۔!! کہیں نہیں جا رہا میں۔۔!! میں چلا گیا تو پیچھے تمہاری زندگی جہنم کون بنائے گا۔۔!!” اس نے چڑ کر کہا۔
انوشے نے بھی جواباً اپنا تکیہ اٹھا کر اسے مارا۔۔ “کیا کہا ؟؟ جہنم بناؤ گے۔۔؟؟ تمہاری ایسی کی تیسی۔۔!! ابھی تم نے انوشے حیدر کا پیار دیکھا ہے۔۔!! ذرا سا کچھ کہا ناں۔۔ تو میں تمہارے چودہ طبق روشن کر دوں گی۔۔!! ” اس چہرے پر مصنوعی سختی لا کر۔۔پیار بھری وارنگ دی۔۔
“ہائے۔۔ تو کردینا روشن۔۔!! ویسے بھی ردا کے جانے کے بعد کافی اندھیرا ہوگیا ہے۔۔!!” اس نے آنکھ مار انوشے کو جلایا۔۔
اور انوشے اس کا گلا دبانے کے لیے، اپنے ہاتھوں سمیت خود بھی اس کے بہت قریب آ گئی۔
اف۔۔ اس اچانک کی قربت پر انوشے کی دھڑکنیں ایک دم بے ترتیب ہوئیں۔۔ جہانگیر بھی سانس روکے، اسے دیکھتا گیا۔۔ ایک لمحے کو جیسے وقت تھما تھا۔۔
پر وقت کا یہ ٹھہراؤ صرف لمحے بھر کا ہی تھا۔۔
وقت کا تو کام ہی گزرنا ہے۔۔ سو وہ گزرا۔۔ اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان دونوں کے رشتے کو مضبوط کرتا گیا۔
ان کے لیے کیوٹ کیوٹ سی نوک جھوک والی خوشیوں سے بھرپور زندگی تخلیق کرتا گیا۔
حتیٰ کہ سال بعد ، ننھی مشعل کی صورت میں ان کو انکی زندگی کا سب سے حسین تحفہ بھی دے گیا۔
اور یوں ان کی فیملی مکمل ہوئی۔۔ یوں ان کا اعتبار، ان کی محبت، انکی چاہت، ان کا اعتماد ایک دوسرے کے لیے مزید مستحکم ہوا، مزید مضبوط ہوا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: